Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 1

محمد حامد سراجؔ کی ادبی نثر (مقالہ ایم فل)

عزیر قارئین! یہ مقالہ علی احمدؔ (ایف سی کالج (یونیورسٹی) لاہور) کی تحقیق و تحریر ہے۔ 

 

پیش لفظ

خدائے بزرگ و برتر کا احسان عظیم ہے کہ مجھ جیسا نالائق بھی خراما ں خراما ں علم   کی اس شاہراہ پہ گامزن ہے اور اسے نابغہ ٔ روزگار شخصیات میسر ہیں۔   ایم فِل اُردو کا یہ مرحلہ بھی تکمیل کو پہنچا۔ الحمد!  ایم فِل کےلیے موضوع کے  انتخاب کا مرحلہ  ذہنی مشاقی کا متقاضی تھا ۔بہت سے عنوان زیرِ بحث رہے ۔  بالآخر استادِمحترم پروفیسر ڈاکٹر غفور شاہ قاسم کی ذاتی دلچسپی اور شفقت کی بدولت یہ موضوع ’’ محمد حامد سراج کی ادبی نثر۔ تجزیاتی مطالعہ ‘‘مجھے تفویض کیا گیا۔   

مقالے کا آغازنہایت جاں گسل تھا۔ ایک قدم آگے بڑھاتا تو دو قدم پیچھے ہٹ جاتا۔  مقالے کے لیے مواد کی تلاش اور فراہمی میں ڈاکٹر صاحب  نے مدد فرمائی اور سلسلہ  چل نکلا۔  ابھی مقالہ کا آغاز ہی تھا کہ کرونا جیسے موذی مرض نے زمانے کو آ لیا۔ تعلیمی ادارے مقفل   ہوگئے اور کُتب خانے  ویران۔۔۔   جتنا مواد دستیاب ہو سکا  اس کی جانچ پرکھ جاری رہی۔ لیکن پھر مواد کی تلاش کا یہ سلسلہ  مجھے کندیاں ،میانوالی محمدحامد سراج (مرحوم)کے گھر   لے گیا۔

اس مقالے کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب حا مد سراج کے احوال اور شخصیت پہ مشتمل ہے۔ دوسرے باب میں ان کے افسانوں کا  جا ئزہ لیا گیا ہے۔ تیسرے باب میں ناول ’آشوب گاہ‘  کا تجزیہ ہے۔ چوتھے  باب میں خاکہ ’میّا‘  کا  تجزیاتی مطالعہ کیا گیا ہے۔ پانچواں باب حامد سراج کی اُن غیر مطبوعہ  برقی تحریروں  پر مشتمل ہیں جن کی اشاعت وہ ’فیس بُک پروفائل‘ پر کرتے رہے تھے۔ چھٹا باب  ’ماحصل ‘ ہے۔ آخر میں کتابیات اور ضمیمہ جات شامل ہیں۔   

میں اسامہ حامد، قدامہ حامد اور  محمد حامد سراج کے اہلِ خانہ کا ممنون ہوں ۔ جنہوں نے اپنے  خاندان کی روایت کا پاس رکھا اور ایسی مہمان داری کی کہ گویا خود حامد سراج وہاں موجود ہوں۔  مجھے اُن کے ذاتی کُتب خانے اور دستاویزات  تک رسائی دی گئی  ۔ میں محمد حامد سراج کے کزن ملک بشارت احمد کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نےمجھے  اپنے قیمتی وقت سے نوازا  اور حامد سراج کی شخصیت  سے متعارف کروایا۔

مقالے کے نگران پروفیسر ڈاکٹر  غفور شاہ قاسم  خصوصی شکریے کے مستحق ہیں  جن کی علم دوستی، عاجزانہ طبیعت  اور  محنت نے اس مقالے کی تکمیل میں میری ہر ممکن رہنمائی  کی۔  یہ انھی کا خاصا تھا کہ مجھے محمد حامد سراج جیسے تخلیق کارسے متعارف کروایا ۔ بلاشبہ اس پورے سفر میں مجھے   زندگی کے دیگر مثبت پہلوؤں کو بھی سمجھنے کا موقع ملا۔

شعبہ اُردو کے سربراہ ڈاکٹر اختر شمار ،ڈاکٹر علی محمد خاں،  ڈاکٹر  نجیب جمال ، ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ، ڈاکٹر طاہر شہیراور دیگر فیکلٹی ممبرز کا بھی ممنون ہوں  جن سے میں  نےاردو ادب پڑھا اور سیکھنے کی کوشش کی۔  

میں ماں کا شکر گزار ہوں جو ہمیشہ مجھے دعاؤں میں یاد رکھتی ہیں  ۔  اپنے دوستوں کی حوصلہ افزائی  بھی میرے لیے قدم قدم پر سنگِ میل ثابت ہوئی۔ آخر میں اپنی بیوی اور بیٹے واصف   احمد  کا شکر گزار ہوں جسے مجھ سے زیادہ میری کتب سے لگاؤ رہا۔  

علی احمد    –ایف سی کالج ، لاہور

محمد حامد سراج (مرحوم)

۲۱ اکتوبر ۱۹۵۸۔ ۱۳ نومبر ۲۰۱۹ء

باب اول

محمدحامد سراج: احوال، شخصیت، آثار/خدمات

محمدحامد سراج کی سوانح اور شخصیت

محمد حامد سراج کی سوانح اور شخصیت

  حامد سراج (مرحوم) اردو افسانوی ادب  کا درخشاں باب ہیں۔ ان کی خدمات میں افسانہ نگاری، ناول نگاری،  سوانح نگاری، خاکہ نگاری اورتلخیص و تدوین نمایاں اہمیت کی حامل ہیں۔ خاکہ نگاری میں ماں کے موضوع پر اردو ادب کا طویل ترین خاکہ ‘میّا’ اُن کی وجہ شہرت ہے جس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔  یہ دیکھا گیا ہے کہ  لکھاری  کی عام زندگی اس کی تخلیقی زندگی کے برعکس ہوتی ہے جتنی اس کی تخلیق  حسین ہوتی ہے شخصیت  اتنی ہی  بد نما۔۔۔ لیکن   حامد سراج  سراپا حسن تھے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف  تو اردو ادب کے قاری پرلازم ہے اس کے ساتھ ساتھ جو بھی ان سے ملا وہ ان کی شخصیت سے مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔   ذیل میں   حامد سراج کی زندگی کے  حالات و واقعات  کا جائزہ لیتے ہوئے شخصیت کو آشکار کرنے کی سعی  ہو گی ۔

خاندانی پسِ منظر:

  حامد سراج کے آباو اجداد نے ضلع میانوالی (پنجاب) کے معروف قصبہ کندیاں  کے قریب اور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے موضع   بکھڑا کو آباد کیا۔ دریا کے قریب واقع بستیاں ہمیشہ سیلابی ریلے کی زد میں رہتی ہیں۔ موضع بکھڑا بھی کئی بار دریائے سندھ کی طغیانیوں کا  شکار رہا۔  خانقاہ سراجیہ کی بنیاد کے حوالے سے   حامد سراج کہتے ہیں:

’’ حضرت اعلیٰ کا  آبائی گاوں موضع بکھڑا   دریائے سندھ کے سیلابی علاقے یعنی کھادر میں واقع تھا۔ جب ایک بار طغیانی کی وجہ سے پورا موضع تباہ ہو گیا تو سب نے قریبی گاوں موضع کھولہ میں اقامت اختیار کر لی۔ یہ بھی سیلابی علاقہ میں تھا اور کچھ  عرصہ بعد دریا برد ہو گیا۔ آپ میاں غلام محمد صاحب قادری چشتی کی خانقاہ منتقل ہو گئے اور ساتھ ہی اپنے آبائی رقبہ پر موجود خانقاہ سراجیہ کی تعمیر کا آغاز  فرمایا۔ سب سے پہلے کنوان کھودا گیا، پھر مسجد، حویلی اور خانقاہ کے کمروں کی تعمیر ہوئی۔ مسجد کی تعمیر پختہ ہوئی جس پر مستری ظہیرالدین اور اس ے ساتھیوں نے خوب صورت نقش و نگار  کے وہ جوہر دکھائے کہ مسجد فنِ تعمیر کا اعلیٰ نمونہ بن گئی۔ تعمیرِ چاہ و خانقاہ ۱۳۳۸ ھ ۔۱۹۲۰؁ سے شروع ہو کر ۱۳۴۰ھ۔ ۱۹۲۲؁ میں مکمل ہوئی۔

  حامد سراج کے آباؤ اجداد  کو قدرتی آفات کی وجہ سے بارہا اپنی سر زمین چھوڑنا پڑی اور بالآخر دریائے سندھ کے کنارے خود ایک بستی کی بنیاد رکھی  جس کا نام “مولوی احمد خان دا کھوہ” کے نام سے مشہور ہوئی جو بعد میں ایک بزرگ خواجہ سراج الدین کے اسم گرامی سے بستی کا نام “خانقاہ سراجیہ” ملقب ہوا۔

  حامد سراج کے پڑ ادادا مولانا ابوالسعد احمد خان خانقاہ سراجیہ کے بانی اور سرخیل اولیا میں سے تھے۔ ان کا نام احمد خان اور کنیت ابوالسعد تھی۔ آپ جامع علوم ظاہر وباطن تھے اور فیضان ولایت و عرفان سے مالا مال تھے۔ آپ نے خانقاہ موسیٰ زئی شریف (ڈیرہ اسماعیل خان) کے کاملین  اولیا خواجہ عثمان دامانی اور ان کے فرزند سراج الدین سے فیض پایا۔ اور یہیں سلوک کی منازل طے کیں۔ خواجہ سراج الدین نے خلعت خلافت سے آپ کو سرفرازی بخشی۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی کے ان مشائخ عظام کو حاجی دوست محمد قندھاری جیسے کامل ولی کے طریقہ مجددیہ اور صحبت سے کمالات اور نسبتیں حاصل تھیں۔

مولانا ابوالسعد خان نے تکمیل سلوک اور اجازت ِ شیخ کے بعد ضلع میانوالی میں اقامت اختیار کر کے اپنا فیض عام کیا۔ اسی فیضان عام اور کمالاتِ نام سے خانقاہ سراجیہ مجددیہ  نقشبندیہ نے شہرت پائی۔ حامد سراج کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ محمد حامد سراج بن محمد عارف بن محمد سعید بن احمد خان بن ملک مستی خان بن ملک غلام محمد بن ملک فتح محمد، ان  کی قومیت راجپوت  تلوکر ہے۔ جب کہ ان کے آباو اجداد پیشہ زمہ داری  سے منسلک چلے آرہے ہیں۔ 

  حامد سراج کے  دادا کانام محمد سعید تھا۔ وہ ۱۹ رجب ۱۳۲۹ ہجری بمطابق ۱۶ جولائی  ۱۹۱۱؁کو پیدا ہوئے جب کہ عالم شباب میں انتیس سال کی عمر میں  خالق حقیقی سے جا ملے۔

حامد سراج کے والد بلند پایا عالم دین تھے۔ ان  کی تاریخِ پیدائش ۴ فروری ۱۹۳۵ ؁ ہے۔ دینی خدمات کے ساتھ ساتھ زمینوں کی کاشت میں انتہائی دلچسپی لیتے۔ صلہ رحمی اور دردمندی ان کے مزاج کا جزو لاینفک تھا۔ وہ جوہر آباد جا رہے تھے کہ قائد آباد کے قریب  مخالف سمت سے آنے والی ویگن ان کی کار سے ٹکڑا گئی۔ا س المناک حادثہ نے مارچ ۱۹۹۱؁ میں حامد سراج کو شفقت پدری سے محروم کردیا۔ حامد سراج کی والدہ رضیہ بی بی انتہائی نیک، خدا ترس اور تہجد گزار خاتون تھیں۔ وہ چھ ماہ کے عرصے تک لبلبہ کے کینسر  میں مبتلا رہنے کے بعد ۱۹ اکتوبر ۱۹۹۸؁ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں.

پیدایش:

  حامد سراج بستی خانقاہ سراجیہ ضلع میانوالی میں ۲۱ اکتوبر ۱۹۵۸ کو پیدا ہوئے۔ حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ نے ان کا نام  محمد حامد رکھا۔ ’’جب محمد  حامد سراج   نے ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے کی۔ توانہوں نے پہلے اپنا تخلص راحتؔ رکھا اور پھر کچھ عرصہ بعد تہامی تخلص کیا۔ ‘

  حامد سراج اپنے والدین کے سب سے بڑے اور اکلوتے بیٹے تھے۔ جب کہ ان کی دو بہنیں میمونہ اورا سما  اس سے عمر میں چھوٹی ہیں۔

 تعلیم و تربیت:

  حامد سراج نے ایک دینی اور صوفیانہ ماحول میں آنکھ کھولی۔ آپ کا بچپن خالص دیہاتی ماحول میں گزرا۔اس کا بچپن اپنے  ننھیال میں گزرا اُن کے نانا نے ان کی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کی ۔ اپنے نانا اور نانی کے فیضان نظر سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔  تختی لکھنا نانا  نے سکھایا تھا اسی لیے  وہ بہت خوش خط لکھتے تھے۔ محمد حامد سراج نے اپنے گھر سے متصل مدرسہ خانقاہ سراجیہ میں قاری غلام ربانی سے قرآن کریم ناظرہ پڑھا۔   حامد سراج  کا مدرسے کا تجربہ کچھ خوشگوار نہ رہا تھا لیکن وہ قاری غلام ربانی سے سیکھے ہوئے اسباق کبھی بھول نا پائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لکھتے ہیں:

’’قاری غلام ربانی ایک سخت گیر مدرس تھے ۔ لیکن اپنے فن میں ان کا شمار کاملین میں ہوتا تھا۔ انہوں نے قرآن مجید تجوید سے پڑھایا  ، تلفظ ، ادائیگی اور لب ولہجہ ایسے بنیادی اصول تھے جن پر سمجھوتا ممکن نہیں تھا۔ ذ اور ز کا فرق ملحوظ خاطر رکھا جاتا۔

فن تعلیم میں سزا کا تصور ہمارے ہاں پتا نہیں کہاں سے در آیا تھا لیکن محمد سراج اس انداز تربیت کے قائل نہیں تھے۔ آپ نے ہر اس سزا کا مزا چکھا ہے جس کے قصے مدرسے کے ماحول سے جوڑے جاتے ہیں۔ ڈنڈے پڑنا، مرغا بننا، دیوار کے ساتھ کرسی بنے رہنا ۔۔۔  صرف یہی نہیں ، فجر سے پہلے انہیں جگا دیا جاتا اور سردی کی یخ بستہ صبح کاذب  میں مدرسہ کا رُخ کرتے۔ خود بیان کرتے ہیں:

’’امی مجھے فجر کی اذان سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے جگا دیا کرتی تھیں۔ دسمبر  اور جنوری کی یخ بستگی مدرسے میں کسی دری کا انتظام نہیں تھا۔ ہمارے علاقے میں ایک خودرو جڑی بوٹی ہے جسے کھوی کہتے ہیں اس کا قد ایک میٹر کے آس پاس ہے۔ طلبا ٹیلوں پر جا کے وہاں سے کاٹ کے گٹھے بنا کر مدرسہ لے آتے اور مدرسے میں بچھا دی جاتی۔‘‘  (۵)

 ۱۹۲۵   ؁میں  اپنی بستی کے جنوب کی جانب خانقاہ نور محمد گھنجیرہ کے پرائمری سکول میں داخلہ  لیا اور پہلی سے چوتھی جماعت تک تعلیم  یہاں سے حاصل کی۔ اس کے بعد سال ۱۹۲۹ میں گئوشالہ پرائمری سکول میانوالی کے جماعت پنجم میں داخلہ لیا۔ وہ میانوالی میں اپنے نانا مرحوم ملک محمد اسلم کے ہاں رہائش پذیر رہے۔ ان کے نانا محکمہ پولیس میں بطور انسپیکٹر ریٹائرڈ تھے۔ انہوں نے  پرائمری کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی میں داخلہ لیا۔ جہاں نویں جماعت تک زیرِ تعلیم رہے۔ ان کے نانا جب میانوالی سے اٹھ کر قصبہ کندیاں میں آباد ہوئے تو حامدسراج بھی ان کے ہمراہ آگئے اور یہاں واپڈا ہائی سکول چشمہ (کندیاں) میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم جاری رکھی۔

انہوں نے میٹرک کاامتحان ۱۹۷۴ ؁میں فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ بعد ازاں   حامد سراج نے گورنمنٹ کالج میانوالی میں داخلی لیا مگر سال ؁۱۹۷۴ میں ایف اے کی تعلیم چھوڑ کر اسی برس گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ کالج راولپنڈی  میں داخلہ لے لیا۔ یہاں سے انھوں نے الیکٹریکل ٹیکنالوجی میں  ڈپلومہ کی سند  سیکنڈ ڈویژن میں حاصل کی ۔ اپنی فنی تعلیم سال ۱۹۷۹۔ ۸۰ میں مکمل کر لینے کے بعد عملی زندگی کا آغاز کیا۔

انھیں تعلیم حاصل کرنے سے  خاصا لگاو رہا ۔ اپنی ملازمت کے دوران سال ۱۹۹۱ میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری فرسٹ ڈویژن میں حاصل کی  جب کہ اردو ادب سے اپنی رغبت کے باعث پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ہی سال ۱۹۹۲ میں ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں ۱۹۹۸ میں انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کی سند بھی کامیابی سے حاصل کی۔

مشاغل۔ کُتب بینی:

