MERA MIANWALI SEPTEMBER 2018

میرا میانوالی

منورعلی ملک کےستمبر 2018 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی ————————–

فیصل آباد کے مرحوم بری نظامی بھی اپنے خوبصورت گیتوں اورغزلوں کی بنا پر دنیا بھر میں مقبول تھے- بری نظامی کو یہ اعزاز بھی نصیب ھؤا کہ لالا عیسی خیلوی کے علاوہ ان کے بہت سے گیت اور غزلیں لیجنڈ فن کار نصرت فتح علی خان نے بھی گائیں، مثلا —–
دم مست قلندرعلی علی
اکھیاں اڈیکدیاں 
وگڑگئی اے تھوڑے دناں توں
بلکہ یہ کہنا غلط نہ ھوگا کہ نصرت صاحب نے 99 فیصد پنجابی کلام بری نظامی ھی کا لکھا ھؤا گایا -تقدیر کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جن شاعروں کا کلام گا کر گلوکار کروڑ پتی، بلکہ ارب پتی بن جاتے ھیں ، ان کی حالت یہ رھتی ھے کہ بیمار پڑ جائیں تو دوائی کے پیسے بھی پاس نہیں ھوتے – ساغر صدیقی جیسا بڑا شاعر لاھور کی سڑکوں پر رلتا ھؤا مرگیا – فلم ساز اس سے اپنی فلموں کے لیے گیت لکھوا کر چالیس پچاس روپے اس کی ھتھیلی پہ رکھ دیتے – اور خود ان فلموں سے کروڑوں روپے کما لیتے تھے-
بری نظامی کی موت بھی بہت کسمپرسی کی حالت میں ھوئی – مر اس لیے گیا کہ علاج کے پیسے نہیں تھے-
اس بے بسی کی موت کا صلہ رب کریم اسے ضرور دے گا –

بری بہت زندہ دل اور خوش اخلاق انسان تھے- اپنی لازوال شاعری کی وجہ سے ھمیشہ یاد رھیں گے-
رھے نام اللہ کا–بشکریہ-منورعلی ملک- 1 ستمبر 2018

میرا میانوالی ——————–

مرحوم بری نظامی کے بارے میں پوسٹ پر مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کے علاوہ کئی دوستوں نے اس المیے پر بھی کمنٹس دیئے – سب کا یہی کہنا تھا کہ بری نظامی کا کلام جن گلوکاروں نے گایا ان کا فرض بنتا تھا کہ بری نظامی کی مالی امداد کرکے اسے بے بسی کی موت مرنے سے بچا لیتے- میں ان دوستوں سے سو فی صد متفق ھوں –

ایک صاحب نے کہا شاعروں کو مفت میں شہرت تو مل جاتی ھے، ان کی محنت کا یہ صلہ کم تو نہیں – میں نے کمنٹ کے جواب میں کہا میرے بھائی شہرت سے آٹا اور سبزیتو نہیں خریدی جا سکتی-
محمد ظہیراحمد مہاروی نے اس المیئے کے ایک اور افسوسناک پہلو کی نشان دھی کرتے ھوئے کہا جب شاعر گلوکار کو خدا سمجھ کر اس کے در پہ پڑارھے تو گلوکار خود کو سچ مچ کا خدا سمجھنے لگتا ھے- اور شاعر سے غلاموں اور ذاتی ملازموں جیسا سلوک کرتا ھے- بات یہ بھی سو فی صد درست ھے- لیکن بری نظامی تو بہت خوددار انسان تھا ، کسی سے مانگ کر کھانے کی بجائے بھوکا رہ لیتا تھا- کم از کم اس کے ساتھ بہتر سلوک ھونا چاھیئے تھا –

میری کل کی پوسٹ کا ایک مقصد یہ بتانا بھی تھا ، کہ بری جیسے لوگوں کی کسمپرسی کی موت کے ذمہ دار صرف گلوکا ر ھی نہیں ، ھم سب ھیں – اپنے ارد گرد نظر ڈالیے ، کسی مریض کو غریبی کی وجہ سے نہ مرنے دیجیئے – اس کے علاج کے لیے حتی الوسع کوشش کیجئے ، آگے اس کی قسمت ، یتیتموں ، بیواؤں اور غریبوں کا خیال رکھیے – اگر آپ کے پڑوس میں کوئی مریض ، علاج کے پیسے نہ ھونے کی وجہ سے مر گیا تو قیامت کے دن اس غفلت کی المناک سزا ملے گی- یہ بھی یاد رکھیے کہ اللہ قیامت کا پابند نہیں ، چاھے تو اسی دنیا میں سزا دے دیتا ھے –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 2 ستمبر 2018

ایسے لوگوں سے سودا ضرور خرید لیا کریں کیونکہ یہ لوگ کروڑپتی بننے کے لیے نہیں بلکہ دو وقت کی روٹی کے لیے پسینہ بہاتے ھیں-بشکریہ-منورعلی ملک- 2 ستمبر 2018

میرا میانوالی ————————-

تھیں جن کے دم سے رونقیں قبروں میں جابسے

میانوالی کے ادبی حلقوں کی معروف و مقبول شخصیت جناب نذیر درویش بھی یہ دنیا چھوڑ کر تہہ خاک جا سوئے- اللہ ان کی مغفرت فرما کر اپنی رحمت کا سایہ نصیب فرمائے ، بہت متحرک اور فعال ادبی کارکن تھے- شاعر بھی تھے نثر نگار بھی -نذیر درویش کا تاریخی کارنامہ میانوالی کے نامورقبیلہ پنوں خیل کی جامع اور مسند تاریخ کی ترتیب و تدوین ھے ، جو کچھ عرصہ قبل منظر عام پر آئی – کتاب کی اشاعت کا اھتمام معروف ماھر امراض قلب ڈاکٹر طارق مسعود خان نیازی نے کیا- یہ کتاب ضلع میانوالی کی تاریخ پر موجود کتابوں میں ایک قابل قدر اضافہ ھے- جناب درویش نے بہت محنت کی اس کتاب پر- قبیلہ پنوں خیل کی تمام اھم شخصیات کے تعارف کے علاوہ بہت سی تصاویر اور قبیلے کا شجرہءنسب بھی اس کتاب کی زینت ھے- یہ سب معلومات جمع کر کے سلیقے سے لکھنا آسان کام نہ تھا ، مگر درویش صاحب نے ناممکن کو ممکن بنا دیا – اس کتاب کی وجہ سے ان کا نام بھی میانوالی کی تاریخ کا مستقل حصہ بن کر جاوداں ھو گیا

تقریبا ایک ماہ پہلے مجھے کتاب دینے کوآئے – میں نے کچھ دیر بیٹھنے کو کہا ، مگر بہت جلدی میں تھے – کہنے لگے کہیں جانا ھے – یہ ھماری آخری ملاقات تھی-رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 3 ستمبر 2018

میرا میانوالی ————————–

جن دنوں عیسی خیل میں ھمارا میکدہ آباد تھا ، کمرمشانی سے اظہر نیازی بھی کبھی کبھی وھاں تشریف لاتے تھے – نامور شاعر اور دانشور ظفراقبال خان نیازی (موسی خیل ) اور کمر مشانی کے ڈاکٹر محمد امیر خان بھی ان کے ھمراہ ھوتے تھے – خوب محفل رھتی تھی – اظہر نیازی بہت زبردست گیت نگار تھے – ان کے تمام گیت بہت مقبول ھوئے – لالا عیسی خیلوی نے ٹی وی پر جو سب سے پہلا گیت گایا وہ اظہر نیازی صاحب ھی کا لکھا ھؤا تھا – بول تھے ——
بے پرواہ ڈھولا کیوں ڈتا ای ساکوں رول
اظہر نیازی کا گیت —- “شالا تیری خیر ھووے” بھی بہت مقبول ھؤا – اور بھی بہت سے گیت تھے – سب کے سب دل میں اتر جانے والے -;”>پھر لالا عیسی خیلوی اسلام آباد اور وھاں سے لاھور منتقل ھو گئے – میں گورنمنٹ کالج عیسی خیل سے گورنمنٹ کالج میانوالی آگیا – اظہر نیازی گیت نگاری چھوڑ کر کاروبار کی طرف متوجہ ھوگئے- کمرمشانی لاری اڈہ پر داتا جنرل سٹور کے نام سے ان کے جنرل سٹور پر کبھی کبھی ملاقات ھوجاتی تھی – اب کافی عرصہ سے ادھر جانا نہیں ھؤا ، اللہ کرے ھمارے یہ بہت پیارے بھائی بخیریت ھوں – ان کے بارے میں تفصیل سے ھمارے دوست کمر مشانی کے اسدااللہ خان بتا سکیں تو بہت مہربانی ھوگی-اظہر نیازی بلدیاتی سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیتے رھے – کچھ عرصہ پہلے سنا آج کل نعتیں لکھتے ھیں – بہت مبارک کام ھے ، اللہ قبول فرمائے – اظہر نیازی صوم و صلوات کے پابند ، بہت خوش اخلاق اور ملنسار انسان ھیں – اس لیے سب لوگ ان سے محبت کرتے ھیں-

 میکدہ کے بارے میں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ھوں کہ یہ سچ مچ کا میکدہ نہیں تھا – میکدہ دراصل عیسی خیل میں لالا عیسی خیلوی کی بیٹھک کا نام تھا جہاں ھررات ھماری محفل منعقد ھوتی تھی – یہ نام عتیل عیسی خیلوی کی معصوم ایجاد تھا — رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک-4 ستمبر 2018

الحمدللہ —– جیوے میرا پاکستان ♥️———- شمالی علاقہ کا ایک منطر—

میرا میانوالی

ڈکھی کر کے ٹر گیا ایں —


منشی منظور نے یہ شکوہ تو کسی اور سے کیا تھا ، مگر خود بھی اپنے لاکھوں چاھنے والوں کو دکھی کر کے اچانک سرحد حیات کے اس پار جا بسا-منشی منظور لیہ کے رھنے والے تھے- سرائیکی میں بہت خوبصورت گیتوں کے علاوہ اردو غزل بھی بہت اچھی لکھتے تھے- سراپا محبت ، عجزوانکسار کا پیکریہ نوجوان ایک عجیب کرشماتی شخصیت تھا – سب سے پیار کرتا تھا ، ھم سینیئر لوگوں کا اتنا احترام کرتا تھا کہ انسان شرمندہ ھوجاتا تھا – ھجر اور محرومیاں اس کی شاعری کے مستقل موضوع تھے – ھجر اور محرومیاں چونکہ کسی نہ کسی صؤرت میں ھر انسان کا مقدر ھیں ، اس لیے منظور کی شاعری سب کی پسند تھی –
آج سے تین چار سال پہلے منظور کا خط موصول ھوا، میں لاھورمیں تھا – منظور نے خط کے ھمراہ اپنے کچھ گیت اور غزلیں بھی بھیجتے ھوئے فرمائش کی تھی اس کی عنقریب شائع ھونے والی کتاب کا تعارف لکھ دوں – میں ان دنوں بیماربھی تھا ، سوچا منظور سے معذرت کر لوں ، مگر دل نہ مانا ، اورمیں نے ایک دودن میں مضمون لکھ کر بھیج دیا – منظور بہت خوش ھؤا – کتاب منظر عام پر آگئی ، مگرکچھ ھی دن بعد یہ المناک خبر موصؤل ھوئی کہ منظور اس دنیا سے رخصت ھو گئے – اللہ مغفرت فرمائے بہت پیارے انسان تھے-
—-رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک-5 ستمبر 2018

وطن کے شہیدوں پر اللہ کی رحمت —————-
شہیدان وفا کے حوصلے تھے دید کے قابل
وھاں پر شکر کرتے تھے جہاں پر صبرکرناتھا

بشکریہ-منورعلی ملک- 6 ستمبر 2018

میرا میانوالی ———————–

تھل کی سلطنت سخن کے سلطان ، ھمارے دیرینہ مہربان ملک سونا خان بے وس کا تعارف کیا لکھوں —-
کہ آپ اپنا تعارف ھوا بہارکی ھے

یہ پوسٹ تو انہیں صرف یہ بتانے کے لیے لکھ رھا ھوں کہ

تم ھمیں بھول گئے ھوصاحب
ھم تمہیں یاد کیا کرتے ھیں

فیس بک پر دوسال تک میرے ھمسفر رھنے کے بعد خدا جانے کدھر غائب ھو گئے – بہت عرصہ سے فیس بک پر کم ازکم میری نظر سے نہیں گذرے – شاید بہت مصروف ھوگئے ، یا پھر فیس بک کو بے کار لوگوں کا شغل سمجھ کر الگ ھوگئے – اگر یہ بات ھے تو عرض کردوں کہ صاحب ، فیس بک تو وسیلہ ھے بے شمار لوگوں سے آپ کی ملاقات کا – وہ لوگ جو دلیوالہ سے بہت دور بیٹھے ھیں ، کچھ لوگ بیرون ملک بھی مقیم ھیں ، ان سب کے لیے فیس بک ھی آپ سے ملاقات کا وسیلہ ھے –

ایک مشورہ عرض کر دوں، ھماری طرح آپ بھی فیس بک پر اپنی داستان حیات لکھنا شروع کردیں – ھماری داستان حیات تو سیدھی سادی مسکین سی کہانی ھے- ھوش سنبھالتے ھی ٹیچر بن گئے – ساری زندگی نظرجھکا کر ، جسم و جاں بچا کر سیدھی لکیر پر چلتے گذار دی – آپ نے تو ماشآءاللہ خاصی رنگین زندگی بسر کی ھے – مزا آجائے گا یہ داستان پڑھتے ھوئے – اگر کسی نے یہ داستان سنانے سے منع کردیا ھوتو الگ بات ھے- ھم آپ کی مجبوری کا احترام کریں گے-رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 6 ستمبر 2018

اپنا پرانا شعر ———–


آرائش —– عدنان احمد ملک ، لاھور-بشکریہ-منورعلی ملک- 6 ستمبر 2018

 Squadron Leader M M ALAM.
M M Alam belonged to East Pakistan. When East Pakistan became Bangla Desh in 1971, M M Alam did not go back. He stayed on in Pakistan

ھرسال 7 ستمبر کو ملک بھر میں یوم فضائیہ منایا جاتا ھے- یہ دن ستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان ایئر فورس کی واضح برتری کا دن تھا – 6 ستمبر کو جبگ شروع ھونے کے صرف دو ھی دن بعد پاکستان ائیر فورس نے بھارتی ائیر فورس کو بے بس کر کے رکھ دیا – طیاروں کی تعداد کے لحاظ سے بھارت کو ھم پر برتری حاصل تھی ، مگر ھمارے پائلٹ انڈین پائلیٹس سے کہیں زیاد ہ جی دار تھے – سترہ دن کی جنگ میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 120 طیارے تباہ کر دیئے – پاکستان کے صرف 19 طیارے اس جنگ میں ضائع ھوئے- ھمارے طیاروں نے بھارت کے اندر جا کر بھارت کے اھم ھوائی اڈوں کو کھنڈر بنا دیا – بے شمار طیارے زمین پر ھی تباہ ھو گئے
اس جنگ کے ایک نامور ھیرو سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم تھے ، جنہوں نے صرف تیس چالیس سیکنڈ ( ایک منٹ سے بھی کم وقت میں) بھارت کے تین جنگی طیارے مار گرائے – ایم ایم عالم18 مارچ 2013 کو کراچی میں اس دنیا سے رخصت ھوگئے- وہ دنیا کے بہترین لڑاکا پائلٹس میں شمار ھوتے تھے-
—- رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک- 7 ستمبر 2018

سبحان اللہ — یہ ھے ھمارے نبیء اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و سلم کی شان –

میرا میانوالی —————————

ستمبر 1965 کی جنگ میں سیالکوٹ کے قریب چونڈہ ( CHAWINDA )کے مقام پر ٹینکوں کی جنگ ، دنیا کی تاریخ میں ٹینکوں کی دوسری سب سے بڑی جنگ تھی – بھارت کا منصوبہ سیالکوٹ پر قبضہ کرنا اور وزیرآباد کے قریب ریلوے لائین کاٹ کر پاک فوج کی سپلائی لائین ختم کرنا تھا ، تاکہ مزید اسلحہ اور فوج ادھر نہ آ سکے –

اس جنگ میں بھارت کے پاس بھاری بھرکم سنچورین اور شرمن ٹینک تھے- ھمارے پاس نسبتا چھوٹے مگر زیادہ تیز رفتار اور تباہ کن پیٹن ٹینک تھے- تعداد کے لحاظ سے بھارت کے ٹینک ھم سے کئی گنا زیادہ تھے- اس معرکے میں بھارتی فوج کی تعداد ھم سے دس گنا زیادہ تھی-14 ستمبر کو صورت حال یہ بن گئی کہ ٹینکوں سے ٹینک ٹکرانے لگے ، اور دونوں طرف کے فوجیوں میں ھاتھا پائی تک نوبت آگئی – اچانک بھارتی ٹینکوں کی ایک بھاری تعداد لوھے کی دیوار کی طرح آگے بڑھی مگر پھر دیکھتے ھی دیکھتے چونڈہ کا میدان بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا ——————-
کچھ فوجی جوانوں نے بتایا کہ جب اتنی بھاری تعداد میں ٹینکوں کو
عام اسلحہ سے تباہ کرنا ناممکن نظر آیا تو ھمارے کچھ جوان اللہ کا
نام لے کر آگے بڑھے اور بم سینے سے لگا کر دشمن کے ٹینکوں کی
راہ میں لیٹ گئے – ٹیںک انہیں روندتے ھوئے آگے جانے لگے ۔ مگر
جوانوں کے سینوں سے لگے بموں نے ٹینکوں کے پرخچے اڑا دیئے-

اللہ کی کروڑوں رحمتٰیں ان تمام شہیدوں پر جنہوں نے دین اور وطن کی سربلندی کے لیے اپنی جانیں قربان کردیں — رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک- 8 ستمبر 2018

میرا میانوالی ———————

میرے مرحوم دوست ، گورنمنٹ ھائی سکول کالا باغ کے ھیڈماسٹر کرم اللہ پراچہ بتایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ محترمہ بےنظیر بھٹو کالاغ کے دورے پر تشریف لائیں تو دریا کے کنارے عید گاہ کے صحن میں کھڑے ھو کر سورج کو پل کے پار دریا میں اترتے دیکھ کر کہا “میں نے ساری دنیا دیکھی ھے، مگر سورج غروب ھونے کا اتنا خوبصورت منظر کہیں نہیں دیکھا “-

ھم نے یہ منظر کئی بار دیکھا ھے – غروب ھوتے سورج کے ارد گرد دریا پر رنگوں کی برسات ، تروتازہ ھوا کے خوشگوار جھونکے – دریا کے پانی کی مست خوشبو ، ایک عجیب تجربہ ھوتا ھے – محترمہ شہید نے بالکل درست کہا تھا “اس سے بھی زیادہ خوبصورت، بلکہ ھوش ربا منظر کالاباغ میں طلوع آفتاب کا ھوتا ھے – یہ منظر مسجد لوھاراں کے کھلے صحن میں سے پوری آب و تاب کے ساتھ دکھائی دیتا ھے- مشرق میں ککڑانوالہ کے قریب پہاڑ کی اوٹ سے سورج جھانکتا ھے تو آسمان سے دریا کی سطح پر ایک نورانی بارش کا سا سماں بن جاتا ھے – ایسا لگتا ھے اس منظر کا خالق رب کریم یہیں کہیں آس پاس موجود ھے – زبان بے ساختہ سبحان اللہ پکار اٹھتی ھے-“ھمارے پاک وطن کو رب کریم نے بے شمار ایسے حسین مناظر سے مالامال کر رکھا ھے – ان شآءاللہ اگلے دوتین دن اسی موضوع پر بات ھوگی —– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 9 ستمبر 2018

 

الحمدللہ الکریم —————–

آج فیس بک نے بتایا ھے کہ میری پوسٹس پر لائیکس کی تعداد 5 لاکھ ھوگئی ھے – فیس بک کے الفاظ میں –

You have made people smile 500000 times.
اللہ تعالی آپ تمام دوستوں کو بے حساب اجر خیر عطا فرمائے

بشکریہ-منورعلی ملک- 9 ستمبر 2018

یادیں —————————-
تقریبا بیس سال پہلے پشاور کا ایک دورہ


پکچر —- پروفیسر عارف نیازی، میں ، پروفیسر سرور نیازی ، پروفیسر ناصراقبال , ھماری کوچ کا ڈرائیور اور پروفیسر عبدالغفار خان خٹک
پروفیسرعارف نیازی بعد میں سی ایس ایس کرکے سول انتظامیہ میں شامل ھو گئے -بشکریہ-منورعلی ملک- 10 ستمبر 2018

میرا میانوالی —————————–

کھانے پینے کے معاملے میں ھم پاک سرزمین کے لوگ مغل بادشاھوں سے کم شوقین مزاج نہیں – حسب توفیق ھر آدمی اچھے سے اچھا کھانے کی کوشش کرتا ھے – فرق صرف حسب توفیق کا ھے ، ورنہ سب لوگ شہروں کے بہترین ھوٹلوں کا رخ کرتے نظرآتے –
آج ذکر ھے ایک کھانے کا جس کی شہرت کے پی سے ھوتی ھوئی پنجاب پہنچی تو لاھور میں بھی نصف درجن چرسی تکہ شاپ ، ھوٹل ریسٹورنٹ وغیرہ حال ھی میں بن گئے ھیں -جی ھاں ، بات چرسی تکہ کی ھو رھی ھے – پہلی دفعہ ھم نے چرسی تکہ کا نام تقریبا بیس سال پہلے پشاور میں سناتھا ، کھایا بھی تھا ، بہت لذیذ تھا ، اب یہ یاد نہیں کہ اس میں خاص بات کیا تھی – اب لاھور جاؤں گا تو وھاں کسی چرسی تکہ ھاؤس پہ جا کر بنانے والوں سے پوچھوں گا ، کہ اس میں کیا کچھ ڈالتے ھیں – ظاھر ھے چرس تو نہیں ڈالتے کیونکہ پشاور میں ھم نے اچھے خاصے مولوی صاحبان کو بھی چرسی تکہ کھاتے دیکھاھے – ویسے بھی چرس تو غیر نشئی انسان کو لم لیٹ کر دیتی ھے – پشتو میں چرس یا چرسی شاید کسی مصالحے کا نام بھی ھو ۔ واللہ اعلم

فیصل ٹاؤن لاھور کے چرسی تکہ کی فیس بک پہ ایک صاحب نے یہ شکایت کی ھے کہ میں فیملی کے ساتھ آپ کے ھاں آیا , رش اتنا زیادہ تھا کہ ھمیں کافی دیر کھڑے رھنا پڑا ، بیٹھنے کی جگہ بھی نہ تھی-

مطلب یہ کہ کوئی خاص بات توھے چرسی تکہ میں – کوئی صاحب جانتے ھوں تو ھمیں بھی بتا دیں -رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک-11 ستمبر 2018

بابا جی ، رحمتہ اللہ علیہ کے آخری لمحات ————-


آج بابا جی قائداعظم محمد علی جناح کی برسی ھے – آج کے دن 11 ستمبر 1948 کو رات تقریبا دس بجے وہ ھاتھ ھمیشہ کے لیے سوگئے جنھوں نے دن رات محنت کر کے پاکستان نامی عظیم الشان عمارت تعمیر کی تھی –

قائد اعظم کے آخری لمحات کے حوالے سے ان کے ذاتی معالج کرنل ڈاکٹر الہی بخش نے 1949 میں ایک کتاب With the Quaid-e-Azam During his Last Days لکھی تھی- مگر شاید کچھ مجرم کرداروں کو بچانے کے لیے حکومت پاکستان نے اس کتاب کی فروخت پر پابندی عائد کردی ، جو بالآخر ذوالفقار علی بھٹو نے 1976 میں ختم کردی- یہ کتاب پڑھنے کے لائق ھے – اصل کتاب انگلش میں ھے ، شاید اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ھو گیا ھو –
ڈاکٹر الہی بخش کہتے ھیں طیارے میں قائد اعظم کے ھمراہ ان کی بہن ، محترمہ فاطمہ جناح، میں , میرے ایک معاون ڈاکٹر اور ایک نرس کوئٹہ سے کراچی پہنچے- ھوائی اڈے پر قائداعظم کے ملٹری سیکریٹری ( ایک انگریزکرنل ) ایمبولینس کے ساتھ موجود تھے – ایمبولینس کے ساتھ کوئی نرس نہیں تھی- قائد اعظم کو ایمبولینس میں منتقل کر کے ھم گورنرجنرل ھاؤس کی طرف روانہ ھوئے – کچھ لوگ قائد اعظم کی سرکاری گاڑی میں بیٹھ گئے – ( سادگی دیکھیے ۔ ملک کے سربراہ کے پروٹوکول کے لیے تیس چالیس گاڑیوں کی بجائے، صرف ان کی سرکاری گاڑی !!!! )- ایک ایک منٹ قیمتی تھا – ملٹری سیکریٹری دوسری ایمبولینس لینے چلے گئے – آدھ گھنٹہ بعد دوسری ایمبولینس آئی – اور بابا جی گورنرجنرل ھاؤس پہنچ گئے – ان کی حالت ٹھیک نہیں تھی – ایک گھنٹہ تلاش کے بعد ایک اور ڈاکٹر آئے ، انہوں نے انجیکشن لگایا ، بابا جی کی نبض درست چلنے لگی – میں نے بابا جی سے کہا – Sir, you are going to live
بابا جی نے کہا : No, I am not
– رھے نام اللہ کا-
بشکریہ-منورعلی ملک- 11 ستمبر 2018

سلام یا حسین ——

1970 میں لکھا ھؤا میرا پہلا سلام

خسین دنیا تو فانی ھے تیرا نام مگر
وہ آفتاب ھے جس کو کبھی زوال نہیں
مصیبتیں توھراک فرد جھیلتا ھے مگر
کھلے کسی کی بہن کے سفید بال نہیں
قبول ھوں تو بڑی چیزھیں خدا کی قسم
کسی غریب کے آنسو حقیر مال نہیں

بشکریہ-منورعلی ملک- 11 ستمبر 2018

میرا میانوالی ———————

آج کا دن خلیفہء دوم حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے منسوب ھے – بطور منتظم ( ایڈمنسٹریٹر) ان کے کئی اقدامات کو اھل مغرب قانون کا درجہ دے کر آج بھئ ان سے مستفید ھورھے ھیں – یہاں بات میں جناب عمر کے کردار کے اس پہلو کی کر رھا ھوں ، جسے اکثر نظر انداز کر کے انہیں (نعوذباللہ) اھل بیت اطہارکا دشمن قرار دیا جاتا ھے حضرت عمر کے دور خلافت میں ایک دن ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر روتے ھوئے آئے اور کہنے لگے “ اباجی، حسنین مجھے کہتے ھیں ، تم ھمارے غلام ھو
جناب عمر کی آنکھوں میں (خوشی کے) آنسو آگئے اور کہا “ ھاں ، بیٹا ، حسنین نے درست کہا -، جاؤ ، حسنین سے یہ بات لکھوا کر لے آؤ ، اور جب میں مروں تو وہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا “
آج جناب عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر ضروری تھا۔ کہ جب میں شاعروں اور گلوکاروں کی سالگرہ اور برسیوں پر لکھتا رھتا ھوں ، تو تاریخ کی اتنی بڑی شخصیت کو کیسے نظر انداز کر سکتا تھا – یہاں یہ گذارش ضروری سمجھتا ھوں کہ ازراہ کرم اس پوسٹ پر کوئی منفی یا دلآزار کمنٹ نہ دیں – میں نے ایک تاریخی حقیقت بیان کردی – واللہ اعلم بالصواب
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 12ستمبر 2018

میرا میانوالی ———————–

پچھلے سال بھی میں نے محرم کے حوالے سے چند پوسٹس لکھی تھیں جن میں داؤدخیل میں محرم کی مجالس کا ذکر کرتے ھوئے میں نے کہا تھا کہ داؤدخیل کے اھل سنت لوگ بھی عزاداری کی مجالس میں بھرپور شرکت اور تعاون کرتے تھے – مجالس میں ذاکرین کرام کوئی اختلافی بات نہیں کرتے تھے- صرف جناب حسین ابن علی اور ان کے اھل بیت و جاں نثار ساتھیوں کی بے مثل شجاعت اور قربانیوں کا ذکر ھوتا تھا –
میں نے تو اپنے بچپن کے دور کی بات کی تھی، مگر داؤدخیل کے کچھ نوجوانوں کے کمنٹس دیکھ کر خوشی بھی ھوئی، فخربھی محسوس ھؤا – ان نوجوانوں نے لکھا تھا کہ بحمداللہ داؤدخیل میں اخوت اور بھائی چارے کا وھی ماحول اب بھی برقرار ھے – محرم کی مجالس میں سیکیورٰٹی کے فرائض بھی سنی نوجوان ادا کرتے ھیں – مکمل ھم آھنگی اورتعاون کی فضا اب بھی موجود ھے اللہ کے فضل سے اخوت ، ھم آھنگی اور تعاون کی یہ فضا پورے ضلع میانوالی میں دیکھنے میں آتی ھے – عشرہء محرم ھر سال نہایت امن سے گذرتا ھے – اھل سنت کی مساجد میں بھی سانحہء کربلا خطبات اور تقاریر کا موضوع رھتا ھے- محرم کی مجالس میں اھل سنت بھی بہت عقیدت و احترام سے شریک ھوتے ھیں ، کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا ————————–

حسین تیرا ، حسین میرا
حسین سب کا ، حسین رب کا
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک-13 ستمبر 2018

قول امام علیہ السلام —————

مجھے اتنی تکلیف کربلا میں نہیں پہنچی ، جتنی اھل کوفہ کی خاموشی سے ھوئی – جہاں بھی ظلم ھو، اور لوگ خاموش رھیں ، وہ شہر کوفہ ھے ، اور اس کے باشندے کوفی ————- ( امام زین العابدین )

بشکریہ-منورعلی ملک- 13 ستمبر 2018

میرا میانوالی ———————–

شیعہ سنی اتحاد کا بہترین مظاھرہ لاھور میں بی بی پاک دامن کے مزار مقدس پر دیکھنے میں آتا ھے – عام طور پر اس مزار کو اھل تشیع کا مرکز سمجھا جاتا ھے ، مگر یہ وہ مزار ھے جہاں سیدعلی الہجویری ( داتا گنج بخش) ، خواجہ معین الدین چشتی ، اورقبیلہ بخاری سادات کے سربراہ شاہ جلال سرخ بخاری رحمتہ اللہ علیہم اجمعین جیسے برگزیدہ اولیائے کرام بھی حاضری دیتے رھے-
مزار کی مشرقی راھداری میں ایک چوکور پلیٹ پر لکھا ھؤا ھے “یہاں حضور داتا گنج بخش تشریف فرما ھوتے تھے“-
ایک روایت یہ بھی ھے کہ سندھ سے حضرت لعل شہباز قلندر بھی یہاں سلام کے لیے حاضر ھوتے رھےمزار کی ًمغربی راھداری میں ایک محراب پر نصب سنگ مرمر کی تختی پر بہت خوبصورت انداز میں لکھے ھوئے خلفائے راشدین کے نام اس دربار کو اتحاد امت کا مظہر قرار دیتے ھیں
دربار کی دیکھ بھال اور صفائی کے اھتمام میں اھل سنت بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ھیں – ھرسال ماہ جمادی الثانی کی سات ، آٹھ نو تاریخ کو اھل سنت یہاں سہ روزہ عرس کا اھتمام بھی کرتے ھیں – اتحاد امت کے ایسے مظاھرے دیکھ کر دل خوش ھو جاتا ھے –
رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک- 14 ستمبر 2018

فیس بک سے دوستی ———————–

جب سے میں نے فیس بک کا سفر شروع کیا ، بھارت کی ریاست کیرالہ کے رھنے والے NADAM KUMAR میرے ھمسفر ھیں – ھمارے یہ ھندو دوست سعودی عرب کے شہر ریاض میں رھتے ھیں – تقریبا روزانہ میسینجر سے ایک پوسٹ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم کی شان کے حوالے سے پکچر یا لنک کی صورت میں بھیجتے ھیں – اس پوسٹ میں ان کی آج صبح بھیجی ھوئی پکچر شامل ھے –


سبحان اللہ ۔کیا شان ھے ھمارے آقا علیہ السلام کی —– !!!
صرف یہ دوست ھی نہیں ، تلوک چند محروم ۔ جگن ناتھ آزاد اور کئی دوسرے ھندو شعراء نے بہت خوبصورت نعتیں بھی لکھی ھیں – سکھ مذھب کے پیشوا گرونانک جی نے بھی حضور علیہ السلام کی بہت تعریف بیان کی ھے – رھے نام اللہ کا 

بشکریہ-منورعلی ملک- 15ستمبر 2018

میرا میانوالی ——————

کل عصمت گل خٹک کی پوسٹ “دل ٹوٹ گیا ھے “ کے عنوان سے دیکھ کر بہت دکھ ھؤا – خٹک صآحب نے بہت درد مندی سے ایک افسوسناک روئیے کی نشان دہی کی ھے- یہ رویہ ھر لحاظ سے قابل مذمت ھے – کسی ظالم انسان نے مرحومہ کلثوم نواز کی موت پر بہت سخت الفاظ میں کمنٹ دیتے ھوئے ان کے لیے جہنم جانے کا فیصلہ صادر کیا ھے – شرم آتی ھے ایسی گھٹیا ذھنیت کے مظاھرے یکھ کر کہ ھمارے درمیان ایسے لوگ بھی موجود ھیں ، جو سیاسی اختلافات کو اس حد تک لے جا سکتے ھیں –

خدارا سیاست کو دین اور اپنے اپنے لیڈرز کو خدا یا رسول نہ سمجھیں – سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہ جانے دیں کہ بھائی بھائی کا گلہ کاٹنے لگے – یاد رکھیں ، خدانخواستہ کل اگر آپ پر مشکل وقت آیا تو آپ کی مدد کو آپ کے لیڈرز نہیں آئیں گے ، بلکہ وھی بھائی کام آسکے گا جسے آپ نے پٹواری یا کھلاڑی کہہ کر اپنا دشمن بنا لیا –
عصمت گل خٹک نے اس معاملے میں جناب رحمتہ للعالمین علیہ السلام کی سیرت طیبہ سے کیا خوبصورت مثال دی ھے کہ اپنے بدترین دشمن عبداللہ بن ابی کی موت کے بعد حضور نے اس کی تکفین کے لیے اپنا مبارک کرتہ بھی دے دیا ، اور اس کے لیے دعا بھی فرمائی – آج خود کو ان کی امت کہنے والے محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے مخالفین کی میتوں پر بھی طنزکے تیر برسا رھے ھیں

کل اسی موضوع پر ھمارے محترم ساتھی ظفر نیازی نے بھی بہت مؤثر انداز میں صدائے احتجاج بلند کی ھے –

مجھے تو فیس بک پر زیادہ ادھر ادھر دیکھنے کا وقت نہیں ملتا – ٹوئیٹر اکاؤنٹ بھی پچھلے ھفتے ختم کر دیا – اگر آپ دوستوں کو کسی بھی جماعت کے سیاسی ورکر کی کوئی ایسی شرانگیز تحریر نظرآئے تو اس کی حوصلہ شکنی ضرور کریں – حالات اور مزاج اتنے بگڑ چکے ھیں کہ ھم سب اس وقت بارود کے ڈھیر پہ بیٹھے ھیں – ذرا سی چنگاری بھی بھڑک کر سب کچھ راکھ کر سکتی ھے-
رھےنام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 16 ستمبر 2018

میرا میانوالی ——————-

مجرمانہ ذھنیت کے لوگ ھر طبقے میں پائے جاتے ھیں ، وہ جس کی مقبولیت سے حسد یا نظریات سے اختلاف کرتے ھیں ، اسے نقصان پہنچانے کے لیے اس کا اپنا نام استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے –

اس قسم کی گھناؤنی وارداتوں سے ھمیں خبردار کرنے کے لیے ڈاکٹر حنیف نیازی کی پوسٹ ایک دودن پہلے آپ کی نظر سے گذری ھوگی ، میں نے وہ پوسٹ کل شام دیکھی – اللہ ڈاکٹر حنیف کو بے حساب جزائے خیر عطا فرمائے ، وہ کہتے ھیں کہ
بعض مجرموں نے ایک نئی چال دریافت کر لی ھے- وہ فیس بک پر آپ کے نام سے ایک نئی پروفائیل بنالیتے ھیں ، پھر وہ آپ کے دوستوں کو فرینڈ ریکوئسٹ friend request بھیجتے ھیں – آپ کے دوست یہ سمجھ کر کہ یہ آپ ھیں ، ریکوئسٹ بخوشی قبول کر لیتے ھیں – پھر اس کے بعد وہ مجرم آپ کی اس جعلی پروفائیل پر خطرناک , شرانگیز باتیں پوسٹ کرنے لگتے ھیں – مردان میں اسی قسم کی واردات کا شکار ھو کر ایک غریب گھرانے کے نوجوان مشال خان کی زندگی کا چراغ گل ھوگیا
الحمدللہ میری فیس بک کی سیکیوریٹی تو بہت tight ھے ، پھر بھی جس طرح ڈاکٹر حنیف نیازی نے بتایا ھے ، واردات کا امکان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا – فیس بک پر میں پچھلے تین سال سے موجود ھوں ، روزانہ ایک پوسٹ اردو ۔ ایک انگلش میں لکھتا ھوں – دونوں زبانوں میں ایک ایک ھزار سے زائد پوسٹس لکھ چکا ھوں – میرے اکثر دوست احباب میرے خیالات و نظریات سے واقف ھیں – متنازعہ باتوں سے ھمیشہ گریز کرتا ھوں –

آپ سے گذارش ھے کہ اگر میرے پروفائیل سے کوئی شرانگیز تحریر یا تصویر آپ کی نظر سے گذرے تو مجھے میرے اس فیس بک اکاؤنٹ سے مجھے فورا مطلع کردیں –
اس اکاؤنٹ کے علاوہ میرے Professor Munawar Ali Malik
اور Malik Munawar Ali کے نام سے دو اور اکاؤنٹ بھی ھیں – مگر انہیں بہت کم استعمال کرتا ھوں کہ وقت ھی نہیں ملتا –
آپ اپنی فیس بک کی بھی حفاظت یقینی بنائیں – اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ھو- رھے نام اللہ کا —

بشکریہ-منورعلی ملک- 17 ستمبر 2018

کراچی سے اپنے شاعر دوست نجمی صاحب کا تازہ شعر
اپنے احساس ندامت کو مٹانے پہنچا
دور تک سایہءعباس کے پیچھے پانی

بشکریہ-منورعلی ملک- 17 ستمبر 2018

میرا میانوالی ———————–

ھمارے بچپن کے زمانے میں داؤدخیل میں محرم کی عزاداری کے تین مراکز ھؤا کرتے تھے – محلہ علاؤل خیل میں سید گل عباس شاہ کی امام بارگاہ ، محلہ داؤخیل میں شاہ غلام محمد کی امام بارگاہ اور محلہ شریف خیل میں ماسٹر سید کرم حسین شاہ کے ھاں عشرہء محرم کے دوران ذکر حسین کی مجلسیں برپا ھوتی تھیں – بعد میں محلہ شریف خیل کے ایوب خان ٹھیکیدار نے بھی بڑے پیمانے پرعزاداری کا اھتمام شروع کردیا-


داؤدخیل میں مقامی ذاکرین ھی مجالس سے خطاب کرتے تھے – سید گل عب
اس شاہ کی امام بارگاہ میں اسی خاندان کے سید جعفر شاہ بہت اچھے ذاکر تھے – قصیدہ بہت منفرد انداز میں پڑھتے تھے- آواز میں بلا کا سوز تھا- ٹی بی کے مرض میں مبتلا ھوکر جوانی ھی میں اس دنیا سے رخصت ھوگئے شاہ غلام محمد کی امام بارگاہ میں محلہ داؤخیل کے غلام سرور خان مستقل ذاکر ھؤا کرتے تھے – بلامعاوضہ ھر سال محرم کی مجالس میں ذاکر کے طور پہ حاضری دیتے تھے – گذراوقات کا وسیلہ کریانے کی چھوٹی سی دکان تھی – بچپن ھی میں ایک حادثے میں ایک ٹانگ سے محروم ھو گئے – بیساکھی کے سہارے چل پھر سکتے تھے – بہت کامیاب ذاکر تھے ، خود بھی روتے ،لوگوں کو بھی رلاتے رھتے تھے

سید کرم شاہ کے ھاں غلام مرتضی خان عرف مرتا ملنگ ذاکر ھؤا کرتے تھے – یہ بھی بہت کامیاب ذاکرتھے – محلہ امیرے خٰیل کے عبدالرزاق خان بھی بہت اچھے ذاکرتھے –
غلام سرور خان ، غلام مرتضی خان اور عبدالرزاق خان تینوں سنی گھرانوں کے فرد تھے –

کیا زمانہ تھا ، فرقہ واریت اور مذھبی منافرت سے پاک صاف ——–
گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 18 ستمبر 2018

اپنا شعر ———
یزیدیت ھے زرومال و تخت و تاج کی چاہ
حسینیت ھے فقط لآ الہ الا اللہ

بشکریہ-منورعلی ملک- 18 ستمبر 2018

اپنا شعر ——————–
حسین لے گئے اللہ کی عدالت میں
لہوثبوت وفا، اور آسمان گواہ

بشکریہ-منورعلی ملک- 19 ستمبر 2018

اپنا شعر ——————————
وہ گھر لٹا کے بھی خوش تھے، یہ لوٹ کر بھی ذلیل
لٹا حسین کا گھر ، ھو گیا یزید تباہ

بشکریہ-منورعلی ملک- 20 ستمبر 2018

اپنا شعر—————- سلام یا حسین
وہ سر جھکا تو بدن اس کا ریزہ ریزہ تھا
وہ سر بلند ھؤا پھر ، تو جسم نیزہ تھا

بشکریہ-منورعلی ملک- 21 ستمبر 2018

میرا میانوالی ——————–

پچھلے ھفتے محرم کے حوالے سے میری ایک پوسٹ پر ایک ساتھی نے کمنٹ میں کہا “ سر، آپ شیعہ ھیں ؟“
آج اسی سوال کا جواب ———
میرے دادا ملک مبارک علی , سنی تھے ، نانا ملک قادربخش , شیعہ — شیعہ ھی کیا وہ تو ذاکر تھے – جب تک زندہ رھے ڈھیر امیدعلی شاہ میں محرم کی مجالس پڑھا کرتے تھے- دادا جی اور نانا جی سگے چچا زاد بھائی بھی تھے – لیکن عقیدوں کے اختلاف کے باوجود ان کی آپس میں محبت سگے بھائیوں سے بھی زیادہ تھی- میری نانی اماں دادا جی کی بہن تھیں –
میری والدہ نماز تو فقہء حنفیہ کے مطابق ھاتھ باندھ کر پڑھتی تھیں ، لیکن محرم کے احترام و اھتمام کا خاص خٰیال رکھتی تھیں – محرم کے دنوں میں سیاہ لباس پہنتی تھیں – محرم کی ساتویں اور دسویں رات ، رات بھر عبادت میں مشغول رھتیں – گھر پر ھی ساری رات نماز ، تلاوت اور نوحہ خوانی کرتی اور روتی رھتی تھیں – ذاکر کی بیٹی تھیں ، بے شمار نوحے اپنے والد سے بچپن میں سن کر یاد کر لیے تھے- رب کریم نے انہیں بہت مترنم آواز عطا کی تھی – قرآن حکیم کی تلاوت یا نوحہ خوانی کرتیں تو سننے والے جھوم اٹھتے تھے- جب تک زندہ رھیں ھرسال محرم میں اچھی قسم کا کپڑا خرید کر ھم پانچ بہن بھائیوں کی طرف سے شہزادہ علی اصغر کی نیاز کے طور پر یتیم اور غریب بچوں میں تقسیم کیا کرتی تھیں والد صاحب محکمہء تعلیم کے افسر تھے – مزاج لباس اور بول چال افسرانہ مگر زندگی میں نہ کبھی نماز قضا کی ، نہ روزہ –
میرے خاندان میں آج بھی میرے نانکے (نانا کی اولاد) سب شیعہ ھیں ، دادکے ( دادا کی اولاد) سب سنی-
مگر سب بھائیوں کی طرح مل جل کر رھتے ھیں –
میں اپنے والد اور والدہ کی طرح نمازروزہ فقہ حنفیہ کے موافق ادا کرتا ھوں – اھل بیت اطہار کی محبت والدہ کی طرف سے ورثے میں ملی ھے – ھرسال محرم میں سلام یا مرثیہ لکھتا ھوں – لکھتا کیا ھوں ، نعت ، سلام اور مرثیہ جیسی چیزیں رب کی طرف سے عطا ھوتی ھیں – مجھے ان پر محنت نہیں کرنا پڑتی –
—- اب آپ خود فٰیصلہ کر لیں ، میں شیعہ ھوں یا سنی —
– رھے نام اللہ کا-
بشکریہ-منورعلی ملک- 22 ستمبر 2018

میرا میانوالی ——————–

کل اس کی 26 ویں سالگرہ تھی –

وہ تو18 سال کی عمر میں 2010 میں ھمیں ھمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلاگیا تھا –
مگراس کی سالگرہ ھم اب بھی کسی نہ کسی انداز میں مناتے ھیں –


لاھور میں اس کے اکرم چاچو سالگرہ کا کیک بھی کاٹتے ھیں – آھوں اور آنسؤوں کو روکنے کی کوشش کرتے ھوئے ھم اس کی سالگرہ فورٹریس سٹیڈیم کے شیزان ریسٹورنٹ میں منایا کرتے تھے – اس سال محرم کے احترام میں یہ تقریب ملتوی کرنا پڑی
بیٹا تو وہ میرے بیٹے مظہر (علی عمران) کا تھا ، مگر———-
کیا بتاؤں وہ بچہ میرے لیے کیا تھا –
شکل و صورت کردار اور شخصیت سب کچھ میرے جیسا –
یہ کہوں تو غلط نہ ھوگا کہ اصل منورعلی ملک تو وہ تھا-
میں تو اس کا عکس ھوں-
آپ نے اسے دیکھا نہیں ، اس لیے آپ یہ بات کہاں سمجھ سکیں گے-؟

جب سے وہ گیا ھے میں نے اس کی تصویر نہیں دیکھی –
گھر کے جس کمرے میں اس کی تصویر ھو میں وھاں نہیں جاتا —– رب نے بہت ھمت اور حوصلہ دیا ھے ، لیکن علی بیٹے کے معاملے میں دل قابو میں نہیں رھتا-

کسی بزرگ سے سنا تھا کہ جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کم سن صاحبزادے نے حضور کی گود میں ھمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ، تو حضور کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے – پھر فورا اپنی اس کمزوری کا احساس ھؤا تو کہا “ اے اللہ ، میں تیری رضا پہ راضی ھوں- میرے یہ آنسو معاف کر دینا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں“-
سوچا تھا، آج دل کھول کر آپ کے سامنے رکھ دوں گا کہ شاید اس طرح دل کا دکھ کچھ کم ھو جائے – مگر ھمت نہیں پڑ رھی – پتہ نہیں کیا لکھنا تھا ، کیا لکھ دیا –

دعا ھے کہ اللہ کریم کسی کو اولاد کی موت کا دکھ نہ دکھائے –
——– رھے نام اللہ کا —( پکچر—— علی بیٹے کی ایک گذشتہ سالگرہ
شیزان ریسٹورنٹ ، فورٹریس سٹیڈیم ، لاھور )

بشکریہ-منورعلی ملک- 23 ستمبر 2018

میرا میانوالی ———————–

 

کل کی پوسٹ پر جو آپ لوگوں نے مجھے اور ڈاکٹر حنیف نیازی کو دعائیں دی ھیں رب کریم وہ تمام دعائیں قبول فرمائے ، اور ان کے صلے میں آپ کو بے حساب نعمتیں عطا کرے-
دعائیں لیتے اور دیتے رھا کریں ، کیا خبر آپ کے حصے کی خوشیاں ، آپ کے مسائل کا حل کسی کی دعا کا منتظر ھو- ضروری نہیں کہ دعا دینے والا نیک ھو، اللہ تو ھر ایک کی سنتا ھے- مجھ جیسے گنہگار کی بھی سن لیتا ھے – ھر انسان کی زندگی میں ایک لمحہ کبھی کبھی آتا ھے ، جب اس کی کوئی دعا خالی نہیں جاتی – مانگنے والے کو بھی پتہ نہیں ھوتا کہ اس وقت اللہ میرے کتنا قریب ھے – ایسے لمحات کب آتے ھیں ، کیوں آتے ھیں ، یہ حساب اللہ تعالی اپنے پاس رکھتا ھے-
والدین ، مظلوموں اور مریضوں کی دعاؤں کے بارے میں تو سب جانتے ھیں کہ خالی نہیں جاتیں – ان کےعلاوہ بھی ھرانسان کی اپنی دعا کی قبولیت کے لمحات بھی کبھی کبھی آتے رھتے ھیں ، اس لیے ھروقت مانگتے رھا کریں – اپنے لیے بھی ، دوسروں کے لیے بھی – آج کے دور کی مشکل زندگی کو وھی آسان بنا سکتا ھے ۔ جس نے یہ دنیا بنائی شاید ایک دفعہ پہلے بھی کہہ چکا ھوں کہ فیس بک پہ صرف آپ کی دعاؤں کے لالچ میں کام کرتا ھوں – عزت وشہرت رب کریم نے پہلے ھی بہت دے رکھی ھے- میرے ھزاروں سٹوڈنٹ دنیا کے کونے کونے میں موجود ھیں – لاکھوں لوگ لالاعیسی خیلوی کی آواز میں میرے گیتوں کے حوالے سے کئی سال سے مجھے غائبانہ طور پر جانتے ھیں – ایم اے انگلش کے لیے میری لکھی ھوئی درجن بھر کتابوں کی وجہ سے ملک بھر کے انگلش کے پروفیسر صاحبان اور ایم اے کے سٹوڈنٹس بھی مجھے جانتے ھیں – اس لیے اللہ کے فضل سے مجھے شہرت اور عزت کا لالچ نہیں – لالچ ھے تو آپ سب کی محبتوں اور دعاؤں کا ، اور اسی لیے روزانہ آپ سے ھم کلام ھوتا ھوں – اللہ خلوص کے ان رشتوں کو ھمیشہ سلامت رکھے- رھے نام اللہ کا-
بشکریہ-منورعلی ملک- 28 ستمبر 2018

میری شاعری کی کتاب “ جو تم سے کہہ نہ سکا “ میں سے —–

سلام یا حسین


 

بشکریہ-منورعلی ملک- 29 ستمبر 2018

جا میکدے سے میری جوانی اٹھا کے لا ——– 1982
میں اس وقت گورنمنٹ کالج میانوالی میں لیکچرر تھا
ایک دن کالج جاتے ھوئے ناصر خان نے پکڑ کر مجھے اپنے فوٹو سٹوڈیو میں بٹھا لیا
اور کہا —- سر، پہلے بھی آپ سے کہا تھا آپ کی پکچر بنانا چاھتا ھوں
آج بنوا ھی لیں 
سلامت رھو ناصر خان —–
میرے پاس اس دور کی یہی ایک یادگار ھے-

بشکریہ-منورعلی ملک- 29 ستمبر 2018

میرا میانوالی ——————-
چند روز پہلے ایک پوسٹ میں میں نے دعا کی بات کی تھی ، اس حوالے سے دو واقعات یاد آگئے –
کہتے ھیں ایک آدمی ایک ولی اللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا “ سرکار، میں بہت غریب ھوں میرے لیے دعا فرمائیں “-
بزرگ نے کہا “ بیٹا ، دعا میں بھی کر دیتا ھوں ، لیکن یاد رکھو، جب تمہارے گھر میں کھانے کو کچھ نہ ھو ، تمہارے بچے رو رھے ھوں تو اس وقت تمہاری دعا میری دعا سے زیادہ قبول ھوگی –

دوسرا واقعہ بہت عرصہ پہلے ایک رسالے میں پڑھا تھا – سندھ کے ایک صاحب نے لکھا کہ میری بہن کینسر میں مبتلا تھیں – ان کے دوتین کم سن بچے بھی تھے- جب ان کی تکلیف ناقابل برداشت ھو گئی تو میں انہیں کراچی کے ایک سپیشلسٹ کے پاس لے گیا – کینسر بغل میں تھا – نرس نے کینسر کا ذخم دیکھا تو چیخ مار کر بے ھوش ھو گئی – پسلیاں نظر آرھی تھیں -“>ڈاکٹر نے کہا بھائی صاحب مریضہ لاعلاج ھے – اس کی اذیت روزبروز بڑھتی جائے گی – ایک آدھ ماہ بعد یہ اسی اذیت کے عالم میں مر جائے گی- کیوں نہ ھم اسے اذیت اور آپ کو پریشانی سے بچانے کے لیے ایک انجیکشن لگا کر اس کی تکلیف ھمیشہ کے لیے ختم کردیں -؟ ڈاکٹر کا مقصد زھر کا انجیکشن لگانا تھا –
یہ سن کر میرا ایمان جاگ اٹھا ، میں نے کہا “ نہیں, ڈاکٹر صاحب ، جو کام اللہ نے کرنا ھے وہ ھم آپ کو نہیں کرنے دیں گے
وہ صآحب لکھتے ھیں ، یہ کہہ کر ھم مریضہ کو واپس گھر لے آئے – میں باقاعدہ نمازی تو نہ تھا ، لیکن اس رات میں مریضہ کے بچوں کو بھی ساتھ لے کر نماز کے لیے کھڑا ھو گیا – نماز کے بعد ھم سب نے رو رو کر دعا کی – صبح میری بہن نے کہا آج درد کچھ کم ھے – ھم ھررات مسلسل یہی عمل کرتے رھے – بہن کی حالت بہتر ھوتی گئی – کچھ عرصہ بعد کینسر کا نام و نشان بھی باقی نہ رھا ——- اللہ اکبر—!!!!!!
شاعر نے کیا خوب کہا تھا-
تڑپ کے شان کریمی نے لے لیا بوسہ
کہا جو سر کو جھکا کر گناہ گار ھوں میں
—– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک- 30 ستمبر 2018

 

Your words for Mianwali and Mianwalians