MASJID WAZIR KHAN KA MJZOB

مسجد وزیر خان کا مجذوب
محمد اکبر خان خنکی خیل

پہلے میرا خیال تها کہ میانوالی کے مین بازار نے یہاں کے بلو خیل اور وتہ خیل قبائل کو محض اتفاق سے دو مختلف اطراف میں بانٹ کر رکهه دیا ہے – محترم محمد اقبال خان نیازی تاجے خیل کی کتاب تاریخ نیازی قبائل پڑهه کر معلوم ہوا کہ مین بازار کے شمال میں بلوخیل اور جنوب میں وتہ خیل قبیلوں کی سکونت کا معاملہ بہت لڑائی جھگڑے کے بعد طے ہوا تها – وتہ ، ورجهه کا بیٹا اور ادریس میاں عالی کا پوتا تها ۔ سارے وتہ خیل اس کی اولاد ہیں اور سارے بلو خیل ادریس میاں عالی کے پڑپوتے بہلول اور اس کے چچیرے بھائیوں کی ۔ اس طرح تقریبآ” دس گیارہ پشت پہلے بلو خیل اور وتہ خیل ایک ہی خاندان کے افراد بنتے ہیں – ڈاکٹر شیرافگن خان مرحوم گلو خیل ، وتہ خیل اپنے جد، نیازی کی اٹھارویں پشت اور عمران خان شیر مان خیل بلوخیل اپنے جد ، نیازی کی بیسویں پیڑھی ہے – محمد اکبر خان خنکی خیل بلو خیل ، اپنے جد نیازی کی اٹھارویں پشت تهے –

یہ میں اپنی پہلے کی پوسٹوں میں بتا چکا ہوں کہ محمد اکبر خان خنکی خیل مرحوم قیام پاکستان سے پہلے تک مسلمانوں کے متفقہ لیڈر رہے ہیں اور 1929 میں غازی علم دین شہید کے کیس کے موقع پر ان کے اہل خاندان کے میزبان کے طور پر ان کی شہرت سارے ہندوستان میں تهی – میری خوش قسمتی کہ مجهے اوائل عمری میں ان کی خوبصورت باتیں سننے کا موقع ملا – غازی علم دین شہید کی باتوں کے علاوہ چند مزید دلچسپ تاریخی بات بهی ان کے حوالے سے عرض کروں گا – یہ واقعہ بهی انہی کی گفتگو پر مبنی ہے جو بلو خیل اور وتہ خیل قبائل کی آخری لڑائی کے بارے اور مسجد وزیر خان کے مجذوب کے بارے میں ہے —–
1943 کی بات ہے ، جمعہ کے دن جامع مسجد زادے خیل میں مولوی صاحب تقریر کر رہے تهے ، یہ مسجد حضرت اکبرر علی کے تعلق سے اب جامعہ اکبریہ کہلاتی ہے – مشہور زمانہ چاچا خان زمان پهوکے خیل وتہ خیل جانے کیسے اس دن وہاں آئے ہوئے تهے ، تقریر کے دوران اٹهه کهڑے ہوئے اور کہا کہ مولوی صاحب ، اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کو غیب کا علم ہوتا تو هد هد انہیں بلقیس کے بارے میں کیوں بتاتا – ان دنوں میں ہندوستان کے سارے علماء دارلعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل ہوتے تهے – خود حضرت اکبر علی بهی دیو بند کے سند یافتہ تهے – حیات النبی اور علم غیب کے بارے میں یہ بحثیں وہابی تحریک کے نتیجے میں تازہ تازہ شروع ہوئی تهیں – چاچا خان زمان خان ، جمعیت علمائے اسلام کے سرگرم اور دلیر کارکن تهے – اپنے نظریات کی بنا پر کئی بار جیل جا چکے تهے – شورش کاشمیری نے اپنی کتاب پس دیوار زنداں میں میانوالی جیل اور حوالاتی چاچا خان زمان خان پهوکے خیل وتہ خیل کا ذکر کیا ہے – اس اعتراض پر انہیں کہا گیا کہ وہ خاموشی سے تقریر سنیں – چاچا خان زمان خان نے اپنے سوال پر اصرار کیا – ان کا اپنا مخصوص مزاج تها – انہیں پہلے تو بہت سمجھایا گیا ، وہ چپ نہ ہوئے تو محمد اکبر خان اور کچهه لوگوں نے چاچا خان زمان وتہ خیل کو زبردستی اٹها کر مسجد سے باہر نکال دیا –
