Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 3

باب سوم

محمد حامد سراج بطور ناول نگار: فکری و فنی جائزہ

ناول کی تعریف

 

محمد حامد  سراج کے ناول   کا تجزیہ کرنے سے پہلے ناول  کی تعریف اور اس کے اجزائے ترکیبی پہ ایک نظر ضروری ہے۔

ناول اردو ادب کی ایک بہت خوبصورت اور دیگر اصناف سے قدرے نئی صنف ادب ہے۔یہ ایک فرضی نثری قصہ یا کہانی ہوتی ہے جس میں حقیقی زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ اگر اس میں فرد اور سماج انسان کے جزبات تسلسل اور ہنر مندی کے ساتھ پیش کیے گے ہوں۔ صنف ادب ميں اس کي تعريف بنيادی زندگی کے حقائق بيا ن کرنا ہے۔ ناول ی  اگر جامع تعريف کی جائے تو وہ کچھ يوں ہو گی ”ناول ايک نثری  قصہ ہے جس ميں پوری ايک زندگی بيا ن کی جاتی ہے۔ در اصل ناول وہ صنف ہے جس میں حقیقی زندگی کی گونا گوں جزیات کوکبھی اسرار کے قالب میں کبھی تاریخ کے قالب میں کبھی رزم کے قالب میں کبھی سیاحت یا پھر نفسیات کے قالب میں ڈھالا جاتا رہا “ناول کے عناصر ترکیبی ميں کہاني پلاٹ، کردار ، مکالمے ، اسلوب اور موضوع و غيرہ شامل ہيں۔

ناول کی تعریف مختلف نقادوں کی روشنی میں ..

  .کلاویوز کے مطابق …
ناول اُس زمانے کی حقیقی زندگی اور طور طریقوں کی تصویر ہوتی ہے جس میں کہ وہ لکھا گیا ہو   
  .جے ۔جے ۔پرسٹلے کے مطابق ۔۔۔
 ناول بیانیہ نثر ہے جس میں خیالی کرداروں اور واقعات سے سروکار ہوتا ہے  
  ..اندراۓ مراۓ کا خیال ہے ..
”حقیقی ناول کبھی رومانی نہیں ہو سکتا اس کے لئیے حقائق کو سہارا اور حقیقی سوسائٹی کا پس منظر ضروری ہے “
 .ای۔ایم ۔فارسٹر کا کہنا ھے۔۔
”ناول ایک خاص طوالت کا نثری قصّہ ہے “
پروفیسر بیکر نے ناول کے لیے چار شرطیں لازم کردیں ۔قصہ ہو ، نثر میں ہو، زندگی کی تصویر ہو اور اس میں ربط  ہو یک رنگی ہو۔ یعنی یہ قصہ صرف نثر میں لکھا نہ گیا ہو بلکہ حقیقت پر مبنی ہواور کسی خاص مقصد یا نقط نظر کو بھی پیش کر تا ہو ۔

در اصل ناول وہ صنف ہے جس میں حقیقی زندگی کی گوناگوں جزئیات کو کبھی اسرار کے قالب میں کبھی تاریخ کے قالب میں کبھی رزم کے قالب میں کبھی سیاحت یا پھر نفسیات کے قالب میں ڈھالا جاتا رہا لیکن ان تمام شکلوں میں جو چیزیں مشترک تھیں وہ قصہ، پلاٹ کر دار، مکالمہ، مناظر فطرت، زمان و مکاں نظریۂ حیات اور اسلوب بیان کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

            اردو میں ناول کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔یہ صنف ، ادب برائے زند گی کی ترجمانی کرتی ہے۔ ناول نویس اپنی خواہش کے مطابق کوئی نئی دنیا نہیں بنا تا ، وہ ہماری ہی دنیا  سے بحث کرتا ہے۔ جس میں دکھ ہو سکھ ہو ، جنگ بھی ہو، صلح بھی ہو ا ور پیدایش بھی ، زمیندار بھی ہو اور مزدور بھی ، بادشاہ بھی ہو اور غلام بھی۔ ناول نگار صرف تخیل میں پرواز نہیں کرتا ہے۔ اس کے قصے کی بنیاد روز مرہ کی زندگی ہوتی ہے۔بیسویں صدی میں جو ناول تخلیق ہوئے ان ناولوں کو تخلیق کر نے کے پیچھے ناول نگاروں کا کیا رجحان رہا یا کیا نظریات رہے۔ جدو جہد آزادی کا اردو ناول پہ کیا اثر رہا ، ادب لطیف نے ناول کو کس طرح متاثر کیا ترقی پسند تحریک نے اردو ناول کو کس حد تک متاثر کیا ، حلقہ ارباب ذوق کے تحت لکھے گئے ناول کس قسم کے ہیں ، تقسیم ہند کے المیے نے اردو ناول کو کس حد تک متاثر کیا ، علامت نگاری اور تجریدیت نے اردو ناول کو کس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور جدیدیت و مابعد جدیدیت نے اردو ناول پر کون سے ان مٹ نقوش چھوڑے، ان تمام رجحانات اور نظریات کی روشنی میں ہم اردو کے ناولوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

برصغیر میں اردو ناول کا آغاز ڈپٹی نذیر احمد سے ہوتا ہے۔ اردو  کا پہلا ناول ’مراۃ العروس‘ لکھا گیا۔  جس اسلوبِ بیان اور پلاٹ کو ڈپٹی نذیر احمد نے  استعما ل کیا ہے  اس پر ہمارے نقاد اسے مکمل ناول قرار نہیں دیتے۔ پروفیسر وقار عظیم لکھتے ہیں:

’’ نذیر احمد جے جن قصوں کو متفقہ طور پر ناول کا نام دیا گیا ہے ان میں فن کے وہ لوازم موجود نہیں  جن کا مطالبہ جدید ناول سے  کیا جاتا ہے۔ ‘‘ 

ڈپٹی نذیر احمد کے بعد پنڈت رتن ناتھ سرشار کا ناول ’فسانۂ آزاد‘ اور عبدلحلیم شرر کا ناول ’فردوس بریں‘  قابلِ ذکر ہیں ۔ ڈاکٹر وقار عظیم  تینوں ناول نگاروں کا تذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں۔ 

’’ نذیر احمد، سرشار اور شرر ہماری ناول نگاری کی تاریخ میں فنی روایت کے پیش رو ہیں ۔ ان تین ابتدائی ناول نگاروں نے اپنے ادراک کی دور بینی سے قصہ گوئی کی دُنیا میں ایک نئی ڈگر کا کھوج لگایا۔ اپنے فنی عمل کے ذریعے  سے اس ڈگر میں ایسی شمعیں جلائیں جنہوں نے ہر آنے والے کی راہ  روشن کی۔ ‘‘

ان تیں بڑے ناول نگاروں کے بعد، مرزا ہادی رسوا، راشد الخیری، اور پریم چند اہم نام ہیں جنہوں نے ناول کو سینچا۔

بیسویں صدی جہاں اپنے ساتھ بڑے انقلاب لائی وہاں پر ہی ایک باقاعدہ تحریک کی شکل میں ترقی پسند تحریک ۱۹۳۶ میں وجود میں آئی۔ اس تحریک نے ادب پہ گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔اس تحریک کے زیرِ اثر لکھنے والوں میں سجاد ظہیر، عزیر احمد، عصمت چغتائی اور کرشن چندر اہم نام ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد جتنے ناول لکھے گئے ان میں فسادات اور سماجی مسائل سے دوچار افراد کی مشکلات کو بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ناول نگاری کی تیسری جہت وہ ناول ہیں جن کے محرکات تقسیم ہند اور اس کے پیدا ہونے والے حالات تھے۔ احسان اکبر اس تیسرے رجحان کے بارے میں لکھتے ہیں۔

’’ تقسیم کے موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا۔ ان میں جمیلہ ہاشمی کا ’تلاش ِ بہاراں‘، قراۃالعین  حیدر کا  ’آگ کا دریا‘، عبد اللہ حسین کا ’اداس نسلیں ‘ اس موضوع کو چھوتے ہیں۔ خدیجہ مستور کا ناول ’آنگن‘ کا رویہ تاریخی  نہیں مگر اس کے باوجود ان کے ہاں تاریخ اور کہانی کے حقائق کا بڑی عمدگی سے ادغام ہوا ہے۔ ‘

ساٹھ کی دہائی میں  میں ترقی پسند تحریک پر پابندی اور مارشل لا دو ایسے عوامل تھے جن کی وجہ سے اردو ادب میں  مغربی افکار و نظریات کا اثر بھی پڑا۔ ناولوں میں جدید رویوں اور نئی تکنیکس کو مدنظر رکھ کر لکھا گیا۔ ان لکھنے والوں میں ممتاز مفتی،  انتظار حسین، انور سجاد اور انید ناگی کا نام اہم ہیں۔ اس کے علاوہ صدیق سالک، اکرام اللہ اور مستنصر حسین تارڑ نے بھی ناول کو نئی بلندیوں پہ پہنچایا۔ 

ناول کی روایت بہت وسیع ہے ۔ اکیسویں صدی کے اہم نام یہ ہیں۔ مرزا اطہر بیگ کا ’ غلام باغ‘، شمس الرحمٰن فاروقی کا ’کئی چاند تھے سرِ آسمان‘،  اور مشرف عالم ذوقی ۔  ڈاکٹر احسن فاروقی ناول نگاروں کے فن کے بارےمیں لکھتے ہیں:

’’ فلسفی بحث کرتا ہے لیکن ناول نگار میں فکر ایک با کمال تصویر میں بدل جاتی ہے۔ اوریہ مکمل تصویر ناول کو قائم و دائم رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ ‘‘ 

اردو ناول  کی اس روایت کے اجمالی جائزے کے بعد ہم   حامد سراج کے ناول کا جائزہ لیتے ہیں۔

آشوب گاہ

محبت کی داستان کی جزئیات  ہمیشہ ہی ایک سی رہی ہیں چاہے وہ کسی بھی  رنگ، نسل یا علاقے کے لوگ ہوں۔ بنیادی جذبات  و احساسات کا دھارا ایک ہی سمت میں بہتا ہو اور وہ محبوب کی ذات ہوتی ہے۔ ہجر ، وصل کا  خواہشمند ہوتا ہے اور وصل میں ہجر کی شدتوں کو یاد کر کے لذت کشید کی جاتی ہے۔ یہ ایک دائرہ ہے ۔  سوال بڑا سادہ لیکن تہہ در تہہ ہے کہ کیا ہر بار وصل خوشی کا باعث بنتا ہے !!!  یا ہجر اور وصل کی ’’وکھو وکھ دواں دیاں لذتاں نے‘‘  کے مصداق   اپنی اپنی چاشنی ہے۔ یہ کہانی بھی محبت ہی کے ریشم سے بُنی گئی ہے لیکن یہ ریشم ایسا سفاک واقع ہوا ہے کہ اپنے ہی خالق کا دم گھونٹ دیتا ہے۔  اس ناولٹ کہ دو مرکزی کردار ہیں جن کے گرد کہانی گھومتی ہے۔ خلجی اور خدیجہ!

دونوں کی محبت بچپن  سے  ہی ایک دوسرے کے لیے سوا ہوتی ہے اب جبکہ وہ یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں اور  شادی کر کے نئی زندگی بسانے کے خواب دیکھ رہے ہیں لیکن   کچھ انجانی الجھنیں ہیں جورکاوٹ تھیں۔  حامد سراج نے کہانی کے آغاز  سے ہی ایک سحر بھرنے کی سعی کی ہے مکالماتی اور بیانیہ طرزِ اسلوب سے کہانی آگے بڑھ رہی ہے۔ خلجی ، بیٹھا سوچ رہا ہے اور کہانی فلیش بیک میں چلتی ہے۔  

’’ بچپن سے لے کر لمحۂ موجود تک زندگی کا ہر منظر اس کے سامنے پھیلا تھا۔ وہ بچپن خلجی کے ساتھ کھیلی تھی۔ ان وہ خود مٹکتار تھی۔ اس نے یونیورسٹی میں زندگی کو کھلی آنکھوں سے پرکھا تھا۔ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں چاہتی تھی کہ ایک  فیصلہ کر لے۔ پھوپھی کے گھر سے یونیورسٹی تک برس ہی کتنے تھے لیکن ان برسوں میں شعور کی اس منزل تک پہنچ گئی کہ پلٹ کر دیکھتی تو بچپن کے سارے لمحے اسے خواب لگتے تھے۔ خلجی اس کی زندگی کا مرکز تھا۔ وہ مرکز سے کت کر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ ‘‘ 

ہجر خلجی کی بہت اندر پیوست ہو چکا ہے۔  آخری ملاقات  کی کسک سینے میں سلگتی ہے۔ یادیں امڈ آتی ہیں۔ زندگی ایک ’پزل‘ کی طرح ہے جس کے حل ہونے پہ موت   بغلگیر ہوتی ہے۔    ناآسودہ وصل کی خواہش میں انسان  ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے۔  وہ خود کو کسی رومانوی کہانی کا ایک کردار سمجھتا ہے  وہ اسے جیتا ہے۔ خلجی خودکلامی کرتا ہے۔:

’’ میں خلجی ہوں ۔ میرے بالوں مین تیری ملاقات کی آخری دھوپ کی حدت ہے۔ میں اب بھی تیری تلاش میں ہوں ۔ تیری ،یری کہانی کوئی نہیں ہے وہی پرانی کہانی ہے جو ہر سال، ہر صدی میں اپنی آپ کو دہراتی ہے محبت بوسیدہ موضوع نہیں ہے جسے میں طاقِ نسیاں پر دھروں۔ میں تجھے تلاش کر لوں گا۔ جب پہلی بار تونے میرے من میں اپنی یاد کو کاشت کیا تھا ۔ تو نے سبز رنگ کی قمیض ، نارنجی شلوار اور نارنجی پھولوں والا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ خلجی اس رات سو نہیں سکا تھا۔ وہ ابھی تک جاگ رہا ہے۔ ہر دور میں جب جدائی کی تپتی ریت پر یاد کے پاؤں جلتے ہیں تو خلجی جاگتے ہیں۔ ‘‘

کہانی فلیش بیک میں آگے بڑھتی ہے دونوں کی محبت جدائی کے دہانے پہ کھڑی ہے خدیجہ اپنے پھوپھی کے گھر جانے کو ارادے باندھ رہی ہے اور خلجی  جدائی کے ڈر سے ہی آدھا ہوا جاتا ہے۔ اور خدیجہ کو خط پتر لکھنے کی تلقین کرتا ہے ۔    کہانی کا  اگلا سین شروع ہوا چاہتا ہے خلجی ریلوے اسٹیشن کے تھانے کی دیوار کے ساتھ پڑے باسیدہ بینچ پر بیٹھا ہے ۔ جہاں  وہ اپنے ماضی کی گھتیاںسلجھا رہا ہے وہیں حال میں موجود معاشرتی برائیوں سے صرفِ نظر نہیں کرتا ۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ کیسے تھانوں میں مجبور عورتوں کی عزتیں پامال کی جاتی ہے کیسے کسی کی گٹھڑی ، کسی اور کے حوالے کی جاتی ہے  ۔۔۔

خلجی روزانہ ریلوے اسٹیشن پہ  جاتا تاکہ  جس روز وہ جاہے  اسے جدائی کا شاق نہ گزرے۔  وہ شدت احساس میں یہ بھی چاہتا ہے کہ  وہ کبھی اپنے پھوپھی کے گھر نا  جائے۔  اسے اس بات کا اندیشہ ہے کہ دوری محبت کو کم کر دیتی ہے۔  وقت بڑا سفاک ہے وہ مصروفیات کی گرد ڈال دیتا ہے۔  اور محبت تو اپنے آپ میں ایک مکمل عمل ہے۔  جس کے لیے یکسوئی درکار ہوتی ہے اور خدیجہ کو اپنی پھوپھی کے جا کر یہ میسر نہیں ہو گی۔

’’ محبت میں کوئی اور کام نہیں کرنا چاہیے۔۔۔صرف اور صرف یاد کرنا چاہیے۔سونا جاگنا، اُٹھنا بیٹھنا، چونکنا سب یاد ہونا چاہیے۔۔۔ بس میں نہیں رہ سکتا خدیجہ کہ بنا۔۔۔سچ مچ مر گیا تو۔۔۔؟ کیا وہ روئے گی۔۔۔؟ کون روتا ہے۔۔۔؟ وقت آنسو مگل جاتا ہے۔ خدیجہ  میری محبت ہے ، کمزوری، عادت یا ضرورت ہے۔۔۔ نہیں نہیں صرف محبت ہے۔ یہ کیا پاگل پن  ہے کہ روزانہ ریلوے اسٹیشن جانا۔۔۔ یہ زندگی بھی ایک ڈرامہ ہے لیکن یہ سالوں چلتا ہے۔ انسان خود ہی کردار اور خود ہی تماشائی ۔۔۔!‘‘ 

ریلوے اسٹیشن سے خدیجہ کے گھر کا رستہ اس  کے لاشعور میں گھر کر چکا تھا وہ سیدھا  اس کے گھر پہنچ جاتا ہے۔  

کہانی  ایک بار پھر یونیورسٹی کی بھینی یادوں  کے جنگل میں جا نکلتی ہے۔  خدیجہ اپنے کلاس فیلو ریحان کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہے کہ اتنے میں خلجی کا فون آتا ہے ، خلجی کو ریحان کی موجودگی کا احساس ہوتا  ہے احساس رقابت جا گتا ہے اور وہ فون بند کر دیتا ہے۔ اسی دوران ریحان خدیجہ سے شادی کی خواہش کا اظہار کرتا ہے جسے خدیجہ  بڑے سلیقے سے ٹال دیتی ہے ۔ مصنف نے یونیورسٹی کے ماحول اور خواب دیکھتی آنکھوں اور مسکراہٹوں کا کچھ یوں بیان کیا ہے۔:

’’ زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں ، رنگینی ، حسن اور گرم جوشی کے ساتھ اس کے درمیان موجود تھی۔ ابھی وہ عمر کے اس حصے میں  تھے جب دکھ اور غم جسم کو کاٹتے ہیں نہ  روح میں شگاف ڈالتے ہیں۔ ‘‘

ریحان جو تھوڑی دیر قبل خدیجہ پہ فریفتہ تھا اب  کچھ دیر بعد حنا کی زلفوں کا اسیر ہونے کو تھا۔ یہاں مصنف نے مرد کی فطرت کو بھی بیان کیا ہے کہ  وہ ہر چہرے میں اپنا چہرہ تلاش کرتا ہے ۔ وہ بہت سے بت تراشتا ہے اور ہر ایک کو پوجتا ہے جبکہ عورت ’فقط ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھا‘‘ کی دلیل پہ کاربند رہتی ہے۔ ریحان ، خدیجہ کو چھوڑنے حنا کے گھر جاتا ہے جہاں خلجی بھی موجود ہے ۔ ریحان اچانک حنا کو دیکھتا ہے اور دل ہار بیٹھتا ہے۔  

’’حنا کو معلوم نہیں تھا کہ ایک اجنبی جوان جس جے بال پریشان تھے وہ کافی پیتے پیتے اس کے عکس ساتھ لے گیا ہے۔ ‘‘

گفتگو کے دوران حنا کا باپ ریحان سے محوِ گفتگو ہے ، ریحان کی باہر  جانے کی تمنا اسے کچھ غیر حقیقی معلوم ہوتی ہے۔  وہ اسے سمجھاتا ہے۔

’’ یہ مٹی ہماری ہے۔ یہاں جو درخت ہیں، ہودے اور زبان وہ تمہیں باہر نہیں ملے گی۔ میں بہت سے ملکوں میں گیا، نگر نگر کی سیر کی لیکن مجھے کہیں سکون نہیںملا۔ مین اس نتیجے پر پہنچا انسان کو اپنے وطن میں زیست کو سانس کرنا چاہیے۔ ‘‘

مصنف کے ہاں مٹی کی محبت اور وطن پرستی کا تصور بہت گہرا ہے اس لیے  وہ اس کا ذکر کرنا نہیں بھولتا۔

ناول کی کہانی  پھر اسٹیشن کے منظر کی طرف لوٹ جاتی ہے جہاں خلجی محوِ انتظار ہے۔ اور خدیجہ ٹرین پہ سوار ہونے کے لیے وہاں پہنچتی ہے  جبکہ خلجی کو وہاں ایک پُر اسرار شخص ملتا ہے جس باتیں عجیب ہیں جس کو قبروں کے کتبے پڑھنے اور ان کی تحریریں محفوظ کرنے کا شوق ہے۔ ان لوگوں کے کتبے بھی جو ابھی زندہ ہیں جیسے کہ خدیجہ! خلجی پریشانی کے عالم میں  یہ سب سُن رہا ہے۔  وہ خلجی کو اس کے دل کا احوال بھی بتا دیتا ہے کہ تم یہاں اپنی محبوبہ کو رخصت کرنے آئے ہو۔ مصنف نے یہاں اس کردار کے ذریعے خلجی کو مستقبل کے اندیشوں سے واقفیت دلائی ہے۔ اصل میں وہ شخص خلجی کا ہی پرتُو ہے۔ وہ کہتا ہے:

’’ میں جادوگر  نہیں ۔۔۔میری آنکھوں میں بھی وہ بیٹھی ہے، نہیں نکلتی۔ میرے آنسوؤں میں اُچھلتی، ناچتی اور خوش ہوتی ہے، کہیں نہیں جاتی۔ تیس برس سے میں انتظار کر رہا ہوں شاید وہ کسی ٹرین  سے اُترے۔۔۔ایسے ہی ایک روز میں اُسے سوار کرانے آیا تھا۔۔۔ پھر نہیں پلٹی۔۔۔ میں تیس برس سے یہاں موجود ہوں۔ میں پلیٹ فارم ہوں  ہر گاڑی مجھ پر رُکتی ہے۔ چکی جاتی ہے اگر ممکن ہو سکے تو اُسے کہو وہ تمہاری آنکھوں  سے چلی جائے۔۔۔یہ آنکھوں میں ایسی فصل کاشت کر جاتی ہیں۔ جو ہر موسم میں ہری رہتی ہیں۔ ٹرین گزر لینے دو۔۔۔ آج رات گارڈ روم میں آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھ کر میں تمہیں اپنی کہانی سناؤں گا۔ میری کہانی میری طرح زندہ ہے۔ میں مر جاؤں گا کہانی نہیں مرے گی۔۔۔ ‘‘

