MERA MIANWALI -AUGUST 20

منورعلی ملک کے اگست 2020 کےفیس بک پرخطوط

———–اپنا تازہ شعر ——–
آج تو روتے گذر گئی،
اگلی عید پہ آ جانا

میرا میانوالی —————————

عزیز ساتھیو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ ——-
فیس بک میسینجر ، واٹس ایپ اور موبائیل فون SMS کے ذریعے بے شمار ساتھیوں نے عید مبارک اور نیک تمناؤں کے پیغامات بھیجے ہیں – آپ سب کا بہت احسان ہے – اللہ کریم آپ کوسلامت رکھے ، آپ کی ھر مشکل آسان فرمائے – فردا فردا ہر پیغام کا جواب دینا ممکن نہیں – اس لیے الگ الگ جواب نہ دے سکنے پر معذرت – زندگی میں ھر قدم پر دعاؤن کی ضرورت رہتی ہے – دعا کرتے رہا کریں – اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔—  بشکریہ-منورعلی ملک- 1اگست 2020

میرا میانوالی —————–

عید کے دنوں میں ماما فرید بہت یاد آتے ہیں – ماموں غلام فرید ہاشمی ہمارے قریبی رشتہ دار تھے – رشتہ دار تو وہ ہمارے تھے ، مگر محلے بھر کی خواتین انہیں ماما فرید کہتی تھیں –
ریلوے میں انجن مکینک تھے – ساری سروس ماڑی انڈس ریلوے ورکشاپ میں بسر کی – ریٹائرمنٹ کے بعد داؤدخیل میں اپنے گھر منتقل ہوگئے –
ماما فرید ہر فن مولا تھے – واٹرپمپ ، سلائی مشین، سائیکل ، گھڑی ، ہر چیز کی مرمت کر لیتے تھے ، اور یہ سب کام فی سبیل اللہ مفت کردیا کرتے تھے – رمضان المبارک میں سیویاں بنانے کی مشین (گھوڑٰی) چلانا آسان کام نہ تھا ، مگر ماموں دن بھر یہ کام بھی کرتے رہتے تھے ، کبھی ایک گھر ، کبھی دوسرے گھر میں ، دن بھر کام میں لگے رہتے تھے- نہ کچھ کھانا ، نہ پینا، نہ کوئی معاوضہ , اللہ نے اس نیک بندے کو لوگوں کی خدمت کے لیے پیدا کیا تھا –
عیدالاضحی کے موقع پر ہمارے گھر کے دنبے ، بکرے بھی ماما فرید ذبح کرتے تھے – بہت صفائی سے وہ یہ کام قصابوں سے بھی بہتر کرلیتے تھے –
خوشی کے مواقع پر بچوں کے ساتھ مل کر گھڑے تھالی کے ساتھ گانے بجانے کا پروگرام بھی کر لیتے تھے-
بہت پیارے انسان تھے – زندگی کے آخری چند سال میاں رمدی صاحب کے قبرستان کی مسجد میں امامت کرتے رھے – اللہ کریم انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، بہت محبوب و محترم شخصیت تھے –
——————————————— رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 2 اگست 2020

میرا میانوالی —————————

ان شآءاللہ کل صبح امجد بیٹا اور ان کی فیملی کے ہمراہ لاہور جانا ہے – اکرم بیٹے کے ہاں لاہور میں آنا جانا ہوتا رہتا ہے – ساون کے موسم میں حبس ، ہوا میں نمی اور گرمی تو ہر جگہ ہوتی ہے ، مگر میانوالی کا موسم اب کی بار بہت مختلف ہے – چند دن پہلے ٹی وی پہ پٹی (Ticker) چل رہی تھی “داؤدخیل اور کندیاں میں موسلا دھار بارش” ، مگر میانوالی مین سورج سوا نیزے پہ آکر آگ برسا رہا تھا – دور دور تک بادل کا نام و نشاں بھی نہ تھا –
یہ خبردیکھ کر دل نے کہا “یا اللہ ، ہم سے یہ امتیازی سلوک کیوں ؟ چند کلومیٹر شمال اور جنوب میں موسلادھار بارش ، اور درمیان میں میانوالی سوکھاسڑنگ – ہوگی کوئی حکمت ، ہمارے رب کی ، گناہوں کی سزا والی بات بھی درست ہے، مگر داؤدخیل اور کندیاں میں کون سا فرشتے رہتے ہیں – بہر صورت مشیت ایزدی کے آگے سرخم ہے – مالک جو چاہے کرے ، ہماری کیا مجال کہ اعٹراض کرسکیں –
اللہ کے فضل و کرم سے آج صبح ہمارا نمبر بھی آگیا – اچھی خاصی بارش ہو گئی –
لاہور ہو یا داؤد خیل ۔ اسلام آباد ہو یا مری ، ہر جگہ آپ سے رابطہ برقرار رکھتا ہوں ، کہ دعاؤں کی ضرورت تو ہر جگہ رہتی ھے – بے حساب محبت کرنے والے میری تحریروں کے شائقین بھی ہر صبح میری تازہ پوسٹ کے منتظرہوتے ہیں ، خاص طور پہ بیرون ملک مقیم ساتھی تو کہتے ہیں ہمیں آپ کی پوسٹ گھر سے آیا ہوا خط لگتی ہے۔ اس لیے ہم شدت سے منتظر رہتے ہیں – اللہ آپ سب کو سلامت رکھے ، آپ کی ہر مشکل آسان فرمائے ، میں آپ کے لیے لکھتا ہوں –
اچھا لکھنا مرا کمال نہیں ، میرے رب کی عطا ہے – اس کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ ایسی باتیں لکھی جائیں جن سے لوگوں کے علم اور ایمان میں اضافہ ہو – لوگ مستفید ہوں – مجھ سے جو ہوسکتا ہے کر رہا ہوں – اللہ قبول فرمائے –
کل تو سفر کی وجہ سے ناغہ ہوگا ، پرسوں ان شآءاللہ لاہور سے آپ کی محفل میں حاضری ہوگی –

ہرسال جولائی کے آخری اور اگست کے پہلے تین چار دن ہم مری میں گذارا کرتے تھے – ابتدا میں ہمارا قیام کیمپ مبارک کے قریب ایک ھاسٹل میں ہوتا تھا – چار پانچ سال سے ہمیں ایک دوست کے فلیٹ میں رہائش کی سہولت حاصل تھی – یہ جگہ جی پی او چوک کے قریب ہے – بہت مزے کا وقت گذرتا ہے – نتھیا گلی ، پتریاٹہ وغیرہ کے علاوہ ہم ہر بار کوہالہ بھی جاتے ہیں – دریا کے کنارے کے قریب دریا کے اندر بچھی ہوئی چارپائیوں پر پاؤں ٹھنڈے یخ پانی میں ڈبوکر کچھ کھانے پینے کا ایک الگ مزا ہے –

کورونا , اور ایک ہمسفر کی فرقت کے دکھ کی وجہ سے اس سال ہم وہاں نہ جا سکے – بہرحال ، توں نئیں تے تیریاں یاداں سہی ——- اگلے سال دیکھیں گے ، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے –
———————————————– رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 6 اگست 2020

ہم 5 اگست کو تقریبا 4 بجے اکرم بیٹے کے ہاں لاہور پہنچے – موسم یہاں بھی ویسا ہی نامہرباں ، جیسا میانوالی میں تھا – حبس ، کڑکتی دھوپ ، گردوغبار – اوپر سے کورونا کا خوف و ھراس – سڑکوں پر ٹریفک پہلے کی نسبت خاصی کم نظرآئی – شاید شام کے بعد کچھ رونق بن جاتی ہو – باہر نکلیں گے تو پتہ چلے گا –

اکرم بیٹے کے گھر میں بحمداللہ ہر سہولت موجود ہے – کل کا دن تو گھر ہی میں گذرا ، آج نکلیں گے کسی طرف – ہمارا یہ گھر ماڈل ٹاؤن میں ہے – تین چار سال پہلے ہم چوبرجی کے علاقے شام نگر میں رہتے تھے – خالص دیسی لاہوری علاقہ تھا – لوگ ایک دوسرے کو شیدا ۔ فیقا ، طیفا ، گاما وغیرہ کہہ کر پکارتے تھے – ہمارے میانوالی والوں کی طرح بہت کھلے ڈلے ، زندہ دل ، مہمان نواز لوگ ہیں – چوبرجی لاہور کا دل ہے – ہر اہم جگہ یہاں سے قریب – سیکریٹیرئٹ ، مال روڈ ، انارکلی ، اردو بازار ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ، سب کچھ چند منٹ کے فاصلے پر-
موجودہ گھر ماڈل ٹاؤن میں ہے – آفیسرز کالونی ہے – یہاں سب لوگ لاھور سے باہر کے ہیں – سب کسی نہ کسی محکمے میں افسر ہیں – سب گھر ایک جیسے ہیں (صرف باہر سے) – اس علاقے میں رہنے کے اپنے فوائد ہیں ۔ سرکاری سیکیورٹی ہے ، پانی ، بجلی، گیس کی سہولیات شہر کے دوسرے علاقوں سے بہتر ہیں – گلبرگ۔ ڈیفنس وغیرہ یہاں قریب تر ہیں –
آج کی پوسٹ تو یہاں آمد کی رپورٹ تھی – کل سے انشآءاللہ پھر آپ کو دور، بہت دور ، ماضی کی دنیا میں لے جاؤں گا – تب تک کے لیے اجازت –
———————————————- رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 6 اگست 2020

ہمارے بچپن کے دور میں خوشخطی بڑی محنت سے سکھائی جاتی تھی – لکھنے کا آغاز لکڑی کی بنی ہوئی تختی پر سرکنڈے (کانے) کے بنے ھوئے قلم سے ہوتا تھا – سیاہ روشنائی (ہم کالی سیاہی کہتے تھے) کی پڑیا میں سے سیاہ رنگ کا دانے دار پاؤڈر نکال کر شیشے یا مٹی کی بنی ہوئی دوات میں ڈال کر اوپر سے تھوڑا سا پانی ڈال دیتے – سیاہی پانی میں فورا حل ہو جاتی تھی – اس میں قلم ڈبو کر تختی پر لکھتے تھے – قلم کے ساتھ سیاہی کی مقدار مناسب رکھنے کے لیے دوات میں ایک دو انچ کی کپڑے کی ٹاکی بھی ڈالتے تھے –
لکھائی کی تعلیم کا آغاز کچی پہلی ( آج کی پریپ یا پری سکول کلاس سمجھ لیں ) سے ہوتا تھا – ہم لوگ تختیاں سکول کے پمپ سے دھو کر ان پر گاچی (ہماری زبان میں گج آلی مٹی ) لیپ دیتے تھے – تختی کو جلد خشک کرنے کے لیے اسے دائیں ہاتھ میں پکڑ کر زورسے بار بار ہوا میں جھلاتے تھے – ساتھ ہی بڑے ردھم سے ایک چوہے سے باربار درخواست بھی کرتے تھے “چوہا ، چوہا توں میڈی تختی سکا ڈے “
وہ چوہا ہم نے دیکھا تو کبھی نہیں ، لیکن بچوں کا عقیدہ سا تھا کہ وہ چوہا تختی جلد خشک کر دیتا ہے —- کیا خبر ، اللہ تعالی جہاں انسانوں کو وسیع و عرٰیض اختیارات دے دیتا ہے وہاں ایک آدھ چوہے کو بھی کچھ خصوصی اختیارات دے دے تو ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے -؟
تختی خشک ہو جاتی تو ٹیچر ہر بچے کی تختی پر پنسل یا سکے سے تین چار سیدھی لکیریں لگا کر چند حروف ابجد ( ا، ب ، پ ، ج ، د ) وغیرہ لکھ دیتے اور ہم لوگ پنسل یا سکے سے لکھے ہوئے حروف کو قلم سے لکھ دیتے تھے – یہ عمل روزانہ سکول ٹائیم کے دوران دو تین دفعہ کرنا پڑتا تھا –
———————————————– رہے نام اللہ کا–بشکریہ-منورعلی ملک- 7 اگست 2020

کل کی پوسٹ پر بہت سے ساتھیوں نے اپنے کمنٹس میں بہت خوبصورت باتیں بتائیں – ان کے کمنٹس بھی میری پوسٹ سے کم دلچسپ نہیں – میں نے تو مختصر سے وقت میں جو کہہ سکا کہہ دیا ، ان دوستوں نے اپنے کمنٹس میں وہ باتیں بھی بتا دیں جو میں نہ کہہ سکا – ان دوستوں میں سرفراز میتلہ ،سلیم خان، میجر میاں محمد قریشی ، الصفہ کالج میانوالی کے پرنسپل ملک عطاءاللہ صاحب ، عرفان روکھڑی، شہزادنصیر ، محمدبلال خان، رشید احمد ، فیض کھوسہ، وسیم سبطین اور میرے محترم بھائی پروفیسر رئیس احمد عرشی کے کمنٹس بہت دلچسپ بھی ہیں ، معلومات افزاء بھی – مثلا فیض کھوسہ صاحب کہتے ہیں ہماری والدہء محترمہ فرمایا کرتی تھیں کہ جس بچے کے کپڑوں پر کبھی سیاہی کا داغ نظر نہ آئے وہ نالائق اور نکما ہوتا ہے –
پروفیسر رئیس احمد عرشی صاحب نے یاد دلایا کہ تختی پر لکھنے کے لیے سرکنڈے (کانے ) کا قلم ٹیچر تراش کر دیتے تھے – بہت خوبصورت بات یاد دلادی عرشی بھائی نے – جی ہاں ، کچی پہلی کلاس کے ٹیچر قلم تراشنے کے لیے جیب میں چھوٹا سا چاقو رکھتے تھے – اس قسم کے چاقو کو قلم تراش کہتے تھے – کسی بچے کا قلم ٹوٹ جاتا یا گم ہو جاتا تو ٹیچر صاحب فورا نیا قلم بنا کر اس بچے کو دے دیتے – قربان جائیے ایسے مہربان ٹیچرز پر –
کچی پہلی میں ہمیں خوشخطی ہندو ٹیچر ماسٹر میوہ رام نے سکھائی – بہت زبردست خوشنویس تھے – ان کے لکھے ہوئے طغرے (بینرز Banners) داؤدخیل سکول میں آج بھی موجود ہوں گے – قیام پاکستان کے وقت ماسٹر میوہ رام بھارت منتقل ہوگئے –
وسیم سبطیں نے تختی پر لکھائی کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ھینڈرائیٹنگ کے چند خوبصؤرت نمونے بھی ارسال کیے ہیں – بہت خوبصورت ہیں ان کی تحریریں – ویسے بھی وسیم سبطین کے کمنٹ ہمیشہ دلچسپ اور معلومات افزاء ہوتے ہیں –
——————————————— رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک-8 اگست 2020

میرا میانوالی —————————

خوشنویسی ایک شاہانہ فن ہوا کرتا تھا – بادشاہ اپنےشہزادوں کو یہ فن سکھانے کے لیے ماہرخطاطوں کی خدمات سے استفادہ کیا کرتے تھے – مغل شہنشاہوں کی خوشنویسی کے کچھ نمونے عجائب گھروں کی زینت ہیں –
خوشنویسی سے شاہوں کی دلچسپی صرف ہمارے ہاں نہیں ، یورپ میں بھی خوشنویسی شہزادوں کی تعلیم کا اہم جزو ہؤا کرتی تھی – شیکسپیئر کے شاہکار ڈرامے کا ہیرو ‘ ڈنمارک کا شہزادہ ہیملٹ Hamlet کہتا ہے بچپن میں جو خوشنویسی مجھے سکھائی گئی تھی اسی نے میری جان بچالی ، ورنہ موت یقینی تھی –
یاد رہے کہ کمپیوٹر کی آمد سے پہلے کتابیں ہاتھ سے لکھوا کر ان کا عکس ( فوٹو) شائع کیا جاتا تھا – ہاتھ سے لکھنے کے لیے خطاطوں کی خدمات حاصل کیا کرتے تھے –
تاج الدین زریں رقم ، سید انور حسین نفیس رقم ، عبدالمجید پرویں رقم ، حافظ یوسف سدیدی اور عبدالواحد نادرالقلم ہمارے ہاں خطاطی کی تاریخ کے بہت بڑے نام ہیں – ان کے قلم سے نکلی ہوئی تحریروں میں حسن کے کئی انوکھے روپ نظر آتے ہیں –
علامہ اقبال کی تمام کتابوں کی کتابت عبدالمجید پرویں رقم نے کی تھی –
ان ماہرین فن کی مہارت کے بہت عمدہ نمونے داتا صاحب کے مزار کی اندرونی دیواروں پر دیکھنے میں آتے ہیں – اپنے اپنے دور میں ان سب نے سنگ مرمر کی تختیوں پراشعار اورآیات قرآن کریم لکھ کر داتا دربار کی زینت بنائیں –
بعض پینٹر بھی اس فن کے ماہر ہوتے ہیں – میانوالی میں مرحوم ضمیر پینٹر بہت اچھا لکھتے تھے – ایک بالا پینٹر بھی ہوا کرتے تھے – اسحق اور کچھ دوسرے نوجوان بھی بہت اچھا کام کر رہے ہیں –
موجودہ دور میں میانولی کے سب سے بڑے ماہر خطاط, ترگ کے ظہوراحمد صاحب ہیں – وہ اپنےعلاقے کے ایک سکول میں ہیڈماسٹر ہیں – بہت باکمال خطاط ہیں –
ظہورصاحب کے حسن تحریر کا ایک نمونہ اس پوسٹ کی زینت ہے –—————————— رہے نام اللہ کا — بشکریہ-منورعلی ملک- 9 اگست 2020

میرا میانوالی ———————

انگریز کا دیا ہوا نظام تعلیم بہت اچھا تھا – اسی نظام نے ہمیں قائداعظم جیسا بے مثال لیڈر، علامہ اقبال جیسا عظیم مفکر, ڈاکٹر عبدالقدیر جیسا بلند مرتبہ سائنس دان ، مولانا محمد علی جوہر جیسا بے باک صحافی دیا – ہم نے نظام کو جدید دور کے تقاضوں سے آشنا کرنے کے نام پر اس کا حلیہ ہی بگاڑ کے رکھ دیا – اب اس قوم میں نہ کوئی محمد علی جناح پیدا ہو سکتا ہے ، نہ علامہ اقبال ، نہ مولانا محمد علی جوہر ، نہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان —- اکثر لوگ نقلیں اور پیسے لگا کر ڈاکٹر ، انجینیر ، وکیل، جج وغیرہ تو بن رہے ہیں ، لیکن بس گذارہ ہی چل رہا ہے –
72 سال میں سینکڑوں سیاست دان آزما کر دیکھ لیے ، ایک بھی قائد اعظم ثابت نہ ہؤا – شاعر ہزاروں ہیں ، لیکن ان میں قوم کی رہنمائی کرنے والا اقبال کوئی نہیں – اسی طرح ہر شعبے میں دو نمبر مال چل رہا ہے – دو نبمر نظام تعلیم کی پیداوار دو نمبر انسان ہی ہو سکتےہیں –
انگریز کے نظام تعلیم میں پرائمری تعلیم پہلی چار کلاسوں پر مشتمل تھی – پانچویں کلاس سے آٹھویں کلاس تک انگلش اختیاری مضمون تھی – میٹرک سے انگلش لازمی مضمون بن جاتی تھی ، اردو اختیاری —– جو غریب لوگ میٹرک تک تعلیم کا خرچ برداشت نہ کر سکتے ، وہ بچوں کو مڈل تک انگلش کی تعلیم نہیں دلواتے تھے – انگلش کے بغیر مڈل تعلیم والے بچوں کو چھوٹی موٹی ملازمت مل جاتی تھی – زیادہ تر ٹیچر ہی بنتے تھے – مگر وہ مڈل پاس ٹیچر آج کے اکثر گریجویٹ ٹیچرز سے بہتر ٹیچر ہوتے تھے –
ہمارے اساتذہ کرام ماسٹر نواب خان، ماسٹر درازخان، ماسٹر سردارخان ، ماسٹر عبدالحکیم ، ماسٹر شاہ ولی خان ، ماسٹر حافظ رانجھا اور ماسٹر رب نواز خان سب اردو مڈل پاس تھے – پہلی سے آٹھویں کلاس کے ہمارے یہ سب ٹیچربے مثال ٹیچر تھے –
——————————————— رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 10 اگست 2020

