MERA MIANWALI DECEMBER 2018

میرا میانوالی

منورعلی ملک کے دسمبر 2018 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی—————-

عیسی خیل پروفیسر اشرف علی کلیار صاحب اور میرے لیے تو اپنے گھر کی مانند تھا ، کیونکہ ھم اسی علاقے کے رھنے والے تھے— باھر سے آنے والے لوگوں کے لیے عیسی خیل آنا خاصی کڑی آزمائش تھا –
پنجاب کے شمالی سرے کا یہ آخری کالج سرکار کی نظر میں عقوبت گاہ ( سزاکی جگہ) تھا– سرکار جس پروفیسر سے ناراض ھوتی اسے عیسی خیل بھیج دیا جاتا – پیپلز پارٹی کے دور میں جماعت اسلامی سے وابستہ پروفیسرصاحبان کو عیسی خیل بھیج دیا جاتا تھا – جنرل ضیاءالحق کے دور میں پیپلز پارٹی سے ھمدردی رکھنے کے جرم میں لوگوں کو یہاں بھیجا جاتا رھا – افغالی صاحب نام کے اردو کے بزرگ پروفیسر کو ایم اے او کالج لاھور سے عیسی خیل بھیج دیا گیا – ایک صاحب کو راجن پور سے یہاں لایا گیا- بھکر کالج میں پروفیسر صاحبان کی نظریاتی کشمکش کے نتیجے میں دوتین پروفیسر صاحبان کو سزا کے طور پر یہاں بھیج دیا گیا –

دورافتادگی اور پسماندگی کے اس ماحول میں ، جہاں ضرورت کی بعض چیزیں میانوالی سے منگوانا پڑتی تھیں – سیروتفریح کی بھی کوئی جگہ میسر نہ تھی ، ابتدا میں تو باھر سے آنے والوں کا دم گھٹتا تھا ، لیکن کچھ عرصہ یہاں رھنے کے بعد انہیں بھی یہ سیدھاسادہ ماحول راس آجاتا تھا – سب سے بڑی کشش ھماری اپنی پروفیسرز سوسائیٹی تھی – سب نوجوان اور شائستہ لوگ تھے – بھائیوں کی طرح مل جل کر رھتے تھے – ایک ایک کر کے ھم سب لوگ اپنی اپنی پسند کے کالجوں میں چلے گئے – مگر اب بھی آپس میں رابطہ ھوتا ھے تو سب کہتے ھیں ھائے عیسی خٰیل –
ضلع میانوالی کے بارے میں کہا جاتا ھے کہ جو سرکاری افسر یہاں آتا ھے ، روتا ھؤا آتا ھے کہ ھائے مجھے کتنی دور اس پس ماندہ علاقے میں بھیج دیا گیا – اور چند سال یہاں گذارنے کے بعد جب یہاں سے جاتا ھے تو روتا ھؤا ھی جاتا ھے کہ ھائے مجھے یہاں سے کیوں نکال دیا —-
اس مٹی اور پانی میں ایک عجیب سی کشش ھے – غریبی ، دور افتادگی اور پس ماندگی اپنی جگہ ، یہاں کے لوگوں کی ایک خوبی یہ ھے کہ سرکاری محکموں سے بھرپور تعاون کرتے ھیں، ان کے معاملات میں دخل نہیں دیتے ، کسی کی شکایت نہیں کرتے ، صابر وشاکر لوگ ھیں – جس سے دوستی ھوجائے اس کے لیے جان بھی دینے کو تیار- ایسے لوگوں میں رھنا بلاشبہ ایک یادگار تجربہ ثابت ھوتا ھے –
——- رھے نام اللہ کا –
بشکریہ-منورعلی ملک– 1دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

گورنمنٹ کالج عیسی خیل نے پہلے بانچ سال میں 6 پرنسپل دیکھے-
جب ھم وھاں آئے تو پروفیسر ایس ایم اے فیروز پرنسپل تھے ، دوتین ماہ بعد وہ ترانسفر ھوگئے ، اور ان کی جگہ پروفیسر سید محمد رمضان شاہ آگئے – ان کی ملازمت کےآخری دوتین ماہ باقی تھے- وہ ریٹائر ھوئے تو ان کی جگہ بھکر کالج سے ڈاکٹر عبدالمجید قریشی پرنسپل بن کر آئے – تقریبا ایک سال بعد ڈاکٹر صاحب گورنمنٹ کالج شاہ پور ٹرانسفر ھوگئے – ان کی جگہ کسی پرنسپل کا تقرر نہ ھؤا، وہ چارج میرے سپرد کر کے چلے گئے – یوں ایک سال میں انگلش کے لیکچرر کے علاوہ پرنسپل کے فرائض بھی ادا کرتا رھا – ایک سال بعد گورنمنٹ کالج جوھرآباد سے پروفیسر سید مختارحسین طاھر پرنسپل مقرر ھوئے ، چند ماہ بعد وہ گورنمنٹ انبالہ کالج سرگودھا چلے گئے اور ان کی جگہ بھکر سے پروفیسر ملک محمدنوازچھینہ صاحب آگئے -میں اپنے بچوں کی بہترتعلیم اور دوسری سہولتوں کی خاطر گورنمنٹ کالج میانوالی جانا چاھتا تھا ، مگر چھینہ صاحب کہا کرتے تھےکہ منورعلی ملک صاحب کو میں اس دن یہاں سے جانے دوں گا جب میں خود یہاں سے جاؤں گا- یہ ان کی محبت تھی — اللہ نے میری لاج رکھ لی ، ادھر میرے ٹرانسفر کے آرڈر آئے ، ادھر چھینہ صآحب کو بھی کوچ کا حکم مل گیا- ان کا تقرر بھکر کالج میں ھؤا ، میرا گورنمنٹ کالج میانوالی میں – چھینہ صاحب کی جگہ پروفیسر سید عمارحسن جعفری نے سنبھالی ، میری جگہ بھیرہ کے نذیراحمد صآحب المعروف علامہ انگلش کے لیکچرر کی حیثیت میں آگئے –
– رھے نام اللہ کا –
بشکریہ-منورعلی ملک– 2 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

ڈاکٹر عبدالمجید قریشی صاحب گورنمنٹ کالج عیسی خیل کے مقبول ترین پرنسپل تھے – ڈاکٹر صاحب تہران یونیورسٹی (ایران) سے فارسی ادب میں پی ایچ ڈی تھے- بہت پڑھے لکھے، نرم مزاج ، شائستہ , خوش اخلاق اور مہمان نواز انسان تھے- ایک عجیب سی کشش تھی ان کی شخصیت میں –

روزانہ کالج سے فارغ ھونے کے بعد تمام پروفیسر صاحبان ڈاکٹر صاحب کی رھائش گاہ پہ مل بیٹھتے – یہ محفل دن بھر جاری رھتی – بہت وقت تھا ھم لوگوں کے پاس – عیسی خیل میں دن گذارنا مشکل ھو جاتا تھا – اکثر دوست اس وقت چھڑے چھانڈ ( غیر شادی شدہ ) تھے – کالج کے دوتین گھنٹوں کے بعد کرنے کو نہ کوئی کام نہ کاج – سارادن بیٹھ کر گپیں لگاتے رھتے تھے-ڈاکٹر صاحب نے ھمیں ایک اور سہولت بھی فراھم کردی – یہ سہولت تھی تاش کا کھیل سپ (sip) انگلش میں اسے sweep یا whist کہتے ھیں – ڈاکٹر صاحب خود بھی اس کھیل کے ماھر تھے – اس کھیل میں دو جوڑیاں آپس میں مقابلہ کرتی ھیں – ھماری جوڑیاں یوں تھیں – پہلی جوڑی عربی اور اسلامیات کے پروفیسر صاحبان پر مشتمل تھی<- دوسری جوڑی ڈاکٹر صاحب اور تاریخ کے پروفیسرچوھدری محمد رمضان صاحب ، تیسری جوڑی عتیل عیسی خیلوی صاحب اور میں ( دونوں شاعر)- اسی طرح کی دوتین جوڑیاں اور بھی تھیں – ایک جوڑی ھارتی تو اس کی جگہ دوسری جوڑی لے لیتی – یوں سب دوستوں کو کھیلنے کا موقع مل جاتا تھا-
ھمارے اس کھیل میں پیسے کا لین دین نہیں ھوتا تھا – یہ کھیل بہت دلچسپ بھی ھے ، بہت اچھی ذھنی ورزش بھی – ھارنے والے کو بھی کوئی نقصان نہیں ھوتا – کھیل کے اختتام پر جیتنے اور ھارنے والے مل کر قہقہے لگاتے تھے-
ڈاکٹرصاحب کا مزاج جمہوری تھا – کالج کے معاملات دوستوں کے مشورے سے طے کرتے تھے- سب سے برابر کا سلوک کرتے تھے – سب سے پیار کرتے تھے ۔ اس لیے سب کے محبوب تھے-

تقریبا ایک سال بعد بہت سی حسین یادیں ھمارے سپرد کر کے ڈاکٹر صاحب گورنمنٹ کالج شاھپور چلے گئے – اب وہ اس دنیا میں موجود نہیں ، مگر جب بھی ھم لوگ کبھی مل بٰیٹھتے ھیں ، ڈاکٹر صاحب کو ضرور یاد کرتے ھیں –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 3 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