یہ شخص خلجی کے دل میں یہ بات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسے اپنی آنکھوں میں رہنے کی اجازت

مت دو۔۔۔وہ جا کر بھی تمہارے اندر کہیں کسی کتبے کی صورت موجود رہے گی۔  خدیجہ ٹرین پہ سوار ہو کر وہاں سے چلی جاتی ہے۔ اور وہ  ساحر شخص خلجی سے گویا ہوتا ہے:

’’ وہ ٹرین میں سوار نہیں ہوئی۔ تمہاری آنکھوں میں رہ گئی ہے۔۔۔ ایسے ہی ہوتا ہے یہ صرف آنکھوں میں نہیں پورے وجود اور روح میں اپنا گھر تعمیر کرتی ہیں اور نقل مکانی کرنا بھول جاتی ہیں۔۔۔ گاڑی چلی گئی۔۔۔تم بھی اس گاڑی میں سوار تھے۔ یہاں تم نہیں تمہارا عکس رہ گیا ہے۔ ‘‘ 

یہاں مصنف محبت کے جذبے کا بیان کرتا ہے کہ یہ وہ احساس ہے  جس کو فنا نہیں ہے۔ جسے موت نہیں آتی۔۔

وہ ساحر شخص خلجی سے مزید باتیں کرتا ہے قبروں کی کتبوں کی۔۔۔ ناولٹ کا یہ کردار معاشرے میں موجود برائیوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے اور اس کے عبرت ناک انجام سے بھی آگاہ کرتا ہے۔  وہ خلجی سے کہتا ہے کہ اسے یہ میراث سونپ کر جائے گا۔ اور ایک کتبہ  کی تفصیل بتاتا ہے۔:

’’ یہ دیکھو۔۔۔یہ تحصیلدار  ہمارا جدِ امجد تھا۔۔۔ یہ زمینیں ادھر ادھر پھینک دینے کا ماہر تھا۔ کہتا تھا۔۔۔رشوت مجھے راس آگئی ہے۔۔۔میرے خون میں رچ گئی ہے۔کتے کی موت مرا، کہنے والے کہتے ہیں جب یہ مرا تھا اس کی رال بہہ رہی تھی۔۔۔یہ ہے اس کا اُجڑا ہوا کتبہ۔۔۔کل رات موم بتی کی روشنی میں یہ کتبہ میں نے تلاش کیا۔۔۔‘‘ 

وہ شخص خلجی کو کتبے سنا تا جاتا ہے اور  خبر دیتا ہے کہ تمہاری خدیجہ واپس نہیں آئے کی اور تم میری طرح  اسی پلیٹ فارم پر دفن ہو جاؤ گے۔

خدیجہ ٹرین میں سوار ہو جاتی ہے اب کہانی خدیجہ کی زبان بولنے لگتی ہے۔ اسے خلجی سے دور جانے کا غم بھی ہے اور دوبارہ ملنے کی چاہت بھی۔۔۔وہ اپنے کو سمجھاتی بھی اور انجانے خوف بھی پالتی ہے الغرض، ناولٹ اپنی تصوراتی  زمانوں سے گزرتا ہے۔ ناولت کا پورا پلاٹ تصوارتی مکالموں کے گرد گھومتا ہے جن کے پیچھے ماضی کی ملاقاتوں کا عکس موجود ہے۔ اب وہ محبت کے زویے سے گزرت شہر کو دیکھتی ہے۔:

’’ پلیٹ  فارم کے آخری سرے کو ٹرین نے چھوڑا تو خدیجہ نے معدوم ہوتے بورڈ  پر اپنے شہر کا نام پڑھنا چاہا۔۔۔

وہاں خلجی لکھا ہوا تھا۔۔۔

کاش کوئی لائل پور کی طرح میرے شہر کا نام بھی ’’خلجی‘‘ رکھ دے۔‘‘

’’وہ تانگے میں بیٹھی  تو تھوڑا سمت کر تاکہ ساتھ بیٹھنے میں تکلیف نہ ہو۔۔۔ تھوڑی دور تک رستہ پختہ تھا پھر وہ کچے راستے پر ہو لیے، تانگہ ہچکولے کھانے لگا۔ دور تک پھیلے منظروں میں اُسے یوں لگا ہر طرف خلجی موجود ہے۔ کبھی وہ تانگے کے ساتھ بھاگنے لگتا ، کسی لمحے وہ پائیدان پر اٹک کر اُس کا ہاتھ تھام لیتا۔ ‘‘ 

یہاں مصنف نے محبت کا وہی تصور دیا ہے جو ہمارے یہاں ہر محبت کرنے والا اس کا تجربہ کرتا ہے۔ محب کو ہر شے میں محبوب ہی نظر آتا ہے۔ ہر آواز محبوب کی ہوتی ہے ،ہر منظر میں محبوب دکھائی دیتا ہے۔ خدیجہ بھی انہیں کیفیات سے گزرتی ہے۔

ناول  میں خلجی کو جو کرادر پلیٹ فارم پر ملتا ہے وہ ایک علامتی کردار ہے ۔ جو محبت کے مابعدالطبعیاتی تصورات سے روشناس کرواتا ہے۔ وہ محبت اور موت کو ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ شاید اس لیے کہ محبت بھی وصل کی  چاہت رکھتی ہے اور موت تو بذاتِ خود  وصل ہے حقیقی وصال۔۔۔وہ خلجی کو گاؤں کے عمر جہاں داد خان اور نور بی بی کی محبت کی کہانی  سناتا  ہے۔ جن کی شادی نہیں ہو سکی  لیکن انہوں نے اپنا مقبرہ بنوالیا اور پھر نور بی بی کو  کسی نے جھوٹی خبر دی کہ عمر فوت ہو گیا ہے وہ یہ صدمہ نہ سہہ سکی اور وہیں ڈھیر ہو گئی۔  اس کی موت کی حقیقی خبر جب عمر کو ملی  تو بھی یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا اور جہانِ  فانی سے کوچ کر گیا۔  دونو  ں کو ایک مقبرے میں دفن  کیا گیا۔ ان کی قبریں محبت کرنے والوں کے لیے منتیں ماننے  کی جگہ بن گئیں۔  خلجی خود کلامی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’عشاق کی نسل مجھ سے  چلے گی‘‘ یہاں مصنف یہ بھی باور کروانے  کی کوشش کرتا ہے کہ یہ زمانہ حقیقی محبت کا زمانہ نہیں ہے۔ یہاں سب سطحی ہے کہیں گہرائی نہیں ہے۔

خلجی اب گھر آ چکا ہے کالج سے اسے وحشت ہوتی ہے وہ ڈاک خانے جا کر خدیجہ کا بھیجا ہوا خط وصول کرتا ہے۔ مصنف نے جو منظر کشی کی ہے وہ قاری کو اسی  منظر میں لے جاتی ہے۔۔۔ خط، ریلوے اسٹیشن۔۔۔خلجی۔۔ وہ خط پڑھتا ہے۔ بلکہ  مراسلہ کی بجائے مکالمہ ہوتا ہے۔ خدیجہ خلجی سے کہتی ہے۔:

’’ خلجی جب محبت صرف محبت ہو ، ضرورت اور وقت گزاری کا مشغلہ نہ  ہو تو وجود اس آگ میں تپ کر کندن ہو جاتا ہے۔ روح عشق کا سراغ پالیتی ہے۔  عشق  سب کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ یہ جس کا نصیب ہو جائے وہ کوئلہ ہو کر ہیرا بن   جاتا ہے۔ ‘‘ 

سامری کا کردار  اور خلجی اور خدیجہ کی بے پایاں  محبت ، مصنف کے اپنے تصور محبت کی عکاس ہے۔ وہ بھی اشفاق احمد کی طرح  محبت کو ایک ایسی قوت کے طور پر دکھا رہا ہے جو انسانی سرشت میں تبدیلی کا بنیادی سبب بن سکتی ہے۔

سامری نے خلجی سے کہا تھا اب تمہاری ساری عمر اسٹیشن ، پلیٹ فارم پر ہی گزرے گی۔ خلجی کے بابِ رزق کھلا بھی تو اسٹیشن ماسٹر کی صورت۔۔۔  وہ جب  اپنے پہاڑی اسٹیشن پر جانے کے لیے ریلوے اسٹیشن پہنچتا ہے تو  اچانک اس کی ملاقات خدیجہ سے ہوتی ہے وہ اسے اپنی نوکری کا بتاتا ہے۔  یہ ملاقات جہاں اسے مسرور کرتی ہے وہاں دوبارہ بچھڑنے پر ملول بھی کرتی ہے۔   وہ اپنے اسٹیشن پر پہنچتا ہے جہاں سابقہ اسٹیشن ماسٹر عملے سے اس کا تعارف کرواتا ہے اور سانپوں سے بچنے کی  احتیاطی تدابیر بھی بتاتا ہے۔

خدیجہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل  ہونے کے بعد اس نے مزید تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کی ۔ وہ خلجی کو فون کر کے ملنے کے لیے بلاتی ہے ۔ دونوں کی ملاقات   محبت کی لطافت سے لبالب تھی۔  خلجی واپس اپنے اسٹیشن پہ آجاتا ہے۔ یہاں بھی وہ خدیجہ کی یاد سے پہلو تہی نہیں کر پاتا۔ ہر لمحہ اسی کے خیال میں جیے جاتا ہے ۔ ناولٹ میں جہاں خلجی اور خدیجہ کی محبت کی کہانی رواں دواں ہے وہیں پہ کچھ ایسے نظریات اور فلسفے بھی مصنف اپنے قاری تک پہنچانا چاہتا ہے جس کا بنیادی تعلق ہماری  ثقافت  اور مشرقی روایات سے ہے اس میں ایک روایت عورت کی محبت میں یکتائی کا تصور ہے۔ :

’’ عورت اپنا  پہلا لمس پہلی محبت کبھی نہیں بھولتی۔ وہ اندھی بھی ہو جائے تو اپنی محبت کو سانس کی خوشبو سے پہچان لیتی ہے۔ ‘‘

مصنف چونکہ ایک دیہاتی پسِ منظر کا شخص ہے اس لیے وہ دیہی روایات سے جڑی ہر اس شے کا تذکرہ کرتا ہے جو اس کے دل کے قریب ہے۔  خلجی پہاڑوں کی پگڈنڈیوں  سے ہوتا ہوا بازوروں میں سے گزرتا ہے اور  چشمِ تصور میں خدیجہ سے  ہم کلام ہے۔:

’’ یہ کھرے لوگ ہیں ۔ ان کے پاس وقت ہے یہ تھڑے پر بیٹھ کر چائے پی سکتے ہین، تانگے کا پہیہ بنا سکتے ہیں۔ وقت ان کی گرفت سے ابھی نہیں نکلا۔ یہ تڑکے جاگنے اور جلسے سو جانے والے خالص لوگ ہیں ۔ یہاں بازار سرِ شام بند ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ رات تاروں کی چھاؤں میں چوپال میں بیٹھ کت باتیں کرتے ہین۔ ایک دوسرے کے لیے ان کے پاس وقت ہے، محبت ہے ، مٹھاس ہے۔ خدیجہ یہاں ابھی ٹانگہ ہے۔۔۔ شہروں میں تانگہ مر گیا، معدوم ہو گیا، گھوڑے جنگلوں میں نکل گئے ہیں۔ انسان جنگلوں سے نکل کے گھوڑوں کی جگہ آگئے ہیں۔ سارا دن کاموں میں جُتے رہتے ہیں۔ ان کی باگیں اب عالمی منڈی میں بکتی ہیں۔ زمین پر انسان معدوم ہونے والے ہیں۔ جنگل راج پھیل رہا ہے۔۔۔یہاں بابا  تانگے کا پہیہ بناتا ہے ۔ اس کی قدر کرو۔ یہ انسان ہے یہ زندگی کی علامت ہے۔ اس کے ہاتھ چومو۔۔۔‘‘

خلجی اپنی ڈیوٹی پہ ہے اور اسے ایک شخص کی خبر ملتی ہے جو بندھا ہوا پٹری  پہ بے سدھ پڑا ہے۔  مصنف اب اس بڈھے شخص کی کہانی کے ذریعے معاشرے کی ایک اور برائی کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ جب خاوند  معاش کی سلسلے میں گھر سے دور جاتا ہے تو ایک بے وفا ، بے شرم بیوی اس کا فائدہ کیسے اٹھاتی ہے اور پتا لگنے پہ سُسر کو پٹری پہ پھنکوا دیتی ہے اور گھر آنے پر شوہر کو مار دیتی ہے اور ہماری پولیس چند روپوں کے عوض  اس عورت اور اس کے آشنا کو فرار کروا دیتی ہے۔   اس کے ساتھ ساتھ ناولٹ اب علامتی پیرائے میں عالمی سامراج کے ظلم و ستم اور انسانوں کے درندہ بننے کی کہانی بیان کر رہا ہے۔ خلجی واپس اپنے علاقے میں چھٹی پر آتا ہے  تو اسٹیشن پہ موجود تمام چہرے بدل چکے ہیں۔ پرانے چہرے مر چکے ہیں۔ خلجی وہاں کے سانپوں کا ذکر کرتا  ہوا یہاں کے انسان نما سانپوں کا ذکر بھی کرتا ہے۔ اس اثنا میں  سے وہی سامری کردار پھر سے ملتا ہے جو کتبے اکٹھے کرتا تھا۔ اس بار وہ اسے انسانی تذلیل اور روئے زمین سے انسانیت کی موت کی کہانی سناتا ہے۔وہ اسے بتاتا ہے کہ کیسے کمزور ملک ، طاقتور ممالک کی خوراک بن رہے ہیں۔مصنف کا انداز علامتی ہے وہ ظلم کی داستان کچھ یوں بیان کرتا ہے۔ :

’’ کچھ کمزور  ممالک  سے دھڑا دھڑ لاشیں آرہی ہیں۔ کام اتنا بڑھ گیا کہ روزانہ کی ڈیڑھ دو سو سے چار سو لاشیں معمول  ہو گئی ہیں ان سب کو اس کمرے میں ترتیب سے رکھنا ان کا الگ گروپ ترتیب دینا!‘‘

کون لوگ ہیں یہ ۔۔۔؟‘‘

’’انسان ہیں۔۔۔‘‘

حیوان انسان کو ماررہا ہے۔ یہ زمین کی خود روحیوانی پیداوار ہے، یہ انسان ہر گز نہیں۔ یہ اپنے دماغ۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔ بلکہ یہ حیوانی دماغ لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ یہ اس زمین پر اپنی حکمرانی چاہتے ہیں حکمرانی کے لیے انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ انسانوں کو چن چن کر قتل کرایا جائے۔۔۔‘‘

پھر وہ  ایک خوشخبری سناتا ہے کہ تمہاری خدیجہ مقابلے کے امتحان میں اول آئی ہے۔ وہ گھر پہنچتا ہے تو ماں اسے خوب پیار دیتی ہے۔ گاؤں میں مہمانو ں کی آمد پر ایک خاص انداز سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہاں مصنف نے پھر گھر کا جو  سماں بیان کیا ہے اس میں گاؤں کی سوندھی سوندھی مہک آتی ہے۔ وہی چارپائیاں  اور کیس۔۔۔مٹی کا فرش اور پانی کا چھڑکاؤ، مصنف کا تعلق چونکہ دیہات سے ہے اس لیے کہانی میں بھی اس کا اظہار ملتا ہے۔

’’ صحن میں چارپائیاں  ترتیب سے بچھی تھیں، ان پر سفید چاندنیاں ، پائینتی  چار خانے والے کھڈی کے کھیس، تکیے جن پر ہاتھ سے کڑھائی کی گئی تھی، پانی کا چھڑکاؤ، گھڑونچی پر پانی کے چھ گھڑے جن کے پیندوں سے رستا قطرہ قطرہ پانی، چارپائیوں کے درمیان ایک بڑی میز جس پر سفید چادر قرینے سے بچھی ہوئی ۔۔۔

خدیجہ نے کھانے پر آنا تھا۔‘‘

    خلجی اور خدیجہ کی گفتگو میں ایک پہلو قابلِ غور ہے جب وہ کہتی ہے کہ ’’ کوئی راستہ نہیں مل رہا کہ ہم ایک ہو جائیں‘‘ یہ تمام صورتحال بڑی مبہم ہے کہانی کا ایک اہم نقطہ بغیر کسی واضح دلیل کے ہے۔ خلجی ایک اچھی پوسٹ پہ ہے ، خدیجہ بھی افسر اور صاحبِ فیصلہ ہے۔ تو پھر کیوں شادی نہیں ہو پارہی۔۔۔!!!   خلجی اسے کسی اور سے شادی کامشورہ دیتا ہے جبکہ خدیجہ اس سے کہتی ہے۔:

’’شادی کر لوں گی نا۔۔۔ رو سیکس کا ایک ٹکڑا حاصل کر لوں گی باقی ننانوے ٹکڑے تو تم نے لے رکھے ہیں۔ اس ایک ٹکرے کو میں نے کیا کرنا ہے۔۔۔ چھوڑو اس  موضوع کو۔۔۔ بہت سال گزار چکی ہوں۔ چند اور جمع کر لو۔۔۔ وہ بھی گزار جاؤں گی لیکن تیری خدیجہ کو کسی کا نہیں ہونے دوں گی۔ اب تو مضبوط فیصلے کرنے کی عادی ہو گئی ہوں ۔۔۔‘‘

اس کہانی کو ایک دوسری نظر سے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مصنف   کا مقصد ہی محبت میں ہجر کے واقعات کا  تحلیلِ نفسی  کرنا ہو۔  خلجی اور خدیجہ محبت کے شدید ترین احساس کے باوجود بھی ایک دوسرے کے نہیں ہو پارہے۔  ناولٹ کی فضا کو ہجر کے جبر  کے بیان سے سوگوار بنایا گیا ہے ۔

خلجی خدیجہ سے ملنے اس کے گھر جاتا ہے۔ باتیں ہوتی ہیں۔۔۔ بچپن کی۔۔۔محبت کی۔۔۔ مصنف نے یہاں بھی اپنا نظریہ محبت خدیجہ کی زبان سے  برملا بیان کیا ہے۔ کہ محبت ٹین ایجرز کا کھیل نہیں ہے۔ اصل محبت ایک میچور ذہن کی پیدوار ہوتی ہے اور وہی اسے سنبھال سکتا ہے۔  وجہ اس کی یہ ہے کہ میچور عمر  کی محبت میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ مصنف نے آج کل کی محبت، بوائے فرینڈ گرل فرینڈ پہ بھی تنقید کی ہے۔  خدیجہ خلجی سے کہتی ہے۔:

’’ خلجی جنم دن پر کاڑد کت تبادلے، ویلنٹائن  کارڈ، ہوٹلوں میں کھانے، آوٹنگ، بانہوں میں بانہیں، فیشن کے نام پر کپڑوں سے چھلکتی جوانیاں ، مجھے محبت کے  نام سے نفرت ہو گئی۔ ‘‘ 

دونوں کردارں کو یہ علم ہے کہ دائمی ہجر ان کا مقدر ہے اب وہ اس ہجر سے تکلیف سے لطف کشید کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔  :

’’ کبھی میری تلاش میں نکلو تو میں تمہیں کسی ریلوے  اسٹیشن پر ہی ملوں گا۔ ‘‘

میں بھی تو زندگی کی ٹرن مین بیٹھی موت کی منزل تک پہنچنے کی جلدی میں ہوں۔۔۔ٹرینوں کی کھڑکیوں میں مجھے مت کھوجا کرو۔۔۔ تکلیف ہوتی ہے مجھے۔۔۔ میں نے تمہیں صرف دکھ دیے ہیں۔۔۔ انتظار کی آگ میں پھینکا ہے تمہیں۔ خلجی میں تیری قصوروار ہوں ۔ میرا جی چاہتا ہے تجھے بانہوں میں چھپالوں ، اپنے ہونٹوں ے تیرے سارے درد چن لوں۔۔۔ اور کیا کیا۔۔۔ سوچتی ہوں، نہیں  بتا پاؤں گی حیا  آڑے آتی ہے۔۔۔ ہاں یہ یقین رکھنا خدیجہ تیری نہیں ہو سکی تو کسی کی بھی نہیں ہو گی۔۔۔‘‘

اب دوبارہ خلجی اپنے اسٹیشن پہ موجود ہے۔  جیسے کہ پہلے ذکر ہوا کہ مصنف کہانی کے ساتھ ساتھ جزئیات میں کچھ اور مقاصد کا حصول بھی چاہتا ہے جس کا اظہار کرنا نہیں بھولتا۔ جب قلی اسے صاب کہتا ہے تو وہ اسے  وہ انگریز کے جانے کے باوجود اس افسر شاہی نظام پہ دو حرف بھیجتا ہے۔ اسی دوران قلی اس کی توجہ  ٹرین  سے جڑے ان ناموں کی طرف مبذول کرواتا ہے جو سب انگریزی میں ہیں۔ٹوکن مین۔۔ واٹر مین۔۔۔وغیرہ۔۔۔ قصہ مختصر انگریز کی باقیات ابھی بھی موجود ہیں۔

کہانی آگے بڑھتی تو  خلجی کو ریحان اور  حنا کا خیال آتا ہے۔ یہاں مصنف پھر زندگی  کی بے ثباتی کے فلسفے کی گتھیاں سلجھانے میں لگا ہے۔ انسان تمام عمر اپنی تکمیل کا سفر کرتا ہے لیکن پھر بھی کچھ پڑاؤ ایسے ہوتے ہیں جو رہ جاتے ہیں ۔   اقبالؔ نے کہا تھا۔

سکون محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک  تغیر کو ہے زمانے میں

 ’’ یہ زندگی چلتی  ہے۔ لوگ اس میں ملتے ہیں۔ بچھڑ جاتے ہیں۔ ہنستے ہیں دکھ سہتے ہیں۔ مشقت اٹھاتے ہیں۔ گل محمد مٹی میں  سو جاتے ہیں۔ کتاب بند ہو جاتی ہے۔ نئی کتاب کے ورق  کھل جاتے ہیں  کسی انسان کو آج تک نہیں معلوم کہ اس کی کتابِ زیست میں کتنے ورق ہیں۔ وہ روز اگلا ورق الٹتا ہے۔ پچھلا بوسیدہ ہو جاتا ہےباقہ اوراق میں اس کے شب و روز کا جو اندراج ہے وہ اس سے بے خبر جیتا، ہنستا روتا اور دکھ اٹھاتا ہے۔صرف انسان۔انسان جو اشرف المخلوقات ہے۔

سکول کالج اور یونیورسٹی کے اوراق گم ہو جاتے ہیں۔

کبھی کہیں کوئی اچانک مل جائے تو خال و خد پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہنسی اور بے فکری کا زمانہ دفن ہو چکا ہوتا ہے۔

زندگی کی ’پزل‘ کے ٹکڑے نہیں ملتے۔ زندگی کیسے مکمل ہو۔ زندگی کہاں مکمل ہوتی ہے۔ زندگی کے ٹکڑے کٹ کر گم ہوتے رہتے ہیں اور انسان اپاہج ہو جاتا ہے۔ ‘‘

 خلجی ٹرین میں بیٹھا اپنی منزل کی جانب گامزن ہے کہ اتنے میں وہی پُر اسرار شخص  وہاں داخل ہوتا ہے۔  وہ اسے کہتا ہے کہ میرے ساتھ چلو اور ان لاشوں کو حساب لگاؤ جو اس خودکش دھماکوں اور گولہ باری کے نتیجے میں ہوئیں ہیں۔ پھر وہ اسے بتاتا ہے کہ مسلمانوں پہ جو قتل و غارت کا الزام لگتا وہ سراسر دروغ گوئی اور پروپیگنڈا ہے۔  وہ اسے تاریخ کے اوراق سے کچھ حقائق دکھاتا ہے۔   وہ آ ج سے تین سو سال پہلے اور اب کے زمانے کی خون ریزی کا موازنہ کرتے ہوئے طنز کے نشتر چلاتا ہے۔ دراصل وہ یہ سمجھنانے  کی کوشش میں ہے کہ مذہب کا اس درندگی سے کوئی تعلق نہیں۔

’’ سترہویں صدی سے پہلے زمانہ تاریک تھا کیوں کہ وہ مذہبی تھا اس تاریک  دور میں کل ۳۸ کروڑ لاگ قتل ہوئے جس میں مسلمانوں کے ہاتھوں ۴ لاکھ اور منگولوں کے ہاتھوں ۷ کروڑ انسان قتل ہوئے۔

مغرب کی روشن خیالی  کے تین سو سالہ تاریخ میں  جنگوں میں مرنے والوں کی تعداد ۲ ارب ہے ۔ اس میں مسلمانوں  کے ہاتھوں  مرنے والے انسان تعداد میں ۳ لاکھ ہیں۔ دو ارب انسانوں کو قتل کرنے والے مہذب  دہشت گرد بنیادی حقوق کے قائل تھے ، بنیادی حقوق اور بہیمیت ، سفاکی درندگی، بربریت متبادل اصلاحات ہیں۔۔۔!‘‘ 

خلجی اس دنیا کے کاروبار ہائے زندگی پر تنقید کرتا ہے کہ ہم  بطور انسان بارود کی فصل کاشت کر رہے ہیں اور سبزے کے خواہش مند ہیں۔ خون سے زمین لال ہوتی ہے سبز نہیں۔۔۔ خلجی اس بات پہ قائل ہے کہ دنیا میں جو بھی ترقی ہے وہ ترقی معکوس کے سوا کچھ بھی نہیں۔     ساحر ، خلجی کو خلا میں لے جاتا ہے اورا سے زمین کا نظارہ کرواتا ہے ، خلجی اپنی خدیجہ کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔ اس کے نزدیک خدیجہ، پھول کا، بانسری کا، پرندوں کا، ہواوں کا، نیلے پانیوں کا استعارہ ہے۔ابھی کچھ امید باقی ہے۔۔۔زمین مکمل سرخ نہیں ہوئی۔

ساحر اب خلجی کو وصیت کرتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد مجھے تم دفن کرنا اور میرا لکھا ہوا کتبہ اس پہ  لگانا پھر وہ اسے اپنی محبت کی داستان سناتا ہے۔   اس کی خدیجہ نے خودکشی کر لی تھی۔  ا س کے نزدیک  مرضی کے بغیر شادی ، خودکشی کا دوسرا نام  تھا۔  

سامرین ساحر اسے ایک  قلعہ میں لاشوں والے کمرے میں لے جاتا ہے جہاں ایک لاش ساحر کا گلا گھونٹ دیتی ہے اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔   اس کے کتبے کے الفاظ تھے۔ ’ وہ جو ساری عمر اپنی لاش ڈھوتے ڈھوتے ایک دن لاش میں ڈھل گیا‘۔ دراصل یہ ہم میں سے اکثر انسانوں کو المیہ ہے کہ وہ تمام عمر اپنی لاش کو اٹھائے پھرتے ہیں۔

خلجی اب ریٹائر ہونے والا ہے۔ وہ اسٹیشن پہ پہنچتا ہے تو اس  خطوط کا ایک پلندہ دیا جاتا ہے جو اس پتے پہ آتے رہے تھے۔ ان میں ایک خط خدیجہ کا ہے۔ یاد کے نشتر  ہڈیوں کا گودا تک چاٹ جاتے ہیں۔ خط میں خدیجہ اپنا احوال بیان کرتی ہے خلجی کی خیریت دریافت کرتی ہے  اور خلجی سے مخاطب ہو کر محبت کے بارے میں اپنا نظریہ بیان کرتی ہے۔

’’ تم نے گلزار کی فلم اجازت دیکھی ہے یہ میری پسندیدہ ترین فلم ہے۔

محبت کی جنوں خیزی اور محبت کا احترام فلم کا تھیم ہے اور گلزار نے تین میچور کرداروں  میں اس کہانی کو ڈھالا ہے کہ محبت بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔ یہ شدید سنجیدہ رویوں کا متقاضی ہے۔ بہرحال تمہاری رائے جو بھی ہو دیکھ کر بتاتا۔۔۔‘‘ 

ناول کے اختتام میں خلجی ، خدیجہ کے خطوط پڑھتا ہے ، خدیجہ سات سمندر پار دور جا چکی ہے اور خلجی اپنا کتبہ لکھے سرِ راہ بیٹھا ہے۔

’’وہ زمین نے تعلق توڑ چکا تھا۔۔۔ آنکھیں ویران، چہرہ اجنبی ہر گزرنے والے سے لا تعلق۔۔۔ بس اکڑوں بیٹھا۔۔۔

مسافر اس کے پاس سے گزرتے ہیں ، لمحے بھر کو رُک کر اُس کا کتبہ پڑھتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔۔۔

زمین ڈھونڈ رہے ہیں کہ دفن ہو جائیں

ہم اپنے نام کا کتبہ اُٹھائے پھرتے ہیں‘‘ 

ناول   اپنے اختتام کو پہنچتا ہے لیکن خدیجہ اور خلجی کے اس پُر سوز ہجر کی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں پاتی۔ بظاہر کوئی ایسی مجبوری بھی مانع نہیں جو ان کو شادی سے روکتی ہو۔

المختصر، اس ناول کی فضا انتہائی سوگوار ہے۔  پلاٹ ،  دو موضوعات  کا مجموعہ ہے ، محبت اور عالمی جنگ و جدل۔  مصنف جہاں محبت میں ہجر کی کیفیات کو بیان کرتا ہے وہیں عالمی سامراج کی تباہ کاریوں پہ بھی نوحہ کناں ہے۔  اس کہانی  کے تین مرکزی کردار ہیں۔ خلجی، خدیجہ اور ساحر۔۔۔ ساحر کا کردار ایک مبہم کردار ہے۔ جس سے قاری  اپنی توجہ کہانی پہ مرکوز نہیں کر پاتا۔ کرداروں کی بُنت نہ ہونے کے برابر ہے  جس سے ناول میں کہانی پن کی تشنگی باقی رہ جاتی ہے۔  ناول   میں جن مقامات کی سیر کرائی گئی ہے وہ مافوق الفطرت ہیں جس نے ناول ، داستان کے دائرے میں داخل ہوتا معلوم ہوتا ہے۔ مصنف کا اصلاحانہ انداز فکر ناول کی مکالموں میں واضح ہے۔  بقول  انجم پروین:

’’ فن اور تکنیک  دونوں اعتبار سے ’آشوب گاہ‘ ایک نیا تجربہ معلوم ہوتا ہے۔ محبت، اس کی تشنگی اورا س میں ملنے والے غموں کا اس قدر حقیقی اور موثر بیان کیا گیا ہے کہ ناول کا لفظ لفظ محبت کی خوشبو اور درد میں ڈوب جاتا ہے۔ایک نا معلوم کردار کی موجودگی اور اس سے متعلق بیان کردہ جزئیات قاری کے مطالعہ میں خلل اندازی کرتی ہیں جس سے ذہن مرکز سے بھٹک جاتا ہے۔ ‘‘

جیسا کہ کہا گیا کہ یہ ناول ایک نیا تجربہ ہے تو پھر بہتری کی گنجائش بھی باقی رہتی ہے۔  قیوم تنولی کی رائے کچھ یوں ہے۔

’’ آشوب گاہ، میں یک زمانی فلیش بیک کی تکنیک کثرت سے برتی گئی ہے۔ کچھ اس طرح کہ متعدد مقامات پر کرداری تصویر جامد اور کہانی بہ مشکل آگے بڑھتی محسوس ہوتی ہے۔ ناول مجموعی منظر نامے پر بظاہر دو مرکزی کرداروں خلجی اور خدیجہ کی باہمی گاڑھی رومانیت کی دھند چھائی ہے لیکن دیگر معاون  کرداروں  نے اس میں متنوع روزن بھی بنا رکھے ہیں  جن میں سے اور بہت سے موضوعات کی سرگوشیاں  بھی سنائی دیتی ہیں ۔ خاص طور پر کردار سامری رومانیت کے بیانیے کے مقابل تاریخیت کی گھمبیرتا اور پُر اسراریت کو بے نقاب کرتا ہے۔ درحقیقت  اسی کرادر کی موجودگی  سے قاری ناول کی مہارت اور ذہنی وسعت کے بارے بخوبی جان لیتا ہے کہ وہ کس قدر حساس ، باخبر اور بلند شعور کا مالک ہے۔ ‘‘  

مجموعی طور پہ  یہ ناول کے میدان میں ایک پختہ اور قابلِ ستائش کوشش ہے۔   فکری لحاظ سے میچور ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔لیکن   فنی لحاظ سے یہ حامد سراج  کی نمائندہ تخلیق نہیں ہے۔  

حوالہ جات باب سوم

۱۔وقار عظیم، ڈاکٹر، ’’داستان سے افسانے تک‘‘، اُردو  مرکز لاہور، ص۔ ۵۷

۲۔ ایضاً، ص۔ ۷۷

۳۔ احسان اکبر، ’’پاکستانی ناول۔ ہئیت رجحان اور امکان‘‘، مشمولہ ’پاکستانی ادب‘‘، جلد پنجم، متربین: رشید امجد؍ فاروق علی، راول پنڈی ، جنوری ۱۹۸۶ ۔ ص۔ ۸۱۲،۸۱۳

۴۔ احسن فاروقی، ڈاکٹر، ’’ناول کا فکری پہلو‘‘، مشمولہ ’’ادبی تخلیق اور ناول ‘‘، مکتبہ اسلوب ناظم آباد، کراچی ، ۱۹۶۳

 ۵۔حامد سراج ، محمد، آشوب گاہ، مثال پبلشرز، فیصل آباد، ۲۰۰۹، ص۔ ۱۰

۶۔ایضاً، ص۔۱۲

۷۔ ایضاً، ص۔۱۸

۸۔ ایضاً، ص۔۲۳

۹۔ ایضاً، ص۔۲۷

۱۰۔ ایضاً، ص۔۲۶

۱۱۔ ایضاً، ص۔۳۲

۱۲۔ ایضاً، ص۔۳۳

۱۳۔ ایضاً، ص۔۳۵

۱۴۔ ایضاً، ص۔۴۱

۱۵۔ ایضاً، ص۔۴۲

۱۶۔ ایضاً، ص۔۶۰

۱۷۔ ایضاً، ص۔۳۰

۱۸۔ ایضاً، ص۔۸۶

۱۹۔ ایضاً، ص۔۹۸

۲۰۔ ایضاً، ص۔۱۰۱

۲۱۔ ایضاً، ص۔۱۰۳

۲۲۔ ایضاً، ص۔۱۱۰

۲۳۔ ایضاً، ص۔۱۱۲

۲۴۔ ایضاً، ص۔۱۱۹

۲۵۔ ایضاً، ص۔۱۲۳

۲۶۔ ایضاً، ص۔۱۳۹

۲۷۔ ایضاً،ص۔ ۱۴۴

۲۸۔ سہ ماہی، آبشار ، ناول صدی نمبر، شمارہ نمبر ۴، مدیر ، سلیم فواد کندی، ص۔ ۳۱۱،۳۱۲

۲۹۔ حامد سراج، محمد، مجموعہ محمد حامد سراج، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، ۲۰۱۳ء، ص۔۳۴،۳۵

“Life and Works of Muhammad Hamid Siraj: The Fiction Genius of Mianwali”
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth” WRITERS & AUTHERS FROM MIANWALI

“Life and Works of Muhammad Hamid Siraj: The Fiction Genius of Mianwali”

 محمد حامد سراج   مٹی، روشنی، خاموشی اور فنا نہ ہونے والے لفظوں کا شہزادہ کچھ لوگ اس دنیا میں...
Read More
Voices from the Literary World: Reflections on Hamid Siraj
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Voices from the Literary World: Reflections on Hamid Siraj

محمد حامد سراج کے متعلق یہ آراء محض تاثرات نہیں بلکہ ایک عہد کے ادبی شعور کی گواہیاں ہیں۔ اُن...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 1
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 1

محمد حامد سراجؔ کی ادبی نثر (مقالہ ایم فل) عزیر قارئین! یہ مقالہ علی احمدؔ (ایف سی کالج (یونیورسٹی) لاہور) کی تحقیق...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 2
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 2

باب دوم محمد حامد سرا ج کے افسانوں کا فکر ی و فنی جائزہ محمد حامد سراج کے افسانوں کاموضوعاتی...
Read More
Muhammad Hamid Siraj — A Life in Pictures
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj — A Life in Pictures

محمد حامد سراج — تصویروں میں ایک پوری زندگی تصویری گیلری کا تعارفی پیراگراف یہ تصویری گیلری محمد حامد سراج...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 3
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 3

باب سوم محمد حامد سراج بطور ناول نگار: فکری و فنی جائزہ ناول کی تعریف   محمد حامد  سراج کے...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 4
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 4

باب چہارم محمد حامد سراج بطور خاکہ نگار: فکری و فنی جائزہ ’’میّا‘‘کا تجزئیاتی مطالعہ عورت اپنی اصل میں نہایت...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top