MERA MIANWALI JANUARY 2020

منورعلی ملک کےجنوری 2020 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی————-

سوڈان شمالی افریقہ کا ایک اسلامی ملک ھے – اس کی سرحدیں مصر اور لیبیا سے ملتی ھیں –
پرسوں کی خبر ھے کہ سوڈان کی ایک عدالت نے خفیہ ایجنسیوں کے زیر حراست ایک ٹیچر کی موت پر ان خفیہ ایجنسیوں کے 29 اعلی افسران کو سزائے موت سنادی –
کاش ھماری عدلیہ بھی اتنی ھی آزاد ھوتی – ھمارے ھاں تو پچھلے سال ایک ٹیچر نیب کی حراست میں جاں بحق ھوگیا – ھتھکڑیوں میں جکڑی ھوئی اس کی لاش میڈیا پر بھی وائرل ھوئی ، مگر اس کی موت کی ذمہ داری کا تعین کرنے کی زحمت ب>ھی گوارا نہ کی گئی – عدلیہ بھی خاموش ، ادارے بھی چپ ، نہ حکومت نے کوئی ایکشن لیا ، نہ اپوزیشن نے شورمچایا ، نہ عوام کا کوئی احتجاجی مظاھرہ دیکھنے میں آیا –
انسان یہ سوچ کر لرز اٹھتا ھے کہ ھماری اس بے حسی اور بے نیازی کے خلاف ایکشن اگر رب جلیل نے لے لیا تو پھر کیا ھوگا –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-2 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

آگ —– دھوپ —— گڑ

سردی کے یہ تین علاج ھؤا کرتے تھے – لوگ شام کے بعد دیر تک آگ تاپتے رھتے – جلانے کے لیے خشک لکڑی عام مل جاتی تھی – لوگ جب تک جاگتے رھتے ، آگ کے گرد بیٹھے رھتے –
دن کو دھوپ میں بیٹھنے کا بھی ایک اپنا مزا تھا – گھروں کے کھلے صحنوں میں یا گھر سے باھر کھلے میدانوں میں بیٹھ کر لوگ دن بھر دھوپ تاپتے رھتے، باتیں یا کوئی نہ کوئی کام بھی ساتھ چلتا رھتا – صحن کھلے ھونے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ دن بھر دھوپ صحن میں موجود رھتی تھی – داؤدخٰیل میں اکثر گھروں کے صحن دوچار کنال کے ھوتے تھے – ھمارے گھر کا صحن اب بھی چار کنال کا ھے –

سردی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پشاوری گڑ کثرت سے کھایا جاتا تھا – یہ گڑ مردان کے شہر ھاتھیان کی منڈی سے آتا تھا – اس گڑ کی روڑی عام گڑکی بھیلی سے چھوٹی ھوتی تھی – سرخ رنگت کی وجہ سے اسے “رتا گڑ“ (لال گڑ) بھی کہتے تھے عام گڑ ذرا سا ترش (کھٹا) ھوتا ھے ، مگر پشاوری گڑ شہد کی طرح میٹھا ھوتا تھا – بہت عرصہ سے دیکھا نہیں —– اب پتہ نہیں بنتا ھے یا نہیںً — ایک دو روڑیاں کھانے سے سردی کا احساس ختم ھوجاتا تھا – شدید سردی میں راتوں کے پچھلے پہر کھیتوں کو پانی دینے کے لیے جاتے وقت کسان لوگ گڑ کی دو چار روڑیاں جیب میں ڈال لیتے – یہ سردی کے مقابلے کے لیے ان کا اسلحہ ھؤا کرتا تھا ۔

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-3 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

–یادیں——–1993
وفاقی وزیر مذھبی امور مجاھدملت مولانا عبدالستارخان نیازی
مہمان خصوصی کانوووکیشن گورنمنٹ کالج میانوالی
پکچر(دئیں سے بائیں ) – پروفیسرمحمدسلیم احسن ، پروفیسر عبدالوحید قریشی
مولانا عبدالستارخان نیازی ۔ پرنسپل پروفیسرملک محمد انورمیکن ، پروفیسر سلطان محمود اعوان , ڈی پی ای ، حاجی محمد ممتاز خان –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-4 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

MB- 693
ھمارے بچپن کے دور میں اکثر بیماریوں کا علا ج MB -693 نام کی گولی ھؤا کرتی تھی – پیناڈول جتنے سائیز کی یہ گولی سلفا ڈرگس Sulfa Drugs کی قسم Sulfanilamide سے تعلق رکھتی تھی – اس کا کوئی ذائقہ نہ تھا- بیکٹیریا سے پیدا ھونے والی بیماریوں بالخصؤص موسم سرما کی بیماریوں (نمونیا وغیرہ) کا یہ بہت مؤثر علاج تھی –
دیہات میں میڈیکل سٹور تو ھوتے نہیں تھے ، تاھم یہ گولی کریانے کی دکانوں پہ بھی عام مل جاتی تھی – ایک روپے کی دس پندرہ گولیاں مل جاتی تھیں – ان پڑھ بزرگ خواتین بھی ایم بی کی گولی کہہ کر آسانی سے خرید لاتی تھیں -کسی کو چھوٹا موٹا زخم لگ جاتا تو یہی گولی پیس کر زخم پر لگا دی جاتی تھی – کان میں درد ھوتا تو یہ گولی گلاب کے عرق میں حل کرکے کان میں ڈال دی جاتی – اس زمانے میں آج جیسی موذی بیماریاں بھی نہیں ھوتی تھیں – ھمارے زمانے کے لوگ تو اسی گولی کی مدد سے ھربیماری سے بچ بچا کر ساٹھ ستر سال زندگی گذار لیتے تھے –

