“Municipal Committee Kamar Mashani: Karoron Rupay Ki Sarkari Amlak Aur Ehtesaab Ka Sawal”

“میونسپل کمیٹی کمرمشانی، کروڑوں روپے کی سرکاری املاک اور احتساب کا سوال”

کسی بھی شہر کی ترقی کا انحصار اس کے مقامی اداروں کی دیانت داری، شفافیت اور وسائل کے درست استعمال پر ہوتا ہے۔ اگر مقامی حکومتیں اپنی آمدن ایمانداری سے عوام پر خرچ کریں تو محدود وسائل کے باوجود شہروں کی شکل بدل سکتی ہے لیکن جب سرکاری املاک اور وسائل کے انتظام پر سوالات اٹھنے لگیں تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے۔

میونسپل کمیٹی کمرمشانی اس کی ایک اہم مثال ہے۔ شہر کے مرکزی اڈے اور مین روڈ پر واقع تقریباً 190 دکانیں میونسپل کمیٹی کی ملکیت ہیں۔ ان کی تجارتی اہمیت کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آمدن کے لحاظ سے یہ پنجاب کی نسبتاً خوشحال میونسپل کمیٹیوں میں شمار ہو سکتی ہے۔ ان دکانوں سے ہر ماہ لاکھوں روپے کرایہ وصول ہونا چاہیے مگر عوامی حلقوں میں عرصہ دراز سے اس آمدن اور سرکاری املاک کے انتظام کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

حال ہی میں تھانہ کمرمشانی کی نئی عمارت کے سامنے میونسپل کمیٹی کی اراضی پر قائم تقریباً بیس عارضی دکانیں ہٹائی گئیں لیکن اگلے ہی روز وہ دوبارہ قائم ہو گئیں۔ مقامی سطح پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان افراد سے فی دکان پانچ ہزار روپے ماہانہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایک مقامی سبزی فروش ان دکانوں سے ہر ماہ تقریباً ایک لاکھ روپے کرایہ وصول کر رہا ہے اور آگے میونسپل کمیٹی کے کسی اہلکار کے سپرد کرتا ہے یا اپنی جیب میں ڈالتا ہے یا پھر میونسپل کمیٹی کا اہلکار آگے قومی خزانے میں جمع کراتا ہے؟ اس سے آگے راوی خاموش ہے۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہو رہی ہے؟ کیا اس کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود ہے؟ یا یہ معاملہ مکمل طور پر غیر رسمی انداز میں چل رہا ہے؟ ان سوالات کا جواب صرف شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہی دے سکتی ہیں۔ دوسرا اور اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ میونسپل کمیٹی کی مستقل دکانوں کا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد ایسے افراد کے نام پر الاٹ ہے جنہوں نے بعد ازاں انہیں دوسرے افراد کو زیادہ کرائے پر دے رکھا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف سرکاری وسائل کے غلط استعمال کا معاملہ بنتا ہے بلکہ The Punjab Management and Transfer of Municipal Properties Act, 2020 کی دفعہ 6 کی بھی خلاف ورزی ہے جس کے مطابق میونسپل کمیٹی کی جائیداد کو متعلقہ اتھارٹی کی اجازت کے بغیر آگے کرایہ پر دینا (Subletting) ممنوع ہے اور ایسی صورت میں لیز یا کرایہ داری منسوخ کی جا سکتی ہے۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی الاٹی میونسپل کمیٹی کو دس ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کر رہا ہو لیکن وہی دکان آگے تیس ہزار روپے ماہانہ پر دے رکھی ہو تو اس فرق سے اصل نقصان سرکاری خزانے اور بالآخر عوام کو پہنچتا ہے۔ اگر یہ طرزِ عمل کئی برسوں سے جاری ہے تو مجموعی مالی نقصان کروڑوں روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کمرمشانی حکومت کو مختلف مدات میں قابلِ ذکر ریونیو فراہم کرتا ہے لیکن اس کے باوجود شہری آج بھی پینے کے صاف پانی، نکاسی آب، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اگر میونسپل کمیٹی کی آمدن مکمل شفافیت کے ساتھ شہری فلاح پر خرچ کی جاتی تو آج کمرمشانی کی صورتحال یقیناً مختلف ہوتی۔ چند برس قبل اس وقت کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر اور اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر تحصیل عیسیٰ خیل چوہدری جعفر نے مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے کارروائی کا آغاز کیا تھا مگر ان کے تبادلوں کے بعد یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔

اب ضلع میانوالی کے نئے ڈپٹی کمشنر شاہد عباس کاٹھیہ اور اسسٹنٹ کمشنر تحصیل عیسیٰ خیل خلیل احمد سے عوام کو توقعات وابستہ ہیں۔ اگر واقعی میونسپل کمیٹی کی املاک کے انتظام میں بے ضابطگیاں موجود ہیں تو ان کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ دار عناصر قانون کے مطابق جواب دہ ہوں۔ اسی طرح اگر ضرورت محسوس ہو تو اس معاملے کی تحقیقات ضلع میانوالی کے ہر دل عزیز آفیسر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ناصر عزیز خان کے سپرد کی جا سکتی ہیں جو کہ پروفیشنل اور میرٹ پر انکوائری کرنے کے ماہر ہیں تاکہ تمام ریکارڈ، لیز معاہدوں، کرایہ داری اور سرکاری وصولیوں کا جامع آڈٹ کیا جا سکے۔ احتساب کا مقصد کسی فرد یا گروہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ عوامی وسائل کا تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

کمرمشانی کے شہریوں کا حق ہے کہ ان کے شہر کی سرکاری املاک سے حاصل ہونے والی آمدن انہی کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو۔ شفافیت، احتساب اور قانون پر عمل درآمد ہی وہ راستہ ہے جو اس شہر کو اس کا حقیقی حق دلا سکتا ہے۔

ASMAT ULLAH KHAN NIAZI
HAQ SACH KI AAWAZ MIANWALI MEDIA LEGENDS & JOURNALISTS

ASMAT ULLAH KHAN NIAZI – JOURNALIST, TOURIST REPORTER & TRAVEL WRITER FROM MIANWALI

Asmat Ullah Khan Niazi is a seasoned journalist-tourist reporter with a passion for exploring the Pakistan, exclusively Mianwali and sharing...
Read More
kya patang baazi aik jurm hai
HAQ SACH KI AAWAZ

KYA PATANG BAAZI AIK JURM HAI

"کیا پتنگ بازی ایک جُرم ہے " تحریر: عصمت اللہ نیازی پتنگ بازی انسانی تفریح کا ایک ذریعہ ہے جو...
Read More
POLICE MEIN IKHLAQIAAT KI KAMI YA MAHOL KA ASSAR
HAQ SACH KI AAWAZ

POLICE MEIN IKHLAQIAAT KI KAMI YA MAHOL KA ASSAR

"پولیس میں اخلاقیات کی کمی یا ماحول کا اثر" ہمارا ایک کالج دور کا کلاس فیلو مطیع اللہ خان ہے۔...
Read More
MIANWALI DOBARAH DOUR JAHALAT MEIN
HAQ SACH KI AAWAZ

MIANWALI DOBARAH DOUR JAHALAT MEIN

میانوالی دوبارہ دورِ جہالت میں-عصمت اللہ نیازی قتل غارت اس وقت ریاستِ پاکستان کیلئے ایک ایسا ناسور بن چکا ہے...
Read More
GIRAN FAROSHI KE ASAL ASBAAB
HAQ SACH KI AAWAZ

GIRAN FAROSHI KE ASAL ASBAAB

گراں فروشی کے اصل اسباب ماہ رمضان کے آتے ہی جہاں غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک میں بھی اشیاء ضروریہ...
Read More
SIYASAT DAANO KE SATH SIYASAT
HAQ SACH KI AAWAZ

SIYASAT DAANO KE SATH SIYASAT

سیاست دانوں کے ساتھ سیاست ایک زمانہ تھا جب الیکشن سے چند دن قبل سیاست دان کسی بھی قوم یا...
Read More
TALEEMI IDARON KE GATE PAR LAGEY TAALEY
HAQ SACH KI AAWAZ

TALEEMI IDARON KE GATE PAR LAGEY TAALEY

تعلیمی اداروں کے گیٹ پر لگے تالے جب ہم پرائمری سکول میں پڑھتے تھے تو اُس وقت سرکاری پرائمری سکولوں...
Read More
USAATZAA KARAAM, KHUDAARAA QOUM KE BACHON PAR REHAM KAREN
HAQ SACH KI AAWAZ

USAATZAA KARAAM, KHUDAARAA QOUM KE BACHON PAR REHAM KAREN

"اساتذہ کرام ،خدارا قوم کے بچوں پر رحم کریں" پروفیسر اشفاق احمد مرحوم ایک جگہ پر لکھتے ہیں کہ ایک...
Read More
SANEHA KALABAGH
HAQ SACH KI AAWAZ

SANEHA KALABAGH

سانحہ کالاباغ - تحریر-  عصمت اللہ نیازی کالاباغ دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ایک خوبصورت شہر ہے اگر اس شہر...
Read More
ZAN MUREEDI AUR INSANI TAREEKH
HAQ SACH KI AAWAZ

ZAN MUREEDI AUR INSANI TAREEKH

"زن مریدی "اور انسانی تاریخ    -  عصمت اللہ نیازی انسانی تاریخ میں لفظ زن کو بے حد اہمیت حاصل...
Read More
HIJRAAN ALA PUTTAR
HAQ SACH KI AAWAZ

HIJRAAN ALA PUTTAR

ہیجڑاں آلا پُتر        -      عصمت اللہ نیازی کہتے ہیں کہ کسی ہیجڑوں (کھسروں) کی بستی میں...
Read More
MUASHRAY MEIN JINSI TAFREEQ
HAQ SACH KI AAWAZ

MUASHRAY MEIN JINSI TAFREEQ

     معاشرے میں جنسی تفریق    -عصمت اللہ نیازی آج سے تقریباً 10 سے 12 ہزار سال قبل انسان...
Read More
TEHSEEL EESA KHAIL KO KHYBER PAKHTUNKHWA MEIN SHAAMIL KYA JAYE
HAQ SACH KI AAWAZ

TEHSEEL EESA KHAIL KO KHYBER PAKHTUNKHWA MEIN SHAAMIL KYA JAYE

تحصیل عیسیٰ خیل کو خیبرپختونخوا میں شامل کیا جائے خیبرپختونخوہ کا پرانا نام نارتھ ویسٹ فرنٹیئر صوبہ تھا اور اس...
Read More
BA KIRDAR AUR BAD KIRDAR
HAQ SACH KI AAWAZ

BA KIRDAR AUR BAD KIRDAR

"باکردار اور بدکردار" ہمارا عجیب مسئلہ ہے کہ ہم اعلیٰ ترین مذہبی اقدار کے باجود باکردار اور بدکردار کی تعریف...
Read More
ZILA MIANWALI MEIN SIYASI SORAT E HAAL
HAQ SACH KI AAWAZ

ZILA MIANWALI MEIN SIYASI SORAT E HAAL

ضلع میانوالی میں سیاسی صورتحال گذشتہ ایک سال کی غیر یقینی صورتحال کے بادل چھٹتے دکھائی دینا شروع ہو گئے...
Read More
BARA AUR CHHOTA GOSHT
HAQ SACH KI AAWAZ

BARA AUR CHHOTA GOSHT

"بڑا اور چھوٹا گوشت"---تحریر: عصمت الله نیازی میرے کئی بہت قریبی دوست بکرا کھانے کے جنون کی حد تک شوقین...
Read More
KYA SINDH TAAS MOAHIDA KHATRAY MEIN HAI
HAQ SACH KI AAWAZ

KYA SINDH TAAS MOAHIDA KHATRAY MEIN HAI

"کیا سندھ طاس معاہدہ خطرے میں ہے" عصمت الله نیازی پانی قدرت کی ایک ایسی نعمت ہے جو کہ انسان...
Read More
CHAUDHRI KI ADALT OR WACHER
HAQ SACH KI AAWAZ

CHAUDHRI KI ADALT OR WACHER

"چوہدری کی عدالت اور وچھیرا" پُرانے وقتوں کی بات ہے کہ کہیں دُور پہاڑوں کے دامن میں کُھڈاں والا کے...
Read More
DANDA PEER AUR HAMARI NAF­SIYAT
HAQ SACH KI AAWAZ

DANDA PEER AUR HAMARI NAF­SIYAT

"ڈنڈا پیر اور ہماری نفسیات" تحریر: عصمت اللہ نیازی گذشتہ دنوں پنجاب کے وزیرِ تعلیم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا...
Read More
PUNJAB KI TRIFIC MAHUM, ASILAH YAA ANTAQAM ?
HAQ SACH KI AAWAZ

PUNJAB KI TRIFIC MAHUM, ASILAH YAA ANTAQAM ?

"پنجاب کی ٹریفک مہم، اصلاح یا انتقام؟ تحریر: عصمت اللہ نیازی وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے احکامات کے بعد...
Read More
MOTR VIHKAL AARDINANS 2025, CHAND TALKH HAQAIQ
HAQ SACH KI AAWAZ

MOTR VIHKAL AARDINANS 2025, CHAND TALKH HAQAIQ

"موٹر وہیکل آرڈیننس 2025، چند تلخ حقائق" تحریر: عصمت اللہ نیازی اپنے گزشتہ کالم مِیں میں نے صوبائی حکومت کے...
Read More
KIYA HAM SILE HEN YAA SHEHRI
HAQ SACH KI AAWAZ

KIYA HAM SILE HEN YAA SHEHRI

"کیا ہم سائل ہیں یا شہری" تحریر: عصمت الله نیازی کل مجھے ایک سرکاری دفتر جانے کا اتفاق ہوا تو...
Read More
MAUSMIATI TABDEELI AUR SARDIYON KI CHUTTIYAN
HAQ SACH KI AAWAZ

MAUSMIATI TABDEELI AUR SARDIYON KI CHUTTIYAN

"موسمیاتی تبدیلی اور سردیوں کی چھٹیاں" تحریر: عصمت الله نیازی پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے براہِ راست اثرات کی...
Read More
GAZA PEACE BOARD KYA AMAN KI EK NAYI KOSHISH HO SAKTI HAI
HAQ SACH KI AAWAZ

GAZA PEACE BOARD KYA AMAN KI EK NAYI KOSHISH HO SAKTI HAI

"غزہ پیس بورڈ کیا امن کی ایک نئی کوشش ہو سکتی ہے" تحریر: عصمت الله نیازی کچھ عرصہ سے دنیا...
Read More
INSAAN KI KHUD-SAAKHTA AKHLAQIYAAT
HAQ SACH KI AAWAZ

INSAAN KI KHUD-SAAKHTA AKHLAQIYAAT

    "انسان کی خودساختہ اخلاقیات" تحریر: عصمت الله نیازی چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس...
Read More
JHOOTI KI PEHLI CLASS
HAQ SACH KI AAWAZ

JHOOTI KI PEHLI CLASS

  "جھوٹ کی پہلی کلاس"-تحریر: عصمت الله نیازی ہمارے معاشرہ میں ایک مشہور لطیفہ سنایا جاتا ہے کہ ایک شخص...
Read More
“Naye dakhilon ka dabao ya taleemi tamasha?”
HAQ SACH KI AAWAZ

“Naye dakhilon ka dabao ya taleemi tamasha?”

"نئے داخلوں کا دباؤ  یا تعلیمی تماشہ؟   تحریر: عصمت اللہ نیازی پاکستان میں ترقی کا ایک منفرد ماڈل رائج ہے۔...
Read More
“Municipal Committee Kamar Mashani: Karoron Rupay Ki Sarkari Amlak Aur Ehtesaab Ka Sawal”
HAQ SACH KI AAWAZ

“Municipal Committee Kamar Mashani: Karoron Rupay Ki Sarkari Amlak Aur Ehtesaab Ka Sawal”

"میونسپل کمیٹی کمرمشانی، کروڑوں روپے کی سرکاری املاک اور احتساب کا سوال" کسی بھی شہر کی ترقی کا انحصار اس...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top