محمد اقبال شاہ ایڈووکیٹ (ناشناس) — زندگی، شخصیت اور شاعری کا ادبی جائزہ
میانوالی کی تاریخ اور تہذیب ہمیشہ سے ایک ایسی مٹی رہی ہے جہاں لفظ، محبت، فطرت اور سادگی اپنے اپنے رنگوں میں مل کر انسان کی شخصیت بناتے ہیں۔ اسی سرزمین سے تعلق رکھنے والے محمد اقبال شاہ ایڈووکیٹ (تخلص: ناشناس) نہ صرف وکالت کے میدان سے وابستہ ہیں بلکہ ایک سنجیدہ شاعر، مترجم، نکات آفرین نثرنگار اور ادبی محفلوں کے روحِ رواں بھی ہیں۔
ان کے شعری مجموعے “تجسیمِ سخن” اور “باوضو نگاہیں” ان کی فکری سمت، جمالیاتی شعور اور زبان و بیان کی مہارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے گھر کی بیٹھک — جسے حلقوں میں “دولت کدہ” کہا جاتا ہے — برسوں تک ادبی نشستوں کا مرکز رہی جہاں شاعر، استاد، نقاد، اور نوجوان طلبہ لفظ کی خیرات لینے آتے ہیں
فطرت، مٹی اور میانوالی کی روح
اقبال شاہ کے ہاں فطرت سے رشتہ سب سے پہلے نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری کا منظرنامہ میانوالی کی سرزمین، اس کے جغرافیے اور کردار سے جڑا ہوا ہے:
مہرباں قدرت میانوالی پہ ہے
جھیل ہے، میدان ہے، صحرا بھی ہے
نقش ہے کردار پر کوہِ جواں
شیر کی مانند اک دریا بھی ہے
یہ اشعار محض جغرافیہ نہیں بیان کرتے —
یہ ایک تہذیب، ایک مزاج اور ایک داخلی وجود کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔
میانوالی کی زمین، پانی، پہاڑ اور دریا شاعر کی شناخت میں گھل کر اس کی داخلیت بن جاتے ہیں۔
یہاں آدمی سادہ بھی ہے اور گہرا بھی — اور یہی کیفیت شاعر کی اپنی شخصیت میں جھلکتی ہے۔
شام دسمبر کی — یاد، جدائی اور گمشدگی
اقبال شاہ کی شاعری میں وقت کا احساس بہت نمایاں ہے۔
ماضی کی کوئی ساعت جب یاد بن کر لوٹتی ہے تو پوری فضا اداس ہو جاتی ہے:
تم چھوڑ چلے اِس دنیا کو اور روتی شام دسمبر کی
ہر سال تمہاری یاد لیے آئے گی شام دسمبر کی
اس نظم میں:
✔ موسم
✔ یاد
✔ جدائی
✔ تنہائی
✔ دھندلاہٹ
ایک دوسرے میں حل ہو جاتے ہیں۔
سگریٹ کے دھوئیں میں فقیر کی بو کا شامل ہونا ایک یاد کی کثافت ہے۔
پٹھانے خان کی دُور سے آتی آواز — یہ خالص میانوالی کا صوتی منظرنامہ ہے۔
یہ نظم غم کا دباؤ نہیں،
بلکہ حسنِ غم کی وہ کیفیت ہے جس میں شاعر خود کو کھو کر بھی پورا رہتا ہے۔
زندگی — ایک مکالمہ
اقبال شاہ کی شاعری میں زندگی ایک مستقل مکالمہ ہے:
تھک گیا ہوں نیند دیتی ہے صدا اے زندگی
روز ہوتی ہے نمازِ جاں قضا اے زندگی
یہاں شاعر کوئی رومانوی فریب نہیں بیچتا۔
زندگی ایک مسلسل محنت، دھوکہ، تشنگی اور تلاش ہے۔
وہ مزارِ عشق پر جلتے دیے کی روشنی
ٹمٹماتی ہے اُسے جا کر ہوا اے زندگی
عشق کا دیا جل رہا ہے — مگر ہوا موجود ہے۔
یہ جدوجہد اور استقامت کی علامت ہے۔
زندگی کا جواب موت نہیں —
بلکہ معنویت ہے۔
حسن اور بے ربتی
محبت کے تجربے میں بھی وہ داخلی سچائی کی تلاش میں ہیں:
برگِ گل، بادِ صبا، پھولوں کی رنگت اور تھی
اُس سے مل کر جونہی لوٹے دل کی حالت اور تھی
یہاں شاعر حسن کے بعد تحول دیکھتا ہے۔
محبت روحانی ہے، مگر بدن کی بے ربط دھڑکن بھی ساتھ چلتی ہے۔
یہ لطافت اور اضطراب کی باہم آمیزش ہے۔
تجرید اور سوالات
اقبال شاہ محض منظرنگار نہیں —
وہ سوال اٹھاتے ہیں:
سیاست، حسن اور مذہب کے تجریدی تقاضوں میں
صنم کتنے تراشوں گا، خدا کتنے بناؤں گا
یہاں فکر کی گہرائی،
سیاسی و مذہبی استعارہ
اور انسانی ذمہ داری موجود ہے۔
وہ تقدس کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں:
مقدس ہستیوں کا ذکر دھڑکن میں بساؤں گا
ورق قرآن کے کیونکر بھلا نیچے گراؤں گا
یہ ادب اور ایمان دونوں کا احترام ہے —
نہ انتہاپسندی، نہ بےنیازی۔
وجود، خوف اور معاصر اضطراب
معاصر معاشرتی بے یقینی ان کے اشعار میں تیکھا اور واضح ہے:
یہ خوف ہے لاحق کہیں بستی نہ جلا دیں
شب کو بھی نہ اِن اندھوں کے ہاتھوں میں دِیا دیں
یہاں “اندھے” کوئی جسمانی اشارہ نہیں —
بلکہ غفلت، بے بصیرتی اور ہنگامہ پرستی ہے۔
سماج کا بکھرا ہوا حافظہ بھی ان کے ہاں ملتا ہے:
قسمت کے ستاروں کا گزر یاد نہیں ہے
بستی کو لگی کس کی نظر یاد نہیں ہے
ادب یہاں تشخیصِ مرض ہے —
شکایت نہیں، آگاہی ہے۔
استعارہ، فضا اور شعری صنعت
اقبال شاہ کی زبان:
✔ سادہ
✔ شفاف
✔ محاورہ زدہ
✔ مگر گہری
ان کے ہاں استعارہ فطری ہے، مصنوعی نہیں۔
-
برگِ گل
-
بادِ صبا
-
سگریٹ کا دھواں
-
دسمبر کی شام
-
جلتا دیا
-
ندیا پار تربت
یہ سب علامتیں نہیں —
یہ زندہ مناظر ہیں جو یاد، موت، عشق اور خوف کے ساتھ جڑ کر معنی پیدا کرتے ہیں۔
شخصیت کا نقش
ان کی زندگی اور شاعری میں تضاد نہیں —
دونوں سنجیدگی، سادگی اور اندرونی وقار سے جڑی ہیں۔
-
وہ وکیل ہیں
-
محفل کے آدمی ہیں
-
مگر شہرت سے بےنیاز
-
لفظ کے خدمتگار
ان کا “دولت کدہ” میانوالی کی ادبی تاریخ کا حصہ ہے جہاں
شعری آوازیں، قہقہے، تلاوت، اور دوستوں کی گفتگو —
سب ایک ہی فضا میں شامل ہوتے تھے۔
محمد اقبال شاہ ایڈووکیٹ ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری میں:
✔ مٹی کی خوشبو
✔ وقت کی اداسی
✔ محبت کی سچائی
✔ فطرت کی آغوش
✔ اور زندگی کا کرب
سب کچھ ایک ساتھ موجود ہے۔
نہ بلند آہنگی
نہ لفاظی
نہ فیشن
صرف سچائی، تجربہ اور خاموش حسن۔
Muhammad Iqbal Shah Advocate (Na-Shanaas) — A Literary Overview of His Life, Personality, and Poet
Shakhsiyat aur She‘r: Muhammad Iqbal Shah Advocate par Ahl-e-Adab ki Gawahiyaan
