ISA KHEL DAUR TA NAI – PART 7

عیسےا خیل دور تے نئی.بات سےبات.11

ویسے تو میرا پکا عقیدہ تھا ..کہ کسی بھی بڑے اافسر کو …..بڑے آدمی کو…….. نعو ذ با اللہ خدا نہ سمجھیں …. بلکہ اپنے جیسا ….آدمی سمجھیں…ای ڈی او ریونیو ….کو میں نے دکھہ دے کر …فٹ پاتھ سے نیچے اتار دیا …..اور یہ فاصلہ میں نے….بس دو …اڑھائی گھنٹوں میں ….طے کیا ….یعنی صرف دو گھنٹے پہلے جب تک میری …….اس سے ملاقات نہیں ھوئی تھی….وہ ایک خوفناک …..مافوق الفطر…..بیورو کریٹ تھا …
دو گھنٹے بعد….جب میں نے اسے عام آدمی سمجھنا شروع کیا.. ….وہ عام آدمی….کا روپ دھارنے لگا… ….اور آخری نتیجہ کیا تھا ……….. کہ اس نے کہا

گل آپکا غلام رھے گا… ……..
اے اللہ تیرا شکر ھے…. میں …..اس قابل کہاں…یہ صرف تیرا کرشمہ ھے…جب ھم ……..صرف تمہیں اپنا خدا مانتے ھیں

اور کسی دوسرے فرعون کو……….خدا ماننے سے انکار کرتے ھیں…تو اس کا اگلا مقام ………ھمارے …… پیروں میں ھوتا ھے…میں اہنی اس achievement پر ……بہت خوش تھا …. اب مجھے ھر کامیابی کا رخ پٹواری کی طرف موڑنا تھا جب کہ میں نے خط کے آخر میں لکھا تھا کہ میں ای ڈی او کو کوئی کام نہیں کہوں گا…………….میں نے ایک درخواست تیا ر کی….اور میانوالی محکمہ ریونیو کے ایک جونئیر افسر جسکا رینک …..اے سی کے برابر تھا….. کے پاس میانوالی پہنچ گیا….صبح کے دس بجے میں اسکےدفتر پہنچا….کلرک نے مجھے بتایا کہ اندر میٹنگ ھو رھی ھے…دس سے گیارہ بج گیئے …گیارہ سے بارہ بج گیئے……………………………………………اور پھر 1 بج گیا…..میں نے کلرک کو کہا یار تم اسے بتاو تو سہی ….کلرک نے کہا صاحب نے کہا تھا

مجھے ڈسٹرب نہ کرنا ……جناب میں تو اندر نہیں جا سکتا میں سمجھ گیا….کہ یہ میٹنگ …….نہیں ھے …..اے سی ریونیو کا موڈ آج کسی bloody کو ملنے کا نہیں ھے…چلو……اللہ مالک ھے…..اب ذرا اپنے دوست ………گل……..کو سلام کر لیتے ھیں…..کام تو اسکو کوئی کہنا نہیں ………………………
میں نے ای ڈی او ریونیو کا دفتر …بالا خر ڈھونڈ ھی لیا یہ اسکے دفتر کا میرا پہلا……..وزٹ……..تھا میرے اوپر ایک کیفیئت ……..طاری تھی..وہ مجھے
کھڑا ھو کر تپاک سے ملا ….آیئے………..آیئے ھیڈماسٹر صاحب……..تشریف رکھیں …پھر ملازم کو کہا ایک ڈرنک لائیں

ھیڈماسٹر صاحب ………آج میانوالی کیسے آنا ھوا؟ جی وہ ریونیو کا جو فلاں افسر ھے …اس کے پاس کام تھا میں نے جواب دیا…پھر کام ھو گیا ….؟ انہوں نے مجھ سے سوال کیا نہیں جی….صبح دس بجے سے ………ایک بجے تک اسکے دروازے بند تھے….میں اس سے مل ھی نہ سکا

آپکا کام کیا تھا.. ؟ جی ایک پٹواری نے میری تیس کنال زمین غائب کر دی اور اب وہ پورے ایک سال سے موقع پر نہیں جا رھا..اس کے خلاف میری درخواست ھے……درخواست مجھے دیں..نہیں جی………آپ تکلیف نہ کریں ……وہ قدرے agressive لگ رھا تھا ..اس نے سا منے پڑے ھوئے لینڈ لائن کو گھمانا شروع کیا….پھر اس افسر کا نام لیکر کہا آپ میرے پاس تشریف لے آئیں …ابھی…………………….وہ افسر ابھی دفتر میں داخل ھی ھوا تھا….کہ انہوں نے اس پر ……..ایک سخت جملہ پاس کردیا

نہ………..اگر اتنا پڑھا لکھا ………اور سکول کا سربراہ آپ سے نہیں مل سکتا ………تو باقی لوگوں کا کیا حشر ھوتا ھو گا نہیں سر…………..مجھے تو یہ نہیں ملا ملتا کیسے…..؟ آپکے بند دروازے کھلتے تو ضرور ملتا

ھیڈماسٹر صاحب درخواست دیں ….قدرے غصے کے ساتھ ساری باتیں بول گیا میں نے درخواست دی……..ای ڈی او اپنے جونئیر سے مخاطب ھوا. ..یہ ایک پٹواری ھے اسے بلاو اور اسے hang کرو …………….اور اگر تم سے ھینگ ……….نہیں ھوتا تو مجھے بتاو میں اسے خود ھینگ کرونگا
اس اے سی لیول کے اس افسر نے میری طرف حیرت سے دیکھا ……………..اور مجھے کہا
آپ میرے ساتھ آجائیں………
راجہ گل نواز صاحب نے مجھے کہا آپ ان کے ساتھ جائیں لیکن میرے ساتھ رابطے میں رھنا..
میں اپنے………………..گل کو ھاتھ ملا کر اس افسر کے ساتھ
چلا گیا.
اس نے دفتر پہنچتے ھی ……..اپنے سے نیچے ایک افسر کو جسے وہ C.O صاحب کہہ کر پکار رھا تھا.. سے مخاطب ھوا
دیکھو سی او صاحب……….جو کام میں آپکو دے رھا ھوں اسکی وجہ سے راجہ گل نواز صاحب سے اپنی بے عزتی کروا چکا ھوں….اور یہ بندہ بھیج رھا ھوں……اگر یہ بندہ مطمعن نہ ھوا…تو میں وہ بے عزتی آپکو شئیر کر دونگا
یہ ایک ہٹواری ھے ……اسکو سات دن چکر لگواو ……..روز بلاو
جناب ھیڈماسٹر صاحب اگر آپکی شکایئت حل نہ ھو تو پہلے مجھے آگاہ کرنا….اس نے مجھے کہا
میں سی ا و صاحب سے ملا …….میں نے اسے ساری تفصیل بتائی ………………………………………….اس نے کہا پٹواری صدیق کو اتنا خراب کرونگا ………کہ خود آپکے پاس آئیگا ……روئے گا…………منتیں کریگا ……………….اس وقت تک فیلڈ میں جائیگا جب تک زمین مل نہیں جاتی…………………………..پٹواری صدیق کی حالت ایسی ھو گئی …..چکر لگا لگا کر کہ نہ وہ مرتا تھا نہ جیتا تھااس نے مجھے کہا جب تک آپ میرے ساتھ نہیں آئیں گے میری جان نہیں چھوٹے گی….
صاف ظاھر ھے مجھے اپنا کام نکالنا تھا ………..انتقام لینا نہیں

اس نے کہا میرے چھوٹے چھوٹے بچے ھیں میری نوکری خطرے میں ھے ……مجھے پتہ تھا اگر ای ڈی او ریونیو پر میرا ھاتھ نہ لگتا تو صدیق نے …………….مجھے گھاس نہیں ڈالنا تھا -صدیق کو ……………سی او …..نے بتایا کہ قیوم خان کے پیچھے ای ڈی او ریونیو راجہ گل نواز کا ھاتھ ھے… اور صدیق کو ڈرایا گیا …………..کہ نوکری بھی خطرے میں ھے

حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی….مسلسل ھر دوسرے …..تیسرے دن موقع پر جاتے …مجھے بھی سکول سے چھٹی لینی پڑتی کچہ نور زمان میں دو موضعوں کے پٹواری ……………..آٹھ دس زمیندار متعلقہ موجود ھوتے تھے…
وقفوں ……..وقفوں سے پورا مہینہ گزر گیا …..زمین نہ ملی………………….
ادھر ضلع کے اندر ………….روکھڑی خاندان………….ضلع ناظم حمیر حیات خان……………….اور انکے والد محترم گل حمید خان جو کہ محکمہ مال کا وزیر بھی تھا.. انکی ڈی سی او شیر افگن کیانی سے مخالفت چل پڑی
ایک دفعہ مجھے گھر کے فون پر ایس پی کا فون بھی آیا فون پر کہا آپ نے خط لکھا تھا ……..کبھی ٹائم دیں ……اگر چکر لگے………میں نے کہا جی ضرور آونگا
مجھے لاھور ایک ریفریشر کورس پر پورے مہینے کے لئے جانا پڑا………..میں وھاں سے ایک دکان سے جاکر روزانہ گھر فون کرتا تھا
میرے کورس میں ایک دن رھتاتھا ………….میں نے گھر روٹین کا فون کیا
مجھے گھر والوں نے بتایا یہ نمبر نوٹ کریں میانوالی سے ڈی سی او کی طرف سے کسی نے کہا ھے کہ اس نمبر پر قیوم خان رابطہ ڈی سی او صاحب سے رابطہ کرے-میں نے اسی وقت اسی دکان سے اس نمبر پر رابطہ کیا

ڈی سی او صاحب سے فون مل گیا……….
آپ نے خط لکھا تھا………………حالات خراب ھیں آپ کب واپس آ رھے ھیں….میں نے کہا سر پرسوں گھر واپس آتے ھی آپ سے رابطہ کرونگا
باقی کل انشاءاللہ نا چیز عبدالقیوم خان

عیسےا خیل دور تےنئی.بات سے بات 12

میں نے جتنے بھی افسروں کو وہ لیٹر ڈالا تھا…ان سب نے مجھ سے رابطہ ضرور کیا تھا..یعنی اپنی زندگی کے متعلق …..آنے والے دنوں کے متعلق….اپنی اچھی اور بری قسمت کے متعلق …..جاننا…….دنیا کے تمام انسانوں کی

بہت بڑی کمزوری ھوتی ھے…..
میں لاھور سے ریفریشر کورس کرنے کے بعد تیسرے دن جیسے ھی گھر آیا ….اسی شام کو میں نے ڈی سی او …..

شیر افگن کیانی کے پی ٹی سی ایل کے نمبر پر کال گھر کے نمبر سے ملائی.
آگے سے جواب ملا ….انکا ٹرانسفر ھو گیا ھے …….وہ چلے گیئے ھیں…مجھے بے حد افسوس ھوا …..کہ آخری گھڑی میں اس نے مجھے آواز دی تھی…..حالانکہ میں نے کیا کر لینا تھا ……اسکا مطلب یہ ھے ….کہ جب پریشانی آتی ھے. تو ………. ھر آدمی….امیر ….غریب….چپڑاسی …..صدر…وزیر اعظم……اور…………بادشاہ سلامت………..سب ایک جیسے ھو جاتے ھیں ….ڈی سی او کا چارج …..راجہ گل نواز نے سنبھال لیا…..اور ڈی سی او کی کوٹھی میں شفٹ ھو گیا .اس کوٹھی پر اس نے ایک مرتبہ مجھے بھی بلایا.ڈی سی او شیر افگن کا تبادلہ گل حمید خان روکھڑی نے کروایا تھا……معمولی اختلاف پر ….اور جیسے ھی ……گل …..نے ڈی سی او کا چارج سنبھالا

انکے ساتھ بھی گل حمید خان کی چپقلش شروع ھو گئی گل حمید خان پنجا ب کے وزیر اعلی ا پرویز الہی کے بہت قریب تھے …….انکی مرضی سے ذرا اوپر نیچے ھونے کا ایک ھی مطلب تھا………کہ وہ بیورو کریٹ …….میانوالی میں
صرف تین دن اور رہ سکتا ھے…………………….
اور پھر وھی ھوا…جسکا ڈر تھا ….راجہ گل نواز کو بھی …..گل حمید خان نے اٹھا کر ضلع سے………..آوٹ….کردیا …. مجھے شدید افسوس ھوا ایک انتہائی لٹریری اور زندہ دل افسر………….اچھا دوست منظر سے اوجھل ھو گیا
اور ……….میں بھی پاور گیم سے ……….باھر………… ھو گیا …………….پتہ نہیں اب وہ کہا ں ھے …کاش کہ اس وقت موبائیل فون آچکے ھوتے…پٹواری صدیق زمین تلاش کرنے میں کامیاب نہ ھو سکا

میں ایک مہینہ …..لاھور اور……اسکے بعد سکول کی سرگرمیوں میں مصروف ھو گیا………………..پٹواری صدیق کا …………سین ……وقتی طور پر … …. آف .. …..ھو گیا ….اور اس نے بھی کچھ سکھ کا سانس لیا اور چونکہ وہ ایک مہینہ فیلڈ میں جاتا بھی رھا تھا….اور میری تیس کنال زمین دو موضعات کے درمیان کی ……..لائن……پر ایک تنازعہ تھا جس کی وجہ سے ……………………………..یہ ……….دونوں موضعات کی مکمل پیمایش سے حل ھونا تھا

یہی وجہ تھی….پٹواری سے ناراضگی ….کا …….لیول …..کچھ نیچے آگیا…………………….البتہ ……………. بلکل ختم نہیں …….. ھوا تھا لیکن جیسے ھی راجہ گل نواز کا تبادلہ ھوا ….پٹواری نے اپنی مصروفیات کو ظاہر کرنا شروع کیا .اسی اثنا میں……..ایک نیا ڈی سی او رانا نصیر احمد آگیا …میرے لئے نئے ڈی سی او کو لیٹر لکھنا …………ایک آسان فیصلہ نہیں تھا….
کیونکہ مجھے پامسٹری اور علم ہندسہ پر بھی……مطلوبہ گرفت نہیں تھی….بس صرف …..بنیادی آگہی تھی

کہیں ایسا نہ ھو کہ………….مجھے کسی کے سامنے شرمندہ ھونا پڑے…..
پھر میں نے………….یہ جمپ ……………لے ھی لیا …..خط نیئے ڈی سی او ………….کو پوسٹ ھوگیا

پھر سکول سے بیٹھ کر کسی ڈی سی او کو فون کر کے یہ پوچھنا بہت مشکل تھا کہ میں کب آوں آپکا ھاتھ دیکھنے …………..بہت مضحکہ خیز . …….بلکہ ناممکن تھا ….ابھی اس ملک کا جمہوری لیول اس آسمان تک نہیں پہنچا اور شاید یہاں تک پہنچنے تک نصف صدی اور گزر جائے.مجھے ھفتے کے بعد ………..کسی کام کے لیئے میانوالی جانا تھا….کام کرنے کے بعد سیدھا ڈی سی او آفس گیا

بڑا مسلہ تھا……. …….کیا پوچھوں…………….کس سے پوچھوں
میں نے ڈی سی او کے پرسنل اسسٹنٹ سے خط کا پوچھا اس کو بات سمجھنے میں……بہت مشکل پیش آرھی تھی.کونسا خط………………؟ پتہ نہیں……………شاید آیا ھو گا.اس نے تنگ آکر کہا………………آپ ایسا کریں ڈی سی او سے جا کر مل لیں……بالکل اکیلا بیٹھا ھے.میں نے دل میں سوچا …….ملتا ھوں……کوئی کھا تو نہیں جائے گا ….اپنے آپ کو حوصلہ دیا.اگر پہلے پانچ منٹ ……….امن کے ساتھ گزر گیئے تو پھر…………………..میں مار نہیں کھاوں گا.میں اللہ کا نام لیکر…………………..کمرے کے اندر چلا گیا.وہ بلکل اکیلا بیٹھا تھا…. …. میں سلام کر کے سیٹ پر بیٹھ گیا ……………………وہ میری طرف متوجہ ھوا.

