NAYE QASBAY KI TAREEKHI  MASJID – MASJID-E KHANQAH SRAJIH

NAYE QASBAY KI TAREEKHI MASJID – MASJID-E KHANQAH SRAJIH

نئے قصبے کی تاریخی مسجد – مسجدِخانقاہ سراجیہ تحریر: قمرالحسن بھروں زادہ میلوں پھیلی چشمہ جھیل کی شرقی جانب اور شیر دریا، دریائے سندھ پہ بنے چشمہ بیراج سے نکلنی والی چشمہ-جہلم رابطہ نہر کے شمالی کنارے سے ملحق علاقے کا فضائی نظارہ دیکھنے کو گرملتا تو آپ کی تمام تر توجہ کا ارتکاز سبزے […]

NAYE QASBAY KI TAREEKHI MASJID – MASJID-E KHANQAH SRAJIH Read More »

SAFAR JO AMAR HOWA

SAFAR JO AMAR HOWA

سفر جو اَمر ہوا تحریر: قمرالحسن بھروں زادہ چشمہ جھیل کے خاموش پانیوں میں دور ایک کشتی ساکت کھڑی تھی۔ زیادہ تر سندھی مچھیرے واپس اپنے چھپروں میں جا چکے تھے۔ ہماری رواں گاڑی میں بھی انجانے خوف تلے دبی پر اسرار سی خاموشی پھیلی تھی۔ سٹیئرنگ پہ ہاتھوں کی کمزور گرفت کے ساتھ میں

SAFAR JO AMAR HOWA Read More »

BHARION WALA

BHARION WALA

پیارا بھریوں والا تحریر: قمرالحسن بھروں زادہ بھریوں والا کے متعلق لکھتے وقت دل خوشی سے مسرور ہے اور بھریوں والا جب جانا ہوتا ہے تو کیفیات کا عجب ہی عالم ہوتا ہے۔ گفتگو کوئی بھی ہو میری زندگی میں دو ہی گاؤں ہیں جن کا ذکر میں دانستہ بھی چھیڑتا ہوں اور نادانستہ بھی۔

BHARION WALA Read More »

ABBA THEEK AH DA HIGH – OYE IKKA THEEK AH DA HIGH

ABBA THEEK AH DA HIGH – OYE IKKA THEEK AH DA HIGH

ابا ٹھیک آہدا ہائی،  اوئے اکا ٹھیک آہدا ہائی تحریر: محمد قمر الحسن بھروں زادہ   کل سوشل میڈیا پہ امجد نواز کارلو کی آواز میں ایک گانا سننے کا اتفاق ہوا جسکے ابتدائی بول کچھ یوں تھے۔ روندے ودے آں ڈے ڈے دہائی ساڈے پلے کوئی شئے نہ رئی کیڑھے شناء ، کیڑھی شنائی

ABBA THEEK AH DA HIGH – OYE IKKA THEEK AH DA HIGH Read More »

WOH CHALAY GAYE, MEIN ABHI WAHEIN KHARA HON

WOH CHALAY GAYE, MEIN ABHI WAHEIN KHARA HON

وہ چلے گئے، میں ابھی وہیں کھڑا ہوں۔ تحریر: محمد قمر الحسن بھروں زادہ               کل شام میانوالی سے واپس گھر آتے ہوئے میانوالی ٹول پلازہ پہ سات بج کر چھپن منٹ پہ میں نے امی جان کو میسج کیا کہ امی جان میں آدھے گھنٹے تک گھر پہنچ جاوں گا۔ان شاء اللہ امی

WOH CHALAY GAYE, MEIN ABHI WAHEIN KHARA HON Read More »

CHACHA ORANGZAIB BHIDWAL AUR HUM

CHACHA ORANGZAIB BHIDWAL AUR HUM

چاچا اورنگزیب بھڈوال (BHIDWAL) اور ہم. تحریر: محمد قمر الحسن بھروں زادہ   اپریل کا آغاز تھا۔گرمیوں کے موسم کی نقاب کشائی کی تقریبات شروع ہو چکیں تھیں۔تھل میں چنے کی کٹائی کے سارے مراحل تقریبا مکمل ہو چکے تھے۔اکا دکا کسان جو اپنی سستی پہ موسم کی خرابی اور مزدوروں کے رویوں کے پردے

CHACHA ORANGZAIB BHIDWAL AUR HUM Read More »

QAMAR UL HASSAN BHARO’NZADA

QAMAR UL HASSAN BHARO’NZADA

I thinks Giuseppe Mazzini said these  words for Qamar Ul Hassan Bharo’nzada ,keeping in view his love for Mianwali and Mianwalians .“Love your country. Your country is the land where your parents sleep, where is spoken that language in which the chosen of your heart, blushing, whispered the first word of love; it is the

QAMAR UL HASSAN BHARO’NZADA Read More »

AADHI RAAT KA CHAAD by WAQAR AHMED MALIK

AADHI RAAT KA CHAAND by WAQAR AHMED MALIK

آدھی رات کا چاند افسانہ-تحریر۔۔۔۔ وقاراحمