MERA MIANWALI-NOVEMBER 2022

منورعلی ملک کےنومبر  2022 کےفیس بک  پرخطوط

میرا میانوالی-

میرا میانوالی ————-
ماضی کی بکھری ہوئی کرچیاں چُن کر کاغذ یا فیس بُک کے صفحے پر سجانے کا ایک اپنا لُطف ہے – بچھڑے ہوئے لوگوں اور بھُولی بسری خوبصورت روایات سے یہ ملاقاتیں انسان کے دل و دماغ کو ری چارج کرتی ہیں – کسی اور کو ان باتوں سے دلچسپی ہو نہ ہو ، اپنا دل تو بہل جاتا ہے –
آج ذکر ہے اُس خالص ، لذیذ دیسی گھی کا , جو اب قسمت ہی سے ملتا ہے –
1975 میں جب میرا تقرر گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں ہوا ، اُس وقت تک ہمارے گھر میں ڈالڈا یا کسی اور بناسپتی گھی کا ایک چمچ بھی کبھی استعمال نہ ہوا – کیمیائی اثرات سے پاک صاف خالص دیسی گھی استعمال ہوتا تھا –
ہمارے بچپن کے دور میں تو گھر میں ایک گائے ایک بھینس ہمیشہ رہی – اس لیئے گھی گھر ہی میں بنتا تھا – روزانہ بننے والے مکھن کو اکٹھا کرتے رہتے تھے – ہفتہ دس دن بعد اسے پگھلا کر گھی بنالیتے تھے – اس عمل میں مکھن سے لسی کو الگ کرنے کے لیئے اُس میں تھوڑا سا آٹا اور گُڑ بھی ملادیتے تھے – مکھن پگھل کر گھی بن جاتا اور لسی آٹے اور گُڑ کا مکسچر ایک بہت لذیذ حلوہ سا بن جاتا تھا جسے وِسَننڑں کہتے تھے –
ذائقے میں گائے کا گھی بے حد لذیذ ہوتا تھا – گائے کے گھی اور سُرخ پشاوری شکر کی چُوری میرا پسندیدہ دوپہر کا کھانا ہوا کرتا تھا – یہ چیزیں اب بھی دستیاب ہیں لیکن کیمیائی کھادوں کے بے تحاشا استعمال نے ان کا ذائقہ بھی بدل دیا ہے اثرات بھی – چارے کے ذریعے یہ کیمییائی اجزاء مویشیوں کی خوراک بن کر دُودھ مکھن گھی سب چیزوں کے ذائقے کا ستیاناس کر دیتے ہیں –
1975 میں جب ہم عیسی خیل میں مقیم ہوئے تو وہاں خالص گھی تو دستیاب نہ تھا ، البتہ butter oil نام سے ترکی اور سپین وغیرہ میں بنا ہوا مکھن کا تیل ڈبوں میں بند ملتا تھا – اس کا ذائقہ تو خالص گھی والا تھا ، مگر چکنائی کم تھی – کچھ عرصہ بعد یہ سہولت بھی ختم ہوگئی اور ہم مجبورا بناسپتی گھی استعمال کرنے لگے – آج کل گھر میں ڈالڈا یا پلانٹا کوکنگ آئیل چل رہا ہے – تاہم تبرک کے طور پر کہیں نہ کہیں سے تھوڑا بہت دیسی گھی بھی منگوا کر گھر میں رکھ لیتے ہیں –
———————– رہے نام اللہ کا —————————– منورعلی ملک ——  –١نومبر  2022

میرا میانوالی-

میرا میانوالی ——————–
سریندر کور اور پرکاش کور نامی دو سِکھ خواتین کی آواز میں ایک پنجابی گیت بہت مشہور مقبول ہوا – گیت کا ابتدائی بول تھا
باجر ے دا سِٹا اساں تَلی تے مروڑیا
بچپن میں یہ عیاشی ہم بھی بہت کرتے رہے – باجرے کا سِٹا تلی تے مروڑ کے کچا باجرا کھانے کا ایک اپنا لُطف ہے –
ہمارے گھر کے سامنے سڑک تک دس کنال کا ایک پلاٹ ہوا کرتا تھا – یہ پلاٹ ہمارے دادا جان کی ملکیت تھا – ہم اس پلاٹ کو بھورا کہتے تھے – اس میں ہمارے محلے دار چاچا بشیرن ( بشیر احمد) باجوہ ہر سال نصف بٹائی پر باجرا کاشت کرتے تھے – کچے سٹے توڑنے پر چاچا بشیرن نے سخت پابندی لگا رکھی تھی – پھر بھی ہم چوری چھپے دو چار سٹے توڑ لیتے تھے –
باجرا بڑی صابر شاکر فصل ہے – اس کو آبپاشی کی ضرورت بہت کم ہوتی ہے –
باجرے کی روٹی کو پیاچہ کہتے تھے – اس پہ جتنا بھی گھی ڈالو جذب کر لیتا ہے – پیاچہ اور نمکین لسی لوگوں کا پسندیدہ دوپہر کا کھانا ہوا کرتا تھا —خالص گھی اور سُرخ پشاوری شکر ملا کر بنائی ہوئی باجرے کی چُوری اللہ تعالی کی عجیب نعمت ہے – کھانے سے جی ہی نہیں بھرتا – دانگی (بھٹی) پر بُھنے ہوئے باجرے کے دانے ننھے مُنے پاپ کارن ہوتے ہیں – مکئی کے پاپ کارن سے یہ زیادہ نرم اور لذیذ ہوتے ہیں – باجرا پانی میں اُبال کر بھی کھایا جاتا تھا – اسے بھنگُور کہتے تھے –
باجرا بٹیروں ، چڑیوں اور دُوسرے چھوٹے پرندوں کی بھی پسندیدہ خوراک ہے – اس موسم میں بٹیر رُوس سے سینکڑوں میل کا سفر طے کرکے ہمارے علاقے میں باجرے کی فصل پر یلغار کرتے اور اکثر شکاریوں کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتے تھے – چڑیوں کے ساتھ کاشتکاروں کی آنکھ مچولی دن بھر چلتی رہتی تھی- سینکڑوں چڑیوں کے جھار فصل پر حملہ آور ہوتے تھے – ایک طرف سے اُڑاتے تو دوسری طرف سے لُوٹ مار شروع کر دیتے تھے –
گُذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ
اب تو باجرا بٹیر باز لوگ ہی بازار سے خریدتے ہیں – کُچھ لوگ گھر میں بھی پرندوں کی خدمت کے لیئے رکھ کر ثواب کماتے ہیں – چڑیوں کے لیئے ہم بھی مٹی کی پلیٹوں میں باجرے کے دانے چھت پر رکھ دیتے ہیں – دن بھر خُوب رونق لگی رہتی ہے –
—————– رہے نام اللہ کا ———————— منورعلی ملک ——٢ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

میرا میانوالی ——————
جُوار کو باجرے کی بہن کہہ سکتے ہیں – یہ فصل بھی باجرے کے موسم کی پیداوار ہے – اس کا پودا بالکل باجرے جیسا ، مگر پودے کا قد ذرا چھوٹا اور پتے زیادہ چوڑے ہوتے ہیں – دانہ باجرے کا ہم شکل مگر ذرا موٹا اور سفید رنگ کا ہوتا ہے – اس کا ذائقہ ذرا سا کڑوا ہوتا ہے اس لیئے جوار کےے دانے کھائے نہیں جا سکتے – ہم نے ایک آدھ دفعہ جوار کے آٹے کی روٹی کھائی تھی – مکئی کی روٹی کی طرح سخت اور خُشک تھی –
جوار زیادہ تر چارے کے طور پر کاشت کی جاتی ہے – البتہ اس کے پودے کا تنا گنے کی طرح میٹھا ہوتا ہے ، اسے ٹانڈا کہتے ہیں – میٹھا ہونے کی وجہ سے بچے بڑے شوق سے ٹانڈے چُوسا کرتے تھے – کھیت سے ٹانڈے توڑنے پر کسانو ں کی گالیاں بھی سننی پڑتی تھیں ، مگر بچوں کو گالیوں کی کیا پروا –
اللہ کریم نے کوئی چیز بیکار نہیں بنائی – ہمارے بابا جی بتایا کرتے تھے کہ جب میں عیسی خیل سکول میں انگلش ٹیچر تھا ، ایک دن ہم سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر اور تحصیلدار کے ہمراہ عیسی خیل میانوالی روڈ پر سیر کے لیئے نکلے – کُچھ لوگ ہسپتال سے ایک مریض کو چارپائی پر اُٹھا کر ہمارے قریب سے گُذرے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا
They are carrying a dead body
( یہ لوگ میت لے کر جا رہے ہیں )
ہم نے پُوچھا کون تھا یہ شخص – ڈاکٹر صاحب نے کہا کلوانوالہ کا نوجوان ہے – اس کا مرض اتنا شدید ہوگیا ہے کہ ایک آدھ دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا –
تقریبا ایک ماہ بعد ہسپتال میں ایک نوجوان نے آکر ڈاکٹر صاحب کو سلام کیا اور کہنے لگا “ سر ، میں وہی dead body ہوں- میں نے آپ کی بات سُن لی تھی جب آپ نے کہا یہ لوگ میت لے کر جارہے ہیں – میں نے گھر والوں سے کہا بچنا تو میں نے ہے نہیں ، اس لیئے میں جو چیز مانگوں آپ نے انکار نہیں کرنا – راستے میں ہم جوار کے کھیت سے گُذرے تو میں نے کہا میں ٹانڈے چُوسنا چاہتا ہوں –
گھر والوں نے میری فرمائش کی فورا تعمیل کر دی – اگلی صبح مجھے اپنی حالت کُچھ بہتر لگی – مجھے یقین ہو گیا کہ یہ ٹانڈے کا اثر ہے – پھر میں روزانہ ٹانڈے چُوسنے لگا اور میری حالت بہتر ہونے لگی – اللہ کے فضل سے اب میں بالکل ٹھیک ہوں –
——————- رہے نام اللہ کا ———————– منورعلی ملک ——-٣ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

اپنا ایک شعر ۔۔۔۔۔۔
رحمت کا در کھلا تو رہا اور کچھ نہ یاد،
ہم نے خدا سے مانگ لی اپنے وطن کی خیر

٤ نومبر  2022

میرا میانوالی-

دن کا آغاز دُھند سے ہوا —- سردی کا موسم شروع ہونے کا پہلا اشارہ —- اللہ رحم کرے موسم بھی ہماری طرح سنگ دل ، بے رحم اور ناقابل اعتبار ہوتے جارہے ہیں – اس سال برسات کا موسم تباہ کُن تھا – اس تباہی کا شکار ہونے والے لاکھوں لوگ گھر بار سے محروم خیمہ بستیوں میں بیٹھے ، امداد کے منتظر ہیں – حکومت ، مُلکی و غیر مُلکی رفاہی ادارے ، اور بعض اہلِ ثروت لوگ حسبِ توفیق ان کی مدد کر رہے ہیں – ہمارے دوست ممالک بھی اس کارِخیر میں بھرپور حصہ ڈال رہے ہین – لیکن تباہی کا دامن اتنا وسیع ہے کہ بھر ہی نہیں رہا – جوکُچھ بیرون ِ ملک سے آرہا ہے اگر یہی دیانت داری سے تقسیم ہوتا رہے تو متاثرین کو کافی ریلیف مل سکتا ہے – لیکن ہمارے ہاں ایسا ہوتا نہیں – بہت کُچھ متعلقہ اہل کار اپنے لیئے رکھ لیتے ہیں –
1971 کی جنگ کے دوران حکم ہوا کہ ہر تعلیمی ادارہ محاذجنگ پر سینہ سپر جانباز فوجی بھائیوں کے لیئے ایک ایک بستر فراہم کرے – دسمبر کا مہینہ تھا – سب اداروں نے بستر بنوا کر محکمہ تعلیم کے حکام کے سپرد کر دیئے – انہی دنوں میرے بڑے بھائی مرحوم ملک محمد انورعلی سرگودہا میں میٹرک کے امتحان کے سپرنٹنڈنٹ متعین ہوئے – واپس آکر انہوں نے بتایا کہ جہاں ہمارا قیام تھا وہاں ہمیں جو بستر فراہم کیئے گئے اُن پر مختلف تعلیمی اداروں کے نام لکھے ہوئے تھے – ہم نے پُوچھا یہ کیا ؟ سکول کی انتظامیہ نے بتایا کہ سر جی، محاذِجنگ پر بھیجنے کے لیئے مختلف اداروں سے جو بستر موصول ہوئے ڈائریکٹر صاحب نے کہا ان میں سے دس بارہ اچھی قسم کے بستر محکمہ تعلیم کے مہمانوں کے لیئے رکھ لیں – آپ کو ہم نے وہی بستر دیئے ہیں –
موسم سے شروع ہوئی بات بہت دُور نکل گئی – کہنا یہ تھا کہ موسموں کا مزاج بھی ہماری طرح سخت ہوگیا ہے – گرمی قہر, سردی عذاب بن کر آتی ہے – آنے والے سردی کے موسم کے لیئے خود بھی تیاری کر لیں ، اپنے ارد گرد رہنے والے مفلس اور نادار لوگوں کی بھی حسبِ توفیق مدد کریں – اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو –
————————- رہے نام اللہ کا ——————————– منورعلی ملک ——  –٥ نومبر  2022

میرا میانوالی-

یادیں۔۔۔۔۔۔
12فروری 2001
گورنمنٹ کالج میانوالی میں میری سالگرہ کی تقریب، جس میں میری ننھی پوتی فائقہ مہمان خصوصی تھی۔ میرے بائیں جانب پروفیسر سرور خان نیازی اور دائیں طرف ڈاکٹر غفور شاہ قاسم تشریف فرما ہیں۔  -٥  نومبر  2022

میرا میانوالی-

مٹتے ھوئے کلچر کی ایک یادگار ۔۔۔۔۔ گھڑا۔
پانی ٹھنڈا کرنے کے لیئے عیسی خیل کے گھڑے مشہور تھے۔
شادی بیاہ کے موقع پر خواتین لوک گیت گاتے ہوئے طبلے کے طور پر گھڑا بجایا کرتی تھیں۔ یہ بھی ایک خاص فن تھا۔  –٦ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

اللہ سلامت رکھے ، ویسے تو میرے تمام سٹوڈنٹس میرے بیٹے ہیں مگر ان میں سے کچھ بیٹے ایسے ہیں جو عملی زندگی میں اعلی مناصب پر پہنچ کر بھی میرے قریب رہنا چاہتے ہیں ۔ میرے حوالے سے شناخت پر فخر کرتے ہیں – پولیس افسر عبدالقیوم خان نیازی بھی میرے ایسے ہی قابلِ فخر بیٹے ہیں – میرے بیٹے علی عمران کو اپنا بڑا بھائی کہتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے عبدالقیوم خان کے صاحبزادے دانیال حیدر خان کی شادی میانوالی کی یادگار تقریب تھی – دانیال بیٹا مجھے اس لیئے بھی بہت عزیز ہے کہ میری اہلیہ کی علالت کے سلسلے میں اسلام آباد میں ہمارے 6 ماہ قیام کے دوران دانیال خان نے ہمارے بچوں کی طرح ہماری خدمت کی – اللہ شاد و آباد رکھے بہت سعادت مند بیٹا ہے –
دانیال خان کی شادی میں میانوالی کی تمام نمائندہ سیاسی ، سماجی اور ادبی شخصیات کی شرکت نے اس تقریب کی رونق کو چارچاند لگا دیئے – اس سلسلے میں 29 اکتوبر کی شب ایک خوبصورت محفل موسیقی منعقد ہوئی جس میں عطامحمد نیازی داؤدخیلوی ، طاہر ساقی ، علی عمران اعوان اور عابد اتراء جیسے سینیئر فنکاروں کے علاوہ نوجوان فنکار باسط نعیمی ، امیر نواز نیازی اور یاسر موسی خیلوی نے اپنے فن کا جادُو جگایا –
میانوالی کا روایتی رقص بھی میانوالی میں موسیقی کی محفلوں کا جُزوِلازم ہوتا ہے- دانیال کی شادی کی اس تقریب میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ علمی و ادبی کمالات کے علاوہ دانیال کے ابُو اچھا خاصا رقص بھی کر لیتے ہیں – میانوالی کے مشہور فنکار مشتاق رانا اور نامور شاعر صابر بھریوں نے اس محفل میں کمپیئرنگ کے فرائض سرانجام دیئے – محفل رات بھر جاری رہی – شعرونغمہ کی یہ برسات مدتوں یاد رہے گی –
دعوتِ ولیمہ میانوالی کی وی آئی پی دعوت گاہ راج محل مارکی میں منعقد ہوئی – یہاں کی دعوتوں کا ایک اپنا معیار ہے – پُر تکلف کھانے کے علاوہ نئے پُرانے احباب کے مِل بیٹھنے کا ایک اپنا لُطف ہوتا ہے – کُھلے ڈُلے بے تکلف ماحول میں قہقہوں کی گُونج ہم لوگوں کی زندہ دِلی کا بہت عمدہ اظہار ہوتی ہے – دانیال خان کی دعوت ولیمہ میں ضلع بھر کے پولیس افسران کے علاوہ چکوال ، اٹک اور پنڈی سے بھی عبدالقیوم خان کے colleagues کی بھرپور شرکت اس دعوت کا طُرہء امتیاز تھی –
اللہ کریم دانیال بیٹے کو شاد و آباد رکھے ، اس کی شادی میانوالی کی ایک یادگار تقریب شمار ہوگی –
یہ رُوداد ایک ہفتہ پہلے لکھنی تھی ، مگر گذشتہ ہفتے طبیعت ناساز رہی – فیس بک پر حاضری بھی بس واجبی سی ہو سکی – اب بحمداللہ طبیعت بحال ہوئی تو یہ فرض بھی ادا کردیا –———————- رہے نام اللہ کا ————————— منورعلی ملک ——-٨ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