جی….بتائیں -وہ سر میرا نام…………………. عبدالقیوم خان ھے ……..میں ایک ھائی سکول میں ھیڈماسٹر ھوں …….جی ……سر میں نے آپکو ایک خط لکھا تھا…..آپکو ملا تھا ؟

مجھے یاد نہیں………………آپ بتا دیں اس میں کیا لکھا تھا-اس نے مجھ سے پوچھا-جی میں پامسٹری اور تاریخ پیدائیش کی بنیاد پر ایک ریسرچ بک لکھ رھا ھوں اور اس سلسلے مجھے چند لوگوں کا تجزیہ کرنا ھے-کیا آپ نے اپنا ھاتھ دیکھا ھے ….؟

اس نے سوال پوچھا…….جو پٹڑی سے اترا ھوا تھا
سوال میں ناراضگی……… ……کا عنصر نظر آرھا تھا جی بالکل …………….میں اپنے ھاتھ کے عین مطابق ھوں..سر مجھے آپ سے کچھ نہیں لینا ……میں نے چند selected………….بندوں کا analysis کرنا ھے………اپنی ریسرچ بک کی خاطر اور یہ ایک بہت دلچسپ تجزیہ ھو گا جسے آپ بہت انجائے کریں گے

سر آپ سائینس کے بندے ھیں ؟ میں نے اچانک ایک اور …………
یوٹرن …. لیا ………………توجہ کا سارا فرنٹ ……….چینج ھو گیا

وہ بی ایس سی تھا لیکن کسی امکانی مشکل سے بچنے کے لیئے…..اس نے کہا ……نہیں ……میں نے ایف ایس سی کے بعد آرٹ رکھ لی تھی….میں نے کہا…..مجھے تو آپکا تجزیہ کرنے کے لئے ………..عیسےا خیل سے سپیشل آنا ھو گا….نہیں ایسا کیوں نہ کریں ………………..ا س وقت 11 بجے ھیں ….آپ تین بجے کوٹھی پہ آجائیں ….میرے ساتھ کھانا کھائیں…….اور پھر ………………analysis بھی ھو جا ئے گا

میں نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے کہا

جی…..میں تین بجے پہنچ جاونگا

باقی اگلی قسط میں انشاءاللہ-آپکا مخلص ناچیز عبدالقیوم خان

عیسےاخیل دور تےنئی..بات سے بات 13

تین بجے میں ڈی سی او کی کوٹھی میں دا خل ھوا ….گیٹ کے تھوڑے اندر کی طرف پولیس کا بندہ ……موجود تھا
میں نے اسے کہا ….مجھے ڈی سی او صاحب سے ملنا ھے

ڈی سی او کوٹھی پر کسی سے نہیں ملتا ….وہ دفتر میں ھے ……….آپ وھاں جائیں دفتر میں نہیں ………..مجھے اس سے کوٹھی پر ھی ملنا ھے
مجھے اس نے سر سے لیکر پاوں تک ……گھور کے دیکھا

اچھا ……تو تم یہ سامنے بر آمدے میں بیٹھو
گیٹ اور کوٹھی کے درمیان …. گیٹ سے تھوڑے فاصلے پر ایک برآمدہ نما بنا ھوا تھا …. میں …. ….وھاں جا کر بیٹھ گیا لیکن …………
مجھے ھلکی سی ذھنی کوفت ھوئی
اسی اثنا میں پولیس والے کو ……پی ٹی سی ایل جو اسکے پاس ھی رکھا ھوا تھا ……….فون آیا……….فون سننے کے بعد اسنے مجھے دیکھا اور کہا..

سر ڈی سی او صاحب نے کہا ھے ….کہ وہ دو منٹوں میں آ رھے ھیں آپ آرام سے بیٹھیں.بس اگلے دو ….تین منٹوں میں ڈی سی او کی گاڑی کوٹھی کے گیٹ میں داخل ھو ئی…….ٹھیک میرے سامنے…….گاڑی ایک لمحے کے لیئے رکی …ایک پولیس والا برآمدے کے سامنے اترا
آئیں سر ……میں اسکے ساتھ ھو لیا ……….تھوڑی دیر کے بعد ھم دونوں کوٹھی کے اندر داخل ھو گیئے
پھر پولیس والا رک گیا
سر آپ کمرے کے اندر چلے جائیں …….

کمرے میں ڈی سی او صاحب نے کہا……. .خان….صاحب آ جائیں ……..تشریف رکھیں …..
بس شاید تین منٹ ھی گزرے ھونگے ….ملازم کمرے میں آیا

سر کھانا لگ گیا ھے… …………………خان صاحب آئیں چلیں

ھم ایک اور کمرے میں چلے گیئے ……وھاں میز پر دو بچے بیٹھے تھے…ڈی سی نے انکا تعارف کروایا انکی تعلیم اور انکے سکولوں کے نام بتائے …..ایک بیٹا اور ایک بیٹی جو پنڈی میں رھتے تھے….پھر اپنی بیگم کا ذکر کیا…………………وہ یہاں نہیں آتی………..مجھے بیگم کی بات سمجھ نہیں آئی لیکن میں نے کھانے کی میز پر ……سوال جواب کرنا

مناسب نہیں سمجھا
ایک بٹ مین…….بہت ھلکی…..اور بالکل گرم روٹی پلیٹ میں رکھ کر کھڑا رھا اور serve کرتا رھا
میں تو دیہاتی سٹائیل والا بندہ تھا ھر دو منٹوں بعد  وہ میرے سامنے روٹی کا…………….پھلکا ………رکھ رھا تھا

دل میں خیا ل آیا …….ڈی سی او کیا سوچ رھا ھوگا میرے بارے
پھر اندر سے جواب آیا …….ڈی سی او جائے جہنم میں بہرحال کھانا مزے دار تھا ……….فارغ ھو کر پہلے کمرے میں واپس آگیئے ……سر کھانا بہت مزے دار تھا……………میں نے یہ فقرہ کہا ھی تھا کہ پلیٹ میں انگور آگیئے ……..لیکن انگوروں کے ساتھ کسی قسم کی بد تمیز ی نہیں ھو سکتی تھی……کیونکہ ڈی سی او صاحب بالکل ……ساتھ بیٹھا تھا تھوڑے سے انگور کھانے کے بعد میں… نے کہا ………..جی شروع کریں ……..
اس نے اپنا ھاتھ میرے آگے کر دیا ……میں نے اسکی ذھانت کا لیول نوٹ کیا …….اس کی luck line کا مشاھدہ کیا ………….کچھ اور لکیریں کو غور سے دیکھا…..
میں نے اسے بتایا کہ ابھی میں صرف آپکو ایک small truth بتاونگا
میں نے دیکھا لکیروں میں کوئی ایسی بات نہیں ھے کہ میں کوئی خاص فیصلہ announce کروں …….. وہ غلط بھی ھو سکتا ھے………..اور میرے پاس غلطی کا چانس …………..صفر تھا

میں نے پوچھا آپکی تاریخ پیدائیش کیا ھے

دو فروری 1961 ھے ………….انہوں نے جواب دیا

میں نے اپنی ڈایئری پر نوٹ کیا ……………دو فروری دیکھ کر میرا حوصلہ کچھ بڑھا.مجھے ھر حال میں اسے چھوٹا سا tip دینا تھا
میں نے کہا ……..ساری زندگی میں سروس کے دوران آپکا …………اپنے boss سے اور ………………اپنے کسی ماتحت کے ساتھ کبھی کوئی جھگڑا نہیں ھو سکتا ……. آپکو ھمیشہ ھر طرف سے پیار اور احترام ملتا ھے
…………………..اور میں جیت گیا
اس نے جواب دیا ………میرے پچھلے تبادلے پر میرا سارا سٹاف مجھے الوداع کہنے کے لیئے………..لائین بنا کر کھڑا تھا

اور وہ سب کے سب رو رھے تھے ……………..مجھے صدیق پٹواری یاد آیا ………………… bloody …………………..احمق ……………کھوتا

میں نے ڈی سی او صاحب سے کہا………پورے سچ …………کا پیج لکھ کر بھیجونگا تیسرا مرحلہ شروع ھو گیا……..میں نے ڈی سی او صاحب سے بہت سے سوال پوچھ مثال کے طور پر……….کیا دوستی بغیر مطلب کے ممکن ھے…….محبت کیا ھے…….آپ گھر سے باھر رھنا پسند کرتے ھیں یا گھر میں آرام کرنے کو پسند کرتے ھیں ……….
موسیقی …………شعروشاعری……………کے متعلق کیا خیال ھے……..کیا آپ فلم دیکھتے ھیں……اگر اچانک آپکا کوئی…………. مہمان …..سر پر ……..نازل ھو جائے تو آپکا فطری ردعمل کیا ھوتا ھے….. کیا کبھی سونے کے لیئے آپ نے نیند کی گولی کھائی ھے………صحت کے لحاظ سے …………………….کوئی کامیا ب tips …..اور پھر ایک بڑا دلچسپ سوال ھوا.سر ایک طرف دولت کا اتنا بڑا ڈھیر ………………… جتنا آپ کے تصور میں آ سکتا ھو …..اور دوسری طرف ایک اتنی خوبصورت عورت……………………..جتنی آپکے تصور میں آسکتی ھو اور آپ سے کہا جائے.select one of them and……………….go !

تو آپ کس کو چنیں گے…………………….اورچلے جائیں گے انہوں نے جواب دیا …….دولت کا تو مجھے کوئی اتنا شوق نہیں ھے……دولت بس اتنی ھو…….جتنی ضرورت ھو .لیکن جہاں تک خوبصورت عورت کا تعلق ھے ……………I am helpless میں نے ٹائم دیکھا ………………پانچ بج رھے تھے.جی مجھے اجازت ھے………..مجھے عیسےا خیل والی گاڑی پکڑنی ھے

جی خان صاحب ……………….آئیں ……..چلیں
میں کھڑا ھوا …………………..وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھا
ھم دونوں کمرے سے نکلے ……..باھر نکلتے ھی .اس نے…… ڈرائیور کو آواز دی…………..گاڑی نکالو خان صاحب کو عیسےا خیل کوچ سٹینڈ پر لے جاو جب تک میں گاڑی میں بیٹھ نہیں گیا اور گاڑی چل نہیں پڑی …..وہ کھڑا رھا ………گاڑی چلی………ددونوں طرف سے سلیوٹ ھوا…………گاڑی کوٹھی کے گیٹ سے نکل گئی.

جہاز چوک پہنچنے سے پہلے ڈرائیور نے مجھ سے ایک سوال پوچھا .آپکی ڈی سی او صاحب سے پہلی ملاقات کب ھوئی تھی.آچ دفتر میں…………………دن کے گیارہ بجے………….

اللہ حافظ مخلص نا چیز عبدالقیوم خان

عیسےاخیل دور تےنئی.بات سے بات14

تیسرے دن ایک لیٹر چار پیجوں کا ڈی سی او صاحب کو پوسٹ ھو گیا ……نہ بخدمت جناب….نہ رانا نصیر صاحب

ڈیئر نصیر !
اسلام علیکم ………………..
خط میں جتنا رد م……..تسلسل…..موسیقی ….. خوبصورتی …….ممکن تھی…. ..بھر دی گئی……اور خط پوسٹ ھو گیا.ھفتے بھر کے وقفے کے بعد…..میانوالی جانا ھوا….کوئی کام تھا ….کام سے فارغ ھونے کے بعد……ڈی سی او دفتر کا اج  چکر لگایا ….میرے ساتھ میرا بیٹا بھی تھا….ھم بلا ججھک ….دفتر کے اندر چلے گیئے …..وہ ریٹائیرنگ روم میں تھا…وہ صوفے پر بیٹھا تھا. .ایک دو بندے اور بھی تھے ….بڑی اپنایئت تھی….

بیٹھیں خان صاحب…………..جی….وہ خط ملا تھا ؟

ھاں ملا تھا ……خط پر کوئی تبصرہ نہیں تھا
خان صاحب دو دن پہلے میں نے عیسےاخیل کا وزٹ کیا تھا

آپکے سکول کا بورڈ ……….گورنمنٹ ھائی سکول کلور شریف پڑھا تھا ……راستے میں…….

آپ میرے سکول میں آئے کیوں نہیں ؟

کبھی آونگا ……انشاءاللہ

چائے پئیں گے ؟

نہیں سر چلتے ھیں ………شاید بیس پچیس منٹ بیٹھے ھوئے ھونگے ….وھا ں سے آجازت مانگ لی….اور وھاں سے اٹھ آئے
کوچ کے اندر ……میرے دل میں ایک ھی سوال پریشان کرتا رھا …..خط پر کوئی تبصرہ نہیں ھوا

پھر ایک اور میانوالی کا چکر لگا….جب میں اپنا کام کرکے ڈی سی او کے دفتر کی طرف گیا تو وہ دفتر سے نکل کر اپنی کار کی طرف رجوع کر رھے تھے….بس کار میں بیٹھنے ھی والے تھے…. کہ مجھے دیکھ لیا آیئے آیئے……خان صاحب …..کیا کر رھے ھیں…..کیسے آنا ھوا جی کوئی کام تھا شہر میں ……………سر وہ آپ سے ایک بات پوچھنی تھی………..جی جی….ضرورسر میرے خط پر آپ نے بالکل کوئی تبصرہ نہیں کیا

خان صاحب آپکا خط بہت اچھا تھا……..ھر بات درست تھی……اور بہت خوبصورت آپکی ھینڈ رائیٹنگ ھے ….

سر واقعی……. ؟

ھاں ھاں ……میں صحیح کہہ رھا ھوں
اچھا خان صاحب مجھے کہیں جانا ھے ….اور ھاتھ ملا کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر وہ بیٹھ گیا اللہ حافظ ……………..بڑی مشکل سے میری بے چینی ختم ھوئی ….ویسے میں جانتا تھا کہ میں نے کوئی مشکوک چیز خط میں لکھی ھی نہیں تھی……جس کے غلط ھونے کا امکان ھو سکتا تھا…اب اپنے اصل ھدف کی طرف آنے کا ٹائم تھا ….میری تیس کنال زمین …………اور…………..bloody …………..پٹواری ایک بہترین درخواست تیار کرکے میں ……………میں رانا نصیر کے پاس لے گیا….اسے ساری تفصیل زبانی بھی بتائی

اس نے فون اٹھا یا ……اے سی عیسےا خیل کو آن لائن کریں ……………اپنے سٹاف کو کہا

ای سی عیسےا خیل آن لائن ھو گیا …اے سی عیسےا خیل کو میرانام…….عہدہ…..کام …..اور ضروری تفصیل سمجھانے کے بعد کہا
پندرہ دنوں میں………………اس کی زمین کا مسلہ حل کر کے رپورٹ کریں …بندہ آپکے پاس آرھا ھے………………………………..اے سی عیسےا خیل نے تحصیلدار کو بلایا اسے ساری صورت حال بتائی…پندرہ دن کے اندر ڈی سی او کو …..زمین کے متعلق رپورٹ دینی ھے ….سب متعلقہ بندوں کو…..دونوں موضعات کے پٹواری……گرداور ….اور خود تم ھر روز فیلڈ میں جاو…..

جب تک زمین مل نہیں جاتی……فیلڈ میں رھو

…………………………….ھر روز تحصیلدار کی جیپ……..دو پٹواری …..گرداور……..پندرہ بیس وہ لوگ جن کی زمین ان دو موضعات میں تھی ……فیلڈ میں موجود رھتے.شاید یہ چوتھا یا پانچواں دن تھا ….کہ تحصیلدار نے میرے ایک بہت ھی قریبی رشتہ دار کی زمین جو بالکل ساتھ ھی موجود تھی……اسکی پیمائیش کے بارے میں پٹواریوں کو کہا ………اور اسکی زمین تیس کنال زیادہ پائی گئی….فوری طور پر تحصیلدار نے کہا

یہ ھے تمہاری زمین……..ابھی ابھی ٹریکٹر منگواو اور اس پر قبضہ کرو…زمین فوری طور پر ھمارے قبضے میں آگئی.تحصیلدار نے کہا …..اس رشتے دار کو بتا دینا اگر اس نے دوبارہ یہ زمین اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کی تو میں اس کے خلاف تجاویزات کا پرچہ دونگا.اللہ اللہ کرکے ……..پٹواری کی جان چھوٹی ….سب لوگوں کو بھی اپنی اپنی زمین کے تحفظ کے لیئے وھاں موقع پر موجود رھنا پڑتا تھا………….وہ بھی سکھی ھوئے ………مجھے بھی سکول سے چھٹی لینی پڑتی تھی……………….زمین ڈھونڈنے کا………………….سارا کریڈٹ تحصیلدار لے گیا ……لیکن پٹواری اگر bloody ………….احمق……………….بدنیئت………..اور کھوتا نہ ھوتا……تو مجھے اپنے اندر چھپی………….. ایک نئی صلاحیئت کا پتہ کبھی نہ چلتا …………………اور پھر علم الاعداد پر میں نے کئی برس رات دن محنت کی…انٹر نیٹ سے سینکڑوں بندوں کی تاریخ پیدائیشیں نوٹ کیں

انہیں de-code کیا اور اپنی observation کو آگے کی طرف بڑھایا …..اور پھر 2011 میں کوک ٹی وی چینل پر اپنے 34 منٹ کے پروگرام میں زرداری…..یوسف رضا گیلانی….نوازشریف …..بلاول بھٹو………..چیف جسٹس چودھری افتخار …. عمران خان……..مولانا فضل الرحمن ا ……چودھری شجاھت…………………اور پاکستان کے بارے میں پیشین گویاں کیں میں نے پیشین گوئی کی کی پی پی پی کا یوسف رضا گیلانی 2012 میں وزیرآعظم کی سیٹ سے اتر جائیگا اور وہ ……….2012 کی بجائے 2013 میں اتر گیا

میں نے کہا نواز شریف کے ھندسے ایسے ھیں جب بھی یہ اقتدار میں آئیگا………ھر قسم کی………….مخالفت ……..چپقلش……….محاظ آرائی……اسکے ھندسوں کی خا صیئت ھے…….اور یہ بھی کہا کہ جب بھی یہ بندہ اقتدار میں آے گا…..خود دیکھ لینا ….آج خود دیکھ لیں کہ نواز شریف کتنے محاضوں پر مخالفت کا سامنا کر رھا ھے…میں نے کہا…………………………………… بلاول بھٹو کچھ بھی نہیں کر سکتا.. ..
میں نے کہا عمران الیکشن نہیں جیت سکتا ……..افتخار….چودھری 2012 کے بعد گمنام ھو جائے گا…….وغیرہ وغیرہ

وہ پروگرام یو ٹیوب پر Qayyum khan show کے نام سے کوئی بھی دیکھ سکتا ھے….اللہ حافظ مخلص ناچیز عبدالقیوم خان

عیسےا خیل دور تے نئی..بات سے بات 15

فن اور داد کا رشتہ اتنا آسان بھی نہیں…منور علی ملک ایک بہت پڑا ادیب ھے….نہایت چھوٹی سی سادہ سی پوسٹ ……لکھتے ھیں… …. اگر کوئی صرف ……لائیک ….کرکے ھٹ جائیگا ….یا ھلکے سے ھلکا کمنٹ……..مثال کے طور پر…………..nice ….کردیگا تو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ وہ پوسٹ لکھی اتنی چھوٹی…..اور سادہ تھی…. کہ منور علی ملک hurt نہیں ھو سکتا ….
ادھر پوسٹ پر گھنٹوں لگ جاتے ھیں…… اور …………………………………………………..خیر چلو چھوڑیں…….. بندے دنیا میں دو قسم کے ھوتے ھیں

نمبر ا introversive اندروں بین ….باطنی دنیا کا مشاہدہ کرنے والے……یہ لوگ creative ھوتے ھیں یہ لوگ مصور…شاعر…..ادیب….دانشور …..سائینس دان …. رائیٹر……….. گھر………لائیبریری.. ….اور لیبارٹری ……میں بند ھو کر………. آنے……..والے زمانوں ……کا انقلاب….لا رھے ھوتے ھیں… ……انہیں شاید اہنے شہر کی گلیوں اور کوچوں کا بھی مکمل علم نہیں ھوتا …..لیکن یہ کائینات کے خفیہ رازوں سے پردے ھٹا رھے ھوتے ھیں کئی سائینسدان.. …..اپنے وقت کے جاہل معاشروں کی نگاھوں میں راستے سے بھٹکانے والے…..اور گنہگار قرار دیکر …..مار دئے گیئے ….اور وہ اپنا سچ دنیا کے حوالے کرکے دنیا سے رخصت ھو گیئے

نمبر 2 …extroversive ….یعنی بیروں بین گھر …………لائیب …..اور لیبارٹریوں سے باھر رھنے والے 95 فیصد سے زیادہ لوگ …….اس کیٹاگری میں آتے ھیں جنکو عقل….علم……قانون…..اصول……ضابطے……. . نمبر ا والے لوگ دیتے ھیں ان پر یہ نمبر 2 والے لوگ عمل کرتے ھیں ….مثال کے طور پر علامہ اقبال نمبر ا کیٹاگری میں ایک بہت بڑا تخلیق کار تھا …..اس نے پاکستان کا خواب دکھایا اور قائد آعظم نمبر 2 میں رھنے والا ایک زیرک اور پریکٹیکل آدمی…………تھا…..اس نے انگریز اور ھندووں کے آھنی پنجوں سے ………….پاکستان کو نکال کر ایک سائیڈ پر کر دیا …
یہی دو بندے ھیں جو …….جب ملکر دیانت داری سے اپنا اہنا کام کرتے ھیں …تو دنیا میں ……انقلابی تبدیلیوں کا باعث بنتے ھیں …… یہ دونوں اپنی اپنی فطری domain نہیں چھوڑ سکتے ………….. جس نے آرٹ….سائینس….فلسفہ…… نیئے ضابطے……..قو ا نین ……..علم وفن……..تخلیق کرنا ھے وہ اپنی……………ڈومین……… چھوڑ کر کسی ……دوسرے کی ڈومین میں نہیں گھس سکتا
زیادہ تعلیم والا طبقہ……….ڈاکٹر……..انجینئیر ……پی ایچ ڈی لیول کے استاد ……اے سی…………ڈی سی.. ..اور ڈی ایم جی…….گروپ ………والے کچھ دیر کے لیئے ھی سہی پہلی ڈومین میں کئی سال زندگی گزار نے کے بعد ھی علم اور vision کے ایک خاص لیول پر پہنچتے ھیں اور پھر اپنی نیچرل ڈومین………………..میں چلے جاتے ھیں دونوں کیٹگری کے لوگ اپنی اپنی جگہ پر بہت ضروری اور خوبصورت لوگ ھیں………….ان دونوں میں ………سے …….کوئی ایک بھی ……….مس ھو …تو دنیا کا نظام ……رک ……..جائیگا……….کسی ایک ڈومین میں پیدا ھونا ایک تقدیری فعل ھے…بندے کا اس میں کوئی کمال نہیں عامر ھاشمی بہت پڑھا لکھا دوست ھے…..ایک پیار کرنے والا بندہ ھے….. اور بقول ڈاکٹر ھاشمی………اس نے ون ملیئن کا سوال کیا ھے…میرے پیارے دوستو …..! یہ ٹھیک ھے کہ ایک وقتی ضرورت کے تحت مجھے آی ڈی او اور ڈی سی او میانوالی کو پامسٹری اور علم الا عداد کے حوالے سے ملنا پڑا….اور کامیابی بھی ھوئی.. ……لیکن میں نے تو ساتھ ساتھ یہ اعتراف بھی جاری رکھا……کہ مجھے کم از کم اس وقت ان دونوں علوم میں کوئی مہارت نہیں تھی…….اور بس یہ ایک اتفاق ھے کہ کامیابی ھوئی…. اس سے کیسے یہ بات ثابت ھوتی ………………….کہ میں ایک دانشور ھوں….تو پھر میں عیسےا خیل جیسے پسماندہ شہر کے لیئے کیوں کچھ نہ کر سکا …….
بلکہ حقیقت تو یہ ھے کہ میں بالکل کسی قابل نہیں ھوں

میرے دوست آپ ویسے ھی بہت دور چلے گیئے….اور ………..اگر میں نے اپنی پوسٹوں سے یہی نتیجہ حاصل کرنا تھا تو پھر مجھے بہت افسوس ھے ……..میں نے اپنا اور آپ سب کا ٹائیم ضایع کیا……

اللہ حافظ مخلص نا چیز عبدالقیوم خان

عیسےا خیل دور تے نئی..بات سے بات .16

معزز دوستو …یو ٹیوب پر لکھیں Qayyum Khan Show اور 34 منٹس کا پروگرام دیکھیں اور اپنے کمنٹس سے آگاہ کریں ………یہ پروگرام اسلام آباد میں کوک چینل ٹی وی پر 2011 میں ریلیز ھوا…….جب کہ میں علم الا عداد میں مکمل طور پر میچور نہیں ھوا تھا….پاکستان کے معروضی حالا ت جو بھی ھیں سب کے سامنے ھیں ….. بچہ پیدا ھوتا ھے تو دیکھا جاتا ھے ک یہ بچہ جن لوگوں کے گھروں میں پیدا ھوا ھے…..انکا اپنا تعلیمی بیک گراونڈ کیا ھے….ان پڑھ…..مڈل …میٹرک پاس …. ایف اے….بی اے……یا ھائی…فائی تعلیم یافتہ پھر بچے کی سکولنگ بھی…….اسکے خاندانی تعلیمی …اور معاشی پس منظر کے مطابق ھوتی ھے….پھر سرکاری سکولوں کی ……..تعلیمی اور اخلاقی حالت دیکھ لیں …..دس..پندرہ…..بیس ….چالیس کنال کے سکولوں کے اندر پچیس…..تیس ….چالیس…..پچاس اور اسی ھزار تنخواہ لینے والے اساتذہ جنکی تعلیم بی اے بی ایڈ …….

