ٓحضرت میاں نور حسین نقشبندی علیہ الرحمہ اپنے بزرگوں کی طرح آسمان ولایت کے درخشندہ ستارے تھے ۔ آپ کا سلسلہ بیعت و خلافت حضرت جان محمد علیہ الرحمہ میبل شریف والوں سے تھا۔ آپ نے اپنے مرشد سے اخیر عمر میں بیعت کی اور سلوک و معرفت کی بقیہ منازل حضرت پیر فتح محمد بھوروی علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہ کر طے فرمائیں اور اپنے پیر ومرشد کی طرف سے دیا گیا خرقۂ خلافت آپ کو اعلیٰ حضرت بھوروی نے عطا کیا گیا اور اپنی طرف سے خلافت بھی عطا فرمائی۔

فتح مبین میں آپ کا تذکرہ مبارک: فتح مبین میں آپ کے متعلق تحریر ہے کہ:حضرت میاں نورحسین قریشی علیہ الرحمہ (ڈنگ کندیاں)پیر بھائی تھے۔حضرت قبلہ جان محمد علیہ الرحمہ سے سلوک کی تکمیل نہیں کرسکے۔ قبلہ بھوروی سے اسباق کی تکمیل کی ۔ بعد میں انہیں دستار اجازت اور جبہ پارسائی سے نوازا گیا۔

حضرت میاں نور حسین قریشی علیہ الرحمہ کل وقتی عبادت اور ذکر میں مشغول رہتے ۔ قبلہ بھوروی علیہ الرحمہ نے ذکر فرمایا کہ ایک مرتبہ مریدین و احباب قبلہ جان محمد میبلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں بیٹھے تھے ۔ جناب نے فرمایا آنکھیں نیچے کر لو اور سر کو سینہ کی جانب جھکاؤ (یعنی فیض کے لئے منتظر ہو کر مراقبہ میں رہو) اوپر دیکھنے والوں کو کچھ نہیں ملتا۔ حضرت میاں نور حسین قریشی علیہ الرحمہ نے دبے الفاظ میں کہا یہاں آپ کو دیکھنے کے لئے آئے ہیں یہاں آنے کا مقصد کوئی دوسرا نہیں صرف آپ کو دیکھنا ہے سر کیسے جھکائیں اور آنکھیں نیچے کریں۔ یہ گنگناہٹ قبلہ نے سن کی اور ایسی توجہ فرمائی کہ حضرت میاں نور حسین قریشی علیہ الرحمہ کی گردن سینہ کی طرف جھک گئی اور ہڈی ٹوٹنے کی سخت آواز آئی۔ اس دن کے بعد حضرت میاں نور حسین قریشی علیہ الرحمہ کی گردن تا زندگی جھکی رہی اور اوپر نہیں ہو سکی۔ عارف رومی علیہ الرحمہ نے خوب فرمایا

عاشقاں جام فرح آنگہ کشند             کہ بدست خویش خوباں شاں کشند

ترجمہ: عاشق لوگ خوشی کا پیالہ اس وقت پیتے ہیں جب معشوق ان کو خود اپنے ہاتھ سے قتل کرتے ہیں۔

پاکبازی اور پارسائی کی انتہا:حضرت میاں نور حسین قریشی علیہ الرحمہ جیسی نیک اور پاکباز ہستیوں نے دراصل دین اسلام کے پودے کی آبیاری کی جن کا کردار ، جن کا اخلاق ، جن کے اعمال اعلیٰ اور بے مثال تھے کہ ان کے حسن اخلاق و کردار و پارسائی سے ہر ایک متاثر ہوتا تھا خصوصاً غیر مسلم ان کے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے دین اسلام کو بڑی محبت سے قبول کرلیتے تھے۔

حضرت میاں نور حسین علیہ الرحمہ کی پارسائی اور پاکبازی کی انتہائی اعلیٰ مثال پیش کرتے ہوئے جناب محمد سعید اسدی صاحب ایڈوکیٹ (جو آپ کے پوتے ہیں) بیان فرماتے ہیں:

آپ بڑھاپے کے عالم میں تھے اور کمرے میں ہی آپ کو آپ کی بہو کھانا پہنچا کر آتی تھی۔جب وہ کھانالے کر جاتی تو آپ فرماتے بیٹا کھانا رکھ دو۔ کبھی اس کے ہاتھ سے کھانا نہ لیتے تھے۔ ایک دن بہو نے اپنی ساس سے اس بات کا شکوہ کیا کہ باباجی ہم سے کھانا نہیں لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں رکھ دو شاید کچھ ناراضگی ہے ۔ آپ کی محترمہ بی بی صاحبہ نے اس بات کا تذکرہ حضرت میاں صاحب کی خدمت میں کیا تو آپ فرمانے لگے کہ یہ بات نہیں ہے کہ میری ناراضگی ہے ۔ کھانا ہاتھ سے لینے میں یہ احتیاط مد نظر ہے کہ میرے ہاتھ کہیں میری بہو کے ہاتھوں سے نہ چھو جائیں اور میری ساری زندگی کا کیا کرایا غارت ہو جائے۔ اللہ اکبر ان بزرگان دین کی پارسائی کا کیا عالم تھا کہ کبھی کسی غیر محرم عورت تو ایک طرف محرم خاتون کے ہاتھوں کا مس کرنا عالم پیری اور بزرگی میں بھی گوارا نہیں فرماتے تھے اور یہی وہ بلند پایہ اوصاف حمیدہ تھے جنہوں نے دین اسلام کی محبت غیر مسلموں میں بھر دی تھی اور ان کی وجہ سے اسلام لانے والوں میں روز افزوں اضافہ ہوا۔

