AE MERE SAHIB DEC 2016

AE MERE SAHIB DECEMBER 2016

اے میرے صاحب   – دسمبر 2016

Image may contain: 5 people

دسمبر 2016

اے میرے صاحب

Image may contain: 1 person, hat and indoor

آپ تو جانتے ہیں کے ہمیں بات مختصر کرنے کی عادت ہے اور کوشش کرتے ہیں کہ آپ کا وقت برباد کرنے سے بچایا جاے اور خود اپنی انگلی کو بھی نہ تھکایا جاے ہماری انگلی ویسے بھی بہت نازک ہے اگر یہ انگلی نہ ہوتی تو یقیناً نہ صرف یہ کہ کوی صنف نازک ہوتی بلکہ اب تک تین چار بچوں کی ماں بھی ہوتی
ابھی کل کی بات ہے ہماری بیگم سے سوی میں دھاگہ نہیں ڈل رہا تھا تو ہم نے اسے ڈانتے ہوے کہھا تمہیں ہزار بار کہھا ہے کہ رات سوتے وقت آنکھوں میں.سرمہ.ڈال لیا کرو مگر تم میری بات نہیں مانتی
بیگم نے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے کہھا
آپ جو ہر روز پورا ایک پاو. سرمہ.. ڈالتے ہو تو زرا تم ہی دھاگہ ڈال دو
ہم نے فورا سوی پکڑی اور دھاگہ ڈالنے لگے
بس اس وقت ہماری چیخ نکل گیی جب دھاگہ کے بجاے سوی میں انگلی ڈال بیٹھے
بس پھر کیا تھا ہم نے سر آسمان پہ اٹھا لیا
یہ. تو اللہ بھلا کرے ہمارے پڑوسی کا اس نے فوری طور پہ بچے کے ہاتھ برنول بجھوا دیا ورنہ ہم تو سات آسمان سر پہ اٹھانے کیلے آمادہ تھے
سو کل سے انگلی پہ پٹی باندھے پھرتے ہیں مگر ایک فائدہ یہ ہوا کہ ہماری بیگم اب ہمیں اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتی ہے مگر نقصان یہ ہو رہا ہے کہ علی صاحب تمام رشتے داروں کو فون کرکے کے بتا رہا ہے کہ آجکل پاپا اور ماما ہیر رانجھا بنے پھرتے ہیں ماما روز پاپا کو.. دیسی.. گھی کی چوری کھلاتی ہے
بدمعاش اتنے پکے منہ سے بات کرتا ہے کہ کل میرے چچا نے باقاعدہ فون کر ڈانٹتے ہوے کہھا ہے
انسان بنو انسان
چچا کے فون کے بعد چھوٹے بھای کا فون آگیا اور اس نے تاکید کرتے ہوے کہھا کہ اگر دیسی گھی کھانا ہے تو گاوں سے بجھوا دیتا ہوں شہروں میں بکنے والا دیسی گھی دراصل ڈالڈا گھی ہوتا ہے اور ایک خاص ترکیب سے دہی استعمال کرتے ہوے اسے دیسی گھی بنا کے بیچا جاتا ہے
بھای کی اس بات پہ ہم نے غور کیا تو اچانک خیال آیا کہ ہمارے ہاں دو نمبر کام بہت مہارت کے ساتھ کیے جاتے ہیں مثال کے طور پہ لاہور میں اکثر دکانوں پہ لکھا ہوتا ہے کہ
میانوالی کے جنگلات کا خالص شہد دستیاب ہے
ہم سمجھتے تھے کہ یہ کوی اور میانوالی ہوگا کیونکہ میانوالی میں جو جنگلات ہے وہ ہم نے دیکھا ہوا ہے بلکہ گھوما ہوا ہے اس زمانے میں جنگل کے ہر درخت کے نیچے ایک عدد گیدڑ کا ٹھکانہ ہوا کرتا تھا اب گیدڑ تو کہیں نظر نہیں آتے البتہ کہیں کہیں کوی درخت نظر آتا ہے تو کوی نہ کوی شخص اسے کاٹتا بھی نظر آتا ہے لیکن اس کے قریب ہی جنگل کا سپاہی یہ کہتا بھی نظر آتا ہے جلدی جلدی کاٹو تمہاری سستی کی وجہ سے کہیں یہ درخت کٹنے سے رہ نہ جاے
ہمیں لمبی بات کرنے کی عادت نہیں ہے اور نہ ہم خامخواہ بات بڑھانا پسند کرتے ہیں اب دیکھو نہ ملک میں خشک سردی کی لہر چل رہی ہے تو اس کی ایک وجہ ماحولیاتی آلودگی بھی ہے ہم درختوں کو اگانے کے بجاے انہیں کاٹنے میں لگے ہوے ہیں سو اب موسمی بیماریوں کی زد میں ہیں ہمارے حکمران روڈ بنانے اور در خت کاٹنے میں لگے ہوے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ہر اس جگہ پہ روڈ بنا دیے جائیں جہاں درخت موجود ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ آخری درخت کا ٹنے کے بعد ہی چین لیں گے
انگلی میں شدید درد ہے اور آپ اس مختصر پوسٹ پہ گزارہ کیجے
ہم زرا چوری کھا لیں
کیونکہ علی نے
سن ونجلی دی مٹھڑی تان گانا شروع کر دیا ہے– 
دسمبر 2016

اے میرے صاحب

جلسہ اس حوالے سے بہت اہم تھا کہ جلسے کا میزبان کوی اور نہیں خود منصور آفاق تھادوسرے لفظوں میں میزبان میں خود تھا جلسے کی بہت زیادہ مشہوری ہوچکی تھا
یہ آزاد ہوٹل کا ایک مخصوص کونہ ہے جہاں شعراء حضرات کا ڈیرہ ہوتا تھا ہوٹل کے مالکان کا شعر وادب سے کوی تعلق نہیں تھا لیکن وہ ہم شعراء حضرات سے بہت خوش تھے اور انہھوں نے کبھی بھی ہمارے کسی عمل کا کوی برا نہیں منایا تھا باوجود اس کے اس زمانے میں منصور آفاق بہت جذباتی ہوا کرتا تھا اور اپنی بات منوانے کیلے پہلے زبان پھر ہاتھ اور آخر میں چاے کا کپ گلاس یا سالن کی پلیٹ بھی استعمال کرلیا کرتا تھا مجھ پہ وہ دباؤ ڈالے بیٹھا ہے کہ آج کے جلسے کیلئے کوی زبردست قسم کی نظم ہونی چاہیے نظم کے ابتدائی دو بند مکمل ہوچکے ہیں
اور وہ پسند کرنے کے بعد واہ واہ کے طور پہ دوسری بار چاے کا آڈر دے چکا ہے چاے کے گرم گرم کپ میز پر پڑے ہیں کہ اچانک ایک نوجوان فروٹ سے بھرا ہوا ایک لفافہ میز پہ رکھتے ہی میرے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہوے کہھتا ہے
مہربانی کرو مجھے اپنا شاگرد بنالو
مگر میں اس کے ہاتھ پکڑتے ہوے اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور تھوڑی تلخی سے کہھتا ہوں
میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں کسی کو اپنا شاگرد نہیں بناتا ہمارے درمیان کافی بحث کے بعد وہ کہتا ہے
باپ تو میں نے آپ کو تسلیم کرلیا اب آپ مجھے ولدیت کا حق دو یانہ دو آپ کی مرضی اور الٹے قدموں واپس پلٹتا ہے اس دوران.. ٹھپاک.. کی آواز سنای دیتی ہے
ہوٹل میں سناٹا چھا جاتا ہے نوجوان پیچھے کی طرف مڑتا ہے میں اپنے گال سلا رہا ہوں اور میرے کپڑے چاے سے بھیگ چکے ہیں منصور آفاق کی آواز گونج رہی ہے
مغرور متکبر آدمی ہے تو جاہل انسان……………
تم ادہر او اس کا باپ بھی تمہیں شاگرد بناے گا
نوجوان کبھی میری طرف اور کبھی منصور کی طرف دیکھ رہا تھا میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا اور اپنی چھاتی سے لگاتے ہوے کہھا
تم آج سے میرے شاگرد ہو میرا رب آپ کو عزت دے اور مزید عزت دے
اعجاز تشنہ کے بارے میں میں نے کبھی کسی کو نہیں بتایا کہ وہ میرا باقاعدہ شاگرد ہے مگر وہ سب سے پہلے بتانا ضروری سمجھتا تھا کہ افضل عاجز میرا استاد ہے حالانکہ اسکی ضرورت نہیں تھی
وہ میراشاگرد ہونے سے پہلے ہی میانوالی کی حد تک ایک معروف گیت نگار کے طور پہ نام بنا چکا تھا
اعجاز تشنہ آرمی میں بھی رہا تھا اس لیے اس کے مزاج میں فوجی پن موجود تھا اور وہ لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرنے کا عادی تھا اسے اداکاری کا بھی بہت شوق تھا اور ایک زمانے میں وہ فلم انڈسٹری میں بھی قسمت آزمائی میں مصروف رہا
چند فلموں میں معمولی نوعیت کے رول بھی کیے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ شاعر ہونے کے باوجود اس نے فلموں میں بطور شاعر قسمت آزمائی سے گریز کیا حالانکہ وہ فلم انڈسٹری میں بطور گیت نگار بہت نام کما سکتا تھا
اعجاز تشنہ سرائیکی زبان کا بہت مقبول گیت نگار تھا اور اپنے ہمعصر گیت نگاروں میں اس کا نام بہت نمایاں تھا شاید ہی کوی ایسا سرایکی گلوکار ہو جس نے اعجاز تشنہ کے گیت نہ گاے ہوں شفااللہ خان روکھڑی عطاء اللہ عیسی خیلوی نصیبو لال ملکو حمیرہ چنا اور ندیم عباس لونے والا
سمیت درجنوں نام ہیں
ان میں ندیم عباس لونے والا کے بارے میں مکمل طور پر کہھا جاسکتا ہے کہ اگرندیم کے نصیب میں اعجاز تشنہ کا گیت
…… لکھ واری بسملہ کراں……………
نہ ہوتا تو شاید ملکی سطح پر یہ نام سنای نہ دیتا
شفااللہ اللہ خان روکھڑی کے ساتھ اعجاز تشنہ نے بہت کام کیا اور بہت سپرہٹ گیت لکھے
اعجاز تشنہ گزشتہ چند سالوں سے لوک موسیقی کے حوالے سے بہت پریشان تھا اور مجھے اکثر کہھا کرتا تھا کہ لوک موسیقی اب اپنے انجام کی طرف جارہی ہے کیونکہ اب موسیقی کی باگ دوڑ شاعروں موسیقار ں اور گلوکاروں کے ہاتھ سے نکل کہ ٹھیکداروں اور دکانداروں کے ہاتھوں میں یرغمال ہوچکی ہے اور ایک منصوبہ بندی کے تحت حقیقی شاعروں موسیقار ں اور گلوکاروں کو پیچھے کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے بہت پریشان ہوں

