MERA MIANWALI MARCH 2025

منورعلی ملک کے مارچ  2025  کے فیس  بک   پرخطوط

 

سحر و افطار کا ہر علاقے کا مخصوص رواج ہوتا ہے۔ ہمارے داودخیل کے علاقے میں سحری میں وشلی کھانے کا رواج تھا۔ ہر سال رمضان المبارک کے آغاز میں میں ایک پوسٹ وشلی کے بارے میں لکھتا ہوں۔ دوست یہ ذکر بہت پسند کرتے ہیں۔ کئی لوگ میری پوسٹ دیکھ کر وشلی بناتے یا بنواتے بھی ہیں اور مجھے اوکے رپورٹ بھی دیتے ہیں۔

وشلی بہت نرم لذیذ اور توانائی سے بھر پور غذا ہے۔ وشلی سے سحری کرنے کے بعد دن بھر بھوک اور پیاس بہت کم لگتی ہے۔

وشلی بنانے کا طریقہ بہت سادہ سا ہے۔ گرم توے پر خالص دیسی گھی ڈال کر پتلے گوندھے ہوئے آٹے کی تہہ جما کر اس کے اوپر بھی تھوڑا سا گھی ڈال دیں۔ چند منٹ میں وشلی تیار ہو جاتی ہے۔

وشلی کو کھانے کا بھی ایک مخصوص طریقہ ہوا کرتا تھا۔

گرما گرم وشلی پر مٹھی بھر سرخ پشاوری شکر کی ڈھیری سی بنا کر اسے انگوٹھے سے دبا کر پیالے کی شکل دے دیتے تھے۔ پھر اس پیالے میں خالص دیسی گھی ڈال کر وشلی کے کناروں سے نوالے توڑ کر گھی شکر میں ڈبو کر کھایا کرتے تھے۔

رمضان المبارک میں ہر گھر میں سحری کا کھانا وشلی ہی ہوا کرتی تھی۔ رمضان المبارک کے آخری دنوں میں کئی لوگ بڑی حسرت سے یہ ماہیا گنگناتے سنائی دیتے تھے۔۔۔۔۔

لنگھ گئے روزے بہوں ارمان وشلیاں ناں

(روزے تو گذر گئے۔ مگر افسوس کہ ہم وشلیوں سے بھی محروم ہو گئے)۔

ویسے تو وشلی کسی وقت بھی بنائی جا سکتی ہے۔ مگر لوگ رمضان المبارک کے آگے پیچھے وشلیاں بنا کر کھانا وشلی کی توہین سمجھتے تھے۔۔۔۔۔  1      مارچ   2025

آمد رمضان مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رب کریم ہماری تمام عبادات، صدقات اور خیرات قبول فرمائے۔ افطار دعاوں کی قبولیت کا لمحہ ہے۔ اس وقت کی دعاوں میں مجھے بھی یاد فرماتے رہیں ۔ جزاک اللہ الکریم۔  1      مارچ   2025

سحری میں تو سب لوگ وشلی ہی کھاتے تھے مگر افطاری میں ہر فرد اپنی پسند کی چیز کھاتا پیتا تھا۔

نوجوان لوگ لیموں کا شربت یا سکواش وغیرہ پیا کرتے تھے۔ اس میں برف بھی ملاتے تھے۔ برف کا حصول بھی اچھا خاصا رپھڑ ہوا کرتا تھا۔ شہر میں دو دکان دار برف کا ایک ایک بلاک میانوالی سے لاتے تھے۔ ان سے برف خریدنے کے لیئے بعد دوپہر سے ہی خریداروں کی قطاریں لگ جاتی تھیں ۔ بہت منت ترلے اور خواری کے بعد مٹھی بھر برف ملتی تھی۔ برف ختم ہو جاتی تو کئی لوگوں کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑتا تھا۔

برف والا سسٹم صرف موسم گرما کی افطاری میں چلتا تھا۔

بزرگوں کا افطاری کا اپنا الگ پروگرام ہوتا تھا۔ وہ برف استعمال نہیں کرتے تھے۔ کہا کرتے تھے اور درست ہی کہا کرتے تھے کہ برف تو پیاس کو بجھانے کی بجائے بھڑکاتی ہے۔ برف ملے مشروبات پینے والے بے تحاشا پانی پی پی کر بے حال ہو جاتے تھے۔

بزرگ لوگ گھڑے کے پانی میں پشاوری گڑ یا شکر اور ستو، گوند کتیرا، املی آلو بخارا، یا اسپغول کا چھلکا ملا کر پیتے تھے۔ (اسپغول کو ہمارے علاقے میں عشق بول کہتے تھے) ۔

کھانے میں کوئی خاص تکلف نہیں کیا جاتا تھا۔ گھر میں جو بھی سالن بنتا کھا لیتے تھے۔  2    مارچ   2025

ماہ رمضان شروع ہوتے ہی عید کے لیئے نئے کپڑوں اور جوتوں کا اہتمام شروع ہو جاتا۔ کپڑوں اور جوتوں کی خریداری کے لیئے لوگ کالاباغ کا رخ کرتے تھے کیونکہ داودخیل اور گردونواح کا قریب ترین کاروباری مرکز کالاباغ ہی تھا۔

لٹھا، پاپلین ، چیک اور بوسکی مقبول مردانہ لباس تھا۔ ایک ہی رنگ کی شلوار قمیض پہننے کا رواج نہ تھا۔ شلوار ہمیشہ سفید لٹھے کی اور قمیض اپنی پسند کے رنگ کی پہنی جاتی تھی۔ دو گھوڑا مارکہ بوسکی کی قمیض اور چابی مارکہ سفید لٹھے کی شلوار صاحب حیثیت لوگوں کا مقبول لباس تھا۔

خواتین چھینٹ ( پھولدار کاٹن) یا ریشمی لباس پہنا کرتی تھیں۔

مردانہ جوتوں میں فرمے والی کھیڑی مقبول ترین پیزار تھا۔ یہ کھیڑی کالاباغ سے آرڈر پر بنوائی جاتی تھی۔ چاچا پشو، چاچا فقیرا اور چاچا ابراہیم فرمے کی کھیڑی بنانے والے مشہور کاریگر تھے۔ پاوں کے ناپ کے بعد کچھ پیسے ساہی (ایڈوانس) کے طور پر دینے پڑتے تھے۔ کھیڑی کی وصولی کی تاریخ کاریگر طے کرتے تھے۔ فرمے والی بہترین کھیڑی 16 روپے میں ملتی تھی۔ یہ بہت خوبصورت اور پائدار ہوتی تھی۔

کالاباغ کے پھیرے رمضان المبارک میں لوگوں کی پسندیدہ مصروفیت ہوا کرتی تھی۔  3      مارچ   2025

رمضان المبارک میں سحری اور افطاری کا بندوبست کرنے کے علاوہ ماوں بہنوں کی ایک اہم مصروفیت سویاں بنانا ہوا کرتی تھی۔ یہ موٹی سویاں گھروں میں ایک مخصوص  مشین پر بنائی جاتی تھیں جسے گھوڑی کہتے تھے۔ اس کے منہ میں موٹے گوندھے ہوئے آٹے کا پیڑا ٹھونس کر ہینڈل کو گھماتے تو مشین کے نیچے لگی ہوئی چھلنی سے سویوں کے لچھے برآمد ہوتے تھے جنھیں دھوپ میں رکھی  ہوئی چارپائیوں پر ترتیب سے بچھا دیتے تھے۔ ایک آدھ گھنٹے میں سویاں خشک ہو جاتی تھیں۔

گھوڑی کا ہینڈل گھمانا خاصا مشقت طلب کام تھا۔ بالعموم بچوں کو کوئی کھانے کی چیز انعام  کے طور پر دے کر ان سے یہ کام لیا جاتا تھا۔ جس گھر میں گھوڑی موجود ہوتی وہاں دن بھر اڑوس پڑوس کی خواتین کا میلہ لگا رہتا تھا۔

یہ سویاں صرف رمضان المبارک ہی میں بنتی تھیں۔ عید کی صبح کا ناشتہ یہی سویاں ہوا کرتی تھیں۔

 سویاں پکانے کا طریقہ بہت سادہ سا تھا۔ سویوں کو پانی میں ابال کر پانی الگ کرکے سویوں میں خالص دیسی گھی اور شکر ملا کر کھائی جاتی تھیں ۔ یہ بے حد لذیذ غذا تھی۔  4      مارچ   2025

عید کے موقع پر جھولا جھولنا بچوں بچیوں اور نوجوانوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ بچوں اور بچیوں کے لیئے گھر کے کسی درخت کی ٹہنی سے رسی کے دونوں سرے باندھ کر جھولا بنا لیا جاتا تھا جسے پینگھ کہتے تھے۔

نوجوانوں کے لیئے لکڑی کے آٹھ دس فٹ لمبے شہتیر ( گارڈر) زمین میں گاڑ کر بڑے سایئز کی پینگھ بنتی تھی جسے شوتیر کہتے تھے۔ شوتیر کے پائدان پر آمنے سامنے کھڑے ہو کر دو نوجوان بازووں ، سینے اور پاوں کا پورا زور لگا کر شوتیر کو زیادہ سے زیادہ بلندی تک لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس عمل کو شوتیر چڑھانا کہتے تھے۔ اس کھیل میں دو دو نوجوانوں کی ٹیمیں حصہ لیتی تھیں۔ جو ٹیم سب سے زیادہ بلندی تک شوتیر چڑھا لیتی وہ فاتح قرار دی جاتی تھی۔ شوتیر کسی کھلی جگہ پر بنائے جاتے تھے کیونکہ شوتیربازی کے مقابلے دیکھنے کے لیئے لوگوں کا اچھا خاصا ہجوم جمع ہو جاتا تھا۔

بچوں کے لیئے گھروں میں جھولا جھولنے کو چچینگل بھی ہوتا تھا۔ چچینگل پانچ سات فٹ لمبی دو لکڑیوں سے بنتا تھا۔ ایک لکڑی زمین میں گاڑ کر دوسری اس کے اوپر یوں بیلنس کر کے رکھی جاتی تھی کہ انگریزی کے حرف T کی شکل بن جاتی تھی۔ T کے اوپر والی لکڑی کے دونوں سروں پر رسی کے ننھے منے جھولے بنائے جاتے تھے جن پر بیٹھ کر دو بچے جھولا جھولا سکتے تھے۔ چچینگل کو گھمانے کا کام مائیں بہنیں، یا گھر کا کوئی مرد سرانجام دیتا تھا۔

گھر میں بنی ہوئی پینگھ کی ایک طرف کی رسی ٹوٹ جاتی تو بچے دوسری طرف کی اکلوتی رسی سے لٹک کر جھولا جھولنے کا شوق پورا کر لیتے تھے۔ اس ایک رسی والی پینگھ کو گھم ٹٹو کہتے تھے۔

گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ-  5      مارچ   2025

عید کے موقع پر ہاتھ پاوں پر مہندی لگانا بھی ہمارے علاقے کا مخصوص رواج تھا۔ عید سے ایک دن پہلے بچے بوڑھے اور جوان ، سب لوگ مہندی سے اپنے ہاتھ پاوں لال کر لیتے تھے۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ نماز عید کے بعد دعا کے لیئے اٹھے ہوئے لال ہاتھوں کی قطاریں دیکھ کر آسماں پر فرشتے بھی مسکرا دیتے ہوں گے۔

وقت کے ساتھ سب کچھ بدل گیا۔ اب یہ رسم شاید ہی کسی کو یاد ہو۔۔۔۔

گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ-  6      مارچ   2025

نماز تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر خصوصی اہتمام بھی ایک قدیم روایت ہے۔ یہ روایت اب بھی برقرار ہے۔ اس موقع پر مسجد کو دلہن کی طرح سجایا جاتا تھا۔ نمازی حسب توفیق نقد رقم مٹھائی کی خریداری اور قاری صاحب کے حق خدمت کے لیئے مسجد کی انتظامیہ کے پاس پہلے ہی جمع کرا دیتے تھے۔ ختم قرآن حکیم کی بخیر و عافیت تکمیل پر اس رات مسجد میں ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا تھا۔

جب ہم داودخیل میں رہتے تھے ختم قرآن کے موقع پر ہمارے محلے کی مسجد شکورخیل میں نماز تراویح کے آغاز سے قبل نعت خوانی ہوتی تھی۔ اس رات نماز تراویح طویل نہیں ہوتی تھی۔ نماز کے بعد خصوصی دعا کی جاتی تھی اور اس کے بعد ختم بالخیر کی خوشی میں مٹھائی تقسیم ہوتی تھی۔

نماز تراویح کی امامت کرنے والے قاری صاحب کو کپڑوں کا ایک جوڑا اور کچھ نقد رقم کا نذرانہ پیش کیا جاتا تھا۔

یہ رواج اب بھی برقرار ہے۔ ممکن ہے اس میں کچھ اور رسموں کا اضافہ بھی ہو گیا ہو۔  7      مارچ   2025

لیلتہ القدر رمضان المبارک کی وہ رات ہے جس میں نزول قرآن کا آغاز ہوا۔ یہ کون سی رات ہے اس کا تو کسی کو علم نہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف اتنا بتا دیا کہ اس کو ماہ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق راتوں(21، 23 ،25، 27 ، 29) میں تلاش کرو۔ تلاش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن حکیم ہی میں بتا دیا گیا کہ یہ رات ہزار مہینوں کے برابر ہے۔ یعنی اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت کے برابر ہے۔

اس لالچ میں بعض لوگ تو آخری عشرے کی تمام طاق راتیں جاگ کر عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ عبادات کی قبولیت کے لیئے سچائی دیانت داری صلہ رحمی شرط ہے۔ مگر ہم لوگ صرف رات بھر عبادت ہی کافی سمجھتے ہیں۔ جھوٹ، خیانت، بغض ، ظلم ، ذخیرہ اندوزی ، منافع خوری ترک کرنا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس رات کی عبادت ان سب برائیوں کا کفارہ ہو جائے گی لہذا لگے رہو۔

اگر گناہ یوں آسانی سے معاف ہو جاتے تو اس رات عبادت کرنے والا ہر فرد ولی ہوتا۔

لیلتہ القدر کی تلاش کو مزید آسان بنانے کے لیئے ہمارے علاقے میں یہ فرض کر لیا گیا کہ 27 رمضان المبارک کی شب ہی لیلتہ القدر ہے۔ سو ہمارے ہاں اسی رات کو عبادات کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ مساجد میں اعتکاف کرنے والوں کے علاوہ کئی اور لوگ بھی مساجد میں عشاء سے سحری تک مشغول رہتے تھے۔اس رات نماز تراویح کے علاوہ باجماعت نفل بھی پڑھے جاتے تھے۔ درود و سلام ، نعت خوانی اور ذکر کی محفلیں بھی منعقد ہوتی تھیں۔ مساجد میں جشن کا سماں ہوتا تھا۔ یہ روایت اب بھی برقرار ہے۔ رب کریم ہم لوگوں کی تمام لغزشیں معاف کر کے ہماری عبادات قبول فرمائے اور ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔

8   مارچ   2025

ایک دن نماز تراویح کے قاریوں کا ذکر چھڑا تو ہمارے دوست ریٹائرڈ  صوبیدار مدت خان پائی خیل نے بتایا کہ فوج کی ملازمت کے دوران ایک دفعہ ایک قاری صاحب ہماری چھاونی میں نماز تراویح کی امامت پر مامور ہوئے۔ وہ معمول کے مطابق دو پونے دو سیپارے روزانہ پڑھتے رہے۔ ایک دن ہم نے ان سے کہا قاری صاحب ، ہم شیر جوان لوگ ہیں ،  آج ہمیں تھکا کر دکھائیں۔

قاری صاحب نے کہا ٹھیک ہے، آج نماز تراویح کے بعد دو رکعت نماز نفل با جماعت پڑھ لیں گے۔

دو رکعت نماز نفل کی پہلی رکعت میں قاری صاحب نے اتنی لمبی قرات کی کہ ہم شیر جوانوں کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اللہ کے اس بندے نے ایک ہی رکعت میں 27 سیپارے پڑھ دیئے۔ دوسری رکعت میں قاری صاحب نے ایک مختصر سی سورت تلاوت کرنے کے بعد نماز ختم کر دی اور بھرائی ہوئی آواز میں کہنے لگے افسوس کہ میرا جوانی کا دور گزر گیا ورنہ میں تو ایک رکعت میں پورا قرآن حکیم پڑھا کرتا تھا۔ دو رکعت میں دو ختم میں گھر میں نفل نماز کے دوران کیا کرتا تھا۔

گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ-  9      مارچ   2025

عید کے کپڑوں کی سلائی کا بھی اچھا خاصا مسئلہ ہوا کرتا تھا۔ ہمارے داودخیل شہر میں صرف چار پانچ درزی تھے۔ وہ رمضان المبارک میں دن رات کام کر کے بڑی مشکل سے عید تک سب لوگوں کے ملبوسات تیار کر سکتے تھے۔ گاہکوں کے اصرار پر تاریخیں تو دے دیتے تھے مگر ان تاریخوں کی پابندی نہیں کر سکتے تھے اس لیئے درزیوں اور لوگوں کے درمیان رولے اکثر ہوا کرتے تھے۔ یہ  بھی  بڑی بات تھی کہ وہ عید تک تمام ملبوسات تیار کر دیتے تھے۔ کئی لوگوں کو تو چاند رات کو ملبوسات ملتے تھے۔

بچے بڑے بیتاب ہوتے تھے کہ ہمارے کپڑے جلد تیار ہو جائیں۔ ان سے درزیوں کی نوک جھونک خاصی دلچسپ ہوتی تھی۔ کچھ اس قسم کے ڈائیلاگ ہوا کرتے تھے۔

بچہ۔۔۔۔۔۔ چاچا میڈے کپڑے ؟

درزی۔۔۔۔۔۔۔ اگلی جمعرات کو گھن ونجیں۔

بچہ۔۔۔۔۔ تئیں تاں اس جمعرات دا وعدہ کیتا ہئی۔ تے اج جمعرات اے۔

درزی۔۔۔۔۔۔ کم ودھ گیا اے۔ وعدے تاں آندے ویندے راہندن۔

بچہ۔۔۔۔۔۔ مطلب  اگلی جمعرات دا وعدہ وی پکا نیں۔ اے تاں زیادتی اے۔

درزی۔۔۔۔۔ بہوں ٹاں ٹاں نہ کر ، اے گھن آپنڑاں کپڑا تے ونج کئیں ہور کولو سوا گھن۔

بالآخر ایک دن تیار کپڑے مل جاتے تو بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا تھا۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر کپڑوں کو دیکھتے اور خوش ہوتے کہ عید کے دن یہ کپڑے پہن کر تو میں شہزادہ لگوں گا۔۔

دراصل بیتابی کی وجہ یہ تھی کہ لوگ غریب تھے۔ اکثر بچوں کو سال میں ایک دو جوڑے ہی نصیب ہوتے تھے۔ اس لیئے عید پر  نئے کپڑے ملنا بہت بڑی خوشی کی بات ہوتی تھی۔  10      مارچ   2025

ہمارے ہاں عید کے تین دنوں کی مصروفیات الگ الگ ہوتی تھیں۔ پہلا دن بچوں اور نوجوانوں کی عید کا دن تھا۔ رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کیئے  بچے اور نوجوان گلیوں کے چکر لگاتے نظر آتے تھے۔ دکان دار اپنا مال دکانوں کے سامنے گلیوں میں سجا دیتے تھے۔ ہمارے محلے میں چاچا اولیا، محلہ علاول خیل میں حاجی سلطان محمود المعروف حاجی کالا اور محلہ امیرے خیل میں ماما حمید اللہ خان کی جلیبیاں بچوں اور نوجوانوں کی توجہ کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ داودخیل شہر میں کوئی بازار یا مٹھائی کی دکان نہ تھی۔ جلیبیاں صرف عید کے دنوں میں دستیاب ہوتی تھیں۔ اس لیئے یہ بھی بڑی نعمت سمجھی جاتی تھیں۔

عید کی نماز ادا کرنے کے فورا بعد بچے اور نوجوانوں گلیوں کا رخ  کرتے تھے۔ محلہ داوخیل کے میچن کمہار سوڈا واٹر کی بوتلوں کا سٹال اپنی گلی میں لگاتے تھے ۔ وہاں بھی گاہکوں کا خاصا رش ہوا کرتا تھا۔

عید کے دن کنوارے خیل قبیلہ کے نوجوان ریلوے سٹیشن کے قریب اپنے گھروں سے سجے سجائے مہارے اونٹوں پر نکل کر شہر کا  چکر لگایا کرتے تھے۔ اونٹوں کی سجاوٹ اور ان کے گلے میں بندھی ہوتی ٹلیوں (گھنٹیوں) کی ٹن ٹن سے بہت دلکش سماں بندھ جاتا تھا۔۔

بچوں اور نوجوانوں کا رونق میلہ شام تک جاری رہتا تھا۔

عید کے دوسرے اور تیسرے دن کی داستان ان شآءاللہ کل اور پرسوں-  1 1     مارچ   2025

عید کا دوسرا دن خواتین کی عید کہلاتا تھا۔ اس دن خواتین ٹولیوں کی شکل میں گلیوں میں گھوم پھر کر اپنی ضرورت یا پسند کی چیزیں خریدا کرتی تھیں۔ پیسے دوپٹے کے پلو سے بندھے ہوتے تھے ۔

زیادہ تر خریداری آرائش کے سادہ اور سستے سامان ، مساگ (دنداسہ) سرمہ، کاجل، سرخی، سرسوں کے تیل، پراندے، بالوں میں لگانے کے کلپس اور برتنوں وغیرہ کی ہوتی تھی۔ بچیاں پیتل اور چاندی کی بنی ہوئی مندریاں ( انگوٹھیاں) چھلے، پونیاں اور پلاسٹک کی گڑیاں خریدتی تھیں۔ سستا دور تھا۔ ڈیڑھ دو سو روپے میں یہ سب کچھ مل جاتا تھا۔

جلیبیاں ، پکوڑے ، پتاسے، ٹانگری اور لاچی دانہ بھی خریدا جاتا تھا۔

اس دن مرد گھروں سے باہر کم ہی نکلتے تھے۔ شرم و حیا کا دور تھا۔ اگر کوئی مرد کسی کام سے گھر سے باہر نکلتا بھی تو خواتین کو آتے دیکھ کر راستہ بدل لیتا۔ اگر راستہ بدلنا ممکن نہ ہوتا تو دیوار کی طرف منہ کرکے رک جاتے تھے۔

گذر گیا وہ زمانہ ؛ چلے گئے وہ لوگ-  12      مارچ   2025

عید کے تیسرے دن ماڑی انڈس میں شاہ گل حسن کا میلہ ہوا کرتا  تھا۔ عام زبان میں اسے سیل (سیر) کہتے تھے۔ یہ میلہ ضلع کا سب سے بڑا عوامی اجتماع تھا۔ بھکر سے عیسی خیل تک سے لوگ اس میلے میں شریک ہوتے تھے۔

سید گل حسن شاہ  کا مزار ماڑی انڈس ریلوے سٹیشن کے جنوب میں دریا کے کنارے درختوں کے ایک جھنڈ میں واقع ہے۔ بہت پراسرار ویران سی جگہ ہے۔ اس میلے کا رواج خدا جانے کب اور کیسے شروع ہوا۔ ہم نے تو ہوش سنبھالا تو یہ میلہ عید کے تیسرے دن ہر سال ہوتا دیکھا۔ بڑی چاہ ہوتی تھی اس میلے میں شرکت کی۔ بچے بوڑھے اور جوان سب مرد اس میلے میں شرکت فرض سمجھتے تھے۔ کئی لوگ اپنا عید کا جیب خرچ اس دن کے لیئے بچا رکھتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میلے میں کچھ بھی خاص نہیں ہوتا تھا۔ لوگ نہ تو مزار پر حاضری دیتے تھے، نہ کوئی کھیل تماشہ ہوتا تھا۔ گردو نواح سے دکاندار اپنا سامان لا کر درختوں کے سائے میں زمین پر سجا دیتے تھے۔ ایک دو فرشی ہوٹل بھی ہوا کرتے تھے جہاں لوگ زمین پر بیٹھ کر کھا پی لیتے تھے۔ یہ ہوٹل صرف میلے کے دن ہی آباد  ہوتے تھے۔ شام کو دکان دار اپنا سامان سمیٹ کر واپس چلے جاتے تھے۔

ہمارے محلے کے دکان دار چاچا اولیا بھی اس دن یہاں جلیبیوں کا سٹال لگایا کرتے تھے۔

کھانے پینے اور چلنے پھرنے کے علاوہ میلے میں اور کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ پھر بھی لوگ اس میلے میں حاضری فرض سمجھتے تھے۔۔۔۔۔۔ دیکھا تو نہیں سنا ہے کہ اس دن جوئے کا ون ڈے میچ بھی ہوا کرتا تھا۔ ضلع بھر سے جواری اس میچ میں شریک ہوتے تھے۔ وہ میلے سے کچھ فاصلے پر ٹیلوں کی اوٹ میں بیٹھ کر منہ کالا کر لیتے تھے۔

میلے تک رسائی کا وسیلہ لاہور سے آنے والی ماڑی انڈس ٹرین تھی۔ اس دن ٹرین کا حال دیکھنے کے قابل ہوتا تھا۔ ٹرین کے اندر، آگے، پیچھے، ٹرین کی چھت پر ، پائدانوں بلکہ انجن تک پر لوگ شہد کی مکھیوں کی طرح چمٹے ہوتے تھے۔ ٹرین تو نظر ہی نہیں آتی تھی ۔ ہمارے ماموں غلام فرید ریلوے میں مکینک تھے۔ ان کے  طفیل ہمیں انجن میں بیٹھنے کا اعزاز نصیب ہو جاتا تھا۔

 ٹرین صبح تقریبا 8 بجے ماڑی انڈس پہنچتی تھی اور شام 5 بجے واپس جاتی تھی۔ شام 5 بجے کے بعد میلے کا میدان اگلے سال اس دن  کے انتظار میں خالی پڑا رہتا تھا۔

کچھ عرصہ قبل نامعلوم وجوہات کی بنا پر میلہ ختم کر دیا گیا۔ دوسری دیرینہ روایات کی طرح یہ روایت بھی قصہ ء ماضی بن گئی ۔  13      مارچ   2025

میں نے ایک گیت میں کہا تھا

“عیداں جو آسن گھر لوک ولسن”

عید کے موقع پر گھر واپسی لازم سمجھی جاتی تھی۔ ملازمت یا کاروبار کے سلسلے میں گھر سے دور مقیم لوگ عید منانے کے لیئے گھر جانا لازمی سمجھتے تھے۔ گھر واپسی سے پہلے وہ گھر والوں کے لیئے حسب توفیق تحائف بھی خریدتے تھے۔ گھر کے ہر فرد کے لیئے کچھ نہ کچھ ضرور خریدا جاتا تھا ۔۔۔۔ عید پر مل بیٹھنے کی چاہ دونوں طرف برابر ہوتی تھی۔ انتظارکے دن گنے جاتے تھے۔۔۔۔

اس زمانے میں آج کی طرح رابطے تو ہوتے نہیں تھے ،  لیکن عید پر ملاقات کا یقین ہوتا تھا۔ اس لیئے عید کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا تھا۔

اب تو موبائل فون پر ہر لمحہ ویڈیو کال کے ذریعے آمنے سامنے بات ہو سکتی ہے۔ یوں  دوری کا احساس خاصا کم ہو جاتا ہے۔ شکر ہے یہ سہولت بھی دستیاب ہے۔ لیکن جو مزا گلے ملنے، بچوں کو سینے سے لگا کر پیار کرنے  اور بزرگوں کے پاوں چھونے سے ملتا ہے وہ فون پر بات کرنے میں کہاں ۔ کئی ضروری باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں۔ فون پر بات تو ہو جاتی ہے پھر بھی کئی حسرتیں باقی رہ جاتی ہیں۔

دعا ہے کہ رب کریم عید پر گھر آنے والے تمام پردیسیوں کا  حافظ و ناصر ہو۔ دونوں طرف خیریت رہے۔  15      مارچ   2025

عید کا ذکر جب بھی چھڑے مجھے وہ عید یاد آجاتی ہے جو میں نے ایک نرالے انداز میں منائی تھی۔

قصہ یہ تھا کہ عید کا چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہ ہوئی تو 9 بجے ریڈیو پاکستان کے خبرنامہ میں کہا گیا کہ چاند کہیں بھی نظر نہیں آیا اس لیئے کل صبح روزہ ہوگا۔

صبح سحری کے وقت اچانک ریڈیو پر یہ اعلان گونجنے لگا کہ چاند نظر آگیا ہے لہذا آج عید ہوگی۔ اس کے فورا بعد مساجد کے لاوڈسپیکرز سے یہ اعلان دہرایا جانے لگا۔ لوگ بہت خوش ہوئے۔ سحری چھوڑ کر عید کی تیاریاں کرنے لگے۔

میرا دل نہ مانا، اس لیئے میں نے سحری کھا کر روزہ رکھ لیا۔گھر والوں نے بہت سمجھایا مگر میں نے کہا سرکاری اعلان فراڈ ہے۔ اس لیئے میرا آج روزہ ہی رہے گا۔

 اس دور میں ہمارے داودخیل میں ٹیلیفون کی سہولت بھی دستیاب نہ تھی۔ اس لیئے میں نے مصدقہ خبر کی تلاش میں میانوالی جانے کا فیصلہ کر لیا۔

عید کی وجہ سے بس سروس تو بند تھی ، میں اس امید پر داودخیل بس سٹاپ پر جا کھڑا ہوا کہ جو بھی گاڑی مل گئی اسی پہ میانوالی چلا جاوں گا۔

کچھ دیر بعد ایک ٹریکٹر آتا دکھائی دیا۔ میں نے اسے روک کر ڈرائیور سے کہا میں نے میانوالی جانا ہے۔ اس نے کہا میں نے تو پائی خیل تک جانا ہے ۔ بہر حال آپ میرے ساتھ بیٹھ جائیں راستے میں میانوالی جاتی ہوئی جو گاڑی بھی مل گئی میں آپ کو اس پر بٹھا دوں گا۔

چند منٹ بعد ایک ٹرک ادھر سے گذرنے لگا تو ٹریکٹر ڈرائیور نے اسے روک کر مجھے اس پہ بٹھا دیا۔ ٹرک ڈرائیور نے کہا میں نے تو موچھ جانا ہے۔ آپ کو پائی خیل ریلوے سٹیشن تک لے جاوں گا۔ وہاں سے آپ لوکل ٹرین پہ بیٹھ کر میانوالی پہنچ سکتے ہیں۔

ٹرک ڈرائیور مجھے پائی خیل ریلوے سٹیشن پر اتار کر موچھ کی سمت روانہ ہو گیا ۔ ریلوے سٹیشن سے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ آج لوکل ٹرین بھی بند ہے۔

وہاں سے میں واپس سڑک پہ آگیا۔ عین اسی وقت ایک تانگہ نہر کا پل کراس کر کے سڑک پر جنوب کی طرف مڑنے لگا تو میں نے کوچوان سے پوچھا کدھر جا رہے ہو۔ اس نے کہا میانوالی۔  میں نے کہا میں نے بھی جانا ہے۔ اس نے کہا پانچ روپے لگیں گے۔( اس وقت داودخیل سے میانوالی کا بس کا کرایہ ایک روپیہ تھا)۔ میں نے کہا منظور ہے۔ یہ لو پانچ روپے۔

یوں میں پائی خیل ریلوے سٹیشن سے تانگے پر بیٹھ کر میانوالی روانہ ہوگیا۔

تانگے والے سے پوچھا تم ادھر کیسے پھر رہے ہو ۔ اس نے کہا میرا گھر میانوالی شہر میں ہے۔ موچھ اپنے رشتہ داروں کے ہاں آیا ہوا تھا۔ وہیں تانگے کا سودا ہو گیا۔ اب یہ تانگہ لے کر گھر جا رہا ہوں۔

میں کمیٹی چوک میانوالی پہنچ کر تانگے سے اتر گیا ۔  16      مارچ   2025

کمیٹی چوک میانوالی میں تانگے سے اترا تو بھائی شرافت خان شہباز خیل مل گئے۔ شرافت خان میرے کلاس فیلو اور بہت عزیز دوست تھے۔ اس وقت وہ ایجوکیشن آفیسر کے منصب پر فائز تھے۔ ہنس کر کہنے لگے  بھائی صاحب آپ آج عید کے دن  یہاں کیا کرتے پھر رہے ہیں۔ ؟  آپ   کو تو آج اپنے گھر داودخیل ہونا چاہیئے تھا۔

میں نے کہا عید کے مشکوک اعلان کی تحقیقات کے لییے یہاں آیا ہوں۔ کیا آج واقعی عید ہے۔ ؟

بھائی شرافت خان نے کہا جی ہاں ، ہم نے لاہور کے تبلیغی مرکز سے فون پر کنفرم کر لیا تھا۔

شرافت خان تبلیغی جماعت سے  وابستہ تھے۔ دین کے معاملے میں تبلیغی جماعت کے لوگ بہت محتاط ہوتے ہیں۔ اس لیئے ان کی تصدیق میری نظر میں معتبر تھی۔

میں نے کہا میں نے تو صبح  سحری کھا کر روزہ رکھ لیا تھا۔ اس کا کیا کروں ؟

بھائی شرافت نے کہا عید کی تصدیق کے بعد آپ کا روزہ تو باطل ہوگیا۔ آئیں میرے ساتھ  ۔۔

ایک قریبی ہوٹل سے چائے اور مٹھائی کے ساتھ شرافت خان نے میرا روزہ افطار کرایا اور میں نے گھر کی راہ لی۔

واپسی پر پھر ٹرانسپورٹ کا مسئلہ درپیش تھا۔ خوش قسمتی سے جہاز چوک پر میرے سابق سٹوڈنٹ کفایت اللہ خان امیرے خیل ٹریفک سارجنٹ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ میں نے بتایا کہ داودخیل جانا ہے۔

کفایت اللہ خان نے کہا سر فکر نہ کریں۔ جو بھی گاڑی ادھر جانے والی آگئی میں آپ کو اس پہ بٹھا دوں گا۔

اتنے میں بنوں جانے والا ایک ٹرک وہاں سے گذرنے لگا تو کفایت اللہ خان نے اسے روک کر ڈرائیور سے کہا یہ میرے سر ہیں۔ انہوں نے داودخیل جانا ہے۔ آپ نے ان کو سڑک پر نہیں اتارنا بلکہ داودخیل شہر میں ان کے گھر پہنچا کر آگے جانا ہے۔

ٹرک ڈرائیور نے سارجنٹ کے حکم کی تعمیل کر دی اور یوں میں تقریبا 3 بجے عید کی خوشیوں میں شریک ہو گیا۔۔۔۔۔۔  17      مارچ   2025

میٹھی عید ، نمکین عید

عیدالفطر کو میٹھی عید اور عیدالاضحٰی کو سلونی ( نمکین) عید کہتے تھے۔

عیدالفطر کے دن کا آغاز ہی خالص دیسی گھی اور سرخ پشاوری شکر ملی میٹھی سویوں کے ناشتے سے ہوتا تھا۔

سویوں کے علاوہ بھی اس دن ہر گھر میں کوئی نہ کوئی میٹھی ڈش ضرور بنتی تھی۔ سوجی کا سادہ حلوہ جسے جریسی حلوہ کہتے تھے ، یا میانوالی کا معروف دودھی والا حلوہ یا کھیر ، کوئی نہ کوئی میٹھی چیز ہر گھر میں بنتی تھی ۔

دیہات میں مٹھائی کی دکانیں تو ہوتی نہیں تھیں اس لییے میٹھا کھانے کا شوق گھر ہی میں پورا کر لیا جاتا تھا۔ ہمارے محلے کے دکان دار چاچا اولیا عید کے موقع پر جلیبیاں بنایا کرتے تھے۔

ہندو دکان دار دیسی مٹھائیاں بنانے کے ماہر تھے۔ چاچا اولیا اور کچھ دوسرے مسلمان دکان داروں نے جلیبیاں بنانے کا فن انہی  سے سیکھا تھا۔ ہندو قیام پاکستان کے وقت بھارت چلے گئے تو ان کی کمی کسی حد تک ان کے مسلمان شاگردوں نے پوری کر دی۔

عیدالاضحٰی کو بکرید ( بقرعید) کہتے تھے۔ اس دن ہر گھر میں گوشت بنتا تھا جس سے صرف نمکین ڈشز ہی بن سکتی تھیں، اس لیئے عیدالاضحٰی کو سلونی یا نمکین عید کہا جاتا تھا۔  19      مارچ   2025

ہر گھر میں دوچار دیسی مرغیاں ہوتی تھیں۔ دراصل یہ مرغیاں خواتین پالتی تھیں۔ مرغی ذبح صرف تب کی جاتی تھی جب گھر میں کوئی بیمار ہوتا اور اس کے لیئے یخنی بنانی ہوتی یا پھر جب مرغی بیمار ہوتی اور اس کے زندہ بچ جانے کی کوئی صورت نہ ہوتی۔ یا پھر رسم دنیا نبھانے کے لیئےعید کے دن ایک مرغی کی قربانی دینی پڑتی تھی۔

مرغی کو پکڑنے  کا ناخوشگوار فریضہ بچوں کے ذمے لگا دیا جاتا۔ مطلوبہ مرغی آگے اور بچوں کی فوج پیچھے ، ایک گھر سے دوسرے گھر ، پھر تیسرے ، پھر چوتھے پانچویں گھر بعض اوقات پورے محلے کا چکر لگانے کے بعد منزل مراد ہاتھ آتی تھی۔

مرغی کو ذبح نہ تو بچے کر سکتے تھے نہ خواتین۔ یہ کام گھر کے کسی مرد سے لیا جاتا تھا۔ مرد شکر کرتے تھے کہ چلو  شکر ہے ہمارے لائق بھی کوئی خدمت نکل آتی ہے جو ہمیں گھر میں رکھنے کا جواز بن جاتی ہے۔

ذبح شدہ مرغی کے پر اکھاڑنے کا کام بچیاں کرتی تھیں۔ سالن خواتین بناتی تھیں۔ یوں گھر کے تمام افراد کی محنت سے مرغی کا سالن تیار ہوتا تھا۔

 خالص دیسی گھی اور دیسی مصالحہ جات میں بنا ہوا سالن ذائقے میں اپنی مثال آپ ہوتا تھا۔ اب تو نہ وہ مرغیاں ہیں ، نہ خالص دیسی گھی، نہ دیسی  مصالحہ جات ، نہ سالن بنانے والے ہاتھ ،  وہ چیز اب بن ہی نہیں سکتی ۔ آج کے دور کے لوگوں کو کیا خبر کہ وہ کتنی لذیذ نعمت ہوتی تھی۔گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ-20      مارچ   2025

شان علی۔۔۔ اپنا شعر

قتل کر کے جسے انعام لیا تھا تو نے،

ابن ملجم ترا مقتول ابھی زندہ ہے

 

مارچ کے وسط میں چیت کا مہینہ شروع ہوتا ہے ۔ یہ بہار کے موسم کا آغاز ہوتا ہے۔ سردی کی خزاں کے مارے ہوئے پودوں اور درختوں پر پتے پھول اور پھل نمودار ہوتے ہیں۔ انسانوں کے مرجھائے ہوئے دلوں کی کلیاں بھی کھل اٹھتی ہیں۔ خوشی کی ایک لہر فضا میں چاروں طرف موجزن نظر آتی ہے۔ کوٹ اور سویٹر کی بجائے ہلکا پھلکا سوتی لباس پہن لیا جاتا ہے ۔ لوگ آسانی سے چل پھر سکتے ہیں ۔چیت اور بیساکھ بہار کے مہینے شمار ہوتے ہیں۔

اس موسم مں گندم کی فصل اٹھانے کی تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں۔

ہمارے ہاں چیت کے مہینے کو چیتر کہتے تھے۔ اس مہینے کی بارش کے بارے میں کہا جاتا تھا

“وسے چیتر ، نہ کھل اماوے نہ کھیتر”۔

(چیت کے مہینے میں بارش ہو تو گندم کی پیداوار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ نہ کھیتوں میں سما سکتی ہے نہ کھلواڑوں میں) ۔

کھلواڑہ اس میدان کو کہتے تھے جہاں گندم کے دانے پودوں سے نکال کر ڈھیری بنائی جاتی تھی۔ ایک کھیت میں گندم کی کل مقدار کو بھی ڈھیری کہتے تھے۔ اس لیئے پیداوار کا حساب لگاتے ہوئے کہا جاتا تھا اتنے من نی  ڈھیری چائی ہسے۔

ایک رواج یہ بھی تھا کہ انتہائی غریب لوگ دو چار پھول چن کر صاحب حیثیت لوگوں کو بہار کے تحفے کے طور پر دیتے تھے اور اس کے بدلے میں انہیں کچھ پیسے مل جاتے تھے۔ اس تحفے کو بھی چیتر کہا جاتا تھا۔  1 2     مارچ   2025

شان علی۔۔۔۔۔۔۔

آج سے چند سال پہلے جناب علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں ایک نظم لکھی تھی۔ اس کا ایک شعر کل فیس بُک پر شعر کیا تھا۔ ایک اور شعر دیکھیئے۔۔۔۔