جب ھم لوگ لیکچرر بنے اس وقت لیکچرر ( گریڈ 17 ) کی ماھانہ تنخواہ 500 روپے تھی – اس زمانے کی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے یہ خاصی معقول رقم ھؤا کرتی تھی – ایک آدھ ماہ بعد بھٹو صاحب نے گریڈ 17 کے تمام افسروں کی تنخواہ میں 250 روپے یکمشت اضافہ کردیا تو زندگی اور بھی آسان ھوگئی – ھم مذاقا کہا کرتے تھے کہ یار اتنی رقم کا کیا کریں گے ؟

ھم میں سے کسی کے پاس ٹی وی نہ تھا – اور نہ ھی اس کی کمی محسوس ھوئی – پرائیویٹ ٹی وی چینلز ابھی وجود میں نہیں آئے تھے – صرف سرکاری چینل پی ٹی وی تھا جو ھروقت سرکار کی تعریفوں کے پل باندھتا رھتا تھا – ھم پڑھے لوگوں کو یہ یکطرفہ فائرنگ اچھی نہیں لگتی تھی ، اس لیے ھم نے ٹی وی خریدنے کے بارے میں کبھی سوچا ھی نہیں – ھم اپنی سیاسی بحث کی ٹھرک آپس میں باتیں کر کے پوری کر لیتے تھے-خوبیاں خامیاں ھر انسان میں ھوتی ھیں ، مجموعی طور پر بھٹو صاحب نے بہت سے اچھے کام بھی کیے – مگرھر اچھے حکمران کی طرح ان کو بھی ان کے مشیر لے ڈوبے ، جنہوں نے بھٹو صاحب سے کچھ ایسے غلط کام بھی کروادیے جن کے نتیجے میں بھٹوصاحب تخت سے بھی محروم ھوئے جان سے بھی ھاتھ دھو بیٹھے-

بات اس دور کی سادگی کی ھورھی تھی ، اس زمانے میں ھم میں سے کسی کے ھاں فریج بھی نہ تھا – کبھی ضرورت ھی محسوس نہ ھوئی – گیس کی جگہ لکڑیوں کی آگ پرکھانا بنتا تھا —
ھررات محفل میں جو کچھ لالا عیسی خیلوی گاتا تھا اس کی ریکارڈنگ کے لیے ٹیپ ریکارڈر نہ لالا کے پاس تھا ، نہ ھمارے پاس – میرے کالج کے دو سٹوڈنٹس ، مجیب الرحمن ھاشمی اور حفیظ خان نیازی سے ٹیپ ریکارڈر مانگ کر گذارہ چلتا رھا –

ٹی وی ، فریج ، ٹیپ ریکارڈر وغیرہ سے محرومیاں اپنی جگہ ، زندگی آج کی نسبت بہت پرسکون تھی – دوستوں کے ھاں آنے جانے ، مل بیٹھنے کے لیے بہت وقت تھا لوگوں کے پاس – اب تو آنے جانے اور مل بیٹھنے کا سارا کام گھر میں لیٹے لیٹے موبائیل فون پہ ھوجاتا ھے —-

 رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 4 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

کالج میں ھم سب کو صرف دودو پیریئڈز پڑھانا ھوتا تھا – بارہ بجے تک سب لوگ فارغ ھو جاتے تھے– دن کا باقی حصہ گذارنا بھی ایک مسئلہ ھؤا کرتا تھا –

کالج سے واپسی پر میں کچھ دیر لالا قیوم خان کے پاس بیٹھتا تھا- لالا عبدالقیوم خان نیازی ، لالا عیسی خیلوی کے رشتہ دار بھی ھیں ، کلاس فیلو بھی – اعلی صلاحیتوں سے مالامال بہت پہلو دار شخصیت ھیں – بہت اچھے گلوکار بھی ھیں – مگر گلوکاری ان کا ذریعہ معاش نہیں – اس زمانے میں گورنمنٹ ھائی سکول عیسی خیل میں سائنس ٹیچر تھے – ھیڈماسٹر ریٹائر ھوئے – آج کل اپنا پرائیویٹ تعلیمی ادارہ چلا رھے ھیں –
لالا قیوم خان کی فرمائش پر بھی میں نے متعدد گیت لکھے – دھن یہ خود بہت اچھی بنا لیتے تھے- دوپہر کی وہ محفلیں بھی میری حسین یادوں میں شامل ھیں –

لالاقیوم خان کے ھاں سے گھر واپس پہنچ کر میں دوپہر کا کھانا کھاتا – ظہر کی نماز کے بعد عتیل صاحب سے ان کے گھر پہ طویل ملاقات ھوتی – ان کا گھر ھماری گلی میں، ھمارے گھر کے قریب ھی تھا – عتیل صاحب اور میری دوستی ادبی یارانہ تھی – ھماری گفتگو بھی زیادہ تر ادب ھی کے حوالے سے ھوتی تھی – اردوکے کلاسیکل ادب کا بے حساب علم تھا اس شخص کے پاس- غالب، ذوق ، داغ ، جگر مراد آبادی وغیرہ کا ذکر کرتے ھوئے انہیں بہت پیار بھری کراری گالیاں بھی دیتے تھے- میر تقی میر اور اقبال کا بہت احترام کرتے تھے – عتیل کی گفتگو سے میں نے بہت کچھ سیکھا – ان کی ذاتی لائبریری کی بہت سی کتابیں بھی پڑھ ڈالیں
عصر کے وقت عتیل صاحب اور میں لاری اڈہ پرلالاکریم خان کے چھپر ھوٹل سے چائے بھی ضرور پیا کرتے تھے- بہت مزے کی چائے ملتی تھی وھاں –

عتیل صآحب کے بارے میں تین چار مفصل پوسٹس پہلے بھی لکھ چکا ھوں – وہ شخص دنیا سے اٹھ کر دل میں مقیم ھو گیا ، اس لیے اس کا ذکر کسی نہ کسی بہانے باربار ھوتا رھتا ھے –
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 5 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

عیسی خیل میں پانچ سال رھنے سے مجھے دو فائدے ھوئے ، جو شاید کہیں اور رہ کرحاصل نہ ھو سکتے – ایک فائدہ یہ کہ مجھے اردو اور انگریزی ادب کے مطالعے کے لیے بہت وقت بھی مل گیا ، وسائل بھی –
اردوادب کا بہت سا سرمایہ عتیل صاحب کی ذاتی لائبریری سے ملا – خاص طور پر اس دور کے سب سے بڑے ادبی مجلہ “نقوش“ کے خصوصی شمارے افسانہ نمبر، مکاتیب نمبر، غزل نمبر اور لاھور نمبر اردو ادب کی تاریخ کا بیش بہا خزانہ اپنے دامن میں سمیٹے ھوئے تھے — دن کو میرے پاس فارغ وقت بہت ھوتا تھا – میں نے وہ سب کچھ پڑھ لیا -جب میں عیسی خیل کالج کا پرنسپل تھا تو کالج کی لائبریرئ کے لیے بہت سے انگلش ناول اور اپنی پسند کی دوسری بہت سی کتابیں سرکاری فنڈ سے خرید لیں – مطالعہ ھمیشہ میرا محبوب مشغلہ رھا ھے – قدرت نے اس کے لیے وقت بھی فراھم کردیا ، وسائل بھی – یوں سمجھیے پانی خود چل کر پیاسے کی دسترس میں آگیا – جی بھر کر پیا —- میری اردو ، انگریزی تحریروں کو توانائی اسی مطالعے سے حاصل ھوئی – مطالعہ میں پہلے بھی بہت کر چکا تھا، اب بھی کرتا ھوں ، لیکن جتناوقت اور وسائل رب کریم نے عیسی خیل میں مہیا کردیے ، اتنا وقت اور وسائل نہ کبھی پہلے نصیب ھوئے نہ بعد میں –

عیسی خیل میں رھنے کا دوسرا فائدہ یہ ھؤا کہ لالا عیسی خیلوی کی فرمائش پر میرے لکھے ھوئے گیتوں نے مجھے دنیا بھر میں متعارف کرادیا – پہلے میں صرف اردو غزل لکھتا تھا ، سرائیکی گیت نگاری کا کبھی سوچا بھی نہ تھا – لالا سے دوستی نے اس راہ پہ لگا دیا-

میرا یہ ایمان ھے کہ مجھے جو کچھ بھی ملا سب میرے رب کی پلاننگ تھی – صلاحیتیں بھی اسی نے عطا کیں ، ان کو بروئے کار لانے کے وسیلے بھی اسی نے مہیا کردیئے –
رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک– 6 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

30 دسمبر 1980 کو میں نے گورنمنٹ کالج میانوالی میں انگلش کے لیکچرر کی حیثیت میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں – عجیب اتفاق ھے عیسی خیل کالج میں بھی میں نے پانچ سال پہلے 30 دسمبر ھی کو حاضری دی تھی –

