آتش زیر پا ! تحریر- حریر- ادیب و شاعر پروفیسر رئیّس احمد عرشی
مجھے اپنے دوسرے شعری مجموعے “ساکت لمحے” کی اشاعت کا خیال دامن گیر ہوا تو کسی ایسے پبلشر کی تلاش کا مرحلہ درپیش ہوا جو نسبتاً کم معیاری کتاب شائع کرنے کی شہرت کا حامل ہوا۔ تو کسی نے مجھے “صدق رنگ پبلشر ملتان” کے منصرِم و منتظم سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ مشورہ صائب تھا جو مجھے راحت امیر کے آستانے پر لے گیا۔ چہرہ انسان کے باطن کا انڈیکس ہوتا ہے تو گفتار انسان کے کردار کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ گو یہ ملاقات جز وقتی تھی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ موصوف نے مجھے اپنی شخصیت کا گرویدہ بنالیا۔ دوچار روابط پہلے قرب اور پھر دوستی کی شکل اختیار کر گئے۔ بہت جلد دوستی وارفتگی کا روپ دھار گئی۔
راحت امیر نیازی اپنے نام کے برخلاف امیر ہے نہ راحت نصیب۔ وہ ایک تنگ دست گھرانے کا چشم و چراغ ہے۔ میانوالی سے دور افتادہ تری خیل نام کا ایک گاؤں اس کی جنم بھومی ہے۔ تری خیل مسائل آباد اور وسائل ناشاد خطہءِ ارض ہے۔ یہاں کی ٹیلنٹڈ افرادی قوت کا رجحان وسائل آباد شہری مراکز کی طرف منتقلی کر رہا ہے۔ کہ یہی اصول مروج ہے اعلیٰ تعلیم اداروں سے محروم علاقہ جات کا۔ تنگدستی کے لاحق حالات نے راحت امیر کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے دی نہ تربیت۔ اس لیے جہاں سنگ و تاز میں وہ اڑان نہ بھر سکے جس کا تقاضا ان کی طبیعت کرتی تھی۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے انسان کو احسن التقویم قرار دے کر اس کی عظمت و وسطوت کا اعلان کیا ہے۔ اور اسے لاتعداد نعمتیں اور بے شمار صلاحیتیں دے کر اشرف المخلوقات کے لقب سے ملقب کیا ہے۔ چنانچہ وہ کسی بھی علاقے سے متعلق ہو اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں کے بر محل استعمال کے طفیل معاشرے میں نمایاں مقام پا سکتا ہے۔
راحت امیر نیازی “اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے جذبے کا اسیر اور
“زندہ ہے تو اوروں کے لیے کام کیے جا”
کے پیغام کا شاعر ہے وہ سیماب پا طبیعت کا مالک ہے۔ اس لیے نامساعد حالات اس کی تگ و تاز میں رکاوٹ بنتے ہیں نہ تنگ دستی اس کے حوصلے میں رخنہ انداز ہوتی ہے۔ اس نے لڑکپن ہی میں فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ شب و روز محنت سے خانگی حالات میں انقلاب لا کر رہے گا، چنانچہ واجبی تعلیم کے ساتھ اس نے خود کو فوج کے حصار میں جھونک دیا۔ مگر جلد فوج سے اخراج کی ٹھان لی۔ وہاں سے رخصت ہوتے ہی زندگی کے آگے ہتھیار ڈالنے کی بجائے اپنے قدموں پر خود کھڑے ہونے کا پھر سے فیصلہ کر لیا رب العزت نے اسے (سخت کوشی اور جانفشانی) ایسی بافراط صلاحیتوں سے نوازا ہے چنانچہ اس نے جنم بھومی کی سکونت ترک کر کے سرزمینِ ملتان کو حصولِ رزق کا مرکز بنالیا۔ آتے ہی اپارہ صفت پیار کے طور پر اپنے تعارف کا سکہ بٹھایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چہار سو اس کی معیاری اور نسبتاً کم طباعت و اشاعت کا ڈنکا بجنے لگا۔ نچلا بیٹھنا تو اس کے مزاج کے منافی تھا۔ اس لیے خود کو پبلیکیشنز تک محدود رکھنا ممکن نہ ہوا۔ اللہ تبارک تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں پھیلانا شروع کر دیے یوں ان کا راہوارِ قلم اپنے ادارے “صدق رنگ پبلی کیشنز” کی حدود پار کرتے ہوئے دیگر رسائل و جرائد میں بھی چوکڑیاں بھرنے لگا بالخصوص ماہنامہ “سلام عرض لاہور”، ماہنامہ “امید نو لاہور”، ماہنامہ “تعمیر ادب” لیہ، ماہنامہ “قلم قبیلہ” لیہ کی ادارت اس کے حصے میں آئی۔ سادہ اور سلیس طرزِ نگارشیں اور فوری توجہ کے طالب معاشرتی مسائل کا ذکر ان کی نثر کا خاصہ ہے۔ رنگینی عبارت اور گنجلک مسائل سے اجتناب اس کا نصب العین ہے۔
راحت نے خود کو نثر تک محدود نہیں رکھا۔ شعری راج دھانی میں بھی بھرپور کردار نبھایا ۔ شاعری وہی عطیہ ہے کہ اکتسابی چیز نہیں۔ حقیقی شاعر قلمبند پر اہمان ہوتا ہے یہ اکتساب و ریاض کے بس کی بات نہیں اس کے باوجود راحت امیر کی شاعری نہ صرف قابلِ قدر ہے بلکہ معنوی اعتبار سے قابلِ تقلید درجہ رکھتی ہے۔ شعر کا مجموعی تاثر ہی اصل متاع ہے۔ خوبصورت عمارت کی قدر و منزلت اس کا مجموعی ڈھانچہ ہے اس کی اکائیاں (اینٹیں) کوئی نہیں دیکھتا۔ اگر ایک ایک اینٹ کا جائزہ لینا شروع کیا جائے تو کئی اینٹوں کی جسامت نظر کو شاید نہ بھائے لیکن مجموعی عمارت کی خوبصورتی بدزیب اینٹوں کے وجود کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ شعر کا مجموعی پیکر قاری کا دل موہ لیتا ہے۔ شعر میں کسی ایک آدھ لفظ کے کسی ایک حرف کے تحرک یا سکتے کی کمی بیشی بنیادی اہمیت کی حامل شمار نہیں ہوتی وہ شعر کے فنی لوازمات سے پوری آگاہی رکھتا ہے۔ وہ اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے بالعموم چھوٹی بحور کا انتخاب کرتا ہے۔ نثر کی طرح اس کا شعر بھی سادگی اور سلاست کا نمائندہ ہوتا ہے اور سہلِ ممتنع کا مظہر ہوتا ہے اس کے مصرعوں کی بُنت نثری جملوں سے قریب تر ہوتی ہے۔
محبت کرنے والوں کو نہ روکو
محبت دوستو حکمِ خدا ہے
وہاں پُر امن کی راحت! حکومت کس طرح ہوگی
جہاں عادل بکاؤ ہیں جہاں تعزیر بکتی ہے
بعض شعر لفظی تکرار سے شعر کے حسن اور تاثیر کو دوچند کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ راحت امیر کو اس ضمن میں ید طوبی حاصل ہے۔
یارب بگڑی بات بنا دے
بگڑی ہے اب قوم کی حالت
پھل اٹھاتی ہے قوم ویسا ہی
قوم جیسا کہ بیج بوتی تھی
میں راحت ہوں مگر میں نے کبھی دیکھی نہیں راحت
جگاتیں ہیں مجھے شب بھر یہ روزانہ تری آنکھیں
ایک خوبی جو راحت امیر کے یہاں عام ملتی ہے وہ یہ کہ شاعر ایک مصرع میں تجسس کی فضا پیدا کرتا ہے۔ جو قاری کو چوکنا کر دیتی ہے کہ نہ جانے آگے کیا ہونے والا ہے۔ جب کم مصرع جواز فراہم کر کے قاری کو مطمئن کر دیتا ہے۔
کہیں ڈوب جائے نہ دھرتی لہو میں
لہو کا جو سیلاب سا آرہا ہے
آج تک محفوظ ہیں سب عورتوں کی چادریں
یہ بھی اک احسان ہے شبیرؓ کی ہمشیر کا
راحت امیر کے اظہار کا ایک پہلو جو کم از کم مجھے بہت پسند ہے وہ اس کا استفساریہ انداز ہے۔ پہلے مصرع میں ایک سوال اچھال دیا جاتا ہے دوسرے میں جواب حوالہءِ قارئین کر دیا جاتا ہے یا پہلے مصرع میں کوئی مفروضہ بیان کر دیا جاتا ہے دوسرے میں اس کا حل پیش کر دیا جاتا ہے۔ جو قاری کو بہت محفوظ کرتا ہے۔
اس کو ذلت کا نشاں ہے کیوں بنایا جارہا!
دیس کو جس نے کیا ناقابلِ تسخیر ہے
اس کے سپنوں کو جلایا جا رہا ہے آج کیوں؟
جس نے پوری قوم کے خوابوں کو دی تعبیر ہے
کبھی سوچا ہے کیوں تیری خدا تعالیٰ نہیں سنتا
بہرحال نہیں ہوتی عطا کی بات مت کرنا
راحت امیر کے یہاں ایک اور وصف جو شعر کی دلکشی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے متضاد معانی کے حامل الفاظ کی اشعار میں خوبصورت بندش ہے
بہاروں نے خزاں کو ڈس لیا ہے
اجالوں کو اندھیرا کھا گیا ہے
رات کو دن میں چھپاتا ہے وہی
دن چھپاتا وہی تو رات میں ہے
اگر ہو سکے تو وفا کیجئے
نہ ہر گز کسی سے جفا کیجئے
راحت امیر نیازی منظر نگاری میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ وہ اپنے ذہن میں محفوظ نقش کی منظر کشی اس قدر جان دار کرتے ہیں کہ قاری اسے آنکھوں دیکھا منظر سمجھنے لگتا ہے۔
اس کی تصویر ہے مرے دل میں
پھول جیسے کہ ہوں رسالوں میں
ہیں کفِ پا پر کسی کے آبلے
جا رہا لیکن کوئی محمل میں ہے
وہ اس کا دیکھنا مجھ کو پسِ چلمن محبت سے
بھلاؤں کس طرح یارو کہ سب منظر نظر میں ہے
وقت پرانا بیت گیا ہے احساس ہے اس کا مجھے
بام پہ آکر اس نے بھی تو بال سکھانا چھوڑ دیا
راحت امیر نیازی کا کلام جملہ فنی لوازمات سے مزین ہونے کے ساتھ ساتھ معنوی اعتبار سے بھی نہایت دقیق ہے۔ معاشرے کے جملہ قبیح پہلوؤں پر ان کی نشتر زنی قابلِ داد حیثیت کی حامل ہے۔ بالخصوص مقتدر طبقے پر ان کی طنزِ بلا خوف تردید جرأتِ رندانہ کی مظہر ہے۔ اور تحسین کا درجہ رکھتی ہے۔
لوٹ کر قومی خزانہ کھا رہے ہیں رہنما
رہنمائی کیا کریں گے رہزنوں کے پاسباں
دے چکے ہیں ڈور اب تو ہاتھ میں اغیار کے
رہبرانِ قوم بن کے رہ گئے ہیں پتلیاں
ہمارے یہاں پختہ کار شعراء بالعموم ضائع و بدائع کی بھر مار کے بوجھ تلے شعر کے حسن کو مسخ کر دیتے ہیں۔ تاہم راحت امیر نیازی برجستہ، سہل اور عام فہم اسلوبِ سخن اپنا ہے۔ کہیں کہیں تشبیہ، استعارہ اور محاورہ اس کی شعری بُنت میں وارد ہوا ہے مگر اس خوبی کے ساتھ کے شعر کی سلامت اور فہم میں کوئی رخنہ نہیں پڑا۔
سانپ کی فطرت کبھی راحت بدل نہیں سکتی
پھر بھی تم نے ہاتھ اپنا اس کے سر پہ رکھ دیا
کبھی تو سُنو تم بھی لفظوں کے نوحے
لہو رو رہا ہے قلم آ بھی جاؤ
کلاسیکل ادب کے روایتی مضامین سے مفر تو ممکن نہیں۔ تاہم راحت امیر کے یہاں ندرت، جدیدیت اور اچھوتے پن کی مثالیں با افراط ہر صفحے پر براجمان ملتی ہیں۔
جن کو سورج مری چوکھٹ سے ملا کرتا تھا
اب وہ خیرات میں دیتے ہیں اجالے مجھ کو
کسی پر تو ہوا ہے ظلم ورنہ
شہر میں کیوں بغاوت ہو گئی ہے
بجلیاں تو ڈھونڈتی پھرتی ہیں کچے گھر مگر
ہم نے خود ہی، بجلیوں کے سامنے گھر رکھ دیا
راحت امیر نیازی نے خود کو اردو شاعری تک محدود نہیں رکھا۔ اپنی ماں بولی سرائیکی میں منظوم کلام کا ایک معتبر سرمایہءِ ادب کیا ہے۔ اس کے بہت سے گیت معروف گلوکاروں کی البموں کی زینت بنے۔
راحت امیر نیازی کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ وہ راحت کے لمحے کا متلاشی کبھی نہیں رہا۔ ہمہ وقت کام، کام اور کام اس کا مطمح نظر ہے۔ وہ آتش زیر پا فن کا رہے۔ ذات سے زیادہ دوست احباب کا خیال رکھنے والا اس نے لاتعداد نو آموز شاعروں اور ادیبوں کو شناخت دی۔ وہ دو سال تک ٹی وی چینل سے وابستہ رہا۔ یہاں اس نے میانوالی کے درجنوں شعراء کو متعارف کرایا۔ وہ ایسا شخص ہے جو خدمتِ انسان کو زادِ راہ کا درجہ دیتا ہے۔ وہ اپنے ایثار کا صلہ مانگتا ہے نہ اپنی مدح سرائی کا طالب ہے۔ ایسے افراد کا ہمارے یہاں قحط ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ راحت امیر کو اپنا مشن جاری رکھنے کی ہمت، توفیق اور استقامت عطا کیے رکھے (آمین ثم آمین)
