AE MERE SAHIB AUG 16

اے  میرے صاحب


تمام اہلِ وطن کو دل کی گہرائیوں سے
ماہ آزادی وطن بھت بھت مبارک ہو-اگست  2016

اے میرے صاحب

گوشہ ادب اسلام آباد کی ایک بھت معروف ادبی تنظیم ہے اس کے روح رواں جناب وفا چشتی ہیں وفا چشتی سینیر شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ تصوف کے بھی آدمی ہیں انہھوں نے بھت ہشیاری کے ساتھ خود کو شاعری کے پردے میں چھپا رکھا ہے وہ اتنے اعلی شاعر ہیں کہ اچھے بھلے آدمی کو اپنے ظاہر سے آگے نہیں بڑھنے دیتے مگر بعض دوستوں پہ وہ کھل چکے ہیں ان دوستوں کی راے یہھاں مناسب نہیں ہے وہ درویش آدمی ہیں اور پردہ داری بھت ضروری ہے وفا چشتی کے چھوٹے بھای بھی خوبصورت شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بھت میٹھے آدمی ہیں اتنا میٹھا بولتے ہیں ک دل کرتا ہے… بندہ گھٹ بھر کے پی ونجے…….ہمارے دوست شاعر اسد خان وفا چشتی کے شاگرد ہیں جتنے اچھے شاعر ہیں اس سے بڑھ کے شرمیلے ہیں انہیں شعر سنانے پڑ جائیں کیفیت ایسے ہو جاتی ہے کہ شعر کی فرمائیش کرنے والا پریشان ہو جاتا ہے کہ… یا اللہ اب یہ بندہ کہیں ہمارے.. متھے.. ہی نہ لگ جاے مگر اب وہ تھوڑے تھوڑے ٹھیک ہوتے جا رہے ہیں تین چار مشاعرے اور پڑھ لیے تو جس طرح کے وہ شعر کہتے ہیں انہیں سن کے اچھے بھلے شاعروں کی شوگر.. لو.. ہوسکتی ہے عمران مفتی اور اسد خان ایک ہی شہر اور ایک ہی لہر کے آدمی ہیں عزیزم اختر مجاز ان کے دوست ہیں اور سلیم شہزاد کے چھوٹے بھای ہیں اختر مجاز مفتی عمران اور اسد خان دونوں سے چھوٹے ہیں مگر دونوں اس کی بات پر ایسی توجہ دیتے ہیں کہ جیسے دونوں کے درمیان یہی بزرگ شخصیت ہیں سو ان بزرگ شخصیت کے حکم پر ہم بھی مشاعرے میں جا پہنچے


مشاعرے میں شرکت کے دوران ہی محسوس ہوا کہ بزرگ کی راے درست تھی یہ ایک بھت خوبصورت مشاعرہ تھا مشاعرے میں بلوچستان سے بھی شعراء آے ہوے تھے ہم نے ایک کاغذ پر نہ صرف تمام شعراء کے نام لکھے تھے بلکہ ایک ایک شعر بھی لکھا تھا اور خواہش تھی کہ آپ کو بھی سناے جائیں مگر واپسی پر بارش کی وجہ سے کاغذ بھیگ گئے ہم نے شعراء کے نام بھی لکھے تھے چند نام جو حافظے میں رہ گئے ان میں صاحب صدر جناب یوسف حسن.. طاق نعیم. وحید واثق. فرید عابد. پیر عتیق الرحمن اور جناب علی اصغر عباس


علی اصغر عباس ہمارے بھت مہربان ہیں شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ موسیقی کے حوالے سے بھی بھت جانتے ہیں ان سے مل کے بھت خوشی ہوئی اور انہھوں نے بھی بھت چاھت کے ساتھ حال احوال پوچھا اور پھر جب انہھوں نے ترنم کے ساتھ اپنا کلام سنایا تو محفل کا رنگ مزید نکھر گیا انہھوں نے کلام سنانے سے پہلے گلہ کیا کہ….. افضل عاجز تم نے ترنم سے نہ سنا کے بھت زیادتی کی ہے پھر وہ ہمارے ترنم کی ایسی تعریف کرنے لگے کہ ہم پریشان ہو گئے ک یا اللہ اب یہ بھای کہیں ہمیں لتا منگیشکر نہ کہ دے. ان سے پہلے شیدا چشتی ہمیں نور جہاں بنانے پہ تلے ہوے تھے یہ تو ہم سمجھدار تھے کہ جلدی سے مائیک تھام لیا
المختصر کہا جاتا ہے کہ جس نے لہور نہیں دیکھا وہ.. جمیاں ای نئیں.. مگر ہم کہتے ہیں جس نے گوشہ ادب کے مشاعرے میںں شرکت نہیں کی اس نے شاعر سنے ہی نہیں–
اگست  2016

