MERA MIANWALI APRIL 2019

میرا میانوالی

منورعلی ملک کے اپریل 2019 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی—————-

پیر فرید فقیر نے کہا تھا —-

پیلوں پکیاں نی وے آ چنڑوں رل یارپیر سائیں نے جس یار کو بلایا تھا وہ تو اپنے عرش سے کبھی زمین پر اترا ھی نہیں – عشق کی باتیں ھیں – کسی نہ کسی بہانے اللہ والے لوگ اپنے محبوب کو سامنے بٹھا کر دیکھنے کے لیے اس قسم کے بہانے بناتے رھتے ھیں – صرف اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے کہ “کل ماھی آسی“-


بات بہت دور نکل گئی – ذکر ھے پیلو کا جسے ھماری زبان میں پیلوں ، اردومیں پیلو کہتے ھیں – پیلوں تھل کا خود رو میوہ ھے جو جال نامی درخت پر لگتا ھے – جال بڑا عجیب و غریب درویش صفت درخت ھے – جڑ سے لے کر چوٹی تک اس کی ایک شاخ بھی سیدھی نہیں ھوتی –

ھمارے علاقے میں زیادہ تر قبرستانوں میں جال کے بہت سے درخت ھؤا کرتے تھے- میاں رمدی صاحب کے مجاوروں نے تو تمام درخت کٹوا دیئے – میاں کھچی صاحب اور بابا موج علی شاہ کے قبرستانوں میں شاید اب بھی موجود ھوں – پیلوں ان درختوں پر بھی لگتی تھیں ، مگرھماری نانیاں دادیاں کہا کرتی تھیں خبردار ان پیلوؤں کوھاتھ نہ لگانا – یہ درخت جنوں کی ملکیت ھیں ۔ پیلوں منہ میں ڈالی تو گلا گھونٹ دیں گے – ان پیلوؤں پر پرندے عیاشی کرتے تھے- شاید جنوں سے ان کی دوستی تھی –

محلہ امیرے خیل کے جس گھر میں میرا بچپن گذرا اس کے آس پاس بھی کچھ جال کے درخت تھے- مگر ان درختوں پر پھل بہت کم آتا تھا – میں اور میرا دوست گلزارخان (مرحوم) ایک جال کے درخت پر چڑھ کر دن بھر گپیں لگایا کرتے تھے-

پیلوں کے درخت کو رب کریم نے بے حساب صفات عطا کی ھیں – اس کی جڑکا مسواک دنیا کے کسی بھی ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ سے کم نہیں — اندازہ کیجیے کہ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (World Health Organisation) نے بھی اسے دانتوں اور مسوڑھوں کے لیے ادویات کی لسٹ میں شامل کر رکھا ھے – بڑے شہروں میں بھی عام ملتا ھے – بلکہ اب تو برش کی طرح خوبصورت پیکنگ میں بھی دستیاب ھے –

پیلوں پھل گہرے سرخ ، گلابی اورپیلے رنگ کا ھوتا ھے — چنے کے دانے جتنا یہ رسیلا میوہ ایک ایک کر کے کھائیں تو زبان پر جلن محسوس ھونے لگتی ھے- اس لیے پیلوں مٹھی میں بھر کرایک ساتھ منہ میں ڈالتے ھیں – قدرت کی یہ تخلیق بھی کئی موسمی بیماریوں کا علاج ھے –

کالاباغ کی سبزی منڈی میں پیلوؤں کے ٹوکرے دیکھنے میں آتے تھے – شاید اب بھی آتے ھوں –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 1 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-یادیں —–

جناح ھال میانوالی —- یکم اپریل 2018


وقاراحمد ملک کے افسانوں کے مجموعے
رات ، ریل اور ریستوراں کی تعارفی تقریب

بشکریہ-منورعلی ملک– 1 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

دنیا نہ تو اس وقت جنت تھی نہ اب —- دکھ ، درد، محرومیاں تب بھی تھیں ، اب بھی ھیں – پھر بھی یوں لگتا ھے وہ دور آج سے بہتر تھا – دکھ ، درد، بیماریاں ، لا علاج نہ تھیں – اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ سب لوگ ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر آپس میں تعاون کرتے تھے- آج ساتھ والے گھر میں کوئی مررھا ھو تو ھم بیمار پرسی کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے – اس وقت اگر کوئی ھمسایہ یا رشتہ دار ملیریا جیسی عام بیماری میں بھی مبتلا ھوتا تو اس کی عیادت کے لیے جانا فرض سمجھا جاتا تھا – یہی نہیں ، علاج میں تعاون کے لیے کچھ نہ کچھ پیسے دینا بھی ضروری سمجھا جاتا تھا – مکان کی تعمیر، بچوں کی شادیوں وغیرہ کے مواقع پر بھی رشتہ دار مالی تعاون کرتے تھے— لوگ پیسے کی طرح غریبی بھی آپس میں بانٹ لیتے تھے-آج لوگ خوشحال ھیں – ھرطرح کی سہولیات میسر ھیں ، پھر بھی سب پریشان ، محبت ۔ ھمدردی، تعاون کی جگہ نفرت، حسد ، خود غرضی کا راج ھے –
نفسا نفسی کے اس دور میں بھی بحمداللہ ھمارے دیہاتی علاقوں میں محبت ، ھمدردی اور تعاون کی روایات کسی حد تک موجود ھیں , جیسے اندھیری رات میں آباد بستیوں کی نشان دہی کرتے چراغ — یہی اچھی روایات ھمیشہ میرا موضوع رھی ھیں ، اور انشآءاللہ آئندہ بھی رھیں گی –
رھے نام اللہ کا —-
بشکریہ-منورعلی ملک– 2 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

کل کی پوسٹ میں بیمارپرسی کی بات ھوئی ، اس ضمن میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حدیث طیبہ کا مفہوم یاد آگیا —-

سرکار نے فرمایا روز حساب رب جلیل ایک آدمی کا حساب لیتے ھوئے کہے گا- جب میں بیمار تھا تو تو میری عیادت کے لیے کیوں نہیں آیا ؟“

وہ شخص حیران ھو کر کہے گا “ اے میرے رب کریم ، آپ تو ھر عیب سے پاک ھیں – آپ بیمار کیسے ھو سکتے ھیں ؟“

ارشاد ھوگا “ میرا فلاں بندہ بیمار تھا – اگر تو اس کی بیمار پرسی کے لیے آتا تو میں وھیں موجود تھا “-

بیمار پرسی کی اھمیت کا اندازہ اس بات سے بھی کیجئے کہ سیدالانبیاء علیہ السلام نے جن دعاؤں کی قبولیت کو یقینی قرار دیا ، ان میں مریض کی دعا بھی شامل ھے – آپ کسی کی عیادت کو جائیں تو وہ آپ کو دعا ضرور دیتا ھے – کیا خبر آپ کی کئی مشکلات اسی دعا کی منتظر ھوں –

اب آپ کہیں گے کیا کریں سرجی , ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں ملتا – عجیب منطق ھے — جن کاموں میں آپ دن رات مصروف رھتے ھیں ،کیا وہ سب کام سدھر جاتے ھیں – ؟؟؟؟
وماعلینآالاالبلاغ ——-

رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 3  اپریل 2019

شب معراج پہ اپنا تازہ شعر————-

Shab e Barat HD Wallpapers 2015 Download
جبریل ھاتھ جوڑ کے کہنے لگے ‘ حضور
آگے مری مجال نہیں ، آپ جائیے

میرا میانوالی—————-

1507335236_Wheat

گندم کی کٹائی کا موسم آگیا – اس موسم کو “لؤاں دا موسم“ کہتے تھے- گندم کی فصل سے پیداوار حاصل کرنے کا پہلا مرحلہ کٹائی ، دوسرا گہائی ، تیسرا اڈاری اور چوتھا مرحلہ ڈھیری ھوتا تھا –
کٹائی مردعورتیں مل کر درانتیوں سے کرتے تھے- گہائی گندم کے پودوں کو پانچ سات بیلوں کے پاؤں تلے روند کر خوشوں (سٹوں) سے دانے نکالنے کا عمل تھا – کھلے میدان میں جس جگہ گہائی ھوتی تھی اسے کھلواڑا کہتے تھے- گہائی کے بعد ملے جلے بھوسے اور دانوں کو ترینگل ، کراھی یا چھاج کے ذریعے اچھالتے تو بھوسا اڑ کر الگ ھو جاتا ، دانوں کی ڈھیری سی بن جاتی تھی – اڈاری کے کام میں قدرت بھی مدد کرتی تھی – دن بھر تیز ھوا چلتی رھتی جو تھریشر کے پنکھے کا کام کرتی تھی – ڈھیری کی گندم بوریوں میں بھر کے لوگ گھر لے جاتے تھے- ڈھیری بھرنے اور تقسیم کا عمل ایک الگ داستان تھا – دور افتادہ دیہات میں شاید اب بھی یہی ٹیکنالوجی چل رھی ھو –
رھے نام اللہ کا —
بشکریہ-منورعلی ملک– 4 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

جن لوگوں کی اپنی زمین نہیں ھوتی تھی ، وہ سال بھر کی ضروریات زندگی کے لیے نہری علاقوں میں جا کر اجرت پر گندم کی کٹائی کرتے تھے- اجرت ھر فرد کو اس کی کاٹی ھوئی گندم کا دسواں حصہ (دسویں گڈی) ملتا تھا –

مرد , خواتین دونوں کٹائی کا کام کر تے تھے ، تاکہ زیادہ گندم ملے – پورے پورے کنبے اس کام کے لیے جایا کرتے تھے – فصل کی کٹائی کو “لؤ“ کہا کرتے تھے – یہ تقریبا ایک ماہ کا کام ھوتا تھا جانے والوں کی رخصت کے مناظر بہت جذباتی ھوتے تھے – الوداع کہتے کے لیے عزیز ، رشتہ دار ریلوے سٹیشن تک ساتھ جاتے تھے – وقت رخصت لوگ گلے مل کر رویا کرتے تھے، کیونکہ ایک ماہ تک دونوں طرف سے خیر خبر معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا – موبائیل فون کا زمانہ نہیں تھا – خط و کتابت بھی آسان نہ تھی – جانے والوں کے بوڑھے والدین ٹرین کی کوک سن کر آھیں بھرتے ھوئے دعاؤں کے لیے ھاتھ اٹھا دیتے تھے – یہ ماھیا اسی دور کا تھا :

گڈی کوک مریندی اے
نت پئی مارے وچھڑے سجن ملیندی اے

اکثر لوگ اپنے حصے کی گندم اونٹوں پر لدوا کر خود ٹرین سے واپس آجاتے تھے – گھر کا سال بھر کا خرچ گندم ھی سے چلتا تھا – جو چیز بھی لینی ھوتی گندم کے بدلے خریدلی جاتی – پیسہ بھی ضرورت پڑتا تو گندم کے بدلے دکان داروں سے خریدا جاتا تھا – نقد پیسہ صرف سرکاری ملازموں یا دکان داروں کے پاس ھوتا تھا –
تمام تر غریبی کے باوجود لوگ مطمئن اور رب کی رضا پہ راضی رھتے تھے-

گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ
– رھے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک– 5  اپریل 2019

موسم دی گل ————-


بشکریہ امیر انور خان

میرا میانوالی—————-

ملک سکندرحیات اور نیازمحمد بھمب نے ونگار کے بارے میں لکھنے کی فرمائش کی ھے- تقریبا ایک ماہ پہلے میں نے ونگار کے بارے میں مفصل پوسٹ لکھی تھی – جس میں میں نے کہا تھا کہ ھمارے داؤدخیل میں ونگار کو “مانگ“ کہتے تھے – اس پوسٹ میں مانگ کے خصوصی حلوے کا بھی مفصل ذکر تھا – ان دوستوں کی نظر سے شاید وہ پوسٹ نہیں گذری – میری ٹائیم لائین سے دیکھ لیں آج ذکر ھے گندم کی ان اقسام کا جو ھمارے بچپن کے دور میں ھمارے علاقے میں کاشت کی جاتی تھیں – آج کل تو میکسی پاک وغیرہ جیسی بہت سی اقسام چل رھی ھیں – یہ سب اقسام غیر ملکی ھیں ، جن کے لیے بہت سی کھاد اور پانی درکار ھوتا ھے- ان کا یہ فائدہ ھے کہ پیداوار بہت زیادہ ھوتی ھے – بڑھتی ھوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہی اقسام زیادہ موزوں ھیں –

ھمارے بچپن کے زمانے میں ضلع میانوالی کا اکثر علاقہ بارانی تھا – آبپاشی کا دارومدار بارش پر تھا – اس وقت صرف دوقسم کی دیسی گندم کاشت ھوتی تھی – ایک چٹی (سفید) کںڑک ، دوسری رتی (لال) کنڑک کہلاتی تھی – چٹی کنڑک کا پودا اور سٹا تو آج کل کی ولائتی گندم جیسا ھوتا تھا ، مگر خوشبواور ذائقہ مختلف تھا – رتی کنڑک کے سٹے پر مونچھوں جیسے سخت بال نہیں ھوتے تھے – اس لیے اسے روڈی (گنجی) کنڑک بھی کہا جاتا تھا –

بے مثال خوشبو، ذائقے اور توانائی سے بھرپور رتی کنڑک کی روٹی کا ایک اپنا مزا تھا – ٹھنڈی ھو کر بھی وہ روٹی پھولوں کی طرح نرم رھتی تھی – اکثرلوگ یہ روٹی شوقیہ طور پر سالن کے بغیر بھی کھایا کرتے تھے-

آپ بھی کہیں گے ،سر یہ کیا جاھلوں والے قصے چھیڑ دیے – اس ممکنہ اعتراض کے جواب میں ایک شاعر کا مصرعہ یاد آ رھا ھے –
ھائے کم بخت تو نے پی ھی نہیں

آپ ان چیزوں کی قدر کیا جانیں ، کیا زمانہ تھا ، خالص چیزیں ، خالص لوگ —-!!!!!

گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ
رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک– 6 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

سراپا محبت ھے یہ شخص – سرائیکی وسیب کا سارا حسن اس کی شخصیت میں یکجا نظر آتا ھے –

تنویر شاھد محمد زئی کو کون نہیں جانتا – سرائیکی وسیب کے اھل علم وقلم میں صف اول کے قلمکار ھیں – بہت اچھے شاعر بھی ، بہت معروف صحافی بھی – لالا عیسی خیلوی سے ان کی محبت کا یہ عالم ھے کہ لالا کو ان کی خدمات کی ضرورت پڑی تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لالا کے پرسنل سیکریٹری کی ذمہ داریاں سنبھال لیں – چندسال اس منصب پر کام کرنے کے بعد اھم گھریلو ذمہ داریاں نبھانے کے لیے اپنے گھر دائرہ دین پناہ (ضلع لیہ) واپس آگئے – اب وھیں مقیم ھیں –
لالا کے ھاں آتے جاتے ان سے ملاقات رھی – میانوالی کی ایک دو ادبی تقریبات میں بھی تشریف لائے -ان کی شادی سرائیکی وسیب کے اھل علم و قلم کا ایک یاد گار اجتماع تھی – میانوالی سے میرے علاوہ منصورآفاق، افضل عاجز ، مرحوم فاروق روکھڑی ، محمد محمود احمد ھاشمی، نذیر یاد رونق محفل ھوئے — بھکر سے بہاولپور تک سے اھل علم و فن احباب اس تقریب میں شریک تھے – — بہت عرصہ پہلے کی بات ھے ، سب نام یاد نہیں آرھے – شعرونغمہ کی محفل رات گئے تک جاری رھی –

اگلی صبح تنویر شاھد نے مجھ سے کہا “ملک صاحب ، یہاں کا ایک بندہ آپ سے ملنا چاھتا ھے – زحمت نہ ھو تو آئیں ، اس سے مل لیں “-

وہ بندہ ایک ھیئر کٹنگ سیلون کا مالک بیس پچیس سال کا نوجوان تھا – ھم سیلون میں داخل ھوئے – تنویر نے میرا تعارف کرایا تو بہت خوش ھؤا ، چائے وغیرہ منگوائی اور پھر ٹیپ ریکارڈر کا بٹن آن کر دیا – لالا عیسی خیلوی کی آوازمیں میرا گیت “ نت دل کوں آھدا ھاں کل ماھی آسی “ کمرے میں گونج اٹھا –

وہ نوجوان کہنے لگا “ سر، یہ گیت مجھے اتنا اچھا لگتا ھے کہ پورے کیسیٹ میں دونوں طرف یہی گیت بار بار ریکارڈ کرایا ھؤا ھے – سارادن سنتا رھتا ھوں “
میں نے کہا “بیٹا ، سارا کمال میرا نہیں ، لالا کی آواز اور انداز کا بھی اس میں بہت حصہ ھے“

دوپہر کے بعد ھم سب لوگ بہت سی حسین یادیں سمیٹ کر ٹرین کے ذریعے دائرہ دین پناہ سے میانوالی واپس آگئے –
– رھے نام اللہ کا — منورعلی ملک –7  اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

آج صبح اچانک یہ تصویر نظر سے گذری تو بہت سی حسین یادیں جاگ اٹھیں – کوھالہ سے مری واپسی کے راستے میں یہ ایک کھوکھا ٹائیپ چائے خانہ ھے ، جہاں ھم ( میں اور میرا بیٹا محمداکرم علی ملک ) ھرسال جولائی کے آخری ھفتے میں مری قیام کے دوران کوھالہ سے واپسی پر رکتے ھیں – جگہ بالکل سادہ سی ھے مگر ان کی چائے بہت لذیذ ھوتی ھے –

لاھور میں تو کھوکھا کلچر نئے روپ میں پھر نمودار ھو رھا ھے – فیصل ٹاؤن اور جوھر ٹاؤن میں اس قسم کے کئی چائے خانے حال ھی میں بنے ھیں -ایسے کھوکھا ٹائیپ چائے خانے میری کمزوری ھیں – لاھور ھو یا میانوالی ھرجگہ میں ایسی ھی جگہ چائے پینا پسند کرتا ھوں – اور سچی بات یہ ھے کہ ان لوگوں کی چائے ھوتی بھی نمبر ون ھے – غریب سہی مگر یہ لوگ دل کے غریب نہیں ھوتے

– رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک– 8  اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

اس موسم میں ھر گھر میں کم ازکم ایک دفعہ اوگرا ضرور بنتا تھا – ھم داؤدخیل کے لوگ اسے “چیترآلااوگرا” کہتے تھے – کچھ علاقوں کے لوگ شاید “بھت“ بھی کہتے ھیں – یہ صبح ناشتے کے طورپر استعمال ھوتا تھا – اوگرابہت سادہ سی چیز تھی – چکی پردلی ھوئی گندم کو پانی میں ابال کر ٹھنڈا کر لیتے اور اس میں گڑ کا شربت ملاکر کھایا کرتے تھے – بے حد مزیدار چیز تھی –

اس زمانے کی خالص دیسی گندم اور شہد جیسا میٹھا سرخ پشاوری گڑ تو اب خواب و خیال کی باتیں ھیں – تاھم کسی حد تک وھی لطف حاصل کرنے کے لیے اچھی قسم کا گندم کا دلیہ ( فوجی یا رفحان کا) ابال کر اس میں گڑ کا شربت ملا کر کھایا جا سکتا ھے – میں کبھی کبھی شوقیہ اب بھی بنوالیتا ھوں -سوچنے کی بات یہ ھے کہ اوگرا صرف اسی موسم میں کیوں کھایا جاتا تھا – پرانے وقتوں کے لوگوں کی اپنی سائنس تھی ، جو کتابوں میں تو کہیں نظر نہ آئی ، لیکن اس کے اصولوں پر باقاعدگی سے عمل ھوتا تھا- اس موسم میں اوگرا کھانے کے یقینا کچھ خاص فوائد ھوں گے – کوئی حکیم صاحب ھی بتا سکیں گے –

سیداختر حسین نقوی نے جس اوگرا کا ذکر اپنے کمنٹ میں کیا ھے ، وہ بچی کھچٰی روٹی کے تکڑوں کو بانی میں ابال کر اس میں بہت سا گھی اور شکر ڈال کر بنتا تھا – وہ بھی بہت مزے کی چیز تھا –

آج کل اوگرا اس ادارے کا نام ھے جو ھر ماہ تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر لوگوں کی زندگی عذاب بنا رھا ھے – مگر یہ انگریزی والا اوگرا (OGRA) ھے – ھماری سرائیکی والا نہیں –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–9  اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

کل کی پوسٹ میں میں نے کہا تھا پرانے زمانے کے لوگوں کی اپنی سائنس تھی ، جو کتابوں میں تو نہیں ملتی ، لیکن وہ لوگ اس پر باقاعدگی سے عمل کرتے تھے –

جی ھاں ، یہ سائنس کتابوں کی بجائے سینہ بہ سینہ ، نسل در نسل منتقل ھوتی تھی – اس کے سادہ سے اصولوں پر عمل کر کے وہ لوگ ھم سے بہتر اور زیادہ صحتمند زندگی بسر کرتے تھے – 80 / 90 سال کی عمر کے بزرگ ٹھیک ٹھاک چلتے پھرتے نظر آتے تھے – ھر موسم کے لحاظ سے ان کے اپنے اصول تھے-<چیت ، بیساکھ (بہار سمجھ لیجیے) کے موسم میں لوگ ھفتے میں ایک آدھ بار خمجیرہ ضرور کھاتے یا ابال کر پیتے تھے – خمجیرہ ایک دیسی جڑی بوٹی کا پھل ھے جو جسامت میں بیر کے برابر ، مگر بہت کڑوا ھوتا ھے – یہ قدرت کا ایک عظیم تحفہ ھے ، خون کو صاف اور جراثیم کو ختم کرتا ھے – پنساریوں کی دکانوں پر بآسانی دستیاب ھے – اگر آپ کو بھوک نہیں لگتی تو کھانے کے وقت سے پندرہ بیس منٹ پہلے ایک چمچ خمجیرہ کا بیج منہ میں ڈال کر اس کا رس چوستے رھیں ، فورا بھوک محسوس ھونے لگے گی –

ایک اور بہت اچھا اصول یہ تھا کہ اس موسم میں ایک بار صبح ناشتے سے آیک آدھ گھنٹہ بعد ایک چھٹانک (5 تولہ) کیسٹرآئیل دو چھٹانک عرق سونف میں ملا کر پی لیتے تھے – اس سے واش روم کے دوتین پھیروں میں معدہ بالکل صاف ھو جاتا تھا- ایک دو دن ٹھوس غذا کی بجائے کھچڑی یا دلیہ کھا کر پیٹ کو آرام دیتے تھے – یوں زیرو میٹر معدے کے ساتھ اگلے 6 ماہ بڑے مزے سے گذرتے تھے – ستمبر اکتوبر میں ایک بار پھر یہی عمل دھرا کر معدے کو زیرو میٹر بنا لیتے تھے –
کیا خوبصورت اصول تھے مگر—

گذرگیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 10 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

یہ جو میں ماضی کے قصے آپ کو سناتا ھوں ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آج کا زمانہ برا ھے – زمانہ کوئی بھی برا نہیں ھوتا، بلکہ ھرزمانے کے لوگوں کا کردار اس زمانے کی شناخت بن جاتا ھے –

ماضی میں لوگ سادہ، ایماندار، محنتی ، صابر و شاکر ھوتے تھے – سچ بولتے تھے – ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ھوتے تھے – وہ معاشرہ لالچ ، خود غرضی ، حسد ، منافقت سے پاک تھا- ڈاکے ، خود کشی ، معصوم بچیوں سے زیادتی ، دھشت گردی جیسی لعنتیں اس زمانے میں نہیں ھوتی تھیں – سال بھر میں ایک آدھ قتل کی واردات سننے میں آتی تھی -اچھے برے لوگ ھر زمانے میں ھوتے ھیں ، برے لوگ اس وقت بھی تھے – مگر ھم سے وہ بھی بہتر تھے – کچھ نہ کچھ اصول ان کے بھی ھوتے تھے – خواتین کی عزت کو مکمل تحفظ حاصل تھا – پرائی ماں ، بہن ، بیٹی کو اپنی ماں بہن بیٹی سمجھا جا تھا – ڈاکو اپنے علاقے میں واردات نہیں کرتے تھے- وارداتوں میں صرف مال لوٹتے تھے ، کسی کی جان یا عزت نہیں – آج کل جو کچھ ھورھا ھے آپ دیکھ رھے ھیں – لیکن ان برائیوں کا ذمہ دار زمانہ نہیں ، ھم خود ھیں – ان کا علاج بھی ھم نے خود کرنا ھے –

میں جو کچھ لکھتا ھوں اس کا مقصد آپ کو یہ یاد دلانا ھے کہ زندگی یوں بھی بسر کی جا سکتی ھے – سکھ اور سکون کی زندگی خواب و خیال نہیں – کچھ اچھی رویات اپنالیں ، بری روایات ترک کر دیں ، تو دنیا آج بھی جنت بن سکتی ھے-

جہاں تک زمانے کی بات ھے ، اللہ تعالی نے “والعصر“ کہہ کر زمانے کی قسم کھائی ھے – سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا “لا تسبوالدھر“ زمانے کو برا مت کہو –
برائی کو ختم کرنا ھے تو ابتدا اپنے آپ سے کریں ——

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک– 11 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

 آہ ناصرخان —!!!!

( آنسو جب اندر گرتے ھیں تو شعر بن کر نکلتے ھیں – یہ شعرآج ناصر خان کا جنازہ اٹھنے سے کچھ دیر پہلے وارد ھوئے ) ——————-

اے مصور، مری تصویر بنا نے والے
اے مجھے پیار کے انداز سکھا نے والے

یوں کبھی ترک تعلق نہ کیا تھا تم نے

تم نہ تھے راہ میں یوں چھوڑ کے جانے والے

تم جو ملتے تھے تو ھر درد بھلا دیتے تھے
تم کو روئیں گے بہت دیر زمانے والے

 رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 12 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

کچھ مزید باتیں کچھ یادیں ناصر خان کی ————————

نفیس مزاج ، شائستہ ۔ خوشبودار شخصیت – اپنی ان خوبیوں کی وجہ سے ان کا شمار میانوالی کی مقبول ترین شخصیات میں کیا جائے تو غلط نہ ھوگا -باکمال فوٹو گرافر تھے – کیمرے سے مصور کے برش اور شاعر کے قلم جیسا کام لیتے تھے – لالا عیسی خیلوی کی آواز میں جناب فاروق روکھڑی کے ایک گیت کا ایک مصرعہ یاد آرھا ھے

ایہو جیہا رنگ بھر ، بولے تصویر وے
اس مصرعہ میں شاعر مصور سے تصویر بنواتے وقت کہتا ھے تصویر ایسی بناؤ جو خود بول کر اپناتعارف کروائے-
ناصر سے تصویر بنوانے والوں کو یہ فرمائش کرنے کی ضرورت نہ تھی – وہ تصویر بناتا ھی ایسی تھا – رب کریم نے اسے یہ زبردست صلاحیت عطا کی تھی ، جس کے ثبوت بولتی تصویروں کی صورت میں بہت سے لوگوں کے ھاں موجود ھیں –

اللہ جانے کیوں , ناصر کو مجھ سے بے حساب پیار تھا – جب بھی ملاقات ھوتی کھٹاکھٹ دوچار پکچرز بنا لیتا تھا – پچھلے سال نجف بلوچ کے ھاتھ مجھے پیغام بھیجا کہ آپ کی کچھ تصویریں بنانی ھیں – یہ پیغام مجھے باربار ملا مگر میری مصروفیات نے اجازت نہ دی – یہ ڈر بھی رھا کہ ناصر ناراض نہ ھو جائے –

میں نے فون پر کہا “یار میں اتنا حسین وجمیل تو نہیں کہ باربار تصویریں بنواتا رھوں “
ناصر نے کہا “ سر یہی بات میرے دل کو بھی سمجھا دیں نا “-

ناصر کے لاڈلے دل کو راضی کرنے کے لیے میں دوسرے دن ناصر کے ھاں پہنچا اور بہت سی تصویریں بنوا لیں –

ناصر کا شاعری اور موسیقی کا ذوق بہت کمال کا تھا – پرانے انڈین فلمی نغموں کا میری طرح ناصر بھی عاشق تھا – روزانہ فیس بک مسینجر سے مجھے کسی نہ کسی شاھکار فلمی گیت کا ویڈیو کلپ بھیجا کرتا تھا –
رب کریم تمہاری مغفرت فرما کر اپنی رحمت خاص کا سایہ نصیب فرمائے ، ناصر خان –
ڈکھی کر کے ٹر گیا ایں
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 13 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

گندم کی فصل گھر آنے پر لوگ سکھ کا سانس لیتے تھے – دکانداروں سے لیا ھؤا سال بھر کا ادھار واپس کرنے کے بعد کچھ گندم کے عوض نقد پیسے لے کر بچوں کی شادیوں کا فریضہ بھی اسی موسم میں ادا کرتے تھے – بہت سیدھی سادی شادیاں ھوتی تھیں – شادی کی رسموں پر پچھلے سال دو چار مفصل پوسٹس لکھ چکا ھوں – آج بات جہیز کی ھوگی –
جہیز ویسے تو سنت نبوی ھے ، لیکن ھم نے مال کی حرص و ھوس میں مبتلا ھو کر اسے ایک مصیبت بنا دیا ھے – اللہ معاف کرے اب تو منہ مانگا جہیز دینا پڑتا ھے – پندرہ بیس ھزار روپیہ ماھوار کمانے والا چار پانچ بچیوں کا باپ جہیز میں بھاری بھرکم زیور کے علاوہ فرنیچر ، فریج ، ٹی وی ، واشنگ مشین ، اون ، جیسی لعنتیں کہاں سے لائے – نتیجہ یہ کہ اسی پریشانی کی وجہ سے لوگ خودکشیاں کررھے ھیں —- کئی بچیاں بھی والدین کی مجبوریاں دیکھ کر انہیں مجبوریوں سے نجات دلانے کے لیے خودکشی پر مجبور ھو جاتی ھیں ایسے المناک واقعات کا تدارک کرنے کے لیے ذھن بدلنا ھوگا – یہ کام علمائے کرام ۔ ٹیچرز اور میڈیا کر سکتے ھیں – لوگوں کو سادگی اپنانے اور منہ مانگے جہیز سے پرھیز کرنے کی ترغیب دے سکتے ھیں – کیا کوئی عالم دین ، ٹیچر یا میڈیا چینل یہ کار خیر سرانجام دے رھا ھے ؟؟؟

دوسری بات یہ کہ صاحب حیثیت لوگ اپنے گردونواح میں رھنے والے غریب گھرانوں کی بچیوں کو مناسب جہیز دلوانے میں اپنا حصہ ڈالیں – حکومت بھی بیت المال فنڈ سے اس کارخیر میں حصہ ڈالے –

سب سے اھم بات یہ کہ مجھ سمیت ھر فرد اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے – بحمداللہ ھمارے گھر میں تو یہ کارخٰیر ھوتا رھتا ھے – اپنی بساط کی حد تک ھر فرد کو یہ کام کرنا چاھیے – اس کے بدلے میں جو کچھ رب کریم دے گا اس کا آپ تصور ھی نہیں کر سکتے –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 14 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

بہترین انسان وہ ھے جو معاشرے کو کچھ دے کر اس دنیا سے رخصت ھو – کچھ اور نہ دے سکے تو کوئی اچھی روایت قائم کرجائے – آج بات ھے اس زمانے کی ایک اچھی روایت کی جس کا آغاز معروف صحافی , کالم نگار محمود شام نے حال ھی میں کیا ھے – یہ روایت ھے

“اتوار صرف اپنوں کے لیے“-اس روایت کا تعارف انہوں نے اپنے ایک کالم کے ذریعے کرایا تو لوگوں نے ان کی تجویز کو بہت پسند کیا – بہت سے لوگ اس پر عمل بھی کر رھے ھیں ، اور بہت خوش ھیں کہ اپنوں سے مل بیٹھنے کا ایک بہت اچھا موقع ھر ھفتے مل جاتا ھے –

مشترکہ خاندان کی روایت تو کب کی ختم ھو گئی – ورنہ وہ دور بھی تھا جب ایک دادا کی ساری اولاد ایک ھی گھر میں رھتی تھی – لیکن اب بھی کم از کم اتنا تو ھو سکتا ھے کہ اتوار (چھٹی کے دن) ایک خاندان کے لوگ ، باپ، بیٹے، بہن بھائی مل بیٹھیں – دوپہر کا کھانا مل کر کھائیں ، اپنے اپنے مسائل پرمشاورت کرکے تعاون کے امکانات کا جائزہ لیں –
کیا خیال ھے —– ؟؟؟؟
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 15 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

کل کی پوسٹ پر کلیم شاہ نے جو کمنٹ دیا ، اسے پڑھ کر دل خوش ھوگیا – کلیم شاہ صاحب رھنے والے میانوالی کے ھیں ، اس وقت ملازمت کے سلسلے میں موزمبیق (جنوبی افریقہ) میں مقیم ھیں –

شاہ صاحب لکھتے ھیں کہ ھم آٹھ بھائی ھیں اور سب کے سب شادی شدہ ھیں – ھم سب اپنے والدین کے زیر سایہ ایک ھی گھر میں رھتے ھیں – سب کا کھانا بھی ایک ھی جگہ بنتا ھے اللہ اکبر !!!!! کیا خوبصورت مثال ھے محبت اور ھم آھنگی کی – سلام ان والدین کو جنہوں نے اتنے بڑے خاندان کو بکھرنے نہیں دیا ، بلکہ انہیں موتیوں کی طرح ایک مالا میں پرو دیا ھے – یہ کمال محبت کا ھے – اگر انسان کو آبائی گھر میں پیار اور عزت ملے تو وہ گھر چھوڑ کر کیوں جائے- ؟
کیا ھم بھی اپنے اپنے گھروں میں ایسا ماحول نہیں بنا سکتے ؟ صبر، تحمل اور اپنائیت کا احساس ھو تو یہ کام ناممکن نہیں – ھمارے بچپن کے دور میں ایسا ھی ھوتا تھا – داؤدخیل کے اکثر گھروں میں ایک دادا کی اولاد مل جل کر رھتی تھی – ھمارے اپنے گھر کا صحن چار کنال کا ھے – میرے تمام بھائی اور کزن اسی گھر میں رھتے ھیں – مکان سب کے اپنے اپنے ھیں ، مگر صحن سانجھا ھے –

یہ سب کچھ کہنے کا مقصد یہ ھے کہ لاکھ اختلافات سہی ، اپنوں کو اپنا سمجھا جائے تو زندگی آسان ھو جاتی ھے –

مرحؤم ظفر خان نیازی نے ایک بار کہا تھا “ میرے دوست بہت اچھے ھیں ، بھائیوں سے بھی اچھے ھیں ، ان کے ھوتے ھوئے مجھے بھائیوں کی ضرورت محسوس نہیں ھوتی ، لیکن اگر میں دوستوں کے درمیان بیٹھا ھؤا اچانک مر جاؤں تو میرے دوست فورا میرے بھائیوں ھی کو اطلاع دیں گے” —————————————

رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 16 اپریل 2019

میرا داؤدخیل ———————–


ھمارے محلہ مبارک آباد کا ایک منظر

-منورعلی ملک– 16 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

مرحوم حاجی غلام رسول صاحب ٹھٹھی سکول میں میرے رفیق کار تھے – تبلیغی جماعت کے سرگرم کارکن تھے – ایک دفعہ انہوں نے بتایا کہ وہ تبلیغی جماعت کے ایک وفد کے ساتھ سندھ کے ایک دورافتادہ گاؤں میں گئے – شام ھونے کو تھی – وھاں ایک ھی چھوٹی سی ویران سی مسجد تھی – شام سے پہلے ایک بہت خوبرو صاف ستھرا نوجوان جھاڑو لے کر مسجد میں آیا ، مسجد کی صفائی کرنے کے بعد اس نے الماری کھولی – اس میں قرآن حکیم کا ایک ھی بہت پرانا بوسیدہ نسخہ پڑا تھا ٠ اس نے قرآن پاک کو اپنے رومال سے صاف کیا ، چوم کر پہلے آنکھوں سے ، پھر سینے سے لگایا ، اور الماری میں واپس رکھ کر جانے لگا تو ھم نے کہا بھائی صاحب ، ابھی اذان ھونے والی ھے ، نماز پڑھ کر جائیں –
اس نوجوان نے ھاتھ جوڑ کر بڑی حسرت سے کہا “ جناب ، میں سکھ ھوں “-بعد میں معلوم ھؤا کہ اس گاؤں کی بیشتر آبادی ھندوؤں اور سکھوں پر مشتمل تھی – دوچار گھر مسلمانوں کے بھی تھے ، مگر – – –
یہ واقعہ کل اپنے عزیز عبدالقیوم نیازی کی ایک پوسٹ دیکھ کر یاد آگیا – عبدالقیوم خان نے اس پوسٹ میں بتایا , نوبت یہاں تک آگئی ھے کہ ایک شادی میں دلہن کو رخصت کرتے وقت اس کے سر پہ قرآن پاک کا سایہ کرنے کے لیے قراں پاک گھر میں نہ ملا تو لوگ مسجد سے اٹھا لائے ، اور پھر فورا واپس لے گئے-

بہت افسوسناک صورت حال ھے – ھمیں اتنا بھی احساس نہیں کہ قیامت کے دن ھمارے خلاف استغاثہ کا ایک گواہ قرآن پاک بھی ھوگا، جو کہے گا اے رب کریم ، ان لوگوں نے میری قدر نہیں کی –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 17 اپریل 2019

اپنا پرانا شعر ————————
پوچھ رھا تھا کوئی گلی میں بچوں سے
جانے والا رستے میں رویا تونہیں ؟؟

میرا میانوالی—————-

آپ کو یاد ھو نہ ھو ، مجھے یاد ھے کہ اکتوبر میں میں نے فیس بک پر اپنی داستان حیات لکھنے کا آغاز کیا تھا – یہ سلسلہ تقریبا دو ماہ چلتا رھا – ان پوسٹس میں میں نے یہ بتایا تھا کہ میں ٹیچر کیوں اور کیسے بنا –

ٹیچر کی حیثیت میں میرا کیرئیر داؤدخیل ھائی سکول سے شروع ھو کر گورنمنٹ کالج میانوالی میں اختتام کو پہنچا – 45 سال کا یہ عرصہ میری نظر میں میری زندگی کا بہترین دور تھا ، کہ اس میں میں نے معاشرے کو علم کی صورت میں بہت کچھ دیا – الحمدللہ  اچھا وقت گذرا -تقریبا 60 پوسٹس میں یہ داستان سنانے کے بعد مجھے کچھ اور موضوعات مل گئے جن پر لکھنا ضروری تھا —-

اب پھر واپس چلتے ھیں داستان حیات کی طرف – اب آپ کو یہ بتانا ھے کہ میں نے لکھنے کا آغاز کب اور کیسے کیا — یہ داستان خاصی دلچسپ بھی ھوگی کارآمد بھی-

یہ قصہ اس لیے ضروری ھے کہ بحمداللہ الکریم میری طاقت , میری پہچان , میرا قلم ھے – ساری عمر سجدے میں پڑا رھوں ،پھر بھی رب کریم کی اس عنایت کا شکر ادا نہیں کر سکتا – میرے 5000 فرینڈز اور7000 فالوورز میں سے اکثر لوگوں نے مجھے دیکھا نہیں – صرف میری تحریروں سے متاثر ھوکر میرے ھمسفر بن گئے – کمال میرا نہیں ، دینے والے کا ھے جس نے مجھے لکھنے کا یہ انداز عطا کیا –

کل سے انشاءاللہ یہ داستان شروع کروں گا — داستان مسلسل چلے گی صرف اتوار کو باری باری کچھ ایسے دوستوں کے بارے میں لکھوں گا ، جو خود تو اس دنیا سے رخصت ھو گئے ، مگر ان کی محبتوں کا قرض میرے ذمے واجب الادا ھے –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 18 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

میں نے باقاعدہ لکھنے کا آغاز انگلش میں کیا – میری پہلی شائع ھونے والی تحریرThe Interview کے عنوان سے ایک مزاحیہ کالم نما چیز تھی ، جو فروری 1983 میں انگریزی کے مشہور و معروف اخبار Pakistan Times میں شائع ھوئی –


میں نے تو ویسے ھی ایک قسم کا پنگا لیا تھا – صرف یہ دیکھنا چاھتا تھا کہ میری انگلش تحریر میں کتنی جان ھے – میں نے وہ تحریر کسی تعارف یا سفارش کے بغیر پاکستان ٹائیمز کے سینیئر کالم نگار محمد ادریس کو بھیج دی – ادریس صاحب بہت خوبصورت انگلش لکھتے تھے – میرا ان سے نہ تعارف تھا ، نہ کوئی سفارش – میں تو بس ان کا ایک فین تھا – اس تحریر کے ساتھ اپنے خط میں میں نے لکھا کہ اس تحریر کے بارے میں اپنی رائےدیں ادریس صاحب نےخط کا جواب دینے کی بجائے وہ تحریر ایک لفظ بھی تبدیل کیئے بغیر اخبار میں شائع کروا دی- رائے کا اس سے زیادہ خوبصورت اظہار اور کیا ھو سکتا ھے –

تحریر کی اشاعت تو میرے خواب و خیال میں بھی نہ تھی — میرے ساتھی جغرافیہ کے پروفیسر عطآءاللہ خان نیازی روزنامہ پاکستان ٹائیمز کے مستقل خریدار تھے – ایک دن صبح کالج میں ملاقات ھوئی تو کہنے لگے “ کل کے پاکستان ٹائیمز میں آپ کا کالم دیکھا – یار, بہت زبردست چیز ھے

میں حیران رہ گیا – میں نے وہ کالم اشاعت کے لیے تو نہیں بھیجا تھا — کالج لائبریری میں جا کر اخبار دیکھا – کیا بتاؤں کتنی خوشی ھوئی اپنی پہلی مطبوعہ تحریر دیکھ کر – !!!!!

اپنی اس داستان حیات کے آغاز میں میں نے کہا تھا کہ رب کریم جس انسان کو کوئی صلاحیت عطا فرماتا ھے ، اس کی اس صلاحیت کو دنیا میں متعارف کروانے کے وسائل بھی مہیا کر دیتا ھے –

میری اس پہلی تحریر کی اشاعت بہت حوصلہ افزا ثابت ھوئی – اس کے بعد تو چل سو چل — 13سال (1996 میں پاکستان ٹائیمز کی بندش تک ) ھر ھفتے میرے کالم اس اخبار میں شائع ھوتے رھے – اس حوالے سے بہت اچھے پڑھے لوگ میرے دوست بن گئے –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–19 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

کچھ دوستوں نے انگریزی اخبار پاکستان ٹائیمز میں The Interview کے عنوان سے میری پہلی مطبوعہ تحریر اپ لوڈ کرنے کا کہا ھے – ابھی میں نے چیک کیا ھے – وہ تحریر / کالم میرے فیس بک ریکارڈ میں موجود ھے – اسے ایک نظر دیکھ کر ان شآءاللہ ایک دو دن بعد اپ لوڈ کر دوں گا –Image may contain: 1 person, text

پاکستان ٹائیمز تقریبا پچاس سال پاکستان کے صف اول کے اخبارات میں شمار ھوتا رھا – اس اخبار کے بانی قائداعظم محمد علی جناح تھے – نوزائیدہ پاکستان کو دنیا میں متعارف کروانے کے لیے قائد اعظم نے انگریزی کے دواخبارات کا اجراء کروایا – کراچی سے ڈان Dawn اور لاھور سے پاکستان ٹائیمز Pakistan Times ایک ساتھ منظر عام پر آئے – ڈان تو اب بھی چل رھا ھے – پاکستان ٹائیمز کو سابق صدر ایوب خان نے نیشنل پریس ٹرسٹ نامی سرکاری ادارے کی تحویل میں دے کر سرکار کاترجمان بنا دیا -سرکار کی ترجمانی اخبار کی موت ھوتی ھے – کوے کو سفید کہنے والے کی بات کون سنتا ھے – یوں سرکار کی گرفت میں آکر یہ اخبار بالآخر 1996 میں صفحہ ھستی سے غائب ھوگیا –

بہت اھم اخبار تھا – دنیا بھر میں پاکستان کے بارے میں معلومات کی فراھمی کا کام اس اخبار نے بہت خوبی سے سرانجام دیا — فیض احمد فیض ، مظہرعلی خان اور زیڈ اے سلہری جیسے لیجنڈ لوگ اس کے چیف ایڈیٹر رھے – جب تک یہ اخبار آزاد رھا اس کی خبروں اور اداریوں سے اقتدار کے ایوانوں پر لرزہ طاری رھا –

پاکستان ٹائیمز سے میرا تعلق 1983 سے 1996 تک رھا — اخبار بند ھؤا تو یہ تعلق بھی باقی نہ رہ سکا – بے شمار حسین یادیں اس اخبار کی امانت ھیں – آپ سے شیئر کرتا رھوں گا-
پاکستان ٹائیمز کا وسیع و عریض دفتر میوھسپتال لاھور کے عقب میں رتن چند روڈ پر (گوالمنڈی کے علاقے میں ) واقع تھا – میں میانوالی سے ھر دوسرے تیسرے مہینے وھاں جایا کرتا تھا – اھل علم و قلم کی بہت اچھی محفل ھؤا کرتی تھی – ان محفلوں کا کچھ ذکر ان شآءاللہ کل ھوگا –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 20 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

اتوار کا دن ان مہربان دوستوں کے نام جو اب اس دنیا میں موجود نہیں –
آج ذکر ھے میرے بہت مہربان دوست اور داؤدخیل کی معروف و مقبول شخصیت سید عبدالرزاق شاہ ھمدانی کا –
عبدالرزاق شاہ صاحب شاہ ھمدان سید میر علی ھمدانی کے محترم و معزز قبیلے کے چشم و چراغ تھے – شاہ ھمدان سید میرعلی تقریبا سات سو برس پہلے ایران سے ھندوستان میں وارد ھوئے – عالم دین بھی تھے ، ولی بھی – تبلیغ و اشاعت دین کی خاطر مسلسل سفر میں رھتے تھے- ان کی اولاد مختلف مقامات پر آباد ھوگئی ، شاہ ھمدان خود کشمیر میں مقیم ھوئے – مگر پھر بھی زیادہ تر سفر میں رھے – خیبر پختونخوا کے شہر مانسہرہ میں اس دنیا سے بقضائے الہی رخصت ھوئے – ان کی وصیت کے مطابق تدفین تاجکستان میں ھوئی – وھاں ان کا مزار آج بھی مرجع خلائق ھے –
ضلع میانوالی میں ھمدانی قبیلہ زیادہ تر تحصیل عیسی خیل میں آباد ھے – کچھ گھر عیسی خیل اور مندہ خیل میں ھیں – اس خاندان کاسب سے بڑا مرکز کمر مشانی کا نواحی گاؤں برزی ھے – خاندان کے بیشتر لوگ اچھے خاصے زمیندار ھیں – کچھ لوگ پڑھ لکھ کر سرکاری ملازمتوں میں چلے گئے >عبدالرزاق شاہ صاحب کا بھی آبائی گھر برزی میں ھے – تقریبا 35 سال قبل داؤدخٰیل کے سرکاری ھیلتھ سنٹر میں ڈسپنسر کی حیثیت سے آئے – اپنی قابلیت اور حسن اخلاق کی بنا پر اتنے مقبول ھوئے کہ لوگوں کے اصرار پر داؤدخٰیل میں اپنا گھر بنالیا – گھر کے ساتھ کلینک اور میڈیکل سٹور بھی قائم کرلیا – شہر کے شمالی حصے (اتلاشہر) کے لوگوں کو طبی سہولتیں فراھم کرتے رھے –
طبی خدمات کے علاوہ شاہ صاحب کی تعلیمی خدمات بھی داؤدخٰیل کی تاریخ کا ایک زریں باب ھیں – یونیک ایجوکیشن سسٹم کے عنوان سے داؤدخیل میں ایک معیاری تعلیمی ادارہ قائم کرنے کے بعد ایسا ھی ایک ادارہ کالاباغ میں بھی قائم کیا – ان کا ایک ویژن تھا ، جس کے تحت مزید جگہوں پر بھی ایسے ادارے قائم کرنا چاھتے تھے – مگر موت کا ایک دن معین ھے – یکم اپریل 2019 کو علم و عمل کے افق کا یہ تابناک ستارہ اپنے آبائی قبرستان میں برزی کے مقام پر تہہ خاک غروب ھو گیا –
رب اغفر لہ وارحم-
—————————————– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 21 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

پاکستان ٹائیمز میں میرا پہلا کالم کسی تردد اور ردو بدل کے بغیر شائع ھوگیا ، تو حوصلہ بڑھا اور میں نے فی الفور ایک اور کالم لکھ کر بھیج دیا – یہ بھی اسی قسم کا طنزیہ سیاسی کالم تھا – وہ بھی فورا شائع ھوگیا – اس کے ایک دودن بعد جناب محمد سلیم الرحمن کا خط موصول ھؤا – جناب محمد سلیم الرحمن بہت محترم شاعر ، ادیب اور نقاد ھیں – وہ پاکستان ٹائیمز میں کتابوں پر تبصرہ کرنے پر مامورتھے – انہوں نے میرے نام خط میں لکھا ،
“ آپ انگلش میں طنزومزاح بہت خوب لکھتے ھیں – ھمارے ادارے نے حال ھی میں مشہور مزاح نگار محمد خالد اختر کی کتاب “چچا عبدالباقی“ شائع کی ھے – اگر آپ پاکستان ٹائیمز کے لیے اس کتاب پر تبصرہ لکھنا پسند کریں تو کتاب بھجوا دوں ؟“میرے لیے تو یہ ایک اعزاز تھا – قبول ھی کرنا تھا — کتاب آگئی – بہت مزے کی مزاحیہ داستان تھی – میں نے مفصل تبصرہ لکھ کر بھیج دیا – اگلے ھفتے تبصرہ پاکستان ٹائیمز میں شائع ھؤا – جناب محمد سلیم الرحمن سمیت بہت سے لوگوں کو پسند آیا – ایک دودن بعد جناب محمد سلیم الرحمن کا دوسرا خط آیا – تبصرے پر شکریہ ادا کرتے ھوئے انہوں نے لکھا ‘ پاکستان ٹائیمز کے میگزین ایڈیٹر سید سرور شاہ صاحب آپ سے ملنا چاھتے ھیں – جب بھی وقت ملے لاھور آجائیں -“
چند روز بعد میں لاھور پہنچا – جناب محمد سلیم الرحمن سے بھی یہ پہلی ملاقات تھی – محترم سرور شاہ صاحب بھی مجھ سے مل کر بہت خوش ھوئے – کہنے لگے ، “ملک صاحب ، آپ کی تحریریں بہت لوگ پسند کر رھے ھیں – لکھتے رھا کریں – پاکستان ٹائیمز کے دروازے آپ کے لیئے ھر وقت کھلے ھیں “-

شاہ جی کے دفتر میں چائے پینے کے بعد کچھ دیر بیٹھ کر میں واپس آگیا –

پاکستان ٹائیمز میں لکھنے کا ایک مزا یہ تھا کہ ھر تحریر کا معقول معاوضہ ملتا تھا — مجھے اس بات کا علم تب ھؤا جب کالج میں میرے نام پاکستان ٹائیمز کا پہلا چیک موصول ھؤا — میرے پہلے کالم کے 150 روپے ملے — 1983 میں یہ بھی کوئی معمولی رقم نہ تھی – بعد میں معاوضہ مسلسل بڑھتا گیا – معاوضہ چیک کی صورت میں آتا تھا –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 22 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

پاکستان ٹائیمز کے دفتر میں پہلی ھی ملاقات میں میگزین ایڈیٹر سید سرور شاہ صاحب نے مجھے باقاعدہ کالم لکھنے کی دعوت دے دی , تو ھر ھفتے میرا کالم شائع ھونے لگا —- میانوالی میں اس وقت ای میل کی سہولت دستیاب نہ تھی – قلم سے کاغذ پر لکھ کر ڈاک سے بھیجنا پڑتا تھا ، پہنچنے میں دو تین دن بھی لگ جاتے تھے- اس لیے ھفتے میں ایک ھی کالم ممکن تھا ، ورنہ اللہ کے فضل سے میں تو روزانہ بھی لکھ سکتا تھا –

چند ماہ بعد سید سرور شاہ صاحب ریٹائر ھو گئے – ان کی جگہ سید اقبال جعفری صاحب آگئے – جعفری صاحب لیجنڈ ماھر تعلیم سید کرامت حسین جعفری کے صاحبزادے تھے — جعفری صاحب سے بھی میرا پہلا تعارف غائبانہ ( میرے کالموں کی وساطت سے ) ھؤا – میرے کالم باقاعدہ شائع ھوتے رھے -جعفری صاحب بہت کھلے ڈلے زندہ دل آدمی تھے- ایک دن ان کا خط ملا— خط میں میانوالی آنے کی خواھش کا اظہار کرتے ھوئے جعفری صاحب نے لکھا “ میں اس بندے کو دیکھنا چاھتا ھوں ، جو میانوالی میں بیٹھ کر آکسفورڈ کی انگریزی لکھتا ھے “- —————– الحمدللہ ، یہ جملہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھا ، آج بھی میں اسے اعزاز ھی سمجھتا ھوں –

میں نے جعفری صاحب کو جواب میں لکھا میانوالی میں اس بندے کے علاوہ بھی بہت سی خوبیاں ھیں ، آپ فورا تشریف لے آئیں –

دو دن بعد جعفری صاحب تشریف لے آئے – پروفیسر محمد سلیم احسن اور میں نے ان کا استقبال کیا – آتے ھی انہوں نے پھر وھی جملہ دہرایا —
وہ ایک دن ایک رات میرےھاں رھے – بہت زبردست علمی ادبی محفل رھی –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 23 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

میرے کالم پاکستان ٹائیمز میں 13 سال تک شائع ھوتے رھے – ان کالموں میں میں نے سیاست ، تعلیم ، معیشت سمیت قومی زندگی کی مختلف کمزوریوں کو طنزیہ تنقید کا نشانہ بنایا – میرا انداز تحریر بہت پسند کیا گیا –

انہی دنوں پنڈی کے کشمیری بازار میں بم دھماکہ ھؤا جس میں بہت سے لوگ شہید ھو گئے – پاکستان میں دھشت گردی کا یہ پہلا واقعہ تھا – میں نے حکومت پر سخت تنقید کرتےھوئے لکھا کہ افغان مہاجرین کی کڑی نگرانی کی جائے – خاص طور پر مہاجرین کے کیمپوں میں افغانستان سے آتے جاتے مہمانوں کو چیک کیا جائے-یہ کالم چھپنے سے پہلے ایگزیکٹو ایڈیٹر درانی صاحب کی نظر سے گذرا تو بہت برھم ھوئے ، کیونکہ جنرل ضیاء کی حکومت افغان مہاجرین کو معززمہمان قرار دیتی تھی – درانی صاحب نے متعلقہ ایڈیٹر (اقبال جعفری صاحب) سے وضاحٹ طلب کرتے ھوئے اس کالم کی اشاعت روک دی – ساتھ ھی یہ حکم بھی جاری فرما دیا کہ منورعلی ملک کی کوئی تحریر آئندہ پاکستان ٹائیمز میں شائع نہ کی جائے –

جعفری صاحب نے خط میں یہ تمام داستان لکھ کر مجھے بھیج دی , ساتھ ھی یہ بھی لکھا کہ میرا ضمیرآپ کی تحریروں سے پاکستان ٹائیمز کو محروم کرنے کی اجازت نہیں دیتا — آپ نام تبدیل کر کے لکھتے رھیں ، اور ھاتھ ذرا ھلکا رکھیں –

میں نے منورعلی ملک کی بجائے ایم اے ملک کے نام سے لکھنا شروع کر دیا – ھاتھ بھی ذرا ھلکا رکھا – یوں پاکستان ٹائیمزسے میرا تعلق اس اخبار کی زندگی کے آخری دن تک برقرار رھا – جب یہ اخبار بند ھو گیا تو دل ایسا ٹوٹا کہ پھر کبھی صحافت کی وادی میں واپسی کا سوچنا بھی گوارا نہ ھؤا –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 24 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

پاکستان ٹائیمز کے لیے میں نے دو فیچر بھی لکھے- فیچر با تصویر معلوماتی مضمون ھوتا ھے جو کسی موضوع پر ریسرچ کر کے لکھا جاتاھے –

میرا پہلا فیچر خانقاہ سراجیہ کی لائبریری کے بارے میں تھا – یہ لائبریری قرآن حکیم کے نادر نسخوں ، بلند پایہ کتب احادیث ۔ فقہ، فلسفہ ، تاریخ اور سماجی موضوعات پر مستند کتابوں کا ایک نادر ذخیرہ ھے – خانوادہء سراجیہ کے چشم وچراغ پروفیسر محمد حامد سراج معروف افسانہ نگار بھی ھیں – انہوں نے اس ذخیرے میں ادب کی شہرہ ءآفاق کتابیں شامل کرکے چار چاند لگا دیئے ھیں -“>میں نے اپنے فیچر کی تکمیل کے لیے 1989 میں خانقاہ سراجیہ کا دورہ کیا – موبائیل اور سمارٹ فون کی سہولتیں اس زمانے میں دستیاب نہ تھیں – لائبریری کی پکچرز بنانے کے لیے کیمرا مین کے فرائض میرے ھمسفر منصور آفاق نے سرانجام دیئے – محمد حامد سراج صاحب نے حق میزبانی و رھنمائی ادا کیا – میں نے فیچراور پکچرز پاکستان ٹائیمز کو بھیج دیں ، اگلے ھفتے وہ فیچر شائع ھوگیا ، اس کا عنوان تھا,
A Library in the Desert

میرا دوسرا فیچر چشمہ بیراج کے شمال مغرب میں واقع 1000 سال قدیم قلعہ کافر کوٹ کے بارے میں تھا – پروفیسر محمد سلیم احسن اور کچھ دوسرے دوستوں کے ھمراہ کئی دفعہ یہ پراسرار جگہ دیکھنے کا اتفاق ھؤا – سیکڑوں سال پہلے جب دریائے سندھ کشتیوں کا موٹروے ھؤا کرتا تھا ، کشمیر سے کراچی تک کشتیوں کی ٹریفک چلتی تھی ، اس وقت یہ قلعہ چیک پوسٹ اور پڑاؤ کاکام دیتا تھا — قلعے کی بہت سی پکچرز کے ساتھ میرا فیچر پاکستان ٹائیمز میں شائع ھؤا تو اھل علم و ذوق لوگوں نے بہت پسند کیا – اسے یہ اعزازبھی نصیب ھؤا کہ لاھورمیوزیم ( عجائب گھر) کے ریکارڈ میں بھی شامل ھؤا –
رھے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک– 26 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

میں دوسرے تیسر ے مہینے لاھور جاکر پاکستان ٹائیمز کے دوستوں سے مل لیتا تھا – ایڈیٹر جعفری صاحب ، محمد سلیم الرحمن اور کچھ دوسرے ساتھی مل بیٹھتے تھے– دوپہر کا کھانا جعفری صاحب گوالمنڈی سے منگواتے – خالص لاھوری کھانا ھوتا تھا – چکن کڑاھی اور بریانی ان کاریگروں جیسی کوئی نہیں بنا سکتا – مغلیہ دور سے نسل در نسل وہ لوگ یہ کام کررھے ھیں –
چائے دفتر ھی میں بنتی تھی – خاصی کڑک چائے ھوتی تھی – جعفری صاحب کے دفتر میں پروفیسر سجاد حیدر ملک سے بھی ملاقات ھوتی تھی – ملک صاحب ایف سی کالج کے شعبہ انگریزی میں پروفیسر تھے – انگریزی ادب میں وسیع و عریض دسترس رکھتے تھے – وہ بھی پاکستان ٹائیمز میں لکھتے رھتے تھے– ملک صاحب کا آبائی علاقہ اٹک تھا – ایف سی کالج سے ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام آباد منتقل ھوگئے -اسی دفترمیں پروفیسر رفیع اللہ شہاب اور پروفیسر خالد ملک سے بھی ملاقاتیں ھوتی تھیں –
پروفیسررفیع اللہ شہاب میانوالی کے رھنے والے تھے – معروف افسانہ نگار وقاراحمد ملک کے رشتہ دار تھے – گورنمنٹ کالج لاھور میں اسلامیات کے پروفیسر تھے – اسلام کے بارے میں ان کے مضامین ھر ھفتے پاکستان ٹائیمز میں شائع ھوتے تھے –

خالد ملک واں بھچراں کے رھنے والے تھے – گوجرانوالہ میں انگلش کے لیکچرر تھے – جوانی ھی میں یہ دنیا چھوڑ کر حدود وقت کی قید سے آزاد ھوگئے – وہ بھی پاکستان ٹائیمز میں اکثر لکھتے رھتے تھے – بہت خوبصورت مضامین لکھا کرتے تھے –
یوں میرے سمیت اس وقت میانوالی کے تین لوگ لاھور کے انگریزی اخبار پاکستان ٹائیمز میں باقاعدہ لکھ رھے تھے ————— میانوالی زندہ باد — !!!!!-

رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 27  اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

آج کا موضوع ھے محمد مظہر نیازی کی شاعری کا تازہ ترین مجموعہ “ تو اگر ھمکلام ھو جائے “ – تقریبا دو ھفتے قبل محمد مظہر نیازی میرے ھاں آئے – خالیی ھاتھ نہیں ، ایک خوبصورت گفٹ لے کر – یہ کتاب بلاشبہ ایک خوبصورت گفٹ ھے ، صوری ، معنوی دونوں لحاظ سے –
کتاب کو سرسری نظر دیکھنا چاھا مگر اس کتاب نے تو مجھے پکڑ کر بٹھا دیا – اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے ایک فقرے میں سمیٹتے ھوئے مکمل دیانت داری سے کہتا ھوں کہ محمد مظہر نیازی اب اچھے شعراء کی صف سے آگے نکل کر بڑے شعراء میں شامل ھوگیا ھے –
جی ھاں آج کا مظہر نیازی تقلید کے دائرے سے نکل کر قیادت کے منصب پر فائز ھو چکا ھے – “تواگرھمکلام ھو جائے “ کی شاعری خوشگوار حیرتوں سے لبریز ھے – حیات و کائنات کے حوالے سے نہایت سادہ زبان میں ایسے اشعار جابجا ملتے ھیں جنہیں دیکھ کر سینے میں خوشگوارٹھنڈ سی محسوس ھوتی ھے – ذھن میں سبز، نیلے رنگ کی بتیاں سی جھلملانے لگتی ھیں کتاب کے بارے میں بہت سے مشہورو مستند اھل قلم کی رائے اس کتاب کی اھمیت واضح کرتی ھے – انتساب کے معاملے میں مظہر نیازی نے ھمیشہ جدت کا مظاہرہ کیا ھے – پہلی کتاب اپنے والد محترم کے نام منسوب کرکے انہیں بہت خوشگوار سرپرائیز دیا تھا اور ان کی دعاؤں سے جھولی بھر لی تھی – وھی دعائیں اس کی شہرت مقبولیت اور کامیابیوں کا وسیلہ بن گئیں –

“تواگرھمکلام ھوجائے “ کا انتساب میانوالی کے ان سینیئر اھل قلم کے نام ھے جو اب اس دنیا میں موجود نہیں – بہت بڑی بات ھے – سرحدحیات کے اس پار سے بھی دعائیں یقینا محمد مظہر کے نامہء اعمال کی زینت بن رھی ھوں گی –
چلتے چلتے اس کتاب میں سے صرف ایک شعر سن لیجیے ————–اداسیاں جو ھوئیں مہرباں غزل کہہ لی
سنی کسی نے نہیں سسکیاں غزل کہہ لی

اھل ذوق و نظر لوگوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاھیئے –
رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک– 28 اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

ایک دن میں پاکستان ٹائیمز کے دفتر پہنچا تو جعفری صاحب نے کہا “ ھمارے چیف ایڈیٹر مقبول شریف صاحب آپ سے ملنا چاھتے ھیں “-

میں جعفری صاحب کے ساتھ چیف ایڈیٹرصاحب کے کمرے میں گیا – انہوں نے خوب آؤبھگت کی – چائے منگوائی – پھر کہنے لگے
“ ملک صاحب ، ھمیں اشاعت کے لیے معلوماتی مضامین تو بہت لوگ بھیجتے رھتے ھیں – انگریزی میں طنزو مزاح صرف آپ ھی لکھ رھے ھیں – میں چاھتا ھوں آپ ایسا ھی کالم روزانہ ھمیں دیا کریں ، ھم آپ کو 300 روپیہ فی کالم معاوضہ دیں گے “-300 سو روپیہ روزانہ یعنی9000 روپیہ ماھوار ( کالج میں اس وقت میری تنخواہ 6500 تھی ) —— پاکستان ٹائیمز کی پیشکش خاصی پر کشش تھی ، مگر میانوالی سے کالم روزانہ لاھور پہنچانے کا کوئی ذریعہ اس زمانے میں میسر نہ تھا – نہ ای میل ، نہ فیکس – ڈاک سے بھیجنے میں دوتین دن لگتے تھے –
میں نے چیف صاحب کو یہ مجبوری بتا کر روزانہ کالم لکھنے سے معذرت کرلی – میری جگہ کوئی اور ھوتا تو لاھور کے کسی کالج میں ٹرانسفر کروا کے دونوں ھاتھوں سے پیسے کماتا – مگر ٹرانسفر کے لیے بھی وسائل چاھیئں ، جواس وقت میری دسترس میں نہ تھے –

چیف ایڈیٹر صاحب نے اتنی مہربانی کر دی کہ فی کالم معاوضہ 500 کردیا — یوں حسب معمول ھر ھفتے میرے کالم پاکستان ٹائیمز میں شائع ھوتے رھے –

اسی عرصے میں میری کچھ تحریریں انگریزی اخبار The Nation اور The News میں بھی شائع ھوئیں – مگر جب پاکستان ٹائیمز بند ھو گیا تو میں نے صحافت کو مستقل طور پر خیر باد کہہ دیا —
پہلے پیار کی موت کے بعد دوسری جگہ شادی کوئی سنگد ل انسان ھی کرسکتا ھے ———————————————– رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک–29 اپریل 2019

——-ھم قدم ، ھم قلم ——————

وقار احمد ملک کے ھمراہ عصمت گل خٹک سے ملاقات

بشکریہ-منورعلی ملک– 29  اپریل 2019

میرا میانوالی—————-

اردو میں لکھنے کا آغاز شاعری کی صورت میں ھؤا – بالکل اچانک – نعت کے چند شعر اچانک ذھن میں طلوع ھوکر دل کی سرزمین کو منورکر گئے – نعتیہ قطعہ تھا –

گرد رہ حجاز ھے
میری تمام کائنات
میں بھی تواک غلام ھوں


مجھ کو بھی ھیں توقعات,اس کے بعد کبھی کبھار کوئی غزل ھوتی رھی – 1970 کی بات ھے – جوانی کا دور تھا – اپنی شاعری کے بارے میں ھمیشہ کہا کرتا ھوں کہ میں شاعری کرتا نہیں ، شاعری مجھ پر وارد ھوتی ھے ، جس طرح پودوں پر پھول آتے ھیں – اس میں پودوں کا کوئی اختیار یا کمال نہیں ھوتا ، بس اللہ کی دین ھے – کبھی کبھار ایک کیفیت سی طاری ھوتی ھے اور کچھ شعر ھو جاتے ھیں – اس میں کسی “چوٹ“ وغیرہ کا کوئی دخل نہیں – نہ ھی کسی استاد کا کرممیری ابتدائی شاعری کی زبان غالب ، اقبال اور فیض کے اثرات کے باعث عام لوگوں کے لیے ذرا مشکل ھوتی تھی – مثلا پہلی غزل کا پہلا شعر یہ تھا –
متاع درد مبارک ھو میرے سینے کو
بلاسے زھر ھے کچھ تو ملا ھے پینے کو

یہ غزل میں نے مرحوم بھائی انجم جعفری کی دعوت پر ماڑی انڈس سکول میں منعقدہ مشاعرے میں پڑھی تھی – جعفری بھائی اس وقت اس سکول میں ھیڈماسٹر تھے – بہت بڑا مشاعرہ تھا – عیسی خیل سے بھکر تک کے شعراء اس مشاعرے میں زینت محفل تھے – صدر محفل میرے ماموں ملک منظور حسین منظور تھے – مہمان خصوصی پروفیسر سید محمد عالم اور علامہ انوارظہوری –

گلزاربخاری اور میرا یہ پہلا مشاعرہ تھا – ھم دونوں مترنم شاعر تھے – بے حساب داد ملی ھم دونوں کو – یوں سمجھیے کہ مشاعرہ ھم نے لوٹ لیا – ھر شعر سامعین کی فرمائش پر بار بار سنانا پڑا – اس دن پتہ چلا کہ شاعری بھی کام کی چیز ھے –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک– 30 اپریل 2019

Your words for Mianwali and Mianwalians