میں اسے سمجھاتا تھا کہ تم دل چھوٹا نہ کرو اللہ خیر کرے گا تم اپنا کام جاری رکھو
اعجاز تشنہ گزشتہ تین سال سے بیمار تھا اور اس حوالے سے میں نے ایک پوسٹ بھی
لکھی تھی دوستوں کا اصرار تھا کہ شفااللہ خان روکھڑی کو چاہیے تھا کہ وہ ان کا علاج کروائیں شفااللہ خان روکھڑی کے حوالے سے میں زاتی طور پہ جانتا تھا کہ وہ ان کے علاج معالجے میں مصروف ہیں
اور اعجاز تشنہ کے بیٹے بھی اس حوالے سے مطمعن تھے کہ انکل ہماری مدد کر رہے ہیں مگر میں چاہتا تھا کہ حکومت اعجاز تشنہ کی کچھ مدد کرے مگر میں تسلیم کرتا ہوں کے میں اس حوالے سے ناکام رہا اور نہ تو حکومت نے اور نہ کسی دوسرے فنکار نے اعجاز تشنہ کے ساتھ تعاون کیا
میرا رب اعجاز تشنہ کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے آمین الہی آمین

Image may contain: 1 person, outdoor and natureاس میں کوی شک نہیں کہ ہم ایک عظیم گیت نگار کو کھو چکے ہیں–8 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

Image may contain: 2 people, eyeglasses and closeup

ان دنوں ہم پی ٹی وی پہ ڈرامہ سیریل.زمین. میں چوہدری اکبر علی کے رول میں اداکاری کے ٹوٹے پھوٹے جلوے دکھا رہے تھے اور بطور ادکار ہمیں کچھ کچھ تسلیم بھی کیا جارہاتھا شوبز کے صفحات پہ کہیں کہیں ہمیں بھی تعریف کے قابل سمجھا جا رہا تھا زمین میں ہمارے مدمقابل سیئر مرحوم اداکار سکندر شاہین صاحب ایک بڑے جاگیردار کا رول ادا کر رہے تھے سکندر شاہین کا اور ہمارا آمنا سامنا تیسری یا چھوتی قسط میں ہوتا ہے
یہ سین درحقیقت کہانی کو ایک نیے رخ کی طرف لے جانے کی ابتدا تھا اور خاصا لمبا سئین تھا روای کنارے گھنے درختوں کے درمیان اسکی ریکاڈنگ تھی جب یہ آن ائیر گیا تو ہمارے دوست معروف شاعر اور صحافی علی اصغر عباس نے اس سین کے حوالے سے ہماری بہت تعریف کی خود سکندر شاہین نے بھی نہ صرف ہماری تعریف کی بلکہ جم خانہ کلب میں بہت پر تکلف چاے بھی پلای ان دنوں بچوں کے لیے ڈرامہ سیریل.. عینک والا جن..پہ کام ہورہا تھا ہمیں بھی اس میں ایک بڑے کردار کی آفر ہوی مگر ہمارے.. بوس.. جوکہ زمین میں ہمارے کام کی وجہ سے خاصے پریشان تھے جب ان سے مزید اجازت چاہی تو انہھوں نے فرمایا
…. تو پھر میں اب تمہاری طرف سے طلاق سمجھوں؟
اور اپنی روایتی معصومیت چہرے پہ لاتے ہوے کہھا
چلو ٹھیک توں اداکار بنڑں میں دفتر بند چا کرینداں
ہم چونکہ شروع سے ہی جذباتی آدمی ہیں سو سکرپٹ واپس کرتے ہوے کام سے انکار کردیا پرڈیوسر ہمارے اس رویہ پہ بہت ناراض ہوے اور کافی عرصے تک سلام کا جواب بھی نہیں دیتے تھے چند سال بعد وہ ہم سے راضی ہوے ہم نے حقیقت بتای تو انہھوں نے بہت سنجیدگی سے کہھا

تم نے میرے ساتھ نہیں اپنے ساتھ ظلم کیا 

زیر نظر تصویر حسیب پاشا المعروف.. ہامون جادوگر .. کے ساتھ ہے–9 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

