“Life and Works of Muhammad Hamid Siraj: The Fiction Genius of Mianwali”

 محمد حامد سراج

 

مٹی، روشنی، خاموشی اور فنا نہ ہونے والے لفظوں کا شہزادہ

کچھ لوگ اس دنیا میں یوں اترتے ہیں
جیسے صدیوں پرانی روشنیاں کسی نئی کھڑکی سے جھلکنے لگیں۔
کوئی ہلکی سی ہوا چلتی ہے،
کوئی خاموش سا لمحہ تھرتھراتا ہے،
اور پھر ایک کہانی زمین پر بھیج دی جاتی ہے۔

21 اکتوبر 1958 کو خانقاہ سِراجیہ کی فضا میں بھی ایسا ہی ایک خاموش ارتعاش ہوا تھا۔
مٹی نے ایک غیر معمولی خوشبو سانس میں لی،
درختوں کی شاخیں ذرا دیر کو رُک گئیں،
اور بزرگوں کے چہروں پر وہی مہربان مسکراہٹ اُتری
جو ایک بڑے آدمی کے آنے پر آیا کرتی ہے۔

محمد حامد سراج پیدا ہونے والے تھے۔
اور وقت نے جیسے دور بیٹھ کر کہا:
“یہ شخص لکھے گا —
ایسا لکھے گا کہ گاؤں بھی شہر بن جائے گا
اور شہر اپنی رعنائی بھول کر گاؤں کے سامنے خاموش کھڑا ہو جائے گا۔”

 خاندان، روحانیت اور وہ روشنی جو موروثی تھی

محمد حامد سراج کے گھر کی فضا
دنیاوی گھروں سے کچھ مختلف تھی۔

یہ وہ گھر تھا
جہاں صبحیں تلاوت کے نور سے کُھلتی تھیں،
شامیں ذکر کی لَے پر ڈھلتی تھیں،
اور راتیں خاموش دعاؤں کے سائے میں سانس لیتی تھیں۔

ان کے والد صاحبزادہ محمد عارف
علم، وقار اور سادگی کے آدمی تھے۔
جبکہ ان کے دادا، مولانا احمد خان کی خانقاہ
آج بھی ہزاروں دلوں کی پیاس بجھاتی ہے۔

بچپن کے یہی مناظر
سراج صاحب کی شخصیت میں وہ روحانی چمک لائے
جو ان کے ہر افسانے کے اندر
ایک ’’خاموش روشنی‘‘ کی صورت جھلکتی ہے۔

انہوں نے زندگی کو
صرف سطح پر نہیں دیکھا—
گہرائی میں اتر کر دیکھا۔
اسی لیے ان کی تحریروں میں انسان
محض کردار نہیں بنتا،
روح کی سطح پر جیتا ہے۔

 گاؤں، مٹی، دریا اور ہواؤں کی دانشگاهِ حیات

میانوالی کی دھرتی،
اس کے دریا،
اس کا صحرا،
اس کے نیم خشک راستے
اور اس کی بے ساختہ زندگی—
یہ سب اس شخص کی تربیت کے اولین استاد تھے۔

کہتے ہیں
جگہ انسان کو بناتی ہے۔
محمد حامد سراج اس بات کے جیتے جاگتے ثبوت تھے۔

وہ گاؤں کی آواز سنتے تھے،
ہواؤں کی تھکن محسوس کرتے تھے،
اور مٹی کے اندر سادہ لوگوں کی
نامعلوم کہانیوں کی دھڑکن تک سن لیتے تھے۔

ان کے افسانے
اسی لیے شہر زدہ نہیں،
مٹی زدہ ہیں—
اور یہی ان کا سب سے بڑا حسن ہے۔

 تعلیم، ذہنی وسعت اور وجدان کا سفر

ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔
پھر قریب کے قصبے اور شہر۔
لیکن ایک چیز ہمیشہ نمایاں رہی:

ان کا تعلق کتاب سے نہیں،
کتاب کے پیچھے چھپے ہوئے انسان سے تھا۔

وہ کم بولتے تھے مگر دیکھتے بہت تھے۔
مشاہدہ ان کا سب سے بڑا سرمایہ تھا۔

ان کی شخصیت
ترتیب، تحقیق اور ٹھہراؤ کا مجموعہ تھی—
اور شاید یہی وجہ ہے
کہ بعد میں وہ انجینئر بھی بنے
اور افسانہ نگار بھی۔

دونوں شعبے متضاد نہیں—
بلکہ دونوں میں نظم و ضبط،
دقتِ نظر،
اور انسانی پیچیدگیوں کو پڑھنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

 انجینئرنگ کی زندگی: عقل، ذمہ داری اور خاموشی کا دور

چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ


ایک ایسا مقام ہے
جہاں دنیاوی ہنگامہ بہت کم ہوتا ہے
اور ذمہ داری بہت زیادہ۔

وہاں کا کام
مزاح نہیں،
مکمل دقت،
مکمل ذمہ داری
اور کامل ہوشیاری چاہتا ہے۔

حامد سراج اس ماحول میں برسوں رہے—
اور اس سے ان کی شخصیت میں
ایک اندرونی استحکام،
ایک نظم،
اور ایک ٹھوس سنجیدگی پیدا ہوئی۔