بعد میں جب پنسلین اور دوسری بے شمار اینٹی بایوٹک ادویات مارکیٹ میں متعارف ھوئیں تو MB -693 اور دوسری سلفا ڈرگس پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی گئی کہ ان کے مضراثرات side effects بہت زیادہ نقصان دہ ھیں – اصل مقصد نئی دواؤں کی مارکیٹنگ تھا – زیادہ پیسے کمانے کا یہ بھی ایک بہانہ تھا ، ورنہ مضراثرات تو آج کی مشہورو معروف دواؤں کے MB -693 وغیرہ سے کہیں زیادہ ھولناک ھیں –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-5 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

کل MB-693 کا ذکر ھؤا جو بہت سی بیماریوں کا بہت کامیاب علاج تھی – درا صل
MB اس دواساز کمپنی کا مخفف نام تھا جو یہ گولیاں بناتی تھی – کمپنی کا پورا نام تھا May & Baker -MB-693 کے علاوہ ایک گولی MB -760 بھی ھؤا کرتی تھی – یہ ذھنی سکون کا علاج ھؤا کرتی تھی – اس زمانے میں ذھنی سکون کا مسئلہ بہت کم لوگوں کا ھوتا تھا – اس لیئے بہت کم استعمال ھوتی تھی –
سلفا ڈرگس میں سے سلفا گونا ڈین نام کی گولی پیچش کا نہایت مؤثر علاج ھؤا کرتی تھی – اس کا اصل نام تو سلفا گونی ڈین تھا ، مگر لوگ اسے گونا ڈین ھی کہتے تھے – گولی کی بجائے اکثر لوگ سلفا گوناڈین سیرپ (شربت ) استعمال کرتے تھے –

ڈاکٹر دیہات میں ھوتے نہیں تھے – لوگ سنی سنائی باتوں پر عمل کرکے یہ دوائیں استعمال کرتے تھے – پھر بھی اللہ کے فضل سے علاج سو فی صد کامیاب ثابت ھوتا تھا – گھر میں کوئی بیمار ھوتا تو نانیاں دادیاں کہتی تھیں “ اس کو ایم بی نی گولی ڈیو چا“ –
اللہ شاید اس سادگی کی وجہ سے اتنا مہربان تھا کہ نانیوں دادیوں کے بتائے ھوئے علاج سے بھی بیماروں کو شفا دے دیتا تھا –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-6 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے کچھ ٹوٹکے بھی ھؤا کرتے تھے – یہ ٹوٹکے بھی بہت موثر تھے –

مٹھی بھر تازہ بھونے ھوئے چنے نزلہ زکام کا کامیاب علاج ھؤا کرتے تھے – ملیریا اور نمونیا کا علاج پانی سے کیا جاتا تھا – چھری کو آگ میں اتنا تپاتے کہ وہ سرخ ھو جاتی ۔ پھر وہ چھری پانی سے بھرے ھوئے کٹورے میں ڈبو دیتے – شوں شوں کی آؤاز کے ساتھ پانی کے بخارات دھوئیں کی طرح اٹھتے نظر آتے – پھر وہ نیم گرم پانی مریض کو پلادیتے تھے – اس عمل سے پانی ایک ھلکا سا اینٹی بایوٹک بن جاتا تھا جو چھوٹی موٹی بیماریوں کا خاتمہ کردیتا تھا -بچوں کی بیماری خسرہ کا علاج منقی (میوہ یا کشمش) اور ھرمل کے دھوئیں سے کیا جاتا تھا – خسرہ بچوں کی عام بیماری تھی جو دس سال کی عمر تک کے بچوں کو لاحق ھوتی تھی – تیزبخار کے ساتھ پورے جسم پر پت کی طرح چھوٹے چھوٹے دانے سے نمودار ھوجاتے – مناسب علاج نہ ھونے سے بچے کی موت بھی واقع ھو سکتی تھی – مریض بچے کو دن میں دوچار بار میوہ کھلایا جاتا ، اور مٹی کی پلیٹ میں دہکتے ھوئے کوئلوں پر ھرمل کابیج ڈال کر بچے کو اس کا دھؤاں دیا جاتا تھا – سانس کے ذریعے یہ دھوآں جسم کے اندر جا کر خسرہ کے جراثیم کو ختم کر دیتا تھا –
آج کل خسرہ کا علاج سیپٹران Septran یا کلورو مائی سیٹین Chloromycetin سے کیا جاتا ھے –
رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-7 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

شرم و حیا کا دور

دیہات میں پردے کا رواج نہ تھا – مگر خواتین کا لباس مکمل پردے سے کم نہیں ھوتا تھا – اس سے بھی زیادہ اھم بات یہ تھی کہ کسی خاتون کو گلی میں آتے دیکھ کر مرد فورا وھاں سے چلے جاتے تھے – اگر رکنا ضروری ھوتا تو منہ پھیر کر اور نگاھیں جھکا کر ایک سائیڈ پہ ھو جاتے تھے -تقرئبا تیس سال پہلے ایک دن شام کے قریب بھیرہ سے ایک خاتون میرے ھاں آئیں – کہنے لگیں-

“ سر ، میں بھیرہ سے آئی ھوں – میری بہن نے ایف اے کا امتحان دیا ھے – ھمارے ایک رشتہ دار نے ھمیں بتایا ھے کہ میری بہن کا انگلش کا پیپر آپ کے پاس آیا ھے – سر، ھم دو یتیم بہنیں ھیں – میں شادی شدہ ھوں ، چھوٹی بہن کی شادی ھونی ھے – میں چاھتی ھوں وہ ایف اے پاس کرکے کسی سکول میں جاب کرلے تو اس کے لیے کوئی اچھا رشتہ مل جائے – اگر آپ مہربانی کرکے اسے انگلش میں پاس کردیں ——-

میں نے کہا “ بیٹا ، یہ کام تو میں کردوں گا ، آپ یہ بتائیں آپ نے اس کام کے لیے اتنی دور آنے کی جراءت کیسے کر لی ؟“

بچی کا جواب سن کر میرا سر فخر سے بلند ھو گیا – بچی نے کہا “ سر ، میرے شوھر شناختی کارڈوں کے محکمے میں ملازم تھے – میں چارسال میانوالی رہ چکی ھوں – میں جانتی ھوں کہ میں ساری رات سڑک پر اکیلی بھی کھڑی رھوں تو کوئی میری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا “-

اللہ کرے ھم اپنی یہ شپرت برقرار رکھ سکیں -٠

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-8 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

کچھ لے تو گئے ، کچھ دے بھی گئے

انگریزوں کو جتنی گالیاں چاھیں دے لیں ، ان کے دور حکومت میں ھمیں بہت کچھ ملا جس سے ھم آج بھی مستفید ھو رھے ھیں – اگرانگریز یہاں نہ آتے تو ھم آج بھی ریل گاڑیوں کی بجائے بیل گاڑیوں اور تانگوں پر سفر کرتے – یہ سفر انگریزی والا سفر suffer ھوتا جس میں سفر کم ، دھکے اور جھٹکے زیادہ لگتے -پشاور سے کراچی تک ریلوے لائین سے ھم آج بھی استفادہ کر رھے ھیں –

پشاور سے ملتان جاتے ھوئے اٹک سے جنڈ تک ٹرین کئی سرنگوں سے گذرتی ھے – یہ سرنگیں اور ریلوے لائین انگریز ھی بنا کر ھمیں دے گئے – ریلوے کا نظام ایسا تھا کہ کوئی ٹرین ایک منٹ بھی لیٹ ھو جاتی تو ریلوے کے حکام کی نوکری خطرے میں پڑ جاتی تھی –
سڑکیں اور کاریں ، بسیں ٹرک وغیرہ بھی اسی دور میں آئے – ھم تو ابھی تک اپنی کار بھی نہیں بنا سکے – چین اور جاپان کی موٹرساز کمپنیوں سے گاڑیاں بنوا کر گذارہ چلا رھے ھیں –
یہ سب کچھ کہنے کا مقصد انگریزوں کی تعریف کرنا نہیں ، صرف کچھ حقائق بتانا ھے – ھم نے بچپن کے ابتدائی چند سالوں میں انگریزوں کا دور حکومت دیکھا – پوسٹس کا یہ نیا سلسلہ اس دور کے تجربات و مشاھدات کی داستان ھوگا –

اھل فکرونظر کےلیے اس داستان میں کچھ قابل غور ، قابل عمل باتیں بھی ھوں گی –
شاید کہ اترجائے ترے دل میں مری بات-

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-9 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

پاکستان میں نہروں کا نظام دنیا میں اپنی مثال آپ ھے – قدرت نے اس سرزمین میں دریاؤں کا جو جال بچھایا تھا ، انگریزوں نے ان دریاؤں کا پانی میدالی علاقوں تک پہنچانے کے لیے نہروں کا جال بچھا دیا – پنجاب میں 6 دریا تھے ، دریائے سندھ، جہلم ، چناب ، راوی ، ستلج اور بیاس – ھماری حکومتوں کی نالائقی کے باعث دومشرقی دریاؤں (ستلج اوربیاس) پر بھارت نے ڈیم بنا کر قبضہ کر لیا – ان دریاؤں میں پانی اب صرف برسات کے موسم میں آتا ھے ، وہ بھی صرف تباھی پھیلانے کےلیے – باقی چار دریاؤں (سندھ ، جہلم ، چناب اور راوی) میں سے نکلنے والی متعدد نہریں قیام پاکستان کے وقت پاکستان کے حصے میں آئیں – نہروں کا یہ نظام انگریزوں ھی نے بنایا تھا – ان نہروں نے پنجاب اور سندھ کی زرخیز مٹی کو سونا بنا دیا – گندم ، کپاس ، گنا اور چاول کی پیداوار میں پاکستان انہی نہروں کی وجہ سے خود کفیل ھؤا -انگریزوں کی بنوائی ھوئی آخری نہر تھل پراجیکٹ کینال ھے ، جو داؤدخیل میں جناح بیراج سے نکل کر میانوالی شہر سے ھوتی ھوئی جنوبی اضلاع کی طرف رواں دواں ھے – یہ نہر 1946 میں مکمل ھوئی –

چوتھی کلاس میں پنجاب کی نہروں کے بارے میں معلومات ھمارے کورس میں شامل تھیں – بہت رٹا لگایا تھا ھم لوگوں نے ، مگر اب بہت کچھ بھول گئے –

پنجاب کی طرح سندھ میں بھی ںہروں کا جال بچھا ھؤا ھے – انگریز کا دیا ھؤا نہری نظام پورے ملک کو رزق فراھم کر رھا ھے –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-10 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

قانون کا احترام (یا خوف کہہ لیں) انگریزی دورحکومت میں اتنا مؤثر تھا کہ ھرسرکاری ملازم اپنے فرائض پوری دیانت داری سے ادا کرتا تھا – ٹیچر، ڈاکٹر، کلرک ، افسر ، سب لوگ اپنا اپنا فرض سو فی صد ادا کرتے تھے – غفلت ، کام چوری ، ٹال مٹول ، سفارش ، رشوت ، سیاسی مداخلت کا نام و نشان تک نہ تھا –
ھر ضلع کا ڈپٹی کمشنر (ڈی ،سی) اور پولیس کا سربراہ (ایس ، پی ) انگریز ھوتا تھا – یہ افسر نہ خود آرام سے بیٹھتے تھے نہ اپنے ماتحتوں کو بیٹھنے دیتے تھے – خود بھی ڈٹ کر کام کرتے ، ملازموں سے بھی پورا پورا کام لیتے تھے –