آپ کی اولاد: آپ کے چار بیٹے تھے (۱) محمد امیر (۲) محمد یار ۳۰) محمد صدیق (۴) محمد نور ۔ میاں محمدامیر آپ کے خلفیہ ہوئے جن کے فرزند جناب محمد سعید اسدی ایڈوکیٹ سکنہ سعید آباد میانوالی ہیں ۔آپ انتہائی عالم و فاضل شخصیت ہیں اور پاکستان بھر میں اپنی ایک منفرد سیاسی حیثیت کے مالک ہیں ۔ اسی سیاسی جدوجہد میں مصروفیت کی وجہ سے آپ کے والد محترم کی سجادہ نشینی آپ کے چچا جان حضرت علامہ غلام یٰسین صاحب کو منتقل ہوئی۔ تمام علاقہ میں آپ کو بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ مولانا نیازی صاحب علیہ الرحمہ کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ یہ تمام معلومات انہوں نے کمال شفقت سے مہیا فرمائیں۔

وصال مبارک: آپ کا وصال 9 صفر 1363 ھ بمطابق1944 ء میں ہوا۔ آپ کا مزار ڈنگ کھولہ قبرستان میں ہے جو کہ ریلوے لائن سے غربی جانب واپڈا کالونی سے ایک کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

 

تحریر-سید طارق مسعود کاظمی-مصنف   کتاب سرزمین اولیا میانوالی

HAZRAT SHEIKH NEKA (MALLA KHEL)
SUFISM IN MIANWALI -History of Shrines, Saints & Sufi Culture in Punjab”

HAZRAT SHEIKH NEKA (MALLA KHEL)

  حضرت شیخ نیکا علیہ الرحمہ (ملا خیل) آپ کا مزار ملا خیل کے قبرستان میں ہے۔ ملا خیل ،...
Read More
Hazrat Allama Maulana Khawaja Ahmad Khan
SUFISM IN MIANWALI -History of Shrines, Saints & Sufi Culture in Punjab”

Hazrat Allama Maulana Khawaja Ahmad Khan

حضرت علامہ مولاناخواجہ احمد خان ثانی میروی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ (میرا شریف ضلع اٹک)  اگرچہ آپ کا مدفن میرا...
Read More
SHEIKH TAOR BAHI QADRI
SUFISM IN MIANWALI -History of Shrines, Saints & Sufi Culture in Punjab”

SHEIKH TAOR BAHI QADRI

شیخ تور باہی قادری رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ (نزد ڈھوک محمد خان برلب کنارہ نالہ گمبھیر ) نیازی خاندان میں...
Read More
Hazrat Mian Noor Hussain Naqshbandi (Ding Khola)
SUFISM IN MIANWALI -History of Shrines, Saints & Sufi Culture in Punjab”

HAZRAT NOOR MUHAMMAD GHANJIRA DING KHOLA

حضرت نور محمدگھنجیرہ علیہ الرحمہ (ڈنگ کھولہ) بکھڑا کی سرزمین میں کوئی ایسی کشش رہی کہ ا ولیائے کرام دور...
Read More
Hazrat Maulana Muhammad Akbar Ali Chishti Mirvi Rahmatullah Taala Alaihi -Mianwali
SUFISM IN MIANWALI -History of Shrines, Saints & Sufi Culture in Punjab”

Hazrat Maulana Muhammad Akbar Ali Chishti Mirvi Rahmatullah Taala Alaihi -Mianwali

حضرت مولانا محمد اکبر علی چشتی میروی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ (میانوالی)     تحریر-سید طارق مسعود کاظمی-مصنف   کتاب سرزمین...
Read More
HAZRAT SHAH MUZAFFAR DEHLAVI AL MARUF CHUP SHAH KALABAGH
SUFISM IN MIANWALI -History of Shrines, Saints & Sufi Culture in Punjab”

HAZRAT SHAH MUZAFFAR DEHLAVI AL MARUF CHUP SHAH KALABAGH

حضرت شاہ مظفر دہلوی المعروف چپ شاہ رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ (کالا باغ) آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ دہلی سے...
Read More
Fakir Hafiz Muzaffar Khan-Hafiz Wala
SUFISM IN MIANWALI -History of Shrines, Saints & Sufi Culture in Punjab”

Fakir Hafiz Muzaffar Khan-Hafiz Wala

فقیر حافظ مظفر خان رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ (حافظ والا) فقیر حافظ مظفر خان ایک عظیم روحانی شخصیت تھے۔ آپ...
Read More
Hazrat Mian Noor Hussain Naqshbandi (Ding Khola)
SUFISM IN MIANWALI -History of Shrines, Saints & Sufi Culture in Punjab”

Hazrat Mian Noor Hussain Naqshbandi (Ding Khola)

  ٓحضرت میاں نور حسین نقشبندی علیہ الرحمہ اپنے بزرگوں کی طرح آسمان ولایت کے درخشندہ ستارے تھے ۔ آپ...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top