Mianwali Ki Zrmury

میانوالی کی زرمورے-ایک عوامی کردار

ه اس زمانے کی بات هے جب میری عمر بس اتنی تھی کہ محلے میں یا دور پار کہیں بھی شادی کی کوئی تقریب ہوتی ، تعلق داری کی بنا پر ہم جاتے تو اپنی والدہ اور دیگر رشتہ دار خواتین کے ساتھ میں سخت پردے دار گهرانوں کے ماحول میں بهی خواتین کی محفلوں میں بڑے آرام سے بیٹھ جاتا اور کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا تھا – مجهے اس وقت میانوالی کے مردانہ ناچ ، گهمر اور دهریس، اور ڈھول شرنا کی بجائے خواتین کے ڈهولک گیت بہت اچهے لگتے تهے – ان دنوں میں میانوالی میں شادیاں عموما” گرم موسموں میں ہوتیں ، ہر گھر کا صحن اتنا وسیع ہوتاتھا کہ ساری برادری کی خواتین اندر زنان خانے میں ہی محفل سجا لیتیں – مرد اڑوس پڑوس کے ذرا بڑے گھر کے صحن میں چوکی لگاتے جہاں گهمرآں یعنی اجتماعی رقص شروع ہونے سے ذرا پہلے ایک خاص طرز پر صرف ڈھول کو چند منٹ تک بجایا جاتا – یہ بستی بھر کیلئے دعوت عام کا اعلان ہوتا – زنان خانے میں ٹین کے ڈبے اور پیتل کی پراتیں تو بارات سے دس بارہ دن پہلے ہی سے بجنا شروع ہو جاتیں لیکن مردان خانے میں ڈھول، شرنا اور خواتین کی باقاعدہ ڈھولک محفل جسے گانوں کی رات کہتے تهے ، آخری دو تین روز ہی جمتی جس میں اس وقت کی سب سے اچھی میراثنیں بھری ، ٹھری اور حیاتی شامل ہوتی تهیں – اس محفل میں گیتوں کے بول تو بدلتے چلے جاتے لیکن ڈھولک کی لے اور تال وہی ایک دھنا تے دھنا تے دھنا تے دھنا ہی رہتی – بول’ ماہی سرو دیا بوٹیا’ سے شروع ہوتا ، استهائی اور ایک آدھ انترے کے بعد ہی بهری، ٹهری یا حیاتی میراثن میں سے کوئی ایک ‘نی ہوئے ‘ کہہ کر سیئوں نے میرا دل دهڑکے کا بول اٹھا لیتی ، اس طرح گیت سے گیت کا سلسلہ بڑھتا جاتا – یہ پروفیشنل آرٹسٹ تهیں ، بہت سر میں گاتی تهیں اور ہر نئے پرانے گیت کی دھن کو اپنی ایسی تال میں ڈھال لیتی تھیں جس پر ناچنے کو جی چاہتا ۔ میر زادیوں کے سریلے ہونے کی ایک دلچسپ مثال انتہائی سریلی گلو کارہ شبنم مجید کی ماں ، موسے خیل ضلع میانوالی کی میر زادی ھے ۔ اسلام آباد اسٹیشن ایک فنکشن پر وہ آئی تھی اور یہ بات اس نے میرے پوچھنے پر کنفرم کی تھی ۔ اس کے علاوہ میانوالی کے ایک میر زادہ ، بہت ہی ٹیلنٹٹڈ اور نفیس مزاج میوزک کمپوزر ، استاد امیر کی طرزیں اور گیت ( کلام ) قمیض تیڈی کالی اور ایہہ جھمکے وغیرہ لالہ عطااللہ خان عیسی خیلوی کی سدا بہار آواز میں متشکل ہو کر انڈیا میں اپنا رنگ جما کر انڈیا کے موسیقاروں کے چربے کا شکار ہو کر بالی وڈ کی فلموں میں گونجے ہیں ۔