گورنمنٹ کالج میانوالی میں اس وقت فیصل آباد کے پروفیسر چوھدری نیازاحمد صاحب پرنسپل تھے – موصوف باٹنی (بیالوجی ) کے پروفیسر تھے – بہت سچے عاشق رسول علیہ السلام تھے- سرکار دوعالم کا نام سنتے ھی چوھدری صاحب کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں — 
غازی علم الدین شہید کی شہادت کے بارے میں معلومات کے لیے چوھدری صاحب جیل سپرنٹنڈنٹ سے ملے- شہید کے یہاں قیام اور شہادت کے حوالے سے جیل کا ریکارڈ دیکھا — شہید کی آخری رھائش گاہ (کوٹھڑی) پھانسی گھر اور قبرستان میں وہ جگہ دیکھی جہاں شہید کے جسد مقدس کو عاضی طور پہ دفن کیا گیا تھا – میانوالی میں غازی علم الدین شہید کے شایان شان یادگار تعمیر کرنے کے لیے فنڈ قائم کیا – بڑے خلوص سے اس مقصد کے لیے کام کرتے رھے ، مگر تکمیل سے پہلے ھی ٹرانسفر ھوگئے “

گورنمنٹ کالج میانوالی میں اس وقت انگلش کے تین لیکچرر تھے – ملک سلطان محموداعوان صاحب ، سید محمد حنیف شاہ صاحب اور غلام سرور خان نیازی صاحب ، چوتھا میں آگیا تو سب نے اطمینان کا سانس لیا کہ کام کا بوجھ کچھ تو ھلکا ھؤا –

اس وقت کالج میں تقریبا 45 پروفیسر صاحبان تھے – ان میں سے کچھ حضرات کو تو میں پہلے سے جانتا تھا ، کچھ سے تعارف یہاں آکر ھؤا – اردو کے پروفیسر اقبال حسین کاظمی صاحب ، ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب ، سیاسیات کے پروفیسر محمد سلیم احسن صاحب , جغرافیہ کے پروفیسرعطاءاللہ خان نیازی صاحب ،کالج لائبریرین حاجی محمد اسلم خان غلبلی صاحب کو میں پہلے سے جانتا تھا – بیالوجی کے پروفیسر لالا فاروق صآحب میرے سکول کے زمانے کے کلاس فیلو تھے – فزکس کے پروفیسر عبدالرحیم نقشبندی صاحب میرے سٹوڈنٹ رہ چکے تھے – ڈی پی ای حاجی محمدافضل خان نیازی صآحب عیسی خٰیل کالج میں میرے رفیق کار رھے – باقی ساتھیوں سے میرا تعارف یہاں آنے کے بعد ھؤا –
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 7 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

میں یہ سمجھتا ھوں کہ میرے قلم پہ بہت زیادہ حق ان دوستوں کا ھے جو اب اس دنیا میں موجود نہیں – آج اپنے گورنمنٹ کالج میانوالی کے کچھ ایسے ھی دوستوں کا ذکر-

فارسی کے پروفیسر حافظ محمد عبدالخالق صاحب سے میرا تعارف یہاں آنے کے بعد ھؤا – کالج میں حاضری کے بعد دوسرے دن میں کالج آیا تو سٹاف روم میں حافظ صاحب سے ملاقات ھوئی – کہنے لگے “ملک صاحب ، میں نے آپ کے لیے کرائے کا مکان تلاش کر لیا ھے- آپ اپنی فیملی کو یہاں لانے سے ایک دن پہلے مجھے بتا دیں تو میں اس مکان کی چابی آپ کو دلوا دوں گا “-
اللہ اکبر – صرف ایک دن کی واقفیت پر ایسا پرخلوص تعاون – !!!! میری ضررت کا مجھ سے زیاہ احساس – حافظ صاحب کے کردار کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی – اور بھی کئی موقعوں پر میرے کہے بغیر میری مدد کرتے رھے-اسلامیات کے پروفیسر ڈاکٹر غلام حیدرصاحب بھی میرے بہت محسن دوست تھے – ان کے ھاں ایک انتہائی لذیذ حلوہ بنتا تھا جو مجھے بہت پسند تھا – جب بھی حلوہ بنتا ڈاکٹر صآحب اس میں میرا حصہ ضرور رکھتے تھے-

جغرافیہ کے پروفیسر ملک اسلم صاحب بہت زندہ دل انسان تھے – ان سے بہت دلچسپ گپ شپ چلتی رھتی تھی – اچانک یہ دنیا چھوڑ کر دوسری دنیا میں جابسے – ان کے قہقہے آج بھی کانوں میں گونجتے ھیں –

معاشیات کے پروفیسر چوھدری عبدالخالق ندیم فیصل آباد کے رھنے والے تھے – ھاسٹل کے سپرنٹنڈنٹ بھی تھے – ان کا رھن سہن اور بول چال کا انداز خالص دیہاتی چودھریوں والا تھا – بہت مہمان نواز، یاروں کے یار , دبنگ انسان تھے– پروفیسروں کی ایک نظریاتی تنظیم کے لیڈر بھی تھے ، مگر دوستی سب سے برابر رکھتے تھے— میانوالی میں ایسے رچ بس گئے کہ احساس ھی نہیں ھوتا تھا ، باھر سے آئے ھوئے ھیں –

سیاسیات کے پروفیسر اسلم خان صاحب پنڈ دادن خان کے رھنے والے تھے – بہت ھنس مکھ ، شائستہ اور خوش اخلاق انسان تھے – چندسال یہاں رھے ، پھر پنڈدادن خان کالج میں ٹرانسفر ھوگئے – کچھ عرصہ بعد سنا یہ دنیا چھوڑ کر عدم آباد جا بسے – جوانی ھی میں رخصت ھو گئے – بہت پیارے انسان تھے —-

رب کریم ھمارے ان تمام پیارے ساتھیوں کی مغفرت فرما کر انہیں اپنی رحمت کا سایا نصیب فرمائے – بہت اچھے لوگ تھے – بہت یاد آتے ھیں -آپ لوگوں کے لیے میرے یہ سب دوست اجنبی ھیں ، لہذا آپ کے لیے ان کے ذکر میں دلچسپی کا کوئی سامان شاید نہ ھو، مگر میں ان کا ذکر بہت ضروری سمجھتا ھوں – یہ سب میرے بہت مہربان ساتھی تھے – ان کا ذکر میں نہ لکھوں تواور کون لکھے گا –
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–8 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

گورنمنٹ کالج میانوالی میں آمد پرفرسٹ اور سیکنڈ ائیر کا ایک ایک گروپ ، اور بی اے تھرڈ ائیر کی کلاس میرے سپرد کی گئی – سابق ایم پی اے ڈاکٹر صلاح الدین خان بھی اس وقت سیکنڈ ائیر کے سٹوڈنٹ تھے-

فرسٹ ائیر اور تھرڈ ائیر کاتو کوئی مسئلہ نہ تھا کہ ان کا امتحان کالج تک محدود ھوتا تھا – سیکنڈ ائیر کا امتحان بورڈ کا ھوتا تھا ، اور کسی سبجیکٹ میں کمزور ریزلٹ پر متعلقہ ٹیچر کا احتساب بھی ھوتا تھا-سٹوڈنٹس نے بتایا کہ انہیں انگلش کا پیپر A (نصاب کی کتا بیں) تو پڑھا دیا گیا ھے ، مگر پیپر B (گرامر کمپوزیشن) کو ابھی تک ھاتھ بھی نہیں لگایا گیا –

یہ میرے لیے ایک چیلنج تھا – امتحان میں صرف تین ماہ باقی تھے – تین ماہ میں پیپرB کا دوسال کا کورس مکمل کرنا تھا – میں نے بہت محنت کی – اللہ نے عزت رکھ لی – میری کلاس کا ریزلٹ بورڈ کے معیار سے بہت آگے تقریبا 80 فی صد رھا – انگلش میں اتنا اچھا ریزلٹ شاذونادر ھی آتا ھے – اس آزمائش سے عہدہ برآ ھونے کے بعد کالج میں میری پوزیشن مستحکم ھو گئئی – میرا شمار اچھے ٹیچرز میں ھونے لگا – اللہ کے فضل سے میری یہ شہرت میری ملازمت کے آخری دن تک برقرار رھی – مجھے اپنے سٹوڈنٹس کا اعتماد حاصل رھا – وھی شہرت اور اعتماد آج بھی کام آرھاھے میرے ھزاروں بچے جہاں جہاں بھی ھیں مجھ سے محبت کرتے ھیں ، میرا احترام کرتے ھیں – اللہ سب کو سلامت رکھے – ان کی محبت اور اعتماد میرا سرمایہ ء زیست ھے – –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–9 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

گورنمنٹ کالج میانوالی اس زمانے میں صرف اس ابتدائی بلڈنگ تک محدود تھا جو گیٹ کےعین سامنے واقع ھے – سائنس بلاک ، رحمتہ للعالمین آڈیٹوریم اور ایم اے بلاک ھماری وھاں موجودگی میں تعمیر ھوئے – سٹاف روم کی نئی عمارت بعد میں بنی – مین گیٹ سے کالج میں داخل ھوں تو دائیں جانب کمروں کی ایک قطار کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ تک جاتی ھے بائیں طرف پرنسپل اور کنٹرولر امتحانات کے آفس ھیں – ایک کاریڈور (برآمدہ سمجھ لیں) شمال کی جانب کمروں کی ایک اور قطار سے جاملتا ھے- اس قطار میں سٹاف روم اور کچھ کمرے ھیں – ان کمروں کے اوپر بھی اتنے ھی کمرے ھیں – نچلی منزل پہ روم نمبر14 اور بالائی منزل پہ روم نمبر 24 کئی سال تک میرے کلاس روم رھے-

یہ تفصیلات اس لیے بتا رھا ھوں کہ اس ادارے کی ایک ایک اینٹ ، ایک ایک لان اور ایک ایک درخت سے میری بہت سی حسین یادیں وابستہ ھیں – بیس سال میں اس ادارے میں کام کرتا رھا – مجھے ھر کمرے اور ھر لان میں کلاسز پڑھانے کا موقع ملا – جب سائنس بلاک اور ایم اے بلاک بن گئے تو وھاں بھی میں کلاسز لیتا رھا

دائیں ونگ میں نچلی منزل پر پروفیسر صاحبان کے دو ٹی کلب تھے ، جہاں ھم لوگ فارغ اوقات میں بیٹھ کر چائے پیا کرتے تھے- بیالوجی لیباریٹری کے ایک سائیڈروم میں ھمارا ٹی کلب تھا – جس میں بیالوجی کے پروفیسرصآحبان کے علاوہ سرورنیازی صاحب ، سلیم احسن صاحب ، محمد فیروزشاہ صاحب میں اور کچھ دوسرے دوست بیٹھا کرتے تھے- کالج کے ملازم چاچا یارن خان کا بیٹا محمد اقبال خان چائے بنایا کرتا تھا – چائے کے علاوہ وھاں کی گپ شپ کا بھی ایک اپنا لطف تھا – سرورخان صاحب کے خالص مردانہ لطیفوں پر قہقہوں کی گونج ، پیراقبال صاحب او ر لالا فاروق صاحب کی دلچسپ چھیڑچھاڑ — کیا زمانہ تھا —– !!!!!
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–10 دسمبر 2018

————-اپنا پرانا شعر ——————

میرا میانوالی—————-

پروفیسرصاحبان کا دوسرا ٹی کلب کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کا تھا – ارکان کی تعداد کے لحاظ سے یہ کلب بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے کلب سے بڑا تھا ، اس کے سربراہ کیمسٹری کے ھیڈآف دٰپارٹمنٹ پروفیسر ملک محمد انور میکن تھے – ارکان میں کیمسٹری کے پروفیسر وحید صاحب ، ڈاکٹر اشرف خان نیازی (موجودہ پرنسپل) , مظہر اقبال صاحب ، عبدالغفاربھٹی صاحب ، ظفراقبال خان صاحب ، جغرافیہ کے عطاءاللہ خان نیازی ، تاریخ کے اقبال قاسمی صاحب ، احمد حسن خان نیازی، اسلامیات کے ڈاکٹر غلام حیدراور کچھ دوسرے دوست شامل تھے- پرنسپل بننے سے پہلے ڈاکٹر غلام سرورخان نیازی صاحب بھی اسی کلب کے رکن تھے- لیبارٹری اٹینڈنٹ حاجی احمد خان عرف مولوی اس کلب میں چائے بنانے پر مامورتھے-کالج کے آفس سٹاف کا اپنا ٹی کلب تھا – جب ایم اے کی کلاسز شروع ھوئیں تو انگلش اور سیاسیات ڈیپارٹمنٹ کا بھی ایک ایک کلب بن گیا – ھم انگلش والوں کے لیے چائے ڈیپارٹمنٹ کے ملازم حبیب اللہ خان عرف چاچا بناتے تھے- اپنا کلب ھونے کے باوجود ھم انگلش ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں نے بیالوجی کلب کی رکنیت بھی برقرار رکھی-

پروفیسر اقبال حسین کاظمی صاحب کنٹرولر امتحانات تھے – شوگر کے مرض کی وجہ سے وہ پھیکی چائے پیتے تھے – ان کے لیے الگ چائے شعبہ ءامتحانات کے ملازم یارن خان آفس ھی کے ایک کمرے میں بناتے تھے-

کبھی کبھار ھم ایک دودوست کالج کینٹین سے بھی چائے پی لیتے تھے- مگر وھاں جانے سے ھم گریز کرتے تھے ، کیونکہ ھمارے ھوتے ھوئے بچے وھاں آنے سے شرماتے تھے – اگر کبھی وھاں بیٹھنا بھی پڑتا تو ھم باھر لان میں مسجد کے زیر سایہ بیٹھ جاتے تھے-

کینٹین اور یہ تمام ٹی کلب شاید اب بھی آباد ھوں ، مگرھم 63 پروفیسروں کے سٹاف میں سے اب صرف دوتین ھی باقی رہ گئے ھیں – باقی کچھ ریٹائر ھوگئے ، کچھ یہ دنیا ھی چھوڑ گئے —
گذرگیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ
— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 11 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

پرسوں کی پوسٹ پر کمنٹ کرتے ھوئے بیالوجی کے پروفیسر عامر کاظمی صاحب نے بتایا کہ کالج میں ھمارے زمانے کے جودرجہء چہارم کے ملازمین باقی رہ گئے ھیں وہ بھی مجھے یاد کرتے ھیں –

جی ھاں ، میں بھی ان سب لوگوں کو یاد کرتا ھوں – درجہء چہارم کےیہ ملازم چپراسی، چوکیدار، بیلدار، مالی ، لیب اٹنڈنٹ وغیرہ تھے – چاچا صوبہ خان ، نورخان ، عزیزاللہ ، غلام یاسین ، مولوی محمد خان ، افضل خان ، حبیب اللہ خان ، چاچا مظفرخان ، حاجی عرف مولوی احمدخان ، احمد خان کالاباغ والے ، یارن خآن ، اقبال خان ، انورخان ، محمدخان ،عبدالحمید , عبدالرحمن ، ملک حق داد وغیرہ سب میرے بہت اچھے دوست تھے – ًمیرا ان کے ساتھ رویہ صاحب بہادروں والا نہیں ، بلکہ دوستوں والا تھا – کبھی ان کا کوئی چھوٹا موٹا لکھنے پڑھنے کاکام ھوتا ھوتا تو میں کردیتا تھا ، کسی کو چھٹی دلوانی ھوتی تو میں ان کی سفارش کردیتا – اس لیے یہ سب لوگ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے-بات صرف اخلاق کی ھوتی ھے- کوئی چھوٹا ھو یا بڑا ، یہ تو اپنے اپنے نصیب کی بات ھے – مگر عزت نفس تو ھر انسان کی ھوتی ھے- ھر انسان عزت چاھتا ھے- بس یہ بات مدنظررکھ کر سب کو عزت دیں تو سب لوگ آپ کا احترام کرتے ھیں ، آپ سے پیار کرتے ھیں ، جو افسر اپنے ماتحت ملازموں کا احترام کرے، ملازم اس کے لیے جان بھی دینے سے دریغ نہیں کرتے –

میرے ان دوستوں میں سے جو اس دنیا سے رخصت ھوگئے رب کریم ان کی مغفرت فرمائے ، اور جو اس دنیا میں موجود ھیں انہیں ھمیشہ خوش رکھے-
— رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک–12 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

گورنمنٹ کالج میانوالی میں میری آمد پرڈاکٹرمحمداجمل نیازی نے ایک استقبالیہ تقریب کا اھتمام کیا – یہ ایک بھرپور ادبی تقریب تھی – ڈاکٹراجمل نیازی نے میرے بارے میں کچھ دلچسپ تعارفی کلمات کہے – پھر چند سٹوڈنٹس اور پروفیسرمحمد سلیم احسن اور پروفیسر غلام سرور خان نیازی نے اپنے اپنے انداز میں میرے بارے میں گفتگو کی – پروفیسر سلیم احسن عیسی خیل کالج میں میرے رفیق کار رہ چکے تھے – پروفیسر سرور نیازی مجھے اس زمانے سے جانتے تھے جب میں ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر تھا ، اور سرور نیازی صاحب موچھ میں فیملی پلاننگ آفیسر-“اللہ ان سب دوستوں کا بھلا کرے- سب نے اپنی اپنی تقریر میں مجھے میرے حق سے زیادہ نمبردیئے – 

میں نے ان سب کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اپنا مختصر سا تعارف کرایا – پھر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ھؤا – زیادہ تر سوال میرے عیسی خیل میں قیام اورلالا عیسی خیلوی سے میری دوستی کے حوالے سے تھے- سب سے دلچسپ سوال اور جواب لالا عیسی خیلوی کی مشہورزمانہ “چوٹ“ کے حوالے سے تھا –

فلاسفی کے پروفیسر نذیراحمد خان صاحب نے کہا “ ملک صاحب ، اور باتیں چھوڑیں ، ھمیں یہ بتائیں ، وہ چوٹ کیا تھی جس نے عیسی خیلوی کی آواز میں اتنا سوز بھر دیا کہ سنتے ھوئے آنکھوں میں آنسو آجاتے ھیں “

میں نے کہا “ میرے بھا ئی ، کیا آپ کو کبھی کوئی چوٹ نہیں لگی ؟“

شرما کر بولے “ چوٹیں تو ھرانسان کو لگتی رھتی ھیں “-

میں نے کہا “ اگر چوٹوں سے انسان عطاءاللہ عیسی خیلوی بنتا تو ھر نوجوان لالا عیسی خیلوی ھوتا – اصل بات یہ ھے کہ لالا کو پرسوز آواز رب کریم نے عطا کی ، لالا نے دس بارہ سال محنت کر کے اس آواز کو ترنم کے اسرارورموزسے آشنا کیا — پھر رب کریم ھی نے دنیا بھر میں اس آواز کو متعارف کروانے کے وسائل پیدا کردیئے — باقی رھی چوٹوں کی بات ، تو ھم سب کی طرح لالا کے حصے میں بھی چوٹیں آتی رھتی ھیں – آئندہ بھی لگتی رھیں گی “-
—- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 13 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

بحمداللہ 21 اکتوبر سے میں نے اپنی یہ داستان لکھنے کا آغاز کیا تھا – اب تک اس کی پچاس قسطیں (پوسٹس) منظر عام پر آچکی ھیں – کیسی لگ رھی ھے آپ کو یہ داستان ؟ —- کوئی تجویز ، مشورہ، فرمائش ، شکوہ ، شکایت ؟

مجھے نہیں معلوم اس داستان کی باقی کتنی قسطیں بنیں گی – جب تک یہ کہانی چلے گی لکھتا رھوں گا – پھر کوئی اور موضوع چھیڑ دوں گا -“اس داستان کے آغاز میں میں نے بتا دیا تھاکہ میں نے تو ٹیچربننے کے بارے میں کبھی سوچا ھی نہ تھا ، مگر میری زندگی کا راستہ میرے خالق نے مقرر کر دیا تھا – اس نے مجھے ٹیچر بنانا تھا ، اس لیئے میری تمام تر نالائقیوں اور لاپرواھیوں کے باوجود اس نے بنا دیا — میں بحمداللہ اپنے کام سے مطمئن ھوں – بلکہ مجھے ٹیچر ھونے پہ فخر ھے کیونکہ ھمارے آقا علیہ السلام نے فرمایا تھا : انی بعثت معلما (مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاھے) –
میں یہ کام پہلے سکولوں اور کالجوں میں کرتا رھا – اب فیس بک کے ذریعے کر رھا ھوں ، کیونکہ یہی کام میری زندگی ھے , یہی اس دنیا میں میرے رھنے کا جواز-

یہ داستان مکمل ھونے کے بعد اسے کتاب کی شکل میں شائع کرانے کا ارادہ بھی ھے – ھوگا وھی جو میرا رب چاھے گا –
— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 14 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

گورنمنٹ کالج میانوالی میں میری سروس کے دوران چار پرنسپل صاحبان آئے-


جب میں یہاں آیا تو پروفیسر چوھدری نیاز احمد صاحب یہاں پرنسپل تھے- ان کا تعارف کچھ دن پہلے ایک پوسٹ میں کرا چکا ھوں -1983 میں چوھدری صاحب کا ٹرانسفر ھؤا تو ان کی جگہ راولپنڈی سے ڈاکٹر رشید احمد یہاں پرنسپل مقرر ھوئے – ڈاکٹر رشید احمد کینیڈا سے ریاضی (میتھس) میں ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی تھے- بین الاقوامی سطح کے ماھرین ریاضی میں شمار ھوتے تھے- انرجی فزکس کے قومی انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر بھی رھے-

گورنمنٹ کالج میانوالی میں تقریبا ایک سال رھے – بہت اصول پسند بھی تھے ، مہربان بھی – انہوں نے کالج میں Absentee Slip کا رواج برپا کیا — یہ ایک فارم ھوتا تھا جس میں ھر ٹیچرروزانہ اپنی کلاسز کے غیر حاضر سٹوڈنٹس کے رول نمبرز درج کرتا تھا – کالج ٹائیم کے بعد پرنسپل صاحب روزانہ یہ فارم چیک کرتے تھے-

اسی دورمیں گورنمنٹ کالج برائے خواتین میں انگلش کے لیکچررز کی کمی ھوئی تو ڈائریکٹر صاحب کے کہنے پر پرنسپل صاحب نے یہ خدمت میرے سپرد کر دی – لیکن شرط یہ تھی کہ میں خواتین کالج کی دوکلاسز کے علاوہ اپنے کالج کی دو کلاسز بھی پڑھاؤں گا –
ٹائیم ٹیبل کچھ ایسا تھا کہ میں اپنے کالج میں ایک کلاس پڑھا کر خواتین کالج جاتا اور وھاں کی دو کلاسز کو پڑھا کر پھر اپنے کالج میں آکر اپنی دوسری کلاس ُپڑھاتا تھا – خاصا بامشقت کام تھا ۔ مگر قوم کی خدمت کا احساس تھکنے نہیں دیتا تھا –

ایک دن میں خواتین کالج سے واپس آیا تو پرنسپل ڈاکٹر رشید صاحب برآمدے میں کھڑے تھے – کہنے لگے ملک صاحب اج کل آپ کی Absentee Slips نہیں آرھیں-
میں نے کہا “سر, ان حالات میں تو مشکل ھے” –
ھنس کر بولے “میں جانتا ھوں ۔ ویسے ھی پوچھ لیا تھا“-

بہت مہربان پرنسپل تھے – تقریبا ایک سال بعد یہاں سے ٹرانسفر ھو گئے- ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی فیملی کے ھاں جنوبی افریقہ چلے گئے – جب تک صحت نے ساتھ دیا وھاں ایک یونیورسٹی میں پڑھاتے رھے- کینسر کے مرض سے طویل کشمکش کے بعد مارچ 2011 میں دنیا سے رخصت ھوگئے — جنوبی افریقہ کی مٹی نصیب میں تھی – وھیں دفن ھوئے – اللہ مغفرت فرما کربلند درجات عطا فرمائے-
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 15 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-


ڈاکٹر رشید احمد کے بعد ڈاکٹر غلام سرورخان نیازی گورنمنٹ کالج میانوالی کے پرنسپل مقرر ھوئے – ڈاکٹر سرورخان نیازی میانوالی کے معروف قبیلہ خنکی خیل کے چشم وچراغ تھے- تاریخ کے پروفیسر بھی تھے , بلند پایہ محقق بھی – سلطان علاؤالدین خلجی (1267-1316) کی زندگی اور کارناموں کے بارے میں ان کی کتاب The Life and Works of Sultan Alauddin Khalji دنیا کی کئی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ھے-

وزارت مذھبی امور کے زیر اھتمام سیرت النبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و سلم کے مختلف پہلؤوں پر تحقیقی مقالہ جات کے انعامی مقابلوں میں ڈاکٹر نیازی صاحب نے مسلسل تین دفعہ اول انعام حاصل کیا – ضلع میانوالی کی تاریخ ، معاشرت اور ثقافت کے بارے میں مستند معلومات پر مبنی کتاب District Gazetteer بھی ڈاکٹر صاحب کا ایک اھم علمی کارنامہ ھے – یہ کتاب حکومت پنجاب نے شائع کی پرنسپل کی حیثیت میں ڈاکٹر صاحب کا پروفیسر صاحبان سے رویہ ھمیشہ دوستانہ رھا – بہت زندہ دل انسان تھے- انہیں کبھی ٹینشن میں نہ دیکھا – ھروقت ھنستے ھنساتے رھتے تھے- 

سٹوڈنٹس کے لیے خاصے سخت گیر تھے- کالج کے اوقات میں کسی سٹوڈنٹ کو کلاس سے باھر نہیں رھنے دیتے تھے- تقریبا تین سوکنال کے کیمپس کے چپے چپے پر نظر رکھتے تھے- کینٹین ، ھاسٹل ، سائیکل سٹینڈ سے سٹوڈنٹس کو ھانک کر کلاسوں میں لے جاتے – کسی سٹوڈنٹ کے گریبان کے بٹن کھلے ھوئے دیکھتے تو اسے گریبان سے پکڑ کر کہتے یہ سینیما ھال نہیں ، کالج ھے، بٹن بند رکھا کرو – ڈاکٹرصآحب کی اس سخت گیری کے خوف سے سٹوڈنٹس کی جان جاتی تھی – سٹوڈنٹس کا مثالی ڈسپلن ان کے دور کی سب سے نمایاں خصوصیت تھی – ڈسپلن کی وجہ سے تعلیم کا معیار بھی بلند رھا –

ڈاکٹر صآحب 1990 میں ریٹائر ھوئے – آج سے چند ماہ قبل اس عالم فانی سے رخصت ھو گئے – اللہ مغفرت فرما کر اپنی رحمت کا سایہ نصیب فرمائے – میرے بہت مہربان دوست تھے-

ان کے اکلوتے صاحبزادے پروفیسر احمد حسن خان نیازی آج کل گورنمنٹ کالج میانوالی میں شعبہءتاریخ کے سربراہ ھیں – پروفیسر احمد حسن خان نیازی میرے سٹوڈنٹ بھی رھے –
–رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 16 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

ڈاکٹرغلام سرور خان نیازی کی ریٹائرمنٹ کے بعد پروفیسرملک محمد انورمیکن کالج کے پرنسپل مقررھوئے – ملک محمدانورصاحب کئی سال سے کالج میں کیمسٹری ڈٰیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے-

پرنسپل کی حیثیت میں ان کا دور سب سے طویل ( تقریبا دس سال) رھا- میرے ساتھ ھی 2001 میں ریٹائر ھوئے – بیالوجی کے پروفیسرمحمد فاروق المعروف لالا فاروق بھی ھمارے ساتھ ریٹائر ھوئے- ملک الورصاحب اور فاروق صاحب 31 جنوری کو ، میں یکم فروری کوملک محمدانورکندیاں کے معروف قبیلہ میکن کے نمایاں فرد تھے- کیمسٹری میں ایم ایس سی کے بعد ملازمت کا آغاز گورنمنٹ کالج لاھور سے کیا – کچھ عرصہ بعد گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے گورنمنٹ کالج میانوالی میں ٹرانسفر کروا لیا – ملازمت کی مدت یہیں تمام کی –

ملک محمد انور کیمسٹری کے بہترین ٹیچرتھے – ریٹائرمنٹ کے بعد چشمہ کالونی میں اپنی اکیڈیمی بنا لی – جب تک زندہ رھے ، پڑھاتے رھے-

ملک انور صاحب بہت کھلے ڈلے دیہاتی مزاج کے انسان تھے- سٹوڈنٹس کے لیے بھی بہت نرم دل تھے- اس لیے خاصے مقبول رھے- ڈاکٹر غلام سرورخان نیازی کی طرح پروفیسرصاحبان کے ساتھ ان کا رویہ بھی ھمیشہ دوستانہ رھا – پروفیسرز کی ایک نظریاتی تنظیم کے سرگرم سربراہ بھی تھے ، مگر پرنسپل بننے کے بعد ، سب سے یکساں دوستانہ سلوک کرتے تھے-

کالج میں ایم اے انگلش اور ایم اے سیاسیات کی کلاسز کا آغاز بھی ملک انورصاحب کے دور قیادت میں ھؤا – ایم اے بلاک اوررحمتہ للعالمین ھال (آڈیٹوریم) بھی انہی کے دور میں تعمیر ھوئے – اس لحاظ سے ان کا دور تعمیر و ترقی کا دور کہلا سکتا ھے-

 رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–17 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

ایک دفعہ میرے ایک سابق سٹوڈنٹ جو اب خود بھی پروفیسر بن چکے تھے، میری تعریفیں کرنے لگے تو میں نے کہا “حفیظ بیٹا ، مجھ میں کون سی ایسی خوبی ھے جس کی بنا پر آپ لوگ میری اتنی تعریفیں کرتے ھیں – ؟ “

حفیظ نے کہا “ سر، آپ انگلش اس طرح آسانی اور اعتماد سے پڑھاتے تھے جیسے یہ آپ کی مادری زبان ھے- آپ نے کلاس میں کبھی نہیں کہا تھا کہ انگلش مشکل زبان ھے- آپ نے ھمیں کبھی نوٹس نہیں لکھوائے ، نہ ھی نوٹس کو رٹا لگانے کا کہا – آپ درسی کتابوں کے علاوہ گرامر کمپوزیشن پر بھی پوری توجہ دیتے تھے- اس طرح ھم لوگوں نے تھوڑا بہت لکھنا بھی سیکھ لیا , ھمیں رٹا لگانے کی ضرورت نہ پڑی — آپ کے اس طرح پڑھانے سے ھمارے دل سے انگلش کا خوف اور نفرت جاتی رھی – ھمیں انگلش اچھی لگنے لگی – بس پھر انگلش ھمارے لیے مشکل نہ رھی – ھم گھر پہ بھی انگلش پڑھنے لکھنے لگے ” –
یہ قصہ سنانے کا مقصد خدانخواستہ اپنی تعریف کرنا نہیں – سٹوڈنٹس اور ٹیچرز کو یہ بتانا ھے کہ انگلش نہ تو بری چیز ھے ، نہ مشکل – اگر آپ اپنے دل سے انگلش کا خوف اور نفرت نکال دیں تو آپ دیکھیں گے کہ یہ زبان دلچسپ بھی ھے آسان بھی -معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ انگلش سے خوف اور نفرت ھم ٹیچر لوگ ھی پیدا کرتے ھیں – ٹیچر کو انگلش نہ آتی ھو تو وہ اسے مشکل ھی کہے گا – اگر آپ نے انگلش پڑھا کر ھی روزی کمانی ھے تو حلال تب ھوگی جب آپ کو اس زبان پہ عبور حاصل ھوگا – رزق حلال کی خاطر تھوڑی سی محنت کرنے سے نقصان نہیں ، فائدہ ھی ھوگا ، آپ کو بھی ، قوم کو بھی-

– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–18 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

بحمداللہ انگلش پر عبور میرا ذریعہ معاش بھی رھا ، وسیلہءعزت بھی- چالیس سال انگلش پڑھاتا رھا — اللہ کا ایک خاص فضل یہ رھا کہ سرکاری خظ وکتابت میں مہارت کی وجہ سے میں تمام پرنسپل صاحبان کا منظور نظر رھا — دفتری امور میں ھی چلاتا رھا – سرکاری لیٹرز کے جواب دینا ، آڈٹ اعتراضات کے جواب لکھنا ، مختلف قسم کی رپورٹس ، ھر چھوٹا بڑا لیٹر میں ھی لکھتا تھا – عیسی خیل کالج میں پروفیسر سید مختار حسین طاھر پرنسپل بن کر آئے – وہ خود دفتری خط وکتابت کے ماھر تھے – مگر وہ بھی جب کوئی لیٹر لکھتے تو مجھ سے کہتے “ملک صآحب ، ذرا اسے دیکھ کراس میں مناسب ردوبدل کر دیں “->جب میں گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں پرنسپل تھا تو ایک دن سرگودھا ڈویژن کے ڈائریکٹر کالجز ، پروفیسر رفیع اللہ خان وھاں تشریف لائے- خان صاحب بہت خوبصورت انگریزی لکھتے تھے ، بولتے دلچسپ انداز کی پنجابی تھے- کالج کے پروفیسر صاحبان سے کہنے لگے-
“ اوئے منڈیو ، تہاڈا پرنسپل بڑی سوھنڑیں انگریزی لکھدا جے – ایہد ے نال بنڑا کے رکھوگے تے تہاڈیاں ACRs ( سالانہ رپورٹس ) اچ رنگ بھر دیوے گا – اینوں خوش رکھیا کرو “-

جب ڈاکٹر غلام سرور خان نیازی پرنسپل تھے تو میں جو بھی لیٹر لکھتا ، دفتر والوں سے کہتے تھے اس کی تین کاپیاں بنانا – ایک میری ذاتی فائیل کے لیے — کہا کرتے تھے ریٹائرمنٹ کے بعد میں یہ فائیل اپنے ساتھ لے جاؤں گا ، اور فارغ وقت میں اچھی انگریزی پڑھ کر لطف اٹھاتا رھوں گا-

گورنمنٹ کالج عیسی خیل کے میرے آخری پرنسپل پروفیسر ملک محمد نواز چھینہ ایک دفعہ میانوالی کالج آئے – مجھے دیکھا تو ھنس کر پرنسپل صاحب سے کہا “ خان صآحب ، میرے کالج میں انگلش کے تین پروفیسرصاحبان ھیں – آپ وہ تینوں لے لیں ، اور ملک منور صاحب مجھے دے دیں “-
رب کریم کا لاکھ شکرھے کہ جہاں بھی رھا عزت ملتی رھی-
رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک– 19 دسمبر 2018

کل داؤدخٰیل سے گرافکس کے ماھر شاھد انورخان نیازی نے
اپنی پسند سے میرے کچھ شعرآرائش کرکے بھیجے ھیں-
ان میں سے ایک شعر —————-

بشکریہ-منورعلی ملک– 19 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

عزیز ساتھیو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ –

میرے چھوٹے بھائی مظفرعلی ملک رضائے الہی سے جمعرات 20 دسمبر کو اس عالم فانی سے رخصت ھو گئے – مرحوم ریٹائرڈ ٹیچر تھے – میرے تین بھائیوں میں سے یہ آخری تھے – ان کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست ھے-بشکریہ-منورعلی ملک– 23 دسمبر 2018

ان تمام ساتھیوں کا ممنون ھوں جنہوں نے میرے بھائی کے لیے دعائے مغفرت اور مجھ سے تعزیت کی — جزاکم اللہ الکریم –
— منورعلی ملک —

—–میری نعت ———–


آرائش ، شاھدانورخان نیازی
داؤدخیل

بشکریہ-منورعلی ملک– 23 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

شاعری پڑھنے کا شوق تو بچپن سے تھا ، خود شعر کہنے کا کبھی سوچا بھی نہ تھا – شاعری خود بخود ھونے لگی- جب میں ٹھٹھی سکول میں تھا تو نعت کے چند شعر وارد ھوئے – شعر یہ تھے——–

گرد رہ حجاز ھے
میری تمام کائنات
میں بھی تو اک غلام ھوں


مجھ کو بھی ھیں توقعاتتب احساس ھؤا کہ رب کریم نے مجھے شعرکہنے کی صلاحیت بھی عطا کی ھے- مگر میں نے شاعری کو اوڑھنا بچھونا کبھی نہ بنایا – کبھی کبھار ایک آدھ غزل ھوتی رھی – وہ بھی میری کوشش یا محنت کے بغیر – میں نے کبھی زبردستی شعر کہنے کی کوشش نہ کی ، نہ ھی کسی کو زبردستی اپنی شاعری سنانے پر اصرار کیا – جوشعر وارد ھو جاتے ایک ڈائری میں لکھ لیتا تھا
جوانی کا دور تھا ، اس دور کی کچی پکی شاعری بھی اپنی جگہ خاصی دلچسپ تھی – مثلا بیس پچیس قطعات پر مشتمل نظم کے یہ دو قطعات دیکھیے – نظم کا عنوان تھا “ —— کے نام “
میرے ھاتھوں میں دے کے اپنا ھاتھ
تونے قسمت کا حال پوچھا تھا
میں لکیروں کو کیا سمجھ سکتا
کتنا مشکل سوال پوچھا تھا

دیکھ کر چاند سی ہتھیلی کو
دل نے اک سرد آہ کر ڈالی
تیری قسمت نہ ھو سکی معلوم
اپنی قسمت تباہ کر ڈالی

بہت عرصہ پہلے وہ ڈائری گم ھو گئی ، جس میں یہ نظم اور بہت سی دوسری چیزیں تھیں –
رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک– 24 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

میری شاعری کا مجموعہ “ جو تم سے کہہ نہ سکا “ منظر عام پر آیا تو لاھور سے میرے ایک بہت پڑھے لکھے دوست ، نامور ادیب, محمد سلیم الرحمن صاحب نے میرے نام اپنے خط میں لکھا –
“آپ اپنی شاعری سے سوتیلی اولاد کا سلوک کیوں کرتے ھیں ، حالانکہ آپ کی شاعری آج کے کسی بھی نامور شاعر کی شاعری سے کم نہیں بات درست ھے – میں بہت کم شعر کہتا ھوں ، خود بخود ھوجائیں تو لکھ لیتا ھوں – مجھ سے شاعری کے لیے پسینہ نہیں بہایا جاتا – یہ کیا بات ھوئی کہ انسان دنیا کے سب کام کاج چھوڑکر قلم کاغذ تھامے لفظوں کی مکھیاں مارتا رھے- مجھ سے یہ کام نہیں ھوتا – اسی لیے میری شاعری مقدار کے لحاظ سے بہت کم ھے – اب تک صرف ایک ھی شعری مجموعہ شائع ھؤا ھے
مجھے کیا پتہ تھا کہ میری شاعری ھی لالا عیسی خیلوی کی وساطت سے دنیا بھر میں میری پہچان بن جائے گی- میں نے تو شاعر کی حیثیت میں تعارف یا شہرت کی خواھش ھی کبھی نہیں کی تھی- لیکن جس رب کریم نے مجھے شعر کہنے کی صلاحیت عطا کی تھی ، اس نے اس صلاحیت کے استعمال اور اس کی تشہیر کے وسائل بھی گھر بیٹھے فراھم کر دیئے- میرا عیسی خیل کالج میں تقرر، لالا سے دوستی، گیت لکھنے کے لیے لالا کی فرمائشیں —– سب کچھ قدرت کے اس پلان کا حصہ تھا، ورنہ میں تو عیسی خیل کی بجائے میانوالی کالج جانا چاھتا تھا –
—— رھے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک– 25 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے ————-

تو مرا قائد ھے یہ اللہ کا احسان ھے
تیری محنت کا ثمر میرا یہ پاکستان ھےمیرے قائد، میرے رھبر، میں سمجھتا ھوں کہ تو

پستیوں کے دور کا واحد بلند انسان ھے
—بشکریہ-منورعلی ملک– 25 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

بنیادی طور پر میں اردو غزل کا شاعر ھوں – نظم کبھی کبھی کسی سانحے کے ردعمل کی صورت میں وارد ھوتی ھے– گیت نگاری کا کبھی سوچا ھی نہ تھا –
ایک دن ماسٹروزیر کے ھاں دوپہر کے کھانے کی دعوت میں لالاعیسی خیلوی نے مجھ سے کہا
“ منوربھائی، آپ اردو شاعری تو بہت اچھی کر لیتے ھیں – آج میری خاطر سرائیکی میں بھی ایک چیز لکھ دیں تو بہت مہربانی ھوگی “-
میں نے کہا “ میں نے اب تک تو سرائیکی میں کچھ نہیں لکھا – آپ کی خاطر کوشش کرلوں گا – بتائیں لکھنا کیا ھے ؟“

لالا نے کہا “ وہ جو انڈین نغمہ ھے ——— “ پنجرے کے پنچھی رے تیرا درد نہ جانے کوئی “ ——– اسی طرز پہ سرائیکی گیت لکھ دیں “-
“پنجرے کے پنچھی رے “ مجھے بھی بہت پسند تھا – اسی شام میں نے گیت لکھ کر لالا کو دے دیا – اس گیت کے ابتدائی بول تھے ————
“ کملی دا ماھی وے ، ڈس کیہڑے پاسے جاواں “ملی جلی سرائیکی پنجابی زبان کا یہ گیت لالا کو بہت پسند آیا ، اور اس شام سے یہ گیت بھی میکدے کی محفلوں کا مستقل آئیٹم بن گیا- رحمت گراموفون کمپنی نے لالا کے جوپہلے چاروالیوم (کیسیٹ) ریلیز کیے، ان میں سے پہلے کیسیٹ کا سب سے پہلا گیت یہی تھا –
اس کے بعد تو چل سو چل ، لالا فرمائشیں کرتا رھا ، میں لکھتا رھا – جب تک میں عیسی خیل میں رھا ، یہ سلسلہ چلتا رھا – یوں میرے لکھے ھوئے تیس پینتیس گیت لالا کی آواز میں منظرعام پر آئے – اچھے ھیں یا برے ، یہ آپ کو پتہ ھوگا –
– رھے نام اللہ کا-
بشکریہ-منورعلی ملک– 26 دسمبر 2018

———–لخت جگر محمدعلی ملک کے نام —–
لفظ خاموش ، آنکھ میں آنسو
آج کے دن بچھڑ گیا تھا تو

بشکریہ-منورعلی ملک– 27 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

میری داستان حیات میں آپ لوگوں کی دلچسپی بہت حوصلہ افزا ھے – یہ داستان میں نے 21 اکتوبر سے قسط وار لکھنی شروع کی – اب تک اس کی 60 قسطیں (پوسٹس) منظرعام پر آچکی ھیں – درمیان میں بعض ذاتی صدموں ( بھائی کی وفات ، لخت جگر علی کی آٹھویں برسی ) کی وجہ سے چند روز ناغہ کرنا پڑا –

اس داستان کا آغاز میں نے اپنی ابتدائی تعلیم اور بچپن کے مشاغل کے ذکر سے کیا – میں نے بتایا کہ مجھے سکول کی تعلیم سے ذرا بھی دلچسپی نہ تھی – چوتھی کلاس میں ماسٹرعبدالحکیم صاحب نے مار پیٹ کر مجھے پٹڑی پہ چڑھا دیا ، اور میں نالائقوں کی صف سے نکل کر لائق سٹوڈنٹس میں شامل ھو گیا – میٹرک تک تعلیم داؤدخٰیل میں مکمل کر نے کے بعد گارڈن کالج راولپنڈی میں داخلہ لیا – کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ٹیچر بنوں گا – مگر میرے رب نے میرے مستقبل کا راستہ متعین کردیا تھا – اپنی تمام تر کوتاھیوں کے باوجود میں ٹیچر ھی بنا -ی سکول سے ھؤا – تین چار سال بعد سنٹرل ٹریننگ کالج لاھور سے بی ایڈ کیا – چند ماہ مکڑوال سکول میں انگلش ٹیچر رھا ، پھر ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر تعینات ھؤآ — 11 سال بعد وھاں سے گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں انگلش کا لیکچرر بن کر نکلا ، پانچ سال بعد عیسی خیل سے گورنمنٹ کالج میانوالی آگیا – بیس سال بعد یہیں سے ریٹائر ھؤا
گورنمنٹ کالج میانوالی میں میرے قیام کا قصہ ابھی چل رھا ھے – درمیان میں میری شاعری کا ذکر آگیا – میری شاعری کا ٹیچر کی حیثیت میں میری کامیابی اور مقبولیت میں کو ئی دخل نہیں – شاعری میری شخصیت کا ایک الگ پہلو ھے – چونکہ بہت سے لوگ اس پہلو سے بھی دیچسپی رکھتے ھیں ، اس لیے اس کے بارے میں بھی قدرے تفصیل سے لکھنا پڑا- شاعری کے حوالے سے ایک دو مزید پوسٹس بنیں گی ، پھر یہ داستان گورنمنٹ کالج میانوالی واپس آجائے گی –

“میرا میانوالی“ کے عنوان سے اگلی پوسٹ انشآءاللہ 30 دسمبر کو لکھوں گا – کل ایک اور اھم موضوع پہ لکھنا ھے – تب تک کے لیے اجازت –
— رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 28 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

کچھ ایسے بھی اٹھ جائیں گے اس دنیا سے جن کو
تم ڈھونڈنے نکلو گے مگر پا نہ سکو گے

میانوالی کے ملک عنایت اللہ اعوان ایک ایسی ھی نایاب شخصیت تھے — سیاست ، صحافت ، تجارت اور معاشرت ، ھر راہ پر تابندہ نقش قدم آنے والوں کی رھنمائی کے لیے چھوڑ کر 29 دسمبر 2005 کو (آج کے دن) مالک حقیقی کے دربار میں حاضر ھو گئے -<>ملک صآحب پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی کارکنوں کی صف اول کے ورکر تھے- بھٹو صاحب جب میانوالئ آئے تھے تو ملک عنایت اللہ اعوان اس وقت میانوالی میں پیپلز یوتھ آرگنائیزیشن کے سربراہ تھے – بھٹو صاحب ان کا جوش و جذبہ دیکھ کر بہت متاثر ھوئے –

