“یہ پانی پینے کے لیے نہیں ہے” گلن خیل پھاٹک کے قریب اسکندر آباد کی صنعتوں سے نکلنے والے سیاہ بدبودار نالے کے کنارے نصب یہ بورڈ آپ یقین کریں، جانوروں کو خبردار کرنے کے لیے ہی لگایا گیا تھا وگرنہ کسی انسان کے لیے تو اس نالے سے پانی پینا درکنار اس کے قریب جانا بھی اذیت ہے اور پھربھی ہرسال ہمارے علاقے کی ناخواندہ بھینسیں یہ پانی پی کر چپ چاپ مر جاتی ہیں جن کا ماتم چار دیواری کی اندر سسکیوں کی صورت کر لیا جاتا ہے اور ہچکیوں کا شور تک برآمد نہیں ہوتا۔
ایک انسان زندگی کے اوائل میں ہی اتنے سارے خواب دیکھ لیتا ہے کہ پھر باقی ماندہ زندگی ان خوابوں کی تعبیریں ڈھونڈنے میں گزر جاتی ہے اور میں بھی آج ایک مدہم ہوتے خواب کی تعبیر ڈھونڈنے ادھر آ نکلا ہوں۔
میرا خواب، اٹک کوٹری ریلوے سیکشن پہ مسان اور مکھڈ روڈ ریلوے سٹیشنوں کے درمیاں، دریائے سواں کے عین کنارے بنے میانوالی کی ضلعی حدود کے آخری ریلوے سٹیشن سوہان بریج کے سامنے لگی سرخ پھولوں کی بیل کی اوٹ میں رکھے بینچ پہ بکھرا پڑا تھا اور تعبیر کی کرچیاں چننے کی تمنا لیے یا پھر بے سبب، میں سوئے منزل لڑھکتا جاتا ہوں ۔
سوہان بریج ریلوے سٹیشن کو بارہا میں نے چلتی ریل گاڑی کی کھڑکی سے یوں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا ہے جیسے خالی جیب لیے ایک بھوک کا مارا بچہ، خوانچہ فروش کو سانس روکے تکتا رہتا ہے، صدا سنتا رہتا ہے۔
سوہان بریج ریلوے سٹیشن کی طرف بڑھتی ریل گاڑی
آگے بھربھری و ریتلی چٹانوں کا ایک پہاڑی سلسلہ ہے جس میں سے گزرنے والی ہوا صدیوں سے مجسمے تراشنے پہ مامور ہے اور یہ مجسمے اس انتظار میں کہ کب کسی انجلینا جولی کی نظر پڑے اور وہ انھیں بھی پرنسز آف ہوپ کا نام دے کر امر کر دے، موسمی شکست و ریخت کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ان پہاڑیوں میں سے کسی صحرائی سانپ کی مانند رینگتی ہوئی سڑک چپکے سے دریائے سندھ کے دائیں کنارے آباد بنی افغان نامی گاؤں میں آ نکلتی ہے۔
خٹک قبیلے کی مخصوص بودوباش کی نمائندہ یہ بستی درحقیقت دور پھیلی درجنوں چھوٹی چھوٹی آبادیوں پہ مشتمل ہے۔ان ہی آبادیوں میں سڑک سے دائیں جانب قدرے گہرائی میں اترتی گلی کے نکڑ میں ایک مہمان نواز گھرانے کی بیٹھک کے دروازے میرے لیے کھولے جا رہے ہیں۔
بیٹھک ہے یا ثقافت و نفاست کا منبع ہے یا پھر پورا ایک جہاں ہے جہاں جدت اور روایت ایک ساتھ پنپ رہی ہیں ۔ میز پہ رکھا کپ جس نے سبز و سرخ رنگ کی قبا زیب تن کر رکھی ہے۔ سلیقے سے رکھے صوفے، دروازے جن سے دیودار کی خوشبو ابھی تلک آتی ہے۔دروازے میں کسی چوکس سنتری کی طرح ساکت کھڑے پردے، ان کے پیچھے کھنکتی چائے کی پیالیاں اور سنائی دیتی احتیاط بھری ہلچل کہ مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ دیوار پہ ٹنگا ایک آئینہ جس میں، میں اپنا عکس دیکھتا ہوں اور اس آئینے سے جھولا لیتی، رنگ برنگے دھاگوں سے بنی بیلیں اور ان بیلوں پہ اڑسے پھول الغرض فطرت و رنگوں سے شناسا دماغ اور ہنر سے آگاہ ہاتھوں کا وہ شاہکار ہے جو گمنام گوشے میں بھی پکار پکار کر اپنے بنانے والے کا نام لے رہا ہے۔ لوازمات سے آراستہ ایک یادگار چائے اور پھر سے ملنے کی امید لیے بھاری دل کے ساتھ اجازت۔۔۔۔
پلیٹ فارم چھوڑتی تھل ایکسپریس
ابلے ہوئے نرم گرم نمکین چنے، مہمان مسافر کی دلچسپی دیکھتے ہوئے میزبان نے سرخ ڈھکن کی ایک خوبصورت ڈبیا میں ہمراہ کر دیے اور اب میں اکیلا نہیں ہوں۔
سڑک سے ملحق قبرستان ہے جہاں باپ دفن ہیں۔جن کی قبروں کی نم آلود مٹی سے، گھروں میں بند بیٹیوں کے قلوب میں جڑ پکڑے جدائی کے روگ اور درد کے پیڑ نمو لیتے ہیں۔
سنی پل کے پار پیر پہائی چیک پوسٹ سے پہلے دائیں ہاتھ ڈھوک بھرتھال ہے۔ قدیم وقتوں سے آباد، جیتا جاگتا سانس لیتا ایک گاؤں جو میانوالی کے خطہ اعوان کاری سے جغرافیے کے اعتبار سے تو دور معلوم ہوتا ہے لیکن طرزِ رہن سہن اور طرزِتکلم میں مماثلت رکھتا ہے۔
چاچا جی میں سوہان بریج ریلوے سٹیشن تے ونجڑاں ایں راہ تاں ڈسو۔
ریلوے پل اور چنے
بھتریا، راستہ تو یہی ہے لیکن آگے نالے میں پڑیوں والی دو اترائیاں چڑھائیاں ہیں جہاں سے راستہ ایک دہائی بیت گئی، مٹ چکا ہے۔ اتنا متروک كہ پیدل بھی بہت مشکل راہ گزر ہے تو بائیک کیسے لے جاؤ گے؟
چاچا جان آپ دعا کریں اور یوں گاؤں سے شمال مشرقی جانب باہر نکلتی گلی سے میں ڈھوک بھرتھال سے نکل کر پانی کی راہ گزر میں ہوں۔
راستے میں ماں کی عمر کی خواتین جن کے چہروں پہ عمر کی نہیں استقامت کی جھریاں ہیں، سر پہ نوکیلی جھاڑیوں کے گٹھے اٹھائے دعاؤں کے پھول مجھ پہ اچھالتی میری رہبری کر رہی ہیں ۔ تہہ در تہہ چٹانی مٹی کی بل کھاتی چڑھائی، ایک موڑ کے بعد نیا موڑ، راستہ زندگی کا خلاصہ کھولے میرا منہ چڑا رہا ہے اور میں لرزتا ہوں لیکن بڑھتا چلا جاتا ہوں جیسے ان ماؤں کی دعائیں مجھے پشت سے دھکیل رہی ہوں۔
اوپر مرحلہ وار کھیت ہیں۔کھیتوں میں خواتین کام کر رہی ہیں اور کھیتوں اور کھائی کے درمیاں ایک پیچ و خم کھاتی پگڈنڈی ہے جو سوہان بریج ریلوے سٹیشن کی جانب اٹھتی ہے۔
سوہان بریج ریلوے سٹیشن کی مسجد
درجنوں فٹ گہرائی میں چپ چاپ، فنا ہونے کے ڈر سے مغموم، دریائے سواں بہہ رہا ہے۔ چرواہے کے مطابق برسات کے موسم میں دریائے سواں اتنا چنگھاڑتا ہے کہ پل پہ کھڑے شخص کا دل بھی مٹھی میں آ جاتا ہے۔ دریائے سواں کا مری کی پہاڑیوں سے شروع ہونے والا تقریبا 250 کلومیٹر طویل سفر، یہاں پیرپہائی کے قریب اختتام پذیر ہونے کو ہے جہاں اس نے خود کو دریائے سندھ کے سپرد کر دینا ہے۔دریائے سواں پہ سی پیک سواں پل اور کالاباغ- جنڈ روڈ سواں پل کے درمیان شاہکار طرزتعمیر کے حامل ریلوے پل کے کنارے پراسرار خاموشی میں ڈوبا ریلوے سٹیشن سوہان بریج ہے جس کی جانب ریل گاڑی کے علاوہ کسی بھی ذرائع آمدورفت کی گزر نہیں، رسائی نہیں اور یہاں تک کہ پانی بھی ناپید ہے۔ مرکزی ہال میں کندیاں سے تعلق رکھنے والے ریلوے ملازمین روٹی بنانے میں مصروف ہیں جو مجھے مسافر و علاقائی قربت کی وجہ سے بارہا کھانے کے لیے بلا رہے ہیں۔
برامدے میں رکھے بینچ پہ ٹھوڑی ہتھیلیوں پہ ٹیکے بیٹھا ہوں اور میرے پہلو میں میرے محسن میزبان کے دیے گئے چنے ہیں جنھیں میں یوں ترتیب سے دھیرے دھیرے کھا رہا ہوں جیسے ہر چنے پہ اس کی باری کا نمبر کندہ ہو۔میرے سامنے سرخ پھولوں سے لدی ایک بیل ہے اور سامنے ریلوے ٹریک ہے۔ ریلوے پل سے ایک خاتون لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے گزر رہی ہے۔ انگریز سرکار نے پل کو یوں ڈیزائن کیا ہے کہ ڈیڑھ سو سال گزرنے کے بعد بھی یہ پل آج بھی ریل گاڑی سمیت مویشیوں و پیدل چلنے والوں کی محفوظ راہ گزر بھی ہے۔
میرے اردگرد وقت کا گہرا سناٹا ہے جس کے عقب میں زمانے بیتے جا رہے ہیں۔ ریلوے پل کے نکڑ میں نصب سگنلز ٹاور سے سگنل ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ وہ دور سامنے سے تھل ایکسپریس آ رہی ہے جس کی آخری منزل مدینتہ الاولیاء ملتان ہے۔ ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے کہ پوری ریل گاڑی پل کے عین اوپر دریائے سواں پہ معلق ہے اس کا زمینی رابطہ محض اینٹوں کے بنے دریائے سواں کی نمی میں پیوست ستونوں کے ذریعے ہے۔ ریل گاڑی آہستہ آہستہ سٹیشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔
خواب کو دہرا لیتے ہیں کہ سوہان بریج ریلوے سٹیشن کے سامنے سے گزرتی ریل گاڑی کی کھڑکی والی سیٹ پہ بیٹھا قمر، شیشے پہ آنکھیں رکھے، سٹیشن کی عمارت کے سامنے سرخ پھولوں کی لدی بیل کے عقب میں رکھے خالی بینچ کو حسرت بھری نگاہوں سے تکے جا رہا ہے۔ ریل گاڑی کی رفتار بس اتنی دھیمی ہے کہ خواب حسرت کی صورت، لمحے بن کر بس آنکھوں میں ٹھہر سکتا ہے۔
منظر پھر قلابازی لیتا ہے۔ ریل گاڑی آہستہ آہستہ ریلوے سٹیشن کی طرف بڑھ رہی ہے۔سرخ بیل کی اوٹ میں رکھے بینچ پہ قمر بیٹھا ہے اور وہ سامنے دھیرے دھیرے گزرنے والی ریل میں کھڑکی کے ساتھ والی نشست خالی پڑی ہے۔ کبھی کسی خواب کی تعبیر برسوں کا انتظار مانگتی ہے۔ کبھی خواب میں ہی آنکھیں موند لی جاتی ہیں۔ کبھی تعبیر پانے کے لئے جاگنا پڑتا ہے۔ دوسرے منظر کو دیکھنے کے لیے پہلا منظر چھوڑنا پڑتا ہے بس یہی زندگی کا فلسفہ ہے اور مناظر کے درمیاں فقط اتنا وقفہ ہے کہ ایک مرنے کی خاطر عمر بھر جینا پڑتا ہے اور پھر خواب و تعبیر کے سفر بھی فنا ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ بینچ پہ اب تعبیر کی کوئی کِرچی بھی باقی نہیں ہے اور کھڑکی کی ساتھ والی نشست بھی خالی ہے۔بس ایک معدوم ہوتا شور ہے جس کے پیچھے گہرا سناٹا ہے۔

