Shakhsiyat aur She‘r: Muhammad Iqbal Shah Advocate par Ahl-e-Adab ki Gawahiyaan

شخصیت اور شعر: محمد اقبال شاہ ایڈووکیٹ پر اہلِ ادب کی گواہیاں

 

میں کچھ نہیں تھا مگر کچھ آوازوں نے مجھ بصیرت سے محروم شخص کو رستہ دکھایا

میں کہ آسانی سے جنگلائے ہوئے ماحول کا وحشت زدہ باشندہ اپنے جوش و جذبے کو غلط سمت میں استعمال کرتا لیکن ایک سورج جیسے دمکتے پرخلوص سیارے نے اپنی کشش سے میرا مدار بدل ڈالا اور میں ایک ہی جست میں چرسی ڈھولے سے ٹیچر بن گیا !

ان سے ملیے !

یہ حضرت محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب ہیں ۔ انگریزی ادب کی دلدادہ اس نفیس روح سے پہلی ملاقات تو مجھے یاد نہیں لیکن پہلی پکار مجھے خوب یاد ہے ۔ یہ غالباً دو ہزار نو کی بات ہے جب کراچی سے شائع ہونے والے ادبی مجلہ “دنیائے ادب ” نے میرا “گوشہ” شائع کیا ۔ “دنیائے ادب” اپنی نوعیت کا منفرد کام کرنے والا ایسا رسالہ تھا کہ جس نے مجھ ایسے کئی گوشہ نشینوں کو مسندِ اعزاز پہ لا بٹھایا ۔ اس شعری تعارف کے ہمراہ میری تصویر اور موبائل نمبر بھی شائع ہوا تھا ۔ اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب نے پہلی مرتبہ اس گوشے کے توسط سے مجھے فون کیا تھا ۔ پھر ملاقات ہوئی تو میں نے انھیں اپنا شعری مجموعہ “خواب میں بہتی آنکھ” پیش کیا اور ان سے ان کا خوب صورت شعری مجموعہ ” باوضو نگاہیں” وصول کیا ۔ پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا ۔

قبل اس سے کہ ان کا مزید تعارف ہو ان کا شعر پڑھیے ؛

جواں دہقان سے کہتی تھی لڑکی کیمیا گر کی

مجھے سونے کی بُو آتی ہے کیوں تیرے پسینے سے؟

محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب کے حضور ہی میری ملاقات حضرت گل حمید سے ہوئی ۔ اللہ اللہ کیا ہی اعلیٰ ذہن کے مالک نوجوان تھے ۔ انگریزی فلسفہ اور انگریزی ادب پہ بولتے تو گویا پھول جھڑتے تھے ۔ جب دونوں احباب کے حضور میری حاضری ہوتی تو اکثر میں خاموش رہتا اور سیکھنے کی کوشش کرتا ۔

کئی یادگار دوپہریں اور شامیں ہم نے اکٹھی گزاریں ۔ ادب ، فلسفہ ، تاریخ ، مذہب اور فنون لطیفہ پہ گفت گو چلتی تو وقت گزرنے کی خبر ہی نہ ہوتی ۔ ضیاءاللہ قریشی ، نور تری خیلوی اور فتح محمد آصو (مرحوم) ہمارے ہومیو پیتھک سامعین ہوتے تھے یعنی خاموش اور دونوں جوانب “جی جی ، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہنے والے” یہ الگ بات کہ شاعر تو یہ تھے ، چاہے کوئی مانتا چاہے نہ مانتا !

بھائی اسد رحمان خان سے زیادہ تر ملاقاتیں انھی کے مہمان خانہ میں ہوئیں ۔

محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب سادات کے اس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے جو تصوف میں بھی مقام و مرتبہ رکھتے ہیں اور علاقہ کے سردار بھی تھے۔ ماضی کا صیغہ میں نے اس لئے استعمال کیا کہ اب تو کئی نودولتیے سردار بن کر اگ آئے ہیں اور یہ لفظ ہتک جیسا معلوم ہوتا ۔ شاہ صاحب کا مہمان خانہ شاز ہی مہمانوں سے خالی ہو گا ۔ ہمیشہ دو چار لوگ آئے ہوں گے اور یہ بات شاہ صاحب تک موقوف نہیں بلکہ ان کے بچے بھی بلا کے مہمان نواز ہیں ۔ اتنے اصرار سے خدمت کریں گے کہ مجھ ایسا کمزور آدمی تو شرمندہ ہونے لگے کہ بزرگ ہو کر بھی ہمارے سامنے پلیٹیں درست کر رہے ۔ اٹھا اٹھا کر چیزیں پیش کر رہے اور ملازموں کے ہونے کے باوجود خود خدمت کر کے گویا وہ اپنے نسبی حوالے پہ مہر ثبت کرتے ہیں !

محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب نے شیکسپئر کے مشہور ڈرامے ” اوتھیلو ” کو اردو میں منظوم کیا تو اس کتاب کی تقریب رونمائی میرے حصے میں آئی ۔ ڈاکٹر وقار خان ، عمار یاسر مگسی ، ارشد ذکی اور خالد ندیم شانی صاحب کئی دوست میرے پاس ٹھہرے تو شاہ صاحب کا مزاج کہ کھانا میرے ڈیرے پہ ہو گا ۔ عرض کیا کہ حضور مہمانوں نے صبح جلدی نکلنا ہے ۔ حکم ملا ناشتہ کے لئے وقت دے دیجے اور جب ان کے ڈیرے پر پہنچے تو شاہ صاحب ناشتے سمیت ہمارے منتظر تھے ۔۔ !

