صلح کی کامیابی یا نمائش کی ناکامی؟
صلح بلاشبہ ایک عظیم انسانی، اخلاقی اور اسلامی عمل ہے۔ دو خاندانوں، برادریوں یا افراد کے درمیان برسوں سے سلگتی دشمنی اگر ختم ہو جائے، خونریزی رک جائے اور نفرت کی جگہ بھائی چارہ لے لے تو اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پورے معاشرے کے لیے باعثِ اطمینان ہوتے ہیں۔
لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا صلح کا مقصد دلوں کو جوڑنا ہے یا اپنی سماجی و سیاسی حیثیت کا مظاہرہ کرنا؟
حالیہ دنوں “سرگودھا ڈویژن کی سب سے بڑی صلح” کے عنوان سے منعقد ہونے والی تقریب نے بہت سے سنجیدہ حلقوں میں یہی سوال پیدا کیا ہے۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ صلح ہوئی، بلکہ اس انداز کا ہے جس میں اسے پیش کیا گیا۔ تقریب کی تشہیر، اسٹیج کی چکاچوند، ویڈیوز، تصاویر، شخصیات کی نمائش اور سوشل میڈیا پر خودستائی نے اس روحانی اور اخلاقی عمل کو ایک عوامی شو میں تبدیل کر دیا۔
اسلام میں صلح کی ترغیب ضرور دی گئی ہے، مگر اس کے ساتھ اخلاص، انکساری اور نیت کی پاکیزگی کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اگر صلح کا اصل مرکز اللہ کی رضا کے بجائے شہرت، سیاسی فائدہ یا سماجی برتری بن جائے تو اس عمل کی روح متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ جب دشمنی پروان چڑھ رہی تھی، قتل ہو رہے تھے، خاندان اجڑ رہے تھے اور نوجوان اپنی زندگیاں کھو رہے تھے، تو معاشرے کے وہی بااثر افراد کہاں تھے جو آج اسٹیج کی پہلی صفوں میں نظر آئے؟ اگر یہی اثرورسوخ رکھنے والے لوگ ابتدا ہی میں مصالحت کی سنجیدہ کوشش کرتے تو شاید کئی مائیں اپنے بیٹوں سے محروم نہ ہوتیں اور کئی بچے یتیم نہ ہوتے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایسی تقریبات اگر غیر ضروری شان و شوکت اور طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن جائیں تو نوجوان نسل کو ایک غلط پیغام ملتا ہے۔ انہیں یوں محسوس ہو سکتا ہے کہ پہلے دشمنی کو انتہا تک پہنچاؤ، پھر ایک عظیم الشان تقریب منعقد کرکے صلح کرو، اور یوں دونوں مواقع پر شہرت بھی حاصل کرو۔ یہ سوچ معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ صلح کی تقریبات کو سادگی، وقار اور سبق آموز انداز میں منعقد کیا جائے۔ ایسے مواقع پر مقتولین کی یاد، دشمنی کے نقصانات، قانون کی بالادستی، برداشت، مکالمے اور امن کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں نفرت نہیں بلکہ محبت، انتقام نہیں بلکہ درگزر، اور تصادم نہیں بلکہ افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کریں۔
حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ صلح کی تقریب کتنی بڑی تھی، بلکہ یہ ہے کہ آئندہ کسی اور خاندان کو ایسی صلح کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
