
محمد حامد سراج کے متعلق یہ آراء محض تاثرات نہیں بلکہ ایک عہد کے ادبی شعور کی گواہیاں ہیں۔ اُن کے ہم عصر افسانہ نگار، نقاد، محقق، ادیب اور قارئین جب اُن کا ذکر کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی انجانی روشنی ان کے الفاظ کے اندر جاگ اٹھتی ہو۔ کہیں ان کے اسلوب کی سادگی اور گہرائی پر حیرت ہے، کہیں کرداروں کی تہہ در تہہ معنویت پر گفتگو، اور کہیں ان کی شخصیت کی شرافت، انکسار اور خاموش وقار کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ساری آوازیں مل کر ایک ایسا ادبی نقشہ بناتی ہیں جس کے مرکز میں محمد حامد سراج کا روشن، منفرد اور ناقابلِ فراموش نام کھڑا ہے۔

اپریل 1989 میں ایک دن میں منصورآفاق کے ھمراہ چشمہ بیراج کے نواح میں واقع خانقاہ سراجیہ پہنچا- اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ میں نے انگریزی کے مشہور اخبار THE PAKISTAN TIMES کے لیے خانقاہ سراجیہ کی لائبریری پر فیچر لکھنا تھا٠ فیچر ایسا مضمون ھوتا ھے جس میں پکچرز بھی شامل ھوتی ھیں- منصور آفاق میرے کیمرہ مین بھی تھے گائیڈ بھی – گائیڈ کی ضرورت اس لیے پڑی کہ اس سے پہلے میں نے یہ خوبصورت بستی نہیں دیکھی تھی-
خانقاہ سراجیہ میں صاحبزادہ پروفیسر محمد حامد سراج سے میرا تعارف پہلے سے تھا- اھل قلم کی میٹنگزمیں , اور ناصر خان (ناصرفوٹوز) کے ھاں ان سے ملاقاتیں ھوتی رھتی تھیں- منصور نے انہیں ھمارے متوقع دورے کی اطلاع دے دی تھی- اس لیے وھی ھمارے میزبان تھے-
لائبریری دیکھی – قرآن مجید کے نادر نسخوں ، تفسیر، حدیث , فقہ اور دوسرے دینی امور وعلوم کے بارے میں مشہور زمانہ کتابوں کا ایسا جامع ذخیرہ کسی یونیورسٹی کی لائبریری میں بھی شاید ھی ملے-
ھم نے قرآن حکیم کے چند نایاب قلمی نسخوں اور کچھ دوسری اھم کتابوں کی تصویریں بنائیں- کچھ معلومات پروفیسر سراج صاحب سے لیں ، ان کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا- پروفیسر محمد حامد سراج ملکی سطح پر معروف افسانہ نگار ھیں- ان کی افسانہ نگاری پر بھی گفتگو ھوئی- سراپا محبت شخصیت ھیں- اتنی محبت اور احترام دیتے ھیں کہ انسان پریشان ھوجاتا ھے- ایک عجیب سی دلکشی ھے ان کی شخصیت میں- ان کی مہربانی سے میرا مضمون باتوں باتوں ھی میں مکمل ھو گیا- گھر جا کر لکھ لیا- اخبار کے پورے ایک صفحے کا یہ مضمون بہت پسند کیا گیا- مضمون کا عنوان تھا-
خانقاہ سراجیہ کا مفصل تعارف انشاءاللہ کل کی پوسٹ میں لکھوں گا- یہاں صرف اتنا بتا دیتا ھوں کہ تلوکرقبیلے کی اس گمنام سی بستی میں جب 1920-21 میں اللہ کے ایک نیک بندے نے خانقاہ قائم کی تو یہ بستی مرجع خلائق بن گئی-
وہ ھجر کی رات کا ستارا ، وہ ھم نفس ، ھم سخن ھمارا
سدا رھے اس کا نام پیارا ، سنا ھے کل رات مرگیا وہ
کل یہ اندوھناک خبر مطیع اللہ خان کی پوسٹ سے ملی تو سکتہ طاری ھو گیا – کچھ دیر بعد مظہر نیازی صاحب کی پوسٹ نے رلا دیا – یہ پوسٹ مرحوم سے ان کی موت سے ایک دن پہلے ملاقات کا احوال تھی – اس ملاقات میں مرحوم محمد حامد سراج نے کہا میرا آدھا جسم کینسر سے ختم ھو چکا ھے ، پھر بھی اللہ کا شکر ھے کہ اس جسم نے 61 سال تک میرا ساتھ دیا –
پروفیسرمحمد حامد سراج علم ، ادب اور اخلاق ، ھر حوالے سے ایک لیجنڈ تھے – ایسے نفیس مزاج شائستہ انسان بہت کم دیکھنے کو ملتے ھیں – ادب میں ان کا شمار ملک کے چوٹی کے افسانہ نگاروں میں ھوتا تھا – ملک کے تمام بڑے ادبی رسائل میں ان کے افسانے شائع ھوتے رھے – افسانوں کے متعدد مجموعے بھی شائع ھوئے – اپنی والدہ کی زندگی کے اخری دنوں کی داستان پر مشتمل ان کی کتاب “میا“ میری نظر میں ان کا شاھکار تھی – ماں کی عظمت کا ایسا دل میں اتر جانے والا امیج کہیں اور شاید ھی نظر آئے –
مرحوم محمد حامد سراج سے میرا تعارف تقریبا تیس سال پہلے منصورآفاق نے کرایا – میں نے جناب حامد سراج کے آبا ؤاجداد کی مشہور زمانہ خانقاہ سراجیہ لائبریری کے بارے میں انگلش میں ایک مضمون لکھا جو انگریزی روزنامہ پاکستان ٹائیمز میں شائع ھوا – نادرو نایاب کتابوًں اور قرآن حکیم کے قدیم نسخوں کے بارے میں معلومات جناب محمد حامد سراج نے فراھم کیں ، پکچرز منصورآفاق نے بنائیں – یہ پہلی ملاقات عمر بھر کی دوستی کی بنیاد بن گئی – جب بھی ملے بہت پیار سے ملتے تھے – ان کے اور میرے تعلق کو مزید مستحکم مرحوم ناصر خان (الناصرفوٹوسٹوڈیو) نے کیا – وہ بھی جناب محمد حامد سراج کے بہت قریبی دوست تھے –
