حضرت علامہ مولوی نور خان رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ ( چکڑالہ) خلیفہ حضرت عثمان دامانی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ موسٰی زئی شریف
آپ چکڑالہ کی مردم خیز سرزمین میں اندازاً 1845 ء میں ایک اچھے خاصے زمیندار حضرت ملک غازی خان کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق اعوان قبیلے سے تھا ۔ آپ کے والد صاحب علاقے کے سردار اور نمبردار بھی تھے۔ انہوں نے آپ کو دینی تعلیم کی طرف راغب کیا۔آپ نے ابتدائی تعلیم چکڑالہ اور گرد ونواح سے حاصل کی اور اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے مدرسہ نعمانیہ لاہور داخل ہوئے ۔ مزید تعلیم کے لئے آپ رام پور ہندوستان تشریف لے گئے ۔
بیعت و خلافت کے لئے جستجو: آپ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی درگاہ پر حاضرہوئے مقصد یہ تھا کہ صاحبِ مزار سے راہنمائی حاصل ہو کہ میں کس جگہ جا کر راہبر شریعت تلاش کروں۔ اسی جستجو میں وہاں کافی دن قیام پذیر رہے پھروہاں سے آپ کو موسیٰ زئی شریف کی طرف جانے کا حکم ہوا۔
حضرت خواجہ عثمان دامانی علیہ الرحمہ کی خدمت میں: آپ کو یہ علم نہ تھا کہ موسیٰ زئی شریف کہا ں ہے۔ لوگوں سے راہنمائی لیتے ہوئے دہلی سے آپ نے پیدل سفر شروع کیا اور پوچھتے ہوئے آخرکار منزل مقصود ڈیرہ اسماعیل خان میں موسیٰ زئی شریف حضرت خواجہ عثمان دامانی علیہ الرحمہ کی خدمت میں جا پہنچے بیعت کرنے کے بعدآپ کی خدمت میں رہ کر سلوک کے تمام مراحل طے فرمائے اور آپ سے خلافت حاصل کی۔
خدمت شیخ: آپ نے اپنے پیر و مرشد کی دل و جان سے خدمت کی۔ ایک دفعہ آپ کو اپنے گھر چکڑالہ سے اطلاع ملی کہ آپ کے بھائی بہت زیادہ بیمار ہیں ۔ آپ اجازت لے کر موسیٰ زئی شریف سے روانہ ہوئے راستہ میں جنگل پڑتا تھا اور آپ نے دیکھا کہ ایندھن کے لئے لکڑی وافر مقدار میں موجود ہے ۔ موسیٰ زئی شریف میں لکڑی کی از حد ضرورت رہتی تھی اور اس کی بے حد قلت بھی ہوتی تھی۔ چنانچہ آپ اپنا کام بھول گئے اور لکڑیاں اکٹھی کرنے میں مشغول ہوگئے پھر قریبی بستی سے جا کر اونٹ مانگ کر لے آئے اور لکڑیاں لاد کر اپنے پیر و مرشد کے آستانے پر جا پہنچے ۔ آپ کے پیر و مرشد نے پوچھا کہ لکڑیاں کون لایا ہے؟عرض کیا گیا مولوی نورخان صاحب لائے ہیں ۔ فرمایا! ان کا بھائی سخت بیمار تھا عرض کیا گیا راستے سے لکڑیاں چن کر اکٹھی کرکے واپس آ گئے ہیں۔ آپ نے ان کو بلا بھیجا ۔ آپ حجرہ میں پہنچے اور احوال عرض کیا تو خواجہ صاحب مسرت سے اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کو سینے سے لگا لیا اور فرمایا کہ آپ نے بھی اور آپ کے بھائی نے بھی فلاح پائی اور علم معرفت سے آپ کو مالا مال کردیا۔
پیر و مرشد کا ادب: ایک دفعہ مولوی حسین علی واں بھچراں والے جو آپ کے پیر بھائی تھے، سفر پر تھے ۔ آپ کے پیر و مرشد نے حکم دے رکھا تھا کہ بے نماز عورت کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کبھی نہیں کھانا ہے۔ دوران سفر ایک گھر میں جا کر مہمان ہوئے۔ آپ کو معلوم تھا کہ وہ گھرانہ بے نماز ہے۔ قیام کرنا مجبوری کی وجہ سے تھاکہ اور جگہ میسر نہ تھی۔ میزبان نے کھانے کا پوچھا تو آپ نے انکار کر دیا ۔ میزبان نے باربار کھانے کا کہا تو مولوی حسین علی سے نہ رہا گیا اور اس نے کہا کہ میرے لئے تو لے آؤ یہ مولوی صاحب تو اپنے پیر و مرشد کے حکم پر عمل پیرا ہو رہے ہیں مجھے سخت بھوک لگی ہے چنانچہ اس نے کھانا کھا لیا لیکن آپ نے بے نماز کے ہاتھ کا بنا کھانا نہ کھاکر اپنے پیر و مرشد کے حکم پر عمل کیا ۔
تدریس: آپ مراحل سلوک کی تکمیل کے بعد گھر تشریف لائے اور لوگوں کو دین کی تعلیم دینا شروع کر دی۔ یہاں مدرسہ بنایا اور ایک وقت میں بعض اوقات دو، تین سو طالب علم حاضر ہوجاتے تھے ۔ آپ ان کو پڑھاتے تھے آپ کے شاگردوں میں حضرت پیر غلام حسن( سواگ شریف)، مولوی ولی اللہ انہی (گجرات)، مولانا محمد امین (لیہ)، مولانا خواجہ بہاؤالدین (موسیٰ زئی شریف)اور حضرت خواجہ سراج الدین (موسیٰ زئی شریف) شامل ہیں۔
حضرت خواجہ سراج الدین علیہ الرحمہ سے آپ نے تجدید بیعت بھی کی تھی اور مواہب رحمانیہ میں تحریر ہے کہ حضرت خواجہ عثمان دامانی علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت خواجہ سراج الدین علیہ الرحمہ کی جب دستار بندی کی گئی تو اس موقع پر آپ کی بھی دستار بندی کی گئی جو کہ بحیثیت استاد تھی۔
فوائد عثمانیہ میں آپ کا تذکرہ یوں بیان کیا گیا ہے ‘‘از عمدہ اصحاب و زبدۃ خلفائے حضرت قبلہ ما قلبی و روحی فداہ اند عالم فاضل صالح حلیم خوش طبع علم فقہ و حدیث در ہندوستان حاصل کردہ و اخذ طریقہ شریفہ نقشبندیہ مجددیہ از حضرت قبلہ گرفتہ ملازم صحبت شریف گشتہ الخ’’
وصال: آپ کا وصال 1908 ء میں ہوا۔ آپ کا مزار چکڑالہ میں ہے۔
اولاد: آپ کی اولاد میں تین بیٹے مولوی محمد عبداللہ، مفتی محمد ابراہیم اور حافظ محمد قاسم ہوئے۔
حوالہ جات:
۱۔ مواہب رحمانیہ (جلد سوم)
۲۔ فوائد عثمانیہ
ملک محمد عبدالخالق صاحب بھکر نے یہ معلومات فراہم کیں جس کے لئے ان کا شکر گزار ہوں
تحریر-سید طارق مسعود کاظمی-مصنف کتاب سرزمین اولیا میانوالی
