Thokary Ke Neechay

ٹوکرے کے نیچے
ساس کا وار

سن سینتالیس میں برصغیر کی آزادی کے موقع پر جس طرح فسادات پهوٹ پڑے تھے اور جس بڑے پیمانے پر مالی اور جانی نقصان ہوا تھا ، وہ انسانی تاریخ کا ایک سیاہ ، المناک باب هے – آبادی کے اس سب سے بڑے انخلا میں لوگ اپنی جائداد اور دیگر قیمتی اثاثے چهوڑ کر جان بچانے کیلئے کیلئے نامعلوم بستیوں کی طرف چلے تو کئی بد نصیب گهرانوں کی بیٹیاں مال غنیمت کی طرح اٹھا لی گئیں – کئی لوگ ہجرت کر کے نئی منزلوں پر پینچ کے بھی اپنے پیاروں کی جدائی کے دکھ میں سلگتے رهے – اس انسانی المیے کے ازالے کیلئے اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان نے انڈین وزیر اعظم نہرو سے رابطہ کیا اور مثبت جواب کے نتیجے میںں 2 اپریل 1950 کو دہلی گئے – چھ دن کے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک میں اقلیتوں کی داد رسی کیلئے معاہدہ طے پا گیا جسے لیاقت – نہرو پیکٹ کہتے ہیں –
اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک میں مختلف جگہوں سے اقلیتوں کی جبری اغوا شدہ عورتیں کو تلاش کیا گیا — ہزاروں عورتیں اپنے اعزہ واقارب تک پہنچا دی گئیں – اس عمل میں کئی بچهڑے اپنے پیاروں کو مل گئے ، کئی گھر آباد ہوئے تو ساتهه ہی مزید کئی المناک واقعات نے جنم لیا – اس سلسے میں سب سے مشہور واقعہ مشرقی پنجاب سے ایک سابقہ فوجی سکھ بوٹا سنگھ کا هے جو دل کے ہاتهوں مجبور ہو کر ایسی ہی ایک مسلم خاتون زینب کے پیچهے پاکستان آیا تها – زینب سے اس کی سلطانہ نامی ایک بیٹی بھی تھی – بوٹا سنگھ نے مسلم خاتون کی چاہت میں اسلام بھی قبول کر لیا تھا لیکن خاتون نے کورٹ میں جج کے سامنے بوٹا سنگھ کے ساتھ واپس جانے سے انکار کر دیا اور آخر مایوسی کے عالم میں بوٹا سنگھ نے شاہدرہ لاہور کے ریلوے پلیٹ فارم پر ٹرین کے نیچے آکر خود کشی کر لی تهی – اس پر 1999 میں انڈین فلم ساز منوج پنج نے ایوارڈ یافتہ پنجابی فلم شہید محبت بوٹا سنگه اور ہالی وڈ نے فلم پارٹیشن بنائی ، عشرت رحمانی نے ناول محبت لکھا اور فریڈم ایٹ مڈ نائٹ کے مصنفین نے اپنی اس کتاب میں تذکرہ کیا (تفصیل گوگل پر هے ) –
ایسی ہی ایک داستان ضلع میانوالی کی هے –
ہمیں یہ واقعہ محترم نصراللہ خان نیازی موسے خیل ایڈوکیٹ مرحوم نے سنایا تھا – نصراللہ خان مرحوم ظاہر اورر باطن دونوں اعتبار سے بہت خوبصورت انسان تھے ، درویش صفت ، دین دار ، صوفیانہ مزاج اور پاکباز زندگی کے مالک – وہ میانوالی کی معزز ترین شخصیت ڈاکٹر نور محمد خان نیازی مرحوم کے داماد تھے اور پریکٹس کے سلسلے میں محلہ خنکی خیل میانوالی میں سکونت پذیر تھے – میرا جب بھی میانوالی جانا ہوتا، میری خوش قسمتی هے کہ مجهے اکثر ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہو جاتا – یہ واقعہ ان سے وہیں سننے کو ملا –
بتاتے ہیں ، کہ ضلع میانوالی میں ایک ہندو گھرانے کی خاتون جو اگرچہ مجبوری کے عالم میں رہ گئ تھی ، اسلام قبول کر کے اور علوو والی کے ایک جوان سے شادی کر کے خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی اور اب وہ واپس اپنے رشتے داروں کے پاس انڈیا جانے کو تیار نہیں تهی – اس کی تلاش میں جب بھی کوئی سرچ ٹیم آتی ، وہ چھپ جاتی – دو تین مرتبہ سرچ ٹیمیں آئیں اور خالی ہاتھ لوٹ گئیں – لیکن آخر لنکا ڈھانے والی گھر سے ہی نکل آئی – وہی روایتی ساس بہو کا مسئلہ یہاں بھی آڑے آگیا
اس بار جو سرچ ٹیم آئی ، گھر پر چھاپہ مارا ، تلاشی پر کچھ نہ ملا اور خالی ہاتھ جانے لگی تو اس کی ساس نے آواز دی — ذرا مرغیوں والاا ٹوکرا تو اٹھانا ، اس کے نیچے کیا هے –
سرچ ٹیم نے ایسا کیا تو پتہ چلا ٹوکرے کے نیچے وہ خاتون چھپی تھی —
نصراللہ خان مرحوم کئی بار اس بد نصیب عورت کے واقعے کو یاد کر کے بہت افسوس کا اظہار کرتے تهے اور کہتے تهے ، ساسس اور بہو کی لڑائیوں کے کئی قصے سنے تھے لیکن ایسی سنگدل ساس شاید ہی کوئی ہو —اس واقعے میں میرے دوست پروفیسر سلیم احسن نے مزید اضافہ اور تصحیح کی هے، شکریے کے ساتھ ان کے الفاظ دهرا رها هوں —
“اس ہندو براہمن زادی کا تعلق علو والی سےتھا ، اس کا باپ پولیس کے ساتھ اسے ڈھونڈے دو تین دفعہ علو والی آیا تھا — جس شخص کے ساتھ اس نے شادی کی اس کی یه دوسری بیوی تھی ساس نے اس پکڑوا دیا تها – نصراللہ خان مرحوم نے اس کو کندیاں کے ریلوے سٹیشن پر دیکھا تھا ، اس وقت وہ زارو قطار رو رہی تھی ، باپ سے فریادیں کر رہی اور منت زاری کررہی تھی وہ اس نہ لے جائےوہ مسلمان ہے اور شادی شدہ ہے لیکن برہمن باپ اس کی ایک سننے کو تیار نہ تھا – اس واقعہ کا نصراللہ خان کا پر زندگی بھر گہرا اثر رہا نصراللہ خان کی پہلی برسی پر نوائے شرر اخبار کے خصوصی ایڈیشن میں نصراللہ کی روحانی شخصیت کے حوالے میرا مضمون چھپا تھا – برہمن زادی کا یہ واقعہ کئ دفعہ ان کی زبانی سنا تها یہ واقعہ سناتے وقت ان کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں “
یہ معلوم نہیں هو سکا کہ انڈیا زبردستی واپس بھیجی جانے والی خاتون کے بچے بھی تھے کہ نہیں —-

ظفر خان نیازی، 25اکتوبر2015

Your words for Mianwali and Mianwalians