GAZA PEACE BOARD KYA AMAN KI EK NAYI KOSHISH HO SAKTI HAI

“غزہ پیس بورڈ کیا امن کی ایک نئی کوشش ہو سکتی ہے”
تحریر: عصمت الله نیازی

کچھ عرصہ سے دنیا میں عجیب و غریب قسم کی سیاسی و معاشرتی تبدیلیاں بڑی تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جن کو سمجھنا عام آدمی کیلئے بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ دنیا کے طاقتور ممالک کے مفادات بدلنے سے حالات و واقعات بھی بدل جاتے ہیں اور ایسا ہی گذشتہ عرصہ میں ہو رہا ہے۔ امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ کی شخصیت دنیا بھر کیلئے ایک پہیلی بن چکی ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کو یہ سمجھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کہ ٹرمپ صاحب کی شخصیت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنا چاہتا ہے۔ جہاں ایک طرف تو صدر ٹرمپ مختلف آزاد ممالک میں دخل اندازی کر کے ان کے حکومتیں تبدیل کر رہےہیں وہاں وہ فلسطین جیسے اہم اور پیچیدہ مسئلہ کو حل کرنے کی بھی پراسرار کوشش کر رہے ہیں۔ اُن کی اس کوشش سے فلسطین کا مسئلہ ایک بار پھر عالمی دنیا کے سامنے ایک سوال بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ مسلسل جنگ اور ہزاروں معصوم جانوں کے ضیاع اور بنیادی انسانی ڈھانچے کی مکمل تباہی کے بعد صدر ٹرمپ کی زیر قیادت عالمی برادری نے ایک نئے انتظامی و امن منصوبے کو جنم دیا ہے جسے ’’غزہ پیس آف بورڈ‘‘ کہا جا رہا ہے۔ بظاہر اس منصوبے کا مقصد غزہ میں امن کے قیام اور امدادی کاروائیوں سمیت تعمیر نو کے عمل کی نگرانی ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بورڈ واقعی دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکے گا یا یہ بھی ماضی کے کئی ناکام بین الاقوامی تجربات کی طرح محض ایک عارضی انتظام ثابت ہو گا؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے قبل ہم دیکھ لیتے ہیں کہ غزہ پیس آف بورڈ ہے کیا چیز۔ دراصل غزہ پیس آف بورڈ ایک مجوزہ بین الاقوامی فورم ہے جسے جنگ بندی کے بعد غزہ میں امن، امداد اور بحالی کے لیے قائم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس بورڈ کو ایک عبوری انتظامی ڈھانچے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ غزہ کو فوری انسانی بحران سے نکالا جا سکے اور مستقبل میں کسی مستقل سیاسی حل کی راہ ہموار ہو۔ اس کے تحت جنگ بندی پر عملدرآمد، انسانی امداد کی نگرانی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو جیسے معاملات شامل ہیں۔
اس بورڈ کے مقاصد میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کو یقینی بنا کر اس علاقہ میں خوراک، پانی، دوا، بجلی اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات کی بحالی ہے۔ اس بورڈ پاکستان کی شمولیت اور اہمیت پر پاکستان میں مختلف طبقہ ہائے فکر کی مختلف آرا ہیں اور خاص کر حکومت مخالف سیاسی جماعتیں اس بورڈ کے کام شروع کرنے سے پہلے ہی روایتی طور پر اس پر تنقید کا کام شروع کر چکی ہیں لیکن ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ اس بورڈ میں شامل مسلم ممالک جن میں پاکستان، مصر، اردن، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور انڈونیشیا جبکہ غیر مسلم ممالک میں امریکہ، آذربائجان ، آرمینیا اور بیلاروس شامل ہیں ان میں سے پاکستان کو بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ قیادت میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ اس اہم موقعہ سے فائدہ اٹھا کر دنیا کے سامنے اپنی اہمیت اور اہلیت واضح کر لیں گے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے یہ ایک اہم موقع بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ کیونکہ پاکستان سمیت مسلم ممالک اگر اس بورڈ میں محض علامتی شمولیت کی بجائے انسانی حقوق اور انصاف کو اپنی سفارتی ترجیح بنائیں تو پاکستان اور غزہ پیس آف بورڈ واقعی ایک مثبت اور تاریخی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اور ایک امید کی کرن کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پاکستانی قیادت کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ قومیں آزادی اور اختیارات سے بنتی ہیں اور اگر غزہ کے لوگوں کو یہ دو بنیادی حقوق مل جائیں تو یہ مسئلہ نہ صرف مستقل بنیادوں پر حل ہو سکتا ہے بلکہ اس سے جُڑے دنیا کے امن کیلئے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ بہت عرصہ بعد پاکستان کو پہلی مرتبہ جو عزت کا مقام اور اہمیت مل رہی ہے اس قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے سیاسی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے پاکستان کی موجودہ قیادت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ گھر میں جتنی بھی آپس میں اختلافات ہوں لیکن جب گھر کی عزت کا سوال آ جائے تو سب چیزیں چھوڑ کر سب کو ایک ہو جانا چاہیے ۔ آپس میں سیاسی جنگ لڑنے کیلئے بہت وقت پڑا ہے اور ستر سال سے یہ لوگ لڑ بھی رہے ہیں لیکن اس معاملہ پر اتحاد کا مظاہرہ کرنا بہت ضروری ہے اور اس معاملہ پر اکٹھے بیٹھنے سے شاید اندرونی سیاست میں بھی ان سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے دل میں مل بیٹھ کر حل نکالنے کا رحم آ جائے۔ ورنہ ملک جس راستے پر جا رہا ہمیں دنیا کی نمبرداری تو کجا شاید ہمارے ہاتھ کچھ بھی نہ بچے۔ لیکن اُس وقت پھر پچھتانے کا کیا فائدہ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ۔۔۔