Image may contain: 1 person

آج اپنے پیر مرشد حضرت مظہر قیوم.ر. پیپلان شریف کے دربار عالیہ پہ حاظری کا ارادہ ہے اور پھر اس کے بعد سلیم شہزاد یا اسد خان میں سے کسی پر کھانے کی. چٹی. بننے کا بھی ارادہ ہے رات عصمت گل خٹک کے دستر خوان پہ ندیم بخاری اور ظہیر احمد کے ہمراہ مچھلی پہ ہاتھ صاف کر چکے ہیں مچھلی بہت لزیز تھی عصمت گل خٹک نے اس موقعہ پر مچھلی کے فوائد کثیر پہ بھی روشنی ڈالی اور خاصی تفصیلی روشنی ڈالی جس سے اندازہ ہوا کہ موصوف نہ صرف. خاکی جانوروں. کے بارے بہت کچھ جانتے بلکہ آبی جانوروں کے بارے میں بھی جانتے ہیں انہھوں ایک مچھلی کی خصوصیات کے بارے میں جب تفصیلی روشنی ڈالی تو ہم نے کہھا یہ تو فلاں..خاکی جانور… سے ملتی جلتی خصوصیات رکھتی ہے ہمارے اس سمجھنے پر انہھوں نے ہم پہ.. دو حرف… بھیجتے ہوے فرمایا
.. صدقے تمہاری دانش کے کہ آپ ابھی تک سانپ اور مچھلی کے فرق کو نہیں سمجھ سکے…..
ان کے اس کلام کے بعد وہاں سے اٹھنا بنتا تھا سو ندیم بخاری اور ظہیر کپڑے جھاڑتے اور ہم بغلیں جھاڑتے ہوے اٹھ کھڑے ہوے
کندیاں کی طرف جاتے ہوے ندیم بخاری نے کہھا مچھلی بہت کراری تھی ہم نےتائید کرتے ہوے کہھا کہ میرے منہ میں ابھی تک زائقہ موجود ہے
بس پھر کیا تھا ظہیر نے تلی ہوی مچھلی کے دو ٹکڑے اپنی جیب سے نکالتے ہوے کہھا مچھلی کا زائقہ میرے منہ کے ساتھ ساتھ میری جیب میں بھی موجود ہے…
11 دسمبر 2016

اے میرےصاحب
ارادہ تو تھا ہم لاہور سے میانوالی کے درمیان سفر کا مکمل حال لکھتے ہم آپ کو بتاتے کہ ہم آجکل لاہور اور میانوالی کے درمیان بچوں کے کھیلنے والا..کھینو..بنے ہوے ہیں بہت سے ڈرائیور ہمارے دوست بن چکے ہیں تو بعض کنڈیکٹر ٹکٹ کی پرچی کاٹتے ہوے دوچار روپے رعائت بھی کر لیتے ہیں چنگی چکی رکشہ والے تو بغیر پوچھے بس سٹینڈ کی طرف چل پڑتے ہیں یہ تو سٹینڈ پر پہنچنے کے بعد جب ہم انہیں بتاتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے میانوالی نہیں..ایورنیو سٹوڈیو.. جانا تھا
اور پھر ہمارے بتانے پر ڈرائیور مسکراتے ہوے کہھتا ہے
… آھا……….
ہم عموماً ڈرائیور کی عقبی سیٹ پر قابض ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اپنے دوست ڈرائیور ضیاء اللہ خان نیازی کی ملی بھگت سے کامیاب بھی ہوجاتے ہیں اس بار ہمارے برابر والی سیٹ خالی تھی سو ہم سوچنے لگے کہ نجانے آج ایک عظیم المرتب شاعر کے پہلو میں بھیٹنے کی سعادت کس کو حاصل ہوتی ہے ایک دوچہرے تو ایسے بھی نظر آئے کہ اگر وہ ھلکی سی بھی بیٹھنے کی اجازت مانگتے تو ہم پوری بس کے.. دل جلاتے.. ہوے انہیں بیٹھنے کی اجازت دے دیتے بدلے میں چاہے ہمیں ایک ٹانگ پہ کھڑے ہوے کے میانوالی تک کا سفر ہی کیوں کرنا پڑتا؟
ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے ک کنڈیکٹر نے ڈرائیور سے کہھا
اج چن ماہی لیٹ تھی گیا اے…
چن ماہی کا نام سنتے ہی ہمارے کان کھڑے ہوے اور بے ساختہ ہمارے منہ سے نکلا
….. چن ماہی آ تیری راہ پئی تکنی آں…….. اور پھر کنڈیکٹر نے ڈرائیور کو بتایا ک چن ماہی آگیا ہے اور پھر ایک.. چن ماہی.. بس میں داخل ہوا ہم نے سکڑتے ہوے اپنے ساتھ والی سیٹ میں مزید جگہ بنادی

