نہ ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں
میری چھہتر سالہ حیاتِ مستعار کے تجربے اور مشاہدے کا ماحصل یہی ہے کہ
سبھی رشتے بظاہر نبھاتے ہوئے بھی آخرکار آنکھ چرا کر ناتا توڑ لیتے ہیں۔
جس دن بدن تھک ہار کر بڑھاپا اوڑھ لیتا ہے، تعلقات بھی مدھم پڑنے لگتے ہیں۔
مگر ایک حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس اصول سے استثنا حاصل ہے۔ آج بھی مجھے عزیز و اقربا اور دوست احباب کی طرف سے وہی عزت و تکریم اور عقیدت و احترام حاصل ہے جو اوائلِ عمری، بالخصوص ربع صدی قبل، میسر تھا۔ حالانکہ مجھے ادبی و معاشرتی تقریبات میں شرکت سے کنارہ کش ہوئے آٹھ دس برس گزر چکے ہیں، مگر نہ ادبی حلقوں کی عقیدت میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ اشرافیہ کی محبت میں کوئی ضعف۔
ان دنوں سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر ملک کے نامور شاعر و ادیب سید انجم جعفری کی بے پایاں ادبی خدمات کے حوالے سے اُن کے فرزندِ ارجمند سید وقاص انجم کی مرتب کردہ نہایت وقیع کلیات بعنوان “نقش ہائے ناتمام” کے چرچے ہیں۔ اس کتاب کی تقریبِ رونمائی 17 اپریل 2026ء بروز جمعہ المبارک منعقد ہوئی۔ اس پُروقار تقریب میں مجھے بھی اظہارِ خیال کی مخلصانہ دعوت دی گئی، مگر میں پہلے ہی متعدد واجب التکریم تقریبات میں عدمِ شرکت کا مرتکب ہو چکا تھا، اس لیے اس دعوت سے گریز میں ہی عافیت جانی۔
یہاں چند ایسی تقریبات کا ذکر بے جا نہ ہوگا جن میں عدمِ شرکت کا ملال آج بھی باقی ہے۔ مثلاً پروفیسر سرور نیازی کی کتاب “کچہ” کی تقریبِ رونمائی، محترم خالد تنویر کی تصنیف “سید نصیر شاہ (ایک عہد ساز شخصیت)” کی تقریبِ پذیرائی، اور مکرم یونس باہی کی کتاب “گہری سوچ” کی تعارفی نشست—ان سب میں شرکت سے قاصر رہا۔
ان تمام تقریبات میں عدمِ شرکت کی ندامت، ذہنی آمادگی کے باوجود، “نقش ہائے ناتمام” کی تقریب میں شرکت کی راہ میں حائل رہی۔ مگر معاملہ اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو گیا جب تقریب کے آغاز سے محض ایک گھنٹہ قبل عزیزم وقاص جعفری صاحب اپنے برادران کے ہمراہ میرے غریب خانے پر تشریف لے آئے۔
یہ منظر میرے لیے نہایت حیران کن اور باعثِ ندامت تھا کہ ایک طرف ضلع بھر سے آئے ہوئے عقیدت مند جانی مارکی (مقامِ تقریب) میں اُن کے منتظر ہوں، اور دوسری طرف وہ خود میرے در پر موجود ہوں—صرف اس لیے کہ میں وہاں جانے سے قاصر تھا۔
کیا کسی کے ذخیرۂ علم میں اس کی کوئی مثال موجود ہے کہ کوئی صاحبِ تخلیق اپنی ہی کتاب کی تقریبِ رونمائی کو مؤخر کر کے پہلے کسی ادب دوست کے ہاں حاضری دے؟ یہ ملاقات تو تقریب کے بعد بھی ہو سکتی تھی۔
یہ میری سوچ سے ماورا ایک عظیم اعزاز تھا کہ اقلیمِ ادب کے معتبر نام سید انجم جعفری کے نہایت معزز فرزندانِ ارجمند میرے آستانے پر حاضر ہوئے، جبکہ میں پہلے ہی اس خاندان کے احسانات کا دیرینہ مقروض ہوں۔
ان کی آمد سے جو خوشی نصیب ہوئی، وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ میری لغت میں ایسے الفاظ موجود نہیں جو اس محبت اور خلوص کا حق ادا کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ سید وقاص انجم اور ان کے برادران کو اجرِ کثیر عطا فرمائے۔ آمین۔
آخر میں، میں ان تمام احباب سے، جن کی تقاریب میں بوجوہ حاضر نہ ہو سکا، دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہوں کہ:
رَو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نہ ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں
— رئیس احمد عرشی