جنرل ضیآءالحق کے دور میں پیپلز پارٹی سے وفاداری کے جرم میں کوڑے بھی کھائے ، جیل میں بھی رھے – پارٹی کے کچھ مرکزی رھنماؤں کو میانوالی جیل منتقل کیا گیا ، تووہ جب تک یہاں جیل میں رھے ، ان کا کھانا ملک عنایت اللہ اعوان کے گھر سے جاتا رھا –

ملک صاحب بے لوث ورکر تھے – پیپلز پارٹی باربار اقتدار میں آتی رھی ، مگر ملک صاحب نے حکومت سے ایک پیسے کا مفاد بھی حاصل نہ کیا – کوئی ٹھیکہ ، پرمٹ ، ملازمت وغیرہ مانگنا گوارا نہ کیا – پارٹی سے کچھ لینے کی بجائے اپنی جیب سے پارٹی پر خرچ کرتے رھے – جب تک زندہ رھے ، پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رھے – کسی دوسر ی پارٹی میں شمولیت قبول نہ کی –

ملک صآحب بے حد مہمان نواز تھے، یہ کہنا غلط نہ ھوگا کہ انہوں نے اکیلے کھانا کبھی شاید ھی کھایا ھو – کسی نہ کسی دوست کو ساتھ لے آتے یا بلا لیتے تھے – گھر میں دوستوں اور رشتہ داروں کی دعوتیں کرنا ان کا محبوب عمل تھا –

زندگی بھر صؤم و صلوات کے پابند رھے – تہجد گذار بھی تھے – نماز ھمیشہ باجماعت ادا کرتے تھے – فجر کی نماز کمیٹی چوک کی مسجد میں ، عصر کی میاں فتح محمد کی مسجد میں ، اور بقیہ نمازیں موتی مسجد میں ادا کرتے تھے – رمضان المبارک میں موتی مسجد میں اعتکاف کرنے والوں کے لیے سحری اور افطاری بھی ملک صاحب ھی بھیجتے تھے –

مجھے ان کا رشتہ دار ھونے کا اعزاز بھی نصیب ھؤا ، میرے بیٹے پروفیسر امجد علی ملک کی اھلیہ ملک صاحب کی صآحبزادی ھیں –

ایسے نیک سیرت انسان دنیا میں بہت کم ھیں ، مگر اپنے اپنے مقررہ وقت پر ھر ایک کو جانا تو پڑتا ھے ——– رھے نام اللہ کا

بشکریہ-منورعلی ملک– 29 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

میری گیت نگاری کا تذکرہ چل رھا تھا – میرے تمام گیت ھجر، محرومی اور شکوے کے گیت ھیں – یہی ھمارے علاقے کا مزاج ھے — ایک اھم بات یہ کہ میرے گیتوں کا “ماھی“ صرف شاعروں کا روایتی محبوب نہیں – یہ ھمیشہ کےلیے بچھڑ جانے والا پیارا بیٹا ، بھائی ، باپ یا شوھر بھی ھو سکتا ھے –

ایک دفعہ لاھور میں لالا عیسی خیلوی کے والد محترم سے ملاقات ھوئی تو کہنے لگے “ بیٹا ، آپ کے گیت نے مجھے بہت رلایا – بہت ظالم گیت لکھا ھے آپ نے- “
میں نے کہا چچا جان ، کون سا گیت ، اور آپ وہ گیت سن کر روئے کس لیئے – ؟؟“چچا جی نے کہا “ وہ جو گیت ھے ‘ نت دل کوں آھدا ھاں کل ماھی آسی‘ – ھم عیسی خیل سے لاھور آرھے تھے تو اچانک عطا نے گاڑی میں یہ گیت لگا دیا ، اس کا پہلا بول (نت دل کوں آھدا ھاں کل ماھی آسی) سنتے ھی مجھے سیما بیٹی یاد آگئی – اور میں زارو قطار رونے لگا – اور لاھور تک یہی گیت باربار سن کر مسلسل روتا رھا “-

یہ قصہ سناتے ھوئے بھی چچا جی کی آنکھیں بھیگنے لگیں – ( سیما عطا کی بہن تھیں ، گردے کے مرض میں مبتلا ھو کرچل بسیں – چچا جی کو بے پناہ پیار تھا اس بیٹی سے )-

لالا نے بتایا کہ میں بھی یہ گیت ریکارڈ کراتے ھوئے بار بار رو پڑتا تھا – اس لیے باربار ریکارڈ کرنا پڑا –

میری شاعری ھر دکھی انسان سے ھم کلام ھوتی ھے – لالا کی آؤاز میں میرے تقریبا تیس پینتیس گیت منظرعام پر آئے ( صحیح تعداد معلوم نہیں ، کیونکہ میں نے اپنے لکھے ھوئے گیتوں کی کاپی کبھی اپنے پاس نہیں رکھی – جس کاغذ پہ لکھا وھی لالا کو دے دیا ) – کچھ گیت ایوب نیازی اور عطا محمد نیازی داؤدخیلوی نے بھی اپنے اپنے منفرد انداز میں گا کر بہت دادا پائی –
اپنے لکھے ھوئے گیتوں میں سے مجھے یہ دو گیت سب سے زیادہ پسند ھیں –
1) . ولدے پکھیاں آنڑں ڈسایا —– توں نئیں آیا
2) .نت دل کوں آھدا ھاں ——-
یہ دونوں گیت یو ٹیوب پہ دستیاب ھیں – ممکن ھو توسن لیں –
—- رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–30 دسمبر 2018

میرا میانوالی—————-

Image may contain: 1 person, sunglasses and closeup

میرے محسن ، میرے دوست ——– ڈاکٹر سلیم اختر
دسمبر بہت ستمگر مہینہ ھے – دیتا کچھ نہیں ، بہت کچھ لے جاتا ھے-

آج صبح اخبار نے خبر دی کہ ڈاکٹرسلیم اختر بھی سرحد حیات کے اس پار جا بسے – ڈاکٹر صاحب اردو ادب کا بہت بڑا نام تھے – ایک کامیاب استاد ، منفرد افسانہ نگار اور بلند پایہ نقاد تھے – 88 کتابیں لکھ کر ادب کو مالامال کر گئے – ان کی کتاب “اردوادب کی مختصرترین تاریخ “ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ھے- اس کتاب کے بے شمار ایڈیشن شائع ھوئے ، انڈیا سے بھی یہ کتاب متعدد بار شائع ھوئی -ڈاکٹر سلیم اختر میرے بہت مہربان دوست تھے – ان سے میرا تعارف تقریبا تیس سال قبل ڈاکٹر طاھر تونسوی نے کرایا تھا – میں نے اپنی کتاب “پس تحریر“ میں ان کا مفصل قلمی انٹرویو بھی شامل کیا تھا – ڈاکٹر صآحب احمد ندیم قاسمی صاحب کے ادبی گروپ کے پرجوش وکیل رھے – اس سلسلے میں بہت سی علمی اور قلمی لڑائیوں میں بھرپور حصہ لیتے رھے –
ڈاکٹرسلیم اختر اردوادب کے پروفیسر تھے – ملازمت کا آغاز گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے کیا – آٹھ سال بعد وھاں سے گورنمنٹ کالج لاھور آگئے – لاھور ھی کے رھنے والے تھے – بقیہ ملازمت بھی ، زندگی بھی یہیں بسرکی –

جب میری کتاب “پس تحریر“ شائع ھوئی تو ایک دن گورنمنٹ کالج لاھور جانا ھؤا – ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ملک صآحب ، ھمارے ھیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر سید معین الرحمن آپ کی کتاب سے بہت متاثر ھوئے – وہ آپ سے ملنا چاھتے تھے – اچھا ھؤا ، آپ آگئے – “
پھر ڈاکٹر صآحب نے مجھے ڈاکٹر سید معین الرحمن صاحب سے ملوایا – وہ بھی بہت شفیق بزرگ تھے-

ڈاکٹر سلیم اختر سے میرا آخری رابطہ دوسال پہلے ھؤا ، گورنمنٹ کالج برائے خواتین میانوالئ کی پروفیسر نصرت نیازی صآحبہ میرے بارے میں تحقیقی کتاب لکھ رھی تھیں – انہیں “پس تحریر “ کے بارے میں ڈاکٹرسلیم اختر کی رائے اپنی کتاب میں شامل کرنی تھی – میں نے ڈاکٹر صاحب سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے کہا “ میں فالج کی وجہ سے لکھنے سے معذور ھوں – آپ نصرت نیازی صآحبہ سے کہیں مجھ سے فون پر رابطہ کرلیں ، جو کچھ مجھے لکھنا ھے ، فون پر لکھوا دوں گا “-
ٹیلیفون پر لکھوائی ھوئی ڈاکٹر صاحب کی وہ رائے پروفیسر نصرت نیازی صاحبہ کی کتاب کی زینت ھے-
بہت سی خوبصورت باتیں اور یادیں چھوڑ کر ———–
اک آفتاب تھا جو تہہ خاک سو گیا
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 31 دسمبر 2018

——-نئے سال کے نام ———————–
زخم پچھلے برس کے کافی ھیں
اب نئی چیز لے کے آ اے دوست
بشکریہ-منورعلی ملک– 31 دسمبر 2018

Your words for Mianwali and Mianwalians