چن ماہی سیٹ پر بیٹھنے ہی والے تھے کہ کنڈیکٹر نے آواز لگای

……….. شنا اگو تے نکلا ونج…………………
چند سیکنڈ بعد ایک تبلیغی بھای المعروف چن ماہی ہمارے پہلو میں تھے ان کے بیٹھتے ہی ہم نے اپنی تسبیح گھمانا شروع کر دی اب ہمارے درمیان پانی کی بوتل مسئلہ بن گئی ہم بوتل پاوں کے درمیان رکھے بیٹھے تھے جبکہ تبلیغی بھای کا اصرار تھا کہ پانی کی بوتل کیلئے کوی مناسب جگہ ہونی چاہیے سو وہ جس بھی جگہ رکھتے بوتل دھڑام سے پاوں میں اگرتی بوتل کے استحقاق کا یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا
آخرہم نے تبلیغی بھای سے کہھا بوتل کے حوالے سے ہماری تجویز ہے
انہھوں نے کہھا جی فرمائیے
ہم نے کہھا ایک تجویز تو یہ ہے کہ اس نگوڑی کو کھڑکی کے راستے باہر پھینک دیا جاے؟
ہماری اس تجویز پر انہھوں نے فرمایا……….حضرت مولانا طارق جمیل فرماتے ہیں ک کھانے پینے کی چیزوں کو ضائع کرنا کفران نعمت..ہے
ہم نے کہھا تو پھر ایسا کر لیتے ہیں ک آدھے راستے بوتل آپ سر پہ رکھ لو آدھے سر پہ ہم رکھ لیتے ہیں اور پھر ہم نے بوتل سر پہ رکھ لی
ہماری اس حرکت پہ انہھوں نے کہھا یہ تو اچھا بھلا تماشہ بن جاے گا
ہم نے کہھا
کم ازکم بوتل کا استحقاق تو مجروح ہونے سے بچ جاے گا
اور پھر مجبوری میں جائز ہے کی رعایت کے ساتھ ہم نے بوتل پاوں میں رکھنے پہ اتفاق کر لیا
اب انہھوں نے اپنے تبلیغی مشن کا آغاز کردیا
ہم جب میانوالی سٹینڈ پہ اترے تو پورے نہیں تو آدھے مولانا طارق جمیل تو بہر حال بن چکے تھے
بس سٹینڈ پہ محمد ظہیر موجود تھے اس میں کو شک نہیں ک ہم نے اترتے ہی چاے کی فرمایش کی اس میں بھی کوی شک نہیں کہ چاے کا ہوٹل بند تھا اس میں کوی شک نہیں ک عصمت گل خٹک کے گھر گئے اس میں بھی کوی شک نہیں کہ عصمت کے گھر مچھلی کھای اور اس میں بھی کسی کو کوی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ظہیر نے دستر خوان سے مچھلی چرای اور ڈنکے کی چوٹ پہ چرای عصمت گل اس حوالے سے حق میزبانی کی وجہ سے چپ ہیں مگر ہم حیران ہیں کہ ندیم بخاری نجانے کس وجہ سے چپ ہیں ممکن ہے کہ وہ اس وجہ سے چپ ہوں
.. ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی..
اس بات کے گواہ اسد خان بھی ہیں جب ہم اسد خان کے ڈیرے پیپلان پہنچے تو انہھوں نے کہھا
ظہیر بھائی عاجز بھای کے تو منہ سے پتہ چل رہا ہے کہ آپ احباب نے مچھلی کھای مگر ماشاءاللہ آپ کے منہ کے ساتھ ساتھ دائیں جیب سے بھی پتہ چل رہا ہے کہ آپ نے مچھلی کھای ہی نہیں باقاعدہ چرای بھی ہے.

Image may contain: 1 person, tree and outdoorImage may contain: 1 person, standing and outdoor

.. یہ واقعہ کندیاں سےبعد کا ہے…….
اسد خان شعر وسخن کے ساتھ ساتھ کبوتر بازی کے بھی نصرت فتح علی خان ہیں ان کے بھائی برادر جاں مظہر خان مرغ بازی میں بین الاقوامی شہرت کے حامل ہیں کم از کم تیس کنال کے رقبے پہ ان کی وسیع وعریض سلطنت ہے جس میں مختلف مرغ اپنے اپنے کمالات کے ساتھ نظر آتے ہیں اس پہ پھر بات ہوگی اسد خان نے ہمیں سلطنت مرغان کا دورہ کرایا تو طرح طرح کے مرغ دیکھ کے محمد ظہیر کے اندر کا ڈکیٹ بیدار ہوگیا زیر نظر تصویر میں ظہیر ایک مرغ کو چرانے کے حوالے سے زہنی تدبیر کرتے ہوے نظر آرہا ہے عقب میں اسد خان اور ہم ایک درخت کی اوٹ سے ظہیر کو مرغ چوری کرتے ہوے دیکھ رہے ہیں
یہ. مختصر حال بیان کر دیا ہے اگر ظہیر صاحب کی تسلی نا ہوی تو پھر تفصیل بھی بیان کرییں گے–13 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

ہم اس وقت گوجرانوالہ کے نواحی قصبہ ایمن آباد میں ہیں
ایمن آباد ایک تاریخی شہر ہے سکھ مزہب کے بانی بابا گرو نانک کے حوالے سے اس شہر کی خاص اہمیت ہے سکھ برادری ایمن آباد کو چھوٹا ننکانہ کا درجہ دیتی ہے یہاں بہت اہم. تاریخی مقامات ہیں مثال کے طور پہ یہاں ایک چکی ہے جہاں بابا گرونانک اپنے ہاتھ سے آٹا پیستے تھے اس حوالے سے بابا جی کا شعر ہے

. ارے دنیا بڑی باوری پتھر پوجنے جاے 

ہاے گھر کی چکی کوی نہ پوجےجس کا پیسا کھاے 

یہاں ایک نلکہ صاحب بھی ہے جہاں بابا گرونانک نے اشنان کیا 

یہاں ایک بہت بڑا گوردوارہ بھی ہے جس کے تمام انتظامات سکھ پربندھک کمیٹی کے پاس ہیں 

اس وقت شدید دھند ہے ہماری کوشش ہوگی کہ کچھ تصاویر بھی دکھائیں مگر اس وقت دھند کی وجہ سے ہمیں کچھ نظر نہیں آرہا تو ہمارے موبائل کے کیمرے کو خاک نظر اے گا –17 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

راگ ایمن کلیان ٹھاٹھ کا راگ ہے سات سروں پہ مشتمل یہ راگ شام کے وقت گایا جاتا ہے ایمن تیور سروں پہ مشتمل راگ ہے یعنی ترچھے سروں پہ مشتمل ہے شام کے وقت گاتے ہوے اس کا لطف دوبالا ہوجاتا ہےاور اس کی کشش بڑھ جاتی ہے اس راگ کی کیفیت ایسی ہے جیسے چاند کی چودھویں رات میں کوی حسینہ اپنے بال کھولے کسی درخت کے نیچے اپنے محبوب کے انتظار میں بیٹھی ہو
بڑے بڑے گوییے ایمن کلیان کو بہت شوق سے گاتے ہیں استاد سلامت علی خان شام چوراسی والے تو اسے بہت کمال گاتے تھے -اورنیا کرو پار کو تو ایسا گاتے تھے کہ کیا کہنے 

Image may contain: one or more people, people sitting and outdoor

ہمارا خیال تھا کہ ایمن آباد شاید ایمن کلیان راگ کی وجہ سے ایمن آباد ہے مگر جب ہم نے وہاں کے ایک بزرگ سے پوچھا تو انہھوں نے کہھا کہ ایمن آباد کا نام پہلے کال گڑھ پھر ہندو سانی اور پھر ایمن آباد رکھا گیا 

یہ شہر دیوان قوم کا تھا جوکہ کشمیری تھے اور شہر کی زیادہ تر آبادی ہندو اور سکھ برادری پر مشتمل تھی سکھ برادری کے بابا گرو ناک بھی یہھاں رہے اور دیان گیان میں وقت گزارا ایمن میں مندر بھی بہت ہیں ایک چھوٹے سے قصبے میں تیس سے چالیس مندر بھی تحقیق طلب بات ہے مثال کے طور پہ آج سے سو سال پہلے یہھاں کی آبادی چند ہزار پہ مشتمل ہوگی مگر ہر خاندان کا اپنا مندر تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہھاں کے ہندو ایک دوسرے سے مختلف مسلک رکھتے تھے تبھی تو ہر گھر کا اپنا مندر تھا ان مندروں کے مینار اب بھی موجود ہیں بعض مندروں پہ مقامی لوگوں نے رہائش اختیار کر رکھی ہے مگر مندر کا کمرہ نہیں گرایا البتہ صحن کا حصہ استعمال کرتے ہیں 

ایک بزرگ نے بتایا کہ یہھاں اکبر بادشاہ نے

ایک مسجد بھی تعمیر کرائی تھی مگر وقت کی کمی کی وجہ سے ہم دیکھ نہسکے 

یہاں ایک گوردوارہ بھی ہے جس کی زیارت کے لیے ہندوستان سے سکھ یاتری آتے رہتے ہیں ہم دیکھنا چاہتے تھے مگر اس کا انتظام.. دیوان جی.. کے پاس ہے اور وہ کبھی کبھی یہھاں آتے ہیں 

ایمن آباد کے نام کی کہھانی یہ ہے کہ کال گڑھ کے حاکم کشمیر اور اس پاس کے علاقے فتح کرنا چاہتے تھے مگر ناکام ہو جاتے تھے جسکی وجہ سے پریشان رہتے تھے ایک بار ایسا ہوا کہ. یہاں کی سپاہ جنگ کے لیے جارہی تھی کہ راستے میں ایک بزرگ خاتون سے آمنا سامنا ہوگیا سپہ سالار نے بڑی اماں سے کہھا دعا کرو ہم کامیابی سے واپس آیں 

بوڑھی اماں نے کہھا تم ہروقت کال.. جلدی.. میں ہوتے ہو زرا آہستگی پیدا کرو اور ہر بارہ کوس پہ کنواں بنواو اور کچھ دن آرام کے بعد سفر شروع کرو تو کامران ہو جاو گے 

بڑھیا کا مشورہ کام آیا اور سپہ سالار اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا واپسی پر اس نے بڑھیا کے بارے پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ مرگئ ہے 

سپہ سالار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوے کال گڑھ کانام ایمن آباد رکھ دیا 

یہ معلومات سینہ بسینہ چلی آرہی ہے اور ممکن ہے اصل واقعہ کچھ اور ہو سو آپ اگر چاہیں تو تاریخ کی کتب یا پھر ایمن آباد جا کے تسلی کر سکتے ہیں بعد میں ہمیں یہ نہ کہنا کہ غلط معلومات دے دیں ہیں 

زیر نظر تصویر ایک بھٹہ مزدور کے ساتھ ہے پاکستان میں بھٹہ مزدور کے حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں یہ لوگ مٹی سے کھیلتے کھیلتے مٹی میں چلے جاتے ہیں ساری زندگی طرح طرح کی اینٹیں بناتے ہیں

مگر اپنے زاتی گھر کے لیے اینٹ تو کجا کچی اینٹ بھی نہیں بنا سکتے کیونکہ ان کے گھر ہی نہیں ہوتے–18 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

طویل عرصے بعد ٹیلی ویژن سنٹر لاہور
جانے کا اتفاق ہوا ٹیلیویژن لاہور سنٹر کا ماحول خاصا بدل چکا ہے اور بہت سے نیے پروگرامز ترتیب دیے جارہے ہیں یہ سب پی ٹی وی کے نیے چیئرمین عطاء الحق قاسمی صاحب کی آمد کے بعد ہوا ہے ایک طویل عرصے بعد ہم ایک ڈرامہ سیریل میں کام کا آغاز کرنے والے ہیں سکرپٹ اور کردار کے حوالے سے پی ٹی وی لاہور سنٹر کے پی ایم اور ڈرامہ پرڈیوسر افتخار ورک اور ادکار آغا عباس کے ساتھ گفتگو کے بعد لکشمی چوک کے مشہور مرغ چنے کھاتے ہوے ایک تصویر

Image may contain: 3 people, people eating, people sitting and food

نوٹ.. افضل عاجزی افضل عاجز کے نام سے فیک آی ڈی کے زریعے ہمارے کچھ مہربان منظر عام پہ آچکے ہیں سو احتیاط لازم ہے..