ASMAT ULLAH KHAN NIAZI
HAQ SACH KI AAWAZ MIANWALI MEDIA LEGENDS & JOURNALISTS

ASMAT ULLAH KHAN NIAZI – JOURNALIST, TOURIST REPORTER & TRAVEL WRITER FROM MIANWALI

Asmat Ullah Khan Niazi is a seasoned journalist-tourist reporter with a passion for exploring the Pakistan, exclusively Mianwali and sharing...
Read More
kya patang baazi aik jurm hai
HAQ SACH KI AAWAZ

KYA PATANG BAAZI AIK JURM HAI

"کیا پتنگ بازی ایک جُرم ہے " تحریر: عصمت اللہ نیازی پتنگ بازی انسانی تفریح کا ایک ذریعہ ہے جو...
Read More
POLICE MEIN IKHLAQIAAT KI KAMI YA MAHOL KA ASSAR
HAQ SACH KI AAWAZ

POLICE MEIN IKHLAQIAAT KI KAMI YA MAHOL KA ASSAR

"پولیس میں اخلاقیات کی کمی یا ماحول کا اثر" ہمارا ایک کالج دور کا کلاس فیلو مطیع اللہ خان ہے۔...
Read More
MIANWALI DOBARAH DOUR JAHALAT MEIN
HAQ SACH KI AAWAZ

MIANWALI DOBARAH DOUR JAHALAT MEIN

میانوالی دوبارہ دورِ جہالت میں-عصمت اللہ نیازی قتل غارت اس وقت ریاستِ پاکستان کیلئے ایک ایسا ناسور بن چکا ہے...
Read More
GIRAN FAROSHI KE ASAL ASBAAB
HAQ SACH KI AAWAZ

GIRAN FAROSHI KE ASAL ASBAAB

گراں فروشی کے اصل اسباب ماہ رمضان کے آتے ہی جہاں غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک میں بھی اشیاء ضروریہ...
Read More
SIYASAT DAANO KE SATH SIYASAT
HAQ SACH KI AAWAZ

SIYASAT DAANO KE SATH SIYASAT

سیاست دانوں کے ساتھ سیاست ایک زمانہ تھا جب الیکشن سے چند دن قبل سیاست دان کسی بھی قوم یا...
Read More
TALEEMI IDARON KE GATE PAR LAGEY TAALEY
HAQ SACH KI AAWAZ

TALEEMI IDARON KE GATE PAR LAGEY TAALEY

تعلیمی اداروں کے گیٹ پر لگے تالے جب ہم پرائمری سکول میں پڑھتے تھے تو اُس وقت سرکاری پرائمری سکولوں...
Read More
USAATZAA KARAAM, KHUDAARAA QOUM KE BACHON PAR REHAM KAREN
HAQ SACH KI AAWAZ

USAATZAA KARAAM, KHUDAARAA QOUM KE BACHON PAR REHAM KAREN

"اساتذہ کرام ،خدارا قوم کے بچوں پر رحم کریں" پروفیسر اشفاق احمد مرحوم ایک جگہ پر لکھتے ہیں کہ ایک...
Read More
SANEHA KALABAGH
HAQ SACH KI AAWAZ

SANEHA KALABAGH

سانحہ کالاباغ - تحریر-  عصمت اللہ نیازی کالاباغ دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ایک خوبصورت شہر ہے اگر اس شہر...
Read More
ZAN MUREEDI AUR INSANI TAREEKH
HAQ SACH KI AAWAZ

ZAN MUREEDI AUR INSANI TAREEKH

"زن مریدی "اور انسانی تاریخ    -  عصمت اللہ نیازی انسانی تاریخ میں لفظ زن کو بے حد اہمیت حاصل...
Read More
HIJRAAN ALA PUTTAR
HAQ SACH KI AAWAZ

HIJRAAN ALA PUTTAR

ہیجڑاں آلا پُتر        -      عصمت اللہ نیازی کہتے ہیں کہ کسی ہیجڑوں (کھسروں) کی بستی میں...
Read More
MUASHRAY MEIN JINSI TAFREEQ
HAQ SACH KI AAWAZ

MUASHRAY MEIN JINSI TAFREEQ

     معاشرے میں جنسی تفریق    -عصمت اللہ نیازی آج سے تقریباً 10 سے 12 ہزار سال قبل انسان...
Read More
TEHSEEL EESA KHAIL KO KHYBER PAKHTUNKHWA MEIN SHAAMIL KYA JAYE
HAQ SACH KI AAWAZ

TEHSEEL EESA KHAIL KO KHYBER PAKHTUNKHWA MEIN SHAAMIL KYA JAYE

تحصیل عیسیٰ خیل کو خیبرپختونخوا میں شامل کیا جائے خیبرپختونخوہ کا پرانا نام نارتھ ویسٹ فرنٹیئر صوبہ تھا اور اس...
Read More
BA KIRDAR AUR BAD KIRDAR
HAQ SACH KI AAWAZ

BA KIRDAR AUR BAD KIRDAR

"باکردار اور بدکردار" ہمارا عجیب مسئلہ ہے کہ ہم اعلیٰ ترین مذہبی اقدار کے باجود باکردار اور بدکردار کی تعریف...
Read More
ZILA MIANWALI MEIN SIYASI SORAT E HAAL
HAQ SACH KI AAWAZ

ZILA MIANWALI MEIN SIYASI SORAT E HAAL

ضلع میانوالی میں سیاسی صورتحال گذشتہ ایک سال کی غیر یقینی صورتحال کے بادل چھٹتے دکھائی دینا شروع ہو گئے...
Read More
BARA AUR CHHOTA GOSHT
HAQ SACH KI AAWAZ

BARA AUR CHHOTA GOSHT

"بڑا اور چھوٹا گوشت"---تحریر: عصمت الله نیازی میرے کئی بہت قریبی دوست بکرا کھانے کے جنون کی حد تک شوقین...
Read More
KYA SINDH TAAS MOAHIDA KHATRAY MEIN HAI
HAQ SACH KI AAWAZ

KYA SINDH TAAS MOAHIDA KHATRAY MEIN HAI

"کیا سندھ طاس معاہدہ خطرے میں ہے" عصمت الله نیازی پانی قدرت کی ایک ایسی نعمت ہے جو کہ انسان...
Read More
CHAUDHRI KI ADALT OR WACHER
HAQ SACH KI AAWAZ

CHAUDHRI KI ADALT OR WACHER

"چوہدری کی عدالت اور وچھیرا" پُرانے وقتوں کی بات ہے کہ کہیں دُور پہاڑوں کے دامن میں کُھڈاں والا کے...
Read More
DANDA PEER AUR HAMARI NAF­SIYAT
HAQ SACH KI AAWAZ

DANDA PEER AUR HAMARI NAF­SIYAT

"ڈنڈا پیر اور ہماری نفسیات" تحریر: عصمت اللہ نیازی گذشتہ دنوں پنجاب کے وزیرِ تعلیم کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا...
Read More
PUNJAB KI TRIFIC MAHUM, ASILAH YAA ANTAQAM ?
HAQ SACH KI AAWAZ

PUNJAB KI TRIFIC MAHUM, ASILAH YAA ANTAQAM ?

"پنجاب کی ٹریفک مہم، اصلاح یا انتقام؟ تحریر: عصمت اللہ نیازی وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے احکامات کے بعد...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top