باب ششم – ماحصل
زیرِ نظر مقالہ میں محمد حامد سراج کی ادبی نثر کا تجزئیاتی مطالعہ کیا گیا ہے۔ جن میں ان کے افسانوں، خاکہ ’میّا‘ ، ناول ’آشوب گاہ‘ اور ان کی غیر مطبوعہ برقی تحریریں شامل ہیں ۔ اس باب میں مندرجہ بالا موضوعات کا احاطہ اختصار اور جامعیت کے ساتھ کیا جائے گا۔
محمد حامد سراج بلاشبہ دور حاضر کے ایسے افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں کو اچھے ادب کی کسوٹی پہ رکھ کر پرکھا جا سکے۔ افسانوی ادب میں جن رجحانات کو فروغ مل رہا ہے ان میں عصرِ حاضر کی فکر اور مسائل کا ادراک ہے۔ ہر ذی شعور شخص اپنے اردگرد کے ماحول کا اثر قبول کرتا ہے لیکن ایک تخلیق کار اور عام آدمی کی حساسیت میں فرق ہوتا ہے تخلیق کار جس کا مشاہدہ کرتا ہے جو اس پہ بیتتی ہے وہ اس کے فکر کا حصہ بن کر صفحہ قرطاس پہ موتی بن کر چمکتی ہے۔ تخلیق کا رمعاشرے کے مجموعی منظر نامے کو نئے معنی دیتا ہے یہی معنویت اسے عام آدمی سے ممتاز کرتی ہے۔ حامد سراج نے بھی ایک سچے تخلیق کار کی طرح اپنی عصری زندگی کے اسرارورموز کو نئی معنویت دی ہے۔محمد حمید شاہد کی رائے بڑی مستند ہے:
’’محمد حامد سراج زندگی کو مقصد ‘ مرکز اور مناط مان کر افسانہ لکھتا ہے‘ یوں کہ وہ دھڑکنوں سے معمور قاری کا دل بن جاتا ہے۔۔۔ وہ بامعنی کہانی پر ایمان رکھتا ہے اور ’ابزرڈٹی‘ کو متن کا کفر گردانتا ہے۔ اس نے اپن ہمہ گیر مشاہدے کی بے پناہ قوت، ایقانی جرأت اور تخلیقی توانائی سے ایسی کہانیاں لکھی ہیں جو اپنے پڑھنے والوں کو اندر سے بدل کر رکھ دیتی ہیں۔ میں محمد حامد سراج کو گزشتہ ربع صدی میں سامنے آنے والے تخلیق کاروں کی اس پیڑھی کا اہم نمائندہ گردانتا ہوں جنھوں نے فن پارے تخلیقی جمال، معنویت اور امکان کا ایک ساتھ برت کر کہانی پر قاری کا اعتماد بحال کیا ہے۔ ‘‘ (۱)
حامد سراج کے افسانے عصرِ حاضر کے بیشتر موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں جن میں، معاشرتی و سماجی مسائل، گھریلو ازدواجی معاملات، محبت، جنس،نفسیات، تہذیب، اخلاقی اقدار، ماضی پرستی (ناسٹلجیا)،دیہی زندگی کی تصویر، عالمگیریت، وغیرہ شامل ہیں۔
ہمارے ہاں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں افسانہ نگاروں نے اپنی تخلیقی شعور کی بدولت افسانے کے میدان میں نئے تجربات کیے۔ انہوں نے کہانیوں میں علامتی اور تجریدی تجربے کیے۔ وہ تجربے اس وقت کے مسائل اور ضرورتوں کے پیشِ نظر قابلِ تحسین تھے۔حامد سراج بھی اپنے عصر کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ڈاکٹر انور سدید نے حامد سراج کو جدید افسانہ نگار مانا ہے۔
’’محمد حامد سراج نے ادب کی ان شاہراہوں کو رونق افروز کیا ہے جس کے راہ رووں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ پامال اور فرسودہ ’’کلیشوں‘‘ کی پرورش کر رہے ہیں۔ افسانہ حامد سراج پر آیات آسمانی کی طرح اُترا ہے۔ تجریدی اور علامتی افسانے کے دور کے بعد اس میدان میں محمد حامد سراج کی آمد بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
آج کے افسانہ نگار کو نئے مسائل اور نئے موضوعات کا سامنا ہے۔ اسے انفرادی و اجتماعی شعور اور دورِ حاضر کے حقائق کو نئے سرے سے پرکھنے اور ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرروت ہے تاکہ آج کا قاری اسے اپنے روز مرہ کی زندگی سے جوڑ سکے۔ زمین سے جڑی کہانیاں ہمیشہ زندگی کے نئے معنی اجاگر کرتی ہیں ۔ اور عہدِ حاضر اس بات کا متقاضی ہےکہ اسے آج کی کہانیوں سے روشناس کروایا جائے۔ محمد حامد سراج کا کمال یہ ہے کہ اس کا ادب با معنی کہانیوں کی تلاش میں رہا ہے۔ بقول محمد حمید شاہد:
’’ان افسانوں میں وہ انسان کی بامعنی زندگی کی تلاش میں رہا ہے۔ فکری اور حسی رو دونوں کو بہم کر کے اس میں اپنے مشاہدے اور گاہے گاہے اپنی امنگوں کی شدت کو بھی شامل کیے جانے سے اس کے ہاں ایک الگ سا شوخ رنگ متشکل ہوتا ہے۔ ‘‘
اس مقالے کے دوسرے باب میں حامد سراج کے افسانوں کے موضوعات اور اس کے فنی پہلوؤں کو زیرِ بحت لایا گیا ہے۔ ان کے افسانوی ادب کے موضوعات میں تنوع ہے۔ جن میں ماضی، دورِ حاضر اور مستقبل کی امکانات پہ اپنے فکرو فن کی پختگی کا اظہار ملتا ہے۔ معاصر افسانوی ادب کے مطالعے سے جو تاثر نمایاں ہوتا ہے وہ حقیقت نگاری کا شعور ہے ۔ حامد سراج کے افسانے بھی حقیقت نگاری کے گہرے شعور سے آراستہ ہیں ۔ وہ انفرادی اور سماجی مسائل پہ گہری نظر رکھتا ہے۔ افسانے میں حقیقت نگاری کو سمجھنے کے لیے احتشام حسین کی رائے کچھ یوں ہے۔
’’حقیقت کا نیا مفہوم اسکے سوا کچھ نہیں ہے کہ افسانہ نگار جن گُتھیوں کو پانے افسانوں میں اصل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ ان سے پیدا ہونے والی نئی جہتوں کو تصور بھی کرے، جو منطقی نتائج نکلتے ہوں ان سے آنکھیں نہ چرائے، زندگی کے اہم ترین مسائل کی مصوری صرف ایک مشاہدے کے شیدائی کی طرح نہ کرے بلکہ ایک انسان اور ذمہ دار انسان کی حیثیت سے ان مسائل کے متعلق یہ بھی طے کرے کہ ان کا حل کیا ہے۔ اندھیرا اجالے سے کس طرح دست و گریباں ہے، سچائی میں جھوٹ کی آمیزش کس طرح ہو گئی ہے۔ اُجالے اور سچائی کو کیسے اندھیرے اور جھوٹ سے الگ کیا جائے۔ ‘‘
حامد سراج کے افسانوں کا بنیادی وصف سماجی حقیقت نگاری ہے۔ وہ افسانے کی تخلیق میں حقیقت نگاری کو ایک سماجی فریضہ سمجھتا ہے۔ حامد سراج نےمعاشرتی زندگی اور ان سے منسلک رویوں کے خارجی اور داخلی دونوں زاویوں پہ لکھا ہے۔ڈاکٹر غلام شبیر رانا، حامد سراج کے اس وصف کو طلسماتی حقیقت نگاری کا نام دیتے ہیں۔
’’ کولمبیا سے تعلق رکھنے والے مشہور افسانہ نگار اور ناول نگار گبریل گارسیا مارکیز کے اسلوب میں طلسماتی حقیقت نگاری کی کیفیت محمد حامد سراج کو بہت پسند تھی۔ طلسماتی حقیقت نگاری کو اپنے اسلوب کی اساس بنا کر جب ایک تخلیق کار مائل بہ تخلیق ہوتا ہے تو وہ منطق و توجیہہ سے قطع نظر فکشن میں کردار نگاری کو ایسی منفرد بیانیہ جہت عطا کرتا ہے جو قاری کو مسحور کر دیتی ہے۔ اسلوب کی غیر معمولی دل کشی، حقیقی تناظر، موہوم تصورات، مافوق الفطرت عناصر کی حیران کُن کرشمہ سازیاں اور اسلوبکی بے ساختگی قاری کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے اور دل سے نکلنے والی بات جب سیدھی دل میں اُر جاتی ہے تو قاری اش اش کر اُٹھتا ہے۔ ‘‘
حامد سراج جن حقیقتوں کا تذکرہ کرتا ہے ان میں سے اکثر معاشرے کی وہ برائیاں ہیں جس نے ہماری اجتماعی زندگیوں کو تعفن زدہ کر دیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ افسانہ نگار اندھوں کے شہر میں آئینے بیچ رہا ہو۔ شبہ طراز اسی ضمن میں حامد سراج کو جینئیس قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں۔
’’ حامد سراج معاشرے کے جامد کہنہ تالاب سے اٹھنے والے تعفن کو اول اول محسوس کر لینے والا’ جینیئس ‘ہے۔ وہ اپنے تخیل سے اس ٹھہرے ہوئے پانی میں ارتعاش پیدا کرنے کا خواہش مند نظر آتا ہے جس دردمندی سے وہ کریہہ حقیقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے اسی چابکدستی سے سماج کو آئینہ دکھانے کا فن جانتا ہے۔‘
حامد سراج کے افسانوی ادب میں حقیقت نگاری کی جو نئی جہتیں ہے وہ ان کی عصری زندگی اور سماجی شعور سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے انسان دوستی سے متصادم استحصال کو بھی بھرپور انداز سے نمایاں کیا ہے۔ ان کے افسانوں میں تاریخی شعور ، قومی و بین الاقوامی حالات ِ حاضرہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کو جگہ دی ہے۔حامد سراج انسانیت کا پرچار کرتا ہے وہ ایک مثالی بین الاقوامی معاشرے کا طلبگار ہے۔ سید ضمیر بخاری کی رائے ہے۔
’’محمد حامد سراج کے افسانے ہم عصر اردو افسانے سے مختلف ہیں۔ ان میں عالمگیریت کا ایسا پہلو ہے جو صرف غیر ممالک کا نام لکھنے سے نہیں پیدا ہوتا بلکہ تب پیدا ہوتا ہے جب اپنا باطن واشگاف کر کے کرۂ ارض کی ہر اس شے سے مس کر دیا جائے جس پر خدا کی مخلوق ہونے کا ذرا سا بھی یقین ہو۔‘‘
مظہر حسین کہتے ہیں:
’’حامد سراج نے زندگی کے اسی سب سے بڑے مظہر ’’انسان‘‘ کوا پنے افسانوں میں اس کی اصل یعنی انسانیت کی طرف لاٹ جانے کی ترغیب دی ہے۔‘‘ (۸)
ان کے افسانوں میں معاشرتی تضاد اور منافقت کو ایک نئے ڈھنگ سے پیش کیا گیا ہے۔ ’حبس دوام‘، ’اندر‘، اور ’ہے کوئی‘ چند مثالیں ہیں۔ وہ عام زندگی کے پہلوؤں کو خاص بنانے کا فن جانتا ہے۔ اس کی یہ خواہش بھی ہے کہ انسان کے اندر چھپا ہوا خیر باہر آئے ۔
حقیقت نگاری نے اپنا سفر جاری رکھا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں نئے پہلوؤں کا اضافہ ہوتا گیا۔ اردو میں اس میں نفسیات اور ذہنی کیفیات بھی اس کا حصہ قرار پائیں۔ جنسی نفسیات، تصوف، رومانیت بھی حقیقت کے اظہار کی مختلف صورتیں ہیں۔ کیونکہ ان عناصر کا انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر اپنے مضمون ’ افسانہ اور لا شعور ‘ میں لکھتے ہیں۔
’’ جنس سے معرا نفسیاتی مطالعہ کرنےوالا افسانہ نگار جلد ہی خود کو بند گلی میں پائے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ جنس کا مطالعہ افسانہ نگار کو کردار کی بھول بھلیاں میں بھی پھنسا سکتا ہے۔ اس سے بچ نکلنے کے لیے جس حقیقت پسندانہ نگاہ، تحریمات (ٹیبوز) سے پاک ذہن اور غیر متعصبانہ روئیے کی ضرروت ہ ہوتی ہے۔ وہ ہر افسانہ نگار کے پاس نہیں ہوتا۔ ‘‘
حامد سراج نہ تو بند گلی میں جاتا ہے اور نہ ہی کرادر کی بھول بھلیوں میں پھنستا ہے۔ وہ جنسی نفسیات کو اپنے افسانوں کا موضوع بھی بناتا ہے، ’آخری آئس کیوب‘ ’نقش گر‘اور’مرصع آئینے‘ اس کی مثالیں ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپنے کرادر میں بھی کوئی کجی نہیں آنے دیتا۔
حامد سراج نے جنسی نفسیات کے حامل افسانے لذت اور کشش پیدا کرنے کے لیے نہیں لکھے بلکہ مر د و عورت کی داخلی کشمکش کو بڑے سلیقے سے اپنے قاری تک پہنچایا ہے۔
حامد سراج کے افسانوں میں ان کا سماجی شعور، تصوف کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ انسانوں کی حقیقی فلاح کا آرزومند ہے اور حقیقی فلاح باطن کو شفاف کیے بغیر ممکن نہیں۔ خاور جیلانی کی رائے بہت معتبر معلوم ہوتی ہے۔
’’محمد حامد سراج کا تعلق افسانہ نگاری کی اس قبیل سے ہے ۔ جِن کا سماجی شعور عصری تقاضوں سے اپنی ہم آہنگی کی بُنیاد پر اپنی قدر متعین کرتا ہے۔ اُن کے جہانِ فِکر کا مدار صرف اور صرف خیر پر ہے۔ تصوف اور روحانیت سے متصف روایات کے توارث نے اُنہیں درد مندی اور اخلاصی کی جن خوبیوں سے نوازا ہے۔ وہ بہ کمال اِحسن اُن کی تخلیقات سے جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ‘‘
حقیقت نگاری کے بعد جو عنصر قاری کو اپنی جانب کھینچتا ہے وہ ان کی کردار نگاری ہے۔ افسانوی ادب میں کرادر نگاری کے حوالے سے ڈاکٹر اعجاز راہی اپنے مضمون’’ اردو افسانہ ۵۷ تک‘‘ میں لکھتے ہیں۔
’’کسی فنکار کا اس سے بڑھ کر معراج اور کیا ہے کہ وہ کرداروں کو کاغذ پر اس طرح زندہ کر دے کہ لکھنے ولا کا سارا معاشرتی شعور خود پڑھنے والے میں حلول کر کے اس تفہیم اور ابلاغ کو اُجاگر کرے جس طرح لکھنے والاچاہتا ہے۔ ‘‘
حامد سراج کے کردار زندہ و جاوید کردار ہیں ۔ ہم اپنے ارد گرد ان کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ یہ کردار جہاں اپنے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں وہیں اپنی انفرادی حیثیت بھی برقرار رکھتے ہیں۔ ان کرداروں کا اپنی زمین اور ماحول سے گہرا تعلق ہے۔ ان کرداروں کا رہن سہن اور طرزِ معاشرت ہی ان کی پہچان ہے۔ حامد سراج کرداروں اور ان کے آپسی مکالمے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ان کی تخلیق کو فنی مہارت سے سینچا گیا ہے۔ حامد سراج کےکرادر ہمیں خود کلامی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ بھی اظہارِ فن کا ایک طریقہ ہے اورا س سے بھی کرداروں کی نفسیات کا پتا چلتا ہے۔ منیر احمد کی رائے ہے۔
’’محمد حامد سراج بہت ہی شفیق تخلیق کار ہیں۔ اپنے کردار سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ان پہ کوئی قدغن نہیں لگاتے۔ انہیں اپنی مرضی کی زندگی جینے کی کھلی اجازت دیتے ہیں۔ وہ ایسے با کمال افسانہ نگار ہیں کہ جونہی چند کرداروں کو یکجا کرتے ہیں تو کہانی بننا شروع ہو جاتی ہے اور ان کا ہر کردار زندگی کے نئے پہلو کھوجتا چلا جاتا ہے۔‘‘
حامد سراج کا ایک اور بنیادی وصف یہ ہے کہ انہوں نے ان کرداروں کے ذریعے اپنے دور کے نشیب و فراز اور خیر و شر کو پیش کیا ہے۔ یہ کردار انسانی صفات کی ترجمانی کرتے ہیں اور ان کرداروں کے مکالموں سے ان کی بودوباش اور سماجی حیثیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
کردار نگاری کے باب میں ’خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سُن لے‘ ۔۔۔ حامد سراج کے کردار بعض اوقات اپنے افسانے کے لینڈ سکیپ سے مطابقت نہیں کھاتے۔ اُن کی زبان میں حامد سراج خود بولتا ہوا سنائی دیتا ہے۔ اس حوالے سے خالد قیوم تنولی اس لغزش کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔
’’ متعدد ایسے مقامات آتے ہیں جہاں کرداروں کو خارجی لینڈ سکیپ میں دکھانا ضروری ہوتا ہے مگر نہ وہ خلا میں معلق تصور ہوتے ہیں جبکہ بیانیے کا جمالیاتی اظہار ، تصویر سے لگا نہیں کھاتا۔ تب محسوس ہوتا ہے جیسے ادیب کو لینڈ سکیپ کی اہمیت کا یا تو پتا ہی نہیں یا پھر اس کی ناگزیریت کا اسے احساس نہیں ہو پایا۔ لینڈ سکیپ کی اظہاری ضرورت ایسے مواقع پر ثقافتی اور تہذیبی خوبیوں سے قاری کو باخبر رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ یوں حقیقی زندگی پر فنی تبصرہ کرتے ہوئے مغائرت اور بیگانگی کے آثار صاف ہوتے دکھتے ہیں۔ محمد حامد سراج بھی اپنی کئی کہانیوں میں اسی لغزش کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ ‘
کسی بھی کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے متحرک کردار نہایت ضرروی ہوتے ہیں۔ وہ زندہ واقعاتی ماحول کو تخلیق کرتے ہیں۔ حامد سراج کے ہاں کرادر نگاری میں سچائی اور تنوع پایا جاتا ہے۔ ان کی مکالمہ نگاری عام فہم اور ان میں اختصار اور فطری پن پایا جاتا ہے۔ان کی کرداروں کی زبان فلسفیانہ کم کم ہی ہے وہ برجستہ جملوں اور روزمرہ کی باتوں سے قاری کو متوجہ کرتے ہیں۔ مکالموں میں کہیں کہیں تکرار بوجھل معلوم ہوتی ہے لیکن بعض اوقات تکرار کا مطلب اسرار ہوتا ہے۔ افسانے کی زبان اور کرداروں کی زبان کی بات کی جائے تو بقول ابوالمعانی عصری:
’’محمد حامد سراج اپنے عہد کا بڑا با شعور افسانہ نگار ہے۔ اس کا فن جدید افسانے کے رُوپ میں نکھرا ہُوا محسوس ہوتا ہے۔ اور یہ اس کی پہچان کا ایک رُخ ہے۔ جِس کی کئی جہتیں ہیں۔ یقیناً اس سے بڑی کہانی جنم لیتی ہے۔بڑی کہانی بڑے فنکار کے تقّدس فن کا عظیم حوالہ بنتی ہے۔ یقیناً محمد حامد سراج کے افسانے کی اپنی افسانوی زبان ہے۔‘‘
حامد سراج نے سادہ لیکن پُر تاثیر زبان کا استعمال کیا ہے ۔ انہوں نے خودکلامی کی تکنیک کے ذریعے کرداروں کی داخلی کیفیات اور نفسیات کو نمایاں کیا ہے۔ان کے کردار کفایت لفظی سے کام لیتے ہیں۔ حامد سراج نے حقیقت نگاری، کردار نگاری اور مکالمہ نگاری میں جوہم آہنگی اور اسلوب اختیار کیا ہے اس میں خلوص اور سچائی کا بہت دخل ہے۔ وہ خود اپنے افسانوی مجموعی ’برائے فروخت‘ کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ
’’جس روز میں لکھنا چھوڑ دوں گا اس روز مر جاؤں گا۔‘‘
حامد سراج کے طرزِ اسلوب اور تکنیک کی بات کی جائے تو شروع کے افسانے مظہر الاسلام کے افسانوں سے متاثر ہیں جس کی تائید خود حامد سراج نے بھی کی ہے لیکن بعد کے افسانو ں میں وہ ایک منفرد افسانہ نگار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ حامد سراج کی تکنیک کے بارے میں مظہر حسین اپنے ایک مضمون ’ جدید افسانے کی ایزگارڈ‘ میں تحریر کرتے ہیں۔
’’اگر افسانے کے فن اور تکنیک پر بات کی جائے تو موضوع، مقصد اور اسلوب کی یگانگت ہی وہ پیمانہ ہے جو کسی ادیب یا افسانہ نگار کی عظمت و انفرادیت کی تجسیم و تشکیل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحیر کی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے آدرش اور نقطہ نظر کے مابین حائل قرنوں کی خلیج کو پاٹنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ حامد سراج نے اپنے فنی شعور کی مدد سے جدید افسانہ نگاری کی جو ایزگارڈ تعمیر کی ہے۔ ہر ادبی آلودگی سے پاک و فضا کی حامل ہے جس میں مثبت ادبی رویے سانس دکھائی دیتے ہیں۔ یقیناً اس کی تعمیر میں حامد نے جسم و روح کو گہرے کرب کی چھلنی سے گزارا ہے۔ مہاتما بدھ نے شاید ایسے ہی عشق پیشہ لوگوں کو نصیحت کی تھی:
’’ بوسیدگی ہر ترکیبی چیز کی سرشت میں شامل ہے۔ محنت سخت محنت سے اپنی مکتی کا سامان ڈھونڈو۔‘‘
اڑھائی ہزار برس کی زمانی دوری کے سرے پر اس کے جواب میں شاید یہی ندا بلند ہوئی تھی:
’’جس روز لکھنا چھوڑ دوں گا، مر جاؤں گا۔‘‘
حامد سراج کی طرزِ تحریر میں دانشورانہ عنصر موجود ہے وہ معاشرے کی سیدھی راہ پہ لانے کے لیے قصد کرتے ہیں۔ ان کا اسلوب با معنی افسانے کی ترویج میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ وہ اپنی تاریخ ، اساطیر، سیاست، مذہب، ادب اور علوم فنون پر گہری نظر رکھتے ہیں وہ ایک کثیر المطالعہ شخصیت ہیں۔ افسانہ نگار کو چاہیے کہ وہ جب افسانہ کولکھ رہا ہو تو اپنی ذات کو دور رکھے تاکہ کردار یا افسانے کا ماحول کسی بھی طرح کے تعصب کا شکار نہ ہو۔کہانی میں مقصد کا حصول افسانہ نگار کا متمع نظر نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں پہ حامد سراج ایک نقص کا شکار ہوئے ہیں۔ جس کی نشاندہی خالد قیوم تنولی کچھ یوں کرتے ہیں۔
’’تیسرا عیب جس پر عام قاری غور کیے بغیر گزر جاتا ہے مگر ذہین قاری کی نظر سے چھپا نہیں رہ سکتا وہ تخلیق کار کے نظریے کا کہیں کہیں واشگاف الفاظ میں سامنے آ جانا ہے۔ کہانی کسی خصوصی مہم یا مقصد کی تکمیل سے ہر گز مشروط نہیں ہوتی۔ کہانی کار انقلاب لانے یا کسی عظیم آدرش کی ذمہ داری سے آزاد ہوتا ہے۔ کہانی میں کہانی کار کے ذاتی عقائد یا نظریات کا واضح اظہار کہانی کو بے ڈھنگی چارپائی بنا دیتا ہے۔
بحیثیت مجموعی کل چھپن افسانوں کے پینوراما سے گزرنے کے بعد کوئی ان کے بارے میں حتمی اور مختصر رائے قائم کرنا چاہے تو کم از کم میری رائے یہ ہو گی کہ محمد حامد سراج پورے ادب اور پوری زندگی کے افسانہ نگار ہیں۔ ‘‘
جو بات خالد تنول کے نزدیک حامد سراج کے اسلوب کا عیب کم و بیش وہی طرزِ فکر انور سدید کے سامنے اس کی سچائی کا مظہر اور قابلِ تحسین ہے۔
’ ’محمد حامد سراج کی ذات اس کی کہانی کی مرکزی شخصیت ہے اور یہ مرکزی شخصیت ہی کہانی کا راوی بھی ہے منظر نامہ بھی اور وہ تاثر بھی جو اس کتاب سے نکل کر قاری کی طرف سفر کرتا اور اسے اپنے سحر میں گرفتار کر لیتا ہے۔‘‘
صاف الفاظ میں حامد سراج کی کہانی میں وہ خود جلوہ نما ہے۔
ایک پہلو جو ان کے اسلوب میں جا بجا بکھرا ہوا ہے وہ مذہب سے کشید کردہ دانشوری ہے۔ حامد سراج چونکہ ایک مذہبی روحانی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے وہ اس طرزِ فکر کو اپنے افسانوں میں استعمال کرنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ ہر تخلیق کار وہی لکھتا ہے جس فکر کا وہ مجسم پیکر ہوتا ہے ۔ حامد سراج کے معاملے میں ، ان کی حقیقت پسندی؍نگاری انہیں اس بات نہیں روکتی کہ وہ اپنی ذاتی رجحان کا پرچار کریں۔ اسی زاویے پہ ڈاکٹر انوار احمد اپنے مضمون’’اسلامی تاریخی ناول کا ایک کردار: محمد حامد سراج‘‘ میں لکھتے ہیں۔
’’وہ ایک مذہبی نقطہ نظر رکھتے ہیں اس لیے ضیا ءالحق اُن کے بعض افسانوں میں مردِ مومن بن کر جھلکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ اخلاقی اقدار کی حامل کتابوں یا اُن کے وارثوں کی توصیف بہت نمایاں طریقے سے کرتے ہیں۔
حامد سراج افسانے کی بُنت سے واقف ہیں اور وہ ایک موثر تخلیقی نثر لکھنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ اس لیے جب کبھی وہ ہمت سے ’ضمیرِ زہد میں برپا کہرام‘ میں جھانکتے ہیں تو ان کے ایک بڑے افسانہ نگار ہونے کا احساس ہوتا ہے۔
لیکن یہاں یہ بات قابلِ غور ہے وہ اپنے اسلوب میں اعتدال پسند ہیں۔ افسانے کی کیفیت آفرینی کا خیال رکھتے ہیں تاکہ وہ خالص افسانہ رہے، مذہبی تحریر نہ بن جائے۔
حامد سراج نے علامتی افسانے بھی لکھے لیکن انہوں نے ایسی علامتیں استعمال نہیں کیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہوں۔ انہوں نےعلامتی افسانوں کی بُنت میں بھی کہانی پن کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔ ’الٹے پاؤں‘، ’اعلان‘ اور ’چوب دار‘ علامتی افسانوں کی بہترین مثالیں ہیں۔
حامد سراج کے افسانے ان کے فلسفہ حیات کے تابع معلوم ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ہارون الرشید کی رائے ہے۔
’’حامد سراج کے افسانوں میں انسانی نشیب و فراز کما حقہ نظر آتے ہیں۔ اُن کا فلسفہ حیات مسرت کی تلاش کے گرد گھومتا ہے۔ اظہارِ رائے میں وہ حق گوئی اور سچ فہمی کے باب میں اپنی پہچان آپ ہیں۔ اُن کی نثر، اُن کی شخصی عظمت، معصومیت اور شرافت کا پر تو ہے۔ اُن کے افسانے میں ایک تخلیقی آہنگ نظر آتا ہے۔ کئی مقامات پر اُن کا وجدان منافقت، جھوٹ اور معاشرے کے منفی رویوں کے خلاف جہاد کرتا دکھائی دیتا ہے‘‘(۱۹)
حامد سراج کے افسانے بھی ان کی شخصیت کی مانند متنو ع ہیں ان کے رومانوی افسانوں کی فضا افسردہ اور اداسی کے بادلوں سے اٹی ہے۔ ایک درد ہے جو روح تک اُتر جاتا ہے اور اس افسردگی اور اداسی کی بنیادی وجہ ہجر ہے۔ دُردانہ نوشین خان اپنے ایک مضمون ’’اب کوئی آئے تو کہنا کہ مسافر تو گیا‘‘ میں لکھتی ہیں۔
’’حامد سراج کے رومانوی افسانوں میں ہجر شروع سے طے شدہ ہوتا ہے۔ محبوب اور محبوبہ کے ہاتھ کی لکیریں اور پاؤں کے راستے جدا مگر دل کی دھڑکنوں کی تال میل ایک ہوتی تھی۔ کچھ ایسا لگتا تھا کہ وہ فرقت کو خود منتخب کرتے ہیں اور پھر اپنے اِس انتخاب پہ مل کر آنسو بہانے میں وصال کا مزہ لیتے ہیں۔ غمِ فرقت اُن کے افسانوں کا سنگھار تھا۔ مگر وجہِ فرقت کو واضح تر ہونے کی طلب نہ تھی۔ ‘‘(۲۰)
حامد سراج کے افسانوں کے مجموعی جائزے سے ہم اس نتیجے پہ پہنچتے ہیں کہ وہ ایک سچا افسانہ نگار ہے جو کہانی کوبامعنی بنانے کی سر توڑ شعوری کوشش کرتا ہے۔ جو سماجی شعور کا علم بردار لکھاری ہے۔ جس کی نظر عالمی افق پر بھی ہے۔ جو خارجی دُنیا کا بھی شاہد ہو اور باطنی کائنات کا بھی متلاشی۔۔۔ جو ماضی کی روشنی سے مستقبل کے نئے امکانات تلاش کرتا ہے۔ حامد سراج کی کے بہترین افسانے ان کی خود منتخب و مرتب کردہ کتاب ’نقش گر ‘ میں شامل ہیں جبکہ ان کے فن کا کمزور اظہار ان کے افسانوی مجموعے ’ بخیہ گری ‘ میں موجود ہے۔ مظہر حسین لکھتے ہیں۔
حامد سراج کے افسانوں میں فکرو تخیل، جمالیات و مقصدیت، تصوف و فلسفہ باہم مدغم دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ماضی، حال، مستقبل کی زبانی و مکانی تکون کے قاطع خطوط کی مناط پر زندگی کی گہرائی ماپنے میں مگن ہے اور ہر کہانی کے ساتھ نئے انکشافات اس کے تحیر میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ‘‘
محمد حامد سراج کی تخلیقی نثر کا دوسرا پڑاؤ ان کے فن کا اعلیٰ ترین اظہار خاکہ ’میّا‘ ہے۔میا پہ جتنی بات کی جائے کم ہے۔ یہ خاکہ ماں کے عشق سے لبالب بھرا ہوا ہے۔ خیال کی رو میں لکھا گیا یہ خاکہ اردو ادب کاطویل تریں خاکہ ہے ۔ اس میں حامد سراج کا اسلوب جذبات سے مغلوب ہے۔ یہ تحریر حامد سراج کے فن کی معراج ہے۔
’آشوب گاہ‘ حامد سراج کا واحد ناول ہے جس کی فضا میں ہجر پھیلا ہوا ہے۔ فلیش بیک کی تکنیک کو برتا گیا ہے۔ لیکن یہ ایسا ناول نہیں جو حامدسراج کی پہچان بن سکے۔
آخر میں حامد سراج کی وہ تحریریں ہیں جن کی اشاعت وہ اپنے فیس بُک پیج پر کرتے رہے ہیں لیکن کسی کتابی شکل میں ان کا اظہار نہیں ہوا۔ یہ تحریریں تخلیقی ذہن کی پیداوار ہیں جو جدید دور کے نئے ذرائع کو استعمال کرنےمیں جھجھک محسوس نہیں کرتا۔
حوالہ جات باب ششم
۱۔ حمید شاہد، محمد، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا، سید ضمیر بخاری، مثال پبلشر، ۲۰۰۶ء، ص۔ ۲۲۳
۲۔ انور سدید، ڈاکٹر، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا، سید ضمیر بخاری، مثال پبلشر، ۲۰۰۶ء، ص۔ ۲۲۳
۳۔ حمید شاہد، محمد، اردو افسانہ صورت و معنی، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد، ۲۰۰۶ء، ص۔ ۱۹۲
۴۔احتشام حسین، روایت اور بغاوت، ادارہ فروغ اردو، لاہور، ۱۹۷۲ء، ص۔ ۱۲۵
۵۔ غلام شبیر رانا، ڈاکٹر،’’محمد حامد سراج: تھا لطفِ زیست جن سے وہ اب نہیں میسر‘‘،سہ ماہی شمارہ ۱،۲، الزبیر، اُردو اکیڈمی بہاولپور، ۲۰۲۰ء، ص۔۱۳۱
۶۔ شبہ طراز، برائے فروخت، تاثراتی مکالمہ، مشمولہ ماہنامہ الحمرا، لاہور، جون ۲۰۰۶ء، ص۔ ۹۱،۹۲
۷۔ اشرف علی گڑھ،محمد : میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا، سید ضمیر بخاری، مثال پبلشر، ۲۰۰۶ء، ص۔ ۲۲۳
۸۔ مظہر حسین، مضمون: حامد سراج اور جدید افسانے کی ایزگارڈ، الزبیر، شمارہ ۴، بہاولپور، ۲۰۰۵ءص۔ ۲۰۹
۹۔سلیم اختر، ڈاکٹر، مجموعہ ڈاکٹر سلیم اختر۔ سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۶ء، ص۔ ۱۸۹
۱۰۔ فلیب، خاور جیلانی، برائے فروخت، مطبوعہ مثال پبلشر، فیصل آباد، ۲۰۰۵ء
۱۱۔رشید امجد، مرتب: پاکستانی ادب ۱۹۹۰، اکادمی ادبیات، اسلام آباد،ص۔ ۱۵۲
۱۲۔ منیر احمد، ’’محمد حامد سراج بطور حیات نگار، غیر مطبوعہ
۱۳۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۲۸
۱۴۔ ابو المعانی عصریؔ، محمد حامد سراج۔ جدید افسانہ نگاری کے آئینے میں، ص۔ ۶
۱۵۔ مظہر حسین، مضمون: حامد سراج اور جدید افسانے کی ایزگارڈ، الزبیر، شمارہ ۴، بہاولپور، ۲۰۰۵ء ص۔ ۲۱۰
۱۶۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۲۸
۱۷۔ انور سدید، ڈاکٹر ،تبصرہ کتب، وقت کی فصیل ’’ مشمولہ روزنامہ نوائے وقت، لاہور، ۱۳ جولائی ۲۰۰۳ء
۱۸۔ انوار احمد، ڈاکٹر، ’’اسلامی تاریخی ناول کا ایک کردار: محمد حامد سراج‘‘ اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ(۲۴۵۔افسانہ نگاروں کا تذکرہ)، کتاب نگر، ملتان، ۲۰۱۷ء ص۔ ۷۱۵،۷۱۶
۱۹۔ ہارون الرشید تبسم،ڈاکٹر، پیوندِ خاک، ادبی ستارے، مثال پبلشر، ۲۰۲۰ء، ص۔ ۲۰۵
۲۰۔ ،دُردانہ نوشین خان، ’’اب کوئی آئے تو کہنا کہ مسافر تو گیا‘‘سہ ماہی شمارہ ۱،۲، الزبیر، اُردو اکیڈمی بہاولپور، ۲۰۲۰ء، ص۔ ۱۲۷
۲۱۔ مظہر حسین، مضمون: حامد سراج اور جدید افسانے کی ایزگارڈ، الزبیر، شمارہ ۴، بہاولپور، ۲۰۰۵ءص۔ ۲۰۷
کتابیات
بنیادی مآخذ
1۔ حامد سراج، محمد، وقت کی فصیل، مطبوعہ آفاق کتابیں، راولپنڈی ، ۲۰۰۲ ء
2۔ حامد سراج، محمد، میّا، جہلم، جہلم بُک کارنر،۲۰۱۵ء
3۔ حامد سراج، محمد، برائے فروخت، فیصل آباد، مثال پبلشرز، ۲۰۰۵ء
4۔ حامد سراج، محمد، چوب دار، فیصل آباد، مثال پبلشرز، ۲۰۰۸ء
5۔ حامد سراج، محمد، آشوب گاہ، فیصل آباد، مثال پبلشرز، ۲۰۰۹ء
6۔ حامد سراج، محمد، بخیہ گری، راولپنڈی، الفتح پبلی کیشنز، ۲۰۱۳ء
7۔ حامد سراج، محمد، ہمارے بابا جی(سوانح خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد)، ۲۰۱۳ء
8۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد سراج، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، ۲۰۱۳ء
9۔ حامد سراج، محمد، برادہ، لاہور، یو ایم ٹی پریس
10۔ حامد سراج، محمد، ہم بیتی، جہلم، بُک کارنر، ۲۰۱۳ء
11۔ حامد سراج،محمد،عالمی سب رنگ افسانے: مرتبہ،جہلم، بک کارنر، س۔ن
12۔ حامد سراج، محمد،نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں : مرتبہ، جہلم، بک کارنر،۲۰۱۷
13۔ حامد سراج، محمد، مشاہیر علم و دانش: مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۸
۱۴۔حامد سراج، محمد، نقش گر (پچیس منتخب افسانے): مرتبہ، جہلم، بک کارنر، ۲۰۱۹
ثانوی مآخذ
۱۔انور سدید،ڈاکٹر، موضوعات، مکتبہ عالیہ، لاہور، ۱۹۹۱ء
۲۔احمد ندیم قاسمی، بگولے(افسانوی مجموعہ)، نظم، مکتبہ اردو لاہور، ۱۹۴۱ء
۳۔احسان اکبر، ’’پاکستانی ناول۔ ہئیت رجحان اور امکان‘‘، مشمولہ ’پاکستانی ادب‘‘، جلد پنجم، متربین: رشید امجد؍ فاروق علی، راول پنڈی ، جنوری ۱۹۸۶ ء
۴۔ احتشام حسین، روایت اور بغاوت، ادارہ فروغ اردو، لاہور، ۱۹۷۲ء
۵۔ انوار احمد، ڈاکٹر، ’’اسلامی تاریخی ناول کا ایک کردار: محمد حامد سراج‘‘ اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ(۲۴۵۔افسانہ نگاروں کا تذکرہ)، کتاب نگر، ملتان، ۲۰۱۷ء
۶۔ ابن الحسن عزیز ڈاکٹر، اردو تنقید چند منزلیں، اسلام آباد، پورب اکادمی، 2013ء
۷۔ ابوالاعجاز حفیظ صدیقی، مرتبہ، کشاف تنقیدی اصطلاحات، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، 1985ء
۸۔ ابواللیث صدیقی، اردو کی ادبی تاریخ کا خاکہ، کراچی: اردو اکیڈمی سندھ، پہلا ایڈیشن
۹۔ احسن فاروقی، ڈاکٹر، فریب نظر، کراچی، مکتبہ اسلوب، 1963ء
۱۰۔ احمد ندیم قاسمی، کپاس کا پھول، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2008ء
۱۱۔ اختر حسین رائے پوری، ادب اور انقلاب، کراچی، نفیس اکیڈمی، 1995ء
۱۲۔ اعجاز حسین، سید، ادبی رجحانات، دکن، نفیس اکیڈمی، 1946ء
۱۳۔ انوار احمد، ڈاکٹر، اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ، فیصل آباد،مثال پبلشرز، نقشِ ثانی، 2010ء
۱۴۔ انیس ناگی، مذاکرات، لاہور، سنگِ میل، س۔ن
۱۵۔ اے بی اشرف، ڈاکٹر، مسائل ادب، لاہور، سنگِ میل پبلی کیشنز، 2013ء
۱۶۔ بگولے، دیباچہ، کرشن چندر، لاہور: اسطیر، شرکت پرنٹنگ پریس، 1995ء
۱۷۔تنویر بخاری، اسلام اور جدید سیاسی و عمرانی افکار، لاہور، ایورنیو بکس پیلس، س۔ن
۱۸۔ جمیل جالبی، ڈاکٹر، نئی تنقید، کراچی، رائل بکس کمپنی، 1985ء
۱۹۔ حاجرہ مسرور، سب افسانے میرے، لاہور، مقبول اکیڈمی، 1991ء
۲۰۔ حمیرا رفیق، بیتال پچیسی تہذیبی مطالعہ، فیصل آباد، شمع بکس پبلی کیشنز، 2014ء
۲۱۔ حمیرا اشفاق، ڈاکٹر، ادب کا تاریخی اور تہذیبی تناظر، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2014
۲۲۔ خالد قیوم تنولی، محمد حامد سراج: درد کا ہمدرد قصہ گو، مجموعہ حامد سراج، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2013ء
۲۳۔ خالد محمود ، خان، فکشن کا اسلوب، لاہور، بیکن بکس، 2014ء
۲۴۔ حمید شاہد، محمد، اردو افسانہ صورت و معنی، نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد، ۲۰۰۶ء
۲۵۔ رشید امجد، مرتب: پاکستانی ادب ۱۹۹۰، اکادمی ادبیات، اسلام آباد،
۲۶۔ راجندر سنگھ ، بیدی، گرہن ، نیہ دہلی: مکتبہ جامعہ لیمیٹڈ، دوسرا ایڈیشن، 1989ء
۲۷۔ رشید امجد، بیزار آدم کے بیٹے، راولپنڈی، دستاویز پبلشرز، 1974ء
۲۸۔ رشید امجد، سہ پہر کی خزاں، راولپنڈی، دستاویز پبلشرز، 1980ء
۲۹۔ رفیع الدین ہاشمی، اصناف ادب، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، اشاعت سوم، 1983ء
۳۰۔ روبینہ شہناز، ڈاکٹر، اردو تنقید میں پاکستانی تصور قومیت، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، 2007ء
۳۱۔سلیم اختر، ڈاکٹر، مجموعہ ڈاکٹر سلیم اختر، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۰۶ء
۳۲۔ سلیم اختر، ڈاکٹر،’’افسانہ اور افسانہ نگار‘‘ سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۹۱ء
۳۳۔ ساحر لدھانوی، پرچھائیوں، مشمولہ، زمین کے جاگنے کے دن ہیں، اسلام آباد:ایس ڈی پی آئی، 1998ء
۳۴۔ ساجد رشید، میرے تخلیقی محرکات اور آج کی ادبی فضا، مشمولہ، ادب کا بدلتا منظر نامہ اردو ما بعد جدیدیت پر مکالمہ، مرتبہ، گوپی چند نارنگ، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2000ء
۳۵۔ سجاد باقر، رضوی، تہذیب و تخلیق، لاہور، مکتبہ ادب جدید، 1966ء
۳۶۔ سبط حسن، پاکستان میں تہذیب کا ارتقا، کراچی، مکتبہ دانیال، 1989ء
۳۷۔ سبینہ اعوان، ڈاکٹر، افسانہ شناسی، فیصل آباد، مثال پبلشرز، 2015ء
۳۸۔ سلام سندیلوی، ادب کا تنقیدی مطالعہ، لاہور، میری لائبریری، 1964ء
۳۹۔ سلیم اختر، ڈاکٹر، اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2009ء
۴۰۔ سمیرا نقوی، نقشِ رائیگاں، فیصل آباد، مثال پبلشرز، 2014ء
۴۱۔ سہیل احمد خان، ڈاکٹر، محمد سلیم الرحمٰن، منتخب ادبی اصطلاحات، لاہور، شعبہ اردو جی۔سی یونیورسٹی، 2005ء
۴۲۔ شہناز انجم، ڈاکٹر، ادبی نثر کا ارتقا، لاہور، پروگریسوبکس،1989ء
۴۳۔ صلاح الدین درویش، اردو افسانہ اور جنسی کلچر، ملتان، نگارشات پبلشرز، س۔ن
۴۴۔ صفدر حسین صدیقی، سماجی انقلاب، لاہور، میٹرو پرنٹرز، 2003ء
۴۵۔ضمیر بخاری، سید ، ڈاکٹر، میانوالی میں اردو نثر کا ارتقا، مثال پبلشر، ۲۰۰۶ء
۴۶۔ طاہرہ پروین، تنقیدی اور تہذیبی مطالعے، دہلی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، 2007ء
۴۷۔ طیبہ خاتون، ڈاکٹر، اردو، نثر کی داستان، میرپور آزاد کشمیر، ارسلان بکس، 2003ء
۴۸۔ عطش درانی، شوکت صدیقی کے ناول جانگلوس کا تجزیہ، مضمون مطبوعہ ، اکادمی ادبیات
۴۹۔ علی سردار، جعفری، ترقی پسند ادب، نئی دہلی، انجمن ترقی اردو ہند، 2013ء
۵۰۔ عصمت چغتائی، لحاف، پیشہ، پاہور، روہتاس بکس، 1992ء
۵۱۔ عصمت جمیل، ڈاکٹر، نسائی شعور کی تاریخ اردو افسانہ اور عورت، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، 2012ء
۵۲۔ عبدالعزیز،ملک، اردو افسانہ میں جادوئی حقیقت نگاری، سرگودھا، یونیورسٹی، 2014ء
۵۳۔ غلام عباس، کلیات غلام عباس، لاہور، مکتبہ جدید، س۔ن
۵۴۔ غفور شاہ قاسم، ڈاکٹر، پاکستانی ادب شناخت کی نصف صدی، راولپنڈی ،ریز پبلی کیشنز،2000ء
۵۵۔ فضل ربی، ڈاکٹر، ’’شوشیالوجی آف لٹریچر‘‘، کامن ویلٹھ پبلشرز، دہلی، ۱۹۹۲ء
۵۶۔ فرخ سہیل، گوئنڈی، بکھرتا سماج، لاہور، جمہوری پبلی کیشنز، 2016ء
۵۷۔ فرمان فتح پوری، ڈاکٹر، اردو نثر کا فنی ارتقا، کراچی، اردو اکیڈمی، 1989ء
۵۸۔ قمر رئیس، پروفیسر، اردو میں بیسویں صدی کا افسانوی ادب، کتابی دُنیا، دہلی، ۲۰۰۴ء
۵۹۔ کرشن چندر، کرشن چندر کے سو افسانے ، ترتیب و انتخاب، آصف نواز چودھری، لاہور ، شکر گنج پرنٹرز، س۔ن
۶۰۔ مجنون گورکھ پوری، ادب اور زندگی۔ اردو گھر ، علی گڑھ، ۱۹۸۴ء
۶۱۔ معاصر ادب، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 1991ء
۶۲۔ محمد اشرف خان، ڈاکٹر، اردو تنقید کا رومانوی دبستان، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2011ء
۶۳۔ محمد افضال بٹ، ڈاکٹر، اردو ناول میں سماجی شعور، اسلام آباد، پورب اکادمی، 2015ء
۶۴۔ محمد مسعود، اردو نثر پر تنقیدی نظر، لاہور، تاج بک ڈپو، 1966ء
۶۵۔ مقصود جعفری، ڈاکٹر، زبان ادب اور معاشرہ، الحمرا، 2016ء
۶۶۔ وقار عظیم، سید، پروفیسر، داستان سے افسانے تک، لاہور، الوقار پبلی کیشنز، 2010ء
۶۷۔ ہارون الرشید تبسم،ڈاکٹر، پیوندِ خاک، ادبی ستارے، مثال پبلشر، ۲۰۲۰ء
ادبی رسائل و جراید؍اخبارات:
۱۔ آئندہ ، سہ ماہی، (مدیر:محمود واجد)، کراچی
۲۔ آمد، سہ ماہی،(مدیر:عظمیہ فردوسی، خورشید اکبر)، پٹنہ
۳۔ آبشار ، سہ ماہی، ناول صدی نمبر، شمارہ نمبر ۴، (مدیر سلیم فواد کندی)
۴۔ آفاق، ماہنامہ،(مدیر:قیوم طاہر)،راولپنڈی
۵۔ الحمرا، ماہنامہ،(مدیر:شاہد علی خان)،لاہور
۶۔ الزبیر سہ ماہی ، اردو اکیڈمی ، بہاولپور، شمارہ ۱،۲، شاہد حسن رضوی، ڈاکٹر، ۲۰۲۰ء
۷۔ بادبان، سہ ماہی،(مدیر:ناصر بغدادی)
۸۔ تجدید نو، سہ ماہی، (مدیر:عذرا اصغر)، لاہور
۹۔ ماہنامہ تمام، میانوالی، فروری ۲۰۰۹
۱۰۔ جدید ادب، ششماہی، (مدیر:حیدر قریشی)، جرمنی
۱۱۔ روشنائی، سہ ماہی، (مدیر: احمد زین الدین، صبا اکرام)، کراچی
۱۲۔روشنائی، مکتبہ اردو، (مدیرسجاد ظہیر)، لاہور، ۱۹۵۶ء
۱۳۔ سنبل، سہ ماہی،(مدیر:علی محمد قریشی)، راولپنڈی
۱۴۔ صریر، ماہنامہ،(مدیر، فہیم عظمی)، کراچی
۱۵۔ رابعہ رحمٰن، نوائے وقت، ۲۱ نومبر،
تحقیقی مقالہ جات:
۱۔ ذکا اللہ انجینئر، مقالہ: حامد سراج کے افسانوں کا فنی اور موضوعاتی مطالعہ،پشاور، قرطبہ یونیورسٹی، س۔ن
انٹرویو:
۱۔ مقالہ نگار کا اسامہ حامد (بیٹا حامد سراج)سے انٹرویو،بمقام میانوالی،۶ جون ، ۲۰۲۰
۲۔ مقالہ نگار کا قدامہ حامد(بیٹا حامد سراج) سے انٹرویو،بمقام میانوالی ، ۶ جون ، ۲۰۲۰
۳۔مقالہ نگار کا شگفتہ حامد (بیوی حامد سراج)سے انٹرویو،بمقام میانوالی ،۶ جون ، ۲۰۲۰
۴۔ مقالہ نگار کا ملک بشارت احمد(کزن حامد سراج) سے انٹرویو،بمقام میانوالی ، ۷ جون ، ۲۰۲۰
۱۲۔فرحین چودھری، محمد حامد سراج سے انٹرویو، ۱۲ اکتوبر ۲۰۱۹
مکتوب :
۱۔ محمد حامد سراج، خط بنام ممتاز شیخ، ۲۸ اگست ۲۰۱۹ فیس بک
۲۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج ، بشریٰ رحمان، ۲۴ دسمبر ۲۰۰۴)،اسلام آبادممبر نیشنل اسمبلی(غیر مطبوعہ)
۳۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج ، طاہر شیرازی ، ۵ ستمبر ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)
۴۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج، سائیں طارق جاوید، مانسہرہ، ۴ ستمبر ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)
۵۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج، تسنیم کوثرؔ(غیر مطبوعہ)
۶۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج، شہا ب صفدر(غیر مطبوعہ)
۷۔ مکتوب: بنام محمد حامد سراج، شبیر احمد قادری فیصل آباد ، ۱۶ جون ، ۲۰۰۵(غیر مطبوعہ)
۸۔ مکتوب: بنام محمد حامد سراج، خالد مصطفی۔ ۱ اکتوبر، ۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)
۹۔ مکتوب:بنام محمد حامد سراج، منیر احمد فردوس، ڈیرہ اسماعیل خان، ۲۰ اکتوبر،۲۰۰۴(غیر مطبوعہ)
تعزینی ریفرنس:
۱۔ تعزینی ریفرنس ، زیرِ اہتمام مجلسِ اقبال بمقام چشمہ، ۲۸ دسمبر، ۲۰۱۹
فرہنگ و لغات:
۱۔ سید احمد دہلوی، مولوی، فرہنگ آصفیہ (جلد اول)، لاہور، مرکزی اردو بورڈ، 1977ء
۲۔ شان الحق حقی، مرتبہ، اوکسفرڈ انگلش اردو ڈکشنری، کراچی، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2005ء
۳۔ فیروزالدین، مولوی، فیروز اللغات (جامع)، لاہور، فیروز سنز، 2005ء
۴۔ محمد عبداللہ خویشگی، فرہنگ آمرہ، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان، 2004ء
۵۔ نسیم امروہی، نسیم اللغات، لاہور،غلام علی اینڈ سنز، 1955ء
۶۔ وارث سرہندی، علمی اردو لغت، لاہور، علمی کتب خانہ، 1974ء
۷. Webster’s new illustrated dictionary
Websites:
- rekhta .com
- com
- com
- in
- https://web.facebook.com/hamid.siraj