19 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

No automatic alt text available.

ہم اپنے احباب کو اپنے شب روز سے آگاہ کرتے رہتے ہیں اور اپنے احباب سے کچھ نہیں چھپاتے البتہ اپنے سر کو چھپانے رکھتے ہیں تاکہ اس کی چمک سے آپ کی نظر پہ منفی اثرات نہ پڑیں اب ہم بتانا چاہتے ہیں کہ الحمدللہ ہم پاکستان کے بڑے اخبار نواے وقت کے ساتھ منسلک ہو گیے ہیں اور انشاءاللہ کل ہمارا پہلا کالم شائع ہوگا ہم نواے وقت میں. چئرینگ کراس..
کے مستقل عنوان سے لکھا کرییں گے ہماری عاجزانہ گزارش ہے کہ ہمارے کالم پہ نظر رکھیے گا تاکہ ہم کوی غلط ملط نا لکھ دیں
جیسا کے اے میرے صاحب میں لکھتے رہتے ہیں
دعا کی درخواست ہے–
21 دسمبر 2016

No automatic alt text available.

22 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

Image may contain: 1 person

میرا میانوالی اداس ہے سو میں بھی اداس ہوں میانوالی کے عوام بہت غیور و باشعور ہیں دلیر ودلبر ہیں محب ومحبوب ہیں یہ عام حالات میں نہ تو مایوس ہوتے ہیں اور نہ کسی سے مرعوب ہوتے ہیں مگر بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے میانوالی کے عوام کو
بہت افسردہ کر دیا ہے میں 19800 سے میانوالی کی سیاست میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہوں میں نے پہلی بار اس وقت میانوالی کے عوام کو افسردہ دیکھا جب ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے عدالت کے زریعے ڈاکٹر شیر افگن مرحوم کو نااہل قرار دلوایا… مگر میانوالی کے عوام نے اپنے اس دکھ کا بدلہ، 1988 میں برابر کردیا اور دوسری بار گزشتہ روز افسردہ دیکھا جب
عمران خان کے نامزد امیدوار کو شکست سے دوچار ہونا پڑا میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ یہ سب کیسے ہوا میں اپنے آقا ظفر خان نیازی صاحب کایہ شعر آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں
شکست کھا کے بھی میں فتح کے جلوس میں ہوں
کہ دے گئے جو مجھے مات میرے اپنے ہیں–
23 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

Image may contain: 1 person, sitting, selfie and closeup

محمد علی ملک پروفیسر منور علی ملک کے پوتے اور میرے بھی بیٹے ہیں پروفیسر منور علی ملک کیلئے یہ ایک صدمہ عظیم ہے جو وہ اپنے سینے پہ اٹھاے ہوے ہیں
اللہ پاک محمد علی ملک کو جنت کا پھول بناے اور اس کے تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین آج اسکی تصویر دیکھ کے دل بھر آیا اور طبعیت بہت اداس ہوی اس کے بچپن کے دن آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے میری بچیاں جو اسے بہت پیار کرتی تھیں اور سارا سارا دن اس کے ناز اٹھاتی تھیں انہیں کیا خبر کہ ایک دن اس کا جوان لاشہ اس کے باپ کو اپنے کاندھے پہ اٹھا کے قبرستان بھی لے جانا پڑے گا
میرا رب کسی دشمن کو بھی جوان اولاد کا دکھ نہ دکھائے تمام احباب سے اس معصوم کیلے درجات کی بلندگی کی دعا درخواست ہے–27 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

Image may contain: 3 people, people sitting

انسانی حقوق کے حوالے سے وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام مشاعرے کے سٹیج کا ایک منظر
شعراء میں احمد باقی پوری ناصر بشیر اختر شمار بندہ عاجز اصغر ندیم سید وفاقی وزیر کامران مائیکل نزیر قیصر نظر آرہے ہیں شعراء کے کلام کے علاوہ اس مشاعرے میں ڈاکٹر جواز جعفری کی فقرے بازی اور کامران مائیکل کی گائیکی کا بھی لطف آیا

29 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

Image may contain: 6 people, people sittingپنجاب آرٹس کونسل کے زیر اہتمام آج ایک محفل موسیقی میں بہت لطف اٹھایا ممتاز ومعروف شاعرہ اور کالم نگار ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل محترمہ صوفیہ بیدار نے گزشتہ روز اس محفل میں شرکت کی دعوت دی محترمہ خود بھی موسیقی سے نہ صرف دلچسپی رکھتی ہیں بلکہ سر تال اور راگ سے بھی واقف ہیں اور
دوران پروگرام ایک عام سامع کی طرح ہر فنکار کو بہت دھیان سے سنتی ہیں جسکی وجہ سے فنکار کو بھی بہت دھیان سے گانا پڑتا ہے آج کی نشست میں ملک کے معروف کلاسئیکل گلوکار استاد مبارک علی خان استاد حسین بخش گلو نے بہت زبردست انداز میں اپنے فن کا شاندار مظاہرہ کیا اس تقریب میں جہاں موسیقی پسند کرنے والوں کی. کافی تعداد موجود تھی وہاں موسیقی کے سٹوڈنٹس بھی کافی تعداد میں موجود تھے جبکہ ممتاز شاعر ڈاکٹر جواز جعفری کلاسئیکل گائیک استاد فتح علی خان حیدرآباد والے معروف گٹارسٹ سجاد خان طافو اود چاند خان بھی سننے والوں میں موجود تھے بطور ثبوت چند تصویریں حاظر خدمت ہیں   —30 دسمبر 2016  