انتظامیہ کے افسروں کے انتخاب ( سی ایس ایس / پی ایم ایس ) اور تربیت کا نظام بھی انگریز ھی بنا کر دے گئے – بنیادی اصول اب بھی وھی ھیں ، مگر بدقسمتی سے سفارش اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے سول سروس کا معیار پہلے جیسا نہیں رھا – اگر افسروں کو آزادی سے کام کرنے دیا جائے تو بہت سے مسائل پیدا ھی نہیں ھوں گے – یہ کہنا غلط نہ ھوگا کہ اپنے مفادات کا تڑکہ لگا کر ھمارے سیاسی غیر سئیاسی دونوں طرح کے حکمرانوں نے انتظامیہ کا بیڑا غرق کردیا – بیڑا غرق کرنے کا یہ عمل صرف آج نہیں ، ھر دور میں ھوتا رھا –
انگریز کے دور میں سفارش یا سیاسی مداخلت کا تصؤر بھی ناممکن تھا –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-11 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ ھمارے ھاں انگریز وں کا دیا ھؤا نظام تعلیم آج بھی چل رھا ھے – اسی نظام تعلیم نے ھمیں قائداعظم محمدعلی جناح ، علامہ محمد اقبال اور ڈاکٹر عبدالقدیرخان جیسی تاریخ ساز شخصیات عطا کیں –

سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ اب ایسی شخصیات ھمارے ھاں کیوں پیدا نہیں ھوتیں – اس سوال کا جواب میرے خیال میں یہ ھے کہ کام چوری اور صرف پیسہ کمانے کی حرص کے باعث ھم نے خؤد اس نظام کا ستیا ناس کر دیا ھے – ٹیچرز اپنے کام کو صرف ذریعہ معاش سمجھتے  ھیں –

ھمارے ٹیچرز اپنے کام کو عبادت سمجھتے تھے – کئی دفعہ اپنی پوسٹس میں بتا چکا ھوں کہ ھمارے ٹیچرز کسی ٹیوشن فیس کے بغیر پوری کلاس کو چھٹیوں میں بھی پڑھا یا کرتے تھے – جب ھم ٹیچر بنے تو ھم بھی یہی کرتے رھے ->امتحانوں میں ناجائز ذرائع ( نقل ، رشوت ، سفارش) کی وجہ سے لوگ میٹرک اور ایف ایس سی میں 90 فیصد تک نمبر لینے لگے – اب میڈیکل اور انجنیئرنگ کالجوں میں داخلے کا میرٹ دیکھ لیں ،80 فیصد سے کم نمبر لینے والا میڈیکل یا انجینیئرنگ کالج میں داخلے کا سوچ ھی نہیں سکتا – اتنے نمبر لینے کے لیے بے تحاشہ پیسہ خرچ کرنا پڑتا ھے – اکیڈیمیوں اورٹیوشن سنٹرز کی خدمات حاصل کرنی پڑتی ھیں -ھمارے زمانےمیں تو سیکنڈ ڈویژن ایف ایس سی کو آسانی سے میڈیکل کالجوں میں داخلہ مل جاتا تھا – اور وہ آج کے 90 فیصد نمبر لینے والوں سےبہتر ڈاکٹر ھوتے تھے – ھر ایم بی بی ایس ڈاکٹر اچھا فزیشن بھی ھوتا تھا ، سرجن بھی – اس دور میں اکیڈیمیاں اور ٹیوشن سنٹرز بھی نہیں ھوتے تھے –

تعلیم میرا اپنا فیلڈ ھے – اس میں جو خامیاں میں نے دیکھیں لکھتے ھوئے بھی دل دکھتا ھے –
بڑی طویل کہانی ھے ، پھر کبھی اے دوست

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-12 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

-ملاقاتیں —————-
دو فنکار ، دو شاعر
اسلام آباد —- 13 جنوری 2020

(علی عمران ، فیاض کاظمی ، اورسلیم شہزاد کے ساتھ)

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-14 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

اسلام آباد میں میانوالی والا روٹین برقرار رکھنا ممکن نہیں – کہیں نہ کہیں آناجانا پڑتا ھے – اھلیہ کا علاج ابھی جاری ھے – لاھور , داؤدخیل اور میانوالی سے فیملی کے لوگ بھی آتے جاتے رھتے ھیں – آنے والے مہمانوں کی تواضع ، اور جانے والوں کو رخصت کرنے کی مصروفیات کے باعث بعض اوقات آپ کی محفل میں حاضری کا ناغہ کرنا پڑٹا ھے – ایسی اچانک غیر حاضریوں کے لیے معذرت –

روزانہ انگلش پوسٹس چار سال تک لکھتا رھا – یہ پوسٹس ھر شام 7 سے 8 بے کے درمیان لکھا کرتا تھا – اسلام آباد میں یہ وقت G-11 , G-13 ، ۔ یا جناح سپر مارکیٹ میں روزمرہ ضرورت کی چیزیں خریدنے کے لیے وقف ھے – اس لیے انگلش پوسٹس کا سلسلہ فی الحال معطل ھے – قلم کے میدان میں انگلش میری پہلی محبت ھے – میں نے لکھنے کا آغاز انگلش ھی سے کیا تھا – 1983 سے 1996 تک انگریزی اخبارات میں کالم نگاری کے علاوہ ایم اے انگلش کے للیے12 کتابیں بھی لکھیں – یہ سلسلہ اب بھئ چل رھا ھے -فیس بک پر بھی میں نے لکھنے کا آغازانگلش میں کیا – پہلے ایک دو ماہ انگلش ھی میں لکھتا رھا – پھر ذائقہ بدلنے کے لیے اردو میں لکھنا شروع کیا تو آپ نے پکڑ کر بٹھا لیا — لیکن انگلش میں لکھنا میں ترک نہیں کر سکتا – اردو کا حسن اپنی جگہ ، انگلش کا اپنا الگ حسن ھے – لکھنے میں مزا آتا ھے – انگلش تحریریں پڑھنے والوں کی تعداد بہت کم سہی ، مگر میں نے تعداد کو نہیں دیکھنا – پرندہ کسی کو سنانے کے لیے نہیں ، اپنے دل کو خوش کرنے کے لیے گاتا ھے – اسی طرح میں انگلش اپنی خوشی کے لیے لکھتا ھوں اور ان شآءاللہ لکھتا رھوں گا – عنقریب انگلش پوسٹس کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دوں گا –

اردو میں میری پہلی کتاب “درد کا سفیر“1992 میں شائع ھوئی – اردو میں میری اب تک 4 کتابیں شائع ھوئی ھیں – البتہ چار پانچ سال سے اردو میں پوسٹس لکھنے کا یہ سلسلہ جو جاری ھے ، اللہ نے ھمت ، توفیق اور مہلت عطا کردی تو کتاب کی صورت میں شائع کرادوں گا – شاید ایک سے زیادہ کتب بن جائیں – اس آرزو کی تکمیل کے لے آپ کی دعاؤں کی ضرورت ھے –

چار پانچ سال کے دوران آپ نے میری پوسٹس پڑھنے میں جس دلچسپی کا مظاھرہ کیا ، وہ میرے لیے ایک اعزاز ھے – ان شآءاللہ میرے اور آپ کے درمیان محبت کا یہ تعلق جب تک سانس باقی ھے ، برقرار رھے گا – آپ کے لیے لکھتا رھوں گا –

کوئی تجویز ، مشورہ ، شکوہ یا شکایت ————؟؟؟؟؟

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-16 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

زبان کی ورائیٹی کے لحاظ سے ضلع میانوالی اپنی مثال آپ ھے –
پنجاب کی شمال مغربی سرحد پر واقع ھونے کی وجہ سے یہاں کی زبان اور لب و لہجہ پر پشتو کے اثرات نمایاں ھیں – ضلع کے شمال مغربی کنارے پر واقع آبادی کی زبان تو مکمل طور پر ھے ھی پشتو – اسی لیے کالاباغ سے شمال مغرب کا علاقہ پشتوپٹی Pashto Belt کہلاتا ھے -کالاباغ کی زبان ضلع کے دوسرے علاقوں سے خاصی مختلف ھے – اس کی وجہ یہ ھے کہ کالاباغ کی آبادی آج سے صدیوں پہلے مکھڈ سے دریا کے راستے یہاں منتقل ھوئی – اس سے پہلےیہاں ھندو آباد تھے – یوں کالاباغ کی زبان مکھڈ کی زبان اور ھندی کا آمیزہ ھے – وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں سرائیکی کی آمیزش بھی ھوتی رھی – پشتون علاقے سے قرب کی وجہ سے یہاں پشتو کے اثرات بھی بہت واضح ھیں – چونکہ کالاباغ پشتون علاقے کا شاپنگ سنٹر بھی ھے ، لہذا یہاں بازار کے تمام دکان دار پشتو بھی بہت روانی سے بول لیتے ھیں –
سرائیکی زبان عیسی خیل سے پپلاں تک کے علاقے کی مادری زبان ھے – تاھم یہ جنوبی پنجاب کی سرائیکی سے خاصی مختلف ھے –

پہاڑ کے پار چکڑالہ ، نمل ، ڈھوک علی خان وغیرہ میں ضلع اٹک اور چکوال کی زبان بولی جاتی ھے – یہ دراصل پوٹھوھاری زبان ھے جسے عام طور پر “اتراھدی“ (شمال مشرق کی زبان) کہا جاتا ھے – اسی نسبت سے پہاڑ کے شمال مشرق میں واقع علاقے کو “اتراھد“ بھی کہتے ھیں -رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-17 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

مقامی سطح پر ضلع میانوالی کی زبان میں کچھ مزید تنوع سامنے آتا ھے – مثال کے طور پر لفظ “مجھے“ کی یہ مختلف صؤرتیں دیکھیے –

کمرمشانی ، داؤدخیل ، موچھ ————– میکو
میانوالی شہر اور گردو نواح ———— مینوں / مین

نمل ، چکڑالہ ، رکھی ،کلری وغیرہ ———- ماں

پائی خیل ———— میں کو ( اب پائی خیل کے لوگ بھی “میں کو “ کی بجائے “میکو “ کہتے ھیں) –

زبان کا یہ مقامی اختلاف دنیا کی ھرزبان میں پایا جاتا ھے – انگریزی میں اسے local variations کہتے ھیں –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-18 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

زبان کا مقامی فرق زیادہ تر فعل کی صورتوں (Verb forms) میں دیکھنے سننے میں آتا ھے – مثلا لفظ “ کرتا “ کی مختلف صورتیں کچھ یوں ھیں –

عیسی خٰیل —————– کردا

کمرمشانی ، داؤدخیل، پائی خٰیل ، موچھ وغیرہ ————— کرینا

میانوالی —————— کریندا

واں بھچراں ——— کریندا (kareenda)

لفظ “آکھا“ (کہا ) کو چھدرو کے علاقے میں “آکھیا“ بولتے ھیں – غالبا موسی خٰیل میں بھی “آکھیا“ ھی بولتے ھیں –

کندیاں کی زبان میانوالی اور پپلاں کی زبان کا آمیزہ ھے – تحصیل پپلاں کی زبان جنوبی پنجاب کی سرائیکی سے قریب تر ھے –

عیسی خیل کی زبان کچھ زیادہ ھی منفرد ھے – ایک لفظ ایسا ھے جو ضلع بھر میں عیسی خٰیل کےعلاوہ اور کہیں سننے میں نہیں آتا – وہ لفظ ھے “نیہہ“ جو “جالگا “ کے معنوں میں استعمال ھوتا ھے – ضلع بھر میں “ونج لگا“ بولتے ھیں ، لیکن عیسی خیل میں “نیہہ لگا“ کہتے ھیں – اللہ جانے کیوں –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-19 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

کچھ دوستوں کا اصرارھے کہ ضلع میانوالی کی زبان کو “ھندکو“ کہا جائے –

ھندکو دراصل پاکستان کے شمال مغربی علاقے (بالخصوص صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ھزارہ) کی زبان کا نام تھا – اس کی کئی قسمیں ھیں پشاوری، کوھاٹی ، چھاچھی ، ھزارہ ، اعوان کاری وغیرہ -یوں اٹک اور پنڈی تک کی زبان تو ھندکو شمار کی جاسکتی ھے ، مگر میانوالی کا معاملہ کچھ مختلف ھے – ھماری زبان شمال میں پشتو اور جنوب میں سرائیکی کے میل جول کا ثمر ھے – اس میں سرائیکی کا حصہ بہت زیادہ ھے – ضلع بھکر کچھ عرصہ پہلے تک ضلع میانوالی کی تحٰصیل تھا – وھاں کی زبان سو فی صد سرائیکی ھے – جبکہ کالاباغ کے شمال مغربی علاقے ( تبی سر ، بانگی خٰیل ، چاپری ، ٹولہ منگ علی وغیرہ) کی زبان مکمل پشتو ھے – بھکر اور تبی سر کے درمیانی علاقے کی زبان ان دونوں زبانوں کا آمیزہ ھے – لیکن پشتو الفاظ اس میں بہت کم ھیں ، سرائیکی عنصر زیادہ ھے – اس لیے اسے سرائیکی ھی کہا جاتا ھے –
ضلع میانوالی کی زبان کو یہاں کے اعلی پائے کے محققین ( پروفیسرمحمد سلیم احسن، پروفیسرسرورخان نیازی اور مرحوم ڈاکٹر ملک محمد اسلم گھنجیرہ) نے بھی سرائیکی شمار کیا – لالاعیسی خیلوی بھی اسے سرائیکی ھی کہتے ھیں –

ان دلائل کی بنا پر اس زبان کو کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا – جہاں تک ھندکو کی بات ھے تو یہ بھی سن لیں کہ پشتون تو ھر غیر پشتوزبان کو ھندکو کہا کرتےتھے –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-20 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

خالص میانوالی کی زبان میں ادب بہت کم تخلیق ھؤا – اکثر لکھنے والے اس احساس کمتری میں مبتلا ھیں کہ ھماری زبان لطیف جذبات کے اظہار سے قاصر ھے – اس لیئے وہ ملتان ، بہاولپور، رحیم یار خان کی سرائیکی کے الفاظ کثرت سے استعمال کرتے ھیں –
مانا کہ ھماری زبان کا لہجہ ذرا کڑک ھے ، لیکن دوسری زبانوں کی طرح اس میں بھی ھر قسم کے جذبات اور خیالات کا اظہار بخوبی ھو سکتا ھے – فیشن کی خاطر دوسرے سرائیکی علاقوں کی زبان کا استعمال میں مناسب نہیں سمجھتا –
ادب میں میانوالی کی زبان تقریبا ایک سو سال پہلے ڈوھڑوں اور لوک گیتوں کے روپ میں منظرعام پر آئی – عیسی خٰیل کے یونس خان ،۔ چھدروکے غلام اکبر خان اور میانوالی کے بھریم غریب نے زیادہ تر خالص میانوالی کی زبان میں شاعری کی – یہ زیادہ پڑھے لکھے لوگ نہیں تھے – اس کا فائدہ یہ ھؤا کہ ان کی زبان خالص ضلع میانوالی کی زبان رھی -گیت نگاری میں ھمارے مرحوم دوست مجبورعیسی خیلوی اور فاروق روکھڑی صاحب نے بھی اپنی زبان کا حق خوب ادا کیا
غزل میں اجتہاد کا آغاز ہروفیسرمحمد سلیم احسن نے کیا – ان کے پہلے شعری مجموعہ “جکھڑجھولے“ نے صدارتی ایوارڈ حاصل کر کے میانوالی کی زبان کو قومی سطح پر ادب کی زبان تسلیم کروا لیا –

شاعری میں میانوالی کی زبان دھڑلے سے استعمال کرنے کا کریڈٹ نوجوان شعراء میں سے محمد ظہیر احمد کے حصے میں آیا – ظہیر کی شاعری کین یہ بات مجھے بہت پسند ھے کہ اس کا رویہ اپنی زبان کےبارے میں معذرت خواھانہ نہیں – وہ بڑے اعتماد سے اپنی زبان کے الفاظ وتراکیب اپنی شاعری میں استعمال کرتا ھے – اس کی یہ جراءت رندانہ لائق تحسین ھے —

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-22 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

-اپنا پرانا شعر ، اپنے قلم سے ———–

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-24 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

-اپنا ایک اورپرانا شعرآرائش —– شاھد انور خان نیازی ، داؤدخیل

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-25 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

–اپنا شعر ، اپنی پسند —————–
پوچھ رھا تھا کوئی گلی میں بچوں سے
جانے والا رستے میں رویا تو نہیں ؟؟؟

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-26 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

گذرگیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ

بچپن کی دوستیوں کا آغاز عام طور پر اپنے ھم عمر کزنز (چچازاد، ماموں زاد ، پھوپھی زاد) سے ھوتا ھے – میرے بچپن کے قریب ترین ساتھی میرے تین کزن تھے ، بھائی ممتاز، بھائی حبیب ھاشمی ، اور لالا ریاست –
ممتاز بھائی کا ذکر تو مختلف حوالوںً سے بہت سی پوسٹس میں لکھ چکا ھوں – آج ذکر ھوگا بھائی حبیب ھاشمی کا –
حبیب ھاشمی مجھ سے عمر میں دوسال چھوٹے تھے – ان کے والد ، ماما فرید ریلوے میں ملازم تھے – حبیب بھائی کی اور میری دلچسپیاں ایک تھیں – انہیں آپ مکینیکل دلچسپیاں کہہ سکتے ھیں – ھم ھر قسم کی مشینوں کو بڑے غور سے دیکھتے اور مٹی ، لکڑی یا لوھے سے ان جیسی چیزیں بنایا کرتے تھے- گھر میں پانی کا نلکا (ھینڈ پمپ) لگا تو ھم نے ٹین کے پائیپ بنا کر ویسا ھی چھوٹا سا نلکا بنا دیا – اس کوشش میں ھتھوڑی کی ضرب سے میرے دائیں ھاتھ کی شہادت کی انگلی بری طرح زخمی ھو گئی – زخم کا نشان آج بھی باقی ھے – بار بارناکامیوں اور چھوٹے موٹے زخم لگنے کے باوجود ھم اس شوق سے باز نہ آئے -ھمارا سب سے پسندیدہ مشغلہ ریلوے سٹیشن کی سیر تھا – وھاں ھماری سب سے زیادہ توجہ آتی جاتی ٹرینوں کے انجنوں پر رھتی تھی – سٹٰیم انجن کی اپنی شناخت اور شخصیت ھوتی تھی – بہت بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں نے ان انجنوں اور ٹرینوں کے بارے میں کہانیاں اور نظمیں لکھیں –
آج کل کے ڈیزل ریلوے انجن تو بڑی یتیم مسکین سی چیزیں ھیں – سٹیم انجن کا اپنا رعب ، دبدبہ اورجلال ھوتا تھا – اس کے سحرمیں ھم ھی نہیں ، کئی اچھے خاصے سمجھدار لوگ بھی گرفتار ھؤا کرتے تھے –

ھمارے سٹیشن گردی کے شوق کی وجہ سے ھمارے چچا مرحوم ملک محمد صفدر علی مجھے اور حبیب بھائی کو “ٹیشن آلے کتے“ بھی کہا کرتے تھے – حبیب بھائی خوش قسمت تھے – میٹرک کا امتحان دے کر ریلوے میں انجن مکینک بھرتی ھو گئے – میں گھر والوں کے ڈر سے پڑھ لکھ کر پروفیسر ھی بن سکا –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-27 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ

ریاست علی ملک المعروف لالا ریاست ھمارے چچا ملک فضل دین کے صاحبزادے تھے – ان کے والد میرے والد کے کزن تھے –

ریاست بھائی عمر میں مجھ سے دوسال بڑے تھے – میرے بزرگوں نے مجھے سکول میں داخل کروا تو دیا ، مگر صبح سویرے اٹھ کر سکول جانا مجھے اچھا نہیں لگتا تھا – میں بستہ (سکول بیگ) لے کر سکول جانے کی بجائے چاچاشادی بیگ کمہار کے گھرجا بیٹھتا اور چاچا شادی بیگ کو برتن بناتے ھوئے دیکھتا رھتا – سکول سے چھٹی کے وقت گھر واپس آجاتا – گھر والوں کو تو پتہ ھی نہ چل سکا ۔ مگر سکول میں ھمارے کچی پہلی کلاس کے ٹیچر ، ماسٹر نواب خان میری مسلسل غیر حاضری پر بہت ناراض ھوئے – مجھے زبردستی پکڑ جکڑ کر سکول لانے کی ذمہ داری انہوں نے ریاست بھائی کے سپرد کر دی – اور ریاست بھائی نے یہ ذمہ داری خوب نبھائی – صبح سویرے ھی نازل ھو جاتے اور میرا ھاتھ پکڑ کر کھینچ کھانچ کر مجھے سکول لے جاتے -بچوں کے تمام کھیلوں میں ریاست بھائی ماھر تھے – بنٹے (چدھے) کھوڑ(اخروٹ) اور اس طرح کے تمام کھیلوں میں جیت ھمیشہ ریاست بھائی کی ھوتی نھی – غلیل سے شکار میں ان کا نشانہ اتنا اچھا تھا کہ ھم لوگ انہیں ریاست علی جٹاک (ماھرنشانہ باز) کہتے تھے –

ریاست بھائی میٹرک کے بعد ٹریننگ حاصل کر کے سکول ٹیچر بن گئے – بہت اچھے ٹیچر تھے – بہت خوش مزاج اور نیک نیت انسان تھے – بہت مہمان نواز بھی تھے –

چند سال پہلے بیمار پڑگئے – جگر کا مسئلہ تھا – علاج کارگر ثابت نہ ھؤا – ایک دن عیادت کے لیے داؤدخیل ان کے گھر گیا تو صحن میں بستر پر لیٹے ھوئے تھے – بہت پیار سے ملے – میرے لیے چائے بنوائی – میں نے کہا “ریاست بھائی ، آپ جلد ٹھیک ھو جائیں گے “
بھائی کی آنکھوں میں آنسوآگئے ، کہنے لگے “مشکل ھے “
بھائی نے ٹھیک کہا تھا – چند دن بعد وہ سرحد حیات کے اس پارجا بسے –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-28 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ

کزنز کے علاوہ میرے بچپن کے دوستوں میں محمد صدیق خان بہرام خٰیل سر فہرست تھے – میرے محلے دار بھی تھے ، کلاس فیلو بھی – ھم سکول کا ھوم ورک بھی مل کر کیا کرتے تھے ، کبھی ان کے گھرمیں ، کبھی ھمارے ھاں –
محمد صدیق خان بہت سیدھے سادے ، مخلص اور نیک نیت انسان تھے – ان کے والد چاچا عمرحیات خان کچھ عرصہ فوج میں رھے ، وھاں سے ریٹائرمنٹ کے بعد جناح بیراج (داؤدخٰیل) پر محکمہ نہر میں ملازم ھو گئے –
جب ھم مڈل کا امتحان دے کر دو تین ماہ کے لیے فارغ ھوئے تو محمد صدیق خان کو ان کے والد نے محکمہ نہر میں پنسال نویس Guage Reader کی عارضی اسامی پر ملازمت دلوادی – محمد صدیق خان کا دفتر نہر کے کنارے دس ھزاروالے پل کے قریب تھا – ڈیوٹی نہر سے پانی کے بہاؤ کا ریکارڈ مرتب کرنا تھی – پانی کی مقدار بتانے کے لیے نہر کے کنارے ایک پیمانہ لگا ھؤا تھا – محمد صدیق خان اس پیمانے کے مطابق پانی کا بہاؤ دن میں تین بار چیک کرکے ایک رجسٹر میں درج کردیتے تھے –
میں روزانہ صبح 9 بجے گھر سے نکلتا اور تقریبا چار کلومیٹر پیدل چل کر محمدصدیق خان کے دفتر پہنچ جاتا – دن بھر گپ شپ چلتی رھتی – ایک ملازم دو تین مرتبہ چائے بھی بنا کر پلا دہتا – آج بھی کبھی ادھر سے گذر ھوتا ھے تو بے فکری کے وہ دن بہت یاد آتے ھیں –
عارصی ملازمت تھی – تین ماہ بعد بھائی صدیق خان فارغ ھو گئے – مڈل کا ریزلٹ آگیا تو ھم دونوں نے سکول کی نویں کلاس میں داخلہ لے لیا – محمد صدیق خان میٹرک پاس کر کے محکمہ نہر میں مستقل ملازم ھو گئے – میں نے پنڈی کے گارڈن کالج میں داخلہ لے لیا – زندگی کی راھیں الگ ھو گئیں ، مگردوستی برقرار رھی – پھرآج سے کچھ عرصہ پہلے اچانک خبر ملی کہ بھائی صدیق اس دنیا سے رخصت ھو گئے – اللہ مغفرت فرمائے بہت پیارے انسان تھے – بہت یاد آتے ھیں –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-29 جنوری 2020

میرا میانوالی————-

گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ

محمد اقبال المعروف ” بالا یاروآلا” بھی ھمارے بچپن کے بہت پیارے دوست تھے – ان کے والد چاچا احمد یار پولیس میں ملازم تھے – اقبال والدین کے اکلوتے بیٹے تھے – والدین امیر تو نہ تھے لیکن اکلوتے بیٹے کوانہوں نے شہزادوں کی طرح نازونعم سے پالا – بہترین لباس اورضرورت کی ھر چیز اسے فراھم کی – اقبال ابھی سکول کی دوسری کلاس میں تھا تو اس کی فرمائش پر اس کے والد نے اسے گراموفون بھی لے دیا – اس پر ھم اس دور کے مشہور فلمی نغمے سنا کرتے تھے – اس عمر میں فلمی نغموں کی سمجھ تو ککھ نہیں آتی تھی ، بس ویسے ھی اچھے لگتے تھے – گراموفون میرے پاس بھی تھا ، میں اور اقبال گانوں کے ریکارڈز کا آپس میں تبادلہ بھی کرتے تھے – اقبال کی امی “ماسی سبھائی“ اقبال کے دوستوں کو بھی اپنے بیٹے سمجھتی تھیں – بہت محبت کرنے والے لوگ تھے -لاڈلا بیٹا تھا ، تعلیم سے دلچسپی نہ تھی ، میٹرک کے بعد تعلیم حاصل نہ کی – شادی ھو گئی – والدین فوت ھو گئے – اقبال چھوٹے موٹے کام کرکے روزی کماتا رھا – دمے کا مریض بھی تھا – غریبی اور بیماری کی وجہ سے بہت مشکل زندگی بسر کی – بالآخر وقت مقررہ پر یہ دینا چھوڑ کر عدم آباد جا بسا –
اقبال کے ھم سے بھی زیادہ قریبی دوست ھمارے کزن سید محمد تھے – ان کی دوستی سگے بھائیوں جیسی تھی – ھم تو تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں دوسرے شہروں میں جابسے – بھائی سید محمد داؤدخیل ھی میں رھے ، اقبال کی زندگی کی آخری سانس تک سید محمد ھی نے اقبال کا ساتھ دیا –

رھے نام اللہ کا – بشکریہ- منورعلی ملک-  30 جنوری 2020

Leave a Reply

%d bloggers like this: