باب چہارم
محمد حامد سراج بطور خاکہ نگار: فکری و فنی جائزہ
’’میّا‘‘کا تجزئیاتی مطالعہ
عورت اپنی اصل میں نہایت ہی پیچیدہ موضوع ہے۔ کبھی یہ دیوی کی صورت مسند پہ براجمان ہوتی ہے تو کبھی لونڈی کی مانند بستر نشین۔۔۔ معشوق بنے تو کئی مجنوں خاک بہ سر، دشت بُرد اور رانجھے جنگل بیابانوں میں دیوانے ہوئے پھرتے ہیں۔ بہن ، بیٹی ، بیوی کا رُوپ دھارے تو عزتوں کی پاسبان بن جاتی ہے۔ ہر ہر رُوپ اپنی ذات میں مکمل اور مختلف ہے لیکن جب یہ ماں کا روپ اپناتی ہے تو کائنات کی تمام عزتیں اس کے قدموں پہ سر نگوں ہو جاتی ہیں۔ محمد حامد سراج کا امتیاز یہ ہے کہ اُس نے اپنی ماں کو ’’میّا‘‘ کی شکل قارئین تک پہنچایا اور یہ بتایا کہ ماں کی مفارقت کا دُکھ ایک تخلیق کار کو کیسے نکھارتا ہے۔مظہر حسین کی رائے ’میّا‘ کے تاثر کو اپنے اندر یوں سمیٹتی ہے۔:
’’با الفاظ دیگر میا وہ زہرہ دیوی ہے ۔ جس کے گرد منڈلاتے کرداروں کے چاند اور شہابیے، سراج کے تخلیق کردہ ہیں۔ ان شہابیوں کا آپسی ٹکراؤ حزینے کے اوج ثریا پر پل بھر کے لیے روشنی کا اثرِ آفریں ہجوم کھڑا کر دیتا ہے۔ لیکن حامد کی مہارت دیکھیے کہ اس نے اپنی ذات کی صورت میں پس پردہ ایک ایسی برقناطیسی قوت تخلیق کر دی ہے جس کا ملکوتی و طلسماتی اثر کسی بھی کردارچے کو متعین مدار سے بھٹکنے نہیں دیتا۔ یہ ایک ایسا پیراڈائم ہے جس کو کسی بھی پہلو سے دیکھا جائے تو مکمل، مضبوط، مربوط اور متوازن دکھائی دیتا ہے اورا سے جس بھی نام سے پکارا جائے اس پر ججتا ہے۔ خطابیہ، رزمیہ، تاثریہ، جذباتیہ، آفاقیہ، حزنیہ، جذبیہ، کربیہ، ناسٹلجیا، قلندریہ، رمزیہ، مجذوبیہ، فلسفیہ۔‘‘
’بھوک مرنا‘ یعنی اب اس دُنیا میں دانہ پانی کم رہ گیا ہے۔ موت کی جانب پہلی سیڑھی یرقان بنتا ہے۔ حامد سراج نے اپنی ماں کے دُکھ کو اپنی اندر اپنی تکمیل کی حد تک جِیا ہے۔ اسے برگزیدہ شیشم روتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پتوں کی سبزی ، زردی پہ مائل ہے۔ ایک منظر باہر کی دُنیا کا ہے اور ایک اُس کے اندر تصویریں بنا رہا ہے۔ وہ چشمِ تصور میں اپنی ماں سے مخاطب ہے:
’’ ماں۔۔۔ تمہاری آنکھوں میں زردی اُتر آنے سے درختوں کے پتّے زرد ہو گئے۔ یرقان کی پیلاہٹ تمہاری آنکھوں سے اُتر کر پوری کائنات میں پھیل گئی۔۔۔خوف اور وساوس کی چیونٹیاں میرے دل کی دیواروں پر رینگنے لگیں۔‘‘
اس خاکے کو پرکھنے کے لیے کئی زاویوں سے اس کا مطالعہ لازم ہے۔ بقول مظہر حسین:
’’ ’’میا‘‘ کو اگر فکری اور فنی میزان پر پرکھا جائے تو یہ کثیرالجہات ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر محبت، فلسفہ محبت اور تصوف کا یک معنی خیز جہان آباد کیے ہوئے ہے اور جس کا ہر پہلو دوسرے سے فزوں تر ہے۔ اسے آپ خاکہ، ناولٹ، افسانہ، داستان، آپ بیتی، بپتا محبوبیہ، مونتاژ، پری لوڈ، پاپری، غرضیکہ کچھ بھی کہہ لیں ، آپ کے فہم کو خوش آمدید کہہ گی۔ اس طرح موضوع، ہیئت، نوعیت فن اور بیان ہر لحاظ سے ’’میا‘‘ کا دامن وسیع تر ہے۔ یہ ایک فرزانے کی ایسی ترنگ ہے جس پر دیوانگی کا سا گمان گزرتا ہے یا ڈیلفی کے اوریکل سے آتی ہوئی ایک ایسی پر اسرار صدا اپنے سننے والوں کو اپنی جانب یوں مبہوتانہ طور متوجہ کرتی ہے کہ اس کے سنتے ہی یار لوگ دیوانہ وار اس صدا کی سمت دوڑ پڑیں اور جنہیں روکنے والوں سے بھی اک عجب داستان ہوش ربا وابستہ ہے۔ ‘‘
حامد سراج اس خاکے کا خود ایک نیم دیوانہ کردار ہے جس کی ماں بیمار ہے اور وہ خود کلامی کے طویل دورانیوں سے تخلیقی ہوش مندی سے گزرتا ہے۔ وہ خود سے محوِ کلام بھی ہے اور قاری کو یہ قصہِ درد بھی سُناتا جاتا ہے اورا ُسے، اس بات کا بھی ادراک ہے کہ یہ باتیں لا یعنی ہر گز نہیں ۔۔۔ پروفیسر غفور شاہ قاسم ،حامد سراج کے طرزِ تحریر پہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ محمد حامد سراج ماں سے وابستہ یادوں کو تاثر اور تاثیر سے لبریز انداز بیاں کے نپے تلے جملوں میں یوں بنتے چلے گئے ہیں کہ پڑھنے والا اس سحر میں گم ہوتا چلا جاتا ہے ۔وہ جملوں کی پاور آف مسمریزم کے کامل شناور ہیں اور اسے بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہیں ۔ ’’میّا‘‘ خود کلامی اور مکالماتی تکنیک میں لکھا گیا خاکہ ہے۔‘
اسی بات کی دلیل میں یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’ یرقان لا علاج تو نہیں ؟
کون سا یرقان ہے۔۔۔؟
میری ماں کی بھوک کیوں مر گئی ہے۔۔۔؟
اچھا اچھا۔۔۔یرقان میں بھوک مر جاتی ہے۔۔۔
طفل تسلیاں۔۔۔
واہموں نے مجھے چاروں اور گھیر لیا۔۔۔
بے بسے میری ہڈیوں میں اترنے لگی۔
علاج گھر پر ممکن نہیں تھا۔۔۔‘‘
حامد سراج کو جب ڈاکٹر کہتا ہے کہ یہ زمین زندہ رہنے کے لیے نہیں ہے تو موت کا امکان یقین میں بدل جاتا ہے۔ کوئی بھی بیٹا یہ نہیں چاہتا کہ اُس کی ماں اس دارِ فانی سے کوچ کر جائے کیونکہ بقول محمد بخش:
’’ماواں باج محمد بخشا سُنجی پئی حویلی‘‘
حامد سراج کو یقین ہو چلا ہے کہ یہ چراغ اب چراغِ سحری ہے۔ ۔۔بجھا چاہتا ہے۔۔۔ لیکن امید کا کیا کریں ، کم بخت پہلو سے لگی بیٹھی ہے۔ اب کے وہ ماں سے مخاطب ہے۔ سُنو ماں:
’’ماں۔۔۔
سرجن نے سی۔ٹی۔سکین کے لیے تمہیں اسلام آباد ریفر کر دیا ہے۔
ایک موہوم سی امید۔۔۔
ایک ٹمٹماتاسا دیا۔۔۔
آس کی کچی ڈوری۔۔۔‘‘
حامد سراج کا اسلوب بے تکلفانہ اور مخاطبانہ ہے۔ وہ اپنی ماں کی بات بتاتا ہوا خیال کی ایسی پگڈنڈی پہ نکل جاتا ہے جہاں ایک جانب ماضی کے تازہ لمحے بہار کی میٹھی ہوا میں لہلہا رہے ہیں تو دوسری جانب زندگی، خزاں رسیدہ پتّوں کی مانند جھڑ رہی ہے۔ اور اس سارے سفر میں اُس کے دوست احباب حامد سراج کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔ مظہر حسین اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں:
’’ کتاب کے خطابیہ انداز نے جہاں ڈکشن کا چار چاند لگا دیے ہیں وہاں میا کے کردار کو زندہ و جاوید بھی کر دیا ہے۔ با لخصوص’’تم‘‘ کا صیغہ بے تکلفی اور احترام کے ملے جلے جذبات کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ‘‘
یرقان کی تشخیص کے بعد کینسر کی تشخیص ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات بلکہ اکثر اوقات انسان جس شخص کو کھونے سے ڈرتا ہو ، اُس کے کھونے کے خیال سے بھی کوسوں دور بھاگتا ہے لیکن جب حقیقت سامنے ہو تو آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ حامد سراج بھی شاید یہی چاہتے تھے کہ انہیں اس خبر کی کڑوی گولی شوگر کوٹڈ کھلائی جاتی۔۔۔ لکھتے ہیں:
’’ بھائی محمود، میں اور حمید قیصر کوریڈور میں ٹہل رہے تھے۔
سینے کے پنجرے میں وساوس کا پنچھی سر پٹخ رہا ہو تو ٹہلنا بھی اک عذاب سے کم نہیں ہوتا۔
ہم ٹہلتے رہے۔۔۔
وقت سرکتا رہا۔۔۔
ماں۔۔۔سی۔ٹی۔ سکین روم میں تھی۔ اتنے میں دروازہ چرچرایا۔۔۔
ادھ کھلے کواڑ میں سے نور بی بی کا چہرہ نمودار ہوا۔۔۔
وہ اپنی سیٹ پر سے اٹھی۔
کاریڈور میں سے گزرتے ہوئے ایک ڈاکٹر سے اس نے کہا۔۔۔
ڈاکٹر آئیے میں آپ کو ایک عجیب کیس دکھاؤں ۔۔۔!
ڈاکٹر نور بی بی کو معلوم نہیں تھا۔۔۔
کوئی تو اس کو خبر کر دیتا کہ کاریڈور میں ٹہلتے ہوئے بہت سے لوگوں کے درمیان ایک شخص وہ بھی ہے جس کی ماں، جس کی جنت اس وقت ٹیسٹ کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ اور اسی کے بارے تم نے کتنے آرام سے کہہ دیا۔
کینسر ہے۔۔۔ اور گال بلیڈر میں ’سٹون‘ بھی ہے۔
شیشے کے کمرے میں ماں کے چہرے پر سکینت تھی۔
باہر تیز ہوا تھی۔۔۔
دُکھ اور کرب کی۔۔۔‘‘
یہ تحریر جہاں ایک خاکہ ہے وہیں ماں کی علالت کے زمانے میں اُن کی خاص فکری ، مذہبی اور روحانی رجحانات کا عکاس بھی ہے۔ اور گھر کے خاص مذہبی ماحول کی خوشبو بھی آتی ہے ۔ اس کی ایک وجہ خانقاہ سراجیہ سے خاص نسبت ہے۔ مظہر حسین ، حامد سراج کے تخلیقی مزاج کو اسی صوفیانہ ماحول کا شاخسانہ سمجھتے ہیں۔ :
’’ میا میں حامد سراج ہمیں ایک مجذوب یا صوفی کے طور پر دکھائی دیتاہے۔ جس نے ایک فلسفیانہ ردا اوڑھ رکھی ہو کیونکہ ان کا تعلق خانقاہ سراجیہ سے بھی ہے۔ جہاں سے علم ، روحانیت، فلسفہ اور فلسفوں کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ ‘‘
’’ بیٹا۔۔۔! ایک بار مجھے ہسپتال سے گھر ضرور لے جانا۔۔۔ مجھے سب سے ملنا ہے۔ بزرگوں کے مزارات پر حاضری دینی ہے۔۔۔ تمہیں گھر لے کر آئے۔ صحن میں رشتے دار تمہیں ملنے کو جمع تھے۔ تم نے وضو کیا۔۔۔
اور مزارات کو چل دیں۔‘‘
’’ماں۔۔۔ تمہارے پاس جو حجتہ السلام شیخ الہند مولانا محمودالحسن کا مترجم قرآن ہے۔ جس کی تفسیر مولانا شبیر آحمد عثمانی نے لکھی ہے۔ اس پر ایک دُعا لکھ کر مجھے دے دو۔مجھے زندگی میں یہی سوغات بہت ہے۔ یہی میری زمین ہےٗ یہی میرا سرمایہ ہے۔۔۔!
تم نے تفسیر اُٹھا کر لانے کو کہا:
دعا لکھی
’’۷۸۶۔۔۔۔پیارے بیتے حامد کے لیے
خداوندِ کریم میرے بچوں کو کلام پاک پڑھنے اور اس پر عمل کی توفیق اور شوق عطا فرمائے۔ ‘‘
حامد سراج کی ’’میّا‘‘ سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی ماں گاؤں کی روایتی ان پڑھ خاتون نہیں تھیں ، انہیں پڑھنا ، لکھنا بخوبی آتا تھا بلکہ ادب کی بھی طالب علم تھیں۔ ایک جگہ جب حامد سراج لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر نے انہیں سات گلاس پانی پینے کا کہا تو حمید قیصر سے نے انہیں پانی کیسے پلایا۔۔۔ملاحظہ کیجیے:
’’ امی جی کو میں پانی پلاؤں گا۔۔۔ حمید قیصر نے جگ اور گلاس سنبھال لیا۔ دو گھنٹے میں سات گلاس پانی۔۔۔!
حمید قیصر نے پانی کے ساتھ ساتھ تاریخ سے لے کر ادب تک کے موضوعات تم سے چھیڑ دئیے۔
کرشن چندرٗ راجندر سنگھ بیدیٗ منٹوٗ قراۃ العین حیدر۔۔۔
کتنے ہی موضوعات تھے جن پر تم نے سیر حاصل گفتگو کر کے حمید قیصر کو حیران کردیا۔
سات گلاس پانی۔۔۔؟
ہر پندرہ منٹ بعد گلاس میں پانی انڈیل کر حمید قیصر کہتا۔
جی۔۔۔امی جی۔۔۔آپ کہہ رہی تھیں کہ کرشن چندر نے ساری عمر افسانے ’پارکر پین ‘ سے لکھے۔ ‘‘
فرائید کا ماننا ہے کہ جو ہم دن بھر سوچتے رہتے ہیں وہ اکثر اوقات خوابوں کی صورت ہم دیکھتے ہیں۔ حامد سراج بھی اسے صورتحال سے گزر رہے تھے۔ دن بھر ماں کے ساتھ ہسپتال میں رہنا اور یہ معلوم ہونا کہ کینسر جیسا جان لیوا مرض، اپنی کرنی کر کے ہی چھوڑے گا تو پھر خواب میں بھی جنازے ہی نظر آئیں گے۔
’’ماں۔۔۔
تمہارے خوابوں کے درمیاں ایک خواب میں نے بھی دیکھا ۔
میں نے ایک بڑا جنازہ دیکھا۔۔۔
بہت بڑا جنازہ۔۔۔
ہزاروں لوگوں کے انبوہ میں سرکتا۔۔۔آگے بڑھتا جنازہ۔
مغربی سمت خانقاہ سراجیہ کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ۔
اور۔۔۔تاحدِ نظر سر ہی سر تھے۔
اور پوری فضا مشک بار۔۔۔!
میں نے ایک شخص کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔
بھائی۔۔۔ یہ کس کا سفرِ آخرت ہے۔۔۔؟
محمدحامد سراج کی والدہ ۔۔۔!
