کالاباغ کی مختصر تاریخ و تعارف–قسط پنجم
ملک اللہ یار خان نے بزور شمشیر اپنا حقِ سرداری حاصل کر لیا تو سکھ سردار محکم سنگھ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ کالاباغ آ دھمکا،ملک اللہ یار خان نے اپنی فہم و فراست سے کسی نہ کسی بہانے سکھوں کو کالاباغ میں داخل ہونے سے باز رکھا لیکن چند ماہ بعد سکھ پھر دل سنگھ کی کمان میں کالاباغ کے دروازے پر آن کھڑے ہوئے ،ملک اللہ یار خان کی دانشمندی اور معاملہ فہمی سے کالاباغ ایک بار پھر لٹنے سے محفوظ رہا،(بالاج )سکھوں کی بار بار کی یورش سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس وقت کالاباغ ایک خوشحال ریاست بن چکی تھی اور مختلف محصولات کے علاوہ مسان کی جاگیر سے بھی اچھی خاصی آمدنی حاصل ھو رہی تھی کیونکہ اس وقت تک موضع مسان پر کوئی بیرونی مال گزاری مقرر نہیں تھی .
موضع مسان پر پہلی مرتبہ 1876 بکرمی میں سردار دل سنگھ نے مالگزاری مقرر کی کہ کھڑی فصل کا دو حصہ خالصہ سرکار جب کہ تین حصہ معافی یعنی رئیس کالاباغ کا حصہ ھو گا ،جب 1822 بکرمی میں رنجیت سنگھ اس علاقے میں آیا تو اس نے موضع مسان کی جاگیر ملک اللہ یار خان کو بخش دی اور سالانہ نذرانہ اس حساب سے طے ہوا کہ کالاباغ کے سردار زر مالگزاری چالیس فیصد کے علاوہ گیارہ اونٹ ،دو اعلیٰ نسل کے گھوڑے ،پانچ تازی کتے،دو باز کٹہ،سالانہ ادا کریں گے ،اگر گھوڑا پسند نہ آیا تو پانچ سو روپے ،اونٹ اور باز پسند نہ آۓ تو ایک ایک سو روپے ،اور سگ تازی کے عوض پچیس روپے ادا کۓ جائیں گے ،جب نمک کی کان کی آمدن وصولی کا اختیار گلاب سنگھ کے سپرد ہوا فیصدی من دس روپے ملک اللہ یار خان کو عطا کر کے باقی بحق سرکار ضبط کر لیا ،اور سکھوں کے دور تک اس پر عملدرآمد ہوتا رہا .
جب پنجاب کا انتظام ریزیڈنٹ لاہور کے سپرد ہوا تو اس نے اجناس تجارت پر محصول مسدود کر دیا اور آبی گذرگاہ کا ٹھیکہ مصر صاحب دیال پسر مصر لبا رام کو دے دیا،لیکن ملک یار خان کے استغاثہ کرنے پر یہ ٹھیکہ واگزار ھو گیا تا آنکہ انگریزوں نے 1849 میں پنجاب کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تو سکھوں کا محصول معاف اور چند خلاف انصاف رسمیں بند کر دیں ،محصول نمک و چونگی بحق سرکار ،اور اعوان خاندان کی کارگزاری سے اطمینان پا کر موضع مسان اور دیگر جاگیر پر دائمی حقوق اس خاندان کو عطا ہوۓ ۔انگریز سرکار سے خوش گوار تعلقات استوار کرنے کا موقع ملک اللہ یار خان کو یوں بیٹھے بٹھائے میسر آ گیا کہ 1840ء میں جب انگریزی فوج کابل کی طرف گامزن تھیں تو کرنل میکشن اور الیگزنڈر برنس نے ملک اللہ یار خان کو رسد کی بحالی و قاصدوں کی آمد و رفت بحال رکھنے کے لیے دریا پر کشتیوں کا انتظام کرنے کا فریضہ سونپا ،اس فریضے کو بخوبی نبھانے پر دربار انگلشیہ میں ملک اللہ یار خان کی قدر و منزلت بڑھ گئی ،
مارچ1846 میں سکھ انگریز معاہدہ کے تحت بنوں میں ہر برٹ ایڈ ورڈ اسسٹنٹ ریزیڈنٹ مقرر ہوا یہ انتہائی زیرک انگریز آفیسر تھا یکم دسمبر 1847 کو جنرل کورٹ لنڈت کی قیادت میں ایک انگریز دستہ کالاباغ سے گزرا جس میں ایڈورڈ بھی شامل تھا تو اس نے ملک اللہ یار کی طاقت و اثرورسوخ کا اندازہ لگا لیا اور ملک اللہ یار خان کے ساتھ خوش گوار تعلقات بنانے رکھنے میں اسے دیر نہ لگی جب ایڈورڈ نے دلیپ گڑھ (بنوں) میں ایک قلعہ بنانا شروع کیا تو ملک اللہ یار خان نے مصالحے و مزدورں سے اس کی خوب خوب مدد کی اس قلعے کی حفاظت کے لیے ایک سو سواروں کا دستہ بھرتی کیا جس کا سپہ سالار اپنے بیٹے ملک مظفر خان اول کو بنا کر ایڈورڈ کے پاس بنوں بھیجا ،اس دستے میں ملک اللہ یار خان کا بھائی ملک نواب خان بھی شامل تھا ،ھب سکھوں کی شورش میں اضافہ ھو گیا اور ایڈورڈ کو عجلت میں ملتان جانا پڑا تو اس قلعے کی حفاظت کی ذمہ داری ملک فتح خان ٹوانہ کے سپرد کر دی ،ملک مظفر خان اول بھی اس کے ساتھ قلعہ میں موجود رہا ،بںوں میں موجود سکھ سپاہیوں نے موقع غنیمت جانا اور رام سنگھ چھاپہ والا اور ندہان سنگھ کی قیادت میں بغاوت کردی ،قلعہ سے نکلنے کی کوشش میں ملک فتح خان ٹوانہ تو مارا گیا جبکہ ملک مظفر خان اول نے اپنے آپ کو سکھوں کے حوالے کر دیا جو اسے قیدی بنا کر اپنی فوج کے مرکز گجرات لے گئے اور پانچ ہزار روپے زر فدیہ دے کر رہائ پائی ، واپس آ کر ڈپٹی کمشنر ضلع بنوں بٹلر صاحب کی برابر معاونت کرتا رہا ،1863ء ملک اللہ خان وفات پا گیا تو ملک مظفر خان اول اپنے مرحوم باپ کا مختار دستار مقرر ہوا اور اس ریاست کی رئیس بھی بن گیا ،تو اس نے بھی انگریزوں سے بنا کر رکھنے میں عافیت سمجھی ۔
بالاج جیسل (محمد اقبال حجازی) راجپوت بھٹی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار استاد، حساس قلمکار، اور تہذیبی ورثے کے سچے محافظ ہیں۔ انہوں نے تین دہائیوں تک تدریس سے وابستہ رہتے ہوئے علم کی روشنی پھیلائی، اور ساتھ ہی ساتھ کالاباغ، کوٹ چاندنہ اور میانوالی کی ثقافت، یادیں اور تاریخ اپنے سادہ مگر پُراثر انداز میں قلمبند کیں۔ ان کی تحریریں خلوص، سچائی اور دیہی زندگی کے جذبے سے لبریز ہوتی ہیں۔ وہ فیس بک پر فعال ادیب ہیں اور اپنی زمین، لوگوں اور ماضی سے جڑے تجربات کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل لکھ رہے ہیں۔۔ اُن کا قلم مقامی زبان، محبت اور روایت کا ترجمان ہے.