کئی ایک ایسے واقعات ہیں جنھیں قلمبند کرتے ہوئے آنکھیں چھلک جاتی ہیں ان کی پدری شفقت یاد آ جاتی ہے ۔ مجھے رومی اور حافظ شیرازی سے محبت تھی تو ناشناس سنا کرتا ۔ انھوں نے میرا سہگل سے تعارف کرا دیا ۔ میں نے پنجابی کلاسیک میں شو کمار بٹالوی سے ملاقات کرائی تو انھوں نے انگریزی فلسفہ میں فریڈرک نطشے کی فکر کی یوں تشریحات پیش کیں کہ مجھے نطشے بھی سید سرداروں کا عقیدت مند لگنے لگا ۔۔

میں کہ راہ سے بھٹکا ہوا ایک شاعر تھا جس کے اندر ایک ہی اچھی بات تھی کہ مطالعہ بھرپور کرتا تھا مجھے دوبارہ تعلیم کی راہ پہ ڈالنے والے اور ٹیچنگ فیلڈ میں لے کر جانے والے بھی محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب ہیں ۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں اور اس اعتراف کی صداقت پہ رائی برابر بھی شبہ نہیں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو میں وہی “چرسی ڈھولا ” ہوتا ۔۔ لیکن ٹیچر نہ ہوتا ۔۔ !

آج پلٹ کر دیکھتا ہوں تو محمد اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب اپنی پدری شفقت آنکھوں میں لیے مجھے تھپکی دیتے ہیں اور میں نمی آنکھوں میں لئے صرف اتنا کہہ سکتا ہوں

“پیراں تے ہتھ شاہ جی”

شاکر خان بلچ

“واضح رہے کہ اقبال شاہ ایڈوکیٹ صاحب پولیو کے مریض رہے بعد ازاں اٹیک کی وجہ سے نصف جسم مفلوج ہوا ، ساری زندگی وہیل چیئر پہ گزاری لیکن اپنی مخصوص بائیک پہ ناران کاغان تک سفر کر چکے اور ایک بھرپور زندگی جی رہے ۔ اللہ انھیں ہمیشہ سلامت رکھے “

 

 
منور علی ملک
 
محمد اقبال شاہ ناشناس میانوالی کےسینیئر شاعر ہیں۔ تجسیم سخن ان کی شاعری کا چوتھا مجموعہ ہے۔ شاہ جی نے شاعری میں رسم و روایت سے ہٹ کر اپنے جذبات کے اظہار کے لیئے اپنی الگ راہ نکالی ہے۔ انہوں نے کسی کی تقلید نہیں کی بلکہ نئے انداز کی شاعری کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ان کی شاعری کا لفظی لباس تو روایت والا ہے مگر معنی و مفہوم کا کینوس بہت وسیع ہے ۔ خواب ، زندگی اور خوشبو کی علامتوں کو ناشناس نے نئے مفاہیم سے آشنا کیاہے۔ تجسیم سخن میں سے یہ چند شعر ملاحظہ کیجیئے ۔
یوں ہی منسوب سفر میں نہیں قصے مجھ سے
رونے لگتے ہیں بچھڑتے ہوئے رستے مجھ سے
ہے تلخیءحیات کا احوال بس یہی
جو کل گذر چکا ہے وہی دن برا نہ تھا
جہاں میں عظمت کردار کو شہرت سے کیا مطلب
زر خالص کو لازم تو نہیں ہے شرط تابانی
پنجرےہی ھی ڈھونڈتے ہیں پرندوں کے غول اب
آزادیاں فضا میں نہیں ڈھونڈتا کوئی
یہ زندگی آوروں کو دکھانے میں گذاری
خوشبو کو ہواؤں سے چھپانے میں گذاری
ناشناس کی شاعری کے بارے میں میری حتمی رائے یہ ہے کہ ناشناس کی شاعری آنے والے کل کی شاعری ہے۔
شاہ جی کا دولت کدہ میانوالی کے اہل قلم کے لیئے آستانہ ء عالیہ ہے۔ اہل قلم کو ایسی نجی بیٹھک پہلے میسر نہ تھی ۔ شہر میں سب سے قدیم بیٹھک مین بازار میں آزاد ہوٹل کی بالائی منزل پر دن کے پچھلے پہر منعقد ہوتی تھی ۔ شرر صہبائی، انجم جعفری ، سالار نیازی ، تاج محمد تاج ، اسلم ظفر سنبل اور میاں نعیم اس محفل کے مستقل رکن تھے ۔
موتی مسجد کے قریب مرحوم قادر یار کی دکان کی بالائی منزل بھی شاعروں کی بیٹھک ہوا کرتی تھی۔
مین بازار ہی میں حافظ سویٹ شاپ کی بالائی منزل بھی اہل قلم کی بیٹھک کے لیئے مختص تھی۔ میں، پروفیسر محمد سلیم احسن ، منصور آفاق ، ، وولٹا بیٹری والے صوفی حمید اللہ خان ، حیات اللہ خان بہرام خیل اور مہرزمان خان ہزارے خیل اس بیٹھک کے مستقل رکن تھے ۔ صوفی حمید اللہ خان اور مہر زمان خان اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
چند سال پہلے میانوالی ادبی بیٹھکوں سے خالی ہو گیا تو ناشناس نے آگے بڑھ کر اہل قلم کا ہاتھ تھام لیا۔ یوں ان کا دولت کدہ اہل قلم کا آستانہ ء عالیہ بن گیا۔ لنگر کا اہتمام بھی ناشناس اپنی جیب سے کرتے ہیں ۔ خوب رونق لگی رہتی ہے ۔
 

کتابی تبصرہ: تجسیمِ سخن — ایک عالم، شاعر اور فکری رہنما کی تخلیق
کتابی جائزہ: وقار احمد ملک
 