اے میرے صاحب
جشنِ منصور کے سلسلے میں ہم نے ایک مضمون لکھا اور پھر اسے دراز میں رکھ دیا.
ہمیں جب معلوم ہوا کہ جشنِ منصور میں جنابِ عطاء الحق قاسمی. جنابِ مجیب الرحمن شامی. جنابِ حسن نثار. جنابِِ شعیب بن عزیز. جنابِ ڈاکٹر سعادت سعید. جنابِ راؤف کلاسرہ. جنابِ امجد علی خان. جنابِ تنویر حسین ملک. محترمہ ڈاکٹر صغرا صدف. محترمہ راشدہ مابین ملک اور دیگر بہت سی شخصیات بھی اپنے مضامین پڑھیں گے. تو ہم نے سوچا کہ یہ لوگ تو گفتگو اور تحریر میں اپنی مثال آپ ہیں. اور الفاظ ان کی بارگاہ میں مثلِ. کنیز ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں. اور اس موقع پر ہم جیسے دیہاتی آدمی کی گفتگو یا تحریر اپنا کیا رنگ جمائے گی.؟

سو ہم نے سیلم شہزاد کے ساتھ مشورہ کیا کہ اب کیا کیا جائے.

اس نے کہا کہ آپ منصور کی ایک غزل کمپوز کر کے اور کسی اچھے گائیک کی آواز میں ریکارڈ کر کے منصورآفاق کی بارگاہ میں پیش کرو وہ خوش ہو جائے گا. ہم نے دیوانِ منصور سے ایک غزل کمپوز کی اور پھر اپنے جاننے والے گائیک کو بلایا تیس کے قریب اشعار پہ مشتمل غزل کی ریہرسل کے دوران محسوس ہوا. کہ گائیک کی طبیعت غیر ہونے لگی ہے. ہمیں معاملے کی سمجھ آگئی کہ اگر ان کی آواز میں غزل ریکارڈ کی گئی تو گائیک اپنے پاؤں کے بجائے واپس ایمبولینس سے اپنے گھر جائے گا. ہمت کرکے ہم نے خود بھی گانے کی کوشش کی سچی بات یہ ہے ہمیں اپنا بھی انجام گائیک سے مختلف نظر نہیں آرہا تھا. سو ہم نے ارادہ بدل دیا اور سوچا کہ انہیں کوئی تحفہ روانہ کیا جائے ہم نے فیصلہ کیا کہ اس موقع پر انہیں وطن کی مٹی بھیجی جائے تاکہ مٹی کی خوشبو اس سے یہ احساس دلاتی رہے. کہ پورا پاکستان جشنِ منصور میں شریک ہے. مگر افسوس کہ اہلِ وطن میں سے کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی طریقے سے دیارِ غیر پہنچ جاتا ہے. مگر وطن کی مٹی کا پہچانا مشکل ہے.

ہم بہت پریشان تھے کہ اپنے یار کے لیے کیا کریں.

اختر مجاز نے ہماری پریشانی کا حل یہ نکالا کہ جشنِ منصور پر منصور آفاق کو مبارکباد کا ایک خوبصورت پیغام کمپوز کردیا جو ہم نے یہاں ٹیگ کیا ہے.

مگر ایک بہت نایاب تحفہ بھی منصورآفاق کی نذر کر رہے ہیں. یہ ان کی سالگرہ کی تقریب کی ایک تصویر ہے. جس کا اہتمام ہمارے شہر کندیاں میں کیا گیا تھا. اور یہ تقریبات جشنِ منصور سے کم نہیں ہوا کرتی تھیں.

منصور کی نظر اگر کمزور نہیں ہے. تو پھر ان چہروں کو پہچان لے گا.

ہماری دعا ہے کہ میرا ربّ اسے اتنا بڑا آدمی بنا دے کے کوئی اگر اس کا چہرہ دیکھنے کے لیے اس کی طرف نگاہ اٹھائے تو اس کی. پگ. گر پڑے.4 اگست  2016

اے میرے صاحب


اے میرے انکل منصور آفاق صاحب
ہماری طرف سے بھی جشن منصور آفاق مبارک
اللہ پاک آپ کو عزت دے اور مزید عزت دے آمیںن

آپ کا بیٹا

علی مرتضٰی–5 اگست  2016

اے میرے صاحب

رات ہم نے خواب دیکھا بعض نقاب پوش ہماری پوسٹ پہ آے انہھوں نے ہاتھوں پہ دستانے چڑھا رکھے تھے وہ جی بھر کے ہماری پوسٹ کو ٹٹولتے رہے مگر حرام ہے کہ انہھوں نے کوی نشان چھوڑا ہو سو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کیوں نا
ان نقاب پوشوں پر اپنی پوسٹ کا دروازہ بند کر دیا جاے؟
احباب محبت زرا رہنمائی تو کرئیں کہ ان کے ساتھ کیا کرئیں؟-اگست  2016

اے میرے صاحب

گزشتہ روز ہم گوشہ ادب اسلام آباد کے

مشاعرے میں شریک ہوے تو معلوم ہوا ک

بلوچستان کوئٹہ سے بھی شعراء تشریف لاے ہوے ہیں ان شعراء کے نام بھول گئے ہیں
خیال یہ تھا کہ یہ شعراء اپنی مادری زبان میں کلام سنائیں گے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ بلوچستان کے حوالے سے عام تاثر یہ ہےے کہ. وہاں کے لوگ پاکستان کے حوالے سے اچھے خیالات نہیں رکھتے اور علیحدگی کی بات زیادہ کرتے ہیں سو یہ کیسے ممکن ہے وہاں کاشاعر اردو زبان کو وسیلہ اظہار بناے؟
مگر ان شعرا نے جب کہا کہ اردو غزل پیش خدمت ہے تو ہم نے سوچا کہ ان کی شاعری
تو پاکستان کے خلاف ہو گی
مگر ہمیں اس وقت شرمندگی ہوی جب انہھوں نے محبت کے شعر سناتے ہوے داد لینی شروع کردی ان کے اکرامم میں جوں جوں اضافہ ہوتا گیا شرم اور ندامت سے ہمارا سر جھکتا گیا اورہم نے سوچا ک ہم کیسے محب وطن ہیں جو اپنے سوا ہر ایک کو وطن دشمن سمجھتے ہیں ہم کیسے پاکستانی ہیں جو اپنے سوا کسی کو پاکستانی ہی نہیں سمجھتے
یہ درست ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے حقوق چاھتے ہیں تو کیا پاکستان مین رہتے ہوے اچھی زندگی کی خواہش ناجائزز ہے؟

یہ بھی درست کے چند لوگ بندوق کے زریعے اپنے حقوق چاہتے ہیں اور وطن دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں مگر
اکثریت ایسی نہیں ہے اور خود کو پاکستان کے ساتھ جوڑے ہوے ہے
یہ جو گزشتہ روز دہشت گردی ہوی ہے اس میں جو لوگ شہید ہوے ہیں یہ پاکستان سے جڑے ہوے لوگ ہیں یہہ پاکستان کی محبت میں مارے گئے ہیں
بلوچستان میں اس طرح کی دہشت گردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی یہ واقعات پیش آچکے ہیں

ممکن ہے اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہو ہمارا سوال یہ ہے کہ بیرونی ہاتھ اتنا مضبوط اور اندرونی ہاتھ اتنا کمزور کیوں ہے
ایک شخص باہر سے آ کے اپنے مطلب کے بندے خرید لیتا ہے تو پھر ہم اندر رہتے ہوے
اپنے لوگوں کو کیوں اتنا دور کر رہے ہیں کہ وہ غیر کو اپنا اور اپنوں کو غیر سمجھتا ہے
ہمیں اپنے لوگوں کے دل خریدنے ہیں ہمیں اپنے لوگوں کے ساتھ برابری قائم کرنی ہے
پاکستان ایک ہی صورت میں مضبوط رہ سکتا ہے کہ ہم دوسرے کو بھی وہی کچھ دئین جو اپنے لیے چاھتے ہیں
سوگ منانے سے کچھ نہیں ہوگا
آگے بڑھ کے ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ نہیں دل ملانے سے معاملات درست ہوں گے
میرا رب شہداء بلوچستان کے درجات بلند کرے اور بیرونی ہاتھ پر اندرونی ہاتھ کی گرفت مضبوط کرے آمیںن-اگست  2016

اے میرے صاحب
ہمارے احباب محبت بہت عالیشان ہیں اور ہم ان کی محبت کے قدردان ہیں اور ساتھ ہی حیران ہیں کے اس دور نفسا نفسیی میں بھی محبتوں سے بھرے ہوے دل ابھی تک موجود ہیں
بعض احباب ہماری تصویروں کے ساتھ کھیلنے میں بہت لطف لیتے ہیں اور ہم ان کے لطف و کرم کو اپنی چھاتی میں اتار کے انن کےلئے اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کی محبت کو مزید بلند کرے اور تمام احباب کے مراتب بھی بلند کرے
گزشتہ روز ایک مہربان نے ہمیں شیروانیاں پہنا کے دولہا بنا دیا ہمارے پیارے دوست اور بہت خوبصورت شاعر محمد ظہیر احمد ظہیر نے تو باقاعدہ ایک سہرا ٹائپ غزل بھی لکھ دی عزیزم اظہر نیازی نے بھی
تیرے سہرے نوں سجایا ڈاھڈ ا پھل کلیاں
گنگنا دیا
ہمارے دوست شاعر حفیظ شہزاد ہاشمی تو باقاعدہ دانت پیسے رہے کہ اب ہمیں بھی گھوڑی چڑھنےدو
علی عمران اعوان نے تو باقاعدہ لکھ ہی دیا ک
.. حیا کر حیا..
اللہ ایسے مواقع کم بخت سلیم شہزاد کو دے اس نے تو باقاعدہ ہماری بیگم کو فون کرکے ساری کہانی سنائی کی.. بڑے میاںں کے لچھن دیکھ رہیں ہیں آپ؟
بیگم کو فون کرکے کم بخت نے ایسی لگای بجھای کی کے بیگم کی زبان سے ابھی تک دھواں نکل رہا ہے
ایک صاحب نے ہمیں عجیب و غریب شکل میں تبدیل کر دیا اس تصویر پہ ہمارے ایک مہربان نے جملہ لکھا
. جوکر.
یہ جملہ پڑھ کے ہم بہت حیران ہوے کہ ہم جوکر بھی نظر آتے ہیں تو پھر تو یہ بہت کمال کی بات ہے کیونکہ جوکر کسی کو دکھ نہیںں دیتے بلکہ دکھی دلوں کے لیے مسکراہٹوں کا سبب بنتے ہیں اور اس دور کرب میں اگر ہم کسی کے لبوں پر مسکراہٹ کا سبب ہیں تو بہت خوشی کی بات ہے
آجکل یوم آزادی کے دن چل رہے ہیں تو اس حوالے سے بھی بعض احباب تصویروں میں رنگ بھر رہے ہیں
کچھ تصاویر ہمارے بہت پیارے شاعر دوست جناب اکرام اللہ خان روکھڑی صاحب اور کچھ جناب آصف محمودد صاحب کے فن کا کمال ہے
دونوں کے لئے تشکر اور آپ کے لیے ظاہر ہے
تصاویر—10 اگست   2016

اے میرے صاحب


مہران سانول عیسی خیلوی ہمارے ملک کے بہت معروف گلوکار ہیں ایک ہی البم نے انہیں بہت اونچے مقام پر پہنچا دیا ہے بہت نفیس شخصیت کے مالک ہیں قدرت نے انہیں بھت سی خوبیاں عطا کی ہیں وہ شاعر ڈرامہ نگار ادکار کالم نگار بھی ہیں
وہ اس خواہش کے ساتھ تشریف لاے ک ہم ان کے ساتھ کام کرئیں
ہم نے کہھا ہم تو خود کسی بندے کی تلاش
تلاش مین تھے کہ کوی آے تاکہ ہم بھی کسی کام کے ہو جائیں صبخ سے شام فیس بک پر ادوہم مچاے رکھتے ہیں اب تو فیس بکک والے بھی پیغام بھیج رہے ہیں کہ بھای 
اس.. نمانڑییں.. کو بھی دوگھڑی.. ساہ.. لینے دیا کرو
وہ حیران ہوے اور پوچھا وہ کیسے؟
ہم نے کہا اب آپ آے ہو تو آپ کے آنے کا حال احوال فیس بک پر پوسٹ کریں گے توپھر
فیس بک والے کہیں گے
اف اللہ پھر
میرے صاحب نے کچھ پوسٹ کر دیا ہے
وہ مسکرا ے اور کہا ہاں میرے صاحب
احباب سے دعا کی درخواست ہے انشاءاللہ بہت جلد سانول صاحب کے ساتھ سانولی سانولی البم کے ساتھ حاظر ہوںں گے—
12 اگست  2016

اے میرے صاحب


یکم اگست کو ہم نے جشن آزادی وطن کی پوسٹ لگای تو احباب نے پرجوش انداز میں مبارک باد دی مگر بعض احباب نے بہت ٹوٹےہوے دل کے ساتھ سوال اٹھایا ک
جشن آزادی؟
مبارکباد؟
کیا ہم آزاد ہیں؟
اب ایک جواب تو یہ ہے ک یہ لوگ غدار وطن ملک دشمن اور بیرونی قوتوں کے ایجنٹ ہیں
مگر یہ وہ جواب ہے جسکی وجہ سے ہم آے روز وطن دشمن پیدا کر رہے ہیں اس طرح کے جواب نے بنگلہ دیش بنایا کیونکہہ جب ہم جواب دینے کے بجاے سزا دینے پہ تیار ہو جاتے ہیں تو پھر سوال کرنے والا بندوق آٹھا لیتا ہے اور حقیقی وطن دشمن اس کی کمر پہ تھپکی دیتے ہوے اسے اپنے استعمال میں لاتے ہوے اپنے عزائم کی تکمیل کرتاہے
سو ہمیں اپنوں کے دکھ کو سنتے ہوے ان کا مداواکرنا چاہیے وہ کیا چاہتے ہیں ان کے ساتھ مکالمہ کرنا چاہیے مگر کھلے دل کےے ساتھ
لوگ کیا چاہتے ہیں؟
لوگ چاہتے ہیں کہ یہ ملک جس لیے بنایا گیا تھا اس مقصد کو پورا کیا جاے اس ملک کے شہریوں کو ان کے حقوق دینے جاییںں ایک عام آدمی کو بھی وہ آسانیاں دی جاییں جو خواص کو حاصل ہیں
مثال کے طور پہ جب ایک عام شہری راے ونڈ کے محل عمران خان کے بنی گالہ
زرداری کے شیش محل اور ان جیسے دیگر خواص کے عیش آرام دیکھتا ہے تو پھر وہ سوچتا ہے کہ نہ تو یہ اسلامی جمہوری پاکستانن ہے اور نہ ہی بابا ے قوم کا پاکستان ہے یہ تو چند دولت مندوں کا پاکستان ہے جو آہستہ آہستہ ایک ایسا پاکستان بنا رہے ہیں جس میں ایک عام آدمی اجنبی لگنے لگا ہے
سو ان اجنبی بنتے لوگوں کی شکایت درست ہے اس شخص کی شکایت درست ہے جواپنی بیٹی کو ہسپتال لے جاتے ہوے
کسی بڑے آدمی کے پروٹوکول کی زد میں آتے ہوے اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں میں مرتے ہوے دیکھتا ہے
اس نوجوان کی شکاییت درست ہے جس کی ایم اے کی ڈگری کے مقابلے میں کسی بڑے آدمی کا مڈل پاس بیٹا تحصیلدار لگاا دیا جاتا ہے
اس آدمی کی شکاییت درست ہے جس کی تنخواہ سے دگنا بجلی کا بل آجانا ہے
ان تمام لوگوں کا شکوہ درست ہے ک جنہیں بطور شہری اس کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے
مثال کے طور پہ کتنی عجیب بات ہے گزشتہ کچھ دنوں سے لاہور میں چھوٹے چھوٹے بچوں کا قتل عام جاری ہے مگر
اس گروہ کو پکڑنے والے ہاتھ خاموش ہیں
ہم سمجھتے ہیں کہ ان تمام حالات کی زمہ داری پاکستان پر عائد نہیں ہوتی پاکستان تو ایک خطہ زمین ہے اسے ایک سر سبز زمین توو ہم نے بنانا ہے ہم جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے
سو پاکستان سے شکاییت انصاف پر مبنی نہیں ہے
پاکستان سونے کی چڑیا ہے ہمارے بزرگوں کی امانت ہے ہمارے لیے ماں کی گود کی طرح ہے
مگر اس پر ایک ایسا طبقہ مسلط ہے جو ایک نیا پاکستان بنا چکا ہے جس سے ایک عام آدمی بہت نالاں ہے
بابا ے قوم کے پاکستان کے ساتھ تو ہر ایک جڑا ہوا ہے اور ہر ایک کی خواہش ہے ک بابا ے قوم کے پاکستان کو واپس لایا جاے
تو پھر بابا ے قوم کے پاکستان کو واپس کیسے لایا جاے؟
اس کے لیے ہمیں پاکستان سے نہیں پاکستان پہ قابض چند ہاتھوں سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے
ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے
محروم طبقات کو ایک ہونے کی ضرورت ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ایک عام پنجابی سراییکی سندھی بلوچی پٹھان ایک ہی طرحح کے مسائل کا شکار ہیں ایک طرح کی زندگی گزار رہے ہیں ان سب کے دکھ سانجھے ہیں
ہم سمجھتے ہیں کہ مظلوم طبقات کو آپس میں جڑنے کی ضرورت ہے ایک دوسرے کے قریب آنے کی ضرورت ہےے ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھنے کی ضرورت ہے
یہ ممکن نہیں ہے کہ محل نشیں خاک نشینوں کے مسائل کو سمجھتا ہو
ہم خاک نشینوں کو کسی. خاکی. کو آگے لانا ہوگا جب تک یہ. ناری مخلوق. اوپر رہیگی ہم خاک نشیں ان کی آگ کا ایندھںں بنے رہیں گے
آئیے ہم مل کہ جشن پا کستان منائیں مگر
اس جذبے کے ساتھ کے ہم نے اپنا پاکستان واپس لینا ہے
اور اتحاد مظلوم طبقات کی طاقت سے لینا ہے
یار کوی تو آگے بڑھو–13 اگست  2016

اے میرے صاحب

عید پہ ہم گھر گیے تو چاچا نورا کے ساتھ بہت گپ شپ لگی ہم نے ان کا فوٹو سیشن بھی کیا

چاچا نورا بہت مشکل سے آمادہ ہوا اور کہا کہ

افضل پتر چٹی ڈاڑھی تے مینوں گناہ گار نہ کر میں تاں پہلے بہوں ارمانی وداں

ہم نے پوچھا

چاچا وہ کیسے؟

چاچا نورا نے کہا جب پہلی بار سرکار نے کہا کہ سب لوگ شناختی کارڈ بنائیں تو ہم بھی شناختی کارڈ بنوانے چلے گئے مگر جب ہم سے کہا گیا کہ تصویر بھی بنوا کے لاو تو ہم نے کہا

اے حرام کم میں ناں کریساں

افسر نے کہا تو پھر کالے پانی کی سزا ہوگی

ہم بہت پریشان ہوے تمہاری چاچی کو بتایا تو اس نے کہا

بھیڑا نورا بنڑں تاں اوکھی گئی اے ڈیکھاں کییں کملے سیانڑیں توں پچھ

ہم نے کہا

آو بھاگ بھری میں تو سیانڑاں کونڑں اے

تیری چاچی نے کہا

نورا گل تیڈی ٹھیک اے لیکن اے مولی جو ولے پچھاں دھاں دھاں گھتی کھلا ہوندا اے

ڈیکھاں اس نال گل کر متاں کوی راہ کڈھ ڈیوے؟

تمہاری چاچی کے مشورے پر ہم مولی کے پاس چلے گیے مولی نے پوچھا

خیر تاں ہے نورا آج پریشان لگدایں؟

ہم نے مولوی کو سارا قصہ سنایا تو اس نے اپنی جیب سے شناختی کارڈ نکالتے ہوے ہمیں سمجھایا کہ

نورا جان تے بنڑں ونجے تاں کوڑا گھٹ بھرنا حلال اے میں آپ بھری بیٹھاں

مولی کی بات پر ہم مطمعن ہو گئیے کہ چلو ٹھیک

لگا میں دوزخ اچ نا گھلیساں مولی وی نال ہوسی

افضل پتر اس تو بعد میں کڈاھیں فوٹو نی بڑنوایا

آج تیڈے آکھے تے بنڑوا گھنداں

ہم نے چاچا نورا کو سمجھایا تو اس نے ہاں کردی

مگر فوٹو سیشن کے بعد چاچا نورا نے پوچھا

فوٹوواں دا کریساں کے؟

ہم نے کہھا فیس بک پہ لگاییں گے

چاچا نے پوچھا فیس بک کیا ہے؟

ہم ابھی بولنے ہی والے تھے ک قریب بیٹھے ڈی ایم ملک نے کہا

چاچا سوشل میڈیا..

چاچا نورا نے حیران ہوتے ہوے پوچھا

کھوچل میڈیا؟

اے کے شیے؟

ڈی ایم نے کہا

بارلا ملک اے

چاچا نورا نے کہا اچھا

اس دوران ڈی ایم ملک نے بٹن دبایا تو

ایشوریَا راے کرینہ کپور کرشمہ کپور

اور دیگر ادکاراوں کی تصاویر سامنے آگییں

چاچا نورا نے ایک نظر تصاویر پر ڈالی اور پھر ہماری طرف دیکھتے ہوے کہا

افضل پتر تیڈا شادیاں تو علاوہ کوی ہور کم وی ہے اے نوہاں نال کیوں ننی آندیاں؟

ہم نے مسکراتے ہوے کہا چاچا ان کوآپ کی تصویر دکھانی ہے

چاچا نورا نے ایک بار پھر بہت حیرانی کے ساتھ ہماری طرف دیکھا اور پوچھا

افضل پتر گل پکی تھی گئی تاں چاچی دا کیں بنڑ سی؟

ابھی ہم کچھ کہنا چاہتے تھے کہ چاچی کی آواز گونجی

توں زرا گھر آلے پاسے آ میں تیڈے فوٹو

لیراں لیراں نا کیتے تاں آکھیں تے افضل تیڈا وی میں وتر گھندی آں

قریب تھا کے چاچی-16 اگست  2016

اے میرے صاحب

عرصہ ہوا پی ٹی وی پہ ایک ڈرامہ چلا اس کا ایک ڈائیلاگ بہت مشہور ہوا

……….. کوی اک مصیبت اے ……………………. آجکل ہم اسی طرح کی کیفیت کا شکار ہیں

احباب محبت میں سے کوی ایک ہماری تصویروں کے ساتھ کھیلتے ہوئے مختلف رنگ بھرنے کے بعد فر مائیش کرتے ہیں ک

اب ان کو شئر بھی کرو

اور اگر ہم اگر مگر سے کام لیتے ہیں تو بہت ناراض ہو جاتے ہیں ک اچھا اب آپ ہماری محبت میں اتنا بھی نہیں کر سکتے ویسے بہت محبت کے سفیر بنے رہتے ہو محبت یہ محبت وہ

لیکن کوی اک مصیبت اے

ادھر ہم تصویر لگا تے ہیں ادھر علی عمران اعوان کا پیغام آجانا ہے

استاد اج گھر آ میں چھری نا ماری تاں وت آکھییں

بہرحال جناب عمران اداس صاحب آپ کی فر مائیش تو پوری ہو گئی مگر ہماری رات روڈ پہ آ ے گی

کیونکہ علی عمران چھری……………………

اف اللہ کوی اک مصیبت اے-17 اگست  2016

اے میرے صاحب

جو دنیا کا مالک ہے
نام اسی کا لیا کرو


اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ اللہ–19 اگست  2016

ایہو جئی نصیباں والی الجھی اے ڈور اے
دل کتھے ہور اے دماغ کتھے ہور اے

اسلام آباد میں ہوں تو دل لاہور کی طرف مچلتا ہے

لاہور ہو ں تو میانوالی کھینچتا ہے

غم روزگار نے تو ہمئیں اچھا خاصا

الجھا دیا ہے

سفر لاہور

دعا کی درخواست–20 اگست  2016

اے میرے صاحب

اپنے ایک ہمدم دیرینہ کے لئے

بظاہر چھو رہا ہے آسماں کو

مگر اپنی زمیں سے کٹ چکا ہے

مجھے امید تھی بارش کی لیکن

گرجتے ہی وہ بادل چھٹ چکا ہے

.. آپ سمجھ تو گیے ہوں گے؟—23 اگست  2016

اے میرے صاحب

گزشتہ روز ہم نے اپنے دو شعر کسی. ہمدم دیرینہ کے نام کیئے بعض احباب نے اشعار کو جناب عطاء اللہ عیسی خیلوی کی سیاسی کامیابی یا ناکامی کے پس منظر پہ پھبتی.کے طور لیا

ان اشعار کا ان سے کوی تعلق نہیں

ان کی سیاست سے بھی ہماری کوی دلچسپی نہیں ہے ن انکی شکست یا فتح سے کوی مطلب ہے

مگر؟

بعض احباب ان کے ساتھ ہماری طویل رفاقت اور ان کی مزاج شناسی کے حوالے سے پوچھتے ہیں کہ مجودہ مایوس سیاسی حالات میں انہیں کیا کرنا چاہیے؟

ہمارا خیال ہے کہ وہ اب سیاسی میدان سے نکل جائیں گے

مگر ان کے لیے کروڑ روپے کا مشورہ یہ ہے کہ وہ اب عمران کے ورکر کے طور پر سیاست کے میدان میں موجود رہیں

مزید گزارش یہ. ہے کہ ہم عطاء صاحب کے بارے میں جب بھی لکھیں گے پورا گیت پورے سر سنگیت کے ساتھ لکھیں گے

24 اگست  2016

اے میرے صاحب

گزشتہ رات معروف ممتاز سراییکی زبان کے سریلے گلوکار شفااللہ خان روکھڑی کے ساتھ ان کی رہائش گاہ بحریہ ٹاؤن لاہور میں ایک بہت خوبصورت اور طویل نشست ہوی اس موقعہ پر موسیقار صابر علی اور موسیقار سرور ڈھولا اور معروف طبلہ نواز فضل حسین المعروف. چھبہ.بھی موجود تھے یہ ایک یادگار نشست تھی جس میں شفااللہ خان روکھڑی کی گائیکی کے کچھ نئے رنگ بھی دیکھنے کو ملے اس نشست کی ویڈیو بھی کسی دن آپ کی خدمت میں پیش کرییں گے جسے دیکھنے کے بعد آپ ہر ایک سے کہیں گے
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
فلحال چند تصاویر پیش خدمت ہیں

شفااللہ اللہ خان روکھڑی کے بہت پیارے اور بہت اچھے میوزیشں لنگر سائیں ہمیں اپنی انگلیوں میں سے گزارتے ہوے ہم شفا صاحب کے پیارے میوزیشن مانی خان کی مونچھوں کا ناپ لیتے ہوے شفااللہ خان گٹار پہ پوز بناتے ہوے اور ہم طبلے پہ ہاتھ سیدھے کرتے ہوے شانی مسکراتے ہوے اور ہم ٹھوڑا گھبراتے ہوے کہ کہیں اچانک شہنشاہ طبلہ جناب الطاف خان المعروف طافو خان یار دلدار جگر جان آگیے تو پھر کیا ہوگا؟-25 اگست  2016

ہم انسان کو بہت عظمت کے مقام پہ سمجھتے ہیں اور انسان کے احترام کو بہت اہمیت دیتے ہیں
ہم جب کہتے ہیں کے ہم فقیر آدمی ہیں تو تو پوری زمہ داری کے ساتھ اپنی بات کا پہرہ دیتے ہیں
عزت کیا ہے؟ 
یہ تو ایک خوشبو ہے جو منجانب اللہ ہے دولت سے مشہور ہوا جاسکتا ہے لیکن عزت حاصلِ نہیں کی سکتی
ہمارے دوست ہم سے محبت کرتے ہیں اس لیے نہیں کے ہم کوی نابغہ روزگار شخصیت ہیں نہیں سب جانتے ہیں کہ ہمم شاعر ہیں مگر ہمارے بعض مہربان ہمیں چوراہے میں کھڑے ہو کے گالی نکا لتے ہیں ہم سمجھتے ہیں ہمیں گالی نکال کے اگر کسی کی شان و شوکت میں اضافہ ہو سکتا ہے تو یہ ہمارے لیے بہت اطمینان کی بات کے چلو ہمیں گالی نکال کے کسی کو تو شہرت ملی
ہم اپنے احباب سے گزارش کرتے ہیں کے اگر کوی ہمییں گالی نکالے تو آپ خاموش ہو جایا کرییں الجھا ناا کرییں-
30 اگست  2016

فروا بہت خوبصورت آواز کی گلوکارہ ہیں وہ بہت تیزی کے ساتھ اپنا سفر آگے بڑھا رہی ہیں
ان کے ساتھ کام کر کے بہت لطف آیا
ایک خصوصی گیت کی ریکاڈنگ سے پہلے 
ریہرسل کرتے ہوے-31 
اگست  2016

No shortCode found

Your words for Mianwali and Mianwalians