بچپن میں   حامد سراج کے مشاغل  باقی دیہاتی بچوں کی طرح ہی تھے لیکن   جو بات انہیں باقیوں سے ممتاز کرتی تھی وہ اُن کا ذوقِ مطالعہ تھا۔   ان کے گھر کے آنگن میں ایک بیری کا درخت تھا   بچپن میں گھر آتے تو اس پہ سنگ باری کا آغاز ہوتا۔ جو زیادہ گچھے گرانے میں کامیاب  ہوتا اسے زیادہ بیر ملتے۔ کالج کے زمانے میں  ڈرافٹ کے بہترین کھلاڑی تھے ۔ جب محمد حامد سراج میانوالی میں سکول میں پڑھتے تھے تو ماچس کی کی ڈبیاں اکٹھی کرنا  بلکہ ریڑھی سے خرید کر اپنے پاس جمع کرنا ان کا شوق تھا۔

اس کے علاوہ اُن کا اصل مشغلہ کتب بینی تھا چاہے وہ رسائل و جرائد کی شکل میں ہو یا کتاب کی صورت میں۔۔۔  وہ   پانچویں  جماعت تک بیشتر  ڈائجسٹ پڑھ چکے تھے۔  اپنے ایک برقی خط میں ممتاز شیخ سے کہتے ہیں:

’’یہ کل کی بات لگتی ہے میں گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی میں چھٹی جماعت کا طالبعلم تھا ہائی سکول کے سامنے ریلوے اسٹیشن ہے۔ وہاں ریلوے بک سٹال پر نقوش، فنون، اور اوراق دستیاب تھے اور میرا شوق سوا تھا۔ میری کلکشن میں نقوش کی فائل مکمل ہے۔‘‘

ان کے مشاغل میں کتب بینی، دوست احباب سے ملنا اور آخری ایام میں کچھ وقت ڈیری فارم پر گزارتے جو ان کے بڑے بیٹے اسامہ نے گھر کے ساتھ ہی بنایا ہوا ہے۔ کتب بینی کا شوق حد سے سوا تھا۔ ان کے قریبی دوست ملک بشارت کہتے ہیں:

’’ جب بھی کتابیں آتیں تو اُن کو یوں کھولتے جیسے کوئی  بچہ کھلونے کا بکس کھولتا ہے اور چہرہ خوشی سے دہک جاتا۔ اپنی تنخواہ کا زیادہ حصہ کتابوں پر خرچ کرتے، کئی بار تو اسی شوق میں مقروض بھی ہوئے۔  ان کی لائبریری میں پاکستان ، انڈیا کے جتنے بھی اچھے ادبی رسائل ہیں سب موجود ہیں۔ نقوش کی مکمل فائل محفوظ ہے۔ ‘‘  (۷)

 علم و ادب سے لگاو اُن کی ذات کا حصہ بن چکا تھا۔ جن دنوں وہ میانوالی میں زیرِ تعلیم تھے بچوں کے رسالوں میں گہری دلچسپی لی۔ اسی عرصے میں بچوں کے بہت سے رسائل کا باقاعدگی سے  مطالعہ کیا۔ اُن میں غنچہ، کھلونا، تعلیم و تربیت، ساتھی، پھول اور کلیاں اور نو نہال  شامل تھے۔

  حامد سراج سچے، سُچے  کتاب کے آدمی تھے ، وہ ادب کے خاموش قاری تھے لیکن اُن کے گھر کی پُر شکوہ لائبریری  ہاتھ ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر اُن کے ذوق مطالعہ کی غمازی کرتی ہے۔ اُن کے کمرے کا بیاں ، ڈاکٹر غفور شاہ قاسم  کے الفاظ میں کچھ یوں ہے:

’’ صاحبِ خانہ کا کتب خانہ ادبیاتِ عالیہ اور دیگر متنوع موضوعات کی کتب سے مزین ہے۔ کتب خانے کی ہر دیوار کے ساتھ ایستادہ بُک شیلف میں آراستہ کتابیں صاحبِ خانہ کے حسنِ انتخاب اور ذوقِ مطالعہ کا واضح ثبوت ہیں۔ کُتب خانے میں داخل ہو جائیں تو کتابوں کی کیف آور معیت میں وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ صاحبِ خانہ کا شوقِ مطالعہ اور کُتب اندوزی کا جنون اس کتب خانے کی سرعت انگیز وسعت پذیری کا سب سے بڑا محرک ہے۔

کتب بینی کا شوق قدرت کی جانب سے ودیعت ہوا تھا۔ جب میانوالی میں اپنی نانی کے ہاں مقیم تھے  انہی دنوں داستان امیر حمزہ اور داستان الف لیلہٰ کے دس دس حصے پڑھ ڈالے تھے۔  اس کے علاوہ اردو ڈائجسٹ ،ماہنامہ حکایت لاہور، احمد یار کی جاسوسی کہانیاں، صابر حسین راجپوت کی شکاریات اور عنایت اللہ کی التمش  اور داستان ایمان فروشوں کی زیرِ مطالعہ رہی۔

تاریخی ناولوں کا شوق ہوا تو نسیم حجازی کے ناول ’’خاک اور خون‘‘، ’’اور تلوار ٹوٹ گئی‘‘، ’’شاہین‘‘، ’’داستان مجاہد‘‘، اور ’’یوسف بن تاشقین‘‘ پڑھ ڈالے۔  عبداللہ حسین کا  ’’اداس نسلیں‘‘  ۱۹۷۴ ؁ میں ہی پڑھ لیا تھا۔

افسانوی ادب میں  وہ سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، حیات اللہ انصاری، کرشن چندر، غلام عباس، آغا بابر، قراۃ العین حیدر، امرتا پریتم، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے افسانوں سے بے حد متاثر رہے۔  شعرا میں میر و غالب، مصحفی، آتش ، میر درد، فیض، ن۔م راشد، مجید امجد، ناصر کاظمی اور احمد فراز کا مطالعہ کرتے تھے۔

  حامد سراج کا خاصہ اُن کی ادبی جرائد سے والہانہ رغبت ہے۔  پاکستان اور انڈیا کے ادبی جرائد پر گہری نگاہ رکھتے۔  اُن کی ذاتی لائبریری میں، نقوش، فنون، اوراق، ادب لطیف، صریر، آئندہ، بادبان، سخنور، سویرا، شب خون، سیپ، تطہیر، شاعر، آج، ادب ساز، پہچان، حریمِ ادب، عطا، نیا وقر، سمبل، روشنائی، روایت، انگارے، الحمرا، الزبیر، شعروسخن، ساحل، آفاق، ادبیات، ادراک، معاصر،مخزن، قرطاس، شعرو حکمت، مکالمہ، دنیازاد، روزن، مژگان، الکلام، خیال، تشکیل ، دبستان، مونتاج، استعارہ، نقاط، تخلیقی ادب اور ذہن جدید شامل ہیں۔

اُن کے کتب خانے میں تفسیر، حدیث، فقہ اور فلسفہ سے متعلق ڈھیروں کتابیں ان کے دینی رُجحان کا پتہ دیتی ہیں۔ موسیقی سے شغف دراصل ان کی شخصیت کا دلآویز امتزاج ہے۔ حامد سراج کلاسیکی موسیقی سنتے تھے۔ انہیں اردو غزلیں زیادہ پسند تھیں، اس لیے وہ استاد امانت علی خان، مہدی حسن، غلام علی، جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی غزلوں کے علاوہ عابدہ پروین، پٹھانے خان کو شوق سے سنتے تھے۔  کتابوں کی طرح کیسٹس جمع کرنے کا بھی شوق رہا۔ ان میں ملکہ ترنم نور جہاں، لتا، رفیع، کشور، طلعت محمود، مہناز، عنایت اللہ بھٹی، اخلاق احمد اور ناہید اختر شامل ہیں۔

ملازمت

  حامد سراج کا تعلق ایک زمین دار اور صوفی گھرانے سے ہے لیکن انہوں عام خانقاہی روش سے ہٹ کر روزگارِ زندگی نوکری کر کے کمائی۔ انہیں خانقاہ سراجیہ میں آنے والے کسی مال و متاع سے کوئی سروکار نہیں تھا۔   ؁۱۹۸۱ میں ، اٹک آئل فیلڈ  میں ملازمت کا آغاز کیا۔ انہیں پنڈی گھیب کے قریب ایک گاوں  ’’کھڑپہ‘‘میں تعینات کیا گیا جہاں وہ تیل نکالنے کے متعلق اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ لیکن یہ ان کی زندگی کا کٹھن وقت تھا۔ سال ؁۱۹۸۲ میں بیمار ہوئے تو ملازمت چھوڑ دی۔  جب دوبارہ صحت مند ہوئے تو دیار غیر میں جانے کا ارادہ کیا۔ ۱۹۸۳ ؁میں کویت کوچ کر گئے۔   کویت میں ۲ سال مقیم رہے ۔ ان کے دادا کے بھائی انہیں وہاں لے گئے تھے ۔ کویت میں انہوں نے بہت مشقت کی، مختلف نجی اداروں میں کام کیا لیکن مطمئن نا ہوئے۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ مٹی سے جڑے انسان تھے جنہیں دیار غیر کبھی بھی راس نہیں آ سکتا تھا۔ پہلے دن سے ہی واپس آنے کی تگ و دو میں لگے رہے۔

