“Nanozai se Nanzai ka tareekhi safar”

“نانوزئی سے ننزائی کا تاریخی سفر”

جس طرح انسان جسمانی طور پر ارتقاء کی منازل طے کر رہا ہے اسی طرح انسان کے ساتھ وابستہ ہر چیز ارتقاء کا شکار ہے اور انسان کے بدلنے کے ساتھ متواتر بدل رہی ہے چاہے وہ شعور ہو، ثقافت یا مادی اشیاء۔
میرا اپنا تعلق ضلع میانوالی کے علاقہ کمرمشانی میں رہائش پذیر “ننزائی” قبیلہ سے ہے جو ضلع میانوالی میں بسنے والے اور قبائل کی طرح افغانستان سے ہجرت کر کے یہاں پہنچا۔ کمرمشانی میں آباد موجودہ ننزائی قبیلہ کا اصل نام ننوزائی ہے۔ افغانستان کے قندھار گزیٹیئر میں موجود تاریخی حوالہ جات کے مطابق ننوزائی قبیلہ کا تعلق توخیوں کی بڑی شاخ محمدزئی سے ہے اور یہ محمدزئی کی ذیلی شاخ ہے۔ تاریخ کے مطابق توخیوں کا جغرافیہ ترنک وادی، ارغنداب اور قلاتِ غلزئی کے گردونواح پر مشتمل ہے۔
پشتون قبائل کی تاریخ میں ہجرت ایک ایسا باب ہے جس کے بغیر پشتون معاشرہ کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں کیونکہ کئی سرحدوں کے پار صدیوں تک مختلف پشتون قبائل نقل مکانی کرتے رہے۔ انہی طویل تاریخی سفروں کی وجہ سے ضلع میانوالی میں آباد افغانستان سے آنے والے قبائل کی مکمل اور تحریری تاریخ ملنا ناممکن ہے لیکن مختلف علاقوں میں تاریخی شواہد کو دیکھ کر کڑیوں کو ملا کر ان قبائل کی تاریخ لکھی جا سکتی ہے۔
دستیاب شواہد اور حوالوں کے مطابق توخیوں کا علاقہ ترنک وادی سے لے کر چشماۓ پنجک، ارغنداب کے علاقے اور پلِ سنگ تک بیان کیا گیا ہے اور توخی غلزئیوں کی بڑی شاخوں میں محمدزئی، جلالزئی، بابکرزئی اور میرانزئی شامل تھے اور ان میں سے محمدزئی کا شمار سب سے بڑی شاخوں میں ہوتا تھا۔ اسی طرح محمدزئی کے اندر متعدد ذیلی شاخیں موجود تھیں جن میں آٹھویں نمبر پر نانوزئی کا نام موجود ہے۔
ترنک وادی اور قندھار کا خطہ افغانستان کی تاریخ میں محض ایک قبائلی علاقہ نہیں بلکہ مختلف تجارتی راستوں اور فوجی گزرگاہوں کا مرکز رہا ہے۔ قدیم زمانے میں قبائل کی نقل مکانی کچھ دنوں یا مہینوں میں نہیں ہوتی تھی بلکہ اس پر سالوں لگ جاتے کیونکہ قبائل ایک علاقہ سے ہجرت کر کے دوسرے علاقہ میں پہنچتے جہاں اُن کو آباد کاری میں کئی سال لگ جاتے لیکن پھر وہاں پر جب مختلف مسائل سامنے آتے تو یہ قبائل وہاں سے نقل مکانی کر کے آگے بڑھ جاتے۔ اس لیے کسی قبیلے کے افغانستان سے برصغیر کے کسی علاقہ تک پہنچنے کی داستان کو ایک سیدھی لکیر کے بجائے نسلوں پر پھیلے ہوئے سفر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ننوزائی قبیلہ بھی افغانستان کی مختلف وادیوں سے ہوتا ہوا موجودہ صوبہ خیبر پختونخوا میں دریائے سوات کے بائیں کنارے پر علاقہ ہشت نگر اور چارسدہ پہنچا۔ یہاں پر رہائش پذیر ہونے کے بعد اور زبان کی تبدیلی کی وجہ سے ننوزائی قبیلہ کا نام بدل کر نانزئی پڑ گیا اور وہاں پر اس قبیلہ کی موجودگی کے تاریخی ثبوت انگریز دور کی 1883 کی مردم شماری پر لکھی گئی مستند کتاب “پنجاب کاسٹس” میں موجود ہیں بلکہ اس علاقہ میں “نانزئی کنڈاؤ” کے نام سے ایک درہ ابھی تک موجود ہے۔
کئی قبائل نے افغانستان سے موجودہ خیبر پختونخوا کی طرف سفر کیا اور اس کیلئے کئی قدرتی راستے موجود تھے اور قندھار سے مشرق کی طرف غزنی، زابل اور پھر افغانستان کے مشرقی راستوں سے خیبر اور پشاور کی وادی تک پہنچنے والے راستے صدیوں سے استعمال ہوتے رہے اور پھر پشاور کی وادی سے آگے بنوں، کوہاٹ، کرک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور وہاں سے میانوالی کے سرحدی علاقہ کو جانے والے راستے بھی جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ خاص طور پر عیسیٰ خیل اور کمرمشانی اور گردونواح میں کئی پشتون خاندان مختلف ادوار میں آباد ہوئے اور مقامی آبادی کے ساتھ مل کر ایک نئی معاشرت تشکیل دی۔
ننوزائی قبیلہ کا کئی سالوں پر محیط افغانستان قندھار سے وادی سوات اور پھر سوات سے ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیرہ اسماعیل خان سے لکی مروت اور آخرکار اس سفر کا اختتام کمرمشانی کے علاقہ میں ہوا۔ اور اس علاقہ میں زبان کی مزید ارتقائی تبدیلی کی وجہ سے اس قبیلہ کا نام ایک مرتبہ پھر بدل کر ننزائی پڑ گیا اور یہاں کی نئی معاشرت کی وجہ سے ہم لوگوں نے بھی نہ صرف بولی جانے والی اپنی مادری زبان چھوڑ دی بلکہ ثقافتی طور پر بھی اس نئی معاشرت میں رنگ گئے۔
لیکن اس سفر کا اختتام ابھی نہیں ہوا بلکہ اس قبیلہ کی نئی نسل اب پڑھ لکھ کر نہ صرف نئے ستاروں کی تلاش میں آگے بڑھ رہی ہے بلکہ ان ستاروں پر کمند ڈالنے کیلئے بھی تیار ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ افغانستان سے شروع ہونے والا یہ سفر مثبت انداز میں آگے جاری رہے گا۔
میری یہ دعا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قبیلہ کے نوجوانوں کو ترقی کی مزید منزلیں طے کرنے کی ہمت عطاء فرمائے ۔۔(آمین)