خواتین کی ڈهولک محفل کے آغاز میں دولہا دلہن کی قریبی عزیز خواتین باری باری اٹهتیں اور ان گیتوں پر ناچتےے ہوئے دوچار پھیرے لگاتیں اور ہنستے مسکراتے واپس جا بیٹهتیں ، ان کی جگہ نئی ٹولی آجاتی – بہت بڑے صحن میں چند عام سے بلب جل رہے ہوتے ، مدھم سی روشنی میں میری عمر کے بچے عموما” ڈھولک کے پاس ہی بیٹهے ہوتے اور موقع پاکر ڈھولک پر چپکے سے ایک آدھ ہاتھ جڑ دیتے ، بھری ، یا ٹهری گاتے گاتے تکڑی سی گالی اور تھاپ ڈھولکی کی بجائے اس بچے کو ٹکا دیتیں – جو بچہ اس حرکت سے باز نہ آتا ، اسے محفل سے نکال دیا جاتا – مجھ سے مسکین شکل والے آخری وقت تک بیٹھے رہتے – آخری آئٹم گهمر (جهومر) کا ہوتا جس کیلئے سب خواتین مل کر اٹهتیں ، ایک دائرہ بناتیں ، اور بازو ہلاتے ہوئے یوں ناچتیں جیسے اڑتے ہوئ کونجوں کی کوئی ڈار آرہی ہو – اپنے ان علاقائی رقص میں بازوؤں کی جھلار دیکھ کر مجھے لگتا جیسے لوگ اڑ کر اپنے خواب جزیروں میں جانا چاہتے ہوں ۔ بزرگ خواتین نانی دادی وغیرہ کو بھی کھینچ کهانچ کر لایا جاتا ، قہقہے برسنے لگتے ان کے سروں پر کوئی میراثن کٹورہ سا اٹھالیتی ، ان پر پیسے وارے جاتے ، کٹورے میں ٹھن ٹھن کرتے سکے گرتے ، کچھ سکے کٹورے سے باہر گرتے جسے بچے جهپٹ کر اٹھا لیتے – بوڑھی کمزور خواتین چند قدم تک ایک آدھ بار بازو جھلا کر ہانپنے لگ جاتیں اور ان کو واپس بٹھا دیا جاتا – دیگر خواتین جوش خروش سے ناچتی رہتیں اور رات گئے تک محفل جم جاری رہتی – اچانک کوئی بڑی بڑی مونچهوں والا کوئی مرد کلاہ اور شیروانی پہنے اور کالی عینک لگائے زنان خانے میں گهس آتا ، ایک تهر تهرلی سی مچ جاتی اور پردہ دار خواتین گھبرا کر اپنے منہ چادروں سے ڈهانپنے لگتیں – اور پھر اچانک قہقہوں کی بارش شروع ہو جاتی کیونکہ تهوڑی ہی دیر میں کوئی پہچان لیتا کہ یہ تو دولہا کی چچی تهی جو مردانہ گٹ اپ کر کے شرارت کے بہانے چچا بننے کا ارمان پورا کر رہی هے – ادهر مردوں والے ایریا میں ڈھول کی تهاپ اور شہنائی پر مقبول نغموں کی دھن پر وقفے وقفے سے کئی گهمر ناچ اور پشوری حقے میں پتری والے تمباکو کو پهونکنے کے کئی دور ہو چکے ہوتے – میانوالی کا ڈھول سائز میں بہت بڑا سا ہوتا ہے ، اور اسے فارسی لفظ دہل کے وزن پر ادا کیا جاتا ہے- ڈھولچی تو کئی ایک اچھے سمجھے جاتے تھے خاص طور پر واں بهچراں کے میر زادوں کو فن موسیقی میں ماہر سمجھا جاتا تها لیکن شرنا میں سینا شہنائی نواز کی مہان فنکار کے طور پر دھوم تھی ۔ میں نے نیفڈک سنیما اسلام آباد میں ایک لائیو کنسرٹ میں انڈیا کے بسم اللہ خان کی شہنائی سنی تو مجھے اندازہ ہوا سینا گمنامی کے تھل کا کتنا بڑا فنکار تھا ۔ ڈھول پارٹی ساری بارات کے عمل میں صرف اس وقت ایک مخصوص گیت گاتی ، جب بارات دلہن کے ہاں جاتی اور دولہا کپڑے بدل کر شادی کا جوڑا پہن کر سر پر سہرا سجا کر محفل میں آتا – اس وقت وہ ڈھول کی ہلکی سی تھاپ اور شہنائی کی ایک مخصوص دھن پر ‘ ایہہ دیہاڑا میں اللە کولوں منگیا تے مولے آن دکھایا ، آیا، سہراں والا آیا ‘ گاتے – مجھے یہ گیت اداس کر دیتا تھا – میں یہ گیت اب بھی سنتا ہوں تو اپنے آنسو نہیں روک پاتا ، اس وقت بهی لکھتے ہوئے میں رو پڑا ہوں – میں ریڈیو پروڈیوسر آج تک اس کی مخصوص دھن سن کر اپنے رونے کی وجہ نہیں سمجھ سکا – گیت ، ایہہ دیہاڑا کی میں وضاحت کردوں –
یہ تو میں بتا چکا ہوں کہ یہ نغمہ میر زادے یعنی ڈھول پارٹی والے اس وقت گاتے ہیں ، جب بارات دلہن کے گھر پینچ چکی هوتیی هے، شہر سے آئی بارات کو سادہ پانی وغیرہ ہی کوئی پلا دے تو اس کی مہربانی هے – ظفر اللە خان نیازی مرحوم شیر مان خیل ، جو عمران خان کے سگے چچا اور انعام اللە خان نیازی کے والد ہیں ، اس لحاظ سے ہہلے فیاض انسان ہیں جنہوں نے شہر ہی کی بارات کی چائے بسکٹ سے تواضع کی تھی – بہر حال اس دوران میں باراتیوں کیلئے یہ وقفہ بہت بور ہوتا یے ، ویل کی پکار جاری پوتی هے، ! اتنے میں دولہا جو یہاں تک عام کپڑوں میں آتا هے ، شادی کا جوڑا پہن کر ، سر پر سہرا اور گلے میں کاغذی یا تازہ پهولوں اور نوٹوں کے بے شمار ہار پہن کر اپنے دوستوں کے جلو میں گھرا ھوا آتا ھے – نوجوانوں کی اس ٹولی کے ہاتهوں میں لوهے کی مخصوص کهونٹییاں اور کلائیوں پر رنگین دهاگوں کے گجرے هیں اور یہ دولہا کے شہ بالا هیں – یہ پتلی اور لمبی لوهے کی کهونٹیاں اور گجرے شہ بالوں کی مخصوص نشانی ھے – اس وقت شہنائی نواز خاص طور پر ایک مخصوص مختصر سی دھن سناتا هے ، یہ ایہہ دیہاڑا میں اللە کولوں منگیا گیت کی دھن ھے – یہ ڈیڑھ دو منٹ کی دهن کچھ اتنی گمبھیر اور پر تاثیر ہوتی هے کہ اس موقع پر اکثر باراتی آنسو پونچھتے نظر آتے ہیں – تهوڑی دیر میں باقی میر زادے شہنائی والے کے ساته مل کر ایہہ دیہاڑا گانے کے بول بھی گانے لگتے ہیں
– اساں تاں جاتا کلم کلا ، نال بهائیاں دے آیا ، آیا سہراں والا آیا –
اس گیت کی سچویشن کے ساتھ ساتھ اصل میں شہنائی کی دھن اتنی پر اسرار هے کہ کلیجے میں ہاتھ ڈالتی هے اور خوشی کےے موقع پر بھی آنکهوں سے آنسو بہہ نکلتے ہیں – میانوالی کے ڈھول اور شہنائی سے میانوالی کے لوگوں کی جذباتی وابستگی کا ایک واقعہ یاد آگیا هے – شاید آپ کو دلچسپ لگے –