شعر و ادب محض جذبات کی تخلیق نہیں بلکہ ایک فکری جمالیات کا بیان ہے، اور محمد اقبال شاہ ناشناس کی نئی شعری کتاب تجسیمِ سخن اسی جہانِ فکر و فن کی خوبصورت نمائندگی کرتی ہے۔
اقبال شاہ صاحب صرف شاعر نہیں بلکہ ایک ماہر وکیل، جید ادیب، اور انگریزی ادب کے گہرے مطالعہ رکھنے والے شخص ہیں۔ ان کی علمی بصیرت اور قانونی فہم نے ان کی شاعری کو ایک خاص گہرائی بخشی ہے۔ ان کی شاعری زندگی، ذات، وقت، اور معاشرتی پیچیدگیوں کو اس انداز سے بیان کرتی ہے کہ قاری اپنے دل کی آواز محسوس کرتا ہے۔
تجسیمِ سخن میں سادگی اور صداقت کے ساتھ فکری نزاکت بھی نظر آتی ہے۔ اشعار میں نہ صرف جذباتی اظہار ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک خاموش دانش بھی چھپی ہوئی ہے، جو پڑھنے والے کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے:
تم نے سوچا ہے کبھی؟
خود سے مکالمہ کیسا لگتا ہے؟
ایسے اشعار صرف خوبصورت زبان کا نمونہ نہیں بلکہ ایک داخلی سفر کا آغاز بھی ہیں۔
کتاب کی ترتیب، عناوین، اور کلام کی ساخت میں وہ سلیقہ اور وقار جھلکتا ہے جو صرف ایک سنجیدہ اور باذوق ادیب ہی پیش کر سکتا ہے۔ ہر صفحہ قاری کے دل پر دستک دیتا ہے اور ذہن کو بیدار کرتا ہے۔
تجسیمِ سخن ایک ایسی کتاب ہے جو پڑھنے والے کو نہ صرف جمالیاتی لطف دیتی ہے بلکہ فکری بالیدگی بھی عطا کرتی ہے۔ محمد اقبال شاہ کی یہ تخلیق ایک پڑھے لکھے شاعر کا سچا اظہاریہ ہے، جو ادب، قانون، اور زندگی کے مختلف زاویوں کو ایک نکتے پر مجتمع کرتی ہے۔

ادب شناس۔۔۔محمد اقبال شاہ ناشناس

تبصرہ نگار:۔۔۔۔ لہر نیازی

یوں تو میانوالی کی ادبی فضا پر انتہائی تنگ نظری اور تنگ دلی کے بادل چھائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ لیکن جب کبھی مجھے ایک شخصیت کا خیال آتا ہے تو پھر مجھے اپنا یہ نظریہ تبدیل کرنا پڑ جاتا ہے۔

اور وہ شخصیت میانوالی کے صاحبِ ذوق شاعر— محمد اقبال شاہ ناشناس ایڈووکیٹ ہیں۔ شاہ جی کے دولت کدے پر مجھے بہت کم حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ شاہ صاحب سید گھرانے کی اُجلی روایت، علمی وقار، خوش اخلاقی اور محبت کی خوشبو لیے ادیبوں شاعروں کے لیے ہمیشہ دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ آپ کا تازہ شعری مجموعہ “تجسیمِ سخن”

قارئین کی دلچسپی حاصل کر چکا ہے۔ آپ کی شخصیت کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپ سب کو توجہ سے سنتے ہیں اور اپنی قیمتی رائے سے بھی نوازتے ہیں۔ اپنی رائے دینے میں کسی قسم کی طرف داری نہیں کرتے بلکہ خلوص نیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔

 
آج شام علم و ادب کے قدر دان، معروف قانون دان و باکمال شاعر جناب محمد اقبال شاہ صاحب کے دولت کدہ پر حاضر ہوا۔ شاہ صاحب نہ صرف میرے ٹیکس کے وکیل ہیں بلکہ آپ سے ایک قلبی تعلق اور محبت بھی ہے۔ آج کی ملاقات ادبی حوالے سے یادگار رہی، بندہ نے آپ کی خدمت میں اپنی نئی کتاب “مکاتیبِ رام لعل (مکاتیب بنام پروفیسر محمد سلیم احسن)” پیش کی۔
آپ کی بیٹھک میانوالی میں اہلِ قلم کے لیے ایک فعال مرکز کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں اکثر علمی و ادبی نشستیں اور مشاعرے معمول کا حصہ ہیں۔ آپ نہ صرف میانوالی شہر میں ادب کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ اہلِ سخن کو اظہار کے مواقع فراہم کر کے ایک مثبت روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ حال ہی میں آپ کا شعری مجموعہ “تجسیمِ سخن” شائع ہوا ہے، جسے ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ خدا تعالیٰ آپ کو صحت و تندرستی عطا فرمائے اور تا دیر سلامت رکھے آمین ثم آمین
 
لفظ، حرف، تشبیہ، استعارہ، غزل، نظم، ردیف، قافیہ، اوزان، ان جیسے لفظوں سے وہی آشنا ہوتے ہیں جو روح کے لیے مسرت و انبساط کا انتظام وانصرام کرتے ہیں۔ آج میانوالی کے ادبی حلقوں کے معتبر نام محمد اقبال شاہ ناشناس نے اپنی کتاب تجسیم سخن پیش کی۔ شاعروں کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ گل و لالہ پر فریفتہ ہوتے ہیں، حسن کو عریاں کرتے ہیں، کلام میں ننگا پن ہوتا ہے، بادہ و جام کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ ان کا کلام بچوں کو نہ پڑھنے دیا جائے۔ یہ اتہامات کلی طور پر درست نہیں ہیں۔
کچے شاعر ایسا کرتے ہیں۔ مگر جو محبت، حسن، بادہ وجام، مہ خانوں سے آشنا ہوتے ہیں اور تخیل کی بلندیوں پر ہوتے ہیں، وہ قاری کو بھی بلندیوں کی سیر کراتے ہیں۔ اور ان کی روحوں کو سرشاری کر دیتے ہیں۔ تجسیم سخن میں بھی ایسا کلام موجود ہے۔
ذرا دیکھیے
ان پر بھی کرتے رہے ہم اعتبار
جو سمجھتے تھے شرابوں کو حرام
کاش وہ بیٹھے رہیں پہلو میں آج
بادلوں کے ہاتھ لگ جائے یہ شام
اس طرح ایک اور شعر دیکھیے:
اٹکی رہی ایک شخص کے چہرے پر مسلسل میں نے ہٹائی تھی نظر یاد نہیں ہے
ملاحظہ کریں:
رشک ان کی وسعت تاباں سے صحرا کو رہا
دشت کے سینے پہ ایسے بے ریا سجدے ملے
بے طرح سے بے ضمیری نے گزارا عمر کو
بد نظر٫ بے رنگ اور بے نور سے چہرے ملے
تازیانوں نے مجھے بخشی زمانے کی روش
خوش نصیبی تھی یہ غربت کی، مجھے طعنے ملے
اس طرح کے بے شمار اشعار ہیں جو اس مجموعے میں موجود ہیں۔ ایسی کتابوں کی تقاریب پذیرائی ختم ہو چکی ہیں۔ جو ایک سانحہ سے کم نہیں۔ اسی وجہ سے ایسا کلچر پروان چڑھ رہا ہے جو جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔
ایسی کتابوں کی تعارفی نشستیں آرٹس کونسل، پریس کلب، کالجز یا یونیورسٹی میں رکھی جا سکتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ کالجز اور یونیورسٹیز کے ادبی اور اردو سیکشن ایسی تقاریب کیوں نہیں منعقد کرتے۔استاد، لیکچرر، پروفیسر اور ادبی ذوق رکھنے والا شخص ادب کے فروغ کے لیے کام کیوں نہیں کرنا چاہتا۔
اگر ایسی سرگرمیاں شروع نہ کی گئی تو ہمارے سماج میں تنگ نظری آسیب کی طرح چھا جائے گی۔
 
