عصمت گل خٹک
حرفِ آشنا کے خالق، جرات مند صحافی، شاعر اور سماجی مبصر
ضلع میانوالی کی ادبی، صحافتی اور سماجی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کسی عہد کی آواز بن جاتی ہیں۔ ان کا قلم صرف الفاظ نہیں لکھتا بلکہ معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ عصمت گل خٹک انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک ایسے قلمکار ہیں جنہوں نے صحافت، کالم نگاری، شاعری اور سماجی تجزیہ نگاری کے میدان میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔
ان کا نام میانوالی کے علمی و ادبی حلقوں میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ جرات مندانہ اظہار، بے لاگ تجزیہ، سماجی مسائل پر گہری نظر اور عام آدمی کے دکھ درد کو زبان دینے کی صلاحیت ان کی تحریروں کا نمایاں وصف ہے۔
خاندانی اور ادبی پس منظر
عصمت گل خٹک کا تعلق میانوالی کی معروف خٹک برادری سے ہے۔ یہ خاندان علمی، ادبی اور سماجی خدمات کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ خٹک خاندان کے بزرگ انار گل خٹک ضلع میانوالی کے ادبی حلقوں میں ایک معتبر نام رہے ہیں۔ اسی ادبی فضا نے عصمت گل خٹک کی فکری اور ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
صحافت کا سفر
عصمت گل خٹک نے صحافت کو محض روزگار یا شہرت کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے عوامی خدمت کا وسیلہ سمجھا۔ انہوں نے مقامی مسائل، انتظامی خامیوں، سیاسی رویوں اور سماجی تضادات پر ہمیشہ کھل کر لکھا۔
نوائے شررنے ان کے بارے میں لکھا:
عصمت گل خٹک ضلع میانوالی کے واحد کالم نگار ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں مسائل پر جرات مندانہ انداز بعض اوقات مسائل بھی پیدا کرتا ہے، مگر وہ کبھی مرعوب نہیں ہوئے۔”
یہ رائے اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ عصمت گل خٹک نے ہمیشہ طاقتور حلقوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا۔
حرفِ آشنا — ایک مقبول کالم
عصمت گل خٹک کی اصل شناخت ان کے مستقل کالم “حرفِ آشنا” سے بنی۔
حرفِ آشنا محض ایک کالم نہیں بلکہ ایک فکری مکالمہ ہے جس میں:
سماجی رویوں کا تجزیہ
سیاسی منافقتوں کی نشاندہی
اخلاقی زوال پر تبصرہ
انسانی رشتوں کی اہمیت
مقامی مسائل کی عکاسی
جیسے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔
ان کی تحریر میں سختی بھی ہوتی ہے مگر نفرت نہیں، تنقید بھی ہوتی ہے مگر ذاتیات نہیں، اختلاف بھی ہوتا ہے مگر شائستگی برقرار رہتی ہے۔
فیس بک اور سماجی شعور
میانوالی میں فیس بک کو معلوماتی اور فکری پلیٹ فارم بنانے والے قلمکاروں میں عصمت گل خٹک کا نام نمایاں ہے۔
معروف ادیب منور علی ملک لکھتے ہیں
“عصمت گل خٹک سینئر صحافی بھی ہیں اور بہت اچھے شاعر بھی۔ فیس بک پر سیاسی اور سماجی رویوں، منافقتوں اور حماقتوں کی نشاندہی بہت مؤثر انداز میں کر رہے ہیں۔”ان کی تحریروں نے سوشل میڈیا کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے فکری مکالمے اور سماجی اصلاح کا وسیلہ بنانے میں کردار ادا کیا۔
ایک حساس انسان
عصمت گل خٹک صرف صحافی یا شاعر نہیں بلکہ ایک حساس انسان بھی ہیں۔
مرحومہ کلثوم نواز کی وفات کے موقع پر انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی نفرت انگیزی کے خلاف لکھا۔ ان کے موقف کو سراہتے ہوئے منور علی ملک نے کہا:
“عصمت گل خٹک نے اس معاملے میں حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ سے خوبصورت مثال دی اور برداشت، انسانیت اور اخلاق کا درس دیا۔”
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کی تحریروں کا محور سیاسی وابستگی نہیں بلکہ انسانی اقدار ہیں۔
ادبی شعور اور مطالعہ
عصمت گل خٹک کا مطالعہ وسیع اور گہرا ہے۔
معروف افسانہ نگار لہر نیازی ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
“عصمت گل خٹک صاحب کے ساتھ افسانے اور بالخصوص عصر حاضر کے افسانے پر سیر حاصل گفتگو کے بعد میں اس بات پر قائل ہوا کہ مجھے اپنے لکھے ہوئے افسانوں کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ بڑے افسانہ نگاروں کو بھی زیر مطالعہ رکھنا چاہیے۔”
یہ رائے ظاہر کرتی ہے کہ عصمت گل خٹک صرف لکھنے والے نہیں بلکہ ادب کے سنجیدہ قاری اور ناقد بھی ہیں۔
شاعری
اگرچہ عوامی سطح پر ان کی شناخت زیادہ تر صحافی اور کالم نگار کی ہے، تاہم وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔
ان کی شاعری میں:
* انسانی احساسات
* سماجی مشاہدات
* زندگی کے نشیب و فراز
* محبت اور محرومی
* دیہی زندگی کی تصویریں
واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
ان کی شاعری میں بناوٹ کم اور تجربے کی سچائی زیادہ نظر آتی ہے۔
دوستوں کی نظر میں عصمت گل خٹک
افضل عاجز کی نظر میں
افضل عاجز نے انہیں “قلم کی آبرو” قرار دیتے ہوئے لکھا:
“عصمت گل خٹک کی پہچان جرات اور عزت ہے۔ خدا کرے کہ زور قلم اور زیادہ۔”
یہ مختصر جملہ ان کی پوری شخصیت کا خلاصہ معلوم ہوتا ہے۔
منور علی ملک کی نظر میں
“فیس بک پر سیاسی اور سماجی رویوں، منافقتوں اور حماقتوں کی نشاندہی بہت مؤثر انداز میں کر رہے ہیں۔”
لہر نیازی کی نظر میں
“عصمت گل خٹک بڑے جہاندیدہ انسان ہیں، ان سے ملتے رہیے۔”
مزاح اور شگفتگی
عصمت گل خٹک کی شخصیت کا ایک دلچسپ پہلو ان کی خوش مزاجی بھی ہے۔
افضل عاجز، خرم ذیشان اور دیگر دوستوں کے ساتھ ان کے دلچسپ واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سنجیدہ صحافتی اور ادبی زندگی کے باوجود ان کی محفل مزاح، شگفتگی اور بے تکلفی سے بھرپور ہوتی ہے۔
دوستوں کے درمیان ہونے والی دلچسپ گفتگو اور ہلکے پھلکے فقرے ان کی زندہ دل طبیعت کی عکاسی کرتے ہیں۔
شخصیت کے نمایاں اوصاف
عصمت گل خٹک کی شخصیت کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں:
* بے باک صحافی
* جرات مند کالم نگار
* حساس شاعر
* وسیع المطالعہ ادیب
* سماجی مبصر
* فکری رہنما
* شگفتہ مزاج دوست
* اصول پسند انسان
ادبی و صحافتی خدمات کا جائزہ
عصمت گل خٹک کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے میانوالی کے مقامی مسائل، ثقافت، لوگوں اور سماجی رویوں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔
انہوں نے ثابت کیا کہ بڑے شہروں سے باہر رہ کر بھی ایسا مؤثر قلمی کردار ادا کیا جا سکتا ہے جو لوگوں کی سوچ پر اثر انداز ہو۔
ان کا کالم “حرفِ آشنا” میانوالی کی سماجی تاریخ، سیاسی رویوں اور عوامی احساسات کا ایک اہم ریکارڈ تصور کیا جا سکتا ہے۔
عصمت گل خٹک ان قلمکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی شناخت کسی عہدے، منصب یا سیاسی وابستگی سے نہیں بلکہ اپنے قلم سے بنائی۔ ان کی تحریروں میں میانوالی کی مٹی کی خوشبو، عام آدمی کا درد، معاشرے کی نبض اور حق گوئی کی جرات یکجا نظر آتی ہے۔
میانوالی کی ادبی اور صحافتی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، “حرفِ آشنا” کے خالق عصمت گل خٹک کا نام ان قلمکاروں میں ضرور شامل ہوگا جنہوں نے لفظ کو ذمہ داری، صحافت کو امانت اور قلم کو عوام کی آواز سمجھا۔
عصمت گل خٹک بطور کالم نگار
ضلع میانوالی میں صحافت اور کالم نگاری کی روایت کو مضبوط بنانے والے قلمکاروں میں عصمت گل خٹک کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ ان معدودے چند کالم نگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو ذاتی مفادات یا وقتی مقبولیت کے بجائے عوامی شعور، معاشرتی اصلاح اور حق گوئی کے لیے وقف کیا۔ ان کا مستقل کالم “حرفِ آشنا” میانوالی کی صحافتی تاریخ کا ایک اہم حوالہ ہے، جس میں وہ مقامی، قومی اور سماجی مسائل پر نہایت جرات، دیانت اور فکری گہرائی کے ساتھ اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں کا بنیادی وصف سچائی، بے باکی، متوازن تجزیہ اور شائستہ اسلوب ہے۔ وہ سیاسی قیادت، سرکاری اداروں، سماجی رویوں اور عوامی مسائل پر بلاخوف قلم اٹھاتے ہیں اور ہر معاملے کو دلائل اور حقائق کی روشنی میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے کالم محض حالات پر تبصرہ نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح، اخلاقی اقدار کے فروغ، انسانی رشتوں کی پاسداری، برداشت، رواداری اور مثبت سوچ کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں میانوالی کے معتبر اور باوقار کالم نگاروں میں نمایاں مقام حاصل ہے، جبکہ ان کی تحریریں آنے والی نسلوں کے لیے مقامی تاریخ، سماجی رویوں اور فکری ارتقاء کا ایک اہم دستاویزی سرمایہ بھی ہیں۔
ASMAT GUL KHATTAK — HARF-E-AASHNA KE KHALIQ, JURRAT MAND SAHAFI, SHA’IR AUR SAMAJI MUBSIR
عصمت گل خٹک حرفِ آشنا کے خالق، جرات مند صحافی، شاعر اور سماجی مبصر ضلع میانوالی کی ادبی، صحافتی اور...Read MoreMukafat-e-Amal ke 15 Atal Usool
مکافاتِ عمل کے 15 اٹل اصول۔ دنیا کا سب سے بڑا اور اٹل قانون ”مکافاتِ عمل“ ھے، جسے انگریزی میں...Read MoreSARGODHA DIVISION KI SAB SE BARI SULAH
صلح کی کامیابی یا نمائش کی ناکامی؟ صلح بلاشبہ ایک عظیم انسانی، اخلاقی اور اسلامی عمل ہے۔ دو خاندانوں،...Read More
عصمت گل خٹک بطور شاعر
عصمت گل خٹک صرف ایک جرات مند صحافی اور کالم نگار ہی نہیں بلکہ ایک حساس دل رکھنے والے شاعر بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں زندگی کے حقیقی تجربات، انسانی جذبات، معاشرتی ناہمواریوں، محبت، امید، درد، وطن سے وابستگی اور انسان دوستی کے خوبصورت رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔ وہ الفاظ کی نمائش یا پیچیدہ اظہار کے بجائے سادہ، بامعنی اور دل میں اتر جانے والی شاعری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے اشعار میں احساس کی صداقت، مشاہدے کی گہرائی اور زندگی کی حقیقتیں پوری قوت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔ بطور شاعر وہ معاشرے کے دکھ، محرومیوں اور انسانی قدروں کے زوال کو بھی اپنا موضوع بناتے ہیں، جبکہ امید، اخلاق، محبت اور باہمی احترام کا پیغام ان کی شاعری کا بنیادی عنصر ہے۔ ان کی ادبی بصیرت، وسیع مطالعہ اور زبان و بیان پر مضبوط گرفت ان کی شاعری کو فکری وقار عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میانوالی کے ادبی حلقوں میں انہیں ایک سنجیدہ، باوقار اور صاحبِ فکر شاعر کے طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جس کی شاعری صرف جذبات کا اظہار نہیں بلکہ معاشرے کے شعور کو بیدار کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