اے میرے صاحب

Image may contain: flower, plant and nature
پہلے سوچا کہ نئے سال کی آمد پر ایک پرمغز قسم کا نصیحت سے بھرا ہوا ایک مقالہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جاے اور آپ کو ان تمام مکروہات سے گریز کا مشورہ دیا جاے جس سے ہم خود بھی گریز نہیں کرتے مثال کے طور پہ ہم آپ کو بتائیں کے نیا سال درحقیقت غیر مذاہب کے لوگوں کے لیے اہم ہو سکتا ہے ہم مسلمانوں کے لیے ہر گز نہیں مگر ہم کیا کریں کہ صبح سے نجانے نے کتنے لوگوں سے ہیپی نیو ائیر کے میسج وصول کر چکے ہیں اور جواب بھی دے چکے ہیں ہم کسی کو ہوائی فائرنگ سے کیسے منع کرئیں کے اڑوس پڑوس کے کئی گھروں میں بعض لوگ فائرنگ کرنے کیلئے
اپنے اپنے ہتھیاروں کو صاف ستھرا کرنے میں مصروف ہیں اور گزشتہ سال نو کی طرح اس سال بھی چھتوں پہ چڑھ کے فائرنگ کرنے کا ارادہ باندھے بیٹھے ہیں اور ہم بھی چھت پہ چڑھ کے نظارہ کرنے کیلے
تیار بیٹھے ہیں مطلب یہ کہ وہ تمام خرابیاں جو نیے سال کے نام پہ ہوتی ہیں وہ سب کی سب ہم میں موجود ہیں سو آپ کو کس طرح روک سکتے ہیں؟
مگر ہم سوچتے ضرور ہیں کہ آخر نیے سال کی خوشی منانے یا نہ منانے سے کیا فرق پڑتا ہے
مثلاً ایک ہندسے کے بدلنے سے سب کچھ کیسے بدل سکتا ہے
مثلاً یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم خود کو بدلے بغیر اپنی زندگی کو بدل سکتے ہیں اپنی. ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدل سکتے ہیں
اور اپنی کامیابیوں کو مزید کامیاب کر سکتے ہیں
اگر ہم 2016 میں سست قائل خود غرض
مایوس تھے تو 20177 کے کیلنڈر میں بھی ہمارے لیے یہی پیغام موجود ہے اور اگر ہندسوں کے بدلنے کے ساتھ ہم نے خود کو بھی بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پھر 2017 آپ کے لیے بہتر ہوسکتا ہے اور اس کیلے ضروری نہیں کہ آپ سڑکوں پہ شور مچائیں چھتوں پہ چڑھ کے فائرنگ کریں
ہمارے نوجوان موٹر سائیکل پر کرتب دکھائیں اور خود کو زخمی کرتے پھریں
ہاں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے معمولات میں تبدیلی لائیں اور کم از کم ایک ایسی تبدیلی جو ہماری زات ہمارے خاندان ہمارے دوستوں اور ہمارے ملک کیلئے بہتر ہو اور
سب سے آسان تبدیلی یہ ہے کہ ہم اپنے ہر منفی عمل کو اپنے مثبت عمل سے موت کے گھاٹ اتار تے ہوے اسے، 2016 میں دفن کر دیں اور 2017 کو اپنی مثبت قوت کا نشان بنا دییں
یہ. ایک پھول ایڈوانس مبارک کے طور پہ قبول فرمائیں  —
31 دسمبر 2016

اے میرے صاحب

Image may contain: 1 person, sitting

محترم جابر حسین ریڈیو کے حوالے سے بہت اہم شخصیت ہیں ایک عرصے سے ہم ان کے پروگرام میں شرکت کا وعدہ کیے ہوے تھے مگر اپنی بے ترتییب مصروفیات کی وجہ سے شرکت سے محروم تھے گزشتہ روز انہھوں نے ڈاکٹر جواز جعفری کا ڈنڈا گھمایا تو حاظری کا وعدہ کر لیا آج جب انہیں بتایا کہ.. نیو ائیر.. ہے تو انہھوں نے کہھا
کیا نیو ائیر پہ ریڈیو جانے پر پابندی ہے،
ہم نے کہھا نہیں
تو انہھوں کہھا تو پھر آجاییے
سو ہم اپنے احباب کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آج رات 10 بجے سے رات 12بجے تک ایف ایم، 955 پر ان کے مہمان ہیں ہمارے لاہور گجرات شیخوپورہ اور اردگرد کے دوست یہ. پروگرام سن سکتے ہیں اور نیریندر مودی کو تکلیف نہ ہو تو سرحد پار کے دوست بھی سن سکتے ہیں ہم نے کون سا جنگ وجدل کی باتیں کرنی ہیں پیار محبت گیت سنگیت کی باتیں کرنی ہیں اور فیس بک کے دوست پنجاب رنگ ڈاٹ کوم…….. پہ پروگرام سن سکتے ہیں
فرصت ہو تو ضرور سنیے گا      —
31 دسمبر 2016

Your words for Mianwali and Mianwalians