ASMAT ULLAH KHAN NIAZI
HAQ SACH KI AAWAZ MIANWALI MEDIA LEGENDS & JOURNALISTS

ASMAT ULLAH KHAN NIAZI – JOURNALIST, TOURIST REPORTER & TRAVEL WRITER FROM MIANWALI

Asmat Ullah Khan Niazi is a seasoned journalist-tourist reporter with a passion for exploring the Pakistan, exclusively Mianwali and sharing...
Read More
kya patang baazi aik jurm hai
HAQ SACH KI AAWAZ

KYA PATANG BAAZI AIK JURM HAI

"کیا پتنگ بازی ایک جُرم ہے " تحریر: عصمت اللہ نیازی پتنگ بازی انسانی تفریح کا ایک ذریعہ ہے جو...
Read More
POLICE MEIN IKHLAQIAAT KI KAMI YA MAHOL KA ASSAR
HAQ SACH KI AAWAZ

POLICE MEIN IKHLAQIAAT KI KAMI YA MAHOL KA ASSAR

"پولیس میں اخلاقیات کی کمی یا ماحول کا اثر" ہمارا ایک کالج دور کا کلاس فیلو مطیع اللہ خان ہے۔...
Read More
MIANWALI DOBARAH DOUR JAHALAT MEIN
HAQ SACH KI AAWAZ

MIANWALI DOBARAH DOUR JAHALAT MEIN

میانوالی دوبارہ دورِ جہالت میں-عصمت اللہ نیازی قتل غارت اس وقت ریاستِ پاکستان کیلئے ایک ایسا ناسور بن چکا ہے...
Read More
GIRAN FAROSHI KE ASAL ASBAAB
HAQ SACH KI AAWAZ

GIRAN FAROSHI KE ASAL ASBAAB

گراں فروشی کے اصل اسباب ماہ رمضان کے آتے ہی جہاں غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک میں بھی اشیاء ضروریہ...
Read More
SIYASAT DAANO KE SATH SIYASAT
HAQ SACH KI AAWAZ

SIYASAT DAANO KE SATH SIYASAT

سیاست دانوں کے ساتھ سیاست ایک زمانہ تھا جب الیکشن سے چند دن قبل سیاست دان کسی بھی قوم یا...
Read More
TALEEMI IDARON KE GATE PAR LAGEY TAALEY
HAQ SACH KI AAWAZ

TALEEMI IDARON KE GATE PAR LAGEY TAALEY

تعلیمی اداروں کے گیٹ پر لگے تالے جب ہم پرائمری سکول میں پڑھتے تھے تو اُس وقت سرکاری پرائمری سکولوں...
Read More
USAATZAA KARAAM, KHUDAARAA QOUM KE BACHON PAR REHAM KAREN
HAQ SACH KI AAWAZ

USAATZAA KARAAM, KHUDAARAA QOUM KE BACHON PAR REHAM KAREN

"اساتذہ کرام ،خدارا قوم کے بچوں پر رحم کریں" پروفیسر اشفاق احمد مرحوم ایک جگہ پر لکھتے ہیں کہ ایک...
Read More
SANEHA KALABAGH
HAQ SACH KI AAWAZ

SANEHA KALABAGH

سانحہ کالاباغ - تحریر-  عصمت اللہ نیازی کالاباغ دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ایک خوبصورت شہر ہے اگر اس شہر...
Read More
ZAN MUREEDI AUR INSANI TAREEKH
HAQ SACH KI AAWAZ

ZAN MUREEDI AUR INSANI TAREEKH

"زن مریدی "اور انسانی تاریخ    -  عصمت اللہ نیازی انسانی تاریخ میں لفظ زن کو بے حد اہمیت حاصل...
Read More
HIJRAAN ALA PUTTAR
HAQ SACH KI AAWAZ

HIJRAAN ALA PUTTAR

ہیجڑاں آلا پُتر        -      عصمت اللہ نیازی کہتے ہیں کہ کسی ہیجڑوں (کھسروں) کی بستی میں...
Read More
MUASHRAY MEIN JINSI TAFREEQ
HAQ SACH KI AAWAZ

MUASHRAY MEIN JINSI TAFREEQ

     معاشرے میں جنسی تفریق    -عصمت اللہ نیازی آج سے تقریباً 10 سے 12 ہزار سال قبل انسان...
Read More
TEHSEEL EESA KHAIL KO KHYBER PAKHTUNKHWA MEIN SHAAMIL KYA JAYE
HAQ SACH KI AAWAZ

TEHSEEL EESA KHAIL KO KHYBER PAKHTUNKHWA MEIN SHAAMIL KYA JAYE

تحصیل عیسیٰ خیل کو خیبرپختونخوا میں شامل کیا جائے خیبرپختونخوہ کا پرانا نام نارتھ ویسٹ فرنٹیئر صوبہ تھا اور اس...
Read More
BA KIRDAR AUR BAD KIRDAR
HAQ SACH KI AAWAZ

BA KIRDAR AUR BAD KIRDAR

"باکردار اور بدکردار" ہمارا عجیب مسئلہ ہے کہ ہم اعلیٰ ترین مذہبی اقدار کے باجود باکردار اور بدکردار کی تعریف...
Read More
ZILA MIANWALI MEIN SIYASI SORAT E HAAL
HAQ SACH KI AAWAZ

ZILA MIANWALI MEIN SIYASI SORAT E HAAL

ضلع میانوالی میں سیاسی صورتحال گذشتہ ایک سال کی غیر یقینی صورتحال کے بادل چھٹتے دکھائی دینا شروع ہو گئے...
Read More
BARA AUR CHHOTA GOSHT
HAQ SACH KI AAWAZ

BARA AUR CHHOTA GOSHT

"بڑا اور چھوٹا گوشت"---تحریر: عصمت الله نیازی میرے کئی بہت قریبی دوست بکرا کھانے کے جنون کی حد تک شوقین...
Read More
KYA SINDH TAAS MOAHIDA KHATRAY MEIN HAI
HAQ SACH KI AAWAZ

KYA SINDH TAAS MOAHIDA KHATRAY MEIN HAI

"کیا سندھ طاس معاہدہ خطرے میں ہے" عصمت الله نیازی پانی قدرت کی ایک ایسی نعمت ہے جو کہ انسان...
Read More
CHAUDHRI KI ADALT OR WACHER
HAQ SACH KI AAWAZ