  حامد سراج کے بیٹے  اسامہ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں:

’’ ان کے ایک کزن محمد اقبال بھی وہیں تھے۔ جب بھی کام سے واپس آتے تو اس سے پوچھتے کہ میری ٹکٹ لے کر آیا ہے؟   جواب میں محمد اقبال پوچھتے کہ تو وہاں جا کر کیا کرے گا۔  تو حامد سراج ،جوابا کہتے کہ میرے باپ کی زمینیں ہیں۔ جس پر محمد اقبال گویا ہوتے کہ یہ تو ان کی ہیں تیرا کیا ہے؟  اس بات کا جواب انہوں نے وفات سے چند دن قبل  محمد اقبال کو ان کے گھر    میں دیا۔۔۔ محمد اقبال اب بتا میرا کیا ہے!!! جس پر محمد اقبال نے کہا کہ  اب آپ کی اپنی ایک شخصیت ہے۔

  الغرض وہ وطن کی محبت میں   کویت سے  ۱۴ اگست ۱۹۸۴ کو اپنے وطن واپس لوٹ آئے۔  ۱۴ اگست کی ٹکٹ  لینے کے لیے انہیں کافی تگ ودو بھی کرنی پڑی۔ یہاں آکر انہوں نے سال ۱۹۸۵میں اٹامک انرجی کے محکمہ میں ملازمت اختیار کر لی۔ محکمہ کا ایک دفتر ان کے آبائی گاوں کے با لکل ساتھ چشمہ بیراج کے مقام پر قائم ہے،  وفات سے ایک سال قبل ریٹائرڈ ہوئے۔

   شادی اور اولاد:

  حامد سراج  نے شادی اپنی پسند سے کی۔ ان کی اہلیہ کا نام شگفتہ ہے جن کا تعلق ضلع خانیوال ، پنجاب  کے ایک گاوں باگڑ سرگانہ سے ہے۔ ان کا خاندان سیال راجپوت ہے۔  یہ دونوں ۲۰ جنوری ۱۹۸۵ کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔

ان کے چار بچے ہیں۔ دو بیٹیاں امامہ ملک اور حفصہ ملک جب کہ دو بیٹے اسامہ احمد اور قدامہ احمد ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی امامہ ملک نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے بی اے کے امتحان میں نمایاں کامیابی پر سلور میڈل حاصل کیا۔ حامد سراج نے اپنے تیسرے افسانوی مجموعے کا انتساب اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام کیا ہے۔

  حامد سراج اپنی بیوی سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کے درمیان پیار اور عزت کا رشتہ تھا کبھی رعب نہیں جمایا۔ ان کی بیوی بھی  ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ وہ پیار سے انہیں ’جان‘ کہہ کر پکارتے تھے۔  گھر کے معاملات کا انتظام اپنی بیوی کے سپرد کیا ہوا تھا ،کیونکہ وہ غیر ضروری معاملات(دُنیاداری) میں الجھنا نہیں چاہتے تھے۔۔۔  ان کی بیوی شگفتہ کہتی ہیں کہ:

’’زندگی میں کبھی لڑائی نہ ہوئی۔ میرے ساتھ ہمیشہ محبت نبھا کر دکھائی ۔  کھانا  ہمیشہ سادہ کھاتے اور احتیاط سے کھاتے تھے۔ جب کبھی کھانا پسند نا آتا یا نمک زیادہ ہوتا تو  کہتے ’جان‘ ایک گلاس دودھ۔۔۔ اور پوری روٹی اسی سے کھا لیتے لیکن شکایت نہ کرتے.

گھر کا ماحول دوستانہ رکھا۔ کبھی غصے کا احساس نہ دلاتے، کوئی بات بری لگتی  تو ڈانٹنے کی بجائے پیار سے سمجھاتے۔ اپنی اولاد کو ہمیشہ موٹیویٹ کیا۔ کبھی انگلی پکڑ کر چلنا نہیں سکھایا  لیکن نئی راہوں کی تلاش سے منع بھی نہیں کیا۔  بچوں اور والد کے درمیان کوئی جھجھک، کوئی دیوار نہ تھی۔  بیٹیوں کے رشتے ان سے پوچھ کر کیے۔   وہ ایک عظیم باپ تھے۔

پسندیدہ  لکھاری اور رفقا:

  حامد سراج   خودسراپا محبت تھے اور ان کی دائمی محبت کتابیں تھیں۔   وہ انسان دوست اور کتاب دوست انسان تھے۔  ان کی کتب بینی اور پسندیدہ لکھاریوں  کا ذکر کرنے سے پہلے  ان کے قریبی رفقا کا ذکر ضروری ہے۔   ان کے قرابت داروں میں  حضرت لالہ عزیز احمد، جو کہ حامد سراج کے خلوت اور جلوت کے ساتھی رہے۔  ملک بشارت، یہ ان کے قریبی عزیز ہیں لیکن اس سے بڑھ کے قلبی دوست  رہے۔ ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، دوست، ہم عصر قلم کار اور  اس سے سوا حامد سراج کے استاد بھی ہیں۔ ان کے علاوہ، فیروز شاہ، مظہر نیازی اور ناصر ملک  کامحمد حامد سراج  کےقریبی رفقا میں شمار ہوتا ہے۔ کچھ اور دوستوں کا ذکر وہ اپنی کتاب میا میں کچھ اس طرح کرتے ہیں:

’’پائن کے درختوں اور ہسپتال کے لانوں میں آئے ہوئے مریضوں کے درمیان بہت سے چہرے اپنےتھے۔ وہ سارے متفکر تھے۔ نانا عمر حیات، لالہ عزیز اور خلیل احمد، بشارت احمد، رشید احمد، اور نجیب احمد۔۔۔آنکھوں میں آنسو لیےماموں نعیم۔۔۔ چچا وکیل اور چچا شفیق۔۔۔ سب موجود تھے۔۔۔ وہ دوست بھی جن کے سر  پر ہاتھ پھیر کر تم نے دعائیں ان کے نام کیں۔۔۔ محمد حمید شاہد، حمید قیصر، علی محمد فرشی، ارشد چہال، سلطان خٹک، اصغر عابد، خلیل جازم، قیس علی، ڈاکٹر انور زاہدی۔۔۔! سب موجود تھے۔۔۔ میں اکیلا نہیں تھا۔ رب کریم نے میری دل جوئی کو میلہ لگا دیا تھا۔  ‘‘

ان کے پسندیدہ لکھاری جنہوں نے آغاز ہی سے ان کی ادبی ذوق و شوق کی شمع کو روشن رکھا، ان  میں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، احسان دانش، دیوان سنگھ مفتون اور محمد طفیل کے نام شامل ہیں۔ دینی علوم سے بھی رغبت بدرجہ اتم موجود تھی۔   مولانا سید ابو الحسن علی ندوی    کی کتب سے متاثر ہوئے اور مولانا عبدالماجد دریا آبادی کی ملائم نثر نے بھی ان کے دل میں گھر کیا۔

افسانوی ادب میں سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، حیات اللہ انصاری، غلام عباس، مظہر السلام، مستنصر حسین تارڑ، عبداللہ حسین، قراہ العین حیدر، بانو قدسیہ، اسلم فرخی، اسد محمد خان، محمد الیاس، شمشاد احمد، حسن منظر، سید محمد اشرف، مسعود نئیر، عبدالصمد، مظہر الزمان خان، خالد جاوید، جمیلہ ہاشمی اور خالدہ حسین  کی تحریروں نے حامد سراج کا متاثر کیا۔

 ان کی پسندیدہ شاعرات میں فہمیدہ ریاض، ادا جعفری اور کشور ناہید قا بلِ ذکر ہیں۔  سفر ناموں میں مولانا تقی عثمانی کے سفر نامے  انہیں پسند تھے۔

 شخصیت:

  حامد سراج سادہ مزاج اور حساس دل کے مالک تھے۔ روحانیت اُن کو ورثے میں ملی تھی۔  ماحول کا اثر تھا یا  نیک لوگوں کی صحبت کا اعجاز، حامد سراج تمام عمر نور کے حصار سے نکل نہ سکے۔ وہ خود  فرحین چودھری کو دیے گئے اپنے آخری انٹرویو میں اس کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں۔

’’ پہلی بیت امام غزالی سے کی، ۱۹۷۵ ؁ میں احیا العلوم فی الدین پڑھی تو  ہفتے میں ایک دن (جمعہ) کا کھانا پانی سے کھاتا تھا ۔ مولانا اشرف علی تھانوی کا بھی اثر رہا۔ بابا جی حضرت خان محمد صاحب ، جو رشتے میں پھوپھا تھے اُن سے بہت کچھ سیکھا۔

اُن کے زندگی کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وہ وہ ایک باعمل صوفی  ادیب تھے ، جنہوں نے سب سے پہلے خود پہ دین کو نافذالعمل کیا ۔ و ہ دین کو جبر سے تعبیر نہیں کرتے تھے اسی  لیے اُن کی شخصیت میں کبھی بوجھل پن نہیں آیا۔  

ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ان کی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’  اُن کی شخصیت ، متانت، خلوص، جذبہ حب الوطنی، عجز و انکساری، دیانت داری اور اسلام سے دلی وابستگی کی آئینہ دار تھی۔ صبرو تحمل، برداشت، بردباری اور دعوت اسلام ، اُن کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ محمد حامد سراج انسان دوستی کی چلتی پھرتی کہانی تھے۔ نفرت، بغض  اور لالچ اُن سے دور بھاگتے تھے جیسے مومن کو دیکھ کر شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔ حقیقیت تو یہ ہے کہ وہ رشتے جوڑنے اور رشتے نبھانے میں کمال رکھتے تھے۔ خطوط کے جواب دینا، دوستوں کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کرنا۔ ‘‘

دردانہ نوشین خان ان کی شخصیت کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتی ہیں:

’’ مجھے یقین ہے الزبیر میں محمد حامدسراج پر جتنے قلم کار لکھیں گے ان سب کا دعویٰ یقین ہو گا کہ ان سے بڑھ کر حامد سراج کا قلبی و قریبی دوست کوئی نہ تھا۔ یہی تو ان کی شخصیت کا خاصہ تھا ان کا اخلاق حسنہ اور تبسم سب  کے لیے یکساں تھا۔ محمد حامد سراج کی شخصیت میں دو نمایاں اوصاف تھے۔ نمبر ایک شیریں گفتاری اور نمبر دو صبر و ایثار۔

ڈاکٹر شبیر رانا کہتے ہیں:

’’ محمد حامد سراج کو روحانیت ، قناعت، صبرو رضا، توکل اور زہد و ریاضت کی متاع بے بہا ورثے میں ملی تھی۔ اللہ کریم نے انہیں باغ و بہار شخصیت سے متمتع کیا تھا اُن سے مِل کر زندگی سے پیار ہو جاتا تھا۔ ان کی شخصیت کے متعدد پہلو تھے وہ بہ یک وقت عالمِ دین، مبلغ ، مفسر، پیرو مرشد، ناصح، نقاد، خادم خلق اور ادیب تھے۔ محمد حامد سراج کی گل افشانی گفتار کا ایک عالم معترف تھا۔ 

سعید احمد سلطان رقمطراز ہیں:

’’ محمد حامد سراج ایک عظیم افسانہ نگار ہی نہیں ایک عظیم انسان بھی تھے، مختلف اوقات میں دوستوں، عزیزوں، ہم عصروں کو یاد رکھنا، انہیں ان کی اہمیت کا احساس دلانا، یاروں کے یار جناب حامد سراج کا وطیرہ تھا۔ میں ادنیٰ انسان اور وہ قد آور شخصیت۔ مگر دوسرے کا قد آور بنا دینے کا ہنر اُن پر بس تھا۔ ‘‘ (۱۶)

  حامد سراج  زندگی کی ہر مسند پہ  توقیر اور عاجزانہ شان سے براجمان رہے۔  بطور باپ تو  وہ پدرانہ شفقت اور محبت کا سرچشمہ رہے ہی لیکن اپنے باقی عزیزوں کو بھی کبھی شکایت کا موقع نہ دیا۔ حالانکہ عزیزوں کے رویوں سے تکلیفیں بھی سہیں لیکن کبھی اُن کو بُرا بھلا نہ کہا، زمین جائیداد  کے معاملات میں رشتوں کو مقدم رکھا۔ اُن کے بچوں کے بقول انہیں کبھی غصے میں نہیں ، چھوٹا ہو یا بڑا ہمیشہ پیار سے مخاطب ہوتے۔

غریب رشتے داروں کی عزت نفس تک کا خیال رکھتے، انہیں مانگنے کی اذیت سے بچانے کے لیے ، اُن کی ضرورت  سوال بننے سے پہلے پوری کرنے کی کوشش کرتے۔

نماز اُن کی زندگی کا لازمی جزو تھا۔ نماز کے لیے دُنیا سے بے خبر ہو جاتے چاہے دوست بیٹھے ہوں یا کوئی اور خاص مہمان۔۔۔لیکن گھر والوں پہ مذہب تھوپتے نہیں تھے۔ بیوی سے  اپنے بچوں کے متعلق کہتے:

’’انہیں روزانہ نہ کہو نماز کے لیے، بچے جوان ہیں۔ اللہ خود ہی توفیق دے گا۔‘‘

 انہیں نے کبھی کسی تعلق کو استعمال نہیں کیا، سفارش کرنے کو معیوب سمجھتے تھے۔ اٹامک انرجی میں ایک عرصہ ملازم رہے لیکن کبھی چپڑاسی اور چئیرمین میں فرق روا نہ رکھا۔   

صبر ان کی بہت بڑی طاقت تھی۔  2016میں جب بیٹے قدامہ کا حادثہ ہوا تو اس کی یادادشت چلی گئی لیکن خود پہ قابو رکھا اور صبر اور نماز سے مدد مانگی۔  اُن کے قریبی دوست ملک بشارت کہتے ہیں کہ:

’’ وہ عاجز اور انکساری سے لبریز انسان تھے۔ اُن کے اندر ذرا برابر بھی بڑائی کا احساس نہیں تھا۔  خوبصورت انسان تھے اور خوبصورت گفتگو کرتے۔ پتا نہیں اُن کی شخصیت میں کیا تھا بہت اچھے دوست بنا لیتے تھے۔   نو آموز لکھاریوں کے پیرِ مغاں تھے۔ ادبی اور ذاتی حوالے سے درویش صفت انسان تھے۔  حامد سراج کے جانے سے میرا ذاتی نقصان ہوا ہے

درویشی اور دریا دلی  کا پیکر تھے۔ دُنیا کی مال و متاع کو استعمال کی شے سمجھتے تھے پیار کی نہیں۔ سادگی کے پیکر تھے۔  دکھاوے سے پرہیز کرتے۔

اسامہ حامد  کا بیان ہے:

’’اُن کی وفات کے بعد جب اُن کی الماری کھولی گئی تو تین جوڑے کپڑے اور صرف ایک جوتا بر آمد ہو ۔۔۔ !!! ‘‘

افسانہ نگاری:

 زمانہ طالب علمی ہی سے شعر کہنے کی سعی کرنے لگے۔  پہلے پہل اپنا تخلص راحتؔ رکھا اور بھر تہامی ؔتخلص کیا۔  کالج کے زمانے میں کچھ غزلیں کہیں جو قافیہ بندی تھی۔ لیکن بہت جلد شاعری کو خیر باد کہہ کر فکشن کی طرف راغب ہوئے۔

انجئینر ذکا اللہ نے   حامد سراج کے تین شعر نقل کیے ہیں:

دراصل ہم کو ستانے آئے
کر  کے یادوں کے بہانے آئے

ایک تنہائی تھی ساتھی لیکن
ساتھ کئی لوگ پُرانے آئے

ہر طرف رنگ بھریں پھول کھلیں
میرا ساقی جو پلانے آئے

حامد سراج ، ماہنامہ تمام میں ارم ہاشمی کو انٹرویو دیتے ہوئے افسانہ نگاری کی ابتدا کے بارے میں خود بتاتے ہیں:

’’ پہلا افسانہ کالج کی زندگی میں لکھا تھا۔ غالبا ۱۹۷۶ ؁ میں۔ افسانے کا نام تھا  ’انسان اور کتا‘  لیکن یادداشت کی کھڑکی پر دستک دوں تو اس سے قبل ۱۹۷۵؁ میں ’’شمع‘‘ لاہور میں ایک افسانہ شائع ہوا تھا ’’ دابی اور خیرا‘‘۔ انہی دنوں شمع کراچی کے چند شماروں میں افسانے شائع ہوئے ایک افسانے کا نام یاد رہ گیا ’’ فوٹو سے شادی‘‘  بعد ازاں روزنامہ جنگ  کے ادبی ایڈیشن ، جس کے انچارج مظہر الاسلام تھے ایک اور افسانہ ’’ماچس اور ادھ جلی تیلیاں‘‘ ۵ ستمبر ۱۹۹۴ اور دوسرا افسانہ گاوں کا غیر ضروری آدمی ‘‘  ۱۹ جون ۱۹۹۵ ؁ کو شائع ہوا۔ ‘‘ (۲۱)

   حامد سراج کو ’سراج‘ نام  دینے والے مولانا مفتی جمیل احمد خان تھے۔ جب کراچی سے شائع ہونے والے ایک دینی ڈائجسٹ ’’اقرا ‘‘ میں اپنے دو مضامین ، ایک نماز کے موضوع پر اور دوسرا  سید عطا اللہ شاہ بخاری کی شخصیت کے حوالے سے تھا۔ بس جب سے مولانا نے ’’سراج‘‘ آپ کے نام کا حصہ بنایا تو قلمی دنیا میں یہی نام قبول عام ٹھہرا۔

  حامد سراج آغاز میں محمد مظہر الاسلام سے بہت متاثر تھے  بلکہ شروع کے تین افسانوں میں اُن  کی مکمل چھاپ کا اعتراف محمد حامد سراج نے فرحین چودھری کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

  حامد سراج کو اپنے مریدین کے قبیل سے مزاحمت کا سامنا بھی رہا۔ انہیں شاید یہ خلش تھی کہ ایک دینی ماحول میں رہنے والا شخص کیسے ادب کی دُنیا میں جا پہنچا۔  اپنی اسی  حالت کا تذکرہ وہ اپنے ہمدم دیرینہ سید ذوالکفل بخاری سے کرتے ہیں:

’’ افسانے پر بات چل رہی تھی میں نے مریدین کی رائے زنی کے پتھر ان کے سامنے چُن کر رکھ دیے کہ

’بولے۔۔۔ حامد صاحب۔۔۔ آپ نے افسانہ لکھنا ہے اور ضرور لکھنا ہے۔ کسی مولوی کے کہنے پر پر گز ترک نہیں کرنا۔ ‘

میں نے عرض کیا:

شاہ صاحب! میں نے اپنے افسانوی مجموعے ’’ برائے فروخت ‘‘ کا پیش لفظ ایک جملے میں سمیٹا ہے۔۔۔

’’ جس دن میں  لکھنا چھوڑ دوں گا اس روز مر جاوں گا۔ ‘‘ (۲۲)

بس یہی ثابت قدمی  اور علم دوستی تھی کہ  پھر آپ کا شہرہ ہمسایہ ملک تک جا پہنچا اور آپ کو ایک مستند افسانہ نگار اور خاکہ نگار کے طور پہ مانا گیا۔  اُن کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ’’ساز‘‘ نئی دہلی اور ’’پہچان‘‘ الہٰ آباد میں خصوصی گوشے شائع ہو چکے ہیں۔  ’’آمد‘‘ پٹنہ، ’’اذکار‘‘ بنگلور، ’’صدف‘‘ پٹنہ، ’’نیا ادب‘‘ بنگلور، ’’ کسوٹی جدید‘‘ سمستی پور، ’’ استفسار‘‘ جے پور اور ’’عالمی انوارِ تخلیق‘‘، رانچی جیسے رسائل میں تواتر سے شائع ہوتے رہے ہیں۔

حامد سراج کی اب تک تیرہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں پانچ افسانوی مجموعے اور ایک اپنی والدہ مرحومہ کا خاکہ ہے۔ جس کا نام “میا” ہے ۔  انکا ایک ناولٹ بعنوان” آشوب گاہ” ہے۔ سنین کے اعتبار سے انکی تخلیقات کی ترتیب یوں ہے۔

1۔ وقت کی فصیل (افسانوی مجموعہ) 2002ء

2۔ میّا (خاکہ) 2004ء، 2007ء، 2008ء2013ء، 2014ء اور چھٹا ایڈیشن 2015ء (پروفیسر رشید احمد صدیقی ایوارڈ یافتہ)

3۔ برائے فروخت (افسانوی مجموعہ) 2005ء

4۔ چوب دار (افسانوی مجموعہ )2008ء

5۔ آشوب گاہ (ناول) 2009ء

6۔ بخیہ گری (افسانوی مجموعہ) 2013ء

7۔مجموعہ محمد حامد سراج  2013ء

8۔ ہمارے بابا جی (سوانح خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد) 2014ء

9۔ برادہ (افسانوی مجموعہ )

10۔ ہم بیتی (آپ بیتی ) نامکمل زیرِ طبع

11۔ عالمی سب  رنگ افسانے: مرتبہ

12۔ نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں : مرتبہ

13۔ مشاہیر علم و دانش: مرتبہ

۱۴۔حامد سراج، محمد، نقش گر (پچیس منتخب افسانے): مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۹

  بیماری۔ وفات:

  حامد سراج   اپنی  جسمانی بیماریوں کا تذکرہ  ’’ نقش گر‘‘ کے دیباچے ’’ کچھ سکے کچھ رسیدیں‘‘ میں کچھ یوں کرتے ہیں:

’’ تین مہینے پہلے جب   کینسر نے ہاتھ ملایا تو مجھے اپنی بقا شفاف نظر آئی۔ میں کینسر  سے خوف زدہ نہیں ہوا۔ کیوں کہ بیماری رحمت بن کر اترتی ہے۔ دس سال قبل دل کی سرجری ہوئی اللہ کریم نے رحمت کے بعد عافیت اتار دی۔ہم چلتے رہے۔ آٹھ برس گزرے، دونوں گردے فیل ہو گئے۔ یہ بھی میرے رب کریم کا فیصلہ ٹھہرا ۔ سر آنکھوں پر۔ الحمداللہ، بیٹے اسامہ احمد خان نے اپنا وجود کاٹ کے گردہ نکالا اور کہا: ’’ بابا۔۔۔ یہ لیجئے! چھوٹا سا تحفہ نالائق بیٹے کی طرف سے۔ اور جتنی زندگی ہے خوشی سے گزاریں۔‘‘

  حامد سراج کے والد کی وفات روڈ حادثے میں ہوئی جبکہ دادی اور ماں کینسر کے موذی مرض کا مقابلہ کرتے کرتے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ شاید یہی وجہ ہو کہ یہ بیماری حامد سراج کی’ جینز ‘کا حصہ بن گئی ہو۔  ۲۰۱۰ ؁ میں دل میں درد اٹھا تو میانوالی کے ایف ڈی ایف ہسپتال میں چیک اپ کے لیے گئے تو ڈاکٹر نے  حیرانی سے کہا کہ یہ بندہ بیٹھا کیسے ہے ان کے تو    دل کےچاروں وال بند ہیں۔   بس کیا تھا  پھر شفا انٹر نیشنل اسلام آباد سے اوپن ہارٹ سرجری ہوئی۔  لیکن ڈاکٹرز نے سرجری کرنے سے پہلے اہل خانہ کو متنبع کیا کہ اس کے نتیجے میں گردے بھی فیل ہو سکتے ہیں۔ خدا کی کرنی کو کون ٹال سکا ہے۔ وہی ہوا تین سال کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ گردے فیل ہو گئے۔   ڈی ایچ اے  ہسپتا ل میانوالی میں گردے واش ہونے  کے تکلیف دہ عمل سے چار بار گزارا گیا  لیکن طبعیت تھی کہ سنبھلتی نہ تھی۔  بالآخر شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں ایک گردہ  تبدیل کیا گیا۔ حامد سراج کے بڑے بیٹے اسامہ احمد خان نے   یہ نیک کام سر انجام دیا۔ تا دم آخر حامد سراج کو گردے کا کوئی مسئلہ نہ ہوا۔

۲۰۱۸ ؁ میں حامد سراج کو جبڑے میں درد کی شکایت ہوئی تو چیک اپ کے لیے اسلام آباد کا رُخ کیا۔ جبڑے کا آپریشن کی گیا ۔ اس کے بعد ’بائی اوپسی‘ کروائی گئی اور گھر میانوالی   واپس آگئے۔ گھر پہنچنے پہ خبر ملی کہ یہ ابتدائی مرحلے کا کینسر ہے ۔ کچھ عرصہ مختلف ڈاکٹرز کو دکھاتے رہے لیکن ’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘  دوبارہ اسلام آباد جانا پڑا۔ ر یز (شعاعیں )لگانے کا عمل شروع کیا گیا لیکن ’ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا‘ کے مصداق کینسر کی گروتھ بڑھتی گئی اور یہ پورے جسم میں پھیل گیا۔  نتیجہ یہ نکلا کہ کندھوں میں شدید درد رہنے لگا۔  چیک کروانے پہ معلوم ہوا کہ یہ ہڈیوں کا کینسر بن چکا ہے۔

گھر میں بھی اب بغیر سہارے کے چلنا محال تھا۔ حامد سراج کے جسم کا نچلا حصہ کینسر کھا چکا تھا۔  ڈاکٹرز نے آخری حل آپریشن تجویز کیا۔ انہی دنوں   یکم نومبر ۲۰۱۹ کو حامد سراج کے چھوٹے بیٹے قدامہ کی شادی طے ہو چکی تھی۔  گھر والوں نے شادی موخر کرنے کا سوچا لیکن حامد سراج کا حکم تھا شادی میں تاخیر نہ کی جائے۔ چنانچہ وہ خود بستر مرگ پہ دراز رہے ، برات  ملتان جانا تھی اس لیے شریک نہ ہوسکے ۔ اس طرح نہایت سادگی سے یہ فریضہ انجام دیا۔

ڈاکٹرز نے اہل خانہ کو مطلع کیا کہ حامد سراج کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے یہی کوئی ایک ہفتہ۔۔۔  آپریشن بھی اب کارگر ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ تکلیف میں اضافے کا سبب بنے گا۔

آخری ایام میں حامد سراج نے اپنی ہر شے سمیٹنی شروع کر دی ۔  حامد سراج کے بڑے بیٹے اسامہ بتاتے ہیں کہ:

’’ انہوں نے اپنے دامادوں کو بلوایا، بیٹیوں کو بلوایا۔۔۔ اُن سے ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی تلقین کی اور اپنی کوتاہیوں پہ معذرت چاہی۔ ۔۔ یہاں تک کہ اگر کسی دکان دار کا ۱۰ روپے بھی ادھار دینا تھا تو مجھے تاکید کی وہ چکا دیا جائے۔ میرے بزنس پارٹنر کا بلوا کر میرا خیال رکھنے کا کہا۔  جب پیرالائز ہوئے تو ہمیں  پریشان ہی نہ ہونے دیتے ،  مجھ سے کہنے لگے  کہ اللہ نے ۶۰ سال ان ٹانگوں سے کام لیا اب اللہ نے کہا ہے کہ ان ٹانگوں کو آرام دو۔۔۔ اب میں آرام سے کتابیں پڑھوں گا۔

مجھے اپنی قبر کی جگہ کی نشاندہی کروائی ( آبائی قبرستان جو کہ مسجد کے سرہانے واقع ہے اس میں خاندان کی قبروں اور باقی دور پار کے رشتے داروں کی قبروں کے بیچ ایک دیوار تھی۔ )  اور کہا کہ مجھے یہ دیوار کھٹکٹی ہے۔ انسانوں کے درمیان دیواریں نہیں ہونی چاہیں۔‘‘  

 ابھی صرف پانچ دن  ہی گزرے تھے کہ   ۱۳ نومبر ۲۰۱۹؁ کو گھر میں ،بوقتِ ظہر ۱:۳۰ منٹ  پر  محمد حامد سراج کی روح پرواز کر گئی۔ ’’حق مغفرت فرمائے‘‘

چلوں میں ستارہ جا چکا ہے

مجھے واپس پکارا جا چکا ہے

وہ کہا کرتے تھے کہ:

’’ میں اس وقت مروں گا جب میری انگلیاں قلم پکرنے کے قابل نہ رہیں گی‘‘ (

یہی ہوا کینسر نے اُن سے لکھنے کی سکت چھین لی تھی۔۔۔ انگلیاں قلم پکڑنے کے قابل نہ رہیں۔۔۔!!!

اب قبر کی جگہ کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو اُن کی وصیت کے مطابق وہ دیوار ہٹا دی گئی   جو تقسیم کرتی تھی، کیونکہ حامد سراج تو  انسانوں کے درمیان کی دیواریں  گرانے اور پُل بنانے آیا تھااور  یوں حامد سراج کی قبر عین اس جگہ بنی جہاں دیوار تھی۔یوں محمد حامد سراج مرنے کے بعد  اپنی قبر بنوا کر طبقاتی تقسیم کی دیوار  گرا گیا۔

      تعزیتی مضامین سے اقتباسات:

دُردانہ نوشین خان   اپنے دل کا حال  کچھ یوں کھولتی ہیں:

’’  ارضی تخلیق کار مر جاتے ہیں۔ اُن کی قبروں کے کتبوں پہ لکھے نام مٹ جاتے ہیں مگر کتابیں عمر خضر رکھتی ہیں۔ کتابوں کی بدولت تخلیق کار کا نام نہیں مٹتا۔ لیکن وقت بہت ظالم  طاقت ہے۔ رفتہ رفتہ ان ناموں کی خوشبو ماند پرتی جاتی ہے۔ تب کتابیں پتھر پہ کندہ حروف کی طرح یخ بستہ اور درسی سطریں بن جاتی ہیں۔ جب تک کہ  محمد حامد سراج کی اولاد، عزیز اور وہ احباب جن کی حامد سراج  کی دید سے عید ہوتی تھی زندہ رہیں گے، یاد ماضی کو دہراتی رہیں گی۔ تب تک یہ کتابیں تروتازہ رہیں گی۔ اس رمز کا کوئی رمز شناس ہی سمجھ سکتا ہے۔ ‘‘ (۲۶)

امریکہ میں مقیم اردو کے مقبول شاعر تنویر پھولؔ نے محمد حامد سراج کی تاریخ وفات پر قطعات لکھے:

قطعہ تاریخ عیسوی

نام حامد سراج تھا جن کا، بجھ گیا اُن کا ہے چراغِ حیات

زلفِ اُردو سنوارتے تھے وہ، ہاتھ میں نثر کا رہا شانہ

فکرِ تاریخ پھولؔ نے جب کی، آئی باغِ سخن سے یہ آواز

’’جو تھے حامد سراج فخرِ ادب، اُن کو کہئے امام افسانہ‘‘

قطعہ تاریخ ہجری

وہ تھا حامد سراج، اعلیٰ ادیب

آسمان ادب کا روشن مہ

اُس کی تحریریں بولتی تھیں پھولؔ

’’گل ہُوا ہے چراغِ ناطق‘‘ کہہ (۲۷)

ڈاکٹر غلام شبیر رانا کے الفاظ  نمناک ہیں:

’’ حیف صد حیف وہ گھر جس میں صرف سانس لینے کا عمل باقی رہ گیا تھا اس کے آنگن  سے قزاقِ اجل کا لشکر گزر گیا۔ محمد حامد سراج تمھارے بعد وفا کے سب ہنگامے عنقا ہو گئے  ۔ ہم سب حواس باختہ، غرقابِ غم، مضمحل اور نڈھال بیٹھے یہی کہہ رہے ہیں:

’’تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا  کوئی دن اور‘‘ (

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی قلم سے  یاس ٹپکتی اور دعائیں چھلکتی  ہیں:

’’جانے والے تجھے سلام۔ جا اور اپنے رب کے پاس رہ۔ خوش و خرم رہ۔ اب وہاں آپ کو  کوئی موذی مرض کبھی لاحق نہ ہو گا اور دُنیا کے اندیشہ ہائے دوردراز سے آپ ہمیشہ کے لئے مامون ہو گئے۔ ہاں ہمیں دکھ ہے تو یہ ہے کہ ہم ان کی ادبی شہ پاروں سے محروم ہو گئے جو اب تجربات و مشاہدات کے بعد آپ کی قلم سے کاغذ پر ثبت ہوتے۔ مگر جو نقوش قلم یادگار ہیں ، وہ کچھ نہیں۔ اس کی قدرو قیمت محققین طے کریں گے اور وہ جو کچھ لکھیں گے ہم اسے بھی یاد رکھیں  گے اور سب سے کہیں گے  کہ ہم نے بھی محمد حامد سراج کو دیکھا اورا س سے فیض پایا تھا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔

محمد خان نیازی مجلس اقبال کے زیرِ اہتمام ایک تعزیتی ریفرنس میں اپنے دوست کے بارے میں کہتے ہیں:

’’ نیک لوگوں کی ایک خاصیت یہ ہوتی ہے کہ جو بھی اُن سے ملتا ہے اُسے لگتا ہے وہ اُن سے ہی محبت کرتا ہے۔ محمد حامد سراج سخن و کردار کے بادشاہ ہوئے، جب تک اُردو ہے ہمارے دوست محمد حامد سراج کا نام  زندہ رہے گا۔‘‘ (

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا

 ڈاکٹر آصف وٹو  محمد حامد سراج سے اپنی عقیدت کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں:

’’اے یارانِ چمن کے یار میرے پیارے حامد سراج!

بھول جانے کا تصور تجھے کیسے کرلوں

وابستہ  میری ہر سانس سے ہیں یادیں تیری

ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہم عہدِ سراج میں جیے ہیں۔

رابعہ رحمٰن  اپنے کالم میں گریہ کرتی ہیں:

’’اک شخص جو ’’میا‘‘ جیسا تھا اک شخص جو ’’حیا‘‘ جیسا تھا اک شخص جو یارانِ چمن کے ساتھ چہل قدمی کرتا ہوا اک کہانی لکھا کرتا تھا۔ اس کی باتیں بھی منظوم ہوتیں، کبھی توقف سے بات کرتا اور کبھی بل کھاتی سوچوں کی ندی سے عمیق خیال کا موتی دوستوں کے دامن میں رکھ دیتا، دوست کہتے حامد سراج آپ تو ادب کا خزانہ ہیں ہمیں تو آپ سے موتیوں کی مالا چاہیے تو وہ ہنس دیتے اور میٹھی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے حاضر جناب!

وہ ایسے کہانی کار تھے کہ کہانی ان کا خود پیچھا کرتی کہ یارانِ چمن کے حامد سراج مجھے لکھو، مجھے بیان کرو اور میرے درد بانٹو ورنہ میرے دُکھ بانجھ پن کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ جو بوند بوند امرت تھا، محبت و  شفقت تھا، فصیل ادب پہ رکھا اک افسانہ، صبر و شکر کا منبع، وہ گل مہر وہ گلاب کلی، وہ سب کا دوست سب کی سہیلی، وہ دل بے قرار کی بے کلی، گئی رتوں سے تھا جس کو پیار وہ غمخوار و غم گسار نہیں رہا۔ اس کے جانے سے بساط بزم ہی الٹ گئی۔‘‘ (۳۲)

مظہر سلیم مجوکہ  اظہار خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ حامد آج مسجد کے میناروں پر چاند تمہیں ڈھونڈ رہا ہے۔

انوکھی چمک اُس کے چہرے پر تھی

مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا

اور تم کسی راستے سے آ جانا

میرے چاروں طرف محبت ہے

حامد بھائی اپنے مداح کا سلام قبول کریں۔

سلیم فواد کندی ، تعزیتی ریفرنس کی میزبانی کرتے ہوئے گویا ہوتے ہیں کہ:

’’ مجھ سے اگر کوئی پوچھا جائے کہ روح کو ادھیڑ کر کس نے لکھا ہے تو میں صرف ایک ہی نام لوں گا، محمد حامد سراج!‘‘ (

مظہر نیازی محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ:

’’ لالہ کی زبان سے ہم نے کبھی سخت الفاظ سنے ہی نہیں

حمید قیصر کا احساس ہے کہ:

’’ مجھے لگتا ہے کہ حامد سراج اور میرا بچپن کا تعلق ہے(  بچپن میں کبھی نہیں ملے) وہ سراپا محبت تھے، حامد سراج ہم میں نہیں ہیں  مگر ’’ہیں‘‘۔ 

ڈاکٹر غفور شاہ قاسم اُن کے قریبی رفقا میں  سے ہیں جن سے حامد سراج کے کا تعلق ہمہ جہت  اور ہمدم دیرینہ کا ہے وہ فرماتے ہیں:

’’سچ تو یہ ہے کہ کسی کے ساتھ وابستگی کی پیوستگی کا اندازہ اس چیز سے نہیں لگایا جا سکتا کہ آپ کو اُس  شخص کی موجودگی کتنی آسودگی دیتی ہے اس کااحساس اُس کیفیت سے ہوتا ہے کہ آپ اُس کے بغیر خود کو کتنا تہی داماں محسوس کرتے ہیں۔ بعض تعلق  اور رشتے شریانوں میں بہنے والے خون کی طرح ہوتے ہیں جن کے بغیر آدمی اپنے آپ کو ادھورا اور نامکمل شمار کرتا ہے۔ محمد حامد سراج کے ساتھ میرے تعلق کی نوعیت ’ایگزیکٹلی‘  یہ ہے

تجھ سے لفظوں کا نہیں روح کا رشتہ ہے میرا

تو میری سانسوں میں تحلیل ہے خوشبو  کی طرح

جب تعزیت کے لیے ملک بشارت احمد کے ہمراہ میں حامد سراج کے گھر میں داخل ہوا تو درو دیوار سوگوار دکھائی دیے، میرے محسوسات کی ترجمانی ناصر کاظمی کے اس  شعر سے ہوتی ہے

آنکھ ہر راہ سے چپکی ہی چلی جاتی ہے

دل کو ہر موڑ پہ کچھ کھویا ہوا لگتا ہے

حوالہ جات باب اول

۱۔ محمد حامد سراج، ہمارے بابا جی، ص ۵۶

۲۔ انجینئر ذکا اللہ خان، محمد حامد سراج کے افسانوں کا فنی اور موضوعاتی مطالعہ،  مقالہ برائے ایم فل، ص ۱۰

۳۔ محمد حامد سراج، نقش گر، ص ۱۶

۴۔ محمد حامد سراج، نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں، ص ۶۷۳

۵۔ ایضاٌ، ص ۵۷۳

۶۔  محمد حامد سراج، خط بنام ممتاز شیخ، ۲۸ اگست ۲۰۱۹ فیس بک

۷۔ مقالہ نگار کی ملک بشارت احمد سے ملاقات،  ۷ جون ، ۲۰۲۰

۸۔ محمد حامد سراج، میا، ص ۹

۹۔ مقالہ نگار کی اسامہ حامد سراج سے ملاقات، ۶ جون، ۲۰۲۰

۱۰۔ مقالہ نگار کی شگفتہ حامد سے ملاقات، ۶ جون، ۲۰۲۰

۱۱۔ محمد حامد سراج، میا، ص ۴۱،۴۲

۱۲۔فرحین چودھری،  محمد حامد سراج سے انٹرویو،  ۱۲ اکتوبر ۲۰۱۹

۱۳۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، ادبی ستارے، ص ۲۰۱۔ ۲۰۵

۱۴۔ رسالہ ، الزبیر، ص ۱۲۶

۱۵۔ ایضاٌ، ص ۱۳۱، ۱۳۲

۱۶۔ ایضاٌ، ص ۱۵۵

۱۷۔ مقالہ نگار کی اسامہ حامد سراج سے ملاقات، ۶ جون، ۲۰۲۰

۱۸۔ مقالہ نگار کی ملک بشارت احمد سے ملاقات،  ۷ جون ، ۲۰۲۰

۱۹۔ مقالہ نگار کی اسامہ حامد سراج سے ملاقات، ۶ جون، ۲۰۲۰

۲۰۔ انجینئر ذکا اللہ خان، محمد حامد سراج کے افسانوں کا فنی اور موضوعاتی مطالعہ،  مقالہ برائے ایم فل، ص ۱۶

۲۱۔ ارم ہاشمی، محمد حامد سراج سے  گفتگو،  ماہنامہ تمام، میانوالی، فروری ۲۰۰۹، ص۴

۲۲۔ محمد حامد سراج، نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں، ص ۶۷۲

۲۳۔ محمد حامد سراج، نقش گر، ص ۹

۲۴۔ مقالہ نگار کی اسامہ حامد سراج سے ملاقات، ۶ جون، ۲۰۲۰

۲۵۔  رسالہ، الزبیر، ص ۱۲۷

۲۶۔ ایضاٌ، ص ۱۲۷

۲۷۔ ایضاٌ، ص ۱۲۹

۲۸۔ ایضاٌ، ص ۱۳۴

۲۹۔ ایضاٌ، ص ۱۵۳

۳۰۔مجلس اقبال میانوالی، تعزینی ریفرنس، ۲۸ دسمبر، ۲۰۱۹

۳۱۔ ایضاٌ

۳۲۔ رابعہ رحمٰن، کالم، نوائے وقت، ۲۱ نومبر، ۲۰۱۹

۳۳۔ مجلس اقبال میانوالی، تعزینی ریفرنس، ۲۸ دسمبر، ۲۰۱۹

۳۴۔ ایضاٌ

۳۵۔ ایضاٌ

۳۶۔ ایضاٌ

“Life and Works of Muhammad Hamid Siraj: The Fiction Genius of Mianwali”
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth” WRITERS & AUTHERS FROM MIANWALI

“Life and Works of Muhammad Hamid Siraj: The Fiction Genius of Mianwali”

 محمد حامد سراج   مٹی، روشنی، خاموشی اور فنا نہ ہونے والے لفظوں کا شہزادہ کچھ لوگ اس دنیا میں...
Read More
Voices from the Literary World: Reflections on Hamid Siraj
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Voices from the Literary World: Reflections on Hamid Siraj

محمد حامد سراج کے متعلق یہ آراء محض تاثرات نہیں بلکہ ایک عہد کے ادبی شعور کی گواہیاں ہیں۔ اُن...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 1
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 1

محمد حامد سراجؔ کی ادبی نثر (مقالہ ایم فل) عزیر قارئین! یہ مقالہ علی احمدؔ (ایف سی کالج (یونیورسٹی) لاہور) کی تحقیق...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 2
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 2

باب دوم محمد حامد سرا ج کے افسانوں کا فکر ی و فنی جائزہ محمد حامد سراج کے افسانوں کاموضوعاتی...
Read More
Muhammad Hamid Siraj — A Life in Pictures
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj — A Life in Pictures

محمد حامد سراج — تصویروں میں ایک پوری زندگی تصویری گیلری کا تعارفی پیراگراف یہ تصویری گیلری محمد حامد سراج...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 3
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 3

باب سوم محمد حامد سراج بطور ناول نگار: فکری و فنی جائزہ ناول کی تعریف   محمد حامد  سراج کے...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 4
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 4

باب چہارم محمد حامد سراج بطور خاکہ نگار: فکری و فنی جائزہ ’’میّا‘‘کا تجزئیاتی مطالعہ عورت اپنی اصل میں نہایت...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top