Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 5

باب پنجم

متفرقات

حامد سراج:فیس بُک اور تخلیقی نثر

ادیب ، شاعر، فنکار اور تخلیق کار  یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے فن کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ یہ اظہار کا کوئی بھی ذریعہ  استعمال کر رہے ہوں اُس میں تخلیق کی سوندھی خوشبو ضرور بھر دیتے ہیں۔  زمانے کے انداز بدلے گئے، اقبالؔ کہہ گئے تھے  ، نئے زمانے کی نئے تقاضے ہوتے  ہیں ۔ محمدحامد  سراج بھی اس بہتے زمانے کے ہمراہ اپنی اقدار کو ساتھ لیے رواں دواں رہے ۔  اس نے فیس بُک پہ  اپنی تخلیق کے موتی بکھیرے ہیں۔ وہ ہمیں نئی کتب  اور رسائل و جرائد کے تازہ شماروں کا تذکرہ  بھی کرتے دکھائی دیتا ہے اور جو اُس پہ بیت رہی ہے۔۔۔بیت چکی ہے  ۔۔۔گاہے گاہے اس کا ذکرِ شیریں بھی   کرتا چلا جاتا ہے۔  ان غیر مطبوعہ  مختصر تحریروں سے ہمیں حامد سراج کی شخصیت، اس کے دوستوں سے تعلقات اور ذوق و شوق کا بھی علم ہوتا ہے۔ چند ’’پوسٹس‘‘ ملاحظہ ہوں۔

ممتاز شیخ کے نام ایک  پیغام میں لکھتے ہیں:

۱۔  محبی ممتاز شیخ صاحب

السلام علیکم ۔۔۔۔۔

یہ کل کی بات لگتی ہے میں گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی میں چھٹی کا طالب علم تھا ۔ ہائی سکول کے سامنے ریلوے اسٹیشن ہے ۔ وہاں ریلوے بک سٹال پر نقوش ‘ فنون اور اوراق دستیاب تھے اور میرا شوق سوا تھا ۔ میرے کلکشن میں نقوش کی فائل مکمل ہے ۔ چند شمارے نہیں ہیں ۔ وہ بوسیدہ ہو گئے ہماری عمر ڈھل گئی ۔ “لوح” کا شمارہ اول خوب سے خوب تر تھا اسمیں کہیں کوئی کمی نہیں تھی ۔ پھر اتنا ضخیم پرچہ اس تسلسل سے شائع ہونے لگا کہ کوئی حیرت سی حیرت ہونے لگی اور معیار پر آپ نے سودا نہیں کیا ۔ اور اپنے جریدہ میں نئے تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی کر کے آپ نے اردو ادب کی زندہ روایت کو آگے بڑحایا ۔ یہ ایسا جریدہ نہیں کہ جسے دیکھ کر ایک طرف ڈال دیا جائے ۔ یہ مکمل وجود مانگتا ہے اور تکیہ کے ساتھ رہتا ہے ۔ آپ نے “لوح کا افسانہ” نمبر نکالا جسے اردو ادب کا قاری آج بھی تلاش کرتا پھر رہا ہے ۔ “لوح” کا تازہ شمارہ موصول ہوا ۔ آپ نے اعزازی بھجوایا۔ یہ آپ کا قد اور بڑا پن ہے ۔ میں لوح میں اور “لوح” مجھ میں گم ہے ۔ ہم ایک ہو گئے ہیں ۔ اللہ کریم آپ کو تادیر سلامت رکھے ۔۔۔( ۲۸ اگست، ۲۰۱۹)

۲۔میں ریوڑیاں” کھا رہا ہوں ۔ ویسے تو ریوڑی پورے پاکستان میں میسر ہے لیکن چکوال کی “پہلوان ریوڑی” ٹاپ پر ہے ۔ گڑ والی ٹانگری بھی گاؤں کی ہٹی اور دکانوں پر مل جاتی ہے لیکن ایک عرصہ سے میں نے بتاشہ نہیں کھایا ۔ کہیں متروک تو نہیں ہو گیا (اللہ نہ کرے) کل پلی پر ارائیوں والی ہٹی سے پتا کرتا ہوں ۔ اپنی ثقافت کی حفاظت کیا کیجئے۔  شب بہ خیر۔۔۔ (۲۹ جولائی، ۲۰۱۹)

۳۔سناٹا ہے
چھت والے پنکھے کے پر نظر آ رہے ہیں کیوں کہ وہ آہستہ آہستہ گھوم رہا ہے ۔ اور ایک انسان ہے کہ وقت کے دائرے میں زناٹے دار رفتار میں ہے ۔
اور
اک محمد حامد سراج ہے
جو پنکھے اور انسان کو دیکھ رہا ہے
جانے کیا دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
کیوں دیکھ رہا ہے
آج 21 اکتوبر کو وہ 58 برس کا ہو گیا
ان بیتے برسوں میں
کیا کھویا
کیا پایا
کیا کمایا ۔۔۔۔۔۔؟
اے زندگی
بول ۔۔۔۔۔
تو کہاں چلی گئی
میرے اٹھاون برس
کہاں چھوڑ آئی ۔۔۔۔۔؟
یاران ادب
صبح بہ خیر(۲۱ اکتوبر، ۲۰۱۶)

۴۔میں وہ خوش قسمت ہوں کہ جس نے مولانا مفتی محمد شفیع رح ‘ مولانا مفتی رفیع عثمانی مدظلہ ا لعالی اور مولانا تقی عثمانی مدظلہ ا لعالی کی تعلیمات ‘ تصنیفات اور تالیفات سے فیض پایا ہے اور میری شخصیت پر ان کی تعلیمات کے گہرے اثرات ہیں ۔ اللہ کریم ان نفوس قدسیہ کے نقش قدم پرچلنے کی توفیق عطا کرے “آمین” ان دنوں مولانا جسٹس تقی عثمانی مدظلہ ا لعالی کا “آسان ترجمہ قرآن” زیر مطالعہ ہے ۔ اللہ کریم عمل کی توفیق عطا کرے ۔ بھائی سعود عثمانی آپ کی دست بوسی کی خواہش ہے ۔ بس لاہور کا سفر ہو جائے ہماری مشکل آسان ہو جائے۔(۱۹ اکتوبر، ۲۰۱۶)

۵۔محبت کے کھیل کی گوٹیاں تو مجھے بھی چلانی نہیں آتیں بس یہی آڑی ترچھی لکیروں کا جنگل ہے ۔ گوٹیاں ۔۔۔۔؟ کالج کی زندگی میں ڈرافٹ کامیں بہترین کھلاڑی تھا ۔ مجھ سے جیت جانا ایک مشکل کام تھا ۔ ایک لڑکا تھا ہاسٹل میں دراز قد، زلفیں کندھے تک ، بندہ ایک کان میں ، دوہڑے ماہیےکی لے کو کمال اٹھاتا تھا ۔ ایک دن ہوسٹل لان میں مل گیا

بولا ۔۔۔۔ڈرافٹ کھیلو گے

ضرور

لیکن ہار جاؤ گے

اتنا زعم ؟

نہیں ۔۔۔۔ بس ایسے ہی

کالج میں ڈھنڈورچی نے وہ ڈھول بجایا ۔ الامان کہ کل عصر کے بعد مصور اور حامد کے درمیان تین تاریخی میچ !

سارے ہوسٹل کے لڑکے جمع ہوگئے ۔۔۔۔۔

پہلی گیم ۔۔۔۔ دوسری چال میں اس نے گیم بلا ک کر دی ۔

مجھے پسینہ آگیا ۔۔۔۔

دوسری گیم ۔۔۔۔ اس نےمجھے دو چالیں چلنے دیں ۔ چھنگلی میں انگوٹھی گھماتا رہا اور جیسے گوٹی اٹھائی سارے رستے مسدود کر دئے ۔ لڑکوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ۔ وہ جیت چکا تھا ۔۔۔۔میں نے بھری محفل میں اعلان کیا کہ مصور کی مہارت کے بعد ڈرافٹ کھیلنا بے کار ہے ۔ میں ساری عمر کے لئے ریٹائر ہو رہا ہوں ۔ یہ1978 کی بات ہے ۔ زندگی ہے تو مات بھی ہے جیت بھی ہے ۔۔۔۔۔پروین شاکر نے کہا ہے

ہارنے میں اک انا کی بات تھی

جیت جانے میں خسارہ اور ہے

(۲۷ جولائی، ۲۰۱۹)

۶۔بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔۔۔

فقیر کی تازہ کتاب ” نقش گر”

میرا سرمایہ کیا ہے ؟ قلیل سا۔۔۔۔۔

  افسانے ۔۔۔۔ “میا” آشوب گاہ ” ہمارے باباجی خواجہ خان محمد رح”

محبتوں کے سلسلے بڑے پائیدار ہوتے ہیں اگر میں کھوٹ ملاوٹ خود غرضی مفادات اور لوبھ “کی آمیزش نہ ہو ۔ یہ جو دو درویش ہیں ۔۔۔۔۔۔امر شاہد اور گگن شاہد ۔۔۔۔ اتنی محبت نچھاور کرتے ہیں کہ انسان شرابور ہو جاتا ہے ۔ سرپرائز بھی ان کا مزاج ہے ابھی مجھے فون آیا ۔۔۔۔ حامد سراج کسی کو ڈاکخانہ بھیجو وہاں ایک تحفہ آپ کے انتظار میں ہے ۔ پارسل کھولا تو سکتہ ہو گیا ۔ اتنا انمول اور قیمتی گفٹ ۔ یہ تو پچھلے برس کی بات ہے ۔ امر اس کے لئے تیاری کرتا رہا اور مجھے خبربھی نہ ہوئی ۔

  افسانوں کا انتخاب میں نے خود کیا ہے ۔ اور بڑی مشکل سے کیا ہے ۔ اپنی تخلیق کا چناو کٹھن مرحلہ ہے ۔ دیباچہ رانچی سے ڈاکٹر غالب نشتر نے لکھا ہے ۔ ان کی محنت کو سلام ۔ کتاب بک کارنر جہلم نے شائع کی ہے ۔ سر ورق امر شاہد کی محنت ہے ۔ قیمت 600 روپے ہے ۔ کاغذ بہت اعلی لگایا ہے ۔ میری سوچ سے بھی بہت اعلی ۔۔۔۔۔ رب کریم ان کو اجر عظیم عطا کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ پڑھئے پرکھئے ۔۔۔ اپنے رائے دیجئے تا کہ میں اپنی خامیاں دور کر سکوں ۔ مجھے اپنے قاری پر ہمیشہ فخر رہا ہے۔(۲۰ جولائی، ۲۰۱۹)

۷۔لالٹین دل کھینچ رہی ہے افسانہ لکھنا ہے لیکن نہیں منٹو کی لالٹین اور وہ جو “چاکی واڑہ میں وصال” کے خالق ہیں ۔ نام بھول گیا ۔ ان کی لالٹین کے سامنے میری لالٹین کیا جلے گی ۔ ہاں “لالٹین جلتی رہے” بہت برس پہلے لکھا تھا علی محمد فرشی نے ” سمبل” میں شائع کیا ۔ ادبیات” کے سال کے بہترین افسانوں میں شامل ہوا ۔ متعدد اخبارات اور ادبی جرائد میں شامل ہوا ۔ اب بھی سوچتا ہو ایسا اس میں کیا ہے ؟ مٹھی بھر الفاظ ۔۔۔۔ بس ۔۔۔ فن ہے کیا ۔۔۔؟ تخیل کہاں سے اترتا ہے ؟ سمجھ نہیں پایا ۔۔۔۔اسی لئے افسانوی مجموعہ “برائے فروخت” میں کہا بس ایک جملہ ! جس روز میں لکھنا چھوڑ دوں گا مر جاؤں گا” ۔۔۔۔۔۔ شب بہ خیر۔ (۶ جولائی، ۲۰۱۹)

۸۔یہ درد پہلے بھی اٹھایا لیکن کل جون کی تپتی دوپہر میں بہت تکلیف اٹھائی ۔ ماموں زاد ماجد اور اسامہ بیٹے کے ساتھ بلیو ایریا کی ایک کیفے سے چائے پی ۔ میں نے کہا جیسے کیفے تلاش کیا ہے ویسے مجھے مسجد تلاش کر دیں ۔ مسجد کیفے کے پہلو میں تھی لیکن مقفل تھی ۔ تقریبا” ایک بجے ظہر کی نماز کا وقت داخل ہو چکا تھا ۔ تزئین و آرائش سے مزین مسجد میں وضو کیا ۔وہ بھی مقفل نکلی ۔ خاکروب سے پوچھا