CHAUDHRI KI ADALT OR WACHER

"چوہدری کی عدالت اور وچھیرا" پُرانے وقتوں کی بات ہے کہ کہیں دُور پہاڑوں کے دامن میں کُھڈاں والا کے...
Read More
DANDA PEER AUR HAMARI NAF­SIYAT
HAQ SACH KI AAWAZ

DANDA PEER AUR HAMARI NAF­SIYAT

"ڈنڈا پیر اور ہماری نفسیات" تحریر: عصمت اللہ نیازی گذشتہ دنوں پنجاب کے وزیرِ تعلیم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا...
Read More
PUNJAB KI TRIFIC MAHUM, ASILAH YAA ANTAQAM ?
HAQ SACH KI AAWAZ

PUNJAB KI TRIFIC MAHUM, ASILAH YAA ANTAQAM ?

"پنجاب کی ٹریفک مہم، اصلاح یا انتقام؟ تحریر: عصمت اللہ نیازی وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے احکامات کے بعد...
Read More
MOTR VIHKAL AARDINANS 2025, CHAND TALKH HAQAIQ
HAQ SACH KI AAWAZ

MOTR VIHKAL AARDINANS 2025, CHAND TALKH HAQAIQ

"موٹر وہیکل آرڈیننس 2025، چند تلخ حقائق" تحریر: عصمت اللہ نیازی اپنے گزشتہ کالم مِیں میں نے صوبائی حکومت کے...
Read More
KIYA HAM SILE HEN YAA SHEHRI
HAQ SACH KI AAWAZ

KIYA HAM SILE HEN YAA SHEHRI

"کیا ہم سائل ہیں یا شہری" تحریر: عصمت الله نیازی کل مجھے ایک سرکاری دفتر جانے کا اتفاق ہوا تو...
Read More
MAUSMIATI TABDEELI AUR SARDIYON KI CHUTTIYAN
HAQ SACH KI AAWAZ

MAUSMIATI TABDEELI AUR SARDIYON KI CHUTTIYAN

"موسمیاتی تبدیلی اور سردیوں کی چھٹیاں" تحریر: عصمت الله نیازی پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے براہِ راست اثرات کی...
Read More
GAZA PEACE BOARD KYA AMAN KI EK NAYI KOSHISH HO SAKTI HAI
HAQ SACH KI AAWAZ

GAZA PEACE BOARD KYA AMAN KI EK NAYI KOSHISH HO SAKTI HAI

"غزہ پیس بورڈ کیا امن کی ایک نئی کوشش ہو سکتی ہے" تحریر: عصمت الله نیازی کچھ عرصہ سے دنیا...
Read More
INSAAN KI KHUD-SAAKHTA AKHLAQIYAAT
HAQ SACH KI AAWAZ

INSAAN KI KHUD-SAAKHTA AKHLAQIYAAT

    "انسان کی خودساختہ اخلاقیات" تحریر: عصمت الله نیازی چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس...
Read More
JHOOTI KI PEHLI CLASS
HAQ SACH KI AAWAZ

JHOOTI KI PEHLI CLASS

  "جھوٹ کی پہلی کلاس"-تحریر: عصمت الله نیازی ہمارے معاشرہ میں ایک مشہور لطیفہ سنایا جاتا ہے کہ ایک شخص...
Read More
“Naye dakhilon ka dabao ya taleemi tamasha?”
HAQ SACH KI AAWAZ

“Naye dakhilon ka dabao ya taleemi tamasha?”

"نئے داخلوں کا دباؤ  یا تعلیمی تماشہ؟   تحریر: عصمت اللہ نیازی پاکستان میں ترقی کا ایک منفرد ماڈل رائج ہے۔...
Read More
“Municipal Committee Kamar Mashani: Karoron Rupay Ki Sarkari Amlak Aur Ehtesaab Ka Sawal”
HAQ SACH KI AAWAZ

“Municipal Committee Kamar Mashani: Karoron Rupay Ki Sarkari Amlak Aur Ehtesaab Ka Sawal”

"میونسپل کمیٹی کمرمشانی، کروڑوں روپے کی سرکاری املاک اور احتساب کا سوال" کسی بھی شہر کی ترقی کا انحصار اس...
Read More
“Nanozai se Nanzai ka tareekhi safar”
HAQ SACH KI AAWAZ

“Nanozai se Nanzai ka tareekhi safar”

"نانوزئی سے ننزائی کا تاریخی سفر" جس طرح انسان جسمانی طور پر ارتقاء کی منازل طے کر رہا ہے اسی...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top