چاچا نے وتہ خیل وانڈهے میں جا کراس واقعے کی خبر دی – وتہ خیل قبیلے نے اس کو اپنی سخت توہین سمجهتے ہوئے بلوخیلوںں کو پیغام بهیجا کہ وہ اس توہین کا بدلہ لینا چاہتے ہیں – اور اس کیلئے اتوار کو منڈی مویشیاں کے گراونڈ میں لڑائی کیلئے آئیں گے – ان کا انتظار کیا جائے -اس طرح لڑائی کی ٹپ دینا یہاں کا پرانا دستور تها اور رواج کے مطابق بلو خیلوں کا پڑھ ( زیر کے ساتھ پڑهیں Pirhh یعنی میدان جنگ ) میں آنا ضروری تها –
چیلنج کے مطابق بلوخیل اتوار کے دن پوری تیاری کے ساتهه مقررہ میدان جنگ میں پہنچ گئے –
ادهر اس دن مغرب سے دو ڈھائی سو افراد وتہ خیل سے ڈنڈے کلہاڑے لاٹهیاں وغیرہ نکلے – مڈبهیڑ ہوئی ، لوگگ زخمی ہوئے – حاجی عبدالرحمان خان خنکی خیل بلو خیل نے اپنی بندوق نکالی – فائر کیا تو وتہ خیل کا احمد یار ڈهرہال گھائل ہو کر گر پڑا اور دم توڑ دیا – بندوق کا فائر سن کر وتہ خیل پسپا ہو گئے – اور لڑائی بند ہو گئی — اس اثنا میں ڈپٹی کمشنر اور ایس پی میانوالی بهی لڑائی رکوانے کیلئے پہنچ چکے تهے –
اس قتل کا حکومت ہند نے سخت نوٹس لے لیا -بلوخیل پارٹی پر قتل کا مقدمہ دائر ہوگیا -حکیم عبدالرحمان خان خنکیی خیل ، اسلم خان ، اصغر خان ( محمد اکبر خان کے صاحبزادے) نمبردار عمر خان زادے خیل ، عبدالستار خان خنکی خیل ( حکیم انور خان کے والد ) اور چند دیگر افراد 302 میں حوالات پہنچ گئے –
اتفاق سے محمد اکبر خان حوالات جانے سے بچ گئے – وہ اس کیس کی پیروی کرنے پر آئے تو بہت پریشان ہوگئے –
ان کی پریشانی دیکهه کر مولوی اکبر علی صاحب نے محمد اکبر خان کو کہا – آپ لاہور جائیں اور مسجد وزیر خان کے پاس ایکک مجذوب رہتا ہے ، اس سے دعا کی درخواست کریں – محمد اکبر خان بتاتے ہیں کہ میں فورا” لاہور پہنچ گیا – وہاں جا کر مجذوب کو دیکها تو پتہ چلا کہ وہ انتہائی جلالی مزاج کا ہے اور کسی کو قریب پھٹکنے نہیں دیتا – محمد اکبر خان کہتے ہیں ، میں اس کی سخت باتیں اور جھڑکیاں برداشت کرتے ہوئے اس مجذوب کے قریب پہنچ گیا – قریب پاکر مجذوب غصے سےمجهه پر دهاڑا ، اور کہنے لگا ، اللہ کے گهر سے لوگوں کو اٹها کر پھینکنے والے تم کون ہوتے ہو ؟ محمد اکبر خان کہتے ہیں ، مجهے تو مولوی اکبر علی صاحب کا حکم تها ، میں سنی ان سنی کر کے آگے بڑھتا رہا – آخر مجذوب بولا – میرے پاس مت آو – یہاں سے چلے جاو – جاو تمہارے آدمی بری ہوگئے –
محمد اقبال خان نیازی ، تاریخ نیازی قبائل میں لکهتے ہیں – کہ وہ لڑائی ڈپٹی کمشنر ایم بی کول اور انگیز ایس پی نے میلہ منڈیی مویشیاں میں خود جا کر اپنی مداخلت سے بند کرائی تهی – ڈپٹی کمشنر نے چشم دید گواہ کی حیثیت سے بیان ریکارڈ کرایا اور حفاظت خود اختیاری کا فائدہ دے کر تمام ملزمان کو بری کر دیا –
میں اس لحاظ سے خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں کہ مجهے اپنے عہد طفلی میں کئی بار نہ صرف یہ کہ مولوی اکبر علی رحمتت اللہ علیہ کا دیدار نصیب ہوا ، بلکہ ان سے گفتگو کا موقع بھی ملا – مولوی اکبر علی صاحب دیکهنے میں بهی بہت خوبصورت انسان تهے – گوری سرخ رنگت والا نورانی چہرا اور سفید داڑھی ، صاحب ولایت تهے اور با شرع عالم ، دیو بند کے فارغ التحصیل ، ان کو میانوالی کے لوگ گونگی حور کہتے تهے –
محمد اکبر خان خنکی خیل مرحوم سے میری قربت بی ایس سی کے زمانے 1965 سے 1972/3 تک رہی – انن کے انتقال تک میں ان کی مجلس سے فیضیاب ہوتا رہا ۔ وہ میرے نانا کے دوست تهے سو میں انہیں نانا جی کہتا تها ، ان سے یہ ملاقاتیں چاچا جیلانی جلد ساز کی دکان پر رہتی تھیں جو ہمارے محلے کی تین نسلوں کی مشترکہ بیٹھک تھی ۔ ان بزرگوں سے یہ باتیں وہیں سننے کا موقع ملا ۔۔۔۔۔
جبکہ مولوی اکبر علی صاحب کا 1956 میں وصال هوا ، میں اس وقت تقریبا” دس برس کا تها – مجهے اس عمر میں ان کیی خدمت میں حاضری کا موقع یوں مل گیا که میری والده مجهے دودھ کی ایک چهوٹی سی پیتل کی بالٹی دیتییں – هماری گائے تهی جس کا دودھ مسجد کے طالبوں کی خدمت کیلئے مجهے لے کر جانا هوتا – مولوی اکبر علی صاحب اس وقت مسجد کے حجرے میں آرام فرما رھے هوتے تهے – میں ان کے حجرے میں چلا جاتا – یه حجره مسجد کے صحن کے شمال میں تها – بعد میں مولانا غلام جیلانی اسی حجرے میں آرام فرماتے – مسجد کی تزئین نو کے ساتھ اس حجرے کا انداز و ساخت تبدیل هو گئی هے – مولانا محترم مجهے دیکهتے هی کالو کو آواز دیتے -لمبے قد اور کالی رنگت والا کالو جامع مسجد کا طالب تها – دو اور طالب جو نمایاں تهے ، ایک کا نام خانی اور دوسرے کا نام زمه (شاید) تها – کسی طالب کے آنے تک کبهی کبهار وه میرے نانا جان کے بارے میں پوچھ لیتے – ان کی خوبصورت آواز اور شفیق لهجه مجهے اج بهی یاد هے – میں آج سوچتا هوں تو اپنی خوش قسمتی پر ناز کے ساتھ ساتھ اندازه لگاتا هوں که وه کتنے اعلے اخلاق کے مالک تهے که آٹھ نو سال کے بچے کے ساتھ بھی اس طرح پیار کے ساتھ پیش آتے تهے – بات شاید آپ کو عجیب لگے لیکن سچ یه هے ، میں آج بهی سرخ چہرے اور سفید داڑهی میں کرسمس والے سانتا کلاز بابے کی پک دیکهتا هوں تو میری نظر میں فورا” مولوی اکبر علی رحته الله علیه کا خوبصورت چہرا اور تصور آجاتا هے –