ایم اے ایم ایڈ…..بی ایس سی ….ایم ایس سی تک ھوتی ھے لیکن تعلیمی نتیجہ …………بہت بھیانک پچھلے کم از کم 60 سالوں تک ….چیک اینڈ بیلینس انتہائی شرم ناک ……نتائیج کا مکمل انحصار …….نقل مافیا پر ………کیا اساتذہ کیا والدین……اور کیا پورا معاشرہ…….نقل مافیا کے آگے ….لیٹا ھوا ھوتا ھے…. اللہ کے واسطے میرے بچے کو نقل مرواو …………………………….اور وہ حکمران جنکے بچے لندن…..امریکہ…….کینیڈا…..آسٹریلیا……….پڑھ رھے ھوتے ھیں جب اپنی غریب عوام کے بچوں کی تعلیم کا سوال آتا ھے تو وہ کہتے ھیں………….کونسی تعلیم ؟
وہ پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.8 اور 2.00 فیصد رکھ کر سائیڈ پر ھو جاتے ھیں ……اور بجٹ ماھرین بڑے اعتماد کے ساتھ کہتے ھیں کہ یہ ایک non-productive بجٹ ھے……یعنی ………………………..غیر پیداواری بجٹ ھے یہ اس بچے کی مصیبتیں ھیں جو پیدا ھو چکا ھے….اسطرح……..98 فیصد بچے سرکاری سکولوں میں چلے جاتے ھیں……. .جہاں ھر استاد کی بیک پر ایک سیاسی پنڈت بیٹھا ھوتا ھے…………..جو سکول کے سینکڑوں بچوں کا مستقبل …….قربان کرنے ……..اور استاد کو بچانے پر کمر بستہ رھتا ھے……
یہ ببلی خان کابندہ ھے…………….یہ شادی خیلوں کا …یہ روکھڑی کا……………سرکاری سکول کا استاد صرف سیاسی سپورٹ تک محدود نہیں رھتا …….اس نے سکول کے اندر بھی پریشر گروپس بنائے ھوتے ھیں……
2009 سے پہلے ایک اور …………..مصیبت …….سپر ڈان بھی ھر اس ٹیچر کا تحفظ کرتا تھا…..جو ڈان صاحب کو اپنا پیر و مرشد مانے…………………….اس ٹیچر کو کھلی اجازت تھی……….پیرئیڈ پر جائے یا نہ جائے…. آجکل وہ ریٹائر ھے………..اور بیمار ھے….یہ سب ان بچوں کی وہ مصیبتیں ھیں………………اور ………..تھیں جو بچوں کے پیدا ھونے سے پہلے …………………….انکے انتظار میں رھتی تھیں ….سکولوں کے تمام نتائج …………………….نقل مافیا…………کا کمال ھوتا ھے….یہ ………پیشہ ور استادوں کا……………….ایک مضبوط گروہ ھوتا ھے.جنکو ھیڈماسٹر ………….ھر سال امتحانوں پر جانے سے نہیں روک سکتا ……انہوں نے ھیڈناسٹر کی کوئی ایسی  رگ……. …….دبائی ھوتی ھے……..اور……انکے بورڈ کے اھل کاروں ساتھ پکے ……….لنک ھوتے ھیں……وہ انہیں …….بھی …. .. ھڈی ڈالتے رھتے ھیں اسکا ایک ھی مطلب ھے……کہ یہاں اس ملک میں ……تعلیمی نتائیج ……………….میں سب سے بڑا factor بچے کی پڑھائی نہیں. …………..بلکہ نقل مافیا کی مہربانی ھے………..اور اس نقل مافیا کو………………..استاد……….والد………………..اور پورا معاشرہ سلیوٹ ………….پیش کرتا ھے.نتیجہ بالکل ……………سب ا چھے …………..کی رپورٹ دیتا ھے……اور وہ اساتدہ ( سب اساتذہ نہیں.. ……کچھ بہت تھوڑے اساتذہ حق حلال کی روزی کماتے ھیں ….. ) جنہوں نے سارا سال عیاشی کی ھوتی ھے…………….اچھا نتیجہ آنے پر سرگوشیاں کرتے ھیں ………………………اس سال اللہ نے بڑی مہربانی کی…………………….بڑی نقل چلی ……..!

شرمناک بات یہ ھے ………اس سارے مکروہ کھیل میں والدین بھی ملے ھویئے ھیں بچہ میٹرک تک پہنچتے پہنچتے………..کتابوں سے ڈرنے لگ جاتا ھے……………..کتابیں اسے……….کاٹنے……کو دوڑتی ھیں پھر وہ کسی ادارے میں……………اسی سیاسی پنڈت کی مدد سے ……….چپڑاسی لگ جاتا ھے ……………….اور ساری زندگی ایک مفلوج………………..مفلسی …اور….غلامی کی زندگی گزادتا ھے…….اور کہتا ھے جو اللہ نے مقدر لکھا تھا مل گیا ھے ………وہ یہ کبھی نہیں سوچ سکتا
کہ اس مقدر کو لکھنے والے……..اسی زمین پر کچھ لوگ ھیں جن میں اسکا………………………..اپنا………….ابا ……بھی شامل ھے…….. اللہ حافظ…………………….مخلص نا چیز عبدالقیوم خان

عیسےا خیل دور تے نئی..بات سے بات.17

پرائیویٹ سکولوں کا مسلہ …..بہت پیچیدہ ھے……کوئی بھی سکول اونر….مالک سکول کے آغاز ھی میں اپنی زاتی عمارت نہیں بنا سکتا…. اور عام رھائیشی گھر …..کبھی بھی 8 ….7….6….5…. کمروں کے نہیں ھو سکتے ….جن میں مکان کرائے …..پر لے کر سکول کا آغاز کیا جا سکے……جسکا نتیجہ یہ ھے کہ……اکثر سکول چار ….یا پانچ کمروں کے مکان میں شروع کیا جاتا ھے….
اور اسکے سوا کوئی چارہ نہیں رھتا ….چاھے سکول اونر کے پاس کتنا اچھا تعلیمی منصوبہ کیوں نہ ھو…. اسے ایک ناکافی مکان میں سکول کو چلانا پڑتا ھے……..جو کہ اکثر اوقات بارہ مرلے….چودہ مرلے کا ……مکان بھی ھو سکتا اب یہ لازمی طور پر ایک ایسی ……..تکلیف ….ھوتی ھے

جسکا سکول اونر کے پاس کوئی حل نہیں ھوتا…….وہ صرف ذھنی تناو اور……دباو کا ……سارا سال شکار رھتا ھے…. کر کچھ بھی نہیں سکتا…دوسرا………….المیہ یہ ھوتا ھے …..کہ جو ٹیچر بی اے بی ایڈ…….ایم اے…..بی ایڈ ھو گی…..وہ زیادہ دیر تک

پرائیویٹ سکول میں نوکری نہیں کرتی… جیسے ھی اسے پکی………پینشن ایبل……….سرکاری نوکری……ملتی ھے وہ پرائیویٹ سکول ………کو …..فوری طور پر چھوڑ دیتی ھے اور بالکل …….وہ ٹھیک کرتی ھے………وہ چار ….پانچ ھزار سے جمپ……..لگا کر پندرہ ھزار ……اور بارہ مرلے سے دس کنال کے سکول میں ………کھلا سانس کیوں نہ لے ……

کوئی وجہ ؟؟؟

نتیجہ یہ نکلتا ھے کہ………..ھر qualified ٹیچر سرکاری سکول میں ……اور disqualified ٹیچر …..پکی…..پکی……پرائیویٹ سکول میں….وھاں سرکاری سکول میں جاکر وہ کچھ دن سنجیدہ رھتی ھے پھر اسے ساری سمجھ لگ جاتی ھے………کہ زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں………..بس گزارہ کرو……آرام سے رھو کوئی………………پہاڑ ………….اوپر نہیں گر رھا…….جب اس ٹیچر کو چار پانچ سال ……..آرام پسند زندگی میں گزر جاتے ھیں…….پھر وہ عادی مجرم بن جاتی ھے اور پھر وہ بھی……………نقل مافیا……….کو …اپنا ایمان…..اپنا سکھ……….اور اپنی ترقی کا اصل …..محور……سمجھنے لگتی ھے …..اور اسے ……جائن کر لیتی ھے

پرائیویٹ سکول تو………..کسی کی ذاتی دکان ھوتی ھے اگر سکول اونر…….حقیقت پسند ھے……..اسے پتہ ھے کہ اگر اس بات کی مشہوری نہ ھو سکی……کہ میرے سکول کی پڑھائی بہت اچھی ھے……تو میری تعداد ھر گز ……….نہیں بڑھے گی اور …….بالا خر میرا سکول فیل ھو جائے گا….تو وہ ٹیچر کو ٹریننگ بھی خود دلوائے گا………….اس کو نکما بھی نہیں بیٹھنے دیگا…….اور بچوں کی کاپیاں…….تحریری کام بھی خود چیک کریگا اور مختلف وقفوں سے طلبا کے مختلف ٹیسٹ لینے کا اھتمام بھی خود کریگا……….اور اسطرح لوگوں پر یہ بات کبھی نہ کبھی تو .. ظاھر ھو ……جائے گی کہ…………..ھم اپنے بچے اگر فلاں سرکاری سکول سے نکال کر فلاں پرائیویٹ سکول میں داخل کر دیں تو بچے لائیق ھو جائیں گے.. ..اگر کسی پرائیویٹ سکول میں واقعی پڑھائی ھو رھی ھے تو یہ ………………………سیدھا سیدھا ایک معجزہ ھو گا ..

اور یہ معجزے ممکن بھی بیں ……اور بہت تھوڑے پرائیویٹ سکولوں میں واقعی پڑھا ئی ھو بھی رھی ھے….لیکن المیہ یہ ھے………….90 فیصد پرئیویٹ سکولز بھی ھزاروں روپیئے فیس لینے کے باوجو د بھی حقیقت پسندی کے راستے پر نہیں ھوتے ……..اور نقل مافیا …………..کو اپنے لیئے راہ نجات سمجھتے ھیں ………….. اور پتہ اس وقت چلتا ھے جب بچہ کسی اور سکول میں

داخلہ ٹیسٹ دینے جاتا ھے…….کہ نمبر تو 80 فیصد سے زیادہ ھوتے ھیں لیکن وہ اپنے شہر کا نام بھی نہیں لکھ سکتا بچے کو ایسی تعلیم کیسے دی جا ئے کہ وہ ذھنی طور پر حقیقی معنوں میں grow کرے ……..اس پر دنیا بھر کےتعلیمی ماھرین نے پچھلے کئی برسوں سے بہت کام کیا ھے

علامہ اقبال پاس استانی……………………کے بس کا روگ نہیں

…………..کہ اسے اس معیار پر لا سکے ……. یہ صرف اور صرف سکول اونر کا اپنا کمال ھو سکتا ھے جو گائیڈ کرے اور اگر سکول اونر خود بھی اللہ کے فضل و کرم سے ایف اے یا بی اے علامہ اقبال ھے………….تو پرائیویٹ سکول کا اللہ ھی حافظ ھے اس سکول کی survival سیدھی سیدھی …….نقل مافیا کے ھاتھ میں……………………..رہ جاتی ھے پیسہ اور نقل مافیا……………………. ھماری نسلوں کے حقیقی قاتل ھیں…… اور اس کے پیچھے ……….ایک ھی کرشمہ ھوتا ھے کہ 90 فیصد استاد اور استانی…………………… سکولوں میں فارغ بیٹھ ….کر…………………گھر واپس آ جاتے ھیں سکول کے ساتھ …………..انکی صرف ایک ھی دل چسپی ھوتی ھے………………………………………….ایک بہت بڑی ……..تنخواہ !

اللہ حافظ مخلص نا چیز عبدالقیوم خان

عیسےا خیل دور تے نئی.بات سے بات .18

معزز دوستو ….آج پھر ایک مباحثہ ……انسان کو انسانئیت کی معراج پر لانے کیلئے کونسی ایکدو…….یا تین …….یا زیادہ ….چیزیں ضروری ھیں<
مثال کے طور پر …..

نمبر -1 تعلیم

نمبر-2 غم …صدمے… مصیبتیں

نمبر-3 غربت

نمبر -4 دولت

نمبر -5 شہرت

نمبر -6 معاشرہ

نمبر -7 محبت

نمبر-8 بے وفائی

نمبر – 9 اسلام

آپکا مخلص نا چیز عبدالقیوم خان

عیسےا خیل دور تے نئی..بات سے بات.19

معزز دوستو…..آپ نے ماشاءاللہ انسانئیت کی معراج تک پہنچنے کے لیئے ….کن کن helping factors کی ضرورت ھوتی ھے.
……میں ….بہت سرگرمی کے ساتھ شرکت کی اور یوٹیوب پر Qayyum khan Show لکھ کر پروگرام کو صرف ایک دوست نے دیکھا اور 34 منٹ کے پروگرام کو انجائے کیا…میں یہ سمجھنے سے قاصر ھوں اس ویڈیو کو کیوں نہیں دیکھا گیا ….مجھے اس سے کوئی مسلہ نہیں …ھاں اگر موڈ بن جائے تو ضرور دیکھ لینابڑی دلچسپ debate رھی …..دو بندوں نے حیران کر دیا …انہوں نے تعلیم سے لیکر اسلام تک ….ھر چیز کو پیچھے چھوڑ دیا…. اور انسانیئت کیا ھوتی ھے اس پر بہت کھل کے بولے…. ….یعنی جب بندہ انسانئیت کی معراج پر پہنچ جاتا ھے….تو کونسے فرائیض سر انجام دیتا ھے ….
مثال کے طور پر حقوق العباد ادا کرتا ھے ….اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتا ھے ….تکبر نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ….
وہ انسانئیت کی معراج تک پہنچتا کیسے ھے… ؟ انہوں نے یہ نہیں بتایا….ایک دوست نے سب سے جدا بات کی…..کہ اسلام ….تعلیم ( غیر رسمی تعلیم ….بندہ سکولوں کالجوں میں کتابوں سے رسمی تعلیم حاصل کرتا ھے ……….اور اپنی زندگی کے تجربات سے ……معاشرے سے…..غم اور تکلیفوں سے……بھی ھر لمحہ سیکھتا ھے…….اسے غیر رسمی تعلیم کہتے ھیں ) اس نے کہا ……اسلام…..تعلیم رسمی اور غیر رسمی….غم صدمے…………………..اور محبت انسانئیت کی معراج تک پہنچا سکتے ھیں…یہ ایک مزے دار بحث تھی…..مجھے اس سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا …….اور ابھی بہت سے دوستوں نے اس میں حصہ لینا ھے.

بہرحال گرم جوشی دکھانے کا بے حد شکریہ……. !آج پھر ایک بہت مزے دار مباحثہ ھے

دوستو …….ھم اس ملک کی ستر سالہ ریاستی زندگی میں مسلسل ……یہ بات دیکھ رھے ھیں …..کہ معاشرے کے اندر رھتے ھوتے ……..ھم…………کسی بندے پر……دوستوں پر ………..حتی ا کہ اپنے خونی رشتوں پر اعتبار ……..نہیں کر سکتے ………بدگمانی…….شک……اور بداعتمادی کا……………. زھر پورے معاشرے میں پھیلا ھوا ھے…..ھماری ایک دوسرے کے ساتھ ھر قسم کی ڈیلنگ……….میں ڈر اور خوف ……کی فضا موجود رھتی ھے…… آپ مختصر طور پر اسکو ……….معاشرتی بگاڑ………کہہ لیں …..اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ ھمارے کونسے ایسے اعمال…..ھیں ایک………دو…..تین …..یا زیادہ…….. جنہوں نے اس معاشرتی بگاڑ کو پیدا کیا ھوا ھے …….اور اگر وہ اعمال ٹھیک ھو جائیں تو یہ معاشرتی بگاڑ ………مکمل طور ھٹ سکتا ھے………..مثال کے طور پر