اپنا حصہ بھی جو خیرات میں دے دیتا ہے

مانگنے والے ادھر آ وہ سخی زندہ ہے

  1 2     مارچ   2025

کچھ ساتھیوں کو یہ شکوہ ہے کہ رمضان المبارک میں میری پوسٹس میں کھانے پینے کی چیزوں کا ذکر پڑھ کر ان کا روزہ خراب ہوتا ہے۔ ان بھائیوں سے گزارش ہے کہ میری پوسٹس افطاری کے بعد پڑھ لیا کریں۔

موسم بہار ( چیت) کا ایک بہت لذیذ  کھانا چیتر آلا اوگرا کہلاتا تھا۔ کچھ علاقوں میں اسے بھت بھی کہتے تھے۔ چیتر کے مہینے میں ہر گھر میں کم ازکم ایک بار چیتر آلا اوگرا ضرور بنتا تھا۔ اس قدیم روایت کے کچھ طبی فوائد بھی یقینا ہوں گے مگر افسوس کہ بزرگوں سے پوچھنا ہمیں یاد ہی نہ رہا۔

گندم کے بھونے ہوئے دانوں کو کوٹ کر دلیہ سا بنا لیتے اور اسے پانی میں ابال کر پانی نکال دیتے ، پھر گڑ کا شربت اس میں ملا  کر صبح نہار منہ کھایا کرتے تھے۔ یہ نہایت لذیذ ناشتہ جن لوگوں نے کھایا ہو وہی جانتے ہیں کہ یہ کتنی مزیدار چیز تھا۔ سینے میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اسے کھا کر۔

چیتر آلا اوگرا بنانا اب تو اور بھی آسان ہے کہ گندم کا دلیہ بازار میں عام مل جاتا ہے۔ اسے رگڑنے کی زحمت گوارا نہیں کرنا پڑتی۔  22      مارچ   2025

ایمان والے لوگ تھے ۔ بڑی گرمجوشی سے رمضان المبارک کا استقبال کرتے تھے اور بہت دکھ کے ساتھ اس ماہ خیروبرکت کو الوداع کہتے تھے۔

ایک دفعہ جمعتہ الوداع کے خطبے میں مولوی صاحب بار بار کہہ رہے تھے الوداع اے ماہ رمضاں ، الوداع اے ماہ قرآں ، الوداع اے ماہ رحمت ، الوداع اے ماہ برکت

میں نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے محلے کے بزرگ چاچا عمر حیات خان بہرام خیل کو زارو قطار روتے دیکھ کر پوچھا چاچا رو کیوں رہے ہو۔

چاچا عمر حیات خان نے کہا رو اس لیئے رہا ہوں کہ پتہ نہیں اگلے سال یہ ماہ مبارک دیکھنا ہمیں نصیب ہوگا یا نہیں۔ رمضان المبارک تو قیامت تک ہر سال آتا رہے گا ، ہماری زندگی کا کچھ پتہ نہیں کب ختم ہو جائے۔۔

چاچا ٹھیک کہتے تھے۔ اگلے سال رمضان المبارک میں وہ ہمارے درمیان موجود نہ تھے۔  23      مارچ   2025

رمضان المبارک کے آخری دنوں میں لوگ عید کے لیئے خریداری کرتے ہیں۔ اگر آپ اللہ کے فضل سے خوشحال ہیں تو اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے کچھ اپنے اڑوس پڑوس میں رہنے والے یتیم بچوں، بیوہ خواتین اور غریب لوگوں پر ضرور خرچ کریں۔ یقین کیجیئے اس سے آپ کا مال کم نہیں ہوگا بلکہ اللہ اس میں کئی گنا اضافہ کر دے گا۔

صدقہ خیرات کے مستحق صرف مانگنے والے نہیں ہوتے بلکہ اصل مستحق وہ لوگ ہیں جو ضرورت مند تو ہیں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔ آپ کے ارد گرد کئی ایسے لوگ موجود ہوں گے۔ ان کا خاص خیال رکھیں۔ اس سخاوت کا صلہ آپ کو وہ رب کریم دے گا جس کے خزانوں کا حساب و شمار ہی ممکن نہیں۔  24      مارچ   2025

ہمارے بچپن کے دور میں عید کا چاند نظر آنے یا نظر نہ آنے کا اعلان ہمارے علاقہ کے مشہور و معروف پیر ، کوٹ چاندنہ کے حضرت فخرالزمان صاحب تحریری صورت میں جاری کیا کرتے تھے کیونکہ اس زمانے میں نہ کوئی سرکاری رویت ہلال کمیٹی تھی ، نہ ٹی وی تھا نہ ریڈیو۔۔۔ اخبار بھی ڈاک کے ذریعے لاہور سے تیسرے دن یہاں پہنچتا تھا۔

پیر صاحب شریعت کے عین مطابق شہادتوں کی بنا پر اعلان جاری فرماتےتھے۔ رویت ہلال کے اس اعلان یا فتوی کو ہماری زبان میں “روایت” کہتے تھے۔ داودخیل اور نواحی علاقوں سے کئی لوگ روایت کے اعلان کی کاپی حاصل کرنے کے لیئے سرشام پیر صاحب کے ہاں پہنچ جاتے تھے

پیر صاحب کے علاقے میں جہاں بھی چاند نظر آتا ان کے مرید فورا یہ خبر پیر صاحب تک پہنچاتے تھے۔ خبر کی تحقیق کے بعد پیر صاحب چاند نظر آنے یا نہ آنے کا اعلان جاری کیا کرتے تھے۔ دور دراز رابطے کے وسائل ہی دستیاب نہ تھے اس لیئے ہر علاقے کے دینی رہنما مقامی شہادتوں کی تحقیق کے بعد فتوی جاری کیا کرتے تھے۔ ملک بھر میں ایک ہی دن عید منانے کا تصور تک نہ تھا۔ 

عید ملن۔۔۔۔۔۔۔۔

عید کے دن عید ملن کا آغاز نماز عید کے فورا بعد نماز کی امامت کرنے والے مولوی صاحب سے گلے مل کر عید کی مبارکباد کہنے سے ہوتا تھا۔ اس کے بعد نماز میں شریک دوسرے ساتھیوں سے باری باری گلے مل کر عید کی مبارک باد کہی جاتی تھی۔ عید ملن کے لیئے ایک مخصوص جملہ ہوا کرتا تھا “عید چن مبارک”۔۔۔۔۔۔ آگے سے جواب بھی ایک مخصوص جملہ ہوا کرتا تھا۔۔۔۔۔۔

” تیکوئی مبارک” (تمہیں بھی مبارک)۔

عید کے دن اپنے پرائے ہر راہ چلتے آدمی کو “عید چن مبارک” کہنا فرض سمجھا جاتا تھا۔ ہاتھ ملانے کی رسمی کارروائی کی بجائے گلے ملنا ضروری تھا۔ بزرگوں کے گھٹنوں کو چھو کر احترام کا اظہار کیا جاتا تھا۔

دن بھر یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔  26      مارچ   2025

عید سے آٹھ دس دن پہلے عید کارڈز کی خرید و فروخت اور ترسیل شروع ہو جاتی تھی۔ خاص طور پر بچوں کا یہ پسندیدہ شغل تھا۔ بازار میں رنگارنگ پھولوں اور پکچرز سے مزین عید کارڈز کے ڈھیر لگ جاتے تھے۔ دیہات میں بازار تو نہیں ہوتے تھے تاہم عید کارڈز وہاں کریانے کی دکانوں پر بھی مل جاتے تھے۔

بچے کارڈز خرید کر ان پر کچھ لکھ لکھا کر اپنے دوستوں کو ڈاک کے ذریعے بھیجا کرتے تھے۔ کارڈ کے ساتھ لفافہ بھی ملتا تھا۔ عید کارڈ پر کچھ لکھ کر اسے لفافے میں بند کرکے پوسٹ آفس سے ٹکٹ خرید کر لفافے پر چسپاں کرکے لیٹر بکس کے سپرد کردیا جاتا تھا۔

لفافے کی بیک سائیڈ پر اس قسم کے شعر بھی ضرور لکھے جاتے تھے۔۔۔۔

چلا چل لفافہ کبوتر کی چال

لے آ ساڈے سجناں دا جلدی جواب

اور

یاروں کو یار ملتے ہیں سیب و انار بن کر

ہم بھی کبھی ملیں گے پھولوں کے ہار بن کر

اس قسم کی شاعری بچے خود ہی تخلیق کر لیا کرتے تھے۔

عید کارڈ بھیجنا اور وصول کرنا بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوا کرتا تھا۔

عید کارڈز کی اچھی خاصی انڈسٹری تھی۔ بہت سے لوگ عید کارڈ ڈیزائن کر کے چھاپ کر اور بیچ کر روزی کماتے تھے۔ محکمہ ڈاک کو بھی اچھی خاصی آمدنی حاصل ہو جاتی تھی۔ اب یہ سب کچھ ختم ۔۔۔۔۔۔

گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ- 27      مارچ   2025

یہ پکچر اس دور کی ہے جب میں گورنمنٹ ہائی سکول داودخیل میں انگلش ٹیچر تھا۔

یہ پکچر ان دنوں لی گئی جب ہم نے سکول میں ایک تاریخی ڈراما سٹیج کیا تھا۔

کرسیوں پر دائیں سے بائیں مہمان خصوصی بھائی فتح خان سالار، ڈرامے کے دو مرکزی کردار امیر خان لمے خیل اور ملک عزیز، اور میرے بڑے بھائی ملک محمد انورعلی ہیڈماسٹر ۔

پیچھے کھڑے لوگ۔۔۔۔ دائیں سے بائیں ڈرائنگ ماسٹر غلام سرورخان نیازی، میں، اوریئنٹل ٹیچر سید محمد رضا شاہ بخاری اور ایس وی ٹیچر ماسٹر ممریز خان صاحب

تیسری قطار میں کچھ بچے کھڑے ہیں۔

ڈرامے کے مرکزی کردار امیر خان لمے خیل اور ملک عزیز ہمارے سٹوڈنٹ تھے۔ پکچر میں وہ اسی حلیے اور لباس میں شامل ہیں جو ڈرامے میں تھا۔ تلوار مارکہ مونچھیں اور پگڑیاں ڈرامے میں کردار کے مطابق لگائی گئی تھیں۔(پکچر بشکریہ شاہد اقبال خان داودخیل)  28     مارچ   2025

ٹر گیا ڈھولا رونق مک گئی گلیاں دی

ہر سال عید کے حوالے سے اپنی پوسٹس کے سلسلے میں غلام حسین خان ولد رنگی خان شکورخیل کے بارے میں ایک الگ پوسٹ لکھتا ہوں کیونکہ داودخیل میں عید کے دن یہ من موجی جوان سب سے منفرد ہوتا تھا۔

وہ غریب تھا مگر عید کے دن سب سے امیر آدمی لگتا تھا۔ شہر میں سب سے مہنگا لباس، جاپانی بوسکی کی قمیض،  چابی مارکہ سفید لٹھے کی شلوار ،  سر پہ آرکنڈی وائل کی کلف لگی سفید پگڑی اور پاوں میں زری والی کھیڑی پہن کر جب وہ عید کے دن شہر کا چکر لگاتا تھا تو راہ چلتے لوگ اسے دیکھنے کے لیئے رک جاتے تھے۔

غلام حسین خان نے نہ کوئی ملازمت کی نہ کاروبار۔ چندکنال آبائی زمین کی پیداوار اس کا اکلوتا ذریعہ معاش تھی۔ عمر بھر روکھی سوکھی کھا کر گذر بسر کرتا رہا۔ لیکن عید کے دن وہ شہر کا امیر ترین شخص لگتا تھا۔ عید کا  لباس خریدنے  کے لیئے وہ پورا رمضان المبارک مٹی کی کچی اینٹیں بناتا رہتا تھا۔ اس زمانے میں زیادہ تر گھر کچی اینٹوں سے بنتے تھے۔ اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی اینٹیں بیچ کر غلام حسین اس رقم سے عید کا لباس اور جوتے خرید لیتا تھا۔ چٹا ان پڑھ تھا۔ اسے کپڑے کے مختلف برانڈز کے نام بھی نہیں آتے تھے۔ کپڑے کی دکان پر جا کر کہتا سب سے مہنگا کپڑا دکھاو۔ اور پھر وہی کپڑا خرید لیتا ۔۔۔۔۔۔

بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے زندگی کے آخری چند سال وہ عید پر کوئی خاص تکلف نہ کر سکا۔

ایک دفعہ میرے بیٹے رضوان نے اس کے بارے میں میری لکھی ہوئی پوسٹ پڑھ کر اسے سنائی تو غلام حسین خان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ بھرائی ہوئی آواز میں  کہا ” ملک منور تاں میڈا بھرا جو ہے ۔ او میکو یاد نہ رکھیسی تاں ہور کونڑں میکو یاد رکھیسی “۔

وہی عید غلام حسین خان کی اس دنیا میں آخری عید تھی۔  29     مارچ   2025

آج عید کا چاند نظر آنے کا قوی امکان ہے۔ اللہ خیر کرے۔عید کے چاند کا بے چینی سے انتظار بھی ایک قدیم روایت ہے۔ جو دوست یا عزیز مدت بعد نظر آئے اس سے بھی کہا جاتا تھا ” اکا توں تاں یار عید دا چن بنڑں گیا ایں”۔

دعا ہے کہ رب کریم تمام اہل ایمان کی عبادات ، روزے نمازیں صدقات و خیرات قبول فرما کر ہمارے سب مسائل کے بارے میں خیر کے فیصلے فرمائے۔ اور اس عید کو وطن عزیز کے لیئے خیروبرکت کا وسیلہ بنا دے۔30      مارچ   2025

عید مبارک

رب کریم اس عید کو ہم سب کے لیئے وسیلہ خیروبرکت بنا دے

عید کے حوالے سے اپنا بہت پرانا قطعہ۔۔۔۔۔۔۔۔

سب کو خوشیاں نصیب ہوں یا رب

ہر گریباں کا چاک سل  جائے

عید کے دن یہ آرزو ہے مری

وہ کہیں راستے میں مل جائ

31      مارچ   2025

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top