میڈم روبینه ناز نے طائف سے تبصرے میں کها هے که مسمان کی حیثیت سے همارا عقیده هے که عالم الغیب صرف اللهه کی ﺫات هے –
جی هاں – عالم الغیب تو صرف الله کی ﺫات هے لیکن غیب کا علم جسے چاهے عطا کر دے – اور اس عطا سے کوئی بنده عالمم الغیب کهلانے کا حقدار نهیں – همارے هاں زیاده جهگڑے اصطلاحات کی تشریح میں ایسی کج بحثیوں سے ابهرے هیں اور یه جهگڑے پچهلی صدی کی پیداوار هیں – اگر آپ اسی پوسٹ پر غور کریں تو ایک دلچسپ نکتہ آپ کے سامنے آئے گا کہ ایک شخص انبیاء کے علم پر بحث کر رہا ہے اور پهر ایک مجذوب جو کچهه پوچهے بنا محمد اکبر خان صاحب سے کہہ رہا ہے ، تم کون ہوتے ہو کسی کو اللہ کے گهر سے نکالنے والے –
میرے علم میں اور کچهه ایسی باتیں ہیں جو بوجوہ میں شیئر نہیں کر رہا -حضرت مظہر قیوم مرحوم و مغفور کی کچهه باتیں جوو میرے ساتهه ہوئی ہیں ، شاید کبهی ہمت کر کے شئیر کر بهی دوں – باقی آپ مسند احادیث کی کتب کا مطالعہ کریں تو آپ کو غیب کے علم کے حوالے سے اپنی رائے میں ترمیم کرنا پڑے گی –
حضرت علی کرم اللہ وجہ ایک دفعہ بیماری کے عالم میں عازم سفر تهے – کسی نے کہا ، امیر المومنین ایسا نہ ہو سفر میں طبیعتت زیادہ خراب ہو جائے اور جان کا نقصان ہو آئے – حضرت علی کرم اللہ وجہ نے جواب دیا – ایسا ہرگز نہیں ہوگا – رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تها ، یہ داڑهی خون سے تر ہوگی –
خوارج کے ساتهه آخری لڑائی پر فتح پانے پر حضرت علی کرم اللہ وجہ نے ان کے سرغنہ کو ڈھونڈنے کا حکم دیا اور بتایا کہہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایک ہاتهه کی خاص نشانی بتائی تهی – لاشوں کے ڈهیر سے اسے ڈھونڈا گیا تو اس کا ہاتهه بالکل ویسا تها –
مختصر یہ ہے ، کسی عالم سے صرف اتنا پوچهه لیجیے نبی کا لفظی اور لغوی معنی کیا ہیں –
بہادر جنجوعہ انگلینڈ سے اسی موضوع کو بڑهاتے هوئے کهتے هیں که انهیں اندازه هے کچھ موضوعات پر میںں اختلافات کے اندیشے سے بات نهیں کرتا – مجهے ایسی باتیں شیئر کرنا چاهیئں –
جنجوعه صاحب ! عرض یه هے که جدید دور کی تعلیم کی بنیاد تشکیک پر ہے – اس کا فائدہ یہ ہے کہ ایک تو آپ اندهی تقلیدد نہیں کرتے ، دوسرے یہ کہ آپ مضبوط اور تسلی بخش ثبوت ملنے پر اپنی رائے میں ترمیم کر لیتے ہیں – یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا میں اسلام کی سچائی کی پذیرائی ہو رہی ہے – ہمارے ہاں جدید تعلیم بهی ہمارے تعصبات کو نہیں دهو سکی – ہماری سوسائیٹی میں کچهه عقائد اور نظریات ہمیں گهر یا ماحول سے ملتے ہیں ، ہم ان کو حقیقت مطلق سمجھ کر دوسروں پر اپنی رائے تهوپتے ہیں – علم غیب اور حیات النبی وغیرہ بهی ایسے ہی مسائل ہیں – حتے الامکان میں ان مسائل پر بات سے گریز کرتا ہوں – پہلی وجہ تو یہ کہ میں اس موضوع کی اتهارٹی نہیں ہوں – دوسرے یہ مسائل آپ وقت کے ساتهه خود سمجهتے ہیں –
دیکهئے شاید میں آپ دوستوں کے ساتهه مزید کچهه باتیں شیئر کر لوں جس میرے ﺫاتی مطالعے میں هیں –
اس پوسٹ کی ریسرچ کے دوران میانوالی شهر کے نیازی قبائل کے چند دلچسپ حقائق سامنے آئے ۔
بلو ، بہلول کا مخفف ہے ، میانوالی شہر کے شمالی حصے کے قبائل بہلول خان کی اولاد ہیں ، لیکن ان میں علی شیر خیل ، شیر مان خیل اورر عالم خیل جن کا شمار بلو خیل میں ہوتا ہے ، وہ بلو یا بہلول کی اولاد نہیں ان کے کزن ہیں ۔ وہ چونکہ ہمیشہ بہلول کی اولاد کے اتحادی رہے ہیں اس لئے بلو خیل کہلانے لگے ہیں ۔بہلول سے چند پشت اوپر البتہ وہ ایک ہی باپ کی اولاد ہیں
وتہ خیل قبائل کو طنزا” بھچر کہتے تھے – اس کی وجہ یہ تهی کہ بلوخیل کے ساتھ لڑائیوں میں وہ بھچر قبائل کی امداد کےے طالب رہتے تھے ۔ حالانکہ وہ بھی سارنگ نیازی ہیں اور چند پشت اوپر ان کا شجرہ بلو خیل قبائل کے ساتھ مل جاتا ھے ۔
اس وقت میانوالی میں بلو خیل اور وتہ خیل قبائل میں اللہ کے فضل سے کسی طرح کی کوئی مخاصمت ، تلخی یا اجتماعی نفرت یاا دشمنی نہیں ہے ، کچهه گهرانوں میں انفرادی سطح پر ضرور ایسا ہے لیکن اس کی بنیاد قبیلے کی عصبیت نہیں ہے دیگر وجوہات ہیں –
اس کے علاوہ پہلے کبهی رشتے بیاه اپنے گهرانے سے باہر کا کوئی تصور ہی نہیں تها ، لیکن وقت اور تعلیم کے ساتهه سوچ میںں تبدیلی آئی ہے – اس وقت مختلف قبیلوں کے درمیان شادی بیاہ معمول کی بات ہے –
سماجی سطح پر اور بهی بہت تبدیلیاں آ چکی ہیں – کچهه مثبت کچهه منفی – بہر حال مثبت بات یہ دیکهنے میں آئی ہے کہ پرانیی دشمنیاں اور تعصبات تقریبا” ختم ہوچکے ہیں –
ایک سوال پوچها گیا هے که میں ان میں سے کس قبیلے سے هوں – اچها هوا وضاحت کر دوں – نہ تو میں بلو خیل ہوں نہ ہی وتہہ خیل – میں داود خیل حسن خیل ہوں – اور میں نیازی کی بیسویں پیڑهی ہوں –
میری سسرال زادے خیل ، بلو خیل ہے – اور میری پیدائش ، بچپن لڑکپن وغیرہ محلہ زادے خیل ، بلو خیل روڈ میانوالیی میں گزرے – جبکه میری بڑی بہن کی سسرال وتہ خیل ہے ، سو میرے لئے سبهی پیارے ہیں – میں نے پوری کوشش کی هے که جو حقائق مجهے معلوم هوئے وه پوری دیانت کے ساتھ قلم بند کروں —
شجرہ جات کی معلومات کیلئے میں محترم محمد اقبال خان نیازی تاجے خیل کا ممنون ہوں جن کی عمر بھر کی ان تھک ریاضتت سے ان کی کتاب تاریخ نیازی قبائل کا ساتواں ایڈیشن اب آچکا ھے جو اس کتاب کی مقبولیت کی دلیل ھے —–
(اس موضوع کے مزید کچھ گوشے کمنٹس میں واضح کئے گئے ہیں )

ظفر خان نیازی – 6اکتوبر2015

Your words for Mianwali and Mianwalians