سردی کے موسم کی تیاریوں میں ایک اہم کارروائی لحافوں اور رضائیوں کو اُدھیڑ کر آُن کے اندر کی کپاس کی دُھنائی ہوا کرتی تھی – دُھنائی کے بعد کپاس دوبارہ لحافوں اور رضائیوں میں بھر کر حسبِ سابق سِلائی کر دی جاتی تھی – دُھنائی کو ہماری زبان میں پِنجائی کہتے تھے – اس کے معنی ہیں مارنا پِیٹنا ۔ ہماری زبان میں مارنا پیٹنا کے لیئے ویسے بھی لفظ پِنجائی عام استعمال ہوتا تھا – بلکہ یُوں بھی کہتے تھے “ یار ، بہوں ڈاہڈھا بخار ہئی – اُکا پِنج سَٹَس“
عام طور پر تو پنجائی کا کام گھروں میں خواتین خود کر لیتی تھیں – کپڑے دھونے کےڈنڈے (ڈَمہنڑیں) کے ساتھ پُورے زور سے کپاس کو پِیٹ پِیٹ کر اس کی دھجیاں اُڑا دیتی تھیں – ( لڑائی میں بھی بعض خواتین یہی ہتھیار استعمال کرتی تھی) – پھر کپاس کی بکھری ہوئی دھجیوں کو سمیٹ کر لحافوں ، رضائیوں میں بھر دیا جاتا تھا –
اصل میں یہ خاصا ٹیکنیکل کام تھا – اس کام کرنے والے کاریگر کو پینجا کہتے تھے – پنجائی کی مشینری کوبھی پینجا ہی کہتے تھے – ہمارے داؤدخیل میں بھی ایک پینجا ہوا کرتا تھا – ہم نے دو تین سال کی عمر میں ایک آدھ بار اُسے کام کرتے دیکھا تھا ، اس لیئے اُس کا نام یاد نہیں – پنجائی کی مشیری کمان کی طرح سادہ سی ہوتی تھی ، اس میں کپاس ڈال کر کمان کے دھاگے کو کھینچتے ہوئے لکڑی کی ہتھوڑی سے دھاگے پر وار کیئے جاتے تھے – دھاگے پر ہتھوڑی کے وار سے تَک تَک تھِیں ، تَک تَک تھِیں کی آواز دُور دُور تک سنائی دیتی تھی – یہ ایک مخصوص رِدم تھا جو کانوں کو بہت بھلا لگتا تھا –
میرے مامُوں ملک منظور حسین منظور فارسی کے بلند پایہ شاعر تھے – ایک دفعہ اُنہوں نے اپنی چند غزلیں لکھ کر مجھے دیں اور کہا کہ ان کو خوشخط لکھ دو – ایک غزل کچھ عجیب سی تھی – مجھے یہ بے وزن نظر آتی تھی، یہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ ماموں جیسا صاحب علم شاعر بے وزن شاعر ی کرے – میں نے ڈرتے ڈرتے ماموں جان کو یہ مسئلہ بتایا تو ہنس کر کہنے لگے یہ فارسی کی ایک کلاسیکی بحر ہے – اسے پینجے والی بحر بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کا رِدم پینجے کی آواز جیسا ہے –
اب تو پنجائی کی مشینیں آگئی ہیں – ہمارے بجپن کے دور میں یہ کام پینجا کیا کرتا تھا –
آج کی پوسٹ لکھنا خاصا مشکل تھا ، کیونکہ ایک ایسے کام کا ذکر کرنا تھا جو آپ میں سے شاید ہی کسی نے ہوتے دیکھا ہو – میں نے لکھنا شروع کیا تو دل چاہا اسے چھوڑ کر کسی اور موضوع پر لکھ دوں – پھر سوچا کہ چلو آج ایک اوکھا کام بھی کر لیا جائے – آج کی پوسٹ ممکن ہے کئی لوگوں کے سر کے اُوپر سے ہی گذر جائے ، بہرحال میں نے کوشش کی ہے کہ ایسا نہ ہو –——————– رہے نام اللہ کا ————————- منورعلی ملک ——پکچر۔۔۔۔۔ پینجا   –٩ نومبر  2022

میرا میانوالی-

یوم اقبال ۔۔۔۔
عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اور احترام رسالت مآب اقبال کے کردار کا سب سے دلکش پہلو تھا۔ ایک فارسی قطعہ میں کہا :
تو غنی از ہر دوعالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ورحسابم را تو دانی نا گزیر
از نگاہ مصطفٰی پنہاں بگیر
اے اللہ تو دونوں جہانوں کا بادشاہ اور میں تیرے در کا فقیر ھوں۔ قیامت کے دن میری درخواست قبول فرما کر معاف کر دینا۔
اور اگر مجھ سے میرے اعمال کا حساب لینا ضروری ھو تو میرے آقا کی نظر سے چھپا کرلینا۔ مجھے ان کے سامنے شرمندہ نہ ھونے دینا۔
اقبال کی زیادہ تر شاعری نوجوان نسل سے مخاطب ھے۔
نوجوان نسل کے لیئے ان کا ایک پیغام یہ بھی ھے کہ۔۔۔۔۔
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی،
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
اقبال کی انہی دو باتوں پر عمل کر لیں تو دنیا میں بھی کامیاب، آخرت میں بھی سرخرو ھوں گے۔٩ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

کُچھ عرصہ سے ہمارے ضلع میانوالی میں چوری اور گن پوائنٹ پر لوگوں کو لُوٹنے کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے – پولیس خدا جانے کیا کر رہی ہے – پولیس بھی کیا کرے ہمارا نظام ِ عدل ہی ایسا ڈھیلا ڈھالا ہے کہ مجرم ایک دن گرفتار ہوں تو دوسرے دن ضمانت پر رہا ہو کر دندناتے پھرتے ہیں – کتنی افسوسناک بات ہے کہ دنیا میں ہمارا نظامِ عدل 139 میں سے 130 نمبر پر ہے –
ہمارے بچپن کے دور میں ایسا نہیں تھا – انگریز کے نظامِ حکومت میں قانون کی مکمل حکمرانی تھی – مجھے یاد ہے اُس زمانے میں تھانہ موچھ کے ہیڈکانسٹیبل عبیداللہ قریشی پُورے علاقے میں امن و امان کی صورتِ حال کو کنٹرول میں رکھتے تھے – بڑی دہشت تھی عبیداللہ قریشی ہیڈ کانسٹیبل کی – گھوڑے پر سوار ، ایک سپاہی کو ساتھ لے کر دن بھر علاقے میں گشت کرتے رہتے تھے – اُن کے ہاتھ میں بید کا موٹا سا ڈنڈا ہوتا تھا جس سے چِھتر کا کام لیتے تھے – سرِعام دنگا فساد کرنے والوں کی موقع پر ہی چھترول کر دیتے تھے – اُنہیں آتے دیکھ کر اچھے خاصے پھنے خان نوجوان راستے سے ہٹ جاتے تھے – کسی واردات کی اطلاع ملتی تو تھانے سے پولیس کی نفری ساتھ لاکر ملزموں کو فورا گرفتار کر لیتے تھے –
ایک ہیڈ کانسٹیبل کی اتنی دہشت —— آج کے دور میں یہ بات کُچھ عجیب سی لگتی ہے ، مگر اُس زمانے میں عجیب بالکل نہ تھی ، کیونکہ ہیڈکانسٹیبل کے پیچھے قانون کی پُوری طاقت اور ایک مؤثر نظامِ انصاف ہوتا تھا – سرکاری اہل کار سے اُلجھنا بہت مہنگا پڑتا تھا – رشوت اور سفارش کا نام و نشان تک نہ تھا – کاش ویسا ہی مؤثر نظام آج بھی دستیاب ہوتا تو یہ حال ہرگز نہ ہوتا –
——————— رہے نام اللہ کا ————————– منورعلی ملک —–-١٠ نومبر  2022

میرا میانوالی-

سردیوں میں میٹھا زیادہ کھایا جاتا تھا – اتنی سائنس ہمارے علاقے کے چِٹے ان پڑھ لوگ بھی جانتے تھے کہ میٹھی غذا جسم کو حرارت اور توانائی فراہم کرتی ہے – صرف آٹے ، گھی اور گُڑ سے جو کھانے بنتے تھے ان کی تفصیل ملاحظہ کیجیئے –
١۔ میٹھا پراٹھا (اسے میٹھی ستاپڑی بھی کہتے تھے )
٢۔ میٹھی وشِلی (پُوری)
٣۔ روٹ
٤۔ سُوجی کا سادہ حلوہ جسے جرِیسی حلوہ بھی کہتے تھے –
٥- دودھی والا حلوہ ( اسے کالاباغ والا حلوہ اور مکھڈی حلوہ بھی کہتے تھے ،کیونکہ یہ مکھڈ ضلع اٹک کے لوگوں نے ایجاد کیا تھا)
6- کرکنڑاں ( موسم سرما میں بارش کی خوشی میں یہ مخصوص حلوہ ہر گھر میں بنتا تھا ٠ اس عمل کو جھڑی تتی کرنا کہتے تھے )
٧۔ پَت ( گھی میں گُڑ پکا کر بنتی تھی – روٹی کے ساتھ بہت مزے سے کھایا کرتے تھے
٨۔ چُوری
٩۔ گھی شکر ( گھی میں شکر ملا کر روٹی کے ساتھ کھاتے تھے – یہ ایک قسم کی بنی بنائی فاسٹ فوڈ تھی ، کہ اسے پکانے کا تردد نہیں کرنا پڑتا تھا)
١٠۔ لیٹی (گندم کے بُھنے ہوئے دانوں کے آٹے سے بنا ہوا پتلا حلوہ – عموما مریضوں کو دیا جاتا تھا)
آٹے ، گُڑ اور گھی سے کُچھ اور چیزیں بھی بنتی تھیں ، فی الحال یاد نہیں آرہیں – کھانا آپ لوگوں کا پسندیدہ موضوع ہے – چلیں دوچار پوسٹس آپ کی پسند کے موضوع پر بھی لکھ دوں گا –
——————– رہے نام اللہ کا ————————— منورعلی ملک ——  –١١ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

موسمِ سرما کے گرماگرم میٹھے کھانوں کا ذکر پڑھ کر ہمارے بہت پیارے ساتھی ، موچھ سے مجیب اللہ خان نیازی نے کمنٹ میں کہا اس وقت یونیورسٰٹی میں ہوں ( موصوف یونیورسٹی آف میانوالی میں شعبہءآُردو کے وزیٹنگ پروفیسر ہیں) – سخت بُھُوک لگی ہوئی ہے – اس وقت یونیورسٹی کی کینٹین بھی بند ہے – چار بجے تک یہاں رہنا ہے ، اُوپر سے آپ کی یہ پوسٹ ستم بالائے ستم – کُچھ سمجھ میں نہیں آرہا ، آپ کی اس تحریر کی داد دوں یا مذمت کروں –
آج جن دو روایتی میٹھے کھانوں کا تذکرہ ہوگا آپ لوگوں نے ان کا شاید نام بھی نہ سُنا ہو – ایک چیز تو تھی سانوَیں والا حلوہ – سانویں کا مطلب ہے برابر – یہ نہایت لذیذ حلوہ آٹا ، گُڑ اور گھی برابر مقدار میں ملا کر بنتا تھا – عام طور پر بچے کی پیدائش کے فورا بعد بچے کی والدہ کے لیئے بنایا جاتا تھا ، خدا جانے اس میں کیا حکمت تھی ، ہمارے داؤدخیل میں رواج یہی تھا – ایک آدھ دفعہ ہمسایوں کے گھر میں کھانے کا اتفاق ہوا تھا – اتنا مزے کا حلوہ تھا کہ میں کبھی کبھار گھر میں فرمائش کر کے سپیشل اپنے لیئے بنوایا کرتا تھا-
سردی کے موسم میں ہماری امی چنے کی دال کا حلوہ بنایا کرتی تھیں – چنے کی دال کو پانی میں اُبال کر پانی الگ کرکے دال کو پیِس کر دودھی بنتی تھی – گھی میں گُڑ کی پت بنا کر یہ دودھی اُس میں ڈال کر پکاتے تھے – نہایت نرم اور بے حد لذیذ حلوہ بنتا تھا – یہ حلوہ سردیوں کے نزلہ زکام کا بہترین علاج سمجھا جاتا تھا – کھانے کے بعد ایک گھنٹہ تک پانی پینا سخت منع تھا – اس لیئے رات کو سونے سے پہلے کھایا جاتا تھا – یہ دمے کے مرض میں بھی بہت مفید ہوتا تھا – امی دمے کی مریضہ تھیں – اللہ کی بندی بناتی اپنے لیئے تھیں مگر کھِلا ہمیں دیتی تھیں –
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ—————- رہے نام اللہ کا ————–—— منورعلی ملک١٢ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

گُڑ اکیلا بھی بڑی کارآمد چیز ہے – شام کے کھانے کے بعد گھر کے سب لوگ گُڑ کی ایک ایک روڑی ضرور کھایا کرتے تھے – ہاضمے کو درست رکھنے کا یہ بہترین طریقہ تھا —
دسمبر جنوری کی یخ بستہ راتوں کے پچھلے پہر وارہ بندی سسٹم کے تحت کھیتوں کو پانی دینے والے کسان سردی سے بچنے کے لیئے گُڑ کی دو چار روڑیاں جیب میں ڈال کر لے جاتے تھے – گُڑ کھانے سے سردی کا احساس خاصا کم ہوجاتا تھا –
سردی کے مضر اثرات سے حفاظت کا بہترین بندوبست پراٹھا ہوا کرتا تھا – شاید ایک آدھ دفعہ پہلے بھی اس کا ذکر کیا تھا – موسم سرما کے مخصوص کھانوں کا تذکرہ چل رہا ہے اس لیئے پراٹھے کا ذکر ایک بار پھر سہی –
یہ پراٹھا ناشتے والا عام پراٹھا نہیں ، حرارت اور توانائی سے بھرپُور ایک خاص چیز ہوا کرتا تھا – توے پر روٹی ڈال کر اُس پر کُچھ گُڑ کُوٹ کر ڈالنے کے بعد اس کے اوپر اسی سائیز کی ایک اور روٹی ڈال دیتے تھے – دونوں روٹیاں ایک ساتھ پکنے سے اُن کے درمیان رکھا ہوا گُڑ پگھل جاتا تھا – اس دوہری روٹی کو توے سے اُتار کر اس کے سنٹر میں تربُوز کی ٹاکی جیسا ایک ٹکڑا کاٹ دیتے اور پھر اس سُوراخ میں گرم گھی بھر کر اس میں چُٹکی بھر ہلدی بھی ڈال دیتے تھے – ہلدی خالص آیوڈین ہوتی ہے ، جسم کے دردوں کا موثر علاج ہے – یہ سب کُچھ کرنے کے بعد گُڑ ، گھی اور ہلدی کے اس آمیزے میں نوالے ڈبو کر کھایا کرتے تھے – پرا ٹھا جسم کو سردی کے خلاف مزاحمت کے لیئے بھرپُور توانائی فراہم کرتا تھا – ہفتے میں ایک آدھ بار پراٹھا کھا کر توانائی کو ری چارج Recharge کرتے رہتے تھے –
———————— رہے نام اللہ کا —————————— منورعلی ملک —-١٣ نومبر  2022

میرا میانوالی-

جناح بیراج کی تعمیر سے پہلے ہمار ے حصے کے دریائے سندھ میں مچھلی کا شکار آسان نہ تھا – تیز رفتار پانی میں مچھلی پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں ہوتا تھا – جناح بیراج بننے سے بیراج کے مشرق میں کئی میل لمبی چوڑی جھیل بن گئی – جھیل کے ساکن پانی میں مچھلی کا شکار آسان تھا – پھر بھی ہمارے علاقے میں مچھلی کا شکار عام نہ تھا –
ہمارے داؤدخیل میں محلہ داؤخیل کا ایک چاچا ہفتے میں ایک آدھ بار مچھلی کے شکار پہ جاکر چند مچھلیاں پکڑ لاتا اور گلی گلی پھر کر بیچا کرتا تھا – مچھلی کی ورائیٹی بھی زیادہ نہ تھی – موہری، ملہی اور خگہ (کھگا) تین قسم کی مچھلی ملتی تھی – ملہی مقدار میں زیادہ لیکن بدبُودار اور بد ذائقہ ہوتی تھی ، اس لیئے بہت کم فروخت ہوتی تھی – زیادہ تر چاچا کو خود ہی کھانی پڑتی تھی – موہری ہماری زبان میں نمبر ون Number One کو کہتے ہیں – موہری مچھلی واقعی نمبر ون مچھلی تھی – دیکھنے میں بھی بہت خوبصورت ہوتی تھی – یہ مچھلی ایک کلو سے زیادہ وزن کی نہیں ہوتی تھی –
موہری مچھلی میں باریک کانٹا بے حساب ہوتا تھا – پکانے سے پہلے اسے پانی میں اُبال کر کانٹے نکال دیئے جاتے اور پھر گوبھی کی طرح مصالحے میں بھون کر پکائی جاتی تھی – بے حد لذیذ سالن بنتا تھا – آج کل کے روہُو اور گلفام وغیرہ کے مزے اپنی جگہ ، موہری کے سالن کا اپنا الگ لُطف تھا – اب تو بہت عرصہ سے موہری مچھلی نہیں دیکھی ، شاید کوٹ چاندنہ اور کمر مشانی میں کبھی کبھار ملتی ہو—— مچھلی کا تذکرہ ان شآءاللہ کل بھی چلے گا –
———————– رہے نام اللہ کا ———————–—— منورعلی ملک –١٤ نومبر  2022

میرا میانوالی-

مچھلیوں کے شکاری چاچا کے ہاتھ کبھی کبھار ایک آدھ سول یا سنگھارا نسل کی مچھلی بھی لگ جاتی – سول اور سنگھارا میں کانٹا نہیں ہوتا – سنگھارا میں چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے، سول میں چکنائی بہت کم اور اس کا گوشت بے حد لذیذ ہوتا ہے – میری پسندیدہ مچھلی ہے – انگریزی بھی کیا عجیب زبان ہے — لفظ sole کے ایک معنی تو sole نسل کی مچھلی ہیں ، اس کے علاوہ پاؤں یا جُوتے کے تلوے کو بھی sole ہی کہتے ہیں – اکلوتا کے لیئے بھی لفظ sole استعمال ہوتا ہے – ہماری زبان میں سول مچھلی کو سولی کہتے تھے –
خگہ (کھگا) دیکھنے میں بدصورت ہاتھ کے سائیز کی مچھلی ہوتی ہے – عام مچھلیوں کے برعکس اس کے گوشت کا رنگ گلابی ہوتا ہے – اس میں بھی کانٹا نہیں ہوتا بلکہ ہڈی کا ایک پنجر سا ہوتا ہے – اس کا قورمہ ( شوربے والا سالن ) چکن قورمہ سے بھی زیادہ لذیذ ہوتا ہے –
پوپل کا ذکر پچھلے دنوں بھی کیا تھا – صاف شفاف بہتے پانی کی یہ مچھلی اُنگلی کے سائیز کی ہوتی ہے – باجرے کے خُشک آٹے میں لتھیڑ کر توے پر بُھونی جاتی تھی – اس کا سر اور دُم کاٹنے کے بعد سالم مچھلی ایک ہی نوالہ بنتی تھی – پوپل سردی کا زبردست علاج سمجھا جاتا تھا – جناح بیراج کے مچھلی گھر سے لوگ پوپل کے گٹُو بھر لاتے تھے – کوٹ چاندنہ اور کمر مشانی کے میلے میں اب بھی بِکتا ہے –
میانوالی میں ہم بازار سے کالا رہُو خریدتے ہیں – یہ بھی زبردست چیز ہوتی ہے – لیکن موہری مچھلی کا اپنا مزہ تھا – اب کہیں نظر ہی نہیں آتی –
———————– رہے نام اللہ کا ———————–—— منورعلی ملک —  –١٥ نومبر  2022

میرا میانوالی-

یادیں۔۔۔۔۔۔
پانچ سات سال پہلے کی بات ہے، رات بارہ بجے کے قریب سونے لگا تو لالا عیسی خیلوی کی کال آئی – لاہور سے بول رہے تھے – کہنے لگے “ منور بھائی، وہ جو اُستاد برکت علی خان نے اُردو ماھیا گایا ہے “ باغوں میں پڑے جُھولے —–“
میں نے کہا “ دیکھو ، رات کے اِس وقت کوئی شریف آدمی باغ میں نہیں جاتا ، اور نہ یہ تمہاری جُھولا جُھولنے کی عمر ہے – چُپ کر کے سو جاؤ“-
لالا نے کہا “ یار ، پُوری بات تو سُن لو “
میں نے کہا “سناؤ“
لالا کہنے لگے مجھے اسی طرح اُردو میں پانچ سات ماہیئے لکھ دو-
میں نے کہا “ یہ بات تُم صبح نہیں کہہ سکتے تھے ؟“
کہنے لگے یار صبح میری ریکارڈنگ ہے – مجبوری ہے ، ورنہ تمہیں اس وقت تکلیف نہ دیتا“
لالا کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے میں نے کاغذ قلم نکالا اور چند ماہیئے لکھ کر لالا کو فون پر لکھوادیئے – اب تو یہ بھی یاد نہیں کیا لکھا تھا – وہ کاغذ بھی کہیں گُم ہوگیا – بہر حال لالا بہت خوش ہوئے – وہ ماہیئے اگلی صبح ریکارڈ ہو گئے – مجھے نہیں پتہ کہاں ریکارڈ ہوئے – شاید وسیم سبطین بتا سکیں ، ممکن ہے آپ میں سے کُچھ اور دوستوں نے بھی سُنے ہوں – البتہ دو تین سال بعد ایک انٹرویو میں میرے حوالے سے بات کرتے ہوئے لالا نے کہا تھا کہ بہت زبردست ماہیئے تھے —– واللہ اعلم –
———————- رہے نام اللہ کا ————————— منورعلی ملک —-  -١٦ نومبر  2022

میرا میانوالی-

موٹرسائیکل کی آمد سے پہلے سائیکل مقبول ترین عوامی سواری ہوا کرتی تھی – دس پندرہ کلومیٹر فاصلے کے لیئے یہ بہترین سواری تھی – نہ پٹرول کاخرچہ ، نہ موبل آئیل کی تبدیلی کی ضرورت ، کُچھ کھائے پیئے بغیر سائیکل رات دن خدمت کے لیئے حاضر رہتی تھی – سکولوں ، کالجوں کے بچے اور ٹیچر ، دفتروں میں کام کرنے والے اہلکار ، وکلاء اور عام لوگ شہر کے اندر کہیں آنے جانے کے لیئے سائیکل ہی استعمال کرتے تھے –
ہمارے بچپن کے دور میں برطانیہ کی بنی ہوئی ہرکولیس ، فلپس ، ریلے اور بی ایس اے Hercules, Phillips, Raleigh , BSA سائکلیں ہوا کرتی تھیں – قیام پاکستان کے بعد رُستم اور سہراب کے نام سے سائیکلیں پاکستان ہی میں بننے لگیں –
شوقین مزاج نوجوان اپنی سائیکلوں کو دلہن کی طرح سجایا کرتے تھے – عیسی خیل کے ایک منچلے نوجوان نے سائیکل پر ہینڈل کی جگہ کار کا سٹیئرینگ لگایا ہوا تھا – حسبِ توفیق ہر نوجوان اپنی سائیکل کا بناؤسنگھار کرتا رہتا تھا – ہمارے میانوالی میں سائیکلوں کی آرائش دیکھنے کے لائق ہوتی تھی –
بچپن میں سائیکل چلانا سیکھتے ہوئے بار بار گرنا اُٹھنا ، دوستوں کا ہنسی مذاق ، خاصا شغل ہوا کرتا تھا – سائیکل چلانا سیکھنے کے بعد سائیکل سے نیچے اُترنے کو دل ہی نہیں مانتا تھا – ایک آنہ فی گھنٹہ کے حساب سے سائیکل کرائے پر لے کر لڑکے دن بھر گلیوں میں سائیکل دوڑاتے رہتے تھے ، سائیکل چلالینا بہٹ بڑا کمال سمجھتے تھے –
1980 میں جب میں میانوالی آیا اُس وقت پورے شہر میں صرف دو موٹر سائیکلیں تھیں ، ایک ہمارے دوست پروفیسر فاروق اختر نجیب کے پاس تھی دوسری ایک اور صاحب کے پاس – وہ پرانی بھاری بھرکم فوجی موٹر سائیکلیں تھیں، اُن کی طیارے جیسی گرجدار آواز سن کر آتے جاتے لوگ سہم جاتے تھے – چند سال بعد ہلکی پھلکی سمارٹ موٹر سائیکلوں کی یلغار شروع ہوئی جس میں آج تک مسلسل اضافہ ہو رہا ہے –
سائیکل اب تو تقریبا غائب ہو چکی ہے –———————– رہے نام اللہ کا —————————— منورعلی ملک —-  –١٨ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

گڑ کی طرح چنے سے بھی بے شمار کھانے بنتے تھے۔ سالن کے علاوہ دانگی (بھٹی) پر بھونے ہوئے چنے بعد دوپہر کھانے کا رواج عام تھا۔ چنے دوطرح سے بھونے جاتے تھے، چھلکے سمیت اور چھلکے کے بغیر۔ چھلکے سمیت بھونے ھوئے چنوں کو روڑے کہتے تھے، چھلکے کے بغیر والوں کو ڈالیاں کہا جاتا تھا۔
بھونے ھوئے چنوں کو پیس کر ان میں خالص گھی اور شکر ملا کر بہت لذیذ کھانا بنتاتھا، یہ میٹھا آٹا نزلہ زکام کا بہترین علاج سمجھا جاتا تھا۔ ویسے بھی لوگ بڑے شوق سے کھاتے تھے۔
چنے کے آٹے (بیسن) میں پیاز، نمک اور مرچ ملا کر تندور پر روٹی پکاتے تھے، ہم اسے مسی روٹی کہتے تھے۔ خالص گھی سے چپڑی ھوئی مسی روٹی اور پتلی نمکین لسی دوپہر کا بہترین کھانا ھوا کرتاتھا۔ اب یہ سب کھانے خواب و خیال کی حد تک رہ گئے۔ سفید چنے کا سالن عام چلتا ھے، لیکن کالا چنا ذائقے اور قوت میں بے مثال ھے۔ یہ چنا زیادہ تر بھکر تھل کے ریتلے علاقے میں ھوتا ھے۔ بڑی صابر شاکر فصل ھے زیادہ پانی نہیں مانگتی۔
پودے جڑوں سمیت اکھاڑ کر کچے سبز چنے بھی بہت مزے سے کھائے جاتے تھے۔ سبز چنے کا سالن بھی بہت مزیدار بنتا ھے۔
بھکر کے علاقے میں چنے کے یہ سب کھانے آج بھی بنتے ھوں گے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں بنتی ھوں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منورعلی ملک۔۔۔۔۔-١٩ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

میانوالی کا ایک لیجنڈ ——–
1935 میں پنجاب یونیورسٹی کا کانووکیشن (جلسہء تقسیم اسناد و انعامات) انگریز گورنر پنجاب کی صدارت میں جاری تھا – ایم اے کے امتحان میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے والے نوجوان میڈل اور ڈگریاں وصول کر رہے تھے – جب سٹیج سیکریٹری نے اعلان کیا کہ ایم اے فلاسفی (فلسفہ) میں پہلی پوزیشن لینے والے خواجہ خورشید انور آکر اپنا گولڈ میڈل اور ڈگری وصول کریں ، تو وہ نوجوان ہال میں موجود ہی نہ تھا – گورنر صاحب نے ہنس کر کہا بندہ صحیح فلاسفر ہے ، اپنا گولڈ میڈل وصول کرنا بھی بُھول گیا –
بندہ بھُولا نہیں تھا ، بلکہ اس وقت وہ لاہور ہی میں موسیقی کی ایک محفل میں اپنے موسیقی کے استاد توکل علی خان کے کمالِ فن سے لُطف اندوز ہورہا تھا –
خواجہ خورشید انور 21 مارچ 1912 کو میانوالی کے مشہور و معروف خواجہ خاندان میں پیدا ہوئے – موصوف معروف تاجر اور صحافی خواجہ سکندرحیات ، خواجہ محمد اسلم اور خواجہ عزیز وغیرہ کے خاندان کے بزرگ تھے – ان کے والد خواجہ فیروزالدین نامور وکیل تھے – وہ موسیقی کے بہت اعلی ذوق سے متصف تھے اور لاہور میں اپنے گھر میں بلند پایہ موسیقاروں کی محفلیں منعقد کیا کرتے تھے – خواجہ فیروزالدین کا ایک اعزاز یہ بھی تھا کہ وہ علامہ اقبال کے ہم زُلف تھے
اپنے گھر پر موسیقی کے لیجنڈز کی آمدورفت سے متاثر ہوکر خواجہ خورشید احمد کو بھی موسیقی سیکھنے کا شوق لاحق ہوگیا – ان کے والد کی سفارش پر اس وقت کے سب سے منفرد و معزز موسیقار استاد توکل حسین خان نے خواجہ خورشید انور کو اپنی شاگردی میں قبول کر لیا-
خواجہ خورشید نے دیال سنگھ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا – والدین کی خواہش پر آئی سی آیس ( سی ایس ایس) کا امٹحان بھی پاس کیا مگر اعلی افسر بننے کی بجائے اعلی پائے کا موسیقار بننا پسند کیا – کچھ عرصہ لاہور میں ریڈیو پروڈیوسر رہنے کے بعد بمبئی جاکر موسیقار کی حیثیت میں فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے – وہاں بہت سی فلموں میں ان کے گیت بہت مقبول ہوئے – سہگل ، محمد رفیع ، شمشاد بیگم ، آشا اور گیتا دت جیسے نامور گلوکاروں نے خواجہ صاحب کی ترتیب دی ہوئی دُھنوں میں بہت سے گیت ریکارڈ کرائے – جو سب سُپر ہِٹ ثابت ہوئے –
1952 میں خواجہ صاحب پاکستان آکر یہاں کی فلمی صنعت سے وابستہ ہوگئے – بابا چشتی ، ماسٹر غلام حیدر ، ماسٹر عنایت حسین اور فیروز نظامی جیسے دیوقامت موسیقاروں کے درمیان بھی خواجہ صاحب نے اپنا الگ مقام حاصل کر لیا – 1956 میں منظرعام پر آنے والی فلم “انتظار“ موسیقی کے لحاظ سے پاکستان کی کامیاب ترین فلم ثابت ہوئی – اس فلم کے نغمات قتیل شفائی نے لکھے ، موسیقی خواجہ خورشید انور نے ترتیب دی – اس فلم کے گیت آج بھی لوگ بڑے شوق سے سنتے ہیں –
فلم “ہیر رانجھا“ کے گیت بھی آج تک معروف و مقبول ہیں –
20 اکتوبر 1984 کو فن موسیقی کا یہ سُورج تہہِ خاک غروب ہو گیا –
خواجہ صاحب کا انداذَ موسیقی بہت منفرد تھا – اُن کے چند ٰیادگار نغمات یہ تھے –
١۔ جس دن سے پیا دل لے گئے
٢۔ چاند ہنسے دنیا بسے ، روئے میرا پیار
٣۔ آبھی جا ، آ بھی جا
٤۔ ونجھلی والڑیا وے اے گل بُھلیں ناں
خواجہ صاحب کے ایسے ہی اور بھی کئی خوبصورت گیت لوگ یُوٹیوب پر آج بھی شوق سے سنتے ہیں –
میانوالی میں پیدائش کی حد تک خواجہ خورشید انور کا میانوالی سے تعلق مستند ھے، ان کے خاندان کے میانوالی سے تعلق کے بارے میں تفصیلات متنازعہ ہیں، شاید خواجہ سکندرحیات صاحب مستند معلومات فراہم کر سکیں۔
————————- رہے نام اللہ کا —————————— منورعلی ملک ——٢٠ نومبر  2022

میرا میانوالی-

شاعر نے کہا تھا
اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
لیکن ستم یہ ہے کہ جو لوگ “اس طرح“ کے کام نہیں کرتے سردیوں میں وہ بھی اُداس رہتے ہیں – نہ کسی کا انتظار، نہ کسی کے بچھڑنے کا غم ، پھر بھی سردیوں میں لوگ عام طور پر ، بالخصوص شام کے وقت اُداس ہو جاتے ہیں – “اس طرح“ کے کام کرنے والے تو خیر ہر موسم میں اٰداس ہی رہتے ہیں – پیکیج ختم ہو جائے ، کوئی فون نہ اُٹھائے ، سینکڑوں غم ہوتے ہیں – لیکن اچھے خاصے شریف لوگ بھی سردیوں میں اُداس کیوں ہوجاتے ہیں –
ڈاکٹر حمید اطہر کہتے ہیں یہ اداسی دراصل ایک موسمی بیماری ہے ، جسے ڈاکٹروں کی زبان میں Seasonal Affective Disorder کہتے ہیں – اس کا علاج بہت سادہ ہے – کسی قسم کی دوا کی ضرورت نہیں پڑتی – بس اپنی مصروفیات تبدیل کرنی پڑتی ہیں – گھر میں بیٹھنے کی بجائے شام کا وقت اپنے دوستوں میں گذاریں یا اپنے گھر والوں سے گپ شپ لگائیں ، ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں – تنہائی میں انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے – اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اپنے بارے میں جتنا سوچیں انسان اتنا ہی زیادہ اُداس ہوتا رہتا ہے – کوئی بڑا مسئلہ نہ بھی ہو بس ایویں ای خواہ مخواہ بندہ اداس ہو جاتا ہے –
ایک انگریز شاعر کا مشورہ بہت خُوب ہے – کہتے ہیں
For every evil under the sun
There is a remedy, or there is none
If there is one, try to find it
If there is none, never mind it
( رُوئے زمین پر ہر مصیبت کا کوئی نہ کوئی علاج یا تو ہوتا ہے ، یا نہیں ہوتا – اگر علاج ہے تو تلاش کریں ، نہیں ہے تو دفع کریں ، اپنی جان نہ کھپائیں )-
——————– رہے نام اللہ کا ————————– منورعلی ملک ——  –٢١ نومبر  2022

میرا میانوالی-

گھر کے شمالی حصے میں 25 فٹ لمبا 15 فٹ چوڑا ہال نما کمرہ ہوا کرتا تھا ، جسے ہم بھاء آلا کوٹھا ( آگ والا کمرہ) کہتے تھے – نومبر کے آخر میں ہمارے بستر اس کمرے میں منتقل ہو جاتے تھے – سونا جاگنا ، کھانا پینا سب کچھ اسی کمرے میں ہوتا تھا – ہمیں سرد برفانی راتوں میں کمرے سے نکل کر واش روم تک جانے کی زحمت سے بچانے کی خاطر امی نے پیشاب کے لیئے برتن بھی کمرے کے ایک کونے میں رکھا ہوا تھا- شام کے بعد ہمیں اس کمرے سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی –
کمرے کے وسط میں آگ جلانے کے لیئے تین فٹ لمبا تین فٹ چوڑا چُلہا (چُولہا ) بنا ہوا تھا – سرِشام سے آدھی رات تک اس چولہے میں لئی کی لکڑیوں کا بھانبھڑ جلتا رہتا تھا – لئی کی لکڑی کچے کےعلاقے توحید آباد ، شملات وغیرہ سے اُونٹوں پر لدی ہوئی آتی تھی – لئی کے جھانبے ( ٹہنیاں ) دھڑا دھڑ جلتے تھے ، ان کی حرارت بہت تیز اور دھواں بہت کم ہوتا تھا –
ہفتے میں ایک آدھ بار پہاڑ کے دامن سے زبھرُو خیل قبیلے کا ایک چاچا سنڑسنڑیں (سَنَتھا) کی لکڑیوں کا گٹھا پیٹھ پر لاد کر لاتا تھا – سیاہ رنگ کی یہ کُھردری لکڑی پٹرول کی طرح فورا آگ پکڑ لیتی تھی – اس کا شعلہ دُودھ جیسا سفید، حرارت بہت زیادہ اور دھوآں بالکل ہوتا ہی نہیں تھا – اس کی آگ میگنیشیئم کی آگ کی طرح سفید اور دھوئیں سے پاک ہوتی تھی –
کمرہ باہر سے پکی اینٹوں اور اندر سے کچی اینٹوں کا بنا ہوا تھا – یہ اُس زمانے کی خاص ٹیکنالوجی تھی – کچی اینٹ گرمی کے موسم میں باہر سے گرمی کو اندر نہیں آنے دیتی ، اور سردی کے موسم میں اندر کی حرارت کو باہر نہیں جانے دیتی- آدھی رات تک جو آگ اس کمرے میں جلتی رہتی تھی اُس کی حرارت صبح تک برقرار رہتی تھی- یُوں ہم سردی کا موسم بڑی عیاشی سے گذارتے تھے –
اب تو گھر کا نقشہ ہی بدل گیا – ہمارے سردیوں کے اس مسکن کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا –————————- رہے نام اللہ کا ——————————- منورعلی ملک —–  -٢٢ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

بھاء آلے کوٹھے (آگ والا کمرہ) میں دیواروں کے ساتھ U کی شکل میں ہماری چارپائیاں اور بستر بچھے ہوتے تھے – کمرے کے وسط میں چوکور چُولہے کے گرد کھجور کے پتوں کی پُھوڑیاں( چٹائیاں ) اس طرح بچھی ہوتیں کہ بستر سے اُترتے ہی قدم چٹائی پہ پڑتا تھا – چُولہے میں سرِشام سے آدھی رات تک لئی یا سنڑسنڑیں کی جھاڑیوں کا بھانبھڑ جلتا رہتا تھا – ہم لوگ شام کاکھانا آگ کے گرد چٹائیوں پر بیٹھ کر کھاتے تھے – ناشتہ بھی وہیں ہوتا تھا –
جب ہم میں سے کوئی بیمار پڑ جاتا تو اُس کا بستر چارپائی کی بجائے آگ کے قریب چٹائی پر بچھا دیا جاتا ، اور امی سرہانے بیٹھ کر رات بھر بیمار بچے کے سر میں اُنگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے دُعائیں پڑھ پڑھ کر پُھونکتی رہتی تھیں —–
آہ —- ایسا کہاں سے لاؤں کہ تُجھ سا کہوں جسے
بیمار بچہ پانی مانگتا تو چُھری آگ میں سُرخ کر کے پانی سے بھرے کٹورے میں ڈبوکر نیم گرم پانی پلایا جاتا – یہ اُس دور کا خاص ٹوٹکہ تھا – دوچار بار یہ پانی پینے سے سردی کا نِکا سُکا بخار ختم ہو جاتا تھا –
بارش والے دن امی ہمیں سکول نہیں جانے دیتی تھیں – کہتی تھیں تعلیم حاصل کرنے کے لیئے تو ساری عمر پڑی ہے ، سردی کے عذاب میں تُم دوچار دن سکول نہ جاؤ تو قیامت نہیں آجائے گی –
سردی سے امی کا یہ خوف بلاوجہ نہ تھا – میری پیدائش سے پہلے میری ایک بہن اور ایک بھائی ڈیڑھ دو سال کی عمر میں نمونیہ (سردی کا بخار ) سے فوت ہوگئے تھے – اس لیئے ہم لوگوں کو امی سردیوں میں سات پردوں میں لپیٹے رکھتی تھیں – یُوں سردی کا خوف بچپن ہی سے ہمارے دل میں ایسا بیٹھا کہ آج تک سردی میں کمرے سے باہر نکلنا مصیبت لگتا ہے –
———————- رہے نام اللہ کا —————————– منورعلی ملک –٢٣ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

کوٹ ، سویٹر، کمبل کی بجائے بزرگ لوگ لٹھے کی سادہ سفید چادر اوڑھ کر سردی کا موسم گذار لیتے تھے – اُنہیں سردی بہت کم لگتی تھی ، اس کی ایک وجہ تو سو فی صد خالص غذا تھی – دوسری وجہ یہ کہ وہ ہماری طرح گھر میں پڑے رہنے کی بجائے دن بھر کسی نہ کسی بہانے چلتے پھرتے رہتے تھے – چلنے پھرنے سے جسم کو حرارت اور توانائی ملتی ہے ، سردی زیادہ نہ لگنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ صاف موسم میں بزرگ لوگ دُھوپ میں بیٹھنا پسند کرتے تھے – ہماری چونک تقریبا چار کنال کا وسیع و عریض میدان تھی – محلے کےاکثر بزرگ دوپہر کو یہیں دھوپ میں بیٹھ کر گپ شپ لگاتے رہتے تھے- –
سردیوں کی خوشگوار دھوپ کو چِٹکا کہتے تھے – صبح سے دوپہر تک شمال کی طرف سے ٹھنڈی ہوا بھی چلتی تھی جسے جابہ کہتے تھے – جابہ کی مار سے بچنے کے لیے لوگ کسی دیوار یا مکان کی اوٹ میں بیٹھتے تھے – اس آڑ یا اوٹ کو اوہلہ کہتے تھے – چِٹکا اور اوہلہ کا ذکر شاید پہلے بھی کیا تھا – بہر حاًل موسموں کے ذکر میں ہر موسم کی مخصوص اصطلاحات تو استعمال کرنی پڑتی ہیں – اس لیئے میری نظر میں یہ تکرار جائز ھے –
————————— رہے نام اللہ کا ——————————- منورعلی ملک ——٢٤ نومبر  2022

میرا میانوالی-

ولیوا —————-
بہت پیارا رواج تھا ، گھر میں کوئی اچھی چیز پکتی ، گوشت، زردہ ، حلوہ ، گُڑ والے چاول ، مکھن سے گھی بناتے وقت بننے والا خاص حلوہ جسے وسننڑں کہتے تھے ، تو ایک ایک پلیٹ ہمسایوں کے گھر میں بھی ضرور بھیجی جاتی تھی – اس روزمرہ کے لین دین کو ولیوا کہتے تھے – ضرورت کے وقت ہمسایوں سے مُرغی ، انڈا ، یا دودھ وغیرہ مانگ کر لانے کا رواج بھی عام تھا – چھوٹے موٹے مالی تعاون کو بھی ولیوا کہتے تھے –
ولیوا دوطرفہ ہوتا تھا – ہمسایوں سے چیزیں صرف لینا نہیں ، دینا بھی ایک اہم اخلاقی فرض سمجھا جاتا تھا – آپس میں پیار، محبت اور تعاون کا یہ خوبصورت چلن دیہات میں تو کسی حد تک اب بھی چل رہا ہے ، شہروں میں نفسا نفسی کا عالم ہے –
ولیوا کی بہت خوبصورت مثال مرحوم دوست عتیل عیسی خیلوی کے گھر میں دیکھی – جب بھی اُن کے ہاں کھانا کھانے کا اتفاق ہوا ، دسترخوان پر مختلف قسم کے کھانوں کی لائین لگ جاتی تھی – ایک دن میں نے کہا “ یار ، اتنا تکلف کیوں کرتے ہو ؟“
عتیل نے ہنس کر کہا “ تکلف نہیں بھائی صاحب ، یہ آپ کی بھابھی کا ولیوا ہے – جب بھی گھر میں کوئی مہمان آتا ہے ، وہ گھر میں بنے ہوئے سالن کے علاوہ اِدھر اُدھر کے گھروں سے بھی سالن کی ایک ایک پلیٹ منگوا لیتی ہے – کہیں سے گوشت ، کہیں سے سبزی ، کہیں سے دال ، یُوں دسترخوان کی رونق بھی بن جاتی ہے اور ہماری غریبی کا بھرم بھی بن جاتا ہے –
اللہ کریم دونوں میاں بیوی کو اپنی رحمت کا سایہ نصیب فرمائے ، اب وہ دونوں اس دنیا میں موجود نہیں – ایسے وضعدار لوگ دنیا سے اُٹھتے جا رہے ہیں – رفتہ رفتہ ولیوا کا رواج بھی ختم ہو رہا ہے-
———————— رہے نام اللہ کا —————————– منورعلی ملک ——  -٢٥ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

اپنے سٹوڈنٹس کے نام ———
ٹیچر اور پروفیسر کی حیثیت میں تقریبا پچاس سال نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کا فریضہ سرانجام دیا – ہزاروں سٹوڈنٹس زندگی کے مختلف شعبوں میں پاکستان میں اور بیرونِ ملک خدمات سرانجام دے رہے ہیں – سٹوڈنٹس کو ہمیشہ اپنے بچے سمجھا ، اور بحمداللہ اُن سے بھی مجھے اپنے بچوں جیسی محبت اور احترام ملا – یقین سے یہ دعوی کر رہا ہوں کہ میں نے اپنے پچاس سالہ ٹیچنگ کیریئر میں کوئی گستاخ یا نافرمان بچہ نہیں دیکھا – امیر ، غریب، لائق ، نالائق سب بچے میرا یکساں احترام کرتے ہیں – میانوالی میں تو کچہری ہو یا ڈاکخانہ ، بنک ہو یا ہسپتال , سکول ہو یا کالج , ہر شعبے میں میرے ایک دو بیٹے میری خدمت کے لیئے موجود ملتے ہیں –
اپنے ساتھی ٹیچرز سے اکثر کہا کرتا تھا کہ صاحب دیکھیں ، ہم ان بچوں کو پڑھاتے ہیں تو یہ ان پر کوئی احسان نہیں ، بلکہ اس کام کی ہمیں تنخواہ ملتی ہے – اس کے باوجود یہ بچے زندگی بھر ہمیں سلام کرتے ہیں اور ہماری خدمت کرنے میں خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں – یہ ہمارے دست و بازو ہٰیں ، ان سے پیار اور ان پر فخر کرنا ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے – ان بچوں کی خدمات کی مثالیں بیان کرکے معاشرے میں ان کی عزت بڑھانا بھی ہمارا اخلاقی فرض ہے –
آئندہ چند دنوں میں اپنے ذاتی تجربات سے کچھ ایسی ہی مثالیں میری پوسٹس کا موضوع رہے گا – خاصے دلچسپ اور حیرت انگیز واقعات ہوں گے ، ان شآءاللہ –
——————— رہے نام اللہ کا —————————- منورعلی ملک —٢٦ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

میرے سٹوڈنٹ ، میرے بچے ——
ایک دن گورنمنٹ کالج میانوالی میں میرے ساتھی پروفیسر حافظ عبدالخالق نے مجھ سے کہا “ ملک صاحب ، تھانہ چکڑالہ میں آپ کے علاقے کے ایس ایچ او ہیں ملک قربان حسین ، کیا آپ انہیں جانتے ہیں ؟“
ملک قربان حسین باجوہ داؤدخیل سکول میں میرے بہت عزیز سٹوڈنٹ ہوا کرتے تھے – میں نے پروفیسر صاحب کو بتایا تو کہنے لگے “ چکڑالہ میں میری کُچھ آبائی زمین ہے – ساتھ والی زمین کے مالکوں نے اپنی زمین کی حد بڑھا کر میری زمین کے کُچھ حصے پر زبردستی قبضہ کرلیا – میں نے بات کی تو انہوں نے کہا یہ تو ہماری آبائی زمین تھی – آپ کی حد بندی غلط تھی – میں نے ذرا سخت لہجے میں بات کی تو کہتے ہیں جاؤ ، جو کرنا ہے کرلو ، زمین ہماری ہے —— اس سلسلے میں ملک قربان صاحب کی مدد چاہییے –
ہم دوسرے دن کالج سے فارغ ہو کر چکڑالہ تھانہ پہنچے – وہاں اس وقت صرف محرر ہیڈ کالسٹیبل بیٹھا تھا ، اتفاق سے وہ بھی میرے داؤد خیل سے خدر خیل قبیلے کا نوجوان نکلا – اس نے بتایا کہ ملک قربان صاحب تو اس وقت علاقے کے دورے پر گئے ہوئے ہیں – واپس آئیں گے تو آپ کا پیغام دے دوں گا – آپ فکر نہ کریں ہم پروفیسر صاحب کاکام کروادیں گے “-
تھانے سے نکل کر ہم واپس میانوالی روانہ ہوئے – شہر سے نکلے تو سامنے سے پولیس کی موبائیل وین آتی دکھائی دی – مجھے پروفیسر صاحب کی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا دیکھ کر ملک قربان نے ہماری گاڑی کو رُکنے کا اشارہ دیا – اپنی گاڑی سے اتر کر آئے ، مجھے سلام کیا اور کہا “ سر ، کیسے آنا ہوا ، آئیں تھابے چل کر چائے وغیرہ پیئیں- میں نہیں چاہتا کہ آپ کی خدمت کا یہ موقع میرے ہاتھ سے نکل جائے-
ملک قربان کے ساتھ تھانے کے اے ایس آئی ملک اعجاز بھی ان کے ہمسفر تھے – وہ بھی میرے سٹوڈنٹ رہ چکے تھے – میں نے کہا شام ہونے کو ہے اس وقت ہم رُک تو نہیں
سکتے – ایک کام ہے وہ آپ کو بتا دیتے ہیں – ممکن ہو تو کردینا –
میں نے کام بتایا تو ملک قربان نے کہا “ سر ، بے فکر رہیں ۔ گل ای کوئی نئیں – کل صبح پروفیسر صاحب ہمارے پاس تشریف لے آئیں – یہ جو چاہیں گے وہی ہوگا“-
اگلی صبح پروفیسر عبدالخالق صاحب چکڑالہ تھانہ پہنچے تو دوسرے فریق کے لوگوں سے ملک قربان نے پہلے ہی بات کرلی تھی – اُن لوگوں نے کہا “ پروفیسر صاحب اپنے ہاتھ سے جہاں لکیر لگادیں ہم اسی کو ان کی زمین کی حد مان لیں گے – پیمائش کے لیئے علاقے کا پٹواری بھی وہاں موجود تھا – یہ تمام کارروائی منٹوں میں مکمل ہوگئی – اگر معاملہ عدالت میں جاتا تو آج تک لٹک رہا ہوتا –
——————– رہے نام اللہ کا ————————– منورعلی ملک –٢٧ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

نیازی بیٹا ——
ہمارے کچھ قریبی رشتہ دار لاہور میں بند روڈ کے علاقے میں گروی لیئے ہوئے مکان میں رہتے تھے – یہ مکان انہوں نے تین لاکھ روپے میں تین سال کے لیئے لیا تھا – گروی کی شرائط یہ تھیں کہ تین سال بعد انہیں تین لاکھ روپے واپس ملنے تھے – تین سال کی مدت پوری ہونے کے بعد انہوں نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو مالک مکان ہیرا پھیری کرنے لگا – کہتا تھا یہ رقم تو مکان کا کرایہ ہوگئی – اب میں نے آپ کو کچھ نہیں دینا – مکان خالی کردیں –
مالک مکان اپنے علاقے کا کَن ٹُٹا بدمعاش تھا – مجھے میانوالی میں فون پر بتایا گیا کہ یہ معاملہ ہے – میں نے فون پر نیازی بیٹے سے بات کی – پروفیسر عزیز نیازی (ہزارے خیل) علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کی معروف علمی شخصیت ہیں ، بہت عرصہ سے وہاں اپنا پرائیویٹ تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں – میانوالی میں بی اے اور ایم اے انگلش میں میرے سٹوڈنٹ رہے – مجھے وہ بابا جانی کہتے ہیں اور میں انہیں نیازی بیٹا کے نام سے مخاطب کرتا ہوں –
فون پر میری بات سُن کر نیازی بیٹا فورا بند روڈ کے اس مالک مکان کے گھر پہنچے – دروازے پر دستک دی تو وہ بندہ باہر نکلا – ہٹا کٹا پہلوان ، گلے میں سونے کی زنجیری ، منہ میں پان ، ململ کے کُرتے اور ریشمی دھوتی میں ملبوس خاصا کھڑپینچ لاہوری لگتا تھا – نیازی بیٹے نے اُس سے کوئی بات کیئے بغیر سیدھا اُس کو گریبان سے پکڑ کر کہا “اوئے ، تم ہوتے کون ہو میرے بابا جانی کے عزیزوں سے پنگا لینے والے —– ؟ – کل شام تک تین لاکھ روپیہ انہیں واپس کردو ، ورنہ تمہارا حشر دُنیا دیکھے گی “ –
بندہ نیازی کا جارحانہ رویہ دیکھ کر سہم گیا – مریل سی آواز میں بولا “ ٹھیک ہے“-
دوسرے دن شام سے پہلے اُس نے تین لاکھ روپیہ اُن لوگوں کو واپس دے دیا –
اللہ سلامت رکھے ، نیازی بیٹے کی مجھ سے محبت عقیدت کی حدوں کو چُھوتی ہے – آُن کے ایک سٹوڈنٹ نے بتایا کہ سر نیازی نے اپنے کلاس روم میں میری پکچر لگا رکھی ہے – کلاس روم میں قدم رکھتے ہی پہلے میری پکچر کو سلام کرتے ہیں ، اس کے بعد لیکچر کا آغاز کرتے ہیں –
جب بھی میں کوئی کام کہوں نیازی بیٹا سب کام چھوڑ کر پہلے میرا کام کردیتے ہیں –
———————- رہے نام اللہ کا ————————— منورعلی ملک ——-٢٨ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

بیس سال میں اپنی ماہانہ پنشن لینے کے لیئے مجھے صرف ایک دفعہ بنک جانا پڑا – پنشن والی کھڑکی کے سامنے پنشنرز کی لمبی قطار دیکھ کر میں خاصا پریشان ہوا ، کہ اب ہر ماہ مجھے بھی اس قطار میں لگنا پڑے گا – یہ سوچ کر کہ شاید بنک میں کوئی واقفِ کار مل جائے میں بنک میں داخل ہوا تو یُوسف نامی نوجوان کیشیئر مجھے دیکھتے ہی اپنی کُرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا – یُوسف گورنمنٹ کالج میانوالی میں میرا سٹوڈنٹ رہ چُکا تھا – کہنے لگا “سر، کیسے آنا ہوا ؟“ میں نے بتایا کہ پنشن لینے آیا ہوں لیکن یہاں تو لمبی قطار لگی ہوئی ہے ، پتہ نہیں کتنی دیر انتظار کرنا پڑے-
یوسف نے پنشن فارم پر مجھ سے دستخط کروائے , جاکر پنشن والے کیشیئر سے میری پنشن کی رقم لے آیا ، اور کہنے لگا “سر، آئندہ آپ یہاں آنے کی زحمت گوارا نہ کِیا کریں – فارم پر دستخط کر کے کسی کے ہاتھ میرے پاس بھجوا دیا کریں ، میں آپ کی پنشن اُس بندے کے ہاتھ آپ کو بھجوا دیا کروں گا –
اللہ میرے سٹوڈنٹ بیٹوں کو سلامت رکھے اس قسم کی ترجیحی سہولت مجھے میانوالی میں پوسٹ آفس ، ہسپتال ، کچہری اور دوسرے سرکاری دفاتر میں ہر جگہ مل جاتی ہے – مجھے قطار میں نہیں لگنا پڑتا — اللہ کے اس خاص کرم کا جتنا بھی شُکر ادا کیا جائے کم ہے ———————- رہے نام اللہ کا ————————— منورعلی ملک —٢٩ نومبر  2022

میرا میانوالی- 

میانوالی کے معروف سرجن ڈاکٹر شیر گُل خان نیازی بھی میرے بہت پیارے بیٹے ہیں – موصوف ایف ایس سی میں میرے انگلش کے سٹوڈنٹ رہے – جب وہ سول ہسپتال داؤدخیل میں تعینات تھے میرے ایک قریبی عزیز نے مجھے ڈاکٹر صاحب سے سفارش کے لیئے کہا – معاملہ یہ تھا کہ ایک جھگڑے میں ان صاحب کا بھائی زخمی ہو گیا تھا ۔ اور وہ مخالفین کے خلاف تگڑا سا کیس بنوانے کے لیئے ڈاکٹر صاحب سے حسبِ منشا رپورٹ لینا چاہتے تھے – میں نے ڈاکٹر صاحب کو فون پر یہ قصہ بتا دیا – دوسرے دن ڈاکٹر صاحب نے مجھے فون پر کال کرکے کہا “ سر ، میں نے زخمی کا علاج بھی کردیا ہے اور فریقین کی آپس میں صلح بھی کرادی ہے تاکہ معاملہ آگے چل کر مزید خراب نہ ہو-
ایک دن شام کے بعد میں کچھ دوستوں کے ہمراہ لالا عیسی خیلوی سے ملنے گیا تو لالا کی یہ حالت تھی کہ چارپائی سے اُٹھ کر ہاتھ بھی نہیں ملا سکتے تھے – گردن کے پٹھوں میں شدید درد تھا – کھانا کھانے بیٹھے تو ایک آدمی نے لالا کو بانہوں میں اُٹھا کر کُرسی پر بٹھایا – میں نے کہا یار ، اللہ معاف کرے ، یہ کیا حالت بنا رکھی ہے ، کسی ڈاکٹر کے پاس چلے جانا تھا – لالا نے کہا “ بھائی صاحب ، عیسی خیل میں ڈاکٹر کہاں سے آئے – سرکاری ہسپتال بھی خالی پڑا ہے – وہاں بھی کوئی ڈاکٹر ان دنوں نہیں ہے – پیناڈول Panadol وغیرہ پر گذارہ چلا رہا ہوں – مگر ککھ فرق نہیں پڑ رہا –
میرے فون میں ڈاکٹر شیرگل خان نیازی کا نمبر موجود تھا – میں نے ڈاکٹر صاحب کو فون کر کے ڈاکٹر صاحب سے لالا کی بات بھی کروا دی ، اور اُن کی بتائی ہوئی دوائیں منگوا کر لالا کے درد کا درماں بھی کردیا –
———————– رہے نام اللہ کا ——————————- منورعلی ملک —–٣٠ نومبر  2022

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top