MERA MIANWALI OCTOBER 2018

میرا میانوالی

منورعلی ملک کے اکتوبر 2018 کےفیس بک پرخطوط

——–اپنی ایک پرانی غزل کا شعر ——
اب اس گلی میں مری واپسی ھے ناممکن
اسی غزل کو منور کی حاضری کہہ لیں

بشکریہ-منورعلی ملک– 1 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

جانے والے کو نہ روکا کہ بھرم رہ جائے
میری آواز پہ کب اس نے ٹھہر جانا تھا
کل شام دھڑکتے دل کے ساتھ “ فی امان اللہ “ کہہ کر اسے رخصت کر دیا –

بات ھو رھی ھے میرے محبوب اور آپ سب کے محسن دوست ، میرے Lenovo لیپ ٹاپ کی –

تین سال پہلے یہ لیپ ٹاپ میرے بیٹے محمد اکرم علی ملک نے مجھے گفٹ کیا تھا – مجھے تو لیپ ٹاپ آن اور آف کرنا بھی نہیں آتا تھا – اکرم بیٹے نے میرا فیس بک اکاؤنٹ پہلے ھی بنا رکھا تھا – اردو انگریزی میں پوسٹ لکھنے کا طریقہ بھی بتا دیا- جب میں نے پوسٹس لکھنی شروع کیں تو اتنی پذیرائی ملی کہ میں ادھر ھی کا ھو کر رہ گیا- کچھ رھنمائی میانوالی میں میرے عزیز سٹوڈنٹ محمد احسن شاہ کاظمی سے ملی – باقی بہت سا کام میرے Lenovo نے خود مجھے سکھا دیا- یوں وہ میرا ٹیچر بھی بن گیا –

تین سال کے دوران میں نے ایک ھزار سے زائد اردو، اور اتنی ھی انگلش پوسٹس لکھیں – کوئی پوسٹ کاغذ پہ کبھی نہ لکھی – جب میں پوسٹ لکھ لیتا تو ایک ھی کلک سے میرا یہ برق رفتار قاصد وہ پوسٹ دنیا کے کونے کونے میں آپ تک پہنچا دیتا تھا-

وہ میرا ھمدم و ھمراز تھا – میانوالی ھو یا لاھور، داؤدخیل ھو یا مری ، میں جہاں بھی جاتا اسے ساتھ لے جاتا ، اور یوں آپ سب سے میرا رابطہ برقرار رھتا –

کچھ عرصہ سے اس کی طبیعت ناساز تھی- پہلے ایک ریم RAM جواب دے گیا ، نیا ریم ڈلوایا تو لرزش vibration کامسئلہ پیدا ھو گیا – Shut down میں بہت وقت لگنے لگا –

23 ستمبر کو صبح کی پوسٹ کے لیے ایک پکچر ڈاؤن لوڈ کرنے لگا تولیپ ٹاپ اچانک بند ھوگیا – بہت کوشش کی ، مگر نہ مانا – زندہ ھوتا تو میرے ایک ھی اشارے پر دوبارہ کام میں لگ جاتا – کاظمی صاحب کو دکھایا تو انہوں نے کہا “ سر، اس کا وقت پورا ھوگیا – اب یہ کبھی نہیں جاگے گا “-

میرے محبوب کی داستان وفا ھے ، ایک ھی پوسٹ میں ختم کردینا ظلم ھوگا – کچھ باتیں ، کچھ یادیں اگلی پوسٹس میں ھوں گی –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 4 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

سچی بات بتاؤں ، اپنے پیارے Lenovo (لیپ ٹاپ) کی موت کا دکھ اتنا شدید تھا کہ میں نے فیس بک کا دھندا ھی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا –
اس مصروفیت کی بجائے اپنے پرانے شوق (انگلش ناول پڑھنا) کو آواز دی – سڈنی شیلڈن (Sidney Sheldon) کا ایک ناول جو میں نے نہیں پڑھا تھا ، نکالا اور اس کا پہلا باب پڑھ ڈالا- ( سڈنی شیلڈن بہت کرارے ناول لکھتا تھا – اس دور کے مقبول ترین ناول نگاروں میں شمار ھوتا تھا ) – مصروفیت کے کچھ دوسرے بہانے اخبار ، ٹی< وی وغیرہ بھی میسر تھے- ان دنوں ایم اے انگلش کے نصاب میں شامل ھارڈی کے ایک ناول پر بھی کام کر رھا ھوں-یہ خیال ضرور رھا کہ فیس بک کے پانچ ھزار دوست اور ساڑھے چھ ھزار فالوورز کیا کہیں گے – پھر سوچا کیا فرق پڑتا ھے – بہت اچھا لکھنے والے کچھ دوسرے لوگ بھی فیس بک پہ باقاعدہ لکھتے ھیں – ان کی وجہ سے میری کمی محسوس نہیں ھوگی – چند روز میں لوگ بھول بھال جائیں گے –

وقتی طور پر اطلاع کی خاطر ایک گول مول سا پیغام لکھ کر ڈاکٹر حنیف نیازی کو بھیج دیا کہ میری طرف سے یہ نوٹس اپنی فیس بک پہ لگا دیں – لکھا یہ تھا کہ لیپ ٹاپ کی خرابی کی وجہ سے چند دن غیر حاضر رھوں گا – اب بتارھا ھوں کہ نیت ٹھیک نہ تھی – واپسی کا کوئی ارادہ نہ تھا – مگر اس وقت یہ بات آپ کو کیسے بتاتا – یہ اطلاع ڈاکٹر حنیف کی وساطت سے بھیجنا اس لیے ضروری سمجھا کہ ڈاکٹر حنیف کے اور میرے فیس بک فرینڈز تقریبا مشترک ھیں – فیس بک چھوڑنے کا فیصلہ حنیف نیازی کو بھی نہ بتایا –

اس اللہ کے بندے نے اسی دن ایک نیا لیپ ٹاپ گفٹ کے طور پہ بھیج دیا- میرا فیس بک چھوڑنے کا فیصلہ میرا منہ دیکھتا رہ گیا – کچھ باتیں انشآءاللہ کل – رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 5 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

جناب علی کرم اللہ وجہہ، نے فرمایا تھا “عرفت ربی بفسخ العزائم “ (میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا) –
ااپنا ارادہ تو فیس بک کی گلی میں واپسی کا نہ تھا ، مگر اچانک نیا لیپ ٹاپ ڈاکٹرحنیف نیازی کے گفٹ کی صورت میں وارد ھؤا تو خیال آیا کہ شاید میرا رب مجھ سے مزید یہی کام لینا چاھتا ھے- مجھے تو ایسا ھی لگا ، کیونکہ لیپ ٹاپ سے کوئی اور کام لینا تو مجھے آتا ھی نہیں -اللہ کا نام لے کر فیس بک پہ پوسٹس کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا- مشورے کے بعد اپنا محبوب Lenovo لاھور میں اکرم بیٹے کو بھیج دیا ۔ وھاں حفیظ سنٹر ان چیزوں کی سب سے بڑی مارکیٹ بھی ھے ، ورکشاپ بھی- جو اللہ کو منظور ھو وھی ھوگا-

اطمینان کی بات یہ ھے کہ نئے لیپ ٹاپ نے پرانے لیپ ٹاپ کی تمام امانتیں اپنے سینے میں محفوظ کر لی ھیں –
توں نئیں تے تیریاں یاداں سہی– رھے نام اللہ کا

–بشکریہ-منورعلی ملک– 6 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

یہ موسم بٹیروں کے شکار کا موسم بھی کہلاتا تھا – مرغابیوں ، کونجوں اور دوسرے مہاجر پرندوں کے ساتھ بٹیر بھی بھاری تعداد میں سردی کا موسم گذارنے کے لیے یہاں آتے تھے- اب بھی یہ پرندے

ھرسال آتے ھیں لیکن آلودگی ، بجلی کی چکا چوند روشنیوں اور اندھا دھند شکار کی وجہ سے ان کی تعداد تیزی سے کم ھوتی جارھی ھے- اللہ کی زمین بہت وسیع ھے ، یہاں نہ سہی کہیں اور آتے جاتے رھیں گے –

یہ تمام پرندے روس کے علاقے سائیبیریا سے آتے ھیں – سائیبیریا ایک ایسا خطہ ھے جہاں گرمی کا موسم صرف ایک ماہ ھوتا ھے ، اور اس ایک ماہ میں بھی درجہء حرارت صرف 15 سنٹی گریڈ تک جاتا ھے- یہ موسم جولائی اگست میں ھوتا ھے – اس کے بعد جب جھیلوں کا پانی برف بن جاتا ھے تو مہاجر پرندے رزق کی تلاش میں پاکستان ، چین اور بھارت کارخ کرتے ھیں – مارچ میں یہ اپنے وطن واپس لوٹ جاتے ھیں ->بٹیر کا شکار “لاوے“ کے ذریعے کیا جاتا تھا – داؤدخیل میں چاچا صالح محمد درکھان اور چاچا گھیبہ سنار کے بیٹے بٹیروں کے سب سے بڑے شکاری تھے – لاوا بٹیروں کی مخصوص بولی بولنے والے دس بارہ بٹیروں پر مشتمل ایک گروُپ ھوتا تھا- بٹیروں کی یہ بولی ھماری زبان میں “پت پڑت“ اور انگلش میں Wet my lips کہلاتی ھے –

بٹیر باجرے کی فصل پرآتے تھے- شکاری کھیت کے ایک کنارے پر جال لگا کر بولنے والے بٹیروں کے پنجرے جال کے قریب رکھ دیتے تھے – ان بٹیروں کی بولی سن کر آزاد بٹیرے ادھر آتے اور جال میں پھنس جاتے تھے –

دنیا نے ترقی کی تو لاوے کی جگہ ٹیپ ریکارڈرز نے لے لی – لاوے کے بٹیروں کی بولیاں کیسیٹ میں ریکارڈ کرکے بٹیروں کے شکار کے لیے ٹیپ ریکارڈر استعمال ھونے لگا – شاید اب بھی ھوتا ھو –
وتہ خیل کیسیٹ ھاؤس میانوالی کے مالک لیاقت خان سے سنا کہ ناکام گلوکاروں کے کیسیٹؤں پر لوگ بٹیروں کی بولیاں ریکارڈ کروا کے شکاریوں کے ھاتھ بیچ دیتے ھیں – واللہ اعلم –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 7 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

خواجہ سکندر حیات کو کون نہیں جانتا ؟ سماجی اور ادبی تقریبات میں ان کا خطاب منفرد ھوتا ھے –
خواجہ سکندر حیات میانوالی کی معروف تاجر فیملی خواجہ برادران کے چشم و چراغ ھیں – مین بازار میانوالی میں خواجہ برادران کے تین جنرل سٹور اور ایک بک ڈپو ھے – بک ڈپو خواجہ سکندرحیات کا ھے – ان کے ایک بھائی خواجہ محمد سرور ھاؤسنگ کالونی سکندرآباد مارکیٹ کے اھم تاجر رھنما ھیں – ایک بھائی ڈاکٹر خواجہ محمد اکبر سینیٹر ھیں – ان کے مرحوم بھائی خواجہ محمد اقبال ایڈووکیٹ ھمارے بہت پیارے دوست تھے – علم و ادب کے علاوہ سیاست میں بھی ان کا منفرد مقام تھا – مولانا عبدالستار خان نیازی کے قریب ترین ساتھی تھے-
خواجہ سکندرحیات صحافی بھی ھیں – مین بازار میانوالی کی گذشتہ پچاس سالہ تاریخ کے عینی شاھد ھیں – اس سلسلے میں میں بھی ان سے رھنمائی لیتا رھتا ھوں – خواجہ صاحب بہت ملنسار اور دوست نواز شخصیت ھیں – اس لیے ان کا حلقہء احباب بہت وسیع ھے – ادب سے گہری وابستگی کے باعث یہاں کی ھر ادبی تقریب میں بھرپور شرکت کرتے ھیں – اندازخطابت مولانا عبالستار خان نیازی اور اپنے بھائی مرحوم خواجہ محمد اقبال جیسا ھے – کہیں پرجوش، کہیں عالمانہ انداز میں بہت کام کی باتیں کہہ دیتے ھیں –
اللہ سلامت رکھے خواجہ صاحب ھماری محفلوں کی روح رواں ھیں –
—رھے نام اللہ کا —
بشکریہ-منورعلی ملک– 8 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

گھوڑاگلی (مری) کے سٹاپ پر بس سے اتر کر مری بروری کے کھنڈرات کے قریب سے ھوتا ھؤا پہاڑی کی چوٹی پر پہنچا, تو وھاں ایک چھوٹی سی دنیا آباد تھی – ایک طرف دوچار سرکاری عمارات , ان کے آگے ایک میدان جس کے شمالی کنارے پر پندرہ بیس چھوٹے چھؤتے ٹینٹ (خیمے) بہت سلیقے سے نصب تھے – یہ ٹینٹ ضلع میانوالی کے منتخب سکولوں کے سکاؤٹنگ کیمپ تھے- مری میں میری آمدورفت کا یہ پہلا موقع تھا-

اچانک سامنے کے ایک ٹینٹ سے بہت سریلی دردبھری آواز میں غلام علی کی گائی ھوئی صوفی تبسم کی مشہورزمانہ پنجابی غزل کے یہ الفاظ گونج اٹھے -“>جے توں میرے جنازچ نئیں آیا ، راہ تکدا اے تیری مزار آجا
آواز گورنمنٹ مڈل سکول غنڈی کے ھیڈماسٹر اور میرے انتہائی قریبی دوست محمد امیر شاہ کی تھی – مجھے دیکھ کر ھی انہوں نے غزل کا یہ مصرعہ میرے استقبال کے لیے چھیڑا تھا – گلے مل کر ھم دونوں نے خوب قہقہے لگائے –

( آہ !!! میرے یہ محبوب و محترم بھائی اب اپنےآبائی گاؤں میں سچ مچ کے مزار میں آرام فرما رھے ھیں – اللہ انہیں اپنی رحمت خاص کا سایہ نصیب فرمائے ) –

ذکر اس زمانے کا ھے جب میں ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹرتھا- ھرسال ھمارے سکول کے سکاؤٹ بچے گھوڑا گلی کے سمر کیمپ میں شریک ھوتے تھے- بچوں کے ھمراہ تو سکول کے سکاؤٹ ماسٹر جاتے تھے ، مگر ھیڈماسٹر صاحبان کو بھی دوتین دن سرکاری خرچ پر کیمپ کے معائنے کی اجازت ھوتی تھی- کیمپ ھفتہ دس دن رھتا تھا- ایک ضلع کا کیمپ ختم ھوتا تو دوسرے ضلع کے سکاؤٹ آجاتے ، یہ سلسلہ جون سے اگست تک مسلسل چلتا رھتا – اب بھی ھوتا ھوگا –

وھاًں میرے اور محمدامیرشاہ کے علاوہ نورنگہ کے ھیڈماسٹر، معروف ماھر تعلیم سید عطامحمد شاہ ، پپلاں کے ھیڈماسٹر اور میرے کلاس فیلو ملک محمد خان اور دوسرے بہت سے ھیڈماسٹرصاحبان ھرسال مل بیٹھتے تھے – خوب محفل ھؤا کرتی تھی –
جب تک میں ھیڈماسٹر رھا ، ھرسال اس محفل میں حاضری دیتا رھا – پھر پروفیسربن گیا- پروفیسر بننے کا ایک نقصان یہ ھؤا کہ ان پیارے دوستوں سے مری میں ملاقاتوں کے اعزاز سے محروم ھوگیا-
— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 9 اکتوبر 2018

——–یادیں —————-

اپنا ایک شعر ‘ اپنے قلم سے-بشکریہ-منورعلی ملک– 9 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

کیا اچھا زمانہ تھا جب لوگ زیادہ تر پیدل چلتے تھے- دوچارکلومیٹر پیدل چلنا کوئی مسئلہ ھی نہ تھا – داؤدخیل سے سکندرآباد، ٹھٹھی ، ڈھیر امیدعلی شاہ تک لوگ روزانہ پیدل آتے جاتے تھے –

میں جب تک ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر رھا داؤدخیل سے ٹھٹھی روزانہ پیدل ھی جایا کرتا تھا – میرے دوساتھی ، محترم ماسٹر عیسب خان صاحب اور ماسٹر غلام محمد صاحب بھی میرے ھمراہ ھوتے تھے – سائیکل بھی تھے ھمارے پاس ، مگر ھم شوقیہ پیدل چلاکرتے تھے- سائیکل ویسے ھی ٹور کر ساتھ لے جاتے – واپسی پر البتہ جلد گھر پہنچنے کے لیے سائیکل استعمال کرتے تھے- ھمارے گھر سے مشرق کی جانب کھیتوں میں سے ھوتے ھوئے ھم ریلوے لائین کےکنارے چلتے چلتے سکول پہنچ جاتے تھے -١١ سال کی اس مشق کا نتیجہ ھے کہ بحمداللہ تعالی آج بھی دوچار کلومیٹر چلنا میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں – اور میں چلتا بھی خاصی تیز رفتار سے ھوں –
چلنا سب سے بہتر ورزش ھے- خون کی گردش ، سانس کانظام ، ھاضمہ ، گوڈے گٹے سب کچھ ٹھیک رھتا ھے- سائیکل چلانا بھی ورزش ھے ، مگر چلنا سب سے بہتر ھے – آج کل کی بیشتر بیماریوں کا سبب یہی ھے کہ لوگ پیدل نہیں چلتے – گلی میں بیس پچیس گھر آگے بھی کہیں جانا ھو تو موٹرسائیکل (بائیک) کے بغیر نہیں جاتے – یہ کہنا غلط نہ ھوگا کہ موٹر سائیکل نے لوگوں کو معذوربنا دیا ھے – ضرور استعمال کریں ، مگربہت کم – جہاں تک ممکن ھو پیدل چلنے کی عادت اپنائیں – بہت سے مسائل سے نجات مل جائے گی –

رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک 10 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

یدل چلنے کا شوق اب بھی ھے – موقع کی بات ھے – میانوالی شہر میں چلنا پھرنا اب خاصا مشکل ھو گیا ھے – تنگ گلیوں میں اندھا دھند موٹر سائیکل بھگاتے بچوں، چنگچیوں ، اور دودھ کے ڈرم بردار طیاروں نے آزادی سے گھومنا پھرنا مشکل بنا دیا ھے- ھر دو چار قدم پر جان بچانے کے لیے دیوار سے لگنا پڑتا ھے –

داؤدٰخیل میں یہ حالات نہیں – وھاں یہ بے مہار ٹریفک بہت کم ھے – بلکہ لاھور میں بھی پیدل چلنے والوں کے لیے حالات یہاں سے بہتر ھیں – بیشتر سڑکوں کے ساتھ فٹ پاتھ ھیں ، جن پر موٹرسائیکل ، چنگچی ؤغیرہ نہیں چل سکتے – سڑکیں بھی اتنی کھلی ھیں کہ انسان آسانی سے سڑک کے کنارے پیدل چل سکتا ھے- چلنے اور جوگنگ کے لیے جناح باغ ، ریس کورس پارک اور ماڈل ٹاؤن پارک جیسی جگہوں پر خصوصی ٹریک بھی بنے ھوئے ھیں – ھم اکثر اپنا چلنے کاشوق ان جگہوں پر جا کر پورا کر لیتے ھیں -کچھ لوگ کہتے ھیں, جی چلنے کا وقت ھی نہیں ملتا —
عجیب بہانہ ھے – آپ کے ھر وقت مصروف رھنے سے دنیا میں اب تک کون سا انقلاب آیا ھے ؟ – سالہا سال کی مصروفیت سے کیا آپ کے تمام مسائل حل ھوگئے ؟ ؟ – آج ھم ھیں ، کل نہیں ھوں گے تو دنیا تباہ ھو جائے گی ؟؟؟

دنیا اور حالات کو اپنی رفتار سے چلنے دیں ، اور اپنے ذھنی ، جسمانی اور روحانی فائدے کے لیے کچھ وقت نکال کر پیدل چلنے کی صحتمند عادت اپنائیں – بہت فائدہ ھوگا– رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک– 11 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

لوجی ، مزا آگیا ——- میرا داؤدخیل بازی لے گیا — !!!

کل کی پوسٹ پر کمنٹ میں داؤدخیل کے نوجوان اسد خان نے لکھا —–Image may contain: 1 person, smiling, standing, mountain, outdoor and nature————-“ سر جی ، ھم کچھ دوستوں نے پچلھے دنوں داؤدخیل سے کالاباغ
( تقریبا 15 کلومیٹر) پیدل واک کی – مقصد عوام کو دل ، شوگر اور بلڈپریشر
کی بیماریوں سے بچنے کے لیے پیدل چلنے کی ترغیب دینا تھا – مزا آگیا
لوگوں نے پسند کیا – کچھ نے تنقید بھی کی – ابھی ھمارے دوست داؤدخیل
تا میانوالی ( تقریبا 35 کلومیٹر) پیدل چلنے کا ارادہ رکھتے ھیں – مقصد وھی
ھے -“

نوجوانوں کی یہ مثبت سوچ قوم کے لیے ایک تابناک مستقبل کی بشارت ھے- اقبال نے بجا فرمایا تھا —–
ذرانم ھو تو یہ مٹی بہت زرخیز ھے ساقی

بلکہ ھمارے ضلع میانوالی کی مٹی تو نم کے بغیر بھی سونا اگلتی رھی ھے – بارانی زمین , آپباشی کا تمام تر دارومدار بارش پر- ایک آدھ بارش سے چار پانچ ماہ کی فصل تیار- یہی صلاحیت رب کریم نے یہاں کے لوگوں کو بھی عطا کی ھے- اس دورافتادہ اور پس ماندہ سرزمین نے ایسے ایسے لائق لوگوں کو جنم دیا کہ پوری قوم ان پر فخر کرتی ھے-

اقبال ھی کا ایک اور شعر اسد بیٹے ، اور تمام نوجوانوں کی نذر ———وھی جواں ھے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ھے بے داغ، ضرب ھے کاری

 رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک– 12 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

موبائیل فون کے بے شمار فوائد اپنی جگہ ، مگر یہ کہنا بھی غلط نہ ھوگا کہ موبائیل فون نے ھمیں پیدل چلنے کی صحتمند ورزش سے محروم کردیا ھے
موبائیل فون کی آمد سے پہلے لوگ ایک دوسرے سے ملنے جلنے کے لیے آتے جاتے تھے – اب گھر بیٹھے ھی دوستوں کے نمبر ملا کر موبائیل فون پر دنیا جہان کی گپ شپ لگا لیتے ھیں- بیمار پرسی بھی فون پر ھی ھوتی ھے- بازار سے کچھ خریدنا ھو تو کسی واقف دکان دار سے فون پر کہہ دیتے ھیں
“ لالا، کسی لڑکے کے ھاتھ فلاں چیز بھیج دو“سنا ھے شادی بیاہ کے پروگرام بھی فون پر طے ھوتے ھیں- ولیمے میں حاضری ضروری سمجھی جاتی ھے کہ فون پر حاضری سے پیٹ نہیں بھرتا – مگر ولیمے پر بھی زیادہ تر لوگ موٹرسائیکل ، گاڑی یا چنگچی وغیرہ پر سوار ھو کر جاتے ھیں – تعزیت بھی فون پر مناسب نہیں سمجھی جاتی ، مگر وھاں بھی پیدل جانے کا رواج تقریبا ختم ھو گیا ھے – بھلے ولیمہ یا تعزیت ساتھ والی گلی ھی میں کیوں نہ ھو-

مقصد موبائیل فون کو برا کہنا نہیں – مقصد صرف یہ کہنا ھے کہ جو کام چار قدم چل کر ھو سکتا ھے ، اس کے لیے موبائیل فون کو زحمت نہ دی جائے– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 13 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

موبائیل فون ایک نعمت ھے ان لوگوں کے لیے جو تعلیم یا رزق کی خاطر اپنے گھروں سے دور دوسرے شہروں میں رھتے ھیں ، کہ موبائیل فون کے ذریعے ان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ رھتا ھے ، اور تنہائی کا احساس کم ھوتا ھے –

خاص طور پر بیرون ملک رھنے والوں کے لیے موبائیل فون بہت بڑا سہارا ھے- میرے فیس بک کے ساتھیوں میں معظم عباس سپرا، فرحان سلیم احمد خان ، منوراقبال خان ، سرفرازخان ، محمد شعیب شاہ ، مناظر گوندل اور کئی دوسرے لوگ بیرون ملک رھتے ھیں ، اللہ ان سب کو اور ان کے گھر والوں کو سلامت رکھے – وہ میری ھر پوسٹ کو گھر سے آیا ھؤا خط سمجھ کر پڑھتے اور خوش ھوتے ھیں – مجھے ان کی اس ضرورت کا احساس ھے ، اسی لیے روزانہ لکھتا ھوں-موبائیل فون کے نقصانات میں سب سے بڑا نقصان یہ ھے کہ آپ بڑی چاہ سے کسی دوست کے گھر جائیں ، اور اس سے کوئی اھم بات کر رھے ھوں کہ اچانک اس کے موبائیل فون پر کال آجائے ، اور وہ آپ کی بات کو چھوڑ کر کال کا جواب دینے لگے – کیا اس صورت حال میں آپ کی عزت نفس مجروح نہیں ھوتی ؟ توھین کا احساس نہیں ھوتا ؟
اس کا ایک حل یہ ھے کہ جب آپ کسی سے ملنے جائیں ، یا کوئی آپ سے ملنے آئے تو موبائیل فون کو خاموش (silent) کردیں – اللہ معاف کرے ھر آنے والی کال زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ھوتی – آپ کے پاس بیٹھا ھؤا آدمی آپ کے لیے زیادہ اھم ھونا چاھیے –
– رھے نام اللہ کا-
بشکریہ-منورعلی ملک– 14 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

جب ھم گارڈن کالج راولپنڈی میں پڑھتے تھے تو ایک دفعہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر کالج کے پرنسپل صاحب نے دو سٹوڈنٹ لیڈرز کو کالج سے نکال دیا – ان طلبہ نے پرنسپل صاحب کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا –
کیس کی سماعت مس پرویز یوسف زئی نامی سول جج نے کی –
کیس کی سماعت شروع ھوئی توایک ملزم نے جج صاحبہ سے کہا “ جناب ھمیں وہ جرم بتایا جائے جس کی پاداش میں پرنسپل صاحب نے ھمیں کالج سے نکال دیا “جج صاحبہ نے کہا “ بھائی صاحب ، میرے خیال میں تو ایک ٹیچر کے خلاف آپ کا عدالت میں آنا بھی جرم ھے – مگر افسوس کہ قانون میں اس جرم کی کوئی سزا نہیں – قانون میں اگر اس جرم کی سزا ھوتی تو میں ابھی آپ کو سزا سنا دیتی“-
یہ کہہ کر انہوں نے مقدمہ خارج کردیا –

جج صاحبہ پشاور کی رھنے والی تھیں – کچھ عرصہ بعد سنا کہ انہوں نے ملازمت چھوڑ کر اپنا پرائیویٹ سکول بنا لیا – اگر ملازمت میں رہ جاتیں تو ھائی کورٹ ، بلکہ سپریم کورٹ کی جج بھی بن سکتی تھیں ، مگر انہوں نے ٹیچر بننے کو ترجیح دی –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 15 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

اس موسم میں ھم مرغابی کا شکار کیا کرتے تھے- یہ اس دور کی بات ھے جب میں ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر تھا – میرے دوست ، ڈھیر امید علی شاہ سکول کے ھیڈماسٹر اخترحسین خان مغل بہت اچھے شکاری تھے- ان کے پاس دو بارہ بور بندوقیں تھیں ، ایک ڈبل بیرل (دونالی) ایک سنگل بیرل (ایک نالی)- ان میں سے ایک میں لے لیتا تھا –

ڈھیر امید علی شاہ کے شمال اور جنوب میں پانی سے بھرے ھوئے خطانوں میں مرغابیاں دن بھر آتی جاتی رھتی تھیں – خطان دوتین فٹ گہرے چوکورگڑھے ھیں ، جو محکمہ نہر کے لوگ نہر کے کناروں پر مٹی ڈالنے کے لیے کھودتے ھیں -پانی پر بیٹھی ھوئی مرغابیاں ھمیں دیکھ کر اڑنے کی کوشش کرتیں توبندوق سے فائر کر کے دو چار ھم گرا لیتے تھے- بہت مزا آتا تھا اس شکار میں – ایک دفعہ ایک سرخاب بھی میری گولی کا نشانہ بنا تھا – سرخاب گہرے بھورے رنگ کی بہت خوبصورت مرغابی ھوتی ھے-
مرغابیاں روس کے علاقے سائیبیریا کی جھیلوں سے ھرسال اکتوبر نومبر میں یہاں آتی ھیں اور مارچ کے آخر میں واپس چلی جاتی ھیں – سائیبیریا کی سردی میں کسی جاندار کا زندہ رھنا ممکن نہیں – اس لیے مرغابیاں ، کونجیں وغیرہ سردی کا موسم یہاں گذارتی ھیں –

مرغابی کا گوشت مرغی سے ذرا سخت ، سیاھی مائل رنگ کا ، بہت لذیذ گوشت ھوتا ھے – چشمہ جھیل کے علاقے میں لوگ جال سے بھی مرغابیوں کا شکار کرتے ھیں – ایک دفعہ میرا ایک سٹوڈنٹ میرے لیے جال سے شکارکی ھوئی چار زندہ مرغابیاں لے آیا تھا –


میرے علم کی حد تک بندوق سے مرغابی کا شکار کرنے کے سب سے بڑے ماھر میرے محترم دوست پروفیسر اشرف علی کلیارھیں – وہ تو تقریبا سارا سیزن دریا کے کنارے مرغابیوں کا قلع قمع کرنے میں لگے رھتے ھیں —- میں اکثر کہا کرتا ھوں کہ پروفیسر کلیار صاحب آخری مرغابی کو واپسی کے سفر پر روانہ کر کے گھر واپس آتے ھیں-
————————————- رھے نام اللہ کا –

بشکریہ-منورعلی ملک– 16 اکتوبر 2018

میرا میانوالی–

اٹھ کر سلام کیجیے ————————– یہ ھیں میرے بے حد قابل احترام ٹیچر مرحوم شاہ ولی خان صاحب –

ماسٹر شاہ ولی خان صاحب ھمارے پانچویں کلاس کے ٹیچرتھے- اس زمانے میں پرائمری تعلیم چار کلاسوں پر مشتمل تھی – پانچویں کلاس درجہ مڈل کی پہلی کلاس ھؤا کرتی تھی-ماسٹر شاہ ولی خان بہت قابل بھی تھے زندہ دل بھی- جو کچھ پڑھاتے دل میں اتر جاتا – دلچسپ باتوں سے ھنسا ھنسا کر برا حال کر دیتے تھے- اردو ھو تاریخ یا جغرافیہ ، ماسٹر صاحب ھرمضمون میں سے ایک آدھ لطیفہ نکال لیتے تھے-
غصہ بہت کم آتا تھا انہیں- آتا بھی تو زیادہ مار پٹائی نہیں کرتے تھے ، ذرا سا ڈانٹ کر پھر بالکل نارمل رویہ اختیار کر لیتے – سکول کے محبوب ترین ٹیچر ماسٹر شاہ ولی خان ھی تھے-

ماسٹر صاحب بہت اعلی ادبی ذوق رکھتے تھے- اس زمانے کے مشہور ترین ادبی رسائل ، “بیسویں صدی“ اور “ عالمگیر“ جیسے بلند پایہ ادبی رسائل کا خاصا بڑا ذخیرہ تھا ان کے پاس –

ادبی ذوق کے اشتراک کی وجہ سے وہ میرے بڑے بھائی ھیڈماسٹر ملک محمد انور علی کے بہت قریبی دوست تھے- بھائی جان اور ماسٹر صاحب کتابوں اور رسالوں کا آپس میں لین دین کرتے رھتےتھے- ریٹائرمنٹ کے بعد ماسٹر صاحب اکثر ھمارے ھاں آیا کرتے تھے- مجھے بہت پیار سے “منور“ کہہ کر بلایا کرتے تھے-

ماسٹر شاہ ولی خان صاحب داؤدخیل کے مشہور نیازی قبیلہ سالارخیل کے بزرگ تھے- اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے شہر بھر میں نیایت احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے- بے شمار حسین یادیں چھوڑ گئے – ان کی آواز آج بھی کانوں میں گونجتی ھے –
( پکچر استاد محترم کے پوتے شفقت خان نیازی نے بھیجی ھے – ان کا بہت احسان ھے – کہ مجھے استاد مکرم کی زیارت کرادی )-
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 17 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

کچھ دن سے ٹیچرز کا کردار ھر جگہ موضوع بحث ھے – یہ بحث یونیورسٹی کی سطح کے بعض سینیئر اساتذہ کو ھتھکڑیاں پہنانے سے شروع ھوئی – آپ سب لوگوں نے بھی وہ پکچر/ ویڈیو دیکھی ھوگی ، یا اس کے بارے میں سنا ھوگا- میں خود ٹیچر ھوں ، اس لیے اس معاملے میں میری رائے بھی سن لیجیے –

ٹیچر ، ھیڈماسٹر اور پروفیسر کی حیثیت میں میں نے ھر سطح کے اساتذہ کو بہت قریب سے دیکھا ھے- ان میں اچھے ٹیچر بھی تھے ، برے بھی – لائق بھی نالائق بھی ، مقبول بھی ، نا پسندیدہ بھی -ٹیچر جیسا بھی ھو بچے اس کا احترام کرتے ھیں – لیکن جب ٹیچر ھی آپس میں لڑنے لگیں ۔ تو بچوں کے دل سے ان کا احترام اٹھ جاتا ھے-
بدبختی سے ھمارے ھاں ٹیچرز دو گروپس میں تقسیم ھیں – دائیں بازو کا گروپ ( تنظیم اساتذہ) جماعت اسلامی گروپ کہلاتا ھے ، بائیں بازو کا گروپ ترقی پسند یا لبرل گروپ پیپلز پارٹی گروپ یا سوشلسٹ گروپ کے نام سے معروف ھے – دونوں گروپس کی اہنی اپنی طلبہ تنظیم بھی ھے —– کام یہاں آکر بگڑ جاتا ھے- اساتذہ کے نظریاتی اختلافات اپنی جگہ ، جب سٹؤڈنٹس ان اختلافات میں involve ھو کر مخالف گروپ کے ٹیچرز پر کیچڑ اچھالنے لگتے ھیں ، تو تعلیم کا مقصد ھی فوت ھو جاتا ھے – یہ افسوسناک صورت حال اب اور بھی سنگین ھوتی جا رھی ھے – اسی صورت حال کے نتیجے میں اساتذہ کو ھتھکڑیاں بھی لگی ھوئی دیکھیں –

کل کے اخبار میں ایک کالم نظر سے گذرا – کالم نگار لکھتے ھیں ——–” امریکہ میں دوران تعلیم پہلا دن orientation ( آگاھی) کا دن تھا – اس موقع پر اپنے لیکچر میں امریکہ کے سٹیٹ اٹارنی ( اٹارنی جنرل ) نے کہا —-
امریکہ میں اساتذہ کے خلاف کوئی آدمی مقدمہ نہیں جیت سکتا-
ٹھوس الزامات میں ملوث استذہ کے خلاف فیصلہ لکھنے میں بھی
جج کا ھا تھ اس کا ساتھ نہیں دے گا “

یہ سلسلہ انشآءاللہ ایک دودن جاری رھے گا

بشکریہ-منورعلی ملک– 19 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

پروفیسر شمشاد محمد خان لودھی سنٹرل ٹریننگ کالج لاھور میں ھمارے ریاضی ( میتھس ) کے پروفیسر تھے – لائق اتنے کہ ان کی لکھی ھوئی ریاضی کی کتابیں پنجاب بھر میں میٹرک کے کورس میں شامل تھیں –

ایک دن کہنے لگے “ میری ایک بچی نویں کلاس Class Nine میں پڑھتی ھے- کل وہ گھر میں سکول کا ھوم ورک کر رھی تھی تو میں ادھر سے گذرا – وہ ریاضی کا ایک سوال حل کر رھی تھی – میں نے کہا “ بیٹا ، یہ سوال جس طرح آپ حل کر رھی ھو , طریقہ تو یہ بھی ٹھیک ھے ، لیکن اس کی بجائے اگر یوں کر دو تو سوال زیادہ آسانی سے حل ھو سکتا ھے-بچی نے کہا “ جی نہیں ، ھماری میڈم نے ایسے ھی بتایا ھے“-
میں نے کہا “ بیٹا ، بے شک آپ کی میڈم بہت لائق ھوں گی ، مگرجس کتاب سے وہ آپ کو ریاضی پڑھا رھی ھیں وہ تو میری لکھی ھوئی ھے “-

بچی نے کہا “چھوڑیں ابو، آپ جو کچھ بھی ھیں ، آپ ھماری میڈم سے زیادہ قابل نہیں ھو سکتے“-

یہ واقعہ سنا کر پروفیسر صاحب نے فرمایا “ میں سلام پیش کرتا ھوں ان میڈم صاحبہ کو جن کا مقام ان کے سٹوڈنٹس کی نظر میں اتنا بلند ھے کہ وہ کسی کو ان کے برابر ماننے کو تیار نہیں “-

واقعی ، کامیاب ٹیچر وہ ھے جس پہ سٹوڈنٹس کو مان ھو- جس طرح چھوٹے بچے اپنے باپ کو دنیا کا سب سے اچھا انسان سمجھتے ھیں ، ٹیچر پہ بھی انہیں ایسا ھی اعتماد ھونا چاھیے – یہ اعتماد ٹیچر کی قابلیت اور شفقت سے بنتا ھے- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 20 اکتوبر 2018

————–یادیں ——————
شعر میرا —- آرائش قدرت اللہ خان نیازی ، داؤدخیل

بشکریہ-منورعلی ملک–20 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

آپ لوگ پتہ نہیں مجھے کیا سمجھتے ھیں ، سچی بتاؤں میں بہت نالائق طالب علم تھا – ذھین تو تھا مگر نکما بہت تھا- سکول کی تعلیم سے مجھے ذرا بھی دلچسپی نہ تھی – ٹیچر صاحبان پڑھاتے رھتے مگر میں یہ سوچتا رھتا کہ چھٹی کے بعد گھر جا کر کھانے کو کیا ملے گا – اپنی پسند کے کھانوں کے بارے میں سوچتا رھتا تھا- شکر ھے اس زمانے میں ٹیچرصاحبان کچھ پوچھتے نہیں تھے –

اگرمیں اسی حال میں رھتا تو پرائمری سے آگے تعلیم حاصل نہ کر سکتا ، بھاگ جاتا – لیکن قدرت نے میرے لیے اپنا منصوبہ تیار کر رکھا تھا -<چوتھی کلاس میں ماسٹر عبدالحکیم سخت مار پٹائی کرتے تھے – ان کے ڈر سے پڑھنے لگا ، تو اچھا خاصا لائق بن گیا- پانچویں کلاس میں سر شاہ ولی خان کی شخصیت اور اندازتدریس سے متاثر ھو کر اردو میں دلچسپی لینے لگا – چھٹی کلاس میں ھمارے انگلش ٹیچر سر گل خان نیازی کی شخصیت اور پڑھانے کا طریقہ ایسا دلکش تھا کہ میں انگلش میں بھی دلچسپی لینے لگا – آٹھویں کلاس کے انگلش ٹیچر سر ممتاز حسین کاظمی نے تو مجھے انگلش کا دیوانہ بنا دیا ، بہت رھنمائی ملی ان سے-
ریاضی میرے حلق سے نیچے کبھی نہ اتر سکی – بس رو پیٹ کر امتحان پاس کرنے کی حد تک ریاضی سیکھ کر کام چلاتا رھا – بقیہ داستان انشآءاللہ کل –
——————————————- رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک– 21 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

نویں کلاس میرے تعلیمی کیریئر میں انقلاب ثابت ھوئی – ھیڈماسٹر راجہ الہی بخش صاحب انگلش کے بہترین ٹیچر تھے – انہوں نے ھمیں انگلش گرامر کا اچھا خاصا ماھر بنادیا – ان سے عقیدت کے اظہار کی خاطر میں نے بی اے کے لیے اپنی کتاب “علی انگلش کمپوزیشن “ Ali English Composition انہی کے نام سے منسوب کی –

ھمارے ریاضی کے ٹیچر محمد مسعود شاہ صاحب ، میانوالی کے معروف شاعر اور ادیب سید نصیر شاہ صاحب کے بڑے بھائی تھے- بہت با کمال ٹیچر تھے – میرے بڑے بھائی ملک محمد انورعلی کے بہت پیارے دوست تھے- اسی سال بھائی جان داؤدخیل ھائی سکول کے ھیڈماسٹر مقرر ھوئے -ھمارے 11گھر کے ساتھ بیٹھک کے علاوہ دو کمروں کا مہمان خانہ بھی تھا – بھائی جان نے مہمان خانے کا ایک کمرہ شاہ جی ( محمدمسعودشاہ صاحب ) کو دے دیا – شام کے بعد شاہ جی نے مجھے ریاضی پڑھانا شروع کردیا —- آنکھیں کھل گئیں – معلوم ھؤا ریاضی سے تو میں ویسے ھی بھاگتا پھرتا تھا ۔ یہ تو بہت دلچسپ مضمون ھے – خاص طور پرالجبرا مجھے بہت اچھا لگا – یاد رھے الجبرا مسلمان ریاضی دانوں نے ایجاد کیا تھا – یہ بھی یاد رھے کہ آئن سٹائن کا ایٹمی نظریہ بھی الجبرے کی مساوات کی شکل میں تھا ، جو سائنس کی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب ثابت ھؤا-
محمد مسعود شاہ صاحب کی نظرکرم سے ریاضی میں مجھے اچھی خاصی دسترس حاصل ھوگئی – اتنی اچھی کہ جب میں ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر بنا تو گیارہ سال انگلش کے علاوہ ریاضی بھی پڑھاتا رھا –

شاہ جی بے مثال ٹیچر تھے – کسی فیس کے بغیر کلاس کو چھٹی کے بعد بھی پڑھاتے تھے- غریب بچوں کی سکول کی فیس بھی اپنی جیب سے ادا کرتے تھے- داؤدخٰیل سے ٹرانسفر ھو کر پہلے ڈھوک علی خان ، پھر دریا خان متعین ھوئے اور دریا خان ھی میں مستقل سکونت اختیار کر لی –
—– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–22 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

میں نے تو کبھی سوچا ھی نہیں تھا کہ کیا بنوں گا – بچپن میں جب تیسری کلاس میں پڑھتا تھا تو پکا ارادہ کر لیا تھا کہ ریلوے انجن کا ڈرائیور بنوں گا – میرے اس ارادے میں میرا کزن غلام حبیب ھاشمی بھی شریک تھا – ھمیں وہ کالے کالے بھاری بھرکم سٹیم انجن بہت اچھے لگتے تھے – ھم روزانہ سکول سے فرار ھوکر ریلوے ستیشن پر انجن دیکھنے جایا کرتے تھے- جب گھر والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے مار پٹائی کر کے ھمیں سٹیشن جانے سے روک دیا – مجھے تو ڈرائیور بننے کا خواب بھول بھال گیا – بھائی غلام حبیب میٹرک سے پہلے ریلوے میں انجن مکینک بھرتی ھو گئے – خوش نصیب تھے – ساری زندگی اپنے محبوب انجنوں کے ساتھ بسر کر دی-میں نے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک پاس کر لیا تو بزرگوں نے حکم دیا کہ تمہیں ڈاکٹر بننا ھے – والد صاحب پنڈی میں محکمہءتعلیم کے افسر تھے – انہوں نے مجھے گارڈن کالج راولپنڈی میں داخل کرا دیا – میں فرسٹ ائیر میڈیکل گروپ کا طالب علم تھا ، مگر مجھے سائنس سبجیکٹس سے ذرا بھی دلچسپی نہ تھی – مجھے صرف انگلش اچھی لگتی تھی
میری خوش نصیبی کہ مجھے پروفیسر ایف یو خان اور پروفیسر جان وائیلڈر جیسے مہربان اور ماھر انگلش ٹیچرز نصیب ھوئے – پروفیسرجان وائیلڈر امریکن تھے – گارڈن کالج امریکہ کا ایک مشنری ادارہ چلاتا تھا ، اس لیے سائنس اور انگلش کے بہت سے پروفیسرز امریکی تھے- اپنے پروفیسر جان وائیلڈر کے بارے میں ایک دو پوسٹس پچھلے سال لکھ چکا ھوں – میرے بہت مہربان ٹیچر تھے- ایک دفعہ ایک ٹیسٹ میں انہوں نے مجھے 98/100 نمبر دیئے تھے – کمال میرا نہیں ، ان کے حسن تدریس کا ھے – اتنا اچھا پڑھاتے تھے کہ سب کچھ اب بھی یاد ھے –
— رھے نام اللہ کا-
بشکریہ-منورعلی ملک– 23 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

دسمبر ٹیسٹ سے پہلے ھی میں نے سائنس کے مضامین چھوڑ کر آرٹس کے مضامین لے لیے – یہ کبھی نہ سوچا بنوں گا کیا – ارادہ یہ تھا کہ بی اے کرنے کے بعد دیکھوں گا کیا کرنا ھے – مگریہ فیصلہ قدرت نے پہلے ھی کر رکھا تھا کہ مجھے ٹیچر بننا ھے – حالانکہ میں نے تو کبھی ٹیچر بننے کا سوچا ھی نہ تھا –

گارڈن کالج سے فارغ ھو کر گھر واپس آیا – 
بڑے بھائی ملک محمد انورعلی ھائی سکول داؤدخیل کے ھیڈماسٹر تھے- ان کے ایک ساتھی ماسٹر نواب خان صاحب روزانہ ھمارے ھاں آیا کرتے تھے – ماسٹر صاحب پہلی کلاس میں میر ے ٹیچر بھی رہ چکے تھے – اب وہ سکول میں چھٹی کلاس کے ٹیچر تھے – ایک دن بھائی جان سے کہنے لگے “ملک صاحب ، میری کلاس کے انگلش ٹیچر تو پولیس میں بھرتی ھوگئے – ان کی جگہ نیا ٹیچر پتہ نہیں کب آئے گا – تب تک کیوں نہ یہ نوجوان میری کلاس کو انگلش پڑھا دیا کرے“-
بھائی جان کو کیا اعتراض ھو سکتا تھا – مجھے بلا کر کہا “ کل سے ماسٹر صاحب کی کلاس کو انگلش پڑھانا تمہارے ذمے اگلی صبح ماسٹر نواب خان صاحب مجھے ساتھ لے جانے کے لیے آئے – ھم جارھے تھے تو راستے میں ھمارے محلے کے ایک بزرگ ( چاچا نورخان ) کھیت میں ھل چلاتے نظرآئے – انہوں نے ماسٹر صاحب سے کہا “ ماسٹر صاحب ، اس لڑکے کو کدھر لے جا رھے ھیں -؟“

ماسٹر صاحب نے بتایا کہ یہ میری کلاس کو انگلش پڑھائے گا تو بزرگ نے کہا —

ٹھیک ھے ، مگر اپنے کمرے سے کرسی ھٹوا دینا – لائق بچہ ھے، بہت کچھ بن سکتا ھے ، مگر ٹیچر کی کرسی پہ بیٹھ گیا تو ساری عمر ٹیچر ھی رھے گا “-

چاچا نورخان کی بات سو فی صد سچ ثابت ھوئی – میں ھمیشہ کے لیے ٹیچر ھی بن کر رہ گیا – مگر مجھے کوئی خسارہ نہ ھؤا – اللہ کا شکر ادا کرتا ھوں کہ اس نے مجھے کچھ اور بنانے کی بجائے ٹیچر بنا دیا – بہت جلد یہ احساس ھونے لگا کہ میرے خالق نے مجھے اسی کام کے لیے اس دنیا میں بھیجا –
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 24 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

جس زمانے میں میں نے داؤدخیل ھائی سکول میں انگلش ٹیچر کی حیثیت میں کام کا آغاز کیا ، ضلع میانوالی ڈیر ہ اسمعیل خان ( ڈی آئی خان ) میں شامل تھا – سرگودھا ڈویژن بعد میں بنا – بھائی جان (ھیڈماسٹر صاحب) نے ڈویژنل انسپکٹر (ڈائریکٹرسکولز) سے کہہ کر مجھے بطور عارضی انگلش ٹیچر متعین کرا دیا – مستقل تقرر کے لیے بی ایڈ ھونا ضروری تھا ، مگر میں اس وقت صرف بی اے تھا – تنخواہ پہلے 65 روپے ماھوار تھی کچھ عرصہ بعد 85 روپے ھوگئی –

میں چھٹی اور آٹھویں کلاس کو انگلش پڑھاتا تھا — چار سال اس منصب پر کام کرتا رھا – اتنی محبت ، شہرت اور عزت ملی کہ میں نے مستقل طور پر ٹیچر بننے کا فیصلہ کر کے سنٹرل ٹریننگ کالج لاھور کی بی ایڈ کلاس میں داخلہ لے لیا -داؤدخیل سکول میں میری آخری کلاس وہ تھی جسے چھٹی سے نویں کلاس تک میں انگلش پڑھاتا رھا – پروفیسرعبدالرحیم نقشبندی اور میجر (ر) میاں محمد قریشی بھی اسی کلاس میں میرے سٹوڈنٹ رھے – تیس چالیس بچوں کی اس کلاس کا سب سے پسندیدہ مضمون انگلش تھا – میرے ان بچوں کو سکول کی تعلیم سے اور کچھ ملا یا نہیں – بحمداللہ کچھ نہ کچھ انگلش سب نے سیکھ لی – بہت اچھی کلاس تھی

وہ بچے اب ماشآءاللہ اپنے اپنے گھر میں بزرگ ھیں – کہیں کوئی مل جاتا ھے تو زندگی کی شمع کی لو تیز ھو جاتی ھے – اللہ سب کو سلامت رکھے – میجر (ر) میاں محمد قریشی سے فیس بک پر روزانہ رابطہ رھتا ھے – وہ اسلام آباد میں رھتے ھیں – پروفیسر نقشبندی گورنمنٹ کالج میانوالی میں میرے ساتھ بھی رھے – فزکس کے پروفیسر تھے، وہ بھی اب ریٹائرمنٹ کے مزے لے رھے ھیں – فضل داد خان ، انجینیئر حاجی عبیداللہ خان ، انجیئر حمیداللہ خان اور ان کے کچھ دوسرے ساتھی داؤدخیل ھی میں رھتے ھیں — رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 25 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

سنٹرل ٹریننگ کالج لاھور میں بی ایڈ کی تعلیم بھی میری زندگی کا ایک اھم دور تھا – میرے ماموں زاد بھائی ممتاز حسین ملک بھی میرے ساتھ تھے- ھم دونوں ھاسٹل کے کمرہ نمبر 101 میں رھتے تھے- یہ کمرہ بالائی منزل کا پہلا کمرہ تھا-

کمرہ نمبر 107 میں کالاباغ کے کرم اللہ پراچہ اور میانوالی کے بھائی ملک مشتاق مقیم تھے – ھاسٹل کے دوسرے حصے میں لالو نورخان قتالی خیل ۔ موسی خیل کے محمدعظیم خان ، کندیاں کے ملک عطآءاللہ ، پپلاں کے ملک محمد خان , مخدوم عبدالرزاق اور دریاخان کے افغانی صاحب رھتے تھے -میانوالی کے ان ساتھیوں کے علاوہ چکوال کے ملک نذیر احمد، قاضی غلام مرتضی ، اور بھائی رشید ‘ پشاور کے عبدالرحمن خان المعروف خان چاچا اور پنڈی کے راجہ عبدالرحمن عرف مانی بھی ھمارے دوستوں کے گروپ میں شامل تھے
خان چاچا عمر میں ھم سب سے بڑے تھے، اس لیے ھم انہیں چاچا کہتے تھے – بہت زندہ دل انسان تھے- ھر سنیچر کی شب ان کے کمرے میں موسیقی کی محفل سجتی تھی – جسے میں نے چاچا کاعرس کا نام دے دیا – خان چاچا نے ھنس کر یہ نام بخوشی قبول کر لیا – چاچا کے عرس میں دوستوں کےلیے چائے پانی کا بندوبست چاچا اپنی جیب سے کرتے تھے- ھم نے بہت کہا کہ بندوبست مشترکہ ھونا چاھیے ، مگر چاچا نہ مانے، کہنے لگے مجھ پہ تم لوگوں کا ایک پیسہ بھی حرام ھے – میرے لیے تم لوگوں کی محبت کروڑوں روپے سے زیادہ ھے – بہت بڑا انسان تھا – دوستوں پر جان دینے کو بھی ھر وقت تیار –

چاچا کے عرس کی خبر ھمارے بعض پروفیسر صاحبان تک پہنچی تو وہ بھی بہت محظوظ ھوئے – ٹریننگ کالج میں بہت سی پابندیاں ھوتی ھیں – ھاسٹل میں ناچ گانے کا سوال ھی پیدا نہیں ھوتا – مگر تاریخ میں پہلی بار ھمارے ھاتھوں یہ روایت ٹوٹی – ھاسٹل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر سعید خان خاصے سخت مزاج تھے مگر ھم لوگوں کی معصوم غلطیاں وہ بھی ھنس کر برداشت کر لیتے تھے – ساڑھے تین سو سٹوڈنٹس کے ھاسٹل میں ھم دس بارہ لوگوں کا یہ گروپ ایک مثالی گروپ تھا —— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 26 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

صلی اللہ علیک و علی آلک یا محمد

آمت مسلمہ کے لیے ایک خوشخبری ————————

آسٹریا کی ایک عدالت نے ایک عورت کو توھین رسالت کے جرم میں سزا دی تھی – اس عورت نے یورپی عدالت میں اپیل کی ، یہ عدالت سات ججوں پر مشتمل ھے – کل ساتوں ججوں نے متفقہ فیصلہ دے کر اس عورت کی اپیل مسترد کردی – اور فیصلے میں لکھا کہ توھین رسالت شرانگیز جرم ھے – آزادٰی ء اظہار کے بہانے توھین رسالت سنگین جرم ھے –

اس فیصلے کے بعد انشآءاللہ کسی کو یہ حرکت کرنے کی جراءت نہیں ھوگی –

بشکریہ-منورعلی ملک– 26 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-

ممتاز بھائی اور میری سب سے سخت لڑائی اس دن ھوئی جب بھائی نے مجھے بتایا کہ انہوں نے کالج کے گلوکاری کے سالانہ مقابلے میں شریک ھونے کے لیے میرا نام لکھوادیا ھے —- میں پھٹ پڑا –

“حد ھو گئی۔ یار ، تم سے کس نے کہہ دیا میں گلوکار ھوں ؟ نہ میں گلوکار ھوں ، نہ مقابلے میں حصہ لوں گا “-“پورے پچاس روپے جرمانہ ھوگا“

“ ھوجائے “

“شاید تمہیں کالج سے بھی نکال دیں“

“ نکال دیں – کچھ بھی ھو جائے میں یہ کام نہیں کروں گا “

“ کمینے، میں نے تمہارے فائدے کے لیے تمہارا نام لکھوایا ھے “

“ نہیں چاھیے مجھے ایسا فائدہ – میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا- میں اس مقابلے میں حصہ نہیں لوں گا – بالکل نہیں “-

بھائی کو غصہ آگیا – کہنے لگے “ ٹھیک ھے۔ میں اپنا سامان اٹھا کر کسی اور کمرے میں چلا جاتا ھوں تم جاؤ جہنم میں “

اپنے جہنم میں جانے سے زیادہ نقصان بھائی کو ناراض کرنا تھا – میرے ضمیر نے کہا شرم کرو- بھائی کی بات رد نہ کرو- ایسے خیرخواہ بھائی قسمت والوں کو ملتے ھیں

میں نے ھار مان لی ٠ بھائی سے کہا “ سوری، مجھے معاف کر دیں – نتیجہ جو بھی ھو میں اس مقابلے میں حصہ لوں گا – مگر یار ، میں گلوکار تو ھوں نہیں ، وھاں گاؤں گا کیا -؟“

“ وہ جو محمدرفیع کا گیت تم مجھے سنایا کرتے تھے —– یہ وادیاں یہ فضائیں بلارھی ھیں تمہیں —– وھی سنا دینا -“

دوتین دن بعد مقابلے کی تقریب ھوئی – مجھ سمیت چار لڑکوں نے مقابلے میں حصہ لیا – مقابلے کے چیف جج پروفیسر لودھی صاحب نے نتیجے کا اعلان کرتے ھوئے کہا
“ سب لوگوں نے بہت اچھا گایا ، تاھم ھماری دیانت دارانہ رائے یہ ھے کہ اس مقابلے میں اول انعام کے مستحق ھیں ——- میانوالی کے مسٹر منورعلی ملک — !!!! “

انعام میں مجھے ایک شاندار چمکتی دمکتی ٹرافی (کپ) ، ایک خوبصورت سند اور جارج ایلیئٹ کا مشہورزمانہ ناول Mill on the Floss ملا -تقریب ختم ھوئی – بھائی بے حد خوش تھے – مجھ سے گلے ملنے لگے تو میں نے ان کے پاؤں چھولیے – دونوں کی اںکھوں سے آنسو بہہ نکلے –

 رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک– 28 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-سبحان اللہ !!!!!

Image may contain: sky and outdoor
اچے برج لہور دے —————–
بادشاھی مسجد لاھور کا ایک منظر-بشکریہ-منورعلی ملک– 29 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-عزیز دوستو ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ –

بہت عرصہ سے آپ میری پوسٹس دیکھ رھے ھیں – سواتین سال میں ایک ھزار سے زائد پوسٹس لکھ چکا ھوں – اکثر پوسٹس اپنے کلچر کے حوالے سے ، مٹتی ھوئی روایات ، رسم و رواج کے بارے میں لکھیں ، کچھ اپنی یادوں کو محفوظ اور آپ کو محظوظ کرنے کے لیے – کچھ پوسٹس اپنے ٹیچرز، دوستوں اور سٹوڈنٹس کے بارے میں موضوع کا تعین پہلے سے نہیں کرتا تھا – صبح دس بجے کے قریب فیس بک کھولتا تو جو باتیں ذھن میں آتیں لکھ دیتا – شکر ھے کہ وہ تمام پوسٹس ھمارے مہربان دوست ، عیسی خیل کے شیر بہادر خان نیازی نے اپنی ویب سائیٹ   786mianwali.com   پر نہایت سلیقے سے محفوظ کر دی ھیں – اور انشآءاللہ آئندہ بھی وہ یہ مہربانی کرتے رھیں گے – اللہ انہیں بے حساب جزائے خیر عطا فرمائے-
21 اکتوبر سے پوسٹس کا جو سلسلہ میں نے شروع کیا ھے اسے آپ قسط وار کہانی سمجھ لیں – یہ ٹیچر کی حٰیثیت میں میری داستان حیات ھے- بہت سے حیرت انگیز ، دلچسپ ، کبھی ھنسانے، کبھی رلانے والے واقعات کا ایک طویل سلسلہ ھے – علم , کلچر اور اخلاق کے حوالے سے ان پوسٹس میں سیکھنے کو بھی بہت کچھ ھے – انشآءاللہ بہت دلچسپ کہانی ثابت ھوگی –

ان میں سے کچھ واقعات ایک دوسال پہلے بھی لکھ چکا ھوں ، لیکن اس وقت کوئی ترتیب ذھن میں نہ تھی – اب اپنی داستان حیات لکھنی شروع کی تو ان میں سے جو واقعہ جہاں ضروری تھا دوبارہ لکھ دیا ، لیکن نئے انداز میں –
مثلا پچھلی تین چار پوسٹس سے ممتاز بھائی کا ذکر چل رھا ھے – ان میں سے بہت سی باتیں پہلے بھی لکھ چکا ھوں ، لیکن اب تاریخی ترتیب میں وہ باتیں دوبارہ لکھنا ضروری تھا –

امید ھے یہ داستان آپ کو اچھی لگ رھی ھوگی- انشآءاللہ کچھ عرصہ بعد یہ داستان کتاب کی صورت میں بھی شائع کرا نے کا ارادہ ھے – ھوگا وھی جو اللہ کو منظور ھؤا- رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک– 30 اکتوبر 2018

میرا میانوالی—————-یادیں ——– 2006
لالاعیسی خیلوی کے گھر عیسی خیل میں دعوت
پکچر —– لالا، میں ، محمدادریس خان اور میرا بیٹا محمداکرم علی ملک

میرا میانوالی—————-

متاز بھائی مجھ سے عمر میں دوسال بڑے تھے- بچپن اورجوانی ھم نے ایک ساتھ گذاری – ھمارے کزن اور بھی تھے ، ھم دونوں کے تین تین سگے بھائی بھی تھے ، مگر ممتاز بھائی کا اور میرا آپس میں پیار مثالی تھا- ھم دونوں دوسروں سے الگ تھلگ اپنی دنیا میں رھتے تھے- ممتاز بھائی جس موضوع پر بھی بولتے جی چاھتا تھا بولتے ھی رھیں –

مجھے شاعری کی راہ بھی ممتاز بھائی نے دکھائی- مقبول ترین ترقی پسند شعراء فیض احمد فیض ، ساحرلدھیانوی ، احمد ندیم قاسمی، سیف الدین سیف وغیرہ کے بے شمار شعر انہیں یاد تھے – چراغ سے چراغ جلتا ھے – بھائی سے بچپن میں ان لیجنڈ شاعروں کا کلام سن کر ایسی ھی شاعری کرنے کا شوق دل میں سما گیا – اگرچہ شاعری میں نے بہت دیر بعد شروع کی ، مگردل میں شمع ممتاز بھائی ھی نے جلائی تھی –
بھائی خود بھی بہت اچھے شاعر تھے، لیکن بہت کم لکھتے تھے-ممتاز بھائی جیسا مقرر میں نے زندگی میں نہیں دیکھا – سٹیج کے بادشاہ تھے- جس موضوع پر بھی بولتے ، سامعین کے دل اپنی مٹھی میں لے لیتے-
ایک دن دوپہر کے بعد ھم کچھ دوست اپنے ھاسٹل سے نکل کر مال روڈ کی طرف جارھے تھے – اسلامیہ کالج سول لائینز کے گیٹ کے سامنے ایک بڑے سائز کا بینر دیکھ کر بھائی رک گئے – بینر ایک آل پاکستان کالجیئیٹ مباحثے (Debate) کا تھا ، جو اس وقت کالج کے ھال میں جاری تھا – بھائی ھمیں ساتھ لے کر ھال مین داخل ھوئے ، سٹیج سیکریٹری کے پاس جاکر اپنا کالج کا شناختی کارڈ دکھایا ، اور مقررین میں اپنا نام لکھوا دیا – ھم کہتے رہ گئے کہ بھائی صاحب یہ پنگا نہ لو – بھائی نے بڑے اعتماد سے کہا اللہ خیر کرے گا –
بھائی سٹیج پر آئے ، قرارداد کے موضوع پر بولنا شروع کیا – تاریخ کے حوالوں اور برمحل اشعار سے مزین بھائی کے دلائل نے ماحول میں اتنا جوش و خروش بھر دیا کہ ھر فقرے پر ھال تالیوں سے گونجنے لگا –

مباحثے کے جج لاھور ھائی کورٹ کے جسٹس انوارالحق اور قائداعظم کے جاں نثار ساتھی خواجہ محمد صفدر (خواجہ آصف کے والد ) تھے- دونوں جج صاحبان نے ممتاز بھائی کو بہترین مقرر (Best Speaker) کے انعام کا مستحق قرار دیا –

اتنی بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال انسان کو اپنی صلاحیتوں سے زیادہ میری صلاحیتوں کی سرپرستی کا شوق تھا – کوئی اور ھوتا تو حسد کرتا , لیکن بھائی مجھے کامیابیوں کی راھیں دکھاتے رھے – سامان فراھم کرتے رھے – اسی لیے تو میں کہتا ھوں —

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 31 اکتوبر 201

Your words for Mianwali and Mianwalians