محمد اقبال شاہ (ناشناس) کی شاعری — حصہ اوّل
محمد اقبال شاہ (ناشناس) کی شاعری عصری اردو ادب میں ایک سنجیدہ، باوقار اور فکری شعری رویّے کی نمائندہ ہے۔ ان کے ہاں شعر محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک فکری عمل ہے جس میں ذات، سماج اور زمانے کے تضادات باہم مکالمہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ناشناس کا شعری تجربہ داخلی صداقت، شعوری کرب اور تہذیبی آگہی سے تشکیل پاتا ہے، جو ان کی شاعری کو سطحی تاثرات سے بلند کر کے معنوی گہرائی عطا کرتا ہے۔
ان کے اسلوب میں کلاسیکی روایت کی شعوری پاسداری اور جدید حسّاسیت کی بامعنی آمیزش ملتی ہے۔ وہ روایت کو دہراتے نہیں بلکہ اسے عصری تناظر میں ازسرِنو معنی دیتے ہیں۔ علامت اور استعارہ ان کے ہاں محض فنی لوازم نہیں بلکہ فکری وحدت کے مظاہر ہیں، جن کے ذریعے وہ انسانی وجود، سماجی ناانصافی اور روحانی تشنگی جیسے موضوعات کو وقار اور ضبط کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ یہی فکری توازن اور اسلوبی وقار محمد اقبال شاہ (ناشناس) کی شاعری کو معاصر اردو شاعری میں ایک معتبر اور قابلِ توجہ مقام عطا کرتا ہے۔