اور یہ فضا کیوں مشک بو ہے۔
فضا کیوں مشک بو نہ ہو۔ساری عمر درود کی کثرت رہے تو زمانے عطر آگیں ہو جاتے ہیں۔‘‘
حامد سراج کی والدہ ایک نیک سیرت خاتون تھیں۔ درود و سلام اُن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ حامد سراج کو اس بات کا بھی یقین ہے کہ اُن کا جنازہ بڑا ہو گا۔ اور دُنیا کی یہ تکلیف بعد از مرگ کافور ہو جائے گی۔ اس کا یقین اسے اس لیے بھی ہے کہ وہ درود کثرت سے پڑھتی تھیں ۔
دو قالب یک جاں کے مصداق حامد سراج نے ماں کے دُکھ اپنے اندر چُن لیے تھے۔ اب جب وہ اُسے بیان کرتا ہے تو کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن ماں کے جانے کے بعد اُس کی یادداشت پہ گہرا اثر ہوا ہے اسے صرف ماں یاد رہ گئی باقی سب اک بے ہنگم واقعات کا ہجوم ہے۔ محفل میں تنہائی ہے اور تنہائی میں ماں کی یادوں کا میلہ لگا ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’ ماں۔۔۔ تمہارے آپریشن کے بعد میرے وجود کا کوئی بھی حصہ سلامت نہیں رہا، مجھے نسیان نے آلیا ہے۔ میں راستے اور باتیں بھولنے لگا ہوں ۔ گھر سے سودا سلف لینے نکلوں تو بازار کی بجائے ویرانے میں جا نکلتا ہوں۔
تمہارے بعد ویرانے ہی مسکن ہو گئے ۔
سوالات کے خیمے تنے تھے اور میں اکیلا تھا۔ ‘‘
سوالات کے خیمے تنے تھے اور میں اکیلا تھا۔ ‘‘
’میّا‘ میں جزئیات نگاری کو اس اسلوب سے برتا گیا ہے کہ اُس سے اداسی کی اک فضا وجود میں آتی ہے ، بظاہر تو وہ ہسپتال یا گھر کی بابت کوئی بات ہو گی لیکن در پردہ گہری اداسی کی لہریں قاری کے ذہن میں ارتعاش پیدا کرتی ہیں۔ اس پروفیسر غفور شاہ قاسم کی تجزیہ بجا ہے:
’’ ہر بڑے تخلیق کار کی طرح محمد حامد سراج کا اپنا ہی ایک فریم آف ایکسپریشن ہے۔ اس کے اسلوبِ تحریر کو ہم ایک المیہ گیت سے تعبیر کرسکتے ہیں ۔جو سماعت کے لئے اداسی کی فضا تخلیق کرتا ہے اور مشام جاں میں افسردگی کی کیفیات بھی تحلیل کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ زیرِ مطالعہ خا کہ میں ماں سے وابستہ ناقابل فراموش واقعات کی جُزئیات کو تحریر کی تسبیح میں اس طرح پروتے چلے گئے ہیں کہ ایک سلک مروارید تیار ہو گئی ہے ۔ان کی تحریر سینے میں گداز بن کر اترتی ،روح میں لطافت بن کر نکھرتی اور آنکھوں میں شبنم بن کر تیرتی ہے۔ خاکہ پڑھتے پڑھتے آپ پلکوں کی دہلیز سے روح کی گہرائیوں تک بھیگ جاتے ہیں ۔اس طرح کے اسلوب کی تصویر احمد فراز نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کھینچی ہے۔
آنکھوں کے طاقچوں میں جلا کر چراغ درد
خون جگر کو پھر سے سپرد قلم کریں‘‘
حامد سراج ماں کی بیماری کا دُکھ جھیل رہے ہیں ۔ وہ ہر منظر سے دُکھ اور اداسی کشید کرنے فن بھی سیکھ چکے ہیں۔
’’ ہسپتال کی جنوبی سمت کی مسجد میں نمازی قطار اندر قطار جا رہے تھے۔
ہم بھی اسی قطار میں تھے۔
اور باہر بوڑھے پائن کے درخت قطار میں چپ کھڑے تھے۔
نماز کے بعد آسمان پر تارے ایک ایک کر کے جاگ اُٹھے۔
ہسپتال کے سامنے بیمار اور زرد کوارٹروں کی ایک لمبی قطار تھی۔ ان کوارٹروں میں گزشتہ برسوں میں جانے کتنے مکین بدل چکے تھے۔ انہی کوارٹروں میں سے ایک کوارٹر کی کھڑکی کھلی تھی۔ زرد چہرے والا ایک بوڑھا شخص اس میں رزق کا سامان لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے سر پر بال نہیں تھے۔ چہرے پر جھریاں مکین تھیں۔ اسے شاید خود بھی اپنی عمر اور جھریوں کا اندازہ نہیں تھا۔ ‘‘
مصنف جب ماضی کے جھروکوں میں جھانکتا ہے تو اُسے کچھ منظر دکھائی دیتے ہیں وہ اُسے قاری تک الفاظ کی شکل میں پہنچاتا ہے ۔ پڑھنے والا اگر صاحبِ دل ہو اور گاؤں کی معاشرت سے ذرا سا بھی واقف ہو تو اُس کے سامنے اُن مناظر کی تصویر بن جاتی ہے۔ چاہے وہ اشیا کا بیان ہو یا درد کی داستان۔۔۔
اس تحریر کی تکنیک کی بات کی جائے تو ہم اسے کسی مخصوص صنف میں قید نہیں کر سکتے، یہ ایسا خاکہ ہے جس کو افسانوی اسلوب کے ساتھ شاعرانہ مزاج میں لکھا گیا ہے۔ حامد سراج کی یہ کوشش شعوری سے زیادہ تخلیقی معلوم ہوتی ہے۔ اس بارے میں ناصر عباس نیر لکھتے ہیں:
’’ ’’میا‘‘ اپنی طرز کی ایک انوکھی اور منفرد یک موضوع کتاب ہے۔ موضوع اور ہیئت دونوں حوالوں سے! اسے کسی مخصوص صنف کے تحت نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ معروف معنوں میں نہ افسانہ ہے نہ خاکہ! حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب افسانے اور خاکے کی مسلمہ تعریفوں کو پسِ پشت ڈالتی ہے اور ایسی ڈگر پر رواں ہوتی ہے، جہاں اصناف کی روایتی سرحدیں اور حد بندیاں دُھندلانے لگتی ہیں۔ اس منحرف روش کو اختیار کرنے کا جواز ا س کتاب کا ’تھیم‘ ہے۔ جسے دُکھ کا نام دیا جانا چاہیے۔ دُکھ ؛ موت کا دُکھ؛ ماں کی موت کا دُکھ! یہ دُکھ ایک سیل کی طرح ہے۔ سیلِ اشک بھی اور سیلِ خون بھی! یہ باہر کی طرف رُخ کرتا ہے تو پوری کائنات اس میں ڈوبتی محسوس ہوتی ہے اور جب اندر کی جانب بڑھتا ہے تو نبضِ ہستی ڈوبنے لگتی ہے۔ سو ایسے غم کو کسی صنف کی مروجہ (اور مردہ) حدوں میں کہاں قید اور پابند کیا جا سکتا ہے! یہ غم اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ آدمی اور آدمی کے بنائے ہوئے اصول اس غم کی تیز رو کے آگے بے بس اور پسپا ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ماں کی دائمی جدائی کے دُکھ کے آگے آدمی کی بے بسی اور روایتی ادبی اصولوں کی پسپائی کتاب میں جا بجا موجود ہے۔‘‘
ماں جا چکی ہے ۔کوئی ویرانی سی ویرانی ہے۔ جس اسلوب میں حامد سراج اداسی کو بیان کرتے ہیں وہ افسانہ ایک مکمل نظم کی شکل میں موجود ہے۔یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔
’’ ٹانچی رہی
نہ دادی ماں رہی
پیتل کی گاگر کھو گئی۔۔۔
وقت کا پانی جانے کہاں بہہ گیا
بیری کا درخت سوکھ گیا۔
جنوبی سمت کا کھوہ اندھی ڈل بن چکا تھا۔
اس میں آسیب کا بسیرا تھا۔ دیواروں پر کائی جم گئی تھی۔
ہم اس میں جھانکتےٗ آواز لگاتے اور اپنی ہی آواز کی بازگشت سن کر خوش ہوتے۔ پتھر پھینکتے اور گدلے سبز پانی میں سانپ دیکھتے۔
ماں۔۔۔ اب پوری زندگی ایک اندھی ڈل میں بدل گئی ہے۔
مسائل کے گدلے پانی میں تفکرات کے سانپ ہیں۔
ہم اپنی ویران روح کے کنویں میں جھانکتے ہیں۔
تو خوف رگوں میں خون کو منجمند کرتا ہے۔
زندگی کی اس اندھی ڈل میں کسی کو آواز دیں
تو۔۔۔اپنی ہی آواز آسیب کی بازگشت بن کر پلٹتی ہے۔
ماں۔۔۔
اب زندگی کے کنویں میں جھانکتے ہوئے خوف آتا ہے۔
ٹانچی رہی۔
نہ دادی ماں رہی۔
پیتل کی گاگر کھو گئی۔۔۔
وقت کا پانی جانے کہاں نہہ گیا۔
پائن کے درختوں کے اس پار جو ہسپتال کی عمارت ہے اس میں میری ماں میری منتظر ہے۔
اس کا ایک ہی بیٹا ہے۔‘‘
الفاظ اور جملوں کی تکرار سے تحریر میں غنائیت پیدا ہوتی ہے بات واضح ہو جاتی ہے۔ لیکن اس خاکے میں اس تکنیک کو بار ہا استعمال میں لایا گیا ہے۔ بقول پروفیسر غفور شاہ قاسم، ایسا اگر نہ کیا جاتا تو زیادہ مناسب تھا:
’’ زیرنظر خاکے میں کئی مقامات پر تحریر کے مرکزی خیال کو ری انفورس کرنے اور فضا آفرینی کے تاثر کو بڑھانے کے لیے صنعت تکرار سے کام لیا گیا ہے۔ فقروں کی صوتی تکرار سے تحریر میں موسیقیت اور غنائیت کی کیفیات پیدا ہوگئی ہیں ۔مستنصر حسین تارڑ اور ہارون رشید (کالم نگار )اپنی نگارشات میں اکثر و بیشتر اسی تکنیک سے کام لیتے ہی۔ حامد سراج کے یہاں تکرار کا یہ عمل بہت فریکوئنٹ (تواتر) ہے ایسا نہ ہوتا تو زیادہ احسن بات تھی۔
صنعت تکرار جہاں تاثر کو ابھارتی ہے وہاں یکسانیت بھی پیدا کرتی ہے۔ چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
’’ اور بوڑھے پائن کے درخت قطار میں چپ کھڑے تھے۔‘‘
’’باہر پائن کے درختوں میں اداس ہوا سر سرا رہی تھی۔ ‘‘
’’پائن کے درختوں کے درمیان ماموں میرے ساتھ بہت دیر دُکھ بانٹے رہے۔ ‘
ایک ادیب، تخلیقی انسان، وہ چاہے جتنے بھی دُکھ جھیلے، کتنی ہی مشکلات اسے درپیش کیوں نہ ہوں۔ وہ اُن کو تخلیقی رنگ دینا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ان دُکھوں کے بیان میں بھی اک حسن نمایاں ہو۔ بھدا پن اُسے ہر گز پسند نہیں۔۔۔خصوصاً تحریر میں۔۔۔ یہی معاملہ حامد سراج کا بھی ہے۔ والد کی وفات کے صدمے کو بھی وہ صفحہ قرطاس پہ اُتارنا چاہتا ہے ۔ یہ اقتباس دیکھیے۔:
’’ ماں۔۔۔ میں اس بات کا اظہار کیسے کروں ۔ اندر کے دُکھ کو زبان کیسے دوں۔۔۔؟ کہ جب انسان کے اندر کسی کی موت کا بیج اگنے لگے تو کیا کیفیت ہوتی ہے۔ یہ پودا روح کی زمین کا سینہ چیر کر کیسے باہر کو نکلتا ہے۔ اور پھر اس پر لہو کی بوندوں سے کیسے پھول کھلتے ہیں۔
ابو کا سفرِ آخرت۔۔۔؟ یہ تحریر کیسے مکمل کروں میں۔۔۔!
کئی ماہ تلک قلم وقت کے صحرا میں سیاہی کی بوند کو ترستا رہا ہے۔ ماں میں یہ تحریر روشنائی کی بجائے اپنے آنسوؤں سے لکھ لیتا لیکن میری آنکھ کی دوات میں رکھی روشنائی بے رنگ ہو گئی ہے۔ بے رنگ اشکوں میںٗ میں رنگ کیسے بھروں۔۔۔؟‘‘
آنے والے کو جانا بھی ہے۔۔۔ لوٹنے کا عمل ہر ذی روح، جاندار کا مقدر ہے۔ یہ ایک زندگی کا سائیکل ہے ۔ وصل شاد کرتا ہے تو جدائی برباد۔۔۔ لیکن جدائی ہی وہ نَم کی لرزش ہے جس سے تخلیقیات کے کوزے بنتے ہیں۔ اسی لیے حامد سراج اپنی ماں سے ہم کلام ہے :
’’ ماں۔۔۔ یہ لوٹ جانے کا عمل نہ ہوتا تو شاید قلوب گداز نہ ہوتے۔ جدائی جہاں دل کی ویرانی کاشت کرتی ہے وہیں سوزوگداز کے پھول بھی کھلاتی ہے۔ ‘‘
خاکہ نگار کسی ایک موضوع پہ ٹک ہی نہیں رہا ۔۔۔خیال کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے۔ ابھی موت ، جدائی کا ذکر ہو رہا ہے تو اگلے ہی سطر میں اپنے بچپن کی کی کشادہ گلیوں میں پہنچ جاتا ہے۔ خیالات کی ایک تسبیح ہے جسے وہ اپنی مرضی سے پھیرتا جاتا ہے اور آہ و بکا ورد جاری ہے۔ پوری فضا سوگوار ہے۔ اسی تکنیک کے بارے میں پروفیسر غفور شاہ قاسم فرماتے ہیں:
’’ تقلیب کی تکنیک تحریر میں دلآویزی تخلیق کرتی ہے ۔تقلیب کا عمل رشتوں اور رابطوں کا عمل ۔ہے جس میں ذہن ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف یا دوسری چیز سے تیسری کی طرف منقلب ہوتا چلا جاتا ہے۔ خاکہ نگار نے اس خاکے میں تقلیب کی تکنیک سے بھی استفادہ کیا ہے۔‘‘
خانقاہ سراجیہ اپنے دستر خواں کی کشادگی کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے خصوصاً حامد سراج کا اپنا گھر۔۔ اس کا نقطہ آغاز وہ اپنی ماں کو قرار دیتے ہیں۔ ایک واقعہ لکھتے ہیں جب پچاس ، ساٹھ لوگ ایک دوست عاصی کے ہمراہ حامد سراج سے ملنے آتے ہیں تو ماں کے ماتھے پہ ایک سلوٹ تک نہیں آتی اور وہ چائے پانی کا انتظام خوشی سے کرتی ہے ۔ماں کی اس خوبی کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
’’ ٹرے میں سوجی کا حلوہ اور چائےٗ مہمان نوازیٗ دریا دلی۔۔۔!
یہ ماں کی مٹھاس تھی۔
یہ تم تھیں ماں۔
بے سلوٹ پیشانی کے ساتھ تم نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ وہی لمحہ میرے اندر ٹھہر گیا۔
میرا دستر خواں کشادہ ہو گیا۔
میں نے تم سے کہا۔۔۔ بہو بھی ایسی ہی ڈھونڈ لانا جو مہمان نواز ہو۔ یہ دستر خوان بچھا رہے مہمان آتے رہیںٗ دروازے گھر کے کھلے رہیں۔
محمد یار عاصی چائے پی کر گئے۔
اور اس کے بعد سے ہمارے گھر میں دسترخوان لپیٹنے کا رواج ختم ہو گیا۔ ‘‘
حامد سراج کی ’’میّا‘‘ ماں کے یاد کا بیان ہے اس کے ساتھ یہ اُن دوستوں کی نوازشوں، ایثار اور احسانات کا اعتراف بھی ہے جو اس مشکل گھڑی میں سائے کی طرح ساتھ رہے۔ حامد سراج ایک روحانی خانقاہ کا چشم و چراغ تھا۔ اسی لیے وہ باطنی بیماریوں کا بھی خاتمہ چاہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے جہاں ہم خون کا ٹیسٹ کرواتے ہیں بیماریوں کی تشخیص کے لیے وہیں ایسی کوئی لیبارٹری ہو جو روحانی امراض کا بھی پتا لگائے۔
’’ نفرت، حسد، کینہ،بغض اور غیبت کا بھی ٹیسٹ ہونا چاہیے۔
یہ ایڈز سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی ہیں۔ ‘‘
ناسٹیلجیا، اس تحریر کی اساس ہے۔ ’لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے‘ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ماں کے جانے کے بعد اس کے دُکھ چننےوالا کوئی نہیں رہا۔۔ وہ اسے دیارِ غیر میں بے سرو سامانی کے عالم میں ہر ایک کو روک روک کر اپنے مسیحا کا پتا پو چھتا ہے۔ دُکھوں اور اندیشوں کے آبلے ہیں کہ پھولے جاتے ہیں۔ کانٹے بھی محض تکلیف کا تردد کرتے ہیں ۔ ماں کی یاد پھر سائبان کرتی ہے لیکن وائے حسرتا کہ وہ جا چکی ہے ۔یاد بھی تو محض غموں کو بھلانے کا دھوکہ ہے۔
’موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں‘
ماں سے مخاطب ہے:
’’ تمہیں کتنی مہارت ہے کانٹا نکال لینے میں۔
ہم تمہارے سامنے پیڑھی پر آ بیٹھے۔ ہمارا پاؤں تم اپنے گھٹنے پر ٹکا لیتیںٗ بائیں ہاتھ کی انگشت ِ شہادت۔
اور انگوٹھے کی مدد سے تم پہلے کانٹے والی جگہ کو دبا کر جائزہ لیتیںٗ دبا کر دیکھتیں۔
تمہارے داہنے ہاتھ میں سوئی ہوتی۔
اور پھر اسی جگہ ایک کالا نقطہٗ کانٹا جو تمہاری سائی کی نوک کی زد میں ہوتا۔
تم کانٹا اتنی نرمی ٗ ملائمت اور آہستگی سے نکال لیا کرتی تھیں جیسے مکھن سے بال نکال لیا جائے۔
اور اب ماں۔۔۔
زندگی مسائلٗ دکھ اور پریشانیوں کے کانٹے سے اٹی پڑی ہے۔
میری روح میں کانٹے پیوست ہیں۔ ان کانتوں کو کون نکالے۔۔۔؟
کوئی سوئی۔۔۔؟
کہیں انگشتِ شہادت اور انگوٹھے کی چٹکی۔۔۔؟‘‘
ہزاروں میل مسافت پہ نشر ہونے والا ریڈیو ، ٹیلی وژن کا پروگرام ہم اپنے گھروں میں بیٹھے سُن اور دیکھ سکتے ہیں۔ سائنس کی اصطلاح میں ہم اسے فریکوئینسی میچ کہتے ہیں۔ پروگرام کی فریکوئینسی سے ہم ریڈیو، ٹی۔وی کی فریکوئنسی ملاتے ہیں تو ’تاریں جڑ‘ جاتی ہیں۔ ہم انسان بھی ہر وقت کوئی نہ کوئی فریکوئینسی پہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں اگر کسی اور انسان کی فریکوئینسی ہم سے ’میچ ‘ ہو جائے تو پھر کہتے ہیں کہ ’دل کودل سے راہ ہوگئی ہے‘ ، ’ میں بھی وہ سوچ رہا ہوں جو آپ سوچ رہے ہیں‘ وغیرہ۔۔۔ جب یہ فریکوئینسی کا تال میل دُنیا کے کسی بھی دو اشخاص کے درمیان ہو سکتا ہے تو پھر ماں اور بچوں کا رشتہ تو بہت قربت کا ہے۔ ماں وہ بھی جان لیتی ہے جو بچہ ابھی شاید سوچ بھی نہیں پا رہا ہوتا۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ حامد سراج نے درج کیا ہے۔ جب بیٹے کی تکلیف ماں ہزاروں میل دوری کے باوجود جان جاتی ہے۔
’’مینا الزور ایک قصبہ تھا وہاں ایک کمپنی میں میری ملازمت تھی۔ ایک بار وہاں کویت سٹی سے پکی پکائی روٹی کی سپلائی بر وقت نہ پہنچ سکی۔ لوگ خبز کی تلاش میں تھے۔ روٹی کو عربی میں خبز کہتے ہیں۔ ہم ساتھی جس جگہ رہتے تھے وہاں ہمارا معمول تھا کہ بچی ہوئی روٹیاں ایک گٹو میں ڈالتے رہتے تھے۔ اس لمحاتی قحط میں وہ ہمارے کام آگئیں۔ ہم صبح وہاں سے روٹی نکالتے اسے پانی میں تر کرتے اور گھی لگا کر تل لیتے۔ کھانے میں وہ بڑی خستہ اورلذیذ ہوتی۔
تین چار روز میں تازہ سپلائی پہنچ گئی۔
کچھ دن گزرے تھے کہ مجھے پاکستان سے ماں کا خط موصول ہوا۔
بیٹا۔۔ میں نے خواب میں دیکھا ہے۔ تم سوکھی باسی روٹی کھا رہے ہو!
یہ ماں کو کیسے خبر ہو گئی۔۔۔؟
میں نے تو اس بات کا ذکر اپنے آپ سے بھی نہیں کیا تھا۔
یہ کون سے فریکوئینسی ہے۔۔۔؟
ہزاروں میل کی دوری کو کس نے بے معنی کر کے رکھ دیا ۔ ‘‘
شکسپئیر نے کہا تھا کہ یہ دُنیا ایک سٹیج ہے اور ہم اداکار۔۔۔ ہم میں سے ہر ایک اداکاری کر رہا ہے جو اچھی کرتا ہے اُسے ہم داد دیتے ہیں سراہتے ہیں اور جو نکمی کرتا ہے وہ اس دُنیا میں ناکام تصور کیا جا تا ہے۔ اصل ذات کہیں پیچھے رہ جاتی ہے اور بہروپ ہمارا چہرہ بن جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی اس حالت کو چاہ کر بھی بدل نہیں پاتے اگر ایسا کریں گے تو ڈائریکٹر ناراض ہو سکتا ہے اور ہمارا رول یا تو کم کر دیا جائے گا یا پھر کونے میں چپ سادھنی پڑے گی۔ حامد سراج بھی خوش رہنے کی اداکاری کرتا رہا ہے۔ شکستہ آئینے میں مکمل تصویر دیکھنے کی بے سود کوشش۔۔۔ اور کاروبار ہائے زندگی میں مصروفِ عمل رہا ہے۔ سچ بھی یہی ہے۔۔۔ کسی کے مرنے سے کوئی مر تھوڑا ہی جاتا ہے۔۔۔بقول غالب:
غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں
’’ماں۔۔۔
میں اداکار ہو گیا ہوں۔
میں اب مصروف رہنے کی کامیاب اداکاری کر لیتا ہوں ۔
مصروفیات پالتا اور ان کی پرورش کرتا ہوں۔
پھر بھی
تمہاری یاد کا عصا ان کو نگل جاتا ہے۔
تم سچ ہو۔۔۔ باقی سب مایا۔۔۔‘‘
اس خاکے میں ماں کی محبت اور مفارقت سے جڑے تمام جذبات حقیقی ہیں ۔ حامد سراج کی ماں جا چکی ہے لیکن اُسے یہ سب خواب لگتا ہے۔ وہ الم و حزیں کی کیفیات میں اسے ڈھونڈتا ہے اور اسے اپنی زندگی کی نئی حقیقت بنا لیتا ہے۔ غالب ؔ نے کہا تھا:
’وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہے‘
خالد قیوم تنولی،’میّا‘ کے حوالے سے اسی تناظر میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
’’ ’’میّا‘‘ فکشن سے اوپر کی شے ہے کیونکہ بہر حال فکشن عمیق صداقت کو ڈھانپے ہوئے دروغ کی مانند ہے جیسے دھاتی چیز پر لکڑی کی باریک پرت چپکادی جائے۔ تو آپ ’’میا‘‘ کو عمیق صداقت گردانئے اور لفظی اظہار کو دروغ۔ ’’میّا‘‘ کا درونی جہاں حقیقی تھا جو نہیں رہا تو بھی جان ملٹن کی ’’ فردوس گم شدہ‘‘ کی مانند جس میں کسی اور دُنیا کی تعمیر کی تمنا نہیں بلکہ وہ دُنیا جو نہیں رہی تو اب صرف اُس کا حزنیہ ہی غنیمت ہے۔ ایسی دنیا جو مادّی نہیں ہوتی اور بے پناہ آرزو اور ناقابلِ فنا محبت سے لبریز ہوتی ہے۔ ’’میّا‘‘ دو دُنیاؤں کے باہمی امتزاج کی حامل اور اس کا اکلوتا باسی حامد سراج ٹھہرتا ہے۔
باپ کی حادثاتی موت اور ماں کی تکلیف دہ رحلت کے بعد حامد سراج کو اب اس بات کا یقین ہو چلا ہے کہ جو قدرت نے ہمیں دینے ہوتے ہیں وہ پہلے سے ہی ہماری کُنڈلی میں لکھے جا چکے ہوتے ہیں ۔ ہمیں بس ان کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ ہم اُن سے چھپ نہیں سکتے ۔یہ وہ اوجھل دُکھ ہوتے ہیں جو کہیں اوٹ میں چھپے بیٹھے ہوتے ہیں۔ حامد سراج ماضی کے سہانے دنوں کو یاد کرتا ہے جس میں شرینہہ کا درخت ، ماں باپ اور اُن سے جڑیں اشیاء کی مفارقت کا دُکھ اُس کے اندر خوف بن کر لرزتا ہے۔
’’ماں جانے کہاں چلی گئی۔
بستر پر تو ہڈیاں رکھی ہیں۔
سارے منظر ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے ہیں۔
جانے چھپرٗ شرینہہ اور ماں باپ کیوں چلے جاتے ہیں۔۔۔؟
کوئی بھی لوٹ کر نہیں آتا۔
چھپرٗ شرینہہ اور ماں باپ ۔۔۔نہ بھڑکی ڈنکیلی آواز۔
دل خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزتا رہتا ہے۔
کوئی چہرہ کبٗ کہاں اور کیسے داغِ مفارقت دے جائے۔
کہیں نہ کہیں دکھ ہمارے نام لکھے ہوتے ہیں۔
اوجھل دکھ
اور ہمارے مقدر دکھ کی زنجیریں۔۔۔
جن میں ہمیں تخلیق سے پہلے ہی جکڑ دیا گیا تھا۔
’’میّا‘‘ اپنے موضوع اور اس میں بیان کی گئی کہانی کے اعتبار سے فکشن نہیں ہے ۔ یہ وہ درد کی بہتی نیّا ہے جس کے اندر تیراکی وہی کر سکتا ہے جو خود اس دُکھ سے گزرا ہو ، باقی تو محض کناروں پہ کھڑے لہروں کی سسکیاں سُن سکتے ہیں اسے محسوس نہیں کر سکتے ۔مشرف عام فاروقی کہتے ہیں:
’’ ’میّا ‘فکشن نہیں ہے۔ ایک ایسی درد بھری سچائی ہے، جس سے گزرنا بھی جگر والوں کا ہی کام ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ایک بے مثال تحفہ ہے اور جی کرتا ہے کہ سرحد کی دیواریں گرا کر میّا کے خالق کو زور سے لپٹا لوں کہ یار من، تم نے میّا کو ہمیشہ کے لیے اَمر کر دیا ہے۔ ۔۔ میکسم گورکی کی ماں تو مزدوروں کی تھی۔۔۔
لیکن تمہاری میّا تو مزدوروں کی بھی اور ہم سب کی میّا ہے۔۔۔
تم نے تو میّا میں ’صدیاں‘ رکھ دیں۔۔۔
تم نے میّا کو فکشن کی لازوال بلندیوں پر پہنچا دیا۔۔۔
یارِ من، لیکن اتنا تو بتا دو کہ تم نے لکھا کیسے۔۔۔
کوئی بھی فنکار ماں کو کیسے لکھ سکتا ہے۔۔۔
ماں تو فکشن ہی نہیں ہے۔۔۔اور سچی بات تو یہ ہے کہ ماں کبھی مری ہی نہیں، تم نے تو میّا کو ہمیشہ کے لیے اَمر کر دیا ہے۔۔۔‘‘
مصنف کتاب کے نصف دورانیے کے بعد ماں کی تاریخ وفات اور جنازے کا ذکر کرتا ہے ۔ اور ساتھ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کی وفات پہ کوئی بین نہیں کیا گیا اور وہ اُسے وقار کی علامت تصور کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ مذہبی اور خاندانی روایت میں کسے کے جانے کے بعد آنسو بہانا تو دُکھ کا اظہار ہوتا ہے لیکن بَین کرنا مناسب عمل نہیں۔
’’ماں ۔۔۔۔کسی نے بَین نہیں کیا
کوئی نوحہ نہیں ہوا۔
پورے وقار کے ساتھ تیرا جنازہ اُٹھایا گیا۔
اور تو نے زمین اوڑھ کر آخرت کو گھر کیا۔‘‘
حامد سراج کے ذہن پہ ہر وہ شے اپنا عکس چھوڑتی جس کا تعلق اُس کی ماں سے رہا ہے۔ اور ایک بات سے دوسری بات کی کونپلیں اس کے خیال میں پھوٹتی رہتی ہیں ۔ وہ جس شے کو بھی دیکھتا ہے اسے ماں کا چہرہ ہی نظر آتا ہے۔ یہ اقتباسات ملاحظہ کیجیے:
’’ ماں۔۔۔ تمہارا تخت پوش اور اس پر بچھی جائے نماز اداس ہے۔
انگاروں پر دھری چائے ٹھنڈی ہو گئی ہے۔‘‘
’’ ماں۔۔۔الماری کا دروازہ کھلا ہے۔
الماری میں رکھی ہر چیز مجھ سے سوال کرتی ہے۔
ماں کہاں ہے۔۔۔؟
سلائی کڑھائی کا سامانٗ رنگا رنگ بٹنٗ گوٹے ٗ سلائی مشین کے پرزہ جاتٗ پندرہ بیس فیوز بلبٗ ایک کٹورا چابیوں سے لبالب بھراٗ جانے کب اور کن کن تالوں کی یہ چابیاں ہیںٗ چائے کے پُرانے ڈبے جن میں سرک لنکا سے چائے کی پتی آیا کرتی تھیٗ آباء او اجداد کی یادگاریںٗ پاپوش ٗ پگڑیاںٗ کٹارےٗ تانبے کے گلاسٗ تانبے کی بڑی بڑی دیگیںٗ پیتل کی پراتیںٗ پیتل کا ایک لیمپ۔۔۔!‘‘
اسی اسلوب بیان اور تکنیک کے حوالے سے مظہر حسین کہتے ہیں:
’’ اگر نیر (ناصر عباس نیر) کی اس بات کو زیرِ نظر رکھ جائے کہ میا میں مستعمل اسلوب شاعری ہے تو اغلب گمان یہی ہے کہ حامد سراج کے پیشِ نظر ایس ٹی کالرج کی ’’دی رائم آف دی اینشینٹ میرینر‘‘ رہی ہو گی۔ تاہم حامد سراج نے دیگر تکنیکوں کے دم بہ قدم غالب آلہ اظہار کے طور پر یاد آوری ’ایسوسیایشن آف آئیڈیاز‘ کی تکنیک استعمال کی ہے۔‘‘
اُس کی ماں جا چکی ہے لیکن وہ ابھی بھی اسے ڈھونڈ رہا ہے ۔ وہ اپنے اور اپنے دوستوں کے دُکھ کو ایک جیسا سمجھتا ہے۔اور شاید خو د یاد دلا کر صبر دلاتا ہے کہ دیکھو میرے دوست غفور شاہ قاسم کی ماں بھی تو چلی گئی، عبدا لباسط اور بشارت احمد کی ماں بھی تو داغِ مفارقت دے گئی۔ کوئی کسی کو کیا تسلی دے سکتا ہے۔ ہم خود ہی زخم ہیں اور مرہم بھی خود ہی ہیں۔ غالب نے کہا تھا:
قیدِ حیات و بند ِغم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
کتاب کے آخر میں حامد سراج اپنی بے بسی اور اداسی کا ذکر اپنی ماں سے کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’ ماں تمہارے جانے کے بعد کائنات بے روح ہو گئی ہے ۔ چہرے ساکتٗ آسمان چپٗ ستارے بے نورٗ سورج زردٗ شجر خزاں رسیدہ اور ہوائیں نوحے رقم کرتی اور کُرلاتی رہتی ہیں۔
گھر سے باہر سنبل کے درختوں کے درمیاں اداسی ننگے پاؤں گھومتی۔
مجھے نہیں معلوم درختوں کی یہ قطار سنبلوں کی ہے یا پائن کی
اے میرے خدا
میری ماں کہاں چلی گئی۔۔۔؟‘‘
جب اپنی الفاظ سے بھی تشفی نہ ہو پائی تو سیّد مبارک شاہ کی نظم نقل کرتے ہیں۔ جس کا آخری بند ملاحظہ ہو:
میرا سانحہ بڑا ہے
مرا درد لا دوا ہے
مرے سر سے دوپہر میں
تری چھاں چلی گئی ہے
اے خدائے زندگانی
مری ماں چلی گئی ہے‘‘
’جی کا جانا ٹھہر گیا ہے‘۔۔۔ دُکھ انسان کی ہڈیاں گلا دیتے ہیں۔ روح مجروح ہو جاتی ہے۔ پھر بس وہ اپنی باری کا انتظار کرتا ہے جب اس کی بھی روح قبض ہو۔۔۔
’’ ماں۔۔۔
یہ شامٗ اداسی اور تنہائی کا لامتناہی صحرا
تم وقت کی قید سے ورے جا آباد ہوئیں
اور میں۔۔۔
ہجر کے پیڑ تلے بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘
زندگی، وقت کی قید کا دوسرا نام ہے جو کوئی وقت سے خلاصی چاہتا ہے اُسے زندگی کی قید سے نکلنا ہو گا۔ حامد سراج کی ماں وقت کی قید سے آزاد ہوگئی۔۔۔حامد سراج کو بھی اپنی باری کا انتظار تھا کہ وہ اس غم سے نجات پائے۔۔اور بالآخر وہ زندگی کے دائرے سے نکل کر اپنی ماں کے پاس پہنچ گیا ۔انتظار کی رات تمام ہوئی۔۔۔ اب یقیناً وہ وصل کے پیڑ تلےاپنی ماں کی آغوش میں سر رکھے میٹھی نیند سو رہا ہو گا۔ پُر سکون نیند۔۔۔
’’میّا‘‘ پر چند اہلِ قلم کے تبصرے :
پروفیسرڈاکٹر غفور شاہ قاسم:
یہ تحریر درِ سماعت پر ہی نہیں درِ دل پر دستک دیتی محسوس ہوتی ہے ۔اس خاکے کا قاری اسے اپنے وجود کی اندرونی تہوں میں اترتا محسوس کرتا ہے۔ میّا میں کہانی کا سحر بھی ہے اور رپوتاژ کا گہرا تاثر بھی۔۔۔! مرقع کشی کی نظر نوازی بھی ہے اور ڈرامے کی بیانیہ کی منظر نگاری بھی۔ بلاشبہ فقروں کی موضوع خشت کاری نے اسے ایک تخلیقی شاہکار بنا دیا ہے۔
سائرہ غلام نبی:
حامد سراج کی ’میّا‘ جس نے بھی پڑھی، اُس کی آنکھوں میں سمندر اُتر آیاہے۔ ماں کے حقیقی کردار کے حوالے سے لکھی گئی یہ کتاب میں نے کئی بار پڑھی ہے اور جہانِ کیفیت میں اتنی ہی بار خود کو ڈوبتا اُبھرتا پایا ہے ، جس میں حامد سراج کوئی ادیب نہیں، افسانہ نگار نہیں، قلم کار نہیں، بلکہ صرف اور صرف ایک ماں کا بیٹا ہے۔ جو اپنی ماں کی یاد میں تاج محل کی تعمیر کر رہا ہے۔ اور اپنے آنسوؤں کے گارے سے اس کو مضبوط کر رہا ہے۔ ماں کی محبت کے رومان نے ’میّا‘ کو کس درجہ تقدیس دی ہے کہ حامد کی ماں صرف اکلوتے بیٹے کی ماں نہیں رہ جاتی، بلکہ ایک جہان کی ماں بن گئی ہے۔
صدف گیلانی:
’’میّا‘‘ ایک ایسی تخلیق ہے جسے اردو ادب کی تاریخ صدیوں فراموش نہ کر پائے گی۔ اس تخلیق کی چشمِ نم کے ساتھ قرأت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی کہ سر زمینِ میانوالی کا نام ’میّاوالی‘ ہونا چاہیے۔
سیّد محمد اشرف:
میّا۔۔۔ پر لکھنا میرے بس کی بات نہیں لگتا ہے کسی فراموش کردہ صحیفے کے کاغذات ہواؤں کے ساتھ اُڑتے ہوئے آئے اور میّا میں جگہ جگہ پیوست ہو گئے۔ فکشن میں ایسا نرالا اسلوب پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ میّا کا کرم تھا کہ بیٹے کے درد ڈیڑھ سو صفحے کی کتاب کو ایک یادگار تخلیق بنا دیا۔
ناصر عباس نیر:
’’میا‘‘ میں محمد حامد سراج نے ہیئت بیک وقت افسانے اور خاکے کی تکنیک ڈرامائی مونولاگ کی اور اسلوب شاعری کا استعمال کیا ہے۔ انہوں نے اپنی جنت مکانی ماں کا مخاطب کر کے ان احوال و کیفیات کاا ظہار کیا ہے۔ جن سے وہ ماں کی علالت کے دوران میں، ماں کی موت کے وقت اور ماں کی موت کے بعد گزرے (اور شاید گزر رہے) ہیں۔ تینوں حالتوں میں ایک روح کو مسل دینے والا دُکھ ان کے پورے وجود کو محیط رہا ہے۔۔۔ سو یہ کتاب ماں کی موت کا مرثیہ بھی ہے اور ماں کے ساتھ اپنے تعلق کی لمبی مسافت کا محضرنامہ بھی ہے۔۔۔ہر چند اس کتاب میں شخصی عنصر حاوی ہے مگر متعدد مقامات پر محمد حامد سراج اور ان کی ’’میا‘‘ آر کی ٹائپ‘‘ میں بدل جاتے ہیں: شخصی عنصر منہا ہوجاتا اور فن غالب آ جاتا ہے۔ مصنف اور میا بیٹے اور ماں کے ازلی و ابدی رشتے کی علامت بن جاتے ہیں اور یہ بات اس کتاب کو غیر معمولی بناتی ہے۔
رومانہ رومیؔ:
محترم محمد حامد سراج کی تصنیف ’’میّا‘‘ اسی ہمیشہ سے قائم آتما کے روپ سے عشق پیچاں کی بیل کی صورت لپٹی ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ مشق اپنی مشفق محترم ماں کے لئے کی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سماج کی ہر ماں کے لیے ہدیہ عقیدت ہے کیونکہ تن جتنے بھی ہوں آتما تو ایک ہے اور آتما کی پریت مامتا کا ’میّا‘ کی صورت خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
’’میا‘‘ بلا شبہ پرماتما، آتما اور مامتا کے لیے سماجِ انسانی کا عمدہ اظہارِ تشکر ہے۔
شبیر احمد قادری:
میّا کا شمار ان کتابوں میں ہوتا ہے جنہیں لکھنے کے لیے مصنف کوچُن لیا جاتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب لکھی نہیں گئی بلکہ لکھوائی گئی ہے۔ افسانے کی دنیا میں گھومنے والا لکھاری حقیقت سے بھلا کیوں کر آنکھیں چار کر سکتا تھا۔ میّا کے لیے مصنف ہی نہیں چُنا گیا بلکہ اس کا اسلوب بھی بڑا منتخب اور چنیدہ ہے۔ حامد سراج چونکہ افسانہ نویس کی حیثیت سے اپنی ایک شناخت رکھتے تھے سو اس کے اثرات میّا پر بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اس کتاب میں مصنف نے حقائق کو افسانے کے رنگ میں پیش کرنے کی شعوری کوشش کی ہے یوں اسے فیکشن فیکٹ اور فکشن کے قریب تر لے آئے ہیں۔
عذرا اصغر:
ماں کے موضوع پر کیا عرض کروں البتہ یہ کہے بنا چارہ نہیں کہ ’’میّا‘‘ ایک خوبصورت اور منفرد سوانح ہے۔ جس میں مخصوص وقت کو احاطہ کرنے کے خیال کے باوجود اپنا بہت سا ماضی اور حال مختصر کتاب میں سمو دیا ہے آپ نے۔ اندازِ بیان جذبات سے لبالب۔۔۔ ہر لمحہ تصویر۔۔۔ لفظ اشک آلود۔۔۔ واقعی حامد سراج تمہارے نام کو دوام اور تحریر کو وقار بخشنے کے لئے صرف اور صرف ’’میّا‘‘ ہی کافی ہے۔بشرطیکہ اہل قلم اور اہل نظر تعصب نہ برتیں۔
خالد قیوم تنولی:
’’میّا‘‘ میری دانست میں ایک نثری مرثیہ ہے جس میں تمام اوصافِ شعر بدرجۂاتم موجود ہیں۔ یوں نثر میں ہیئت کے تجربے کا نمایاں مظہر ٹھہرنے کے ساتھ ساتھ جس میں رثائی ادب کی جدت ، ندرت اور عقیدت کا بحرِ رواں بھی ہے۔ ہر صحت مندانہ کوشش کا رُخ اندر سے باہر کی دُنیا کی جانب ہوتا ہے۔
’’میّا خطوط کے آئینے میں (غیر مطبوعہ)‘‘
بشریٰ رحمان:
۱۔ اگر میّا جیسی جانسوز کتاب پڑھ کرکوئی فوراً جواب نہ دے تو اسے بد ذوقی ہی نہیں بد اخلاقی بھی کہا جاسکتا ہے۔
میں کیا کرتی۔۔۔؟
ان دنوں میں اعتکاف میں تھی۔
کتاب دیکھتے ہی پتہ چک گیا اس میں قصہ فراق ، وچھوڑے کا الم اور ایک بیٹے کے آنسو ہیں ۔ میں اس موڑ سے گزر چکی ہوں۔
بہت چاہا کہ عید کے دن اس کتاب کو نہ پڑھوں ۔ شروع کی تو چھوڑ نہ سکی۔
شام کو بیٹے کا امریکہ سے فون آیا۔ بولا۔۔۔ ماں آپ ٹھیک تو ہیں،
کہا کہ با لکل ٹھیک ہوں الحمداللہ۔۔۔
بولا۔۔۔تو آپ کی آواز اتنی بھاری کیوں ہو رہی ہے۔۔۔
ہاں، میں مسکرائی ایک کتاب پڑھ کے روتی رہی ہوں، جو ایک بیٹے نے اپنی ماں کے لیے لکھی تھی۔
طاہر شیرازی:
۲۔ تمہاری کےکتاپ پڑھ کر اُس کت سر ِ وقر سے، اس کی تحریر سے، اس کی اداسی سے، ٹالی سے شرینہہ سے، ماں سے اور تم سے محبت ہو جاتی ہے۔ پہلے ایک کسمپرسی آڑے آتی تھی کہ تم ایک بڑے آدمی ہو، دولتمند بھی ہو، کہیں تم سے مل کر خواہ مخواہ کسی احترام میں نہ پھنس جاؤں ۔ اور اس احترام میں دوستی ہاتھ سے نہ جاتی رہے۔ مگر تم تُو میری طرح غریب ہو۔ میری طرح بے نوا ہو۔
’’میا‘‘ کے بارے میں کیا لکھوں ۔ اپنے احساس کو کیا زبان دوں ۔ مین تم سے بڑا نثر نگار بھی نہیں ہوں۔ مرا خیال ہے کہ ایک خوبصورت تحریر وہ ہوتی ہے جسے پڑھنے کے بعد کچھ کہنے کی گنجائش پیدا ہو۔ مگر بعض تحریریں خوبصورتی کے اس کمال تک پہنچ جاتی ہیں جہاں کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ با لکل روشنی کی طرح، جس کی چکا چوند سے بعض اوقات آنکھوں کی تیرگی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ کچھ نظر نہیں آتا۔ تم ایک پوری کیفیت کو ، سارے جذبوں کو یا ایک پورے پیراگراف کو ایک لائن میں لکھنے پر قادر ہو۔ فقط ایک لائن ۔۔۔بھرپور اور پُر تاثیر لائن۔
سائیں طارق جاوید:
۳۔ ’’میا‘‘ جہاں آپ کے دلی جذبات کی آئینہ دار ہے۔ وہیں ادبیّت اور فن کے لحاظ سے بھی اتنی معتبر ہے کہ جیسے آپ کی میّا آپ کے دل میں زندہ ہے۔ ویسے ہی یہ بھی جہانِ ادب میں زندہ رہے گی اور آپ کے معتبر نام کو ہمیشہ کے لیے اَمر کر دے گی۔ اتنے جاندار اور خوبصورت جُملے جو آدمی کو اندر سے ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ میں نے کبھی کسی افسانے میں بھی نہیں پڑھے۔ آپ کی کتاب دل کا سوز اور رُوح کا گداز ہے۔ یہ اہلِ درد کے لیے ایک سرمایہ ہے جو اپنے موضوع، فن اور ا س میں موجزن جذبے کی بناء پر ادب کے ایوانوں میں ہمیشہ سر بلند رہے گی۔ ایسی شاہکار تخلیق کے لیے میری طرف سے مبارک قبال کیجیے۔
آپ کی میّا کی پاکیزہ رُوح رب کریم کی رحمت کی چھاؤں میں ہو گی
تسنیم کوثرؔ:
۴۔ یقیناً آپ کو خط کے جواب کا نتظار ہو گا۔۔۔ مگر آپ ہی کہیں۔۔۔ جب زخم میرے ہو جائیں۔۔۔درد کی لہریں مچلنے لگیں۔۔۔ یاد کے دریچے وا ہو جائیں اور معصوم ضدیں ، شرارتیں ان دریچوں سے جھانکنے لگیں۔۔۔ تو خط کیسے لکھا جائے؟
خط لکھنا اور۔۔۔ وہ بھی میّا پڑھنے کے بعد ۔۔۔مشکل بہت مشکل ہو رہا ہے۔۔۔ معذرت خواہ ہوں۔۔۔’’میّا‘‘ پر میں نے محبتوں ، پچھتاؤں اور ندامتوں کے اتنے اشک بہا دیے ہیں کہ۔۔۔ لفظ بھی دھندلا گئے ہیں۔
شہاب صفدر:
۵۔ ’میّا‘ کیسی تخلیقات اختیاری نہیں بلکہ بے خودی کی دین ہوتی ہیں۔ اول تا آخر اس میں احساسات ، جذبات، اور حکمت کے دھارے آپس میں ملتے بچھڑتے محسوس ہوتے ہیں۔
وفورِ خیال، خواب و سراب نہیں بلکہ حقیقت کی زمین سے پھوٹنے والے چشمے کا نام ہے۔ آپ نے ذاتی غم کے حقائق زادوں سے ایسے پھولوں کا رس نچوڑا ہے کن کا ذائقہ اور خوشبو دامنِ آفاق تک پھیلی ہوئی ہے۔
ماں کس کو پیاری نہیں ہوتی؟ لیکن آپ نے ماں کی محبّت کے موجزن سمندروں سے جو موتی آغوش ساحل میں سمیٹے ہیں۔ اُن کی چمک دمک بے مثال اور حیرت انگیز ہے۔
’’میّا‘‘ میں زمانی فاصلے بھی اتنے سمٹ گئے ہیں کہ ماضی، حال اور مستقبل ایک ابد کنار سلسلے کی مختلف کڑیاں دکھائی دیتے ہیں۔
شبیر احمد قادری:
۶۔ آپ نے بڑا عجیب موضوع لیا ہے۔ اس خاکے میں آپ نے خلاقانہ انداز سے رنگ بھرے ہیں اس پر داد دینے کے لیے لفظ بھی ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ آپ نے زندہ موضوع پر زندگی سے بھرپور لہجے میں بات کی ہے۔ اسے لکھا ہے مگر درحقیقت یہ ہر ایک کا موضوع ہے لفظ ماں کو آپ نے میّا کا نام دے کر اور زیادہ دل آویزی پیدا کردی ہے۔
محترم حامد صاحب! یہ کتاب محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے لکھی نہیں بلکہ آپ سے لکھوائی گئی ہے ماں کے موضوع پر متعدد کتب لکھی گئی ہیں مگر آپ نے اس موضوع سے حقیقی انصاف کیا ہے۔
خالد مصطفیٰ:
۷۔ میّا میں آپ کی افسانہ نگاری اور خاکہ نگاری کی آمیزش نے وہ کام کیا ہے جس کو کرنے کی خواہش میں بڑے بڑوں کے پتّے پانی ہو جاتے ہیں۔ اگر میں حوالے تلاش کرنے کے لئے کتاب کھولوں تو میں ایک بار پھر اضطرابی کیفیت میں پھنس جاؤں گا جس سے میں پہلے بہت مشکل سے نکلا ہوں۔
حامد بھائی میں اس وقت اپنے دفتر میں ہو۔ں آج پندرہ شعبان ہے۔ میں روزے سے ہوں، اپنے اوپر بہت ضبط کرکے خط لکھ رہا ہوں۔ کتاب میرے سامنے ہے لیکن اس کو کھولنا میرے لیے مشکل ہے کیونکہ آپ کے جادو کے آگے سب بے بس ہیں ۔اگر کتاب کھل گئی تو آنکھوں کے بند ٹوٹ جائیں گے اور میں اس وقت تماشا نہیں بننا چاہتا۔ میں بیٹھا ہوں۔ اس ظالم وردی کے بھی اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ میری آنکھوں کی پلکوں پر ستارے چمک اُٹھے ہیں۔ میں اندر ہی اندر سے بھیگ رہا ہوں۔ اس سے قبل کہ میںجل تھل ہو جاؤں مجھے اجازت دیں۔ میں ایک کمزور آدمی ہوں، میں آپ جیسا ’قوّی دل‘ نہیں۔ لیکن حامد سراج! آپ کی میّا صرف ایک کتاب نہیں ہے۔ یہ اس سے اوپر کی کوئی چیز ہے شاید ایک صحیفہ!
منیر احمد فردوس:
۸۔ حامد صاحب !میں نے تو سوچا تھا کہ میّا تین یاچار نشستوں میں آرام سے بیٹھ کر پڑھ لوں گا مگر جب پڑھنا شروع کیا تو یقین کیجئے دوسری نشست کی نوبت ہی نہ آ سکی۔ آپ کے انداز بیان اور بے انتہا چست بندش نے مجھے باندھ کر رکھ دیا ۔ میّا تو شروع سے آخر تک محسوسات کا ایسا سیلاب ثابت ہوئی جس میں بہہ جانے کے علاوہ آپ نے قاری کے لیے اور کوئی راستہ چھوڑا ہی نہیں ہے۔ یقین کیجیے میں نے محسوسات کی منظر کشی پہلی بار دیکھی ہے۔ میں جوں جوں میں میّا پڑھتا گیا مجھے آپ پر بے حد پیار آتا گیا۔ دل کرتا ہے کہ آپ کے دل میں نقش میّا سے منسوب تمام یادوں کا عکس اپنے دل پر اتار لو ں اور تا زیست ان میں کھویا رہوں۔
حوالہ جات باب چہارم
۱۔حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(مظہر حسین،’’میّا۔۔۔بوڑھے ملاح کا آفاقی حزینہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۳۰
۲۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۲۵
۳۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(مظہر حسین،’’میّا۔۔۔بوڑھے ملاح کا آفاقی حزینہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۲۶
۴۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، محمد حامد سراج کا تخلیقی شاہکار۔میّا) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۳۹
۵۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۲۶
۶۔ ایضاً، ص۔ ۲۷
۷۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(مظہر حسین،’’میّا۔۔۔بوڑھے ملاح کا آفاقی حزینہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۲۸
۸۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۳۲،۳۳
۹۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(مظہر حسین،’’میّا۔۔۔بوڑھے ملاح کا آفاقی حزینہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۳۰
۱۰۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۲۷،۲۸
۱۱۔ایضاً، ص۔ ۱۴۲
۱۲۔ایضاً، ص۔ ۳۱
۱۳۔ ایضاً، ص۔ ۳۷،۳۸
۱۴۔ ایضاً، ص۔۴۷
۱۵۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، محمد حامد سراج کا تخلیقی شاہکار۔میّا) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۳۹
۱۶۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۴۰
۱۷۔ضمیر جعفری، سیّد، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا(رائے: ناصر عباص نیر) مثال پبلشرز،فیصل آباد، ۲۰۰۶، ص۔ ۲۲۶
۱۸۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۷۶،۷۷
۱۹۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، محمد حامد سراج کا تخلیقی شاہکار۔میّا) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۴۰
۲۰۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۴۰
۲۱۔ایضاً، ص۔ ۴۲
۲۲۔ایضاً،ص۔۵۳
۲۳۔ایضاً، ص۔ ۵۲
۲۴۔ایضاً،ص۔۵۸
۲۵۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، محمد حامد سراج کا تخلیقی شاہکار۔میّا) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۴۰
۲۶۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۶۱
۲۷۔ایضاً، ص۔۶۵
۲۸۔ایضاً،ص۔۷۱
۲۹۔ایضاً،ص۔۷۴
۳۰۔ ایضاً،ص۔۷۹
۳۱۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج(دیباچہ: خالد قیوم تنولی)، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۱۳
۳۲۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۸۴
۳۳۔ ضمیر جعفری، سیّد، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا(رائے: مشرف عالم فاروقی) مثال پبلشرز،فیصل آباد، ۲۰۰۶، ص۔ ۲۲۶
۳۴۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۹۴
۳۵۔ایضاً، ص۔۱۱۲
۳۶۔ایضاً،ص۔۱۱۶
۳۷۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(مظہر حسین،’’میّا۔۔۔بوڑھے ملاح کا آفاقی حزینہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۲۷
۳۸۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۷، ص۔ ۱۴۲،۱۴۳
۳۹۔ایضاً،ص۔۱۱۳،۱۱۴
۴۰۔ایضاً،ص۔۱۱۴
۴۱۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، محمد حامد سراج کا تخلیقی شاہکار۔میّا) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۴۱
۴۲۔ حامد سراج، محمد، ’’میّا‘‘(سائرہ غلام نبی، افسوں طراز ہنر کار کا شہ پارہ)الفتح پبلی کیشنز، راولپنڈی، ۲۰۱۳، ص۔ ۳۵
۴۳۔ایضاً، صدف گیلانی، شیخوشریف،اوکاڑہ،ص۔ ۴۲
۴۴۔ ضمیر جعفری، سیّد، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا(رائے: سیّد محمد اشرف) مثال پبلشرز،فیصل آباد، ۲۰۰۶، ص۔ ۲۲۵
۴۵۔ایضاً، ناصر عباس نیر، ص۔۲۲۶
۴۶۔رومانہ رومیؔ،’’میّا‘‘ تمام ماؤں کے لیے خراجِ عقیدت، ۲۶ جولائی ۲۰۰۷، غیر مطبوعہ
۴۷۔ شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، رسالہ:الزبیر سہ ماہی (شبیر احمد قادری ،ماں۔ ’’میّا‘‘ اور حامد سراج مرحوم) اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، ۲۰۲۰، ص۔ ۱۴۲
۴۸۔ایضاً، از عذرا اصغر ،میا کے بارے میں خط ص۔ ۱۴۶
۴۹۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج(دیباچہ: خالد قیوم تنولی)، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۱۴
۵۰۔مکتوب:بنام محمد حامد سراج ، بشریٰ رحمان، ۲۴ دسمبر ۲۰۰۴)،اسلام آبادممبر نیشنل اسمبلی(غیر مطبوعہ)
۵۱۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج ، طاہر شیرازی ، ۵ ستمبر ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)
۵۲۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج،سائیں طارق جاوید، مانسہرہ، ۴ ستمبر ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)
۵۳۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج، تسنیم کوثرؔ(غیر مطبوعہ)
۵۴۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج،شہا ب صفدر(غیر مطبوعہ)
۵۵۔ مکتوب: بنام محمد حامد سراج،شبیر احمد قادری فیصل آباد ، ۱۶ جون ، ۲۰۰۵(غیر مطبوعہ)
۵۶۔ مکتوب: بنام محمد حامد سراج،خالد مصطفی۔ ۱ اکتوبر، ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)
۵۷۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج، منیر احمد فردوس، ڈیرہ اسماعیل خان، ۲۰ اکتوبر،۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)