1976/7 میں میانوالی سے ایک بارات لاہور کے پوش ایریا میں گئی – ان کے ساتھ میانوالی کی ڈھول پارٹی نہیںں تھی یہ سوچ کر کہ یہ رشتہ دار ماڈرن ھو گئے ہیں ، شاید دیسی ڈهول پسند نہ کریں — لیکن بارات کو روایتی ڈهول کے بغیر دیکھ کر دلہن کے والد نے اپنے سگے بھائی کو جو دولہا کے والد تھے ، وارننگ دے کر کہا کہ ڈھول شرنا والی روایتی بارات لے کر آو ، ورنہ واپس میانوالی خالی ہاتھ جاو – دولہا پارٹی نے لاہور میں مقیم نیازیوں کے بهٹوں سے بارات کیلئے بندے جمع کئے ، ڈھول شہنائی کا بندوبست کیا اور یوں دلہن لانے میں کامیاب ہوئے – نام میں احتیاطا” نہیں دے رہا ، کہیں میرے وہ دوست ناراض ہی نہ ہوں جائیں –
یہ بات بھی ذہن میں رکھئے گا کہ ریڈیو پاکستان میں بطور پروڈیوسر میری پہلی اسائنمنٹ خواتین کا پروگرام تھا جو میرےے ذمے سات سال تک رہا – اس عرصے میں میں پاکستان بھر کے شادی بیاہ کے گیتوں اور رسموں پر کام کر چکا ہوں لیکن اس گیت کو سن کر آنسو ضبط نہ کر پانا ، یہ اس دھن کا جادو تھا جو شہنائی سے پهوٹتی تھی –
ایک اور منظر تو میں دیکھ ہی نہیں سکتا تها اور وہ تھا ، دلہن کی بابل کی دہلیز سے ہمیشہ کیلئے رخصتی – میرا ایک چچا حبیب اللە خانن داود خیل تو باقاعدہ بے ہوش ہو کر گر پڑتا تھا – اپنی جگر گوشہ زرمینہ کی رخصتی پر لیکن اللە حافظ کہتے ہوئے میری آنکھ میں ایک آنسو بھی نہیں تھا ، ایسے موقع پر اللە پاک ، ایک باپ کو اپنے جگر کا ٹکڑا کاٹ کر اپنے ہاتهوں دوسروں کے سپرد کرنے کیلئے کتنا حوصلہ ، کتنا صبر دے دیتا هے — اللە اکبر !
یہ میانوالی شہر میں میرے بچپن لڑکپن کے زمانے میں شادی کا منظر تھا – پی ٹی وی ڈرامہ ‘جندڑی نال جہان ‘ کیلئے ایسا ہیی منظر میں لکھنے بیٹھا تو خدا جانے کیسے اس وقت کا ایک عوامی کردار زرمورے میری یادوں کے نہاں خانے سے نکل کر میرے سامنے آگیا ۔ میں شدت غم سے شل ہو کر رہ گیا اور قلم رک گیا اور کئی دن رکا رہا – رکاوٹ کی وجہ ٹی وی پروڈیوسر سے بیان کی تو وہ اتنا انسپائر ہوا کہ اس کردار کو بهی ڈرامہ میں شامل کرنے کی فرمائش کر ڈالی –
پی ٹی وی اسلام آباد سنٹر سے تیرہ اقساط کے اس ٹی وی کھیل میں وہ کردار زیورے کے نام سے شامل هے جسے پنڈی ریڈیو ٹیی وی کی سینئر آرٹسٹ عفت چوہدری نے نبھایا هے –
زرمورے ساٹھ سے اوپر کی ایک معمر خاتون تھی – آنکهوں میں بہت سا سرمہ ، کانوں میں بہت سی چیلکاں ، ہاتهوں پہہ مہندی ، کلائیوں میں کہنی تک سرخ و سبز کچ کی کهنکتی ہوئی بہت سی چوڑیاں ، عموما” خاکی سبزی مائل رنگ کے کپڑے ، بغل میں چهوٹی سی پوٹلی دبائے ، زرا جھکی ہوئی کمر کے ساتھ جانے کہاں سے بلو خیل روڈ پر ہونے والی ہر بارات کی ڈھولک محفل میں آ ٹپکتی اور آتے ہی پوٹلی ایک طرف پهینک کر ناچ ٹولی میں شامل ہو جاتی اور پھر اپنے جنونی رقص سے سب کو رقص کی ٹکڑی سے نکال دیتی – ناچتے ناچتے اس کے پوپلے منہ سے پھو پھو کی آوازیں نکلتیں اور ساری محفل درہم برہم ہو جاتی – پھر اچانک کوئی خاتون پکار کر آواز دیتی – وے امیر ، ایتھے آویں –
امیر کا نام سن کر زرمورے فورا” رک جاتی ، ادھر ادھر دیکھتی اور پوچھتی ، امیر کتھے اے – ہم بچوں میں کسی کی طرف یا کسیی ملازم کی طرف اشارہ کر دیا جاتا – یہ دیکھو امیر ایہہ بیٹھا اے – زرمورے اپنا ناچ چهوڑ کر اس بچے کی طرف لپکتی – اس کی آنکهیں خوشی سے چمکنے لگتیں ، ہمیں اس وقت اس کے ماتھے پر ابرووں کے درمیان کھدی ہوئی نیلی بندیا سرسوں کے تیل سے چپڑی ہوئی مینڈهیوں کے درمیان نظر آتی اور وہ بڑی لجاجت سے پوجهتی – وے امیر ، توں کتهے لگا گیا ایں – مینوں وی نال گھن ونج ناں – بچہ شور مچاتا ، میں امیر نہیں ہوں –
، تو امیر نہیں ہے ، اچھا تو امیر کہاں هے –
وہ بچہ دوسرے کی طرف اشارہ کرتا اور کہتا – یہ امیر بیٹها هے – وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتی اور وہی سوال و جواب ہوتاا – آخر میں کوئی آواز دیتا ، زرمورے کو امیر باہر بلا ریا هے –
اچھا ، امیر باہر هے؟ یہ کہہ کر وہ اپنی پوٹلی اٹھاتی – باہر جانے لگتی تو اس کی مٹھی میں کچھ پیسے تھما دئیے جاتے اور وہ رخصت ہوو جاتی –
میں آج تک حیران ہوں کہ اس کے ساتھ سب لوگ کیسے اتنی نرمی سے پیش آتے، پہلے اسے ناچنے دیتے اور پھر اسےے تھوڑے بہت پیسے دے کر امیر کے بہانے نرمی سے رخصت کر دیتے –
ہم جب بڑے ہوگئے ، خواتین کی ان محفلوں میں ہمارا جانا موقوف ہوگیا ، 1966 تک بلو خیل روڈ پر زرمورے اسیی رنگ ڈھنگ میں کبھی کبھار نظر آجاتی – سڑک پر کوئی لڑکا شرارت سے آواز دیتا ، ماسی زرمورے ، امیر یہاں بیٹھا هے تو وہ چونک کر ادھر دیکھتی ، کچھ دیر رکتی ، بہت معصوم انداز میں مسکراتی اور اپنی راہ کو چل پڑتی – امیر کے نام سے مذاق پر اس نے کبھی برا نہیں منایا – امیر کے نام میں اس کی جان تھی – سبزی منڈی کے قریب ہمارے ایک عزیز امیر خان مرحوم گڈی خیل کا گھر تھا – کبھی کبھار وہاں پہنچ جاتی اور پوچھتی ، امیر کتھے اے – بیگم امیر خان بہت سلیقہ شعار اور حساس خاتون تھی جس نے نہایت محدود آمدن میں بھی اس قرینے سے گھر چلایا اور بچوں کو تربیت کا وہ ماحول دیا کہ اس گھر کے نونہال ڈاکٹر ، میجر ، ٹیچر اور ایمبیسڈر کے عہدوں تک جا پہنچے – ان کے بڑے صاحبزادے خضر حیات خان نیازی ایم اے گولڈ پنجاب یونیورسٹی ، آسٹریلیا اور کویت میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں – زرمورے کو بیگم امیر خان بڑی تسلی سے بٹهاتی اور کہتی – امیر خان تو والی بال کھیلنے گیا هے ، ابهی آجائے گا – تم ادھر بیٹھو اور چائے پیو – زرمورے چائے پیتی ، تهوڑی دیر تک انتظار کرتی اور پھر اٹھ کهڑی ہوتی اور جاتے جاتے کہتی ، میرے امیر کو کہنا ، میرا انتظار کرے ، میں پھر آوں گی – کچه دنوں کے بعد زرمورے پهر آجاتی اور یہی مشق دہرائی جاتی – کبھی کبھار تو ماما امیر خان خود اسے چائے کیلئے کہتے اور وہ انہی سے پوچھ رہی ہوتی – امیر کتھے گیا ہوسی — اللہ جانے کب تک وہ اپنے امیر کی تلاش میں ماری ماری پهرتی رہی اور پهر ایک دن لوگوں کے حافظے میں محفوظ لیکن آنکهوں سے اوجهل ہو گئی ۔ اب بھی کوئی خاتون بے تحاشا میک اپ کرے تو نوجوان لڑکیاں اسے زرمورے کہہ دیتی ہیں لیکن اس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ، وہ کون تھی ، اس کا قبیلہ ، محلہ، گاوں یا رہائش کہاں تهی اور اس کی پوری کہانی کیا تهی – شاید ہمارے بڑے جانتے ہوں لیکن کسی کا پردہ رکھنے کیلئے چھپاتے ہوں ، کسی کی بہن بیٹی کا نام اچھالنا وہ کسرشان سمجھتے تھے ۔ کچی پکی یہی بات عام تهی کہ اپنی جوانی کے دنوں میں زرمورے بہت خوبصورت تھی – علاقے کا کوئی امیر نامی نوجوان اس کے حسن کا سن کر بن دیکهے عاشق ہوگیا اور بات عام ہو گئی – یوں زرمورے گھر بیٹھے امیر کیلئے بدنام ہو گئی – کسی نے اس کیلئے رشتہ نہ مانگا – ڈر کے مارے یا کسی اور وجہ سے امیر بھی شاید شادی کا امیدوار بن کر نہیں آیا – آتا بهی تو نامراد جاتا کیونکہ جس کے نام سے لڑکی بدنام ہو جاتی ، لوگ اس سے رشتہ کرنا اپنی توہین سمجهتے – یہ بھی ہو سکتا هے زرمورے کے کسی رشتے دار نے بد نامی کا بدلہ لینے کیلئے اسے قتل ہی کر دیا ہو – اور ادهر زرمورے بارات کا انتظار کرتے کرتے آخر اس امیر کی تلاش میں نکل کهڑی ہوئی جسے اس نے زندگی میں کبھی دیکھا ہی نہیں تھا – آج میانوالی کی خواتین کسی خاتون کو بھدے میک اپ میں دیکهیں تو مذاق میں کہہ تو دیتی ہیں – تم تو زرمورے نظر آرہی ہو لیکن ان میں سے کسی کو بھی نہیں معلوم ، زرمورے کون تھی اور اس کا ہار سنگھار کس کے ملن کی آس میں تها —-میں بہادر جنجوعہ کی اس رائے سے متفق ہوں کہ وہ عشق کے اس قبیلے سے تھی جس کے نمایاں افراد تو ہیر رانجھا ، سسی پنوں اور سوہنی ماہیوال ہیں لیکن ذرمورے کو کوئی وارث شاہ نہ ملا جو اس کےعشق کو نظم بند کرکے اسے امر کر دیتا ، اور اس کا عشق بھی نرالا تھا ، اس سے عشق جسے اس نے کبھی دیکھا ہی نہ تها – اس کے چہرے پر ایک عجیب ملکوتی سی معصوم مسکراہٹ تھی اور اس کی چال ڈھال میں اطمینان و سکون کی ایک ایسی لہر تھی جو چھلک کر دیکھنے والوں کو بهی بھگو دیتی تھی – شاید اسی وجہ سے عوام اسے معصوم سمجھ کر اس کو ناراض کرنے سےکتراتے تھے —
وہ کیا تھی واللہ اعلم ، لیکن میانوالی کی زندگی میں ایک دلچسپ اساطیری کردار بن کر امر ہوگئی —–

2016ظفر خان نیازی –20 اکتوبر

Leave a Reply