نمبر – 1 ھر کام میں دو نمبر رویہ

نمبر -2 غیبت

نمبر-3 پیسے کی دوڑ

نمبر -4 منافقت

نمبر -5 خود نمائی کا شوق

نمبر- 6 حرام کی کمائی

نمبر.-7 جنسی بے راہ روی

نمبر..8 جھوٹ

نمبر-..9 -شراب …کباب کی محفلیں

نمبر -10 حسد

اللہ حافظ مخلص ناچیز عبداقیوم خان

عیسےا خیل دور تے نئی.بات سے بات 19

معزز دوستو….معاشرتی بگاڑ کیوں ھوتا ھے …اس پوسٹ پر

ابھی صرف چار پانچ دوستوں نے حصہ لیا ھے ….آپ جانتےکہ میرے دوستوں کی لسٹ میں بہت زیادہ ذھین….فطین….اور انتہائی پڑھے لکھے بندے موجود ھیں اور ھر debate کو کم از کم دو تین دن تو ملنے چاھئیں …….تاکہ debate کے باریک پہلووں تک پہنچا جا سکے …..اس لیئے بات سے بات ..19 کو اسی جگہ پر stay دیتے ھی اور اگر ابھی وہ قابل بندے …..جنہوں نے ابھی تک debate میں حصہ ……..نہیں لیا……ان کے نام لینا شروع کروں….تو آپ مان جائیں گے کہ واقعی یہ debate تو ابھی بالکل ادھوری ھے ماہ رمضان ھے ….مصروفئیت کا شیڈول اور طرح کا ھو سکتا ھے…..ھم انکی participation کو بھلا کس طرح ignore کر سکتے ھیں….اللہ حافظ آپکا مخلص ناچیز عبدالقیوم خان…

عیسےا خیل دور تے نئی.بات سے بات C/19

پوسٹ نمبر C/ 19 قائم رھے گی…ماہ رمضان کے شیڈول کی وجہ سے…..اور بعض دوسری وجوھات کی بنا پر …….ان پوسٹوں کے ……major readers……جو کہ پوسٹوں پر ھمیشہ ….. بہت طویل…..خوبصورت …..اور تجزیاتی کمنٹس کرتے رھے ھیں……..انکو ignore کرکے آگے نہیں بڑھا جا سکتا پہرحال عامر ھاشمی نے بہت خوبصورت کمنٹس کی شکل میں بہت طویل تجزیہ کیا ھے …. بہت شکریہاسی طرح ڈاکٹر ظفر ھاشمی….سید غضنفر ……محمد نواز ملک…..شاہد اشرف کلیار……انجمن تحفظ شہریان عیسےا خیل

ابو بکر خان…احمد دین صاحب…..یوسف گورایہ ……ضیغم عباس …. ان سب دوستوں نے پہلی شفٹ میں حصہ لیا

یقینی طور پر انکی دلچسپیاں پوسٹوں کے ساتھ ماہ رمضان

کے مشکل شیڈول کے با وجود متاثر نہیں ھوئیں…..

ھمارے وہ دوست جنہوں نے اپنے ………..رنگا رنگ کمنٹس سے پوسٹوں کو چار چاند لگائے رکھے ……….

ان میں………ڈاکٹر ظفر کمال…..فاروق عادل….کریم خان ….

مظہر اقبال ملک………معین خان Moin khan …

عارف خان……نعیم خان……لطیف خان نیازی…..جاوید خان ھیڈ ماسٹر ترگ شریف….

ملک رفیع اللہ جمیل ……سعد رسول صاحب ڈی ای او بکھر

ھمایوں گل شاد ……محمد شعیب…….عزیز اللہ خان سلطان خیل…..

حفیظ ارشد ھاشمی…. محمد ریاض خان اے ای او کمر مشانی…..

عطاءالرحمن ا ……رفیع اللہ خان روکھڑی…….

مسعود احمد خان ترگ شریف ….عبدالرزاق …..نعمان خان ..

عبدالرشید …..احمد جمال خان…… اور گل فراز خان نیا زی

اور قاصر خان کے علاوہ بیسیوں مہربان جنہوں نے کسی

بھی وجہ سے ابھی تک debate میں حصہ نہیں لیا

یہ topic ……….کہ ھم ایک بہت بڑے معاشرتی بگاڑ کا

شکار کیوں ھیں …..اس کی بنیا دی جڑیں کہاں جا کے ملتی ھیں …….بہت اھمئیت کا حامل ھے….اسے ادھورا نہیں چھوڑا جا سکتا….

ھم انتظار کر سکتے ھیں……..اور اگر ھمارے دوست اس وجہ

سے اس میں حصہ لینے سے گھبراہ رھے ھیں کہ یہ ایک مشکل ڈیبیٹ ھے تو پھر ان میں سے چند بندے select

کرکے اس پر بحث کریں گے……..

مجھے امید ھے کہ آپ سب دوست میری اس arguement سے مطمعن ھو سکے ھونگے…….

اللہ حافظ مخلص نا چیز عبدالقیوم خان

عیسےا خیل دور تے نئی.بات سے بات ..19/D

معزز دوستو…..چند دوستوں کی تجاویز

کے مطابق ….اس سلسلے کو ….عید الفطر کے بعد تک ….ملتوی کر دیا جائے …

اس لیئے اگر سب بھی اسی تجویز کے ساتھ اتفاق کریں تو
پھر عید کے چھوتے روز ……….کو ملتے ھیں

اللہ حافظ ناچیز عبدالقیوم خان

عیسے ا خیل دور تے نئی.عید مبارک

معزدوستو……آپ سب کو اپنے دل کی اتھاہ گہرایوں سے …..

مورخہ 26 جون 2017 بروز سوموار………………عیدالفطر…..

……بہت بہت مبارکھو……مجھے امید ھے ماہ رمضان کے با برکت …..اور پر نور

مہینے سے ……آپ نے تمام روحانی……..دینی …دنیاوی

فائیدے حاصل کیئے ھونگے…..کائینا ت کے خالق کو راضی کیا ھو گا……اور ھاں …….
عید کی خوشیوں میں…….اگر توفیق ھو تو…….اپنے ارد گرد

کسی محروم……بے کس……لاچار. …..مجبور…..تک آپکا ھاتھ

اگر پہنچ سکے……تو دیر نہ کرنا……رزق کو بانٹا جا ئے . …تو

یہ اور بڑھ جاتا ھے……

اجازت….اپنی دعاوں میں اس ناچیز کو یاد رکھنا….

اللہ حافظ… مخلص نا چیز عبدالقیوم خان

عیسے ا خیل دور تے نئی
تمام فرینڈز کو عید الا ضحی ا بہت بہت مبارک ھو….امید ھے کہ آج آپ اس سنت ابراھیمی کو ادا کرنے میں مصروف ھونگے………مجھے قوی امید ھے کہ وہ لوگ جو یہ سعادت حاصل کرنے سے محروم رھے…..آپ ان لوگوں کا بہت خیال رکھیں گے…..اور انکو ان خوشیوں میں ضرور شریک کریں گے….
میں اپنی غیر حاضری پر بہت بہت معذرت خواہ ھوں….امید کرتا ھوں…..کہ جلد یہ حاضری ھوگی…..بس دعا کریں…
اجازت…..اللہ حافظ……. مخلص نا چیز عبداقیوم خانآ جاو ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا

آجاو پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ھے
خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک
اس شہر میں سب کچھ ھے بس اک تیری کمی ھےبے خیالی میں یونہی بس اک ارادہ کر لیا

اور اپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کرلیا
جانتے تھے دونوں ھم اس کو نبھا سکتے نہیں
اس نے بھی وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیاچشمہ بیراج …ھوٹل گرین لیگون پر…..عبدالقیوم خان پیارے دوستوں……کے ساتھ

.ایک …..بہت….یادگار…..دن..تم جو ھوتے تو بات اور ھوتی

اب کے بارش تو صرف پانی ھےپہلے پہل اس سے میری گفتگو تھی بس

پھر یوں ھوا کہ وہ میرے لہجے میں آگیا

کیا گری ھاتھوں سے میرے بے خیالی میں کتاب
پھول پتے تتلیاں اور مور کے کچھ پر گرے

جب جب تارا ٹوٹا ھو گا اس نے مجھکو سوچا ھو گا
قطرہ قطرہ شبنم چمکے چاند اکیلا رویا ھوگا

آسمان پر اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹنے والے پرندوں کی طرف دیکھتے ھویئے…… گہری سوچ میں….
بس اک منظر ھے آنکھوں میں ٹھہرا ھوا
وہ گلی…….گھر تیرا.. …….اور…….تم

1988 میں ببلی خان…….مڈل سکول میں میرے ایک فنکشن پر بچے کو انعام دیتے ھوئے…….
صرف 35 سال کی عمر میں…
یاد ماضی جب بھی آئی دیر تک
پھول اور خوشبو گلے ملتے رھے

اور آخری دھلیز تنہائی کی تھی
سر جھکا کر ھم جہاں روتے رھے

اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ھر درد بھلا دیں
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیئے ھیں

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیئے ھیں

1 thought on “ISA KHEL DAUR TA NAI – PART 7”

  1. بہت خوب استاد جی اللہ تعالٰی ایسی منفرد
    انداز تحریر کو مزید تقویت عطا فرمائے

Your words for Mianwali and Mianwalians

%d bloggers like this: