چاپری کی مختصر تاریخ و تعارف
خٹک بیلٹ کی ایک اور اہم قصبہ چاپری ہے۔ جس کی آبادی 2017 ء کی مردم شُماری کے مطابق 13243 نفوس پر مشتمل تھی جبکہ 2023 ء میں یہ آبادی 15723 نفوس تک بڑھ چکی ہے ۔جس میں 7823 مرد اور 7900 خواتین شامل ہیں ۔پہاڑوں کے دامن میں آباد چاپری ایک قدیم قصبہ ہے۔کوٹ چاندنہ اور کمر مشانی سے پختہ سڑک چاپری کو جاتی ھے،ان دو شہروں سے چاپری کا فاصلہ تقریباً سترہ کلو میٹر بنتا ھے اور اس موضع سے متصل خیبر پختونخوا کا ضلع کرک ھے۔ایک اندازے کے مطابق یہ قصبہ 300 سال قبل آباد ہوا ۔لفظ چاپری کی وجہ تسمیہ کے بارے میں تین روایات بیان کی جاتی ہیں، پہلی روایت کے مطابق چاپری لفظ چپر سے ماخوذ ہے ،جس کے معنی “کونہ” کے ہے، چاپری کی آبادی پہاڑ میں درہ چچالی کےایک کونے میں آباد تھی، اس لیے اسے چپر کہا جانے لگا اور یہی لفظ بعد ازاں چاپری مستعمل ہو گیا، دوسری روایت کے مطابق چاپری در اصل لفظ ” چاہ پری “سے ماخوذ ہے جس کا مطلب پری کا کنواں ہے، جبکہ تیسری روایت یہاں کے مندوری قبیلہ کے لوگ بیان کرتے ہیں، کہ اس علاقے میں ہمارے قبیلہ کے ایک بزرگ شیخ چچالی رحمتہ اللہ علیہ تشریف لائے تھے جو پیر اف کر بوغہ کے مرید کی حیثیت سے یہاں فروکش ہوئے، اور ان کی رہائش کے لیے ایک چھپری بنائی گئی ،یہی چھپری بعد ازاں چاپری کے نام سے مشہور ہوئی۔وجہ تسمیہ کا تاریخی تحریری حوالہ نہیں بلکہ یہ سینہ بہ سینہ منتقل ھوتی روایات ہیں ۔جدید تحقیقی دور میں شاید کوئی نیا نظریہ سامنے آ جاۓ ۔پہلے پہل یہ آبادی پہاڑی کے اوپر تھی اور جب آبادی بڑھنے لگی تو پہاڑی سے نیچے موجودہ جگہ پر نقل مکانی شروع ہو گئی، یہ روایت قابل قبول بھی لگتی ہے کیونکہ شیخ سے چچالی رحمتہ اللہ علیہ کی قبر مبارک پہاڑی کے اوپر قدیم ڈیم کے ساتھ موجود ہے، جہاں چیت کے مہینے میں ہر جمعرات کو میلہ لگتا تھا اور اس مزار کے مجاور مندوری قبیلہ کے لوگ تھے ،نزرانے وغیرہ بھی اسی قبیلہ کے مجاور وصول کرتے تھے۔ چاپری کا قصبہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے پہاڑی علاقوں خصوصا کرک سے آنے والے قافلوں کا پڑاؤ تھا ،سکھوں نے اپنے دور میں یہاں ایک چیک پوسٹ بنائی تھی، چاپری میں ایک مقام کو مغل کھنڈ بھی کہتے ہیں، غالب امکان یہی ہے کہ سکھوں سے قبل مغل حکمرانوں نے بھی یہاں اپنی چیک پوسٹ بنائی ہوگی ،جس وجہ سے اس مقام کو مغل کھنڈ کہتے ہیں۔ چاپری کے قدیم باشندوں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو بھی شامل تھے،ہندو یہاں دکانداری کرتے، اینٹیں اور مٹی کے برتن بناتے اور پھٹکڑی کا کاروبار کرتے تھے، بہت سے ہندوؤں نے شیخ چچالی رحمتہ اللہ علیہ کے دست مبارک پر بیعت کر کے اسلام قبول کر لیا تقسیم کی ہند کے وقت بہت سے ہندو بھارت چلے گئے لیکن ایک ہندو گیان نامی نے اسلام قبول کر لیا اور اس کا اسلامی نام فضل الرحمن رکھا گیا۔ بھارت ہجرت کرنے والے ہندوؤں کو انتہائی عزت و احترام اور بحفاظت رخصت کیا گیا یہی وجہ ہے کہ 2007 ء میں بھارت چلے جانے والے ہندوؤں میں سے چند ایک چاپری میں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے ائے تو انہیں اپنی جنم بھومی میں آمد پر وہی اپنائیت ملی، جو تقسیم سے پہلے حاصل تھی۔ موجودہ چاپری میں بانگی خیل گڈی خیل اور اور مندوری قبائل کثیر افرادی قوت کے ساتھ بستے ہیں ۔یہ تینوں قبیلے کئی ذیلی شاخوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ،جو اپنی الگ الگ شناخت رکھتے ہیں۔ مثلا مندوری قبیلہ سپین خیل، بہادر خیل، عزیز خیل، اجمیر خیل، گلمیر خیل ،چوڑا خیل، گلن خیل،حریف خیل اور ترنی خیل شاخوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔جو اب اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں ۔اسی طرح بانگی خیل اور گڈی خیل جن کا اوپر جد امجد ایک ہی ہے۔ اب سمال خیل ،معطول خیل ،شنو خیل، کاظم خیل، نوراخیل اور کتل خیل شاخوں میں بٹ چکے ہیں ،بانگی خیل اور گڈی خیل کی یہ سب شاخیں اپنا شجرہ نسب خٹک قبیلہ سے تسلیم کرتے ہیں، جبکہ مندوری پشتو بولنے کے باوجود اپنے اپ کو خٹک تسلیم نہیں کرتے بلکہ ان کے دعوے کے مطابق ان کا سلسلہ نسب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتا ہے. یہی وجہ ہے کہ باؤلے کتے کے کاٹے کا دم صرف مندوری خاندان کے پاس ہے۔ اس کا ہد’ی یعنی بزرگوں سے ملنے والی دم کرنے کی اجازت کسی خٹک کے پاس نہیں ہے۔ چاپری میں آباد دیگر ذاتوں میں قریشی، لوہار، درکھان ،حجام ،موچی، زرگر اور چند ایک بھٹی گھرانے شامل ہیں۔ زرگر ابھی تک اپنے قدیم پیشے سے وابستہ ہیں۔بالاج جیسل ۔
موضع چاپری کا کل رقبہ 1,19,118کنال اور چھ مرلے ہے۔ اور کثیر رقبہ کے مالک و قابض مندوری قبیلہ کے لوگ ہیں ۔ تقریباً تیس فیصد رقبہ سے پانی سیراب ہوتا تھا ،انگریزی دور میں کسی بزرگ کی دعا سے ایک چشمہ نکلا تھا ،جو کافی عرصہ زمینوں کو سیراب کرتا رہا، جب لوگوں کے عقائد خشک ہونے لگے تو چشمہ بھی خشک ہو چکا ہے۔ دنیا بدلی، چشمہ خشک ہوا تو لوگوں نے اپنے چشمے کھود کرٹیوب ویل لگا لیے ،اب تک چاپری کے زرعی رقبے پر درجن بھر ٹیوب ویل لگ چکے ہیں ۔زیادہ تر لوگوں کا پیشہ کاشتکاری ہے اور جو باقی بچتے ہیں وہ فوج اور ملیشیا کا رخ کر لیتے ہیں۔ فوجی اور نیم فوجی اداروں میں بھرتی ہونے کے تناسب اس طرح ہے کہ 70 فیصد لوگ ملئشیا میں اور 30 فیصد لوگ فوج کی ملازمت میں ہیں۔ فوج میں بہت سے لوگوں نے عہدے بھی حاصل کر لیے ہیں فوج کے پہلے آفیسر کیپٹن احمد خان تھے جن کا چاپری میں دو منزلہ بنگلہ تھا ۔ان کے علاوہ انگریزی دور میں برٹش آرمی میں اعزاز پانے والے صوبےدار نوروز کا تعلق چوڑا خیل قبیلہ سے تھا ،جسے دوسری جنگ عظیم میں ملٹری کراس کا تغمہ ملا تھا۔
چاپری کی ایک وجہ شہرت ایک تو قدیم واٹر ڈیم ھے جو ملک امیر محمد خان نواب آف کالاباغ کے دور گورنری میں بنایا گیا تھا ۔چچالی کے پانی کو ذخیرہ کر کے آبپاشی و ابنوشی کے لئے استعمال کیا جانا تھا ۔لیکن یہ منصوبہ ڈیم میں ریت بھر جانے کی وجہ سے ناکام ہو گیا لیکن ہر شر میں خیر کا پہلو بھی چھپا ھوتا ھے ،اس ڈیم کی وجہ سے یہ ایک خوبصورت تفریحی مقام بن گیا ۔یہیں پہ شیخ شیخالی یا شیخ چچالی رحمتہ اللہ علیہ جسے شیخ نیکہ صاحب بھی کہتے ہیں کے مزار پر میلہ بھی لگتا تھا ۔اس میلے پر خٹک بیلٹ کے علاوہ کالاباغ و کوٹ چاندنہ ،کمر مشانی بلکہ ضلع کرک کے لوگ بھی آتے تھے لیکن وہاں قمار بازوں اور منشیات فروشوں نے بھی اپنے رنگ دکھاۓ تو میلے کا رنگ اڑا دیا ۔اب تفریح کا نیا مقام نیا واٹر ڈیم ھے ،جس پر مخصوص تہواروں پر نوجوان جمع ھو جاتے ھیں ۔چاپری کے باسی اگرچہ ذاتی دشمنیوں کا شکار بھی رہتے ہیں لیکن قدیم دور سے جب یہ کھیل کے میدان میں اترتے ہیں تو ذاتی دشمنیوں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ،اور اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہیں ،پرانے وقتوں میں جب کبڈی کا میدان سجتا تھا تو ملک اول جمیر خان نمبر دار ،محمد امین زرگر اور حضرت میر کا کھیل دیکھنے کے قابل ھوتا فوج داد اور موج داد دو بھائیوں کی جوڑی نے بھی کبڈی کے میدانوں میں خاصی رونق لگائ رکھی اور اپنی جرآت کا لوہا منوایا ،ہار جیت ھوتی رہتی ،کبڈی کے مقابلے ٹولہ منگلی والوں سے ھوتے ،شازو نادر جھگڑے بھی ھو جاتے کیوں کہ کبڈی انتہائی جذباتی کھیل ہے لیکن اہلیان چاپری زیادہ تر پر آمن ہی رہتے ۔افسوس اس کھیل کو جاری نہ رکھ پائے ،مگر ایک اور عسکری قسم کی رسم چند عرصہ پہلے تک جاری رہی ،وہ تھی عیدالفطر کے موقع پر نشانہ بازی کے مقابلے ،عیدالفطر کے موقع پر پہاڑ کے دامن میں نشانہ بازی کے مقابلے ھوتے جہاں سینکڑوں لوگ جمع ہوتے ،مقابلہ جیتنے والے ماہر نشانہ باز کے گھر لوگ مبارک دینے جاتے اور کئی روز تک یہ مقابلے نجی محفلوں میں موضوع گفتگو رہتے ،اسلحہ سے محبت پہاڑوں کے مکینوں کی قدیم روایت رہی ہے ۔چاپری کے لوگ بھی کوئی نہ کوئی موقع اسلحہ چلانے کا ڈھونڈ ہی نکالتے ۔کسی کے گھر بیٹا پیدا ھوا ،فائر کی آواز گونجی اور دوست احباب کو موقع مل گیا ،اپنا ہتھیار اٹھایا،مبارک دینے پہنچ گۓ،،حسب توفیق ھوائ فائر کیے اور مبارک باد کی مٹھائی موقع پر کھا لی ،اور پھر مناسب موقع پر “ڈز مڑے ” کی دعوت بھی اڑائی ۔اس کے علاوہ چاپری میں تازی کتے بڑے شوق سے پالے جاتے تھے بیل دوڑ کے مقابلے ھوتے ،یہ مقابلہ جیتنے کی کوشش خود روکھی سوکھی کھا کر بیلوں کو مکھن اور گھی کھلاۓ جاتے ،لیکن ان رسموں رواجوں کو نجانے کس کی نظر کھا گئی ،اب نوجوان کرکٹ اور موبائل فون کے شیدائی ھو چکے ھیں ۔
چاپری میں اپنے بزرگوں کا ادب واحترام تو خون میں شامل تھا دیگر قبیلوں کے بزرگوں کی ڈانٹ ڈپٹ چپ چاپ برداشت کر لی جاتی جیسے نور خان کتل خیل جس کے ہاتھ میں صرف چھڑی ھوتی لیکن اس کے ادب و احترام کا یہ عالم کہ کوئی چاپری میں ننگے سر نہیں پھرتا تھا ۔لیکن زمانے کی ہوا سب
روایتوں اور قدروں کو آڑا لے گئی ھے ۔۔۔
۔۔سابق چیئرمین حاجی اقبال خٹک کے بقول چاپری کے قدیم باشندے سپین خیل شاخ کے لوگ ہیں یہی زیادہ رقبوں کے مالکان ہیں باقی مندوری کرک کے علاقے لتمبر کے قریب مندوری گاؤں سے نقل مکانی کر کے یہاں آۓ ہیں اور انہوں نے خوانین آف عیسیٰ خیل سے رقبے خریدے ہیں ۔خوانین آف عیسیٰ خیل کو زمینوں پر قلنگ کی صورت میں ٹیکس وصولی کا اختیار حاصل تھا جو ٹیکس ادا نہ کر پاتے تو زمین خوانین کے حوالے کر دیتے تھے یہ زمینیں بھی سپین خیلوں کے علاوہ خٹک قبیلہ کے مرزا اور بہرام کی نسل کی بھی ملکیت تھیں جو خوڑہ موضع چک بلبلی سے نقل مکانی کر کے آۓ تھے ،اور حاجی اقبال خٹک کے بقول ہم گرمیوں میں خوڑہ چلے جاتے تھے اور سردیوں میں واپس آ جاتے تھے ۔چاپری میں جو خٹک قبائل آباد ہیں یہ سب مرزا و بہرام کی اولاد کی ذیلی شاخیں ہیں ۔مرزا و بہرام دو بھائی تھے جو گڈی خیل خٹک قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ گڈی خیل آرمی و دیگر پیرا ملٹری فورسز میں بھرتی ھونا اپنی آزاد پسند طبیعت کے منافی سمجھتے تھے ،اور اس لیے افواج اور پیرا ملٹری فورسز میں ان کی بھرتی کا کوٹہ مقرر نہیں تھا اگر کوئی گڈی خیل بھرتی ھونا چاہتا تو بانگی خیل قبیلے کے کوٹے پہ بھرتی ھوتا تھا
بالاج جیسل (محمد اقبال حجازی) راجپوت بھٹی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار استاد، حساس قلمکار، اور تہذیبی ورثے کے سچے محافظ ہیں۔ انہوں نے تین دہائیوں تک تدریس سے وابستہ رہتے ہوئے علم کی روشنی پھیلائی، اور ساتھ ہی ساتھ کالاباغ، کوٹ چاندنہ اور میانوالی کی ثقافت، یادیں اور تاریخ اپنے سادہ مگر پُراثر انداز میں قلمبند کیں۔ ان کی تحریریں خلوص، سچائی اور دیہی زندگی کے جذبے سے لبریز ہوتی ہیں۔ وہ فیس بک پر فعال ادیب ہیں اور اپنی زمین، لوگوں اور ماضی سے جڑے تجربات کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل لکھ رہے ہیں۔۔ اُن کا قلم مقامی زبان، محبت اور روایت کا ترجمان ہے
KAMAR MUSHANI
KHAGLAN WALA
Sultan Khel, Isa Khel Mianwali — Tareekh, Tehzeeb aur Maujooda Halaat
TOLA BHANGI KHEL
TEHSIL ISAKHEL KE DIHH O QSBAT KA TAARUF. BALAJ JISL KE QALAM SE
The Khattak Belt A Comprehensive Profile -Isa Khel Tehsil
TOLA MANGALI
KOTKI BAIRONI -ISA KHEL – Historical Background & Overview
MOHABBAT KHEL .TOLA MANGLI . KHATTAK BELT
Chapri Ki Mukhtasar Tareekh-o-Taaruf