میرا میانوالی ———————–

آج کے نظام تعلیم میں میرٹ کا نظام عجیب ہے -غضب خدا کا , لوگوں کو میٹرک اور انٹرمیڈیئیٹ میں 90 فی صد سے زائد نمبر دیئے جا رہے ہیں – جیساکہ ایک دوست نے کہا 1100 میں سے 1096 نمبر بھی آج کل مل رہے ہیں –
ٹیچر کی حیثیت میں میرا مشاہدہ ہے کہ 90 فی صد سے زائد نمبر لینے والے اکثر بچے کوئی غیر معمولی ذہین نہیں ہوتے – ان سے سوڈیڑھ سو نمبر کم لینے والے ان سے زہادہ ذہین ہوتے ہیں –
ٹیچر اتنے زیادہ نمبر کیسے دے دیتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب جانتا ہوں ، مگر رہنے دیں –
ہمارے زمانے میں تو سیکنڈ ڈویژن ایف ایس سی پاس بچوں کو ایم بی بی ایس میں داخلہ آسانی سے مل جاتا تھا – اور ایم بی بی ایس کے بعد یہ لوگ بہت کامیاب ڈاکٹر ثابت ہوتے تھے – چھوٹے موٹے آپریشن بھی یہی ڈاکٹر کرتے تھے – سپیشلسٹ تو پورے صوبے میں پانچ سات ھوتے تھے ، جو برطانیہ سے FRCS یا FRCP کر کے آتے تھے –
فرسٹ ڈویژن میں میٹرک ، ایف ایس سی یا بی اے کرنے والوں کوتو لوگ دیکھنے کے لیے آتے تھے – نام کے ساتھ بی اے لکھنا اعزاز سمجھا جاتا تھا –
پطرس بخاری جب گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل تھے ، ایک دفعہ ایم اے انگلش کلاس میں داخلے کے لیے انٹرویولے رہے تھے – ایک بچے کے کاغذات ایک نظر دیکھ کر کہا
Well done, you are selected.
ساتھ بیھے ہوئے اسی کالج کے ایک انگریز پروفیسر نے کہا ، سر ، اس سے کچھ پوچھ تو لیں –
پطرس بخاری صاحب نے مسکرا کر فرمایا “کچھ نہیں پوچھنا – اس نوجوان نے وہ کام کیا ہے جو آپ اور میں نہ کر سکے – اس نے فرسٹ ڈویژن میں بی اے کیا ھے ” –
———————————————– رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 11 اگست 2020
میرا میانوالی ———————–
کل بات ہورہی تھی معیارتعلیم کی – سوال یہ تھا کہ آج کے ٹیچر90 فی صد تک نمبر کیسے دے دیتے ہیں – میرے بہت پیارے سابق سٹوڈنٹ اور سابق ممبر صوبائی اسمبلی ، ڈاکٹر صلاح الدین خان نیازی کہتے ہیں سر، 90-95 فیصد نمبر ایسے ہی نہیں مل جاتے – اتنے زیادہ نمبر لینے والے بچے نہایت ذہین ہوتے ہیں – ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی کہا کہ ہمارے بچے ہم سے زیادہ ذہین ہیں –
دلچسپ بات یہ ہے کہ سب بچے جب بڑے ہو جائیں تو کہتے ہیں ابے کو تاں ککھ دا وی پتہ نی لگدا –
یہ تو خیر ایک سچا جوک joke تھا – ڈاکٹر صاحب کی بات اس حد تک درست ہے کہ ہمارے بچوں کو تعلیم کی جو سہولتیں حاصل ہیں ہمارے خواب و خیال سے بھی ماورا تھیں – اس لیے بہت سے کام وہ ہم سے بہتر کر لیتے ہیں – میں نے موبائیل فون ، کمپیوٹر اور سمارٹ فون کا استعمال بچوں سے سیکھا – اب بھی اکثر ان سے رہنمائی لیتا رہتا ہوں –
لیکن بات ہو رہی تھی 90 فی صد اور اس سے زائد نمبر لینے کی – میں میٹرک سے ایم اے انگلش تک کا ایگزامینر رہا ہوں – میں نے تو کبھی 80 فی صد یا اس سے زائد نمبر نہیں دیئے – صرف میں ہی نہیں ، میرے سب ساتھی بھی ایسے ہی “کنجوس“ تھے – بس ایک معیار تھا – اس معیار کے مطابق 70 فی صد تک نمبر لینے والے بچوں کو میڈیکل یا انجینیئرنگ کالج میں داخلہ مل جاتا تھا –
میرے عزیز، گورنمنٹ کالج اوکاڑہ کے اردو کے پروفیسر شکیل امجد صادق صاحب کہتے ہیں کہ90-95 فی صد تک جیسے جناتی نمبر Objective Type Questions کی وجہ سے ملتے ہیں – سمسٹر اور پارٹ سسٹم بھی اس کی ایک وجہ ہے – اس سسٹم میں ٹیچر کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں – سٹوڈنٹ منت خوشامد کر کے بے حساب نمبر لے لیتے ہیں –
خاصی دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے – یہ بحث صرف دلچسپ ہی نہیں ، بہت اہم بھی ہے – ایک دو دن خوب رونق لگی رہے گی –
———————————————– رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 12 اگست 2020

میرا میانوالی —————————

میرا پاکستان ———— یوم آزادی مبارک
14اگست1947 کو برصغیر میں مسلمانوں کے لیے الگ ملک کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے انگریز وائسراے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنے خطاب میں کہا , مسلمانوں کو رواداری (دوسرے مذاہب کے لوگوں سے اچھا سلوک) کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغل شہنشاہ اکبر کے نقش قدم پر چلنا چاہیئے –
لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح نے خطاب کرتے ہوئے کہا , رواداری کا سبق ہم نے مغل شہنشاہ اکبر سے نہیں ، اپنے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سیکھا ھے – ہم اسی پر عمل کریں گے –
قائداعظم کے بارے میں میں نے اپنی ایک نظم میں کہا تھا ———————
پستیوں کے دور کا واحد بلند انسان تھا
آج 73 واں یوم آزادی ہے – کیا ہم واقعی آزاد ہیں – ؟ —– اگر آزاد ہیں تو مقروض کیوں ہیں ؟؟ —– ہمارے ہاں مہنگائی ، بے روزگاری ، بدامنی کیوں ہے ؟؟؟—– ہماری کشمیری مائیں بہنیں بیٹیاں منتظر ہیں کہ ہمارے بیٹے ، بھائی اور باپ آکر ہمیں ہندوؤں کے مظالم سے نجات دلوائیں گے ، ہم 73 سال سے یہ فرض ادا کیوں نہیں کر سکے ِِِِ—–
کیا ہم واقعی آزاد ہیں —–؟؟؟؟؟؟
————————————————- رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 13 اگست 2020

میرا میانوالی ———————–

بحمداللہ کل شام ہم لاہور سے واپس میانوالی پہنچ گئے – لاہور میں اکرم بیٹے کے ہاں میرا قیام اتنا مختصر کبھی نہیں ہوا – لیکن اب کی بار امجد بیٹا اور ان کی فیملی ہمراہ تھے – انہیں جلد واپس آنا تھا ، میرکارواں کی حیثیت میں ان کے ساتھ مجھے بھی آنا پڑا –
ملک منیر احمد جوئیہ سیشن جج نے کھانے کی دعوت دی تھی – میں نے چند روز بعد ان کے ہاں جانے کا وعدہ بھی کر لیا ، مگر جلد واپسی کی وجہ سے یہ وعدہ پورا نہ کر سکا – انہیں معذرت کا میسیج بھیج دیا تھا —– FIA کے ملک سکندرحیات سے ملنے کا وعدہ بھی پورا نہ ہوسکا – کچھ اور دوست بھی ملنا چاہتے تھے – اللہ سب کو سلامت رکھے ، سب سے معذرت – میں اکرم بیٹے کے ہاں لاہور اکثر آتا جاتا رہتا ہوں – یہ سب ملاقاتیں ان شآءاللہ اگلی دفعہ ضرور ہوں گی –
میانوالی کی طرح لاہور بھی شدید گرمی کے باعث تنور بنا ہوا تھا – شام کے قریب کچھ دیر کے لیے باہر نکل سکتے تھے – ماڈل ٹاؤن پارک ، باغ جناح ، چڑیا گھر ، نشاط ایمپوریم مال ، پیکیجز مال ، لکشمی چوک وغیرہ کی سیر ہوتی رہی – ہمارے لیے تو ان میں سے کوئی جگہ اجنبی نہ تھی ، البتہ چوچو (امجد بیٹے کی بچی علیزہ) کی دلچسپی کا سامان بہت تھا –
ان شآءاللہ کل کی محفل میں بات وہیں سے شروع کریں گے جہاں چند روز پہلے سلسلہ منقطع ہوا تھا –
——————————————– رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک-15 اگست 2020

میرا میانوالی —————————–

چند روز پہلے ہم اپنے نظام امتحانات پر بحث کر رہے تھے – موضوع بحث یہ تھا کہ آج کل لوگ امتحانات میں 90 -95 فی صد تک نمبر کیسے لے جاتے ہیں – کچھ دوستوں نے کہا اتنے زیادہ نمبر (MCQs (Multiple Choice Questions کی وجہ سے ملتے ہیں ——–
اس قسم کے سوالات کی افادیت میری سمجھ سے تو بالاتر ہے – ہم لوگ محنت کی بجائے شارٹ کٹ کے عادی ہیں – ہر کام میں شارٹ کٹ – حتی کہ اسلام میں بھی ، ہم کہتے ہیں جی کلمہ پڑھ لیا ہے ، جنت تو ہوگئی ہم پہ واجب – باقی ہم جو کرتے پھریں اللہ غفوررحیًم ھے –
بات Multiple Choice Questions کی ہو رہی تھی – اس طرز امتحانات کا شارٹ کٹ MCQs پر مشتمل چھوٹی موٹی کتابوں کی صورت میں بازار میں عام ملتا ہے – پیپر بنانے والے حضرات بھی انہی کتابوں سے دیکھ کر پیپر بناتے ہیں – اب تو سنا ہے بات بہت آگے نکل گئی ہے – بعض پرائیویٹ تعلیمی ادارے پیسے دے کر اپنی مرضی کے پیپر سیٹر اور ایگزامینر لگوا لیتے ہیں – اس طرح بورڈ اور یونیورسٹی کے امتحانات میں اپنی شاندار کارکردگی کے اشتہارات اور پینا فلیکس جا بجا لگوا کر اپنے نمبر بناتے ہیں- – اللہ معاف کرے —–
میرا سوال یہ ہے کہ اس نظام امتحانات میں ان غریب بچوں کے ڈاکٹر یا انجینیئر بننے کی گنجائش کہاں ہے جو بے حد ذہین تو ہیں ، مگرنہ تو وہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے بھاری اخراجات برداشت کر سکتے ہیں ۔ نہ ٹیوشن فیس ادا کر سکتے ہیں – پرانے نظام میں تو ہم نے یہ بارہا دیکھا کہ سرکاری سکول یا کالج میں پڑھنے والے غریب بچے کسی اکیڈیمی یا ٹیوشن سنٹر جائے بغیر بھی ڈاکٹر اور انجینیئر بن جاتے تھے –
بہت حساس اور دردناک موضوع ہے – فی الحال اتنی بحث کافی ہے – کل ان شآءاللہ کسی اور سمت کا رخ کریں گے –
———– رہے نام اللہ کا —–بشکریہ-منورعلی ملک- 16 اگست 2020

میرا میانوالی —————————دل کا حساب ———

دل کا حساب میٹرک میں ہماری ریاضی (میتھس) کی ایک کتاب کا نام تھا – میٹرک کا ریاضی کا کورس تین کتابوں پر مشتمل تھا – دل کا حساب کے علاوہ دو کتابیں اور بھی تھیں ، دل کا الجبرا اور دل کی جیومیٹری – یہ تینوں کتابیں خاصی بھاری بھرکم تھیں – جسامت اور وزن کے لحاظ سے کورس کی بقیہ تمام کتابیں مل کر بھی ان کے برابر نہیں بنتی تھیں – ان میں سے ہر کتاب 100 مشقوں پر مشتمل تھی – دماغ کی لسی بن جاتی تھی یہ سب مشقیں حل کرتے ہوئے – پورے پاکستان میں میٹرک کی ریاضی کی یہی کتابیں رائج تھیں –
یہ کتابیں پروفیسر خواجہ دل محمد کی لکھی ہوئی تھیں – خواجہ صاحب بہت اچھے شاعر بھی تھے – اسی لیے اپنی لکھی ہوئی کتابوں کے نام بھی شاعرانہ (دل کا حساب ، دل کا الجبرا ، دل کی جیومیٹری) رکھ دیئے –
قیام پاکستان سے پہلے تعلیم کے میدان میں ہندو چھائے ہوئے تھے – ریاضی تو ان کا خاص مضمون تھا – پورے بر صغیر میں ہندو اساتذہ کی لکھی ہوئی ریاضی کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں – جب پاکستان بن گیا تو ہندوؤں کی بجائے مسلمان ٹیچرز کی لکھی ہوئی کتابوں کی ضرورت محسوس کی گئی – باقی کام تو آسان تھا ، ریاضی کی کتابیں لکھنا ایک چیلنج تھا – یہ چیلنج پروفیسر خواجہ دل محمد صاحب نے قبول کیا ، اور ایسی کتابیں لکھ دیں جو تقریبا 25 سال ملک بھر میں میٹرک کے کورس میں شامل رہیں -1950 تک میٹرک کا ریاضی کا کورس انگلش میں ہؤا کرتا تھا – خواجہ صاحب نے پہلے یہ کتابیں انگلش میں لکھیں ، پھر خود ہی ان کا اردو میں ترجمہ بھی کر دیا –
خواجہ دل محمد صاحب اسلامیہ کالج لاھور میں میتھس کے پروفیسر تھے – میرے والد محترم ملک محمد اکبرعلی بھی ان کے سٹوڈنٹ رہے – لاہور کی مشہور سڑک دل محمد روڈ ، خواجہ دل محمد صاحب سے منسوب ہے – خواجہ صاحب 1961 میں یہ دنیا چھوڑ کر عدم آباد جابسے –
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ
——————– رہے نام اللہ کا —–بشکریہ-منورعلی ملک-17 اگست 2020
کسی نہ کسی حوالے سے اپنی آبائی چوک (بیٹھک) کا ذکر کرتا رہتا ہوں – آج کچھ مزید تفصیلات –
ہماری چوک ہمارے داداجی مولوی ملک مبارک علی کے نام سے منسوب ہے – لوگ اسے مولوی جی صاحب والی چوک یا مولوی جی خیلاں آلی چوک کہتے تھے – ہمارا محلہ بھی مبارک آباد کہلاتا ھے –
چوک ہمارے گھر کے سامنے تقریبا دوکنال کا میدان ہے – یہ خاندان کی مشترکہ ملکیت ہے – اس میدان کے مشرقی کنارے پر ایک کمرہ اور اس کے آگے برآمدہ بیٹھک کہلاتا تھا – بیٹھک کے جنوب میں گھرکے گیٹ سے ملحق دو کمروں پر مشتمل مہمان خانہ ہؤا کرتا تھا – یہ مہمان خانہ ہمیشہ آباد رہتا تھا –
چوک کے جنوبی کنارے پر تقریبا چالیس فٹ لمبا چھپر ہوا کرتا تھا – گرمیوں میں ہمارے بزرگ اور محلے کے کچھ بزرگ دن اسی چھپر کے سائے میں بچھی چارپائیوں پر بیٹھ یا لیٹ کر گذارتے تھے – چھپر کے مشرقی سرے پر تقریبا 4 چارپائیوں کے برابر ایک چارپایہ بھی ہوتا تھا جسے “ماچا“ کہتے تھے – چھپر کے دونوں سروں پر کیکر کا ایک ایک گھنا درخت تھا – مشرقی سرے والا درخت کابلی کیکر تھا ، جسے سولی کیکر کہتے تھے —– چھپر کے سامنے ٹاہلیوں (شیشم) کے درختوں کی ایک قطار تھی – ان درختوں کے سائے میں ایک گھڑونجی پر ٹھنڈے یخ صاف شفاف پانی کے گھڑے رکھے ہوتے تھے –
چوک کے مغربی کنارے پر تقریبا 25 فٹ لمبا ،15 فٹ چوڑا 2 فٹ اونچا مٹی کا چبوترا تھا جسے تھلہ کہتے تھے – گرمی کے موسم میں شام کے بعد بزرگ لوگ اسی تھلے پر چارپائیاں بچھا کر بیٹھتے تھے – چاروں طرف کھلا میدان تھا – اس لیے یہ خاصی ہوادار جگہ تھی –
چوک پر صبح سے لے کر رات نودس بجے تک رونق لگی رہتی تھی – مندہ خیل کی ارائیں فیملی کے ایک بزرگ دادا خدایار چوک کے نگران تھے – ہم بچہ لوگ ان سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ ذرا ذرا سی بات پر ہمیں ڈانٹ دیتے تھے – دادا خدا یار نے شادی نہیں کی تھی ، اسی نوے سال کی عمر تنہا گذار دی –
— رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 18 اگست 2020
داداجی کے زمانے میں ہماری چوک شہر کا مرکز ہوا کرتی تھی – یہ مقامی عدالت بھی تھی ، دادا جی اور چاچا ہدایت اللہ خان نمبردار اس عدالت کے جج تھے – اس مقامی عدالت کی وجہ سے لوگ تھانے کچہریوں میں دھکے کھانے سے بچ جاتے تھے – چھوٹے موٹے تنازعات یہیں طے ہو جاتے تھے –
دادا جی محلے داروں کے لیے بینک کا کام بھی کرتے تھے – لوگ اپنے پیسے ان کے پاس امانت رکھتے تھے – دادا جی کا بینک لکڑی کا ایک خوبصورت صندوقچہ تھا – اس میں پیسے اورایک رجسٹر میں ان کی تفصیل کے علاوہ منی آرڈر فارم اور سٹیمپ پیپر(اشٹام ) وغیرہ بھی ھوتے تھے – صندوقچے کی چابئ دادا جی اپنی جیب میں رکھتے تھے –
اس زمانے کے مستقل چوک نشینوں میں چاچا ہدایت اللہ خان نمبردار کے علاوہ دادا عالم خان مشانی ، ان کے صاحبزادے ماسٹر نواب خان، چاچا مقرب خان بہرام خیل ، چاچا غلام محمد خان بہرام خیل ، چاچا شیربہادر خان خانے خیل، چاچا بہادر خان شکور خیل شامل تھے – اور بھی بہت سے لوگ آتے جاتے رہتے تھے –
اس زمانے کا سب سے بڑا اردو اخبار “زمیندار“ بھی ہمارے ہاں آتا تھا – اس وقت ضلع میانوالی میں کوئی نیوز ایجنسی نہ تھی ، اس لیے لوگ اخبار ڈاک سے منگواتے تھے – داؤدخیل میں صرف ہمارے گھر میں ہی اخبار آتا تھا – ڈاک سے تازہ اخبار تو نہیں پہنچ سکتا تھا ، ایک دو دن پرانا اخبار بھی غنیمت سمجھا جاتا تھا – اس زمانے میں تحریک پاکستان کی خبریں لوگوں کی دلچسپی کا سب سے اہم مرکز ہوا کرتی تھیں – ان پڑھ دیہاتی لوگ بھی بابا جناح سے بے حساب محبت کرتے تھے اور ان کی کامیابی کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے –
گذر گیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ———————————————— رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک-19 اگست 2020

میرا میانوالی ————————

22 لاکھ مربع میل پر پھیلی ہوئی سلطنت کے حکمران کا بیٹا (عبداللہ بن عمر) روتا ہوا آیا اور کہنے لگا “ابو، حسن اور حسین کہتے ہیں آپ لوگ ہمارے غلام ہو“
حکمران کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، کہا “ بیٹآ وہ بالکل ٹھیک کہتے ہیں ، جاؤ اور یہی بات ان سے لکھوا لاؤ، اور جب میں مروں تو وہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا “-
یہ حکمران تھے جناب عمر ابن الخطاب –
لوگوں کے حالات کی خبر لینے کے لیے دن رات گلیوں میں پھرتے رہتے ، اور لوگوں کے مسائل موقع پر ہی حل کر دیتے تھے – ایک رات ایک گھر سے بچوں کے رونے کی آواز سن کر رک گئے – بچوں کے رونے کی وجہ دریافت کی تو بچوں کی والدہ نے بتایا کہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں ہے ، یہ سن کر جناب عمر فورا گھر واپس گئے بیت المال سے آٹے کی بوری اپنی پیٹھ پر لادی کچھ کھجوریں ایک تھیلی میں ڈال کر یہ سب سامان اس خاتون کے حوالے کرتے ہوئے رو کرکہا “ بی بی ، اللہ سے میری شکایت نہ کرنا – کہنا، عمر نے اپنا فرض ادا کر دیا “-
اسی حکمران نے کہا تھا اگرمیری ریاست میں ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو اللہ کی عدالت میں عمر کو اس کا بھی جواب دینا پڑے گا –
آج کے دن یہ عظیم المرتبت حکمران یہ دنیا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملا – رضی اللہ تعالی عنہ –
از راہ کرم اس پوسٹ پر فرقہ وارانہ اختلاف کی کوئی بات کمنٹ میں نہ لکھیں ، بلکہ اس میں جو سبق ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں –——- رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 20 اگست 2020

میرا میانوالی —————————

سلام یا حسین ———

یزیدیت ہوس اقتدار و دولت و جاہ

حسینیت ہے فقط لآالہ الا اللہ

بشکریہ-منورعلی ملک21 اگست 2020


ہماری لاہور روانگی سے ایک دن قبل محمد مظہر نیازی میرے ہاں آئے – تھیلے میں سے اپنی تازہ کتاب نکال کر مجھے دی – یہ کتاب “ابر رحمت“ مظہر نیازی کا مجموعہ ء نعت ہے – اس کتاب کی اشاعت ہم دونوں کی دیرینہ آرزو کی تکمیل ہے – کتاب دیتے اور لیتے ہوئے ہم دونوں کی آنکھیں بھیگ گئیں-
مظہر نیازی کی درجن بھر کتابیں اس سے پہلے شائع ہوئیں – میں نے تقریبا ہر کتاب کا تعارف لکھا – ہر کتاب کے آغاز میں چند نعتیں بھی تھیں – مگریہ صرف رسم نبھانے کے لیے تھیں – تعارف میں تو میں نے یہ بات نہ لکھی ، مگر زبانی مظر نیازی کو بتا دیا کہ مجھے آپ کی نعت میں جان نظر نہیں آتی – شاید وہ لمحہ ابھی آپ کو نصیب نہیں ہوا جب شعراور آنسو ایک ساتھ وارد ہوتے ہیں –
مظہر کے والد مرحوم کی بھی یہ خواہش تھی کہ بیٹا زلف و رخسار کی شاعری چھوڑ کر خالص نعت لکھے-
والد تو اس دنیا میں نہ رہے ، مگر ان کی خواہش کی تکمیل اس مجموعہ ء نعت کی صورت میں ہوگئی – خواہش اور کوشش اپنی جگہ ، مگر ہر کام کا وقت اللہ کریم خود مقرر کرتا ہے –
کتاب کے تعارف میں مظہر نیازی کہتے ہیں :
” میں نے بارباراللہ سے دعائیں مانگیں ، دروو کا ورد کرتا رہا، میرے پاس صرف چند نعتیں تھیں جومجموعہ کے لیے ناکافی تھیں——- بس پھر کیا تھا، دعائیں مانگتا رہا ، نعتیں ہوتی رہیں“-
یہی تڑپ چاہیے ہوتی ہے حقیقی نعت لکھنے کے لیے – بہت خوبصورت ، دل میں اتر جانے والی ، آنکھیں نم کر دینے والی نعتیں ہیں اس مجموعہ کلام میں ——– چند شعر دیکھیے ؛
قلم ، حرف و ہنر، تخلیق، سب قربان ہو جائے
مکمل نعت کہنے سے مرا دیوان ہو جائے
———————————————–
میں خود سے بچھڑا تو پھر سنبھلنے کی رت نہیں تھی
بکھر گیا تھا ، ترے کرم سے بہم ہؤا ہوں
———————————————–
مری کہانی، مرا واقعہ بدل دیجے
بھٹک گیا ہوں مرا راستہ بدل دیجے
میں نعت کہنے لگوں، چھوڑ دوں غزل کہنا
مرے مزاج کا اب قافیہ بدل دیجے
————————————————
حضور، آنسوہیں ، اور دامن میں کچھ نہیں ہے
یہ زندگی جیسے کاٹنی تھی کٹی نہیں ہے
————————————————
بلا کا حبس ہے ، تازہ ہوا کی قلت ہے
حضور آج ہمیں آپ کی ضرورت ہے
————————————————-
یہ ہے محمد مظہر نیازی کی نعتیہ شاعری کا نقش اول – اللہ قبول فرمائے – اس میدان میں مزید کامرانیاں ان کی منتظر ہیں-
——————– رہے نام اللہ کا—بشکریہ-منورعلی ملک- 22 اگست 2020

میرا میانوالی —————————

برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے – اور یہ قوموں کی تباہی کا راستہ ہے جس پر ہم بڑی تیزی سے رواں دواں ہیں — سیاست ہو یا مذہب ، لوگ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے – پہلے تو ایسا نہ تھا ۔
ہمارے بچپن کے زمانے میں یہاں ہندو بھی رہتے تھے – وہ نہ خدا کو مانتےتھے ، نہ رسول کو ، وہ لوگ بتوں کو خدا مانتے تھے – پھر بھی معاشرہ پرامن تھا – مذہب کی بنا پر لڑائی جھگڑا کبھی نہ دیکھا ، نہ سنا – مسلمان اپنی ضرورت کی کھانے پینے کی چیزیں بھی ہندودکان داروں سے خریدتے تھے – کسی قسم کا دنگا فساد کبھی نہ ہؤا-
جب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی – اکثریت یہودیوں کی تھی – کاروبار بھی ان کے ہاتھ میں تھا – حضوراور صحابہ ءکرام انہی لوگوں سے ضروریات زندگی خریدتے تھے – شاید اسی لیے اللہ نے اہل کتاب (یہودی ، عیسائی) کا ذبیحہ بھی حلال قرار دیا – ان کے ہاتھ کا بنا ہوا گوشت حلال قرار پایا –
جہاں تک شیعہ سنی اختلافات کی بات ہے ، میں بچپن سے داؤدخیل اور ڈھیر امیدعلی شاہ میں محرم کی مجالس میں شریک ہوتا رہا ہوں – میں نے تو کبھی کسی ذاکر یا عالم سے صحابہ کرام کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سنا – محرم کے دس دنوں میں صرف اہل بیت اطہار کے فضائل اور کربلا کے مصائب کا ذکر ہوتا تھا –
لاہور کی سب سے بڑی امام بارگاہ کربلا گامے شاہ ہمارے کالج سے ملحق تھی – وہاں بھی کئی بار آنا جانا رہا ، وہاں بھی کوئی ایسی بات نہ سنی –
اب یہ دوطرفہ فائرنگ کیوں ہو رہی ہے ؟ —– پہلے نہ تھی، اب کیوں ؟؟؟؟ —— کون ان اختلافات کوہوا دے رہا ہے ؟؟؟؟ ——- کس کا مفاد وابستہ ہے اس لڑائی جھگڑے سے؟؟؟ – آپس میں لڑنے کی بجائے سوچنے کی ضرورت ہے –
کمنٹ دینے سے پہلے اس پوسٹ کو دوبارہ پڑھیں – شیعہ یا سنی کی سوئی جہاں اٹکی ہوئی ہے ، وہ باتیں اس پوسٹ میں سے مت نکالیں – یہ دیکھیں کہ اس پوسٹ میں پیغام کیا ہے – اختلاف کو بڑھانے والے کمنٹس delete کردیئے جائیں گے —- شکریہ-
——- رہے نام اللہ کا —-بشکریہ-منورعلی ملک-22 اگست 2020

میرا میانوالی —————————

ایک دن ، دوسانحے —————
کل کا دن میانوالی کی تاریخ کا سوگوار دن تھا
صبح فیس بک پر یہ المناک خبر نظر سے گذری کہ گلزار احمد طاہر اب اس دنیا میں نہیں رہے – ادب اور فن سے وابستہ میانوالی کی نوجوان نسل میں گلزار احمد طاہر ایک مقبول و محبوب شخصیت تھے – گورنمنٹ کالج میانوالی میں ہمارے بہت پیارے سٹوڈنٹ رہے – اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے کالج کے نمایاں سٹوڈنٹس میں شمار ہوتے تھے – بہت اچھے نعت خواں بھی تھے – بہت زندہ دل انسان تھے – ایک بہت پیاری معصومیت گلزار کی شخصیت کا سب سے اہم وصف تھی – لاہور میں مقیم تھے – خدا جانے کیا ہوا ، اچانک یہ دنیا چھوڑ گئے – ان کی کمی دیر تک محسوس ہوتی رہے گی – رب کریم مغفرت فرمائے بہت پیارے انسان تھے –
گلزار کی موت کا دکھ ابھی تازہ تھا کہ کل شام ٹیلی ویژن پر بزرگ سیاست دان الحاج گل حمید خان روکھڑی کی وفات کی خبر دکھ کا گہرا تاثر لے کر آئی – گل حمید خان روکھڑی ضلع میانوالی کی محبوب و محترم شخصیت تھے – متعدد بار صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبر رہے – تین مرتبہ ضلع کونسل کے چیئرمین , اور دو مرتبہ صوبائی وزیر بھی رہے – گورنمنٹ کالج میانوالی میں ایم اے کی کلاسز کے اجراء میں گل حمید خان روکھڑی نے اہم کردار ادا کیا – موصوف اس زمانے میں قومی اسمبلی کے رکن تھے – سیاست دان عام طور پر متنازعہ لوگ ہوتے ہیں ، مگر گل حمید خان کا اپنے پرائے سب احترام کرتے تھے – شرافت کی سیاست کے علمبردار تھے – اس لیے سب لوگ ان سے محبت کرتے تھے ، ان کا احترام کرتے تھے-
گل حمید خان میانوالی کے معروف سیاسی خانوادے ، روکھڑی خاندان سے تعلق رکھتے تھے – بزرگ مسلم لیگی سیاست دان امیر عبداللہ خان روکھڑی کے سیاسی جانشین تھے – اگرچہ ان کا تعلق ایک سیاسی خاندان سے تھا ، مگر سیاست میں گل حمید خان کا ایک اپنا منفرد مقام تھا – وہ سیاسی آویزشوں سے ہمیشہ گریزاں رہے – سب اہل سیاست ان کا احترام کرتے تھے – ورکرز سے بھی وہ مسلسل رابطے میں رہتے تھے –
فیس بک پر میانوالی کے موجودہ ایم این اے امجد علی خان نیازی کا گل حمید خان کی وفات پر تعزیتی ٹوٰیٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود گل حمید خان ایک محبوب و محترم شخصیت تھے – اللہ کریم مغفرت فرما کر اگلی منزلیں آسان فرمائے –
——————————————– رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 23 اگست 2020

 

 

میرا میانوالی —————————

چند روز قبل ایک دوست نے میری پوسٹ پر کمنٹ میں تلہ گنگ کے بارے میں لکھنے کا مطالبہ کیا تھا – اس وقت کچھ اور مصروفیات تھیں آج ذکر تلہ گنگ کا :
داؤدخیل اور میانوالی کی طرح تلہ گنگ بھی میرا گھر ہے – یہ میرے سسرال کا شہر ہے – اہلیہ کی وفات کے بعد میرے لیے یہ شہر پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے – میری زندگی کی بہت سی حسین یادیں اس شہر سے وابستہ ہیں –
ہمارا گھرتلہ گنگ شہر میں میانوالی چکوال روڈ پر مسجد مندیال کے جنوب میں واقع ہے – مندیال قبیلہ کے لوگ ہمارے رشتہ دار ہیں – اس قبیلہ میں میرے ہم عمر اور بہت پیارے دوست ملک گل بہار اور ملک اختر حسین المعروف بابا اختر بفضل اللہ اس وقت اس دنیا میں موجود ہیں – ہم سے کم عمر کے دس بارہ کزن ، ملک فہیم اصغر ، ملک سلیم ، ملک غلام حیدر، ملک خالد اور ملک نثار اپنے اپنے مقررہ وقت پر اس دنیا سے چلے گئے – 6 بھائیوں میں سے صرف ملک علیم اقبال المعروف حاجی اس دنیا میں موجود ہیں – سید عمران اور محمد بن قاسم بخاری بھی میری اہلیہ کے خالہ زاد ہیں –
ملک اختر اور ملک گل بہار دونوں اچھے شاعر ہیں – اختر نعت اور نوحہ کے بہت اچھے شاعر ہیں – گل بہار سنجیدہ شاعری کے علاوہ بہت اچھی مزاحیہ نظمیں بھی لکھ لیتے ہیں –
تلہ گنگ قدیم تجارتی شہر ہے – ارد گرد کے بہت سے دیہات کا شاپنگ سنٹر بھی ہے – کسی زمانے میں یہاں کا جوتا (زری والا کھسہ ) ملک بھر میں مشہور تھا –
کراچی سے لے کر میانوالی تک کی پنڈی جانے والی ٹریفک تلہ گنگ سے ہو کر جاتی ہے – گڈز ٹرانسپورٹ کا یہ بہت بڑا جنکشن ہے – اٹک اور پشاور سے ملتان اور کراچی جانے والی ٹریفک بھی یہاں سے گذرتی ہے – میانوالی سے جہلم ۔ گجرات، گوجرانوالہ جانے والی ٹریفک بھی تلہ گنگ سے گذرتی ہے-
اللہ اس شہر کو آباد رکھے، بہت سی حسین یادیں اس شہرکی امانت ہیں – لکھتے ہوئے دل دکھتا ہے –
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ——————- رہے نام اللہ کا–بشکریہ-منورعلی ملک- 25 اگست 2020

میرا میانوالی —————————

سوشل میڈیا معاشرے کے مزاج کا تھرمامیٹر ہے – محرم کے آغاز میں میں نے ایک پوسٹ میں خبردار کیا تھا کہ درجہ حرارت بڑھ رہا ہے – وہی بات اب سامنے آرہی ہے – اسلام آباد میں علوی ںام کے ایک جاہل ذاکر نے جناب ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف بکواس کر کے تفرقہ بازی کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی ہے – اس کی اس قبیح حرکت کی کئی اہل تشیع حضرات نے بھی مذمت کی ہے –

دوسری طرف ٹویٹر پر رشید نام کے ایک صاحب یزید کو ہیرو قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں – دن رات اس کی وکالت میں لگے ہوئے ہیں – کہتے ہیں اس نے تو کوئی جرم کیا ہی نہیں – وہ تو سیدھا جنت میں جائے گا –
میں نے کمنٹ میں کہا بھائی صاحب آپ کی باتیں فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دے رہی ہیں – قرآن حکیم کا واضح ارشاد ہے کہ فتنہ انگیزی قتل سے بڑا جرم پے – کہتے ہیں جی وہ تو ٹھیک ہے ،لیکن لوگوں کے عقائد کی اصلاح بھی ضروری ہے-
جواب میں یہ کہنا میں نے مناسب نہ سمجھا کہ تم اصلاح کے مامے لگتے ہو – کون سی اصلاح ہوگی ان باتوں سے ؟
عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ——- دونوں طرف ھے آگ برابر لگی ہوئی ،
میرا سوال پھر وہی ہے کہ یہ آگ اس دفعہ اتنی تیز کیوں ؟ شیعہ سنی اختلافات تو صدیوں سے چلے آرہے ہیں ، لیکن اچانک ان میں اتنی شدت کیوں –
فیس بک کے ساتھیوں سے گذارش ہے کہ اس آگ میں کودنے کی بجائے اسے بجھانے کی کوشش کریں – یا کم از کم اس آگ سے اپنا دامن بچانے کی کوشش کریں – سوشل میڈیا پر بھی ایسی کسی بحث میں حصہ نہ لیں –
دونوں طرف کے شرانگیز لوگوں کے خلاف ایکشن لینا حکومت کا فرض ہے – حکومت اگر ملک میں امن چاہتی ہے تو اسے یہ فرض ادا کرنا ہوگا –
———————————————— رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 26 اگست 2020

میرا میانوالی ————————-

اچھے لوگ زندگی کے ہر شعبے میں ہوتے ہیں –
بہت عرصہ پہلے کی بات ہے ، سرراہ چلتے چلتے ایک کاغذ پاؤں کے نیچے آیا تو میں نے وہ کاغذ اٹھا لیا – اس کے ایک طرف سکول کے بچوں کی تختیوں پر لکھنے کی سیاہی بنانے والی لالہ موسی کی ایک کمپنی کا لیبل چسپاں تھا – دوسری طرف قرآن کریم کی آخری دو سورتیں لکھی تھیں – سیاہی کی پڑیا کا یہ کاغذ بچوں کی اسلامیات کی کتاب کا ورق تھا –
دل خوف سے لرز اٹھا ، یا اللہ رحم ، یہ کون لوگ ہیں جو دودوپیسے کی سیاہی کی پڑیاں بنانے کے لیے قرآن مکرم کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں —– !!!!!
میں نے ایک خط میں یہ واقعہ لکھ کر وہ کاغذ خط کے ساتھ ضلع گجرات کے ایس پی (سپرنٹنڈنٹ پولیس) کو بھیج دیا – خط میں لکھا کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والی فیکٹری آپ کے ضلع میں واقع ہے اس معاملے میں مناسب کارروائی کی جائے –
دوتین دن بعد مجھے ایس پی صاحب کا خط موصول ہؤا – میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ آپ کا خط ملتے ہی ہم نے اس کارخانے کے خلاف فوری کارروائی کر دی ہے – آئندہ وہ کارخانہ سیاہی کی پڑیوں کے لیئے صرف سادہ سفید کاغذ استعمال کرے گا –
——————————————— رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 27 اگست 2020

میرا میانوالی —————————

وہ سر جھکاتوبدن اس کا ریزہ ریزہ تھا،
وہ سر بلند ھوا پھر، تو جسم نیزہ تھا
۔سلام یا حسین

بشکریہ-منورعلی ملک- 31 اگست 2020

Your words for Mianwali and Mianwalians

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: