Taqreeb Ronmayi

تقریب رونمائی-استاد محترم جناب خلاص خان

سن بانوے میں میری کتاب خواب کنارے شائع ھوئی تو میانوالی کے دوستوں نے اس کتاب کی رونمائی کا اعزاز دینے کا کہا – اس موقع پر میں نے فرمائش کی کہ صدارت کیلئے استاد محترم خلاص خان نیازی سہراب خیل سے درخواست کی جائے – یہ درخواست انہوں نے قبول فرمائی اور بزرگی کے ضعف کے باوجود ڈیڑھ دو گهنٹے کی تقریب میں تشریف فرما رھے – اس کے علاوہ میانوالی کی عوامی سیاست کی سب سے بڑی پہچان ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی اور علم و دانش کی محترم ترین شخصیت سید نصیر شاہ مہمانان خصوصی تھے – ڈاکٹر مرحوم اس پک کے منظر میں نہیں ، وہ اس وقت ڈائس پر اپنے خیالات کا اظہار کر رھے تھے – سن 1992 میں کمیٹی ھال میانوالی میں هونے والی یہ ادبی محفل اس لئے بھی یاد گار رھے گی کہ اس میں میانوالی شہر کے ادبی افق کے تقریبا” سارے روشن ستارے اس انجمن کی رونق تھے – اس کے علاوہ ادب دوست حضرات کی ایک معقول تعداد نے اس میں شرکت کی – پروفیسر سلیم احسن ، پروفیسر منور علی ملک ، پروفیسر سرور نیازی ، منصور آفاق کو اللە سلامت رکھے ، ان کی آراء کے علاوہ ہمارے آج کے پیارے رفتگان نے اس دن اظہار خیال کیا ان میں پروفیسر فیروز شاہ ، پروفیسر اسلم ملک گھنجیرہ ، پروفیسر سلطان محمود ، کلیم اللە ملک ، وزیر خان سالار ، مامائے تھل فاروق روکهڑی ، مہمانان خصوصی ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی اور سید نصیر شاہ ( پک میں درمیان ) اور صدر تقریب استاد محترم خلاص خان نیازی صاحب ( پک میں بائیں طرف ) کے اسمائے گرامی شامل تھے –
محترم خلاص خان صاحب ، میرے پرائمری سکول محلہ زادے خیل میانوالی کے ہیڈ ماسٹر اور پانچویں جماعت میںں همارے استاد تھے – ان کی خصوصی شفقت ، نگرانی اور حوصلہ افزائی نے زندگی میں آگے بڑھنے کی ھمت دی – ان سے عقیدتوں کے نام منسوب میری ایک مختصر سی نظم بھی اسی کتاب میں ھے ، جس کا عنوان ھے ::
صدف
تم اس گھر کے باہر کی تاریکی پر مت جاو
وہ اندر سے اجیارا ھے
وہ میرے استاد کا گھر ھے
مجھے اپنی اس پوسٹ میں ایک بات کی کمی شدت سے محسوس ھو رھی ھے – میں وہ خاص واقعہ بتانے سے کترا تها جس نےے مجھے پرائمری اسکول سے ھی ایک عجیب طرح کا کانفیڈینس لیول دے دیا تھا – اس میں مجھے خود ستائی کا پہلو محسوس ھو رہا تھا ، جس کی وجہ سے میں اس کا ذکر دانستہ طور پر چهوڑ ریا تھا – لیکن اس کے بغیر استاد محترم کی شخصیت کی ایک خوبی کھل کر سامنے نہیں آرهی تھی –
ھم جب پانچویں کلاس میں تھے ، ایک دن استاد محترم نے کلاس سے سوال کیا ، وہ کون سے دو مسلم سپہ سالار هیں جن کوو میدان جنگ میں کبھی شکست نہیں ھوئی – کلاس خاموش رھی تو میں نے آٹھ کر جواب دیا – جی ہاں ھم ٹاٹ پر بیٹھتے تھے – میں نے کہا – خالد بن ولید اور سلطان محمود غزنوی – میں اس وقت بچوں کے چهوٹے موٹے رسائل اور کتابیں پڑھتا تھا –
میرا جواب سن کر استاد محترم کی آنکهوں میں عجیب سی خوشی کی چمک آگئی اور وہ دعائیہ انداز میں بولے – تم بہت آگے جاوو گے –
استاد محترم کی یہ داد میرے لئے زندگی بھر کے علمی سفر کا زاد راە بن گئی – اور یوں تو علم فن کے میدان میں بہت لائق اورر واجب الاحترام اساتذہ کرام کی رہنمائی نصیب میں تھی لیکن دل و دماغ پر آگے جانے کا پہلا نقش خلاص خان مرحوم کا ھی ثبت رہا –
اللە پاک ان کے اور میرے سبھی اساتذہ کرام کے درجات بلند فرمائے جنہوں نے ہمیں ٹاٹ اسکول اور آسائشوں اورر ترقی سے محروم میانوالی کے ماحول میں بھی نئی منزلوں کے تصور اور خواب دیئے – میرے وہ اساتذہ کرام وظیفے کے امتحان کی تیاری کیلئے کسی ٹیوشن فیس کے بغیر کلاس کے بارہ چودہ لائق بچوں کی غروب آفتاب تک اسکول میں ٹیوٹرنگ کرتے تھے ، اور جب کسی شاگرد کے کامیاب هونے کی خبر ملتی تھی تو خوشی سے رو پڑتے تھے کہ شاگردوں کی کامیابی هی ان کی بے لوث محنت کا ثمر تھا —

ظفر خان نیازی – 4اپریل2016

Your words for Mianwali and Mianwalians