مرحوم کو خراج عقیدت بہت سے اھل قلم پیش کریں گے – مجھ سے بہتر لکھنے والے لوگ بھی ان کے بارے میں لکھیں گے – حسب توفیق حق دوستی ادا کرنا میرا بھی فرض تھا – یہ سب کچھ لکھنے کے بعد بھی یہ احساس باقی ھے کہ ————– حق تو یہ ھے کہ حق ادا نہ ھؤا
میں ان دنوں اسلام آباد میں ھوں ، پیارے بھائی کا آخری دیدار نہ کر سکنے کا دکھ بھی ھمیشہ رھے گا –
رب رحیم و کریم ھمارے اس محبوب بھائی کی مغفرت فرما کر انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ——
شہر میں اک چراغ تھا ، نہ رھا
ایک روشن دماغ تھا ، نہ رھا ——-
آج پروفیسر حامد سراج کی چھٹی برسی ہے۔ ان کی دلنواز شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے آنکھیں نم ہو رہی ہیں ۔ ہمارے بہت پیارے دوست تھے ۔
پروفیسر حامد سراج خانقاہ سراجیہ کے پیرو مرشد گھرانے کے چشم و چراغ تھے ۔ پیری مریدی کی بجائے انہوں نے اپنے لیئے علم کا راستہ منتخب کیا اور ایم اے اردو کرنے کے بعد لیکچرر کی حیثیت میں چشمہ کالج کے شعبہ اردو سے وابستہ ہو گئے ۔
حامد سراج سے میرا تعارف تقریبا 35 سال پہلے منصور آفاق نے کرایا تھا۔ میں نے انگریزی اخبار پاکستان ٹائمز کے لیئے خانقاہ سراجیہ کی لائبریری کے بارے میں مضمون لکھنا تھا۔ یہ لائبریری نایاب کتب اور قرآن کریم کے قدیم نسخوں کا ایک نادر ذخیرہ ہے۔ حامد سراج نے بزرگوں کی میراث میں سے یہ لائبریری اپنی تحویل میں لی ہوئی تھی ۔
منصور آفاق نے لائبریری کی بہت سی پکچرز بنائیں جو میرے مضمون کی زینت بنیں ۔ حامد سراج صاحب نے مہمان نوازی کے علاوہ معلومات کی فراہمی میں بھی ہم سے بہت تعاون کیا ۔۔
Library in the Desert
کے عنوان سے یہ مضمون اگلے ہفتے پاکستان ٹائمز میں شائع ہوا ۔
اس ملاقات کا حاصل حامد سراج صاحب سے دوستی تھا۔ جہاں بھی ملے بہت پیار سے ملتے تھے۔ فیس بک پر میری پوسٹس بھی بہت شوق سے پڑھتے تھے ۔
کینسر کے مرض نے 14 نومبر 2019 کو علم و ادب کا یہ چراغ گل کردیا ۔
حامد سراج ملکی سطح کے صف اول کے افسانہ نگار تھے ۔ فنون اور اوراق جیسے بلند پایہ ادبی جرائد میں ان کے متعدد افسانے شائع ہونے ۔۔ افسانوں کے چند مجموعے بھی منظر عام پر آئے ۔ اپنی والدہ محترمہ کی شخصیت کے بارے میں ان کی کتاب “میا” ان کی شاہکار تحریرہے

محمد حامد سراج کی یاد میں
(21.10.1958 .. 13.11.2019)
’’یار! میں نے اس زمین پر شعور کی آنکھ کھلنے پر جو منظر دیکھے اس میں ایک منظر بہت کر بناک تھا اور وہ تھا اپنے حصے کا بوجھ ڈھونا۔ میں نے دیکھا ہے ہر انسان کو اپنے حصے کا بوجھ خود ڈھونا ہوتا ہے۔ اپنی زندگی کا رتھ خود کھینچنا ہوتا ہے، کوئی کسی کے عمر بھر کام نہیں نبھا سکتا، انسان قلاش ہوتو کوئی صاحب ثروت دوست، رشتہ دار، دو چار بار تو مدد کر دےگا لیکن یہ جو روز کا چولہا ہے نا۔۔۔ یہ خود جلانا پڑتا ہے۔ ساری عمر کے لیے چولہے کا ایندھن کوئی فراہم نہیں کرتا۔ سبزی، گوشت، پیاز، دوائی، جوتی، کپڑا، دوا دارو، خوشی غمی کے اخراجات سب آدمی کوخود نبھانا ہوتے ہیں۔ انہیں کوئی خوشی سے نبھائے یا بوجھ سمجھ کر گھسیٹے، گھسیٹناخودہی کو ہوگا۔‘‘( اقتباس ۔ مکینک کہاں گیا۔ افسانہ محمد حامد سراج۔ )
سید خیال مہدی
محمد حامد سراج صاحب –خانقہ سراجیا کندیاں –ضلع میانوالی
کیا شخصیت تھی ، میانوالی میں ان کے قد کا افسانہ لکھنے والا شاید ہی کوٸی ہو، علمی شخصیت تھے اور شفیق و ملنسار تھے،
ان کی شخصیت پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے مگر ابھی یہی رنج بہت ھے کہ ان کے صرف ایک ہی ملاقات ہو سکی ، ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا تھا مگر افسوس یہ بھی ہے کہ انکے ساتھ رہنے والے بھی جملوں کا استعمال بھی نہیں سیکھ سکے۔۔۔۔
اللہ انکے درجات بلند فرماۓ،
مجھے چلے جانے والے لوگوں میں پروفیسر ریاض خان آف تری خیل اور سر محمد سراج کا دکھ ہمیشہ رہتا ھے جو کبھی بھی اداس کر دیتا ہے۔
آج میانوالی کی ادبی فضا پھر سے سوگوار ہے ، نوجوانوں کے لیے شاید ہی کوٸی مثال ہو ان جیسی،
سورہ فاتحہ ان کے لیے۔۔۔۔
اور ہمارے ایسے لوگوں کے لیے بھی جو کچھ سیکھے بغیر جیتے ہیں اور بڑے نام سے جیتے ہیں۔۔۔سید خیال مہدی
محمد حامد سراج کےلئے /نجمہ منصور
آج جناب محمد حامد سراج کی برسی ہے
یہ نظم میں نے جناب محمد حامد سراج کی زندگی میں
لکھی تھی اور انہیں سنائی بھی تھی آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں کہ انہیں دنوں وہ ہم سے جدا ہوئے تھے ان کی یاد میں آج یہ نظم آپ کی نذر کرتی ہوں۔
محمد حامد سراج
تم درگاہ سراجیہ کے لنگر خانے کے متولی ہو
جہاں دال روٹی کی بجائے
توشہ علم تقسیم ہوتا ہے
اور تم
تم اس کی سب سے اونچی مسند پر بیٹھے ہو
حامد سراج!
تم ایسے’نقش گر” ہو
جو روح کی ویرانی میں
لفظوں کی موم بتیاں جلا کر
نور کے ہالے تخلیق کرتا ہے
جس کی نرمل روشنی میں تم
وقت کی فصیل کے آر پار
دیکھ سکتے ہو
لیکن جب لفظوں کی ‘بخیہ گری”
کرتے ہوئے
تمہارے اندر ٹوٹ پھوٹ
ایک ایسی ‘ آشوب گاہ’ کا
منظر نامہ بن جاتی ہے
جہاں کتابیں دیمک کھاتی ہیں اور
دیمک انسانوں کو
تو تم
‘اپنی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر لیتے ہو’
تم بھی عجیب نقش گر ہو
حامد سراج
تمھیں یاد ہے
ایک سلونی شام
یادوں کی موسلا دھار بارش میں
جب لفظ
دکھ کا کالا چولا پہنے
تمہاری روح کے سونے سائبان میں اترے تو
بقول تمہارے
‘زندگی ایک اندھی ڈل میں بدل گئی”
لیکن اس اندھی ڈل کو تم نے
لفظ’میا” لکھ کر روشن کر دیا
جس میں ماں کا دودھیا چہرہ
کسی مقدس صحیفے کی صورت
تمہارے آنگن میں لگے
بوڑھے شیشم کی اوٹ سے
ہمہ وقت جھانکتا ہے
جب بھی اس شیشم سے
کوئی پتہ ٹوٹ کر گرتا ہے
تو تمھیں لگتا ہے
تمہاری پیشانی پر
کسی نے بھیگا ہوا بوسہ
ثبت کیا ہے
اس گھڑی تمہارے اندر کا سنانا
بولنے لگتا ہے
یادیں تمہارے دل کے
خالی کمرے سے نکل کر
تمہارے مٹیالے دلان میں
آن بیٹھتی ہیں
وہی مانوس سوندھی خوشبو
جسے اوڑھ کر
تم آنکھیں موند لیتے ہو
تمھیں دلاسے دیتی ہے
شاید اسی لئے
‘تمھاری آنکھ کی منڈیر پر
آنسوؤں کا ایک بھی پرندہ
نہیں آتا”
بس ایک لمس ہے
جو تمھیں زبانی یاد ہے
سنو حامد سراج
تم یادوں کے جس
براعظم پر بھی اترے
یہ لمس
بغیر قدموں کی آہٹ کے
تمہارے ساتھ ہے اور تم
درد سے نظر بچا کر
اس کی قدم بوسی بھی کر سکتے ہو لیکن اسے چھو کر واپس لوٹ آنا
تم جو کہانی کار بھی ہو
اچھی طرح جانتے ہو کہ
کینسر زدہ یادوں کے ساتھ
بہت دور نکل جائیں تو
واپسی کے رستے
بھول بھلیاں بن جاتے ہیں
جہاں زندگی موت سے
معانقہ کرنے کےلئے
ما بعد موت کا نیا جدول
بناتی ہے
اور تم حامد سراج
جو ہمیں ہر روز
اپنی ذات کے غار حرا سے
صبح بخیر،دوپہر بخیر
شام بخیر اور رات بخیر کے
پیغام بھیجتے ہو
آؤ، خانقاہ سراجیہ کی
اس اونچی مسند پر بیٹھو
ثمر بار دعاؤں کی نئی فصل کاشت کرو
اپنے ہاتھوں سے
ایک نیا کتبہ بناؤ
اور پھر
میرے اچھے بخیہ گر
اس پر لکھو
زندگی بخیر،آگہی بخیر،
روشنی بخیر!!!

پہلے ہونے کی جنگ لڑتا رہا
اور پھر ہار مان لی میں نے
لوٹ آنے کی بات بعد کی تھی
اس کو آواز ہی نہ دی میں نے !
کبھی کبھار ایسے لگتا عمر کا ایک کثیر سرمایہ ادب کی محبت میں ضایع کیا ہے ۔ علامہ ابوالمعانی عصری کی بیٹھک ، مثنوی کا بیان ، کبھی سید عبداللہ پہ بحث کبھی وحید قریشی پہ گفت گو ۔۔ پروفیسر انوار العزیز شاہ صاحب کی رنگیں مزاجی ، جناب فیروز بخاری کی جارحانہ تنقید ، سید طاہر عباس بخاری کا دبنگ انداز ۔۔۔
کبھی کبھار حضرت حامد سراج تشریف لاتے تو ساتھ مظہر نیازی اور ملک ناصر (الصفہ کالج والے ) بھی ہاتھ باندھے بڑوں کو سنتے ۔۔۔ محظوظ ہوتے ۔۔۔
سکول میں نعمت اللہ شاہ ہاشمی صاحب ۔۔۔
مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے کیسی ہولناک شب تھی جب عصری صاحب کی تدفین تھی ۔۔۔
محمد محمود احمد بھی کیسے ہرے بھرے رخصت ہوئے ۔۔
اعجاز تشنہ ۔۔۔ منشی منظور ۔۔ فاروق روکھڑی ۔۔۔ سید نصیر شاہ ۔۔ کیسے کیسے لوگ مٹی کا رزق بن گئے !
آج یچھے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو عقیدت اور احترام کی لو پھڑپھڑاتی ہے
لیکن ۔۔۔ اب کے جو ہمیں غلط نظر آتے ہیں وہی معاشرے کی آنکھ میں درست ہیں
ہم نے جو سیکھا وہ کہاں گیا
جنھیں سکھانا تھا وہ عروض ڈاٹ کام پہ نکل گئے۔۔۔
گویا ہم علم کا اضافی بوجھ سینے کی لائیبریری میں اٹھائے پھرتے ہیں!
ہمارے گزر جانے پہ پوسٹیں تو بہت لگیں گی
ہماری بیٹیوں کے سر پہ ہاتھ رکھنے کتنے لوگ آئیں گے ؟؟؟
اتنے سارے سٹوڈنٹ ۔۔ معلوم نہیں یاد رکھ پائیں گے کہ نہیں !
ایم فل کر لیا
پی ایچ ڈی بھی کر لوں توکیا ملے گا ؟؟؟
ریاض العلوم ، کتابِ میر داد ، بحرالفصاحت ، دیوانِ حافظ ۔۔۔ سب کتب دے کر بھی ۔۔۔ کیا وہ تھپکی خریدی جا سکتی جو بے ریا ہو؟
کچھ قدم ساتھ چلتے ہوئے اس یقین سے مل سکتے کہ ان میں خلوص ہے ؟
بخار سے دھڑکتی گردن کی نسیں اور تپتی سانسیں ۔۔۔ لیکن تیس سیکنڈ کے اسٹیٹس دیکھنے والی جنریشن آخری لائنز تک یہ تحریر پڑھ سکے گی ، معلوم نہیں !
بس، ہمیشہ نہیں ۔۔۔
کبھی کبھار لگتا ہے کہ عمر کا ایک کثیر سرمایہ ادب کی محبت میں ضایع کیا !
خوبصورت انسان اور عمدہ کہانی کار محمّد حامد سراج گزر گئے ۔۔۔رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔اٹھارہ برس کی محبّت ۔۔۔بیس برس کی شنا سائ ۔۔۔انکا احباب اور بیگم صاحبہ کے ساتھ کبھی لیه اور کبھی اوکاڑہ تشریف لانا ۔۔۔۔اور یاسمین اور میرا خانقاہ سراجیہ انکے گھر حاضری دینا ۔۔۔۔۔پیار ہی پیار ۔۔۔۔۔مجھے پیار اور اپنایت سے عزت مآب اور اللہ کے بندے اور کبھی درویش کہ کر پکارنا ۔۔۔۔۔یاسمین اور میرے جھگڑے میں مجھے ڈانٹنا اور سمجھانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتابوں کے تبادلے ۔۔۔خطوں کے تبادلے ۔۔۔۔۔یاسمین اور مجھے اور دیگر دوستوں سے کہنا ۔۔۔۔کش ہم پی ٹی سی ایل میں ملازم ہوتے تو ڈھیروں باتیں کرتے ۔۔۔۔۔یاسمین کو بہن اور بیٹی ہونے کے ناتے زیادہ اہمیت دینا اور میرا ان سے جھگڑا کرنا ۔۔۔۔۔۔۔سب احباب کی دل کھول کر تعریف کرنا ۔۔۔۔۔ایک ایسا انسان جس نے عمر کے آخری بارہ چودہ سال بیماریوں سے لڑتے لڑتے گزارے ہوں ۔۔۔۔گزارے نہیں بلکہ ہمت اور جواں مردی سے ایک ایک لمحہ جیا ہو ۔۔۔۔اجلے اور زندہ لفظ لکھے ہوں ۔۔۔موت اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔۔۔۔۔۔میں بھابی جان کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں جنھوں نے اپنا ہر لمحہ حامد بھائی کے لئے جیا ۔۔۔۔پیارے بیٹوں اور پیاری بیٹیوں کے لئے دلی دعائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔14نومبر کو انکے جنازے میں ہر آنکھ اشکبار تھی ۔۔۔۔مظھر نیازی ۔۔۔عجب خان ۔۔۔ضیاء قریشی ۔۔۔ظہیر ۔۔۔اور میں ایک دوسرے کے گلے لگ لگ کر رو رہے تھے اور ایک دوسرے کو چپ کرانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے ۔۔۔۔۔حامد بھائی ۔۔۔اپکا آخری دیدار میں نے کس دل سے کیا ۔۔۔نہیں معلوم ۔۔۔۔۔آپ کے یاران چمن ۔۔۔۔۔حمید قیصر ۔۔۔حمید شاہد ۔۔۔غفور شاہ قاسم ۔۔۔مظہر نیازی ۔۔۔ضیاء ۔۔۔زھیر ۔۔۔۔سائرہ غلام نبی ۔۔۔عجب خان ۔۔۔۔طاہر شیرازی ۔۔۔سعید اختر سیال ۔۔۔یاسمین ۔۔۔۔شہاب صفدر ۔احمد اعجاز ۔۔منیر احمد فردوس اور میں اور دیگر سینکڑوں یاران چمن ۔۔۔۔بیحد دکھی اور اداس ہیں ۔۔۔۔۔۔اللہ آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرماۓ آمین
سرحدو ہٹ جاؤ، مجھے حامد سراج سے ملنا ہے
— مشرف عالم ذوقی
غیر آں زنجیرزلف دلبرم
گر دو صدزنجیر آری بردرم (رومی)
اگر دوسو زنجیریں بھی میرے پاؤں میں ڈال دو تو میں سب کو توڑ کر رکھ دوں گا۔
عشق کی زنجیر کے سوا کوئی زنجیر مجھے باندھ نہیں سکتی….
تم عشق کے بحر بیکراں تھے حامد سراج۔ تم نے قسم توڑدی اور تم مجھ سے پہلے چلے گئے۔ تم سراپا عشق تھے اور میں ایک پیاسا کہ تمہارے نورانی چہرے میں سرحدوں کی زنجیروں کو ٹوٹتے ہوٗے دیکھا کرتا تھا اورسوچتا تھا کہ تم اس صدی میں کیسے پیداہوگئے کہ میٹھے پانیوں کی آمد بند ہوگئی۔ ریگستانی گھوڑے روپوش ہوئے۔ صوفیوں کی آمد کا سلسلہ رک گیا۔ معجزوں کا سلسلہ ٹھہر گیا ۔ محبت کی بارشیں تھم گئیں۔ تم آئے اور تم نے لہروں کو جاگنے کا حکم دیا… تم خوشبودار درختوں اورشیریں چشمے سے محبت کو ڈھونڈ کر لے آئے۔ تم نے یا ران چمن کے لئے محفل سجائی اور موسم خزاں کو معجزے سے موسم بہارمیں تبدیل کردیا۔ تم اس دورمیں انسان کی عظمت کی مثال بن گئے جب تاریخ کے پتھریلے جسم سے لہو بہہ رہا تھا اور سرحدوں پر آگ روشن تھی۔ تم نے حضرت ایوب کی طرح اذیت کی پرورش کی اورصبر کو مہرباں ساعتوں کا کلمہ بنالیا۔ تم جا رہے تھے مگرتمھارے ہونٹوں پرحرف شکایت نہ تھی کہ ہزاروں لاکھوں شمعوں کو روشن کرنے کےبعد تم اس مقام پر تھے جہاں فرشتہ محبت کی کتاب میں سر فہرست تمہارانام لکھ رہے تھے… تم کیسے جا سکتے ہو حامد سراج……
آج وہ تمام منظرزندہ ہیں اور ایک بانسری ہے جہاں سے درد کے نغمات ابھرتے ہیں۔ایک سمندر ہے جوخاموش ہے۔ ایک آہ ہے، جو فلک سے رحم لانے نہیں، تمھیں دیکھنے کی آرزو کرتی ہے اور بادلوں کوراستہ دینے کے لیے کہتی ہے۔ ۸۲۔۱۹۸۰، ہم کب ملے، کیوں یاد کروں….کیوںتصورکروں کہ تم نہیں ہو۔ پاکستان کے رسائل میں شائع ہونا شروع کیا تو سب سے پہلے تم ملے۔تم ملے اور دوست بن گئے۔ ایک ماہانہ رسالہ تھا۔ اب نام یاد نہیں۔ میں مکتوب تمھارے نام لکھتا تھا اورتم میرے نام۔ پھرہماری گفتگوفون پرہونے لگی۔ ہر ملاقات میں تم کہا کرتے، ذوقی بھائی، چائے پی رہا ہوں۔ آپ کے لیے بھی منگواتا ہوں۔ ابھی دونوں بھائی مل کر گفتگو کرتے ہیں۔ حامد سراج، تم نے عشق میں محبت کا چراغ رکھ دیا اور سرحدوں کی زنجیریں اسی وقت توڑدیں جب ہم پہلی بار فون پر باتیں کرتے ہوئے اس طرح ملے جیسے کوئی اپنا بھی اپنوں سے نہیں ملتا۔ پھر سال گزرتے گئے۔ تم مجھ میں سماتے چلے گئے۔ اگر میں شرح عشق بیان کروں توخدشہ ہے کہ ایک قیامت آجائے گی۔ کیا تمہاری طرح کوئی اوربھی محبوب تھا۔ یاران چمن کی رونقیں وہی ہیں اورمیں سرحدوں کی زنجیروں کو وقت کی رومانی قندیل سے الگ کررہا ہوں، تم تہجد کی نمازمیں تھے اور تاریک فضا میں ایک دنیا کے لیے محبت کا صحیفہ لکھنے آئے تھے…
حامد پیارے .. تمہاری تمام کتابیں میرے پاس ہیں .. ابھی بہت کچھ لکھنا ہے مجھے .. مجھے خیال ہے ، تم میا لکھنے کے دوران اداس تھے . تم اس سو سال کی اداسی کے درمیان تھے ، جس کا حساب مارخیز نے بھی نہیں لگایا تھا . میا کی قرات کے دوران پتہ نہیں ، کیسی بے قراری میرے وجود پر مسلط تھی اور مجھے کیا خبر تھی کہ بس کچھ برسوں بعد ہی یہ بے قراری خزاں موسم میں تبدیل ہو جائے گی .
میا … یاد ہے ، میں نے کیا لکھا تھا پیارے حامد سراج . ابھی یادوں کا وہ صفحہ کھولتا ہوں جن کے بارے میں یقین ہے کہ یہ صفحے کبھی بوسیدہ نہیں ہونگے ..نہ تمہاری یاد کی خوشبو سے خالی ہوں گے ….
………..
آنکیں کھلتے ہی، آنکھوں میں بسنے والا سب سے پہلا ”روپ متی“ چہرہ اِسی میّا کا ہوتا ہے۔ لیکن ماں کا دکھ کس نے دیکھا ہے۔ ماں کا سکھ کس نے جانا ہے____ شری کرشن کی بنسریا چپکے چپکے، ایک سفید جھوٹ کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے____
’میاّ موہے، میں نہیں ماکھن کھایو….‘
لیکن میاّ تو صاف دیکھ رہی ہے۔ بال شری کرشن کے ہونٹوں پر مکھن لگا ہے…. اور شری کرشن اپنی میاّ سے صفائی پر صفائی دیے جارہے ہیں۔ ’میں تو گائے چرانے مدھوبن میں گیا ہوا تھا۔ دوستوں سے پوچھو___ سانجھ ڈھلے واپس آیا__میاّ موہے، میں نہیں ماکھن کھایو….
محبوب نے اپنے عشق سے دریافت کیا____ بولو، تمہیں کیا چاہئے۔؟
عشق نے امتحان لیا____ ماں کا دل لے آﺅ
رات آدھی سے زیادہ گزر گئی۔ آسمان پر ستارے واپسی کے آدھے راستے طے کرچکے ہیں____ محبوب کے ہاتھوں میں خنجر چمکتا ہے____ ماں بستر پر غنودگی کے عالم میں سوئی پڑی ہے____ محبوب کا خنجر، ماں کے سینے کے آر پار اُتر جاتا ہے۔ ہاتھوں میں ماں کا دل ہے…. وہ ’دلِ بیتاب‘ سے ملنے کی آرزو لئے آگے بڑھتا ہے____ ٹھوکر لگتی ہے____ ماں کے دل سے آواز آتی ہے____ بیٹا، تمہیں چوٹ تو نہیں لگی____‘
پیار تو دونوں کرتے ہیں۔ باپ بھی اور ماں بھی____ لیکن ’میاّ‘ کی کہانیوں سے صفحے در صفحے آباد ہیں۔ باپ میں ایک ذمہ دار وجود سانس لیتا ہے تو ماں، بچے پرنہال ونہال____ بچہ چاہے جیسا بھی ہو، اچھا بُرا۔ چور ڈاکو یا پھر____ ماں تو ماں ہوتی ہے____ عمر کے ’ڈینے‘ نکلتے ہی، ہوا میں ہولے ہولے اُڑنے تک، بچہ، ماں کی نظر میں بچہ ہی رہتا ہے یعنی کائنات کا ایک ننھا سا کھلونا____ ماں دیکھتی ہے اور آنکھوں میں ایک نہ ختم ہونے والی چمک، ایک کبھی نہ بجھنے والی مسکان پیدا ہو جاتی ہے____
..
میاّ کے مطالعے سے گزرنے کے بعد میں ہفتوں سو نہیں پایا____ وہ رات بے قراری کی رات تھی۔ میں بالکنی پر آگیا۔ دیر تک ٹہلتا رہا۔ ہاتھوں میں سگریٹ مچلتا رہا۔ ایک کے بعد ایک____ سامنے آسمان کھلا تھا۔ ستاروں کی چادر تنی تھی۔ مگر میں کیا دیکھ رہا تھا بہت سے چمکتے، ننھے منے ستاروں میں سے، کسی ایک ستارہ میں، کس کی جھلک دیکھنے کو بیتاب تھا____ اندر کے کسی گوشے میں چپکے سے ایک آواز تھرائی____
ڈیر حامد سراج!
میں تو فکشن لکھتا تھا____
تم نے میاّ لکھ دی____ ماں کبھی فکشن، نہیں ہوتی۔ ماں تو بس ماں ہوتی ہے۔ صدیاں گزرجانے کے بعد بھی____
مومن کا زمانہ ہوتا تو کہتا____ ”میرا سارا دیوان لے جاﺅ۔ مجھے میاّ دے دو۔“
ڈیر حامد سراج، جن کے پاس میاّ ہوتی ہے، وہی جانتے ہیں کہ اُن کے پاس دنیا کی کتنی بڑی طاقت ہے ____وہ کسی سے بھی مقابلے کے لئے تیار ہوسکتے ہیں۔ برسوں پہلے سلیم جاوید نے ایک فلم لکھی تھی ____دیوار ____امیتابھ کی زندگی میں یہ فلم ایک میل کا پتھر ثابت ہوئی۔ اِس فلم میں دو بھائی تھے۔ مفلسی اور ظلم سے لڑتا ہوا ایک بھائی انڈرورلڈ کا سرغنہ بن جاتا ہے۔ دوسرا بھائی ششی کپور ایک پولیس انسپکٹر۔ سرغنہ کے پاس آرام وآسائش کے سب سامان ہوتے ہیں۔ ایک بار وہ اپنی دولت کی چمک، کو بھائی کے سامنے گنواتا ہوا پوچھتا ہے____ میرے پاس بنگلہ ہے، گاڑی ہے، دولت ہے، تمہارے پاس کیا ہے؟
بھائی جواب دیتا ہے____ ”میرے پاس ماں ہے۔“
شاید ماں پر لکھنا سب سے مشکل کام ہے۔ 1983 کے آس پاس کا زمانہ رہا ہوگا جب میری ماں دنیا کی تمام آرام وآسائش کو ٹھکراکر ہمیشہ کے لئے وداع کی گھاٹیوں میں اُتر گئی۔ عرصہ گزر گیا____ برسوں کی تھکن اوڑھنے کے باوجود آج بھی وداع کی گھاٹیوں میں پلٹ کر دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی____ 21-22 برس گزرنے کے بعد بھی، آج بھی یہ عالم ہے کہ پلٹ کر البم سے ماں کی تصویر دیکھی نہیں جاتی۔ ماں چپکے سے، لاشعور کے ایک گوشے میں رکھ دی گئی ہے۔ یہ گوشہ کھولتے ہوئے بھی ڈر سا محسوس ہوتا ہے۔ ماں ہے، مگر نہیں ہے۔ ماں کہیں نہیں ہے۔ احساس اور البم کی تصویروں میں بھی____ کیونکہ وہاں سے ممتا کی جو سڑک شہر خموشاں تک جاتی ہے، وہاں تک تنہائی کے اداس قدموں کے ساتھ چلتے ہوئے بھی ہول آتا ہے____!
لیکن مائی ڈیر حامد سراج، تم نے یہ معرکہ طے کیا ہے۔ گوکہ یہ کہانی ماں سے شروع ہوکر ماں پر ہی ختم ہوجاتی ہے اور کیسی نازک حقیقت کہ اِس کہانی میں جو جدوجہد ہے، کشمکش ہے، وہ سب ماں کے ئے ہے۔ _ شاید یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جہاں ایک بڑی جنگ صرف ماں کے لئے لڑی جارہی ہے____ ماں جو زندگی اور موت کی کشمکش میں بیٹے کے لئے دنیا کی سب سے بڑی جنگ بن گئی ہے____ اور ایسے موقع پر دنیا کے سارے فلسفے سو گئے ہیں اور اگر کوئی فلسفہ باقی ہے تو صرف ___ماں!
”میں نے لوح دل پر تیرا نام لکھا…. تم کو پکارا…. آواز دی
ماں….
اور میری آنکھوں میں سمندر اُتر آئے
قلم کی ناﺅ بے رحم سمندر کی سفاک موجوں کا کہاں تک مقابلہ کرے….؟
یوں لگتا ہے دل کے توے پر لفظ جل گئے ہیں۔
جلے ہوئے لفظوں کی راکھ میں انگلیاں پھیرتے ان گنت قرن گزر گئے۔
آج پھر….
میں دشت تنہائی میں سوچ رہا ہوں کہ ماں کے بعد بھی کیا کہیں کوئی سایہ ہوتا ہے؟‘’
..
” پیارے حامد سراج
تمہیں پت جھڑ کے موسموں میں ہی جانا تھا۔
تمہارے بعد موسم نہیں بدلیں گے
تمہیں لحد میں اُتار کر پلٹے تو زمانے بدل گئے تھے
ہم متروک عہد کے انسان دوبارہ غار کی تلاش میں ہیں۔
ایک ہی موسم ہے پت جھڑ…. کا….
ماں، جو زمین اوڑھ کر سوگئی____ جس کے جاتے ہی موسم پت جھڑ کا ہوگیا____ دھوپ غائب اور آنگن میں خاموشی اُتر آئی____پیارے حامد سراج ، تم نے اردو فکشن کی تاریخ میں ’میاّ‘ لکھ کر ایک ایسا کارنامہ انجام دیا ہے، جو اِس سے قبل کسی بھی قلم کار کے حصے میں نہیں آیا تھا۔ فرانز کفکا اگر باپ کی یادوں کو تحریری شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں تو وہاں گلے شکووں کے ’طوفان‘ کے علاوہ احساس وجذبات کی وہ حکایت خونچکاں نہیں ملتی جو حامد سراج کی تحریر میں پائی جاتی ہے۔ میاّفکشن نہیں ہے۔ ایک ایسی درد بھری سچائی ہے، جس سے گزرنا بھی جگر والوں کا ہی کام ہے۔ میکسم گورکی کی ماں تو مزدوروں کی تھی ____
لیکن تمہاری میّا تو مزدوروں کی بھی اور ہم سب کی میّا ہے____
تم نے تو میّا میں ’صدیاں‘ رکھ دیں____
تم نے میّا کو فکشن کی لازوال بلندیوں پر پہنچادیا____
…..
اب یہ باتیں کس سے کروں .. سانجھ بھیی چودیس ..چل خسرو گھر آپنے ….

جناب حامد سراج کی نذر
میں انا میں قید ہوں اس بات میں بھی شک نہیں
یہ بھی سچ ہے دوستوں نے حال پوچھا تک نہیں
میں مزاجاً اس طرح کا ہوں سو ہوں اب کیا کروں
میرا شیوہ صرف اک آواز ہے دستک نہیں
آپ کو دعوت نہیں دیتا خود آ سکتا نہیں
معذرت یارو یہ میری قبر ہے بیٹھک نہیں
آج اپنی پارسائی کے لیے درکار ہے
ہائے پیشانی پہ سجدوں کی وہی کالک نہیں
دل بہت خستہ ہے اس کے ختم ہونے کے لیے
عشق کا گھن ہی بہت ہے یاد کی دیمک نہیں
شاکر خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسا ڈر اشکوں کی نقل مکانی پر
ہجر کا پہرہ ہے آنکھوں کے پانی پر
اس کو ہنستا دیکھ کے پھول تھے حیرت میں
وہ ہنستی تھی پھولوں کی حیرانی پر
چشمے کے پانی جیسا شفاف ہوں میں
داغ کوئی دِل میں ہے نہ پیشانی پر
گرہ لگا کر چادر ڈالی مصرعے کی
میں نے دوسرے مصرعے کی عریانی پر
والعصرِ اِن الانسان کا وِرد کیا
وار دی شہروں کی رونق ویرانی پر

آج محمد حامد سراج کی برسی ہے۔کیا آدمی تھا رلا گیا۔اس کے ہونے سے بڑی رونقیں تھیں۔اس کے جانے کے بعد میانوالی میں ادبی فضا آج بھی اداس ہے۔اس کی لائبریری آج بھی یاد آتی ہے جب میں اور محمد فیروز شاہ میانوالی سےخانقاہ جاتے تھے اور پورا دن گزارتے تھے۔اس کے ساتھ صرف ادبی ہی نہیں تھا بلکہ روحانی تعلق تھا۔ہم اسے لالا حامد کہ کر پکارتے تھے۔فیروز شاہ کے جانے کے بعد حامد بہت روتا تھا۔اور ہمیں بھی رلا دیتا تھا۔اللہ سے دعا ہے کہ مولا اسے کروٹ کروٹ جنت کی فضائیں نصیب فرمائے آمین



میرا دوست اور میرا ہمنوا پیارا حامد سراج ہمارے درمیان تادیر زندہ رہے گا بلکہ وہ مرا ہی کب تھا؟ اسکی زندہ تحریریں اس کے ہونے کی گواہی بن کر ہمارے آس پاس موجود ہیں۔ خانقاہ سراجیہ ان کے گھر آنگن سے نکل کر “باباجی” کی خوشبو سے آباد مسجد کی جانب چلیں تو دائیں طرف اپنے بزرگوں کے ساتھ محو استراحت حامد سراج کی پیار بھری آواز قدم روک لیتی ہے۔۔۔،
“اوئے لالہ ۔۔ کتھے را گیا ایں۔۔۔ بندے کوں اتنا مصروف وی نئیں ہونڑاں چائیدا جے بندا دوستاں توں وی رہ ونجیں۔۔۔”
حامد سراج زندہ و تابندہ ہے، تب ہی تو قدموں کی چاپ سن کر صدا لگاتا اور پاس بلاتا ہے ۔۔۔ سب یہی سمجھتے ہیں کہ وہ جاچکا ہے، تب میں انہیں ولیم ورڈزورتھ کی شہرہ آفاق نظم “وی آر سیون” سناتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ “ہم چھ نہیں سات ہیں۔۔۔،
ساتواں حامد سراج وہ سامنے لیٹا برزخ پہ افسانہ لکھ رہا ہے ذرا انتظار کرو، ایک دن وہ ہم سب کو حیران کر دے گا۔۔۔!
حامد سراج کا کتب خانہ اداس ہے ۔۔۔!
“میں اداس ہوں کہ حامد سراج نہیں ہے مگر اسکی خوبصورت یادیں، محبت اور وارفتگی کی بو باس لیے، رنگا رنگ کتابوں اور رسائل کی صورت میرے چاروں اور موجودحامد سراج کی موجودگی کا احساس دلا رہی ہیں۔ وہ کتابیں جنہیں حامد سراج سینت سینت کے رکھتا تھا آج اسکے محبت بھرے لمس سے بیگانہ، تنہا اور اداس الماریوں میں ٹھٹھرتی ہیں۔
ابھی ابھی ہونہار اور فرمانبردار بیٹا اسامہ حامد میرے پاس سے اٹھ کر گیا ہے۔ آج اسامہ حامد کے کاروبار اور نجی حوالوں سے ہونے والی مفصل گفتگو نے مجھے بہت اطمینان بخشا ہے۔
مانا کہ نصف شب کے اس پہر اگر حامد سراج ہمارے درمیان ہوتے تو بہت خوش ہوتے مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ ان کی نیک روح اپنے بچوں اسامہ اور قدامہ کی کامیاب عملی زندگی پر بہت خوش ہوگی۔ میں حامد سراج کے افسانوں کی کتاب ہاتھ میں لیے انکی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعاگو ہوں، اللہ پاک انہیں کروٹ کروٹ ابدی سکون عطاء فرمائے آمین ثمہ آمین
آج معروف افسانہ نگار اور ہمارے پیارے دوست محمد حامد سراج کی تیسری برسی ہے۔۔۔۔
مجھے آج بھی یاد ہے محمد حامد سراج “سیڑھیوں والا پل” کتنے والہانہ پن سے مجھے ڈھونڈتے ہوئے اسلام آباد آن پہنچا تھا۔ وہ اگرچہ ہماری پہلی ملاقات تھی مگر تھوڑی دیر بعد یوں لگتا تھا ہم ایک دوسرے کو جنم جنم سے جانتے ہیں۔ پھر ہمارا ایک دوسرے کی طرف آنا جانا شروع ہوگیا۔ ان سارا تخلیقی سفر میرے سامنے ہے۔ وہ بہت ذودنویس تھے اور کمال کے خوش نویس تھے۔ میری ان سے متواتر خط وکتابت رہی اور انکے خطوط ہی واحد دستاویز رہ گئے ہیں جو شائع نہیں ہوسکے۔ ایک دو بار میں نے انہیں یہ آئیڈیا پیش کیا کہ کیوں نہ ہوں اپنے منتخب خطوط کتابی صورت میں شائع کروائیں مگر وہ ٹال جاتے۔ انکی رحلت کے بعد جب جب میرا انکے گھر جانا ہوا، میں انکے خطوط کے جواب میں بھیجے اپنے خطوط تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر نہیں ملے۔ انہوں نے آخری دنوں میں اپنی خودنوشت بھی لکھنا شروع کی تھی مگر کئی اور منصوبوں کی تکمیل میں، خودنوشت ادھوری رہ گئی۔ آج تین سال گزرنے کے بعد میں سوچتا ہوں کہ انہیں ہر کام میں جلدی تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ انکے پاس وقت بہت کم ہے۔۔۔۔اللہ پاک میرے دوست جناب محمد حامد سراج کے درجات بلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین
Mianwalian – December 4, 2025
محمد حامد سراج مٹی، روشنی، خاموشی اور فنا نہ ہونے والے لفظوں کا شہزادہ کچھ لوگ اس دنیا میں...
Read More
Mianwalian – December 6, 2025
محمد حامد سراج کے متعلق یہ آراء محض تاثرات نہیں بلکہ ایک عہد کے ادبی شعور کی گواہیاں ہیں۔ اُن...
Read More
Mianwalian – December 7, 2025
محمد حامد سراجؔ کی ادبی نثر (مقالہ ایم فل) عزیر قارئین! یہ مقالہ علی احمدؔ (ایف سی کالج (یونیورسٹی) لاہور) کی تحقیق...
Read More
Mianwalian – December 14, 2025
باب دوم محمد حامد سرا ج کے افسانوں کا فکر ی و فنی جائزہ محمد حامد سراج کے افسانوں کاموضوعاتی...
Read More
Mianwalian – December 20, 2025
محمد حامد سراج — تصویروں میں ایک پوری زندگی تصویری گیلری کا تعارفی پیراگراف یہ تصویری گیلری محمد حامد سراج...
Read More
Mianwalian – January 1, 2026
باب سوم محمد حامد سراج بطور ناول نگار: فکری و فنی جائزہ ناول کی تعریف محمد حامد سراج کے...
Read More
Mianwalian – January 6, 2026
باب چہارم محمد حامد سراج بطور خاکہ نگار: فکری و فنی جائزہ ’’میّا‘‘کا تجزئیاتی مطالعہ عورت اپنی اصل میں نہایت...
Read More