شخصیت اور شعر: محمد اقبال شاہ ایڈووکیٹ پر اہلِ ادب کی گواہیاں
میں کچھ نہیں تھا مگر کچھ آوازوں نے مجھ بصیرت سے محروم شخص کو رستہ دکھایا
میں کہ آسانی سے جنگلائے ہوئے ماحول کا وحشت زدہ باشندہ اپنے جوش و جذبے کو غلط سمت میں استعمال کرتا لیکن ایک سورج جیسے دمکتے پرخلوص سیارے نے اپنی کشش سے میرا مدار بدل ڈالا اور میں ایک ہی جست میں چرسی ڈھولے سے ٹیچر بن گیا !
ان سے ملیے !
یہ حضرت محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب ہیں ۔ انگریزی ادب کی دلدادہ اس نفیس روح سے پہلی ملاقات تو مجھے یاد نہیں لیکن پہلی پکار مجھے خوب یاد ہے ۔ یہ غالباً دو ہزار نو کی بات ہے جب کراچی سے شائع ہونے والے ادبی مجلہ “دنیائے ادب ” نے میرا “گوشہ” شائع کیا ۔ “دنیائے ادب” اپنی نوعیت کا منفرد کام کرنے والا ایسا رسالہ تھا کہ جس نے مجھ ایسے کئی گوشہ نشینوں کو مسندِ اعزاز پہ لا بٹھایا ۔ اس شعری تعارف کے ہمراہ میری تصویر اور موبائل نمبر بھی شائع ہوا تھا ۔ اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب نے پہلی مرتبہ اس گوشے کے توسط سے مجھے فون کیا تھا ۔ پھر ملاقات ہوئی تو میں نے انھیں اپنا شعری مجموعہ “خواب میں بہتی آنکھ” پیش کیا اور ان سے ان کا خوب صورت شعری مجموعہ ” باوضو نگاہیں” وصول کیا ۔ پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا ۔
قبل اس سے کہ ان کا مزید تعارف ہو ان کا شعر پڑھیے ؛
جواں دہقان سے کہتی تھی لڑکی کیمیا گر کی
مجھے سونے کی بُو آتی ہے کیوں تیرے پسینے سے؟
محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب کے حضور ہی میری ملاقات حضرت گل حمید سے ہوئی ۔ اللہ اللہ کیا ہی اعلیٰ ذہن کے مالک نوجوان تھے ۔ انگریزی فلسفہ اور انگریزی ادب پہ بولتے تو گویا پھول جھڑتے تھے ۔ جب دونوں احباب کے حضور میری حاضری ہوتی تو اکثر میں خاموش رہتا اور سیکھنے کی کوشش کرتا ۔
کئی یادگار دوپہریں اور شامیں ہم نے اکٹھی گزاریں ۔ ادب ، فلسفہ ، تاریخ ، مذہب اور فنون لطیفہ پہ گفت گو چلتی تو وقت گزرنے کی خبر ہی نہ ہوتی ۔ ضیاءاللہ قریشی ، نور تری خیلوی اور فتح محمد آصو (مرحوم) ہمارے ہومیو پیتھک سامعین ہوتے تھے یعنی خاموش اور دونوں جوانب “جی جی ، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہنے والے” یہ الگ بات کہ شاعر تو یہ تھے ، چاہے کوئی مانتا چاہے نہ مانتا !
بھائی اسد رحمان خان سے زیادہ تر ملاقاتیں انھی کے مہمان خانہ میں ہوئیں ۔
محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب سادات کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جو تصوف میں بھی مقام و مرتبہ رکھتے ہیں اور علاقہ کے سردار بھی تھے۔ ماضی کا صیغہ میں نے اس لئے استعمال کیا کہ اب تو کئی نودولتیے سردار بن کر اگ آئے ہیں اور یہ لفظ ہتک جیسا معلوم ہوتا ۔ شاہ صاحب کا مہمان خانہ شاز ہی مہمانوں سے خالی ہو گا ۔ ہمیشہ دو چار لوگ آئے ہوں گے اور یہ بات شاہ صاحب تک موقوف نہیں بلکہ ان کے بچے بھی بلا کے مہمان نواز ہیں ۔ اتنے اصرار سے خدمت کریں گے کہ مجھ ایسا کمزور آدمی تو شرمندہ ہونے لگے کہ بزرگ ہو کر بھی ہمارے سامنے پلیٹیں درست کر رہے ۔ اٹھا اٹھا کر چیزیں پیش کر رہے اور ملازموں کے ہونے کے باوجود خود خدمت کر کے گویا وہ اپنے نسبی حوالے پہ مہر ثبت کرتے ہیں !
محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب نے شیکسپئر کے مشہور ڈرامے ” اوتھیلو ” کو اردو میں منظوم کیا تو اس کتاب کی تقریب رونمائی میرے حصے میں آئی ۔ ڈاکٹر وقار خان ، عمار یاسر مگسی ، ارشد ذکی اور خالد ندیم شانی صاحب کئی دوست میرے پاس ٹھہرے تو شاہ صاحب کا مزاج کہ کھانا میرے ڈیرے پہ ہو گا ۔ عرض کیا کہ حضور مہمانوں نے صبح جلدی نکلنا ہے ۔ حکم ملا ناشتہ کے لئے وقت دے دیجے اور جب ان کے ڈیرے پر پہنچے تو شاہ صاحب ناشتے سمیت ہمارے منتظر تھے ۔۔ !
کئی ایک ایسے واقعات ہیں جنھیں قلمبند کرتے ہوئے آنکھیں چھلک جاتی ہیں ان کی پدری شفقت یاد آ جاتی ہے ۔ مجھے رومی اور حافظ شیرازی سے محبت تھی تو ناشناس سنا کرتا ۔ انھوں نے میرا سہگل سے تعارف کرا دیا ۔ میں نے پنجابی کلاسیک میں شو کمار بٹالوی سے ملاقات کرائی تو انھوں نے انگریزی فلسفہ میں فریڈرک نطشے کی فکر کی یوں تشریحات پیش کیں کہ مجھے نطشے بھی سید سرداروں کا عقیدت مند لگنے لگا ۔۔
میں کہ راہ سے بھٹکا ہوا ایک شاعر تھا جس کے اندر ایک ہی اچھی بات تھی کہ مطالعہ بھرپور کرتا تھا مجھے دوبارہ تعلیم کی راہ پہ ڈالنے والے اور ٹیچنگ فیلڈ میں لے کر جانے والے بھی محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب ہیں ۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں اور اس اعتراف کی صداقت پہ رائی برابر بھی شبہ نہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو میں وہی “چرسی ڈھولا ” ہوتا ۔۔ لیکن ٹیچر نہ ہوتا ۔۔ !
آج پلٹ کر دیکھتا ہوں تو محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب اپنی پدری شفقت آنکھوں میں لیے مجھے تھپکی دیتے ہیں اور میں نمی آنکھوں میں لئے صرف اتنا کہہ سکتا ہوں
“پیراں تے ہتھ شاہ جی”
شاکر خان بلچ
“واضح رہے کہ اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب پولیو کے مریض رہے بعد ازاں اٹیک کی وجہ سے نصف جسم مفلوج ہوا ، ساری زندگی وہیل چیئر پہ گزاری لیکن اپنی مخصوص بائیک پہ ناران کاغان تک سفر کر چکے اور ایک بھرپور زندگی جی رہے ۔ اللہ انھیں ہمیشہ سلامت رکھے “
کتابی تبصرہ: تجسیمِ سخن — ایک عالم، شاعر اور فکری رہنما کی تخلیق
ادب شناس۔۔۔محمد اقبال شاہ ناشناس
تبصرہ نگار:۔۔۔۔ لہر نیازی
یوں تو میانوالی کی ادبی فضا پر انتہائی تنگ نظری اور تنگ دلی کے بادل چھائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ لیکن جب کبھی مجھے ایک شخصیت کا خیال آتا ہے تو پھر مجھے اپنا یہ نظریہ تبدیل کرنا پڑ جاتا ہے۔
اور وہ شخصیت میانوالی کے صاحبِ ذوق شاعر— محمد اقبال شاہ ناشناس ایڈووکیٹ ہیں۔ شاہ جی کے دولت کدے پر مجھے بہت کم حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ شاہ صاحب سید گھرانے کی اُجلی روایت، علمی وقار، خوش اخلاقی اور محبت کی خوشبو لیے ادیبوں شاعروں کے لیے ہمیشہ دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ آپ کا تازہ شعری مجموعہ “تجسیمِ سخن”
قارئین کی دلچسپی حاصل کر چکا ہے۔ آپ کی شخصیت کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپ سب کو توجہ سے سنتے ہیں اور اپنی قیمتی رائے سے بھی نوازتے ہیں۔ اپنی رائے دینے میں کسی قسم کی طرف داری نہیں کرتے بلکہ خلوص نیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔

