AE MERE SAHIB APR 16

COLLECTION OF AFZAL AAJIZ POSTS ON FACE BOOK FOR THE MONTH APRIL 2016

 

اجے سانول محبت دے کئی اظہار باقی ھن
کئی اقرار باقی ھن کئی انکار باقی ھن
میڈ ے دل تے نہ رکھ جیویں محبت دی اے پنڈ بھاری
اجاں چکراں چ ھے زندگی اجاں کئ بھار باقی ھن

محبت دا سفر تاں زندگی توں موت تک دا ھے
مگر اس توں وی مشکل تے سفر دشواری باقی ھن
اٹھی دولی تے گت لا اے جئی جو حال چڑھ ونجے
اجاں ایڈے وی موےناں اجاں سر تار باقی ھن
17اپریلل2016

اے میرے صاحب
نہ او مست نشیلیاں اکھیاں نہ او کجل مساگ
نہ اونچدیاں گاندیاں جٹیاں نہ لسی نہ ساگ
اللہ جانے اس دھرتی دے ٹر گئے کتھے خواب
عشق دا بیلہ گنگا تھی گئے ھن تاں رانجھن جاگ
جیویں کالے علم دے ماھر دا ھر منتر بھا چا لینداے
جیویں ماھر سنگ تراش کوی چا پتھراں کوں الوینداے
جیویں علم اعدادتے راملی دا ھر ھنسہ اثر کتیندے
اسے آر عاجز تیڈا سانولا رنگ میڈ ے دل کوں ہتھ چا پینداے
22اپریلل2016

احباب بھت خفا رھتے ھیں کہ ھم ،خان بابا.،کے ساتھ اپنی تصویر پوسٹ کیوں نھی کرتے بعض منچلے تو گریباں تک پہنچ جاتے ھیں بعض ان کے ساتھ گزرے وقت کے قصے بھی سننا چاھتے ھیں

مگر ھم پہھلے یہ بتانا ضروری سمجھتے ھیں کہ ھم عطا خان کو خان بابا کہ کر مخاطب کیا کرتے تھے ان کے ساتھ ھم نے بھت وقت صرف کیا بلکہ اپنا وقت بھی انھی کیلیے وقف کیا

کتاب لکھنے کا ارادہ ھے مگر ابھی نھی

زیر نظر تصویر ،روسیمے پکے پکے کی ریکادنگ کے دورآن کی ھے فلحال تصویر ملاحظہ فر مائیے-23 اپریل2016

پارٹ 2

ھم جن دنوں خان با با کی بارگاہ کے چاکر تھے-توں ایک دن اچانک بگڑ گئے-بس ایسے روٹھے کہ نہ سلام دعا نہ حال احوال

ھم چونکہ ان کی نازک مزاجیاں جانتے تھےخاموش ھو گئے

چند دنوں بعد ان کا فون آیا اور فرمایا-کیا اپ کے پاس ھمارے لئے وقت ھے؟

ھم نے کہھا-ھمارے پاس وقت کے سوا ھے کیا-کہھا-ابھی ابھی اجاو-ھم نے کہھا کیسے اجایں

فرمایا رکشے پہ اجاو

عرض کیا کرایہ نھی ھے

ارشاد فرمایا

چادر بچھا لو کراے کے پیسے تو مل ھی جائیں گے

ھم جیسے تیسے ان کی بارگاہ میں پہنچ گیے

حکم ھوا کوی ڈھنگ کا گانا لکھا ھے

ھم نے کہھا ڈھنگ کا نھئ البتہ اپ کے انگ کا لکھا ھے-کہھا ذرا سناو تو

ھم نے سنایا تو سنجیدگی کے ساتھ فرمایا گزارا ھے طرز یاد کراو ھم نے گانا شروع کر دیا

گانے کے بول تھے ھے کملا تے بندا اے سیانا کیتی ودا اے دھولا مر جانا رسیمے پکےپکے-23 اپریل2016

پارٹ 3

ھم نےمحبان خان بابا کے اصرار پر ان کے ساتھ اپنی تصویر پوسٹ کی تھی-ایک صاحب بگڑ ے بیٹھے ھیں کہ اپ نے انھین لا لا جی کیوں نھئ لکھا اپ کی اوقات کیا ھے اپ جب ان کے ساتھ تھے تو اپ کی حیثیت کیا تھی-لیجے جواب حاظر ھے-وہ ھمارے آقا تھے ھم ان کے غلام تھے وہ ھمارے مالک تھے ھم نوکر تھے وہ صاحب دربار تھے ھم دربان تھے وہ عرش نشیں تھے ھم فرش نشین ھیں اب بھی فرش نیشن ھیں-اپ کی تسلی ھو گئی .؟

لا لا جی کے حوالے سے عرض ھے کہ جب ھم خان با با کے ساتھ .،،چپکے .،، تو عام مخلوق خدا انھیں خان نیاذی عطا عیسیا خیلوی صاحب کہھا کرتے تھے ھمین بھت پریشانی رھتی تھی-سو ھم نے اسکا حل یہ نکالا کہ انھیں لالا کہھآ شروع کر دیا-ان کے چھوٹے بھای نشو خان اور دوچار اور لوگ انھیں اسی نام سے پکارتے تھے-بس پھر کیا تھا کہ چاروں جانب لالالالا ھو گئی-مگر خان بابا بگڑ گئے-انھوں نے ھمین اپنے کمرے میں بلایا ھم کمرے میں گئے ابھی کرسی پر بیھتنے کے لئے جھکے ھی تھے کہ انھوں نے فرمایا-خبر دار اپنی جگہ پر کھڑے رھو-

ھم نے کہھا

نصیب دشمناں ھم سے کیا خطا ھو گئی؟

فرمایا

تمہارا دماغ ٹھیک ھے؟

یہ تم نے کیا لالالا لگا رکھی ھے

کم بخت کچھ چہھرے ایسے بھی ھوتے ھیں جنھیں دیکھ کے بہ ساختہ زبان سے اللہ اکبر نکل جاتا ھے مگر آگے سے جواب آتا ھے لالا جی کیسے ھو اس کے بعد میں شکر ھے کہ کے خاموش ھو جاتا ھوں

ان کے اس ، دکھ، کو سننے کے بعد ھم نے انھیں خان بابا کہھنا شروع کر دیا

امید ھے اپ صاحبان کی تسلی ھو گئی ھو گی-24 اپریل2016

پارٹ 4-اے میرے صاحب

دیکھیئے,ھم تو خاک نشیں ھیں.مگر یاد رکھیے,کہباباے تھل فاروق روکھری-آڈھا خان مجبور عیسیا خیلوی-مئھجور بخاری نازخیالی-بری نظامی خورشید خان-منور علی ملک-یہ تو اپ کے محبوب جہھاں کی عظمت کے مینار کی منڈ یر پر جلتے ھوے وہ چراغ ھیں جنہھون نے ان کی عظمت کو روشنی بخشی-ھم خاک نشیں تو نہ کھیت ھیں نہ کسی کھیت کی مولی-مگر

 ھم ان کی بارگاہ میں جلتے ھوے چراغ کے تیل ضرور ھیں-اوراگر اپ کو ان کی بارگاہ تک رسای ھے؟تو پھرکسی دن باوضو کر کے پوچھئے گا ممکن ھےکہ وہ اپ کو نیک و بد سمجھا دیںاور ھاںاپ اپنی انگلیون کے استمعال کو مثبت رکیھیےاگر ھم کس دن اپ کے بہھکاوے میں آگئیں اور عالم جذبات میں کوی ،پھول. پھینک دیا تو وہ سیدھا ،آسمان ، کی طرف جاے گا -اور-پھر وھئ ھوگا جو منظور خدا ھوگا-اور خدا پرست تو ھم ھیں-کیا سمجھے ؟ 26اپریل2016

اے میرے صاحب-منصور علی ملنگی مر حوم

ھمیں بھت پسند تھے

ھم دونوں کی خواھش تھی کہ مل کےکام کیا جاے مگر؟

پھر جب ھم کچھ وقت کے لئے ،آزاد،ھوے اپنا آڈیو سٹوڈیو بنایا تو ptv کے ساتھ مل کے ایک میوزک پروگرام ریکارڈ کیا

اس پروگرام میں ھم نے جھنگ کے گلوکاروں کو ریکارڈ کیا

جناب اللہ دتہ ہونے والا جناب طالب حسین درد اور منصور علی ملنگی

شاعر اور کمپوزر ھم خود تھے

منصور ملنگی صا حب کے لیے ھم نے دو گیت بناے

ایک تو تھا

دھمی دے ویلے وے میں اٹھی آں ڈھولا

کھلی آں راھوآں وچکار وے

تیدے کیتے سوھنا یار وے

چلہھے توں ڈدھ وے میں لانا بھل گئی

تتری کوں دانے دھولا پانا بھل گئی

تتری پیی روے زار وزار وے

ڈدھ تھیا سر کے انگار وے

پھر کیا ھوا ؟–27اپریل2016

اے میرے صاحب-پارٹ 2

ایک نام جو ھم بھول گئے وہ اعجاز توکل صاحب کا ھے

اعجاز توکل منیر توکل صاحب کے بیٹے ھیں

منیر توکل

توکل خاں کے بیٹے تھے

توکل خان کلاسیکل گائیک تھے ھندوستان پاکستان میں ان کا بھت نام تھا

پاکستان کےلیجینڈ موسیکار خواجہ خورشید انور ان کے شاگرد تھے

ھم میانوالی وال ے خوش نصیب

ھیں کہ خواجہ خورشید انور میانوالی کے ھیں

کیوں ؟

اے میرے صاحب

نہ کسے دے جوڑے دا پھل

نہ نیناں داکجلہ

مر جانی تقدیرے لیا ای

میتھوں کادا بدلہ

نہ کسے دی گوریاں

باھواں دی ونگ ھاں

نہ کسے لیلا دے میں

محمل دے سنگ ھاں

مر جانی تقدیرے لیا ای میتھوں کادا بدلہ-30 اپریل2016-

Leave a Reply