شاید یہی وجہ ہے
کہ ان کے افسانوں میں جذبات کی شدت
کبھی افراتفری نہیں بنتی—
ہمیشہ ترتیب میں بہتی ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد
انہوں نے پوری توجہ ادب کو دے دی۔
وہ اب صرف افسانہ نہیں لکھتے تھے—
وہ اپنی زندگی کے باقی ماندہ لمحے
لفظوں کے سپرد کر رہے تھے۔

 ادبی تخلیقات: دنیا کے اندر چھپی ہوئی دنیا

ان کی کتابیں
محض کہانیاں نہیں—
زندگی کے رازوں کا خزانہ ہیں۔

چند نمایاں تخلیقات:

  • برائے فروخت

  • آشوب نگاہ

  • بخیہ گری

  • چوبدار

  • نقش گر

  • وقت کی فصیل

  • عالمی سب رنگ افسانے

  • ہمارے بابا جی حضرت مولانا خواجہ خان محمد

یہ سب کتابیں
اپنی اپنی صنف کی ایک مکمل دنیا ہیں۔

ان کے کردار
چلتے پھرتے انسان نہیں—
ایسی گہری تصویریں ہیں
جو پڑھنے والے کے اندر کہیں ٹھہر جاتی ہیں۔

ان کا جملہ
سادہ بھی ہوتا ہے
اور زخم بھی دے جاتا ہے۔

ان کی تحریر
خاموش بھی ہوتی ہے
مگر چیختی بھی ہے۔

ان کے افسانے
سچ بھی ہوتے ہیں
مگر کسی زخم کی طرح
ہلکا سا درد بھی چھوڑ جاتے ہیں۔

 ’’سراجی اسلوب‘‘: وہ رنگ جو صرف اُن کا تھا

ان کی تحریروں میں:

  • مقامی زندگی

  • روحانی لَے

  • انسانی کمزوری

  • زمانے کا سچ

  • سماجی عدم توازن

  • گاؤں کا تنہا انسان

  • محبت کی نمی

  • اور درد کی خوشبو

ایسے ساتھ ملتی ہے
جیسے کسی بزرگ کی دعا
اور کسی ماں کی تھپکی۔

ان کے ہاں مکالمہ کم ہے—
خاموشی زیادہ۔
کیونکہ وہ جانتے تھے
کہ سب سے بڑی بات
خاموشی ہی کرتی ہے۔

 یادیں، دوست، لوگ: ایک انسان جو دلوں میں رہا

جو بھی ان کے قریب ہوا
وہ یہی کہتا ہے کہ حامد سراج:

  • انا سے پاک

  • نرم مزاج

  • خاموش مسکراہٹ والا

  • دوسروں کا دکھ سمجھنے والا

  • غیر متکلف

  • وقار والا

  • اور اندر سے بہت گہرا انسان تھا

ان کے دوست کہتے ہیں
کہ وہ کبھی کسی کو دکھ نہیں دیتے تھے—
ہاں، اپنی تکلیف خود برداشت کر لیتے تھے۔

ان کی محفل
کبھی شور والی نہیں ہوتی تھی—
وہ چند جملے کہتے
اور سامنے والا دیر تک سوچتا رہتا۔

 بیماری، حوصلہ اور آخری سفر

کینسر نے انہیں کمزور کیا
مگر توڑا نہیں۔
انہوں نے بیماری کو
وقار سے جھیلا۔

خاموشی سے
کسی شکوے کے بغیر۔

نومبر 2019
وہ لمحہ تھا
جب ایک بڑا ادیب
اپنے گاؤں کی مٹی پر واپس لوٹ گیا۔

ان کے انتقال کی خبر
پورے میانوالی میں
اور پھر ادبی حلقوں میں
جیسے ایک ٹھنڈی لہر کی طرح پھیل گئی۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے
ان کی وفات کو
’’ملک کا ادبی نقصان‘‘ کہا۔

 میراث: وہ جو کبھی ختم نہیں ہوتی

اصل لکھنے والے مرتے نہیں۔
وہ اپنے لفظوں کے اندر چھپ کر
ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتے ہیں۔

محمد حامد سراج بھی
اب ایک کتاب ہیں—
اور کتابیں
مٹتی نہیں،
تاخیر سے کھلتی ہیں۔

ان کی تحریریں
آنے والی نسلوں کے لیے
ایک مشعل،
ایک راستہ،
ایک روشنی
اور
ایک گواہی بن کر رہیں گی
کہ بڑے شہر لازم نہیں—
بڑی رُوح لازم ہے۔

Muhammad Hamid Siraj last interview

Muhammad Hamid Siraj Tazeeyati Reference

(A talk by his son Usama Khan)

“Life and Works of Muhammad Hamid Siraj: The Fiction Genius of Mianwali”

“Life and Works of Muhammad Hamid Siraj: The Fiction Genius of Mianwali”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top