سوۓ مہ خانہ اسیرانِ حرم آتے ہیں
 
احوال آج کی احباب گردی کا ، صبح اٹھ کر حسب حال موباٸل دیکھا تو ریماٸنڈر دیکھا کہ آج چند سینیرز سے ملاقات طے ہے۔
گھر سے نکل کر سڑک پہ پہنچا تو علی عرفان بھاٸی مل گٸے جن کیساتھ سفر شروع کر لیا جو چاچے بشی والے ہوٹل تک رہا، ان سے تھوڑی سی گفتگو سفر کے دوران ہی رہی کیونکہ انہوں نے کالج جانا تھا۔۔۔
بشی ہوٹل سے چاۓ کے دو سِپ سے لیکر قبلہ و مرشدی اقبال شاہ جی کے دولت خانے کا رُخ کیا اسی دوران بڑے بھاٸی ضیا اللہ قریشی کو بھی فون پر اطلاع دے دی تاکہ انکے اشعار کا لطف بھی لیا جا سکے۔۔۔
شاہ صاحب کے پاس پہنچ کر سلام عرض کیا اور ان سے علی اکبر ناطق کے ناول کوفہ کے مسافر پر سیر حاصل گفتگو سنی پھر میلان کنڈیرا کا ذکر چلا ۔۔۔۔
انکے وطن کے درد کو سمیٹتے ہوۓ میانوالی کے بزرگ چچا روشن لال کے دورے کا ذکر چل نکلا۔۔۔۔
اسی گفتگو کے دوران بھاٸی ضیا قریشی پہنچ آۓ اور ان سے اشعار سنے گٸے، انکی گفتگو کی چاشنی سے ابھی مکمل لطف نہیں لے سکے تھے کہ انہیں اپنے ضروری کام سے نکلنا پڑ گیا۔۔۔۔
انکے جانے کے بعد شاہ صاحب قبلہ اقبال شاہ جی نے حالات حاضرہ پہ گفتگو شروع کی اور مارکیز کے وبا کے دنوں میں محبت پر شاندار تبصرہ کیا۔۔۔۔
گفتگو اپنے جوبن پر تھی کہ مشہور شاعر عید کے ٹاپ ٹرینڈ والا پیلا جوڑا پہن کر وارد ہوۓ۔۔
جی بلکل ظہیر مہاروی بھاٸی ایک شادی سے کٹوے کی لذت سمیٹے ہم تک آ پہنچے ،
اب ظہیر مہاروی بھاٸی سے اشعار کیسے نا سُنے جاتے؟؟؟
انہوں نے اپنے کلازم کی تازگی سے ماحول کی خوشگواری میں مزید اضافہ کیا۔۔۔
اب ظہیر مہاروی بھاٸی اور قبلہ شاہ صاحب کی یہ بات بہت خوبصورت ہے کہ وہ میری طرح گاہے بگاہے مارکیز کو پڑھتے رہتے ہیں۔۔۔
پھر مارکیز کی بات چلی اور دن یادگار بنتا گیا۔۔۔
قبلہ شاہ صاحب نے بھی اپنا تازہ کلام سنایا اور مجھ طالب علم سے کچھ فلیش فکشن سنے۔۔۔
دونوں سینیرز نے تعریف کیساتھ نصیحت بھی کی کہ مجھے سنجیدگی کیساتھ اپنا کام کرنا چاہیے اور فضول کاموں کو ترک کر دینے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔۔۔۔۔
میں نے انکی علم اور اصلاح سے بھرپور گفتگو کو دل میں سمیٹ کر اجازت طلب کی، جسکے بعد میں اور ظہیر بھاٸی خوش مزاج انسان لالا حاجی اکرام نیازی کے پاس انکی شاپ پر جا پہنچے جہاں مختلف ٹاپکس پر ڈھیر سی باتیں ھوٸیں۔۔۔
لالا حاجی شاندار انسان ہیں انکی گفتگو کا مزہ ہی کچھ اور ھے۔۔۔
اب شام ہونے کو تھی ، ظہیر بھاٸی نے مجھے اڈے تک پہنچایا اور میں اپنے گاٶں تک آ گیا۔۔۔۔
کیا ہی شاندار دن تھا، آپ سب کی محبتوں کا مقروض ۔۔۔۔۔
سید خیال مہدی
 

تحریر و انتخاب:
رانا غلام محی الدین (اوکاڑہ)
 
محترم محمد اقبال شاہ صاحب ، میانوالی کی معروف ادبی اور سماجی شخصیت ہیں ، خود بہت اچھے شاعر ہیں اور اپنے دولت کدہ پر اکثر شعر و سخن کی محفلیں ںرپا کرتے رہتے ہیں ، ان کی ادب پروری کا عالم یہ ھے کہ با ذوق احباب کو یکجا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، جونہی انھیں پتہ چلے کہ باہر سے کوئی شاعر میانوالی میں وارد ہوئے ہیں ، جھٹ دوستوں کو اکٹھا کر کے شعری نشست کا اہتمام کر لیتے ہیں ،کمال کے مہمان نواز ہیں ،
حال ہی میں ان کا چوتھا شعری مجموعہ “تجسیم-سخن ” شائع ہوا ھے ، مجھ خاکسار سے ان کا تعلق نہایت شفقت آمیز ھے سو انھوں نے مجھے بھی ایک نسخہ تحفتاً ارسال کیا ھے جس کیلئے میں ان کا تہ-دل سے ممنون ہوں اور انھیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ، کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ھے ، قاری ان کی پختہ کاری کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا ، مختصر سا انتخاب احباب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ،
یہ خوف ھے لاحق کہیں بستی نہ جلا دیں
شب کو بھی نہ ان اندھوں کے ہاتھوں میں دیا دیں
چالاک ہیں ہاتھی مجھے اس بات کا ڈر ھے
کنکر نہ ابابیل کہیں اپنے گنوا دیں
عامل مجھے درکار ہیں تعویذ کچھ ایسے
آسیب کے سائے جو مرے گھر سے بھگا دیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دل سے کوئی زندگی سیراب بھی نہیں
دریا ھے ایک اور وہ پایاب بھی نہیں
بیدار بھی نہیں ہوں کہ حاجت ہو نیند کی
اور دیکھنے کو پاس کوئی خواب بھی نہیں
احرام-عشق باندھ کر آیا ترا خیال
دل کیوں کہے طواف کے آداب بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشکوں کے تکلم میں ترا عکس رواں تھا
ایسے میں ترا ذکر تو لفظوں کا زیاں تھا
موقوف تھی مجھ تک ہی کہاں آبلہ پائی
کچھ دائمی زخموں کا زمیں پر بھی نشاں تھا
وہ جان-غزل نیند میں بھی یاد تھی مجھ کو
اک نظم کا لہجہ مرے خوابوں سے عیاں تھا
 
 
 
” تجسیمِ سخن ”  –محمداقبال شاہ ناشناس
 
حرف آشنا  –  عصمت گل خٹک
 
میانوالی خوش بخت ہے جہاں ہر زمانے میں ایک نہ ایک ایسا ادبی شجر سائیہ دار رہا ہے …. جس کی چھاؤں میں نوواردانِ ادب کیساتھ ساتھ پیاسانِ ادب بھی زندگی کا حَظ اٹھاتے اور اپنی پیاس بجھاتے رہے ہیں .
آج ہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ ہم جیسے بزرگوں اور میانوالی کی نوجوان نسل کیلئے محمداقبال شاہ ناشناس کی صورت میں ایک ایسا برگد میسر ہے جہاں جب دل کرے شعرا و ادباء مل بیٹھنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرلیتے ہیں بلکہ اکثر اوقات تو شاہ جی بذات خود بہانے اور جواز کے مواقع اتنی فراخ دلی سے مہیا کرتے ہیں کہ کچے دھاگے سے بندھے دوست احباب چلے جاتے ہیں اور شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب اس ” ادبی مرشدخانے ” پر محفل بپا نہ ہوتی ہو ….. ورنہ مرشدی کا تو ہر لمحہ اور ہر دن ہی پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ..
محمداقبال شاہ ناشناس ….. ذہنی و جسمانی معذروں کے اِس معاشرے میں متحرک و شاندار زندگی کی ایک ایسی شاندار مثال ہیں جن کی صحبت میں بیٹھ کر ہم جیسے قافلہ رفتگانِ کے اندر بھی جب بجلیاں سی دوڑنے لگتی ہیں …..تو‛ نوجوان لوگ تو یقیناً مرشدی کی صحبت میں ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے خواب ہی دیکھتے ہونگے ¡
حال ہی میں شاہ جی کا چوتھا مجموعہ کلام ” تجسیمِ سخن” منصہ شہود پر آیا ہے ___ جس میں خالصتاً ان کے ذاتی تجربات و احساسات …. اپنے ماحول اور زمانے کی وہ تصویریں شعروں کی صورت میں پینٹ کی ہیں … جن کو اپنی جسمانی اور اندر کی آنکھ سے انہوں نے نہ صرف بیک وقت دیکھا بلکہ محسوس اور جذب بھی کیا اور پھر اشعار کی صورت میں ہمعصر اور آنیوالی نسلوں کیلئے محفوظ بھی کیا .
شاہ صاحب کا دیر تک سوئے رہنے اور قافلے سے بچھڑ جانے کا اعتراف اپنی جگہ شاید ایک حقیقت ہو کیونکہ بقول ِ اجمل نیازی اس خطہ حیرت و غیرت میں ان کو بھی دیر تک سوئے ہوے لوگوں کے گھر بھیجا گیا تھا مگر میرا خیال ہے کہ وقت اور اپنے زمانے سے بچھڑا مسافر اپنے زمانے کے غماض اور اتنے بھرپور و خوبصورت شعر کیسے کہہ سکتا ہے۔؟
 
زمیں نے اُس کو پہنائی عجب وحشت کی عریانی
عطا جس کو کیا تھا عرش نے عکسِ خداوندی
*********
جیون اک بار بہت ہے اگر اچھا گزرے
میرے دل کی کوئی آواز جو پوچھے مجھ سے
******
سیاست ‛ حُسن اور مذہب کے تجریدی تقاضوں میں
صنم کتنے تراشوں گا خدا کتنے بناؤں گا ؟
********
قاتل ہوں بجا قتل کا الزام ہے لیکن
مقتول نے خنجر مرا خود تیز کیا تھا
******
دوچار گام صرف وہاں سے بہشت تھی
چھوڑا تھا جس گلی میں گناہ و ثواب کو
****
اوڑھ کر روحیں تمہاری بستیوں میں جابسے
گرگ زادو ¡ جسم تھے لیکن کہیں انساں نہ تھ
 
 
ادبی مرشد خانہ ….. ¡¡¡
وقت کا سیل ِ رواں ….
بہت کچھ بہا کر لے گیا .
چوپال …. بیٹھک ‛ مشاعرہ اور اسی نوع کے
دیگر سماجی و معاشرتی پلیٹ فارم کیا غائب ہوئے ‛
ہمارا تو بہت کچھ کہیں کھو گیا ہے
جس کے بڑے خوفناک نتائج نے
انسان کو جہاں طرح طرح کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کردیا ہے
وہاں تنہائی کے جہنم زار میں سوشل میڈیا کے ” بُت خانوں ” میں وُہ پناہ لینے پر مجبور ہوگیا ہے ۔
اِس طرح کے ماحول میں ……
پُرانی روایات و اقدار کے امین لوگوں میں مرشدی محمد اقبال شاہ ایڈووکیٹ (ناشناس)
بھی شامل ہیں جنہوں نے گزرے زمانے کیساتھ جڑے رہنے کی خواہش اور کوشش میں ….. ہم جیسی بھٹکتی روحوں کیلئے اپنا ” ادبی مرشدخانہ ” آباد کررکھا ہے.
پپلاں سے اسدرحمان ….. میانوالی تشریف لاتے ہیں تو اِس مُرشدخانے کو چار چاند لگا دیتے ہیں .
گُزشتہ شام تنویر خالد ‛ حسن رضا ‛ بشارت ملک‛ محمد ضیاءﷲ قریشی ‛ ندیم بلوچ ‛ عدیل الرحمان ‛ عصمت خان اورظہیر احمد کی موجودگی میں مرشدی نے جو میلہ (مشاعرہ) سجایا …. حسب ِروایت اسد رحمان نے لُوٹ لیا …. اُن کی تازہ غزل سے آپ بھی لطف اٹھائیے .
جاتے ہوئے جوازِ بقا لے گیا تو پھر
سیلِ بَلا فصیلِ انا لے گیا تو پھر
اس خوف سے بھی جاگتا رہتا ہوں رات بھر
آنکھوں سے کوئی خواب چُرا لے گیا تو پھر
مذہب نے آ کے چھین لیے مجھ سے میرے بُت
اِلحاد جاتے جاتے خدا لے گیا تو پھر
خوش اعتقاد شخص ہے لڑنے سے پیشتر
دُشمن جو آ کے مجھ سے دعا لے گیا تو پھر
تم دیکھ تو رہے ہو تماشا جنون کا
صحرا اُٹھا کے آبلہ پا لے گیا تو پھر
بنتا ہے کیا سخی ترے کون و مکان سے
کاسے میں ڈال کر یہ گدا لے گیا تو پھر
یہ وقت بے نیاز ہے صاحب، کہیں اگر
ہفت آسمان سر سے اُٹھا لے گیا تو پھر 
اسدرحمان
 
میانوالی!
جہاں تاریخی طور پہ اہمیت کا حامل ہے وہیں علم و ادب کے لحاظ سے بھی زرخیز سر زمین ہے۔ میانوالی سے میرا پہلا تعارف اسد رحمان بھائی کے توسط سے غالبا دو سال پہلے ہوا تھا جب راقم تحریر اور پروفیسر عبدالعزیز صاحب نے اسد رحمان بھائی کی دعوت پہ کیا تھا۔اسد بھائی میانوالی بالخصوص پپلاں کی نامور اور قد آور شخصیت ہیں آپ عمدہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت محبت کرنے والے ہیں۔ اسد بھائی کا ڈیرہ بہت ساری یادگار محبتوں اور روایتوں کی آماجگاہ ہے۔ اسی ڈیرے پہ محترم المقام جناب اقبال شاہ ناشناس سے سرسری ملاقات ہوئی تھی۔ اب کی بار جیسے ہی میانوالی کی سرزمین کی قدم بوسی کے لئے حاضری ہوئی تو اسد بھائی کے مسکراتے چہرے نے خوش آمدید کہا اور یہ خوشخبری دی کہ اقبال شاہ صاحب کی نئی کتاب تجسیم سخن کی اشاعت ہو چکی ہے اور کتاب کی مبارکباد کے لئے جانا ہے زہے نصیب کہ ظہرانے کے بعد اسد بھائی اور دیگر احباب کے ہمراہ اقبال شاہ صاحب کے آستانے پہ حاضری ہوئی جہاں پہلے سے موجود چند احباب محفل سخن سجائے بیٹھے تھے۔ صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر جناب ظہیر مہاروی نے تازہ کلام سنا کے خوب داد وصول کی۔ محترم جناب عصمت گل خٹک صاحب، ساون شبیر صاحب اوردیگر احباب کے نام کند ذہن کی وجہ سے بھول چکا ہوں سب نے عمدہ کلام سنایا اور میانوالی آمد پہ خوش آمدید کہا۔ شاہ صاحب کی محبت سدا میرے دل میں زندہ رہے گی اور تفصیل سے اعتنائی برتتے ہوئے یہاں بات کرنا چاہوں گا اقبال شاہ صاحب کی کتاب تجسیم سخن کی اور ان کے عمدہ کلام کی۔
میری بات ختم اقبال شاہ صاحب کی نئی کتاب تجسیم سخن کو بولتے ہوئے سنئیے۔
تھک گیا ہوں نیند دیتی ہے صدا اے زندگی
روز ہوتی ہے نمازِ جاں قضا اے زندگی
یہ سراب و اضطراب و جان و دل کی تشنگی
دل نے کھائے ہیں یہ دھوکے بارہا اے زندگی
وہ مزارِ عشق پر جلتے دیے کی روشنی
ٹمٹماتی ہے اُسے جا کر ہوا اے زندگی
ساری خوشیاں، انبساط و لذتِ کام و دہن
کچھ نہیں رہتا یہاں غم کے سوا اے زندگی
اُس نے جب پوشاک بدلی روح نے پوچھا یہی
اور ہیں کتنے جنم اِس کے سوا اے زندگی
یہ کسی صورت نہیں اس درجہ حدت کا امیں
چیز کوئی اور لا دل کی جگہ اے زندگی
تو ملا سکتی نہیں آنکھیں کبھی اُس رنج سے
موت ہے جس درد کی کامل دوا اے زندگی
تُو جھکی پلکوں کی کیا آواز سن سکتی نہیں؟
چپ رہو کہنا تھا جو وہ کہہ دیا اے زندگی
مقدس ہستیوں کا ذکر دھڑکن میں بساؤں گا
ورق قرآن کے کیونکر بھلا نیچے گراؤں گا
وہ خوشبو عکس اپنا جسم و جاں میں خود بنائے گی
لطافت، نکہتِ الفت کو کیسے بھول جا ؤں گا
سیاست، حسن اور مذہب کے تجریدی تقاضوں میں
صنم کتنے تراشوں گا، خدا کتنے بناؤں گا
ابھی بے کل ہے اشکوں سے الجھ کر سانس کی ڈوری
یہ ہچکی روک لو ں تو پھر کہانی میں سناؤں گا
یہ کہہ کر بجھ گئی پھر زخم خوردہ سانس بچے کی
خدا کے پاس جا کر میں یہ باتیں سب بتاؤں گا
برگِ گل، بادِ صبا، پھولوں کی رنگت اور تھی
اُس سے مل کر جونہی لوٹے دل کی حالت اور تھی
پھول کی آغوش میں مدہوش تتلی گر پڑی
ہائے اُس بے ربط دھڑکن کی وہ لذت اور تھی
انتہا کو روح نے آواز دی ہے دُور سے
خواہشوں کی جسم پر بے جا اذیت اور تھی
باپ کے ترکے میں تھی املاک و دولت بے حساب
جستجو کا چھین لینا یہ وراثت اور تھی
لفظ و لہجے سے عیاں تھی مرتبت لیکن وہاں
خامشی کی منزلت، قدرو فضیلت اور تھی
یہ خوف ہے لاحق کہیں بستی نہ جلا دیں
شب کو بھی نہ اِن اندھوں کے ہاتھوں میں دِیا دیں
چالاک ہیں ہاتھی مجھے اِس بات کا ڈر ہے
کنکر نہ ابابیل کہیں اپنے گنوا دیں
عامل مجھے تعویذ ہیں درکار کچھ ایسے
آسیب کے سائے جو مرے گھر سے بھگا دیں
حائل ہے یہ سورج کی شعاوٗں میں مسلسل
اِس لاش کا سایہٗ مرے آگے سے ہٹا دیں
کم ہوتی نہیں عمر سے بینائی کسی کی
بڑھتی ہے نظر دل کی حکیموں کو بتا دیں
پیتے ہیں جو چھپ کر مجھے ڈر بھی ہے اُنہی سے
ہنگامہ و غُل شور و شرابا نہ مچا دیں
قسمت کے ستاروں کا گزر یاد نہیں ہے
بستی کو لگی کس کی نظر یاد نہیں ہے
کہتا ہے کہ طوفان میں وہ مجھ سے ملا تھا
وہ یاد ہے طوفان مگر یاد نہیں ہے
ہمراہ اگر حسن ہو پھر کیسی مسافت
ہے رختِ سفر یا د سفر یاد نہیں ہے
موسم میں کھِلے پھول بکھر جاتے ہیں اکثر
اس پیڑ پہ اُترا ہو ثمر یاد نہیں ہے
اٹکی رہی اک شخص کے چہرے پہ مسلسل
کب میں نے ہٹائی تھی نظر یاد نہیں ہے
دیکھا ہے کہ اِس بستیِ دریوزہ گراں میں
حاتم کو بھی اپنا یہاں گھر یاد نہیں ہے
اُسے ہر شام جل پریوں کی رانی لینے آتی ہے
وہ ندیا پار تربت پر دیا جا کر جلاتی ہے
ہوا اور چاندنی کو رشک آئے ٹمٹماہٹ پر
دیے کی روشنی آنکھوں میں ایسے جھلملاتی ہے
 

تجسیم سخن

“میں نے کبھی خود کو معذور سمجھا ہی نہیں ہے۔ میں ہر وہ کام کرسکتا ہوں جو ایک صحت مند انسان کرسکتا ہے“۔ یہ الفاظ محمد اقبال شاہ ناشناس کے ہیں، جو نہ صرف ان کی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ان کے تخلیقی سفر کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ محمد اقبال شاہ ناشناس سے میرا پہلا تعارف ان کی کتاب بے وضو نگاہیں اور شیکسپیئر کے ڈرامے اوتھیلو کے ان کے منظوم ترجمے سے ہوا اور اس کے بعد پیوند حرف، اب ان کا تازہ مجموعہ کلام تجسیم سخن میرے ہاتھ میں ہے۔ شاہ کو پڑھتے ہوئے ایک بات واضح ہوتی ہے: کہ شاہ صاحب کی تخلیقی دنیا کسی اور کے زیرِ اثر نہیں، بلکہ ان کا اپنا منفرد رنگ اور لہجہ ہر جگہ غالب نظر آتا ہے۔ شاہ صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی اور کے تخلیقی رنگ میں رنگنے کے بجائے اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہیں۔ وہ تخلیقی خودمختاری کے علمبردار ہیں، جو ایک معیاری ادب کی پہچان ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ایک لکھاری کا اپنے پیشروؤں سے متاثر ہونا فطری ہے، لیکن شاہ صاحب اس رجحان سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں جو تخلیقیت اور اسلوب کی انفرادیت پائی جاتی ہے، وہی ان کے مقام کو بلند کرتی ہے۔
اداس نظریں بچھڑتے لمحوں میں ایسے بکھریں کہ جس طرح سے کسی مسافر سے بے خیالی میں گھر کا سامان گر گیا ہے لوگوں کا کاروبار تھا بس تجھ کو دیکھنا کہتے ہیں تیرے شہر میں جب مے کدہ نہ تھا شاہ صاحب کی شاعری پڑھتے ہوئے قاری خود کو ان کے تخلیقی جادو کے زیرِ اثر پاتا ہے۔ ان کی شاعری کے جمالیاتی پہلو کو کتاب بند کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ ان کے اشعار میں موجود فطری منظر کشی، جذبات کی شدت اور تخیل کی بلند پروازی پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ وہ مجھ کو دیکھنے آیا تھا، دیکھتا ہی رہا برستی آنکھ رہی اور اس نے کچھ نہ کہا محمد اقبال ناشناس صاحب نہ صرف جذبات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ان کے ہاں موجود سادگی اور گہرائی کا حسین امتزاج بھی ملتا ہیں۔ وہ راستوں کے لبوں پہ کتنی دعائیں رکھ کر چلا گیا ہے حسین سپنا کسی کے دھوکے میں گل کو آواز دے رہا ہے اسے سنا ہے جو بلبلوں نے گلوں سے جا کر شکایت کیں تمہاری خوشبو کو ورغلا کر کسی نے لہجہ بنا لیا ہے محمد اقبال ناشناس کی شاعری میں جہاں محبت، حسن اور فطرت کے جمالیاتی پہلو جھلکتے ہیں، وہیں ان کے کلام میں معاشرتی مسائل کا گہرا ادراک بھی نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری نہ صرف ایک شاعر کی داخلی کیفیت کی ترجمان ہے بلکہ ایک سماجی نقاد کی حیثیت سے ان کے گرد و پیش کے حالات کی تصویر کشی بھی کرتی ہے۔ ہر طرف بارود کی قاتل ہوا ڈستی رہی ہر جگہ ایک جسم گرنے کی صدا باقی رہی دہشت گردی کی ہولناکیوں کو بیان کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی شاہ صاحب کے ہاں امن کی خواہش اور محبت کے نغمے بھی سنائی دیتے ہیں: قائل کسی سرحد کے نہیں ہیں میرے نغمے کوئل نے گلستان صنوبر سے کہا تھا اک درد ہوں بے رب تبسم میں چھپا ہوں ایک اشک ہوں لفظوں میں جگہ ڈھونڈ رہا ہوں محمد اقبال ناشناس کی شاعری میں تشبیہات اور استعارات کا استعمال ان کے فن کا ایک نمایاں پہلو ہے۔ وہ عام موضوعات کو بھی ایسے انداز میں بیان کرتے ہیں کہ ان کا انداز بیاں کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ زندگی تیری غزل میں موت کے مصرعے ملے چھیتھڑے انسانیت کے جا بجا بکھرے ملے   یہ اشعار نہ صرف شاہ صاحب کی تخلیقی مہارت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان کے سماجی شعور اور انسانیت سے محبت کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ شاہ صاحب کی شاعری میں رات کا تذکرہ بارہا ملتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے رات ان کے تخلیقی وجدان کے لیے ایک اہم محرک ہے۔ بہت بیدار تھی آنکھوں میں راتیں ابھی دن جس میں سوئے ہوئے تھے کل رات تیری یاد میں ایک شعر بنا تھا خوابوں کی عبارت کا یہ اسلوب نیا تھا یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ رات کے سکون اور خاموشی میں شاہ صاحب اپنے خیالات کو پروان چڑھاتے ہیں اور انہیں شعری جامہ پہناتے ہیں۔ محمد اقبال شاہ ناشناس کی شاعری میں جمالیات، فکر اور انفرادیت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کا کلام قاری کو نہ صرف تفکر پر مجبور کرتا ہے بلکہ ان کی تخلیقی دنیا کی سیر بھی کراتا ہے۔ شاہ ناشناس کی شخصیت اور شاعری ہمارے ادبی سرمائے کا قیمتی حصہ ہیں اور ان کا کام آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ 
 
میاں والی کا ” اقبال”
ہر علاقے کا اقبال اس کی عمارات نہیں عالی قدر شخصیات ہوتی ہیں میں بھی میانوالی کو دیگر حوالوں کی بجائے اہل ِ ادب شخصیات کی نسبت سے جانتا پہچانتا ہوں ماضی میں نصیر شاہ ۔۔۔ محمد فیروز شاہ ۔۔۔ محمد حامد سراج مرے لیے اس شہر کی شناختی علامت رہے ہیں اب جن دوستوں کے ہاں آنا جانا رہتا ہے ان میں وقتاً فوقتاً مظہر نیازی ۔۔ نسیم بخاری ۔۔ ضیا ء اللہ قریشی ۔۔۔۔علی عرفان ۔۔۔ شاکر خان جیسے اشباب کا ذکر خیر تو ہوتا رہا میں حیران ہوں کہ اقبال شاہ صاحب جیسی پیاری شخصیت سے میں ملاقات سے کیوں محروم رہا ۔۔۔ کل سے ان سے ملنے کے بعد فراز صاحب کا شعر میرے لبوں پر ہے
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے
کیا محبوب انسان ہیں مجھے ہر زاویے سے بہت پیارے لگے
ہم نے مل کر اسد رحمان کو ان کی خوب صورت شاعری کو دہرا کر بہت کیا ۔۔۔ عطاء اللہ عطا۔۔۔ غلام محمد قاصر ۔۔۔ نصیر شاہ جیسی سرکردہ ادبی ہستیوں کا تذکرہ بڑی عقیدت سے ہوتا رہا ۔۔۔
میانوالی میں اور صداقت علی عمرانی ملنے تو محترم مظہر نیازی سے گئے تھے کہ وہ چہلم ِ امام کے موقع پر مشی اور زیارات سے مشرف ہو کر لوٹے تھے ان کے روحانی تجربات و مشاہدات کے بیان سے سرشار ہو کر اقبال شاہ صاحب کی خدمت میں حاضری کا ارادہ کیا فون پر ان کی مصروفیت پوچھی تو انھوں نے اپنے کلائنٹس کو کل آنے کا کہہ کر ہمیں دولت خانے کا پتہ بتایا ان کے خلوص کی گرمی ان بے تابانہ دعوت سے ہی محسوس ہونے لگی جب ان کے حضور پہنچے تو انھیں سراپا انتظار پایا ان کا یہ طرز ِ تپاک دیکھ کر مجھے سرور بارہ بنکوی یاد آگئے
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
انھوں نے میزبانی اور قدر دانی سے مجھ حقیر کو صاحب ِ توقیر بنا دیا ضیا اللہ قریشی اور صداقت علی عمرانی ان کی بندہ نوازی کے عینی شاہد ہیں اور ان سے ملنے کے بعد اب تک اس تحیّر میں ہوں کے ان جیسی مہربان شخصیت سے میں پہلے کیوں نہ مل سکا
 
Muhammad Iqbal Shah Advocate (Na-Shanaas) — A Literary Overview of His Life, Personality, and Poet
POET Muhammad Iqbal Shah POETs FROM MIANWALI — Literary Heritage, Biographies & Works

Muhammad Iqbal Shah Advocate (Na-Shanaas) — A Literary Overview of His Life, Personality, and Poet

محمد اقبال شاہ ایڈووکیٹ (ناشناس) — زندگی، شخصیت اور شاعری کا ادبی جائزہ میانوالی کی تاریخ اور تہذیب ہمیشہ سے...
Read More
Shakhsiyat aur She‘r: Muhammad Iqbal Shah Advocate par Ahl-e-Adab ki Gawahiyaan
POET Muhammad Iqbal Shah

Shakhsiyat aur She‘r: Muhammad Iqbal Shah Advocate par Ahl-e-Adab ki Gawahiyaan

    شخصیت اور شعر: محمد اقبال شاہ ایڈووکیٹ پر اہلِ ادب کی گواہیاں   میں کچھ نہیں تھا مگر...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top