‘بابا مسجد کب کھلے گی ؟

سوا دو بجے ۔۔۔۔

مسجد کی سنگ مر مر کی آگ بنی سیڑھیوں سے اندر جھا نکا ۔۔۔۔

آخری سیڑھی پر اتنی گنجائش سمٹ کے نکلتی تھی کی بیٹھ کر نماز ادا کر لی جائے ۔ تپتے فرش پر نماز ظہر ادا کی اور حضرت بلال حبشی رض بہت یاد آئے ۔

میرے وطن کی مساجد مقفل ہیں

حیف ہے حیف ۔۔۔(۲ جولائی، ۲۰۱۹)

۹۔تاروں بھری رات تھی یہ کل کی بات ہے اس کا ایک سرا میرے بچپن سے جڑا ہے ۔ ابھی تو میں اسلام آباد ہوں ۔ کینسر کی نوعیت جانچنے کے تمام ٹیسٹ مکمل ہو گئے بس اب کل “نوری کینسر سنٹر” کی آن کولوجسٹ نے علاج شروع کرنا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کس ٹیسٹ میں کیا ہے میں نے کرید بھی نہیں کی ۔۔۔ شعبہ نہیں میرا ۔۔۔ جس کا کام اسی کو ساجھے ۔۔پرسکون ہوں ۔ سکینت آسمان سے اتری ہے ۔ ہم مٹی سے بنے کمزور انسانوں کی کیا مجال ۔ بس عطا ٹھہری رب کریم کی ۔ ہمیں تو جو دن عطا ہوا ہنس کے گزارنا ہے ۔

تاروں بھری رات تھی ۔۔۔ یہ ایک مہینہ قبل کی بات ہے ۔ ہم میاں بیوی کھلے آسمان کی چھاؤں میں چارپائی پر سوئے ۔ بچے اب مصنوعی ٹھنڈک پسند کرتے ہیں ۔ رات آدھی رات میں میری آنکھ کھل گئی

اُف میرے خدا!

آسمان تاروں سےبھرا چمک رہا تھا۔ آدھی رات تاروں کا بے پناہ حسن ۔۔۔ میں اٹھ بیٹھا میرا بچپن شرارتیں کرنے میں مگن تھا۔ میں گھڑونچی سے منگرے میں پانی ڈال رہا تھا ۔ قریب نانا جان کی حویلی میں کیکر پر ایک الو بول رہا تھا ۔ جھینگر اور میڈکوں نے رات کے سناٹے کو چیر پھاڑ کے ایک طرف پھینک دیا تھا ۔ جانے کیا ہوا ۔ گھڑا گھڑونچی سے نیچے آ رہا ۔ دادی اماں اور ماں بھاگ کے آئیں اور پوچھا

۔(۳۰ جون ، ۲۰۱۹)”بیٹا کہیں چوٹ تو نہیں لگی

۱۰۔وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا

تیز ہوا کا شور تھا میں لان میں لوہے کی کرسی پر بیٹھا تھا ۔ اچانک خوشبو کا جھونکا گزرا ۔ بہت برس پرانی بات ہے ۔ وہ میری بہت اچھی دوست تھی ۔ غمگسار ۔ خود بھی اتنی نفیس بالکل ایسے مغلیہ عہد کے منقش ظروف ہوں ۔ وہ ہمیشہ کہتی میری عمر آپ کو لگ جائے ۔ پاگل تھی۔ میں اپنی عمر اسے لگا چکا تھا ۔ اس روز وہ ایک کیفے میں میرے سامنے لوہے کی کرسی پر بیٹھی تھی اس کے بے پناہ حسن کی پشت پر سوکھا شرینہہ اور خشک پھلیاں تھیں ۔ بس اتنا یاد ہے چائے میں دو آنسو گرے ۔ اس کے بعد وقت کا گھڑیال خاموش ہے ۔ میں اٹھ کر گھر کی گیلری سے گزرا وہاں آئینہ لگا ہے ۔ میں نے اپنے برف ایسے بال دیکھے اور مجھے اپنا کالج فیلو ڈاکٹر رؤف امیر بہت یاد آیا اپنی شاعری سمیت ۔۔۔

یہ آئینہ مجھے کس رخ پڑا نظر آیا

میں اپنی عمر سے کتنا بڑا نظر آیا

(۲۸ جون، ۲۰۱۹)

۱۱۔میں ہسپتال کے نرم بستر پر تھک گیا ۔ دنیا میں سب سے زیادہ بے آرام بیڈ ہسپتال کے بیڈ ہوتے ہیں ۔ جو مزہ بان کی چارپائی میں ہے وہ اور کہاں ۔ میں گیلری میں ٹہلنے نکل گیا ہم افسانہ نگاروں کو چین کہاں یہ جو ہم سچے جگر جلانے والے تخلق کار ہوتے ہیں جن کا ناموری سے کوئی جوڑ نہیں ہوتا ۔ موت ہمارے دروازے پر دستک بھی دے رہی ہو تو ہم آخری لمحے کو بھی نہیں کھونا چاہتے ۔ میں گیلری میں عصر کی دھوپ سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ کہ اچانک ایک بورڈ پر نظر پڑی اور کھب گئی ۔ واہ ۔۔۔ واہ ۔۔۔ کیا عظیم موجد ہیں ۔ اپنے لئے بھی جینا کوئی جینا ہے ۔ وہ تو ڈھور ڈنگر بھی جیتے ہیں ۔ میں نے ایک ایک موجد سے بات کی ۔ خوش ہوا ۔ سرشار ہو گیا ۔ میں نے انہیں کہا

تم کروڑوں اربوں انسانوں کے سینے میں دھڑک رہے ہو ۔ تمہیں صدیوں دست قضا نہیں چھو سکتا ۔

میں نے سب کو سیلوٹ کیا

انسان اور انسانیت کے عظیم محسن ۔۔۔

میری آنکھیں نم ہو گئیں

آہ ہم تو زمین کا بوجھ ہیں ۔۔۔(۱ جون ۲۰۱۹)

۱۲۔یارانِ چمن آپ کے لئے تصویریں کھوجتا رہتا ہوں جو کلاسیکی انمول آرٹسٹک ہوں ۔ الفاظ کے جوڑ اور چولیں بٹھاتا ہوں ۔ افسانہ تراشتا ہوں ۔ روح کے رندے سے افسانے کو شفافیت کے عمل سے گزارتا ہوں ۔ زندہ قہقہہ لگانے کی اداکاری کرتا ہوں کہ میرے چاہنے والے میری وجہ سے کبھی مغموم نہ ہوں ۔ دکھ درد بیماریاں ، ان میں دو چمچ چینی ڈال کے پی جاتا ہوں ۔ مخلوق کے سامنے ذکر سے لرزتا ہوں کہ یہ نعمتیں اللہ کے اور میرے درمیان ہیں ۔ خوش رہا کیجئے خوش رہنا مشکل ہے تو خوش رہنے کی اداکاری سیکھ لیجئے زندگی آسان ہو جائے گی اور اسی کا نام زندگی ہے ۔ شب بہ خیر۔ (۱۶ اپریل، ۲۰۱۹)

۱۳۔ناصر اور میں نے ایک ساتھ گؤشالہ سکول میانوالی سے پرائمری پاس کی ایک ساتھ تختی دھوئی ۔ شریف کی ہٹی سے ٹانگری کھائی ۔ ایک آنہ اور دو آنہ والی قلفیاں کھائیں ۔ اک عمر گزاری برس نہیں ۔ وہ اپنی نوع کا خوبصورت ترین انسان تھا ۔ ہنس مکھ ملنسار ، دکھ جھیل کے ہنسنے والا ۔ وہ جو مجھے مولوی سوہنڑا کہتا تھا ۔ اک سمندر ہے یادوں کا اور آنسوؤں  کا۔ چند روز پہلے میں اس کی فوٹو گرافی کی دکان میں جیسے داخل ہوا ۔ بولا ۔۔۔ مولوی سوہنڑا خدمت کہاں سے شروع کی جائے ؟ چائے کے دوران بولا “مولوی سوہنڑاں اب زندگی ہر لمحہ بونس ہے ۔ کسی دن ہنستے ہنستے چٹکی بجاتے اس دنیا کے منظروں سے نکل جائیں گے ” میں اس سے لڑ پڑا ۔ ایسا مذاق یار جگر اب نہیں کرنا ۔تم زمین پر میرا اکلوتا بچپن ہو ظالم ۔ خوف خدا کرو ۔۔۔۔ اور کل شام وہ ہر منظر سے نکل گیا ۔ اپنے رب سے جا ملا ۔۔۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔۔آہ ۔۔۔جگر پارہ پارہ ہے ۔(۱۲ اپریل، ۲۰۱۹)

۱۴۔شہر اولیاء ملتان جب بھی آنا ہو ۔ یہ ممکن نہیں کہ قدم ریڈیو پاکستان ملتان کے سامنے شاکر حسین شاکر کی “فیلنگز” کی جانب نہ اٹھیں وہ خود کار طریقے سے منزل پا لیتے ہیں ۔ ذہن میں تھا کہ اب بیٹا کاروبار سنبھالتا ہے ممکن ہے شاکر بھائی وہاں موجود نہ ہوں ۔ لیکن دل کھل اٹھا شاکر بھائی میرے سامنے تھے وہی انداز ، وہی اپنائیت وہی لہجہ وہی خلوص ، اب دنیا میں ایسے پیارے نایاب ہوتے جا رہے ہیں ۔ بیٹی رافعہ سرفراز بھی ساتھ تھی جو BZU میں ایم فل کی طالبہ ہے ۔ ادب کے مطالعے اور افسانے کے ساتھ تنقید وتحقیق پر قلم رواں رکھنا اس کا جنوں ہے ۔ ہمیں اپنی اس بیٹی پر فخر ہے ۔کولڈ ڈرنک کے ساتھ ہم نے اچھی اور شستہ اردو لکھنے والوں پر بہت دیر بات کی ۔ اچھی نثر لکھنے والوں میں  انصاری ، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، ادا جعفری ، آغا بابر ، شمس الرحمن فاروقی کا خوب ذکر رہا ۔۔۔۔ شاکر بھائی سلامت رہیں ۔ زندہ باد ۔۔۔(۱۸ اپریل، ۲۰۱۹)

۱۵۔بسم اللہ الرحمن الرحیم

بیماری تکلیف آزمائش میرے رب کریم کی رحمت اور بہت بڑی نعمت ہے ۔ لیکن ہم ٹھہرے کمزور ‘ وہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ تکلیف میں ایک فکر ایک پریشانی گھیرے رہتی ہے کہ قلب اور زبان سے نکلا کوئی جملہ اس کی ناراضی کا سبب نہ بن جائے ۔

فیس بک کو خیر آباد نہیں کہہ رہا ممکن ہے ایک عرصہ ملاقات نہ ہو ۔ کوئی بہت اچھی کتاب جو دل کو چھو گئی تعارف کرا دیا کروں گا۔ سیدالشہداء سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی پر کام کر رہا ہوں ۔ سارا وقت ان ہی کے نام کر دیا ہے ۔

مولانا ابو الکلام آزاد رح کی ایک کتاب ہے “انسانیت موت کے دروازے پر” آپ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کیجئے ۔ تاکید ہے ۔ کہ ہر صفحہ آنکھوں کو با وضو رکھتا ہے ۔(۹ دسمبر، ۲۰۱۸)

۱۶۔راولپنڈی کالج کے دن تھے سن انیس سو ستتر تھا کالج کی زندگی تھی ۔ گراونڈ کے اطراف سیمنٹ کی سٹنگ تھی ۔ شام تھی ۔ اس زمانے میں میرا تخلص راحت تھا ۔ میں سیڑھیوں پر سبز اوور کوٹ پہنے دھویں سے باتیں کرنے میں مگن تھا ۔ یہ وہ دن تھے جب ساغر صدیقی کو گھول کے پیا ۔ بس اسی کو گنگنایا کرتے تھے ، انہی سیڑھیوں پر احمد فراز سے ملاقات ہوئی

میں نے سوال کیا ۔۔۔۔۔

آپ نے کہا ہے

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو آپ نشہ بڑھانے کے لئے کون کون سی “مے” سے بغلگیر ہوتے ہیں

مسکرائے اور کہا

“درد میں درد ملائیں یا شراب میں شراب نشہ سوا ہو جاتا ہے “

ہاں تو شام تھی ۔۔۔ سیمنٹ کی سیڑھیاں تھیں ‘ دھواں تھا ۔۔۔۔اور ساغر صدیقی کی رباعی غم گسار تھی

اے ستاروں کے چاہنے والو

آنسووں کے چراغ حاضر ہیں

رونق رنگ وجشن و بو کے لئے

زخم حاضر ہیں داغ حاضر ہیں

(۳ نومبر، ۲۰۱۸)

۱۷۔یا چہرے کی اس کتاب [فیس بک] کو ترک کر دیا جائے ؟

کسی حاصل” کے لئے تو اس سے نہیں جڑا تھا

بس کتاب کا عشق تھا

اس نے جوڑے رکھا ۔۔۔۔۔

نہ لائکس کا شمار نہ کمنٹس شماری کا چسکا ۔۔۔۔

بس اک شوق تھا

جس کی پرورش کرتے رہے

ہزاروں لاکھوں میں ہم نہ ہوں گے تو کیا کمی ہو گی ؟

میں واپس اسی جھونپڑی” میں بسیرا کرنا چاہتا ہوں جس میں مطالعہ کیا ۔۔۔۔۔

میں مدتوں اداس رہنا چاہتا ہوں

میں بہت اکیلا ہو گیا ہوں ۔۔۔۔

میں عبد اللہ حسین ‘ انتظار حسین اور انیس اشفاق نہ سہی

لیکن میری تنہائی ان جیسی ہے

جب روح ہنسنا چاہے

اور اسے در نہ ملے

تو وہ عبد اللہ حسین ہو جاتی ہے۔ (۲۶ اکتوبر، ۲۰۱۸)

۱۸۔سیّد صدیق حسن خان کی آپ بیتی کی ورق گردانی شروع کی تو علم ہوا کہ آپ کا سلسلہ نسب تینتیس واسطوں سے براہِ راست سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ تک پہنچتا ہے۔ کتاب ایک طرف رکھ دی، ادب کا تقاضا تھا کہ باوضو مطالعہ کیا جائے۔ باوضو آپ بیتی کا مطالعہ کیا اور پھر اپنی سی کوشش کی کہ تمام آپ بیتیوں کا مطالعہ با وضو کیا جائے۔ میں نے با ادب با وضو اپنا وقت دو زانو، ان علمائے کرام کی صحبت میں گزارا اور رُوح کی سیرابی کا سامان کیا ۔ آپ بیتی کا مکمل مطالعہ کر لینے کے بعد تلخیص گری کا مرحلہ بڑا جانگسل ہے۔ تلخیص گری کرتے ہوئے اس بات کو مدِنظر رکھنا ہوتا ہے کہ اصل آپ بیتی کی رُوح مجروح نہ ہو اور شخصیت کی زندگی کے روشن اور اُجلے پہلو اپنی چمک دمک اور خوشبو سے محروم نہ ہوں۔ میں اس قابل ہر گز نہیں تھا کہ اس کام کی ذمہ داری لوں۔ مجھے اپنے جہل اور کم علمی کا مکمل اعتراف ہے۔ یہ کسرِنفسی نہیں سچ ہے۔ لیکن میرے دوست امر شاہد نے مٹھی بھر حوصلہ مجھے دان کیا اور میں نے ہمت کی پگڈنڈی پر تقویٰ کا زادِراہ ساتھ لیا اور ربّ کریم کی رحمت کی گھنیری چھاؤں میں سفر پکڑا۔ گزشتہ برس ہم نے ادیبوں کی آپ بیتیوں پر کام کیا اور سیکڑوں نامور ادیبوں کی آپ بیتیوں کی تلخیص گری کا چناؤ کیا اور متعدد آپ بیتیوں کی تلخیص پر خود محنت کی اور اس طرح ـ’’ نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں‘‘ ہم نے آپ کے مطالعہ کے لیے طبع کی۔ ادارے نے پُرکشش سر ورق اور اعلیٰ طباعتی مراحل سے گزار کر اسے قاری تک پہنچایا۔ قاری کی تحسین اور پذیرائی سے ہمیں حوصلہ ودیعت ہوا اور ہم نے یہ سلسلہ جوڑے رکھنے اور جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اسی سلسلہ میں ہماری محنت ’’مشاہیر علم ودانش کی آپ بیتیاں‘‘ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس کتاب پر آپ نے جو رقم خرچ کی ہے وہ رائیگاں نہیں جائے گی۔ میں نے قاری کی دلچسپی کے لیے اس بات کو مکمل دھیان میں رکھا ہے کہ آپ بیتیوں کے مطالعہ میں اکتاہٹ کا عنصر نہ ہو اور دلچسپی کے ساتھ قاری کو عملی زندگی میں رہنمائی اور روشنی ملے۔

محمد حامد سراج۔ (۲۹ سمبر، ۲۰۱۸)

۱۹۔یہ جو محمد حامد سراج ہے جب گورنمنٹ ہائی سکول میانوالی میں پڑھتا تھا اس زمانے میں ماچس کی ڈبیاں جمع کرتا تھا ۔ میانوالی ایک دو ریڑھیاں لگا کرتی تھیں جن پر مختلف  ڈیزائین کی ماچس کی ڈبیاں بکا کرتی تھیں ۔

(۲۹ اگست، ۲۰۱۸)

۲۰۔ساون کی موسلا دھار بارش ہو رہی ہے ۔۔۔۔

ہر طرف جل تھل ہے

میں اپنے کمرے میں کتابوں کے درمیان کھڑکیاں دروازے کھولے جہاں بارش سے لطف اندوز ہو رہا ہوں وہاں بسکٹ اور چائے بھی ہے اور برادرم عادل رضا منصوری کا “استفسار” پیک کر کے آج دوستوں کو پوسٹ کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمام پیکٹ مکمل کر لئے ایڈریس لکھ لئے اسی قلم سے جس سے نانا جان نے تختی لکھنا سکھلائی تھی مار بھی کھائی تھی لیکن خوش خطی اب بھی قائم ہے

بارش بہ خیر۔ (۱۹ جولائی، ۲۰۱۸)

۲۱۔منیر احمد فردوس ۔۔۔۔۔ فیس بک پر دوستی کو سات برس ہو گئے لیکن ہم سات سو برس سے ساتھ ساتھ ہیں ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی سرزمین سے جس زمانے میں “ق” نکلتا تھا اور پھر “اکناف” وقت سرکتا جا رہا ہے زمین پر ہمارا قیام مختصر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ اس لئے ملاقاتوں کا سامان ضروری ہے ۔ تم نے ہمیشہ مجھے عزت دی محبت دی ۔ سلامت رہو دوست ۔۔۔۔ آباد خوش وخرم ۔ عمر نوح پاؤ ۔۔۔(۲۹ جولائی، ۲۰۱۸)

۲۲۔برسوں سے ایک مزاج ہے موبائل پر شام ڈھلے کبھی سویرے کبھی کبھی رات میں میسج بھیج دیتا ہوں جو فارورڈ میسج نہیں ہوتا ۔۔۔۔ بس دل کی بات ہوتی ہے کوئی درد کا لمحہ ‘ دل سے پھوٹتی خوشی ۔۔۔۔ آج شام بھی ایک میسج کیا ۔۔۔۔ جی میں آئی فیس بک کی محبتوں کو شامل کرتا ہوں

“یاران چمن

بادل دیکھ کر میں خوش ہو رہا ہوں ۔ خوش ہونا میرا حق ہے ۔ بادلوں کے ساتھ نرم ہوا ہے اور شام ہے اور اشجار ہیں ۔ اور میں یک سو اس منظر سے مکمل لطف اندوز ہو رہا ہوں ۔ مجھے کوئی عجلت نہیں ۔ کہیں جانا نہیں ۔ کسی ریس میں شامل نہیں ہوں ۔ مقروض نہیں ہوں ۔ دل میں کہیں کسی کے لئے کوئی کینہ نفرت حسد بغض نہیں ۔ یہ رب کریم کی عطا ہے میرا کمال نہیں تو پھر خوش ہونا میرا حق ہے ۔۔۔

نرم شام بہ خیر۔(۲۷ جولائی، ۲۰۱۸)

۲۳۔  میں پرانے زمانے کا انسان ہوں

میں فیس بک اپنے لیپ ٹاپ پر استعمال کرتا ہوں ۔ ہفتہ میں تین سے چار بار کھولتا ہوں ۔ داہنی جانب نوٹیفکیشن پر نظر ڈالتا ہوں ۔ باہنی جانب ان باکس میں پیغامات پڑھتا اور ان کے جواب لکھتا ہوں ۔ اسی دوران جو کتاب متعارف کرانا ہو ۔ سکین کر کے اپ لوڈ کر لیتا ہوں ۔ موبائل میں میسنجر اور فیس بک کا جھنجٹ ہر گز نہیں پالا ۔ اپنے آپ کو اپنے گھر کو اپنے خاندان کو اپنے دوستوں کو مکمل وقت دیا کیجئے ۔ نہیں تو اپ اس چند انچ کی ڈبیا میں مقید ہو کر تنہا رہ جائیں گے ۔(۳۰ مئی، ۲۰۱۸)

۲۴۔یہ سردیوں کی بات ہے ۔ یہ جو سردیاں ابھی پہلو سے گزری ہیں ۔ ایک سرد سی شام میں گیٹ پر دستک ہوئی ۔میں کھانا کھا رہا تھا ۔ بیٹے کو کہا ۔۔۔۔۔

معلوم کرنا ۔۔۔ کون ہے ؟

کیوں کہ ہر دستک کی اپنی اہمیت ہے میں کبھی دستک نظر انداز نہیں کرتا دل پر ہو یا در پر ۔۔۔۔۔

ابو ۔۔۔ مانسہرہ ہری پور سے مہمان ہیں باہر تسبیح خانے ” میں آپ  کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔

اچھا بیٹا آپ ان سے ملو ۔ میں کھانا کھا لوں

جب میں “آباء و اجداد” کے قدیم مغلئی طرز تعمیر کے وسیع تسبیح  خانہ میں داخل ہوا تو ایک شخص جس کی میری جانب پشت تھی وہ تسبیح خانہ میں صوفیا کے شجرہ نسب میں گم تھا ۔ وہ صوفیا اکابر کے سلسلوں کی کڑیاں جو ایک دوسرے میں پیوست تھیں وہ ان میں پیوست تھا ۔ اس کی زلفیں شانوں تک تھیں ۔ لباس سادہ بہت سادہ اور عام تھا ۔ ایسا لگتا تھا میرے کسی افسانے کا کردار بہت لمبی مسافت کے بعد اپنی تھکن اتارنے اس تسبیح خانہ میں اترا ہے ۔میں نے اس کے انہماک میں دراڑ ڈال دی

السلام علیکم ۔۔۔۔

وہ پلٹا ۔۔۔ وعلیکم السلام ۔۔۔۔

مجھے سکتہ ہو گیا ۔۔۔ کیا یہ وہی ہے ۔۔۔۔ یہ وہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ یہ سرد پہاڑوں سے اتر کر اس صحرا میں ؟ گرم جوش معانقہ ہوا ۔

گھر چلا جائے ۔۔۔۔

تسبیح خانے کی پشت پر میرا گھر ہے ۔۔۔۔ اس کے کندھے پر کھدر نما موٹے کپڑے کا ایک جھولا لٹک رہا تھا ۔ ایک اور بوسیدہ سا بیگ اس نے ہاتھ میں لٹکایا جو اس سے میں نے لے لیا ۔۔۔۔ اب غریب خانے پروہ تھا ‘ کھانے کے بعد چائے تھی الائچی والی ‘ کتابیں اور باتیں یہاں سے وہاں بکھری تھیں ۔ ہم وقت کے پیمانے سے باہر کھڑے تھے اور ہم محو گفتگو تھے ۔ اس نے بوسیدہ بیگ کی زپ کھولی۔ 

یار حامد سراج ۔۔۔۔ بازار میں مٹھائی بھی تھی ۔ راستے میں فروٹ کی ریڑھیاں اور دکانیں بھی نطر پڑیں لیکن انسان محمد حامد سراج کی ملاقات کو آئے اور ساتھ میں کتاب کا تحفہ نہ لائے ‘ بات بنتی نہیں ۔۔۔۔ آپ یہ قبول کیجئے ۔۔۔۔

وہ سیلانی مزاج کا ہے ایک شہر میں اس کو چین نہیں ۔ کبھی لاہور ‘ کراچی ‘ اسلام آباد لیکن بوسیدہ بیگ میں کتابیں ‘ لہجے میں شہد ‘ آنکھوں میں مستقل اداسی ‘ گھر میں کتابیں ‘ ہاتھ میں کتاب ‘ سفر میں کتاب ‘ دوستوں کے ساتھ بات کتاب ۔ وہ شخص ایک مکمل کتاب ہے ۔۔۔۔ میری خوش نصیبی کہ وہ میرے گھر مہمان اترا تھا ۔ اس کی خوشبو اب بھی موجود ہے ۔ زاہد کاظمی ہماری آکھیاں ابھی تک اسی پگڈنڈی پر ہیں جہاں سے آپ ہمارے گاوں پہنچے اور واپسی کے نشانات میں ہم دوسری ملاقات کا خواب روز دیکھتے ہیں۔(۱۴ مارچ، ۲۰۱۸)

۲۵۔پرانی کہانی ہے

پرانی بات ہے لیکن سچ ہے

تخلیق ازل سے تنقید پر فائق ہے ۔ تنقید صرف تدریسی ضرورت ہے ۔

ایک بار اسلام آباد  میں  محمد منشاء یاد کے گھر ان سے بے تکلف گفتگو جاری تھی ۔ اچانک انہوں نے سوال کیا

حامد سراج یہ جو عجیب و غریب تھیوریاں ہیں ‘ ساختیات پس ساختیات’ جدیدیت’ مابعد جدیدیت ‘ کیا آپ کو ان کی سمجھ ہے ؟”

عرض کیا ۔۔۔ منشاء یاد صاحب سمجھنے کی اپنی سی کوشش کی تھی ۔ ہر تھیوری سر سے گزر گئی ۔۔۔۔۔

مجھے منشاء یاد کی بھر پور مسکراہٹ یاد ہے ‘ “یار مجھے بھی ککھ پلے نہیں پڑا کوشش میں نے بھی کی ہے ۔ بس اپنی دنیا ٹھیک ہے ہم افسانہ لکھا کریں ۔۔۔(۱۷ جنوری ۲۰۱۸)

۲۶۔کچھ دور تک تو میرے ساتھ چلو

میری عمر نے

مجھے تھکا دیا ہے۔ 

محمد حامد سراج

(۲ جنوری، ۲۰۱۸)

۲۷۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم کتابوں کی دکان میں داخل ہوتے ہیں ۔ ہمیں ایک کتاب پسند آتی ہے لیکن جیب ٹٹولنے پر ہم آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ وہ لمحہ ہم سے چوک جاتا ہے اور پھر ہمیں دوبارہ وہ کتاب کہیں نطر آتی ہے نہ دستیاب ہوتی ہے ۔ اس لئے اپنی کوئی اور ضرورت روک کر کتاب خرید لیا کیجئے ۔ یہ قلق دل کو لے بیٹھتا ہے ۔

چالیس سال قبل راولپنڈی صدر کے اتوار بازار میں میں گھوم رہا تھا ۔محمد طفیل کے ادبی جریدہ ” نقوش” کا ایک سالنامہ فٹ پاتھ پر بچھی کتابوں میں نظر پڑا ۔ وہ سالنامہ تین جلدوں میں تھا ۔ کتب فروش نے مجھ سے تیس روپے طلب کئے ۔ میری جیب میں بیس روپے تھے ۔ بہت بحث کی ۔ منت سماجت ۔۔۔۔ لیکن وہ کسی طور راضی نہ ہوا ۔ والد صاحب ہوسٹل کے ماہانہ اخراجات کے لئے ڈیڑھ سو روپیہ بھیجا کرتے تھے ۔ میں آنے والے جمعہ کو ایک دوست سے دس روپے ادھار لے کر صدر گیا ۔ “نقوش” میرے ہاتھ سے نکل چکا تھا ۔ گزشتہ برس اس سالنامے کی دو جلدیں ڈھونڈ نکالی ہیں ۔ تیسری کی تلاش میں سرگرداں ہوں ۔ پاگل ہوں نا اس لئے ۔۔۔۔۔ عقل مند لوگ اپنی آسائش آرام اور آسودگی کے لئے دولت تلاش کرتے ہیں اور ہم کتابیں ۔۔۔۔۔

کتاب خرید لیا کیجئے ۔۔۔۔

دیر نہ کیا کیجئے

چالیس برس گزر جاتے ہیں ہجر کاٹتے ۔۔۔(۱۰ دسمبر، ۲۰۱۷)

۲۸۔تین دوست ہیں
یہاں چشمہ ملازمت کے سلسلہ میں مقیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدثر۔۔۔۔ شاہد اور سعد عباس
تینوں مہینے میں ایک دو بار غریب خانے پر آ نکلتے ہیں ۔ کتابوں کے درمیان آلتی پالتی مارے ہم کتابوں کی ہی باتیں کرتے ہیں ۔ پکوڑے سموسے ‘ چائے کے مگ ۔۔تینوں کو کتابوں سے عشق ہے ۔ ہم چاروں نے ایک کمیٹی ڈالی ہے ہزار روپیہ مہینہ کی ۔ ہر دو مہینے بعد ایک کمیٹی نکلتی ہے آٹھ ہزار روپے کی اور ہم کتابیں خرید لیتے ہیں ۔ سعد عباس اب کی بار آئے تو میرے لئے “فرشتے کی ایف آئی آر” لائے۔ کیا خوبصورت تحفہ ہے ۔ سعد عباس کو انگریزی ادب پر بھی کمال حاصل ہے ۔(۲۰ دسمبر، ۲۰۱۷)

۲۹۔دو دن قبل ڈاکٹر زاہد منیر عامر غریب خانے پر تشریف لائے ۔ خانقاہ سراجیہ ان کی آمد اس فقیر کے لئے ایسی خوشی ہے جو بے کنار ہے ۔ ایسی خوشیاں مقدر والوں کو ملا کرتی ہیں اور زمین پر ان میں سے ایک خوش نصیب میں بھی ہوں ۔
ان کے تشریف لانے سے زمین آسمان ہو گئی۔
ڈاکٹر صاحب حلیم الطبع ‘ نستعلیق اور محبت کرنے والےعلم دوست اور کتاب دوست انسان ہیں اور علم کا سمندر ہیں ۔ اللہ اللہ کیا انداز گفتگو کیا شیرینی تھی زبان میں ۔۔۔۔۔ میرے نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا” جس کو نرمی عطا کی گئی اسے خیر کثیر عطا کیا گیا” ڈاکٹر صاحب کی نرم گفتگو نے دل جیت لئے ۔ سرگودھا یونیورسٹی سے محترم خالد ندیم صاحب ساتھ تھے ۔ ندیم خالد صاحب ‘ ناچیز ‘ انجینئرجناب عنایت علی صاحب’جناب ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب’ انجینئر جناب محمد خان نیازی صاحب اور احباب ۔۔۔۔۔خانقاہ سراجیہ کے قدیمی کتب خانہ میں [ کتب خانہ مولوی احمد خان رح] جس کی بنیاد پڑدادا جی بانئی خانقاہ سراجیہ مولانا ابو السعد احمد خان رح 1920نے رکھی ۔(۲۸ نومبر، ۲۰۱۷)

۳۰۔ایک دوست نے کال کی
محمد حامد سراج تم اپنی زندگی اپنی توانائیاں کیوں برباد کرتے چلے جا رہے ہو ؟
میں سمجھا نہیں ۔۔۔۔
تم نے برسوں سے جو فیس بک پر کتابیں متعارف کرانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے یہ وقت کا ضیاع نہیں تو اور کیا ہے
تو مجھے کیا کرنا چاہیے ؟
یہ وقت تم اپنی تخلیق کو دو ۔۔۔۔ کتابوں کے تعارف کا کام اک دنیا کر رہی ہے ۔
اچھا ۔۔۔۔لیکن ۔۔۔
لیکن کیا ۔۔۔۔؟
تم میری بات پر توجہ دو
یار ۔۔۔۔ فیس بک میری زندگی کا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں مسافروں سے ملاقات کا سامان رہتا ہے ۔ کتابوں کی اک دنیا آباد ہے ۔ میں بھی زمین کے پلیٹ فارم پر مسافر ہوں ۔ اس پلیٹ فارم پر مجھے بہت اچھے انسان اور بہت اچھی کتابیں میسر آئی ہیں ۔
تو تم اپنا سفر جاری رکھو گے ۔۔۔۔
یقینی۔۔۔ ایک مسافر کا سفر رکتا کہاں ہے ۔ میرا مزاج کتاب اور انسان سے جڑا ہے نہ کہ “لائک” کی تعداد اور “کمنٹس” کے ساتھ ۔۔۔ میں نے کبھی لائک شمار نہیں کی ہیں ۔ گو لائک سامنے نظر آ رہی ہوتی ہیں لیکن میرے لئے ایک لائک بھی لاکھ ہے کہ کتاب کی خبر صاحب ذوق تک پہنچ گئی
راہ سفال گری میں چلتے کب یونہی حرم آ جاتا ہے
کمریں کوزہ ہو جاتی ہیں روح میں خم آ جاتا ہے ۔ (۲۲ نومبر، ۲۰۱۷)

۳۱۔  یوم پیدائش
21 اکتوبر 1958

یہ جو برسوں کا شمار ہے
اور
یہ جو کیلنڈر ہیں بکرمی ‘ عیسوی ‘ اسلامی
یہ ہماری زمین کے پیمانے ہیں
مہینے ‘ دن ‘ گھنٹے ‘ منٹ ‘ سیکنڈ
وقت رواں ہے اور ہم اسی وقت کے نامعلوم دورانئے میں موجود رہتے ہیں
ایک مدت کے بعد ہم جب نئے پیمانوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں کے پیمانے یکسر مختلف ہیں
یہ جو ہماری زمین کا عیسوی کیلنڈر ہے اس کے مطابق 21اکتوبر کو کل میری عمر 60 ویں پڑاو میں داخل ہو گی ۔۔۔۔انشاء اللہ ۔۔ کیا کھویا کیا پایا ۔۔۔۔۔؟
یہ سوال اہم نہیں
بس اتنا کہنا ہے
یہ زندگی بہت خوبصورت ہے بہت خوبصورت ۔۔۔۔۔ اسے ہنس کے جیا کیجئے ۔۔۔۔ تازہ دم رہا کیجئے خوش رہا کریں کہ ہم نے زمین سے جانے کے بعد نہیں لوٹنا ۔ یہاں ہر ہرپل قیمتی ہر پل خوبصورت ۔۔۔۔ سکھ کا موسم ہو یا دکھ ۔۔۔۔ وقت گزرتا رہتا ہے انسان کا کام ہے خوش رہنا ہنس کے جینا ۔۔۔۔ کسی کے نام دکھ نہ لکھنا۔

(۲۰ اکتوبر، ۲۰۱۷)

(نوٹ:یہ مواد محمد حامد سراج کی ’فیس بُک‘ پیج، پروفائل سے نقل ؍منتخب کیا گیا ہے۔)

https://web.facebook.com/hamid.siraj

تاریخ: ۱۲ دسمبر ۲۰۲۰

“Life and Works of Muhammad Hamid Siraj: The Fiction Genius of Mianwali”
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth” WRITERS & AUTHERS FROM MIANWALI

“Life and Works of Muhammad Hamid Siraj: The Fiction Genius of Mianwali”

 محمد حامد سراج   مٹی، روشنی، خاموشی اور فنا نہ ہونے والے لفظوں کا شہزادہ کچھ لوگ اس دنیا میں...
Read More
Voices from the Literary World: Reflections on Hamid Siraj
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Voices from the Literary World: Reflections on Hamid Siraj

محمد حامد سراج کے متعلق یہ آراء محض تاثرات نہیں بلکہ ایک عہد کے ادبی شعور کی گواہیاں ہیں۔ اُن...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 1
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 1

محمد حامد سراجؔ کی ادبی نثر (مقالہ ایم فل) عزیر قارئین! یہ مقالہ علی احمدؔ (ایف سی کالج (یونیورسٹی) لاہور) کی تحقیق...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 2
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 2

باب دوم محمد حامد سرا ج کے افسانوں کا فکر ی و فنی جائزہ محمد حامد سراج کے افسانوں کاموضوعاتی...
Read More
Muhammad Hamid Siraj — A Life in Pictures
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj — A Life in Pictures

محمد حامد سراج — تصویروں میں ایک پوری زندگی تصویری گیلری کا تعارفی پیراگراف یہ تصویری گیلری محمد حامد سراج...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 3
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 3

باب سوم محمد حامد سراج بطور ناول نگار: فکری و فنی جائزہ ناول کی تعریف   محمد حامد  سراج کے...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 4
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 4

باب چہارم محمد حامد سراج بطور خاکہ نگار: فکری و فنی جائزہ ’’میّا‘‘کا تجزئیاتی مطالعہ عورت اپنی اصل میں نہایت...
Read More
Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 5
Muhammad Hamid Siraj: A Literary Voice Carved in Devotion, Imagination, and Truth”

Muhammad Hamid Siraj ki Adabi Nasr -Part 5

باب پنجم متفرقات حامد سراج:فیس بُک اور تخلیقی نثر ادیب ، شاعر، فنکار اور تخلیق کار  یہ وہ لوگ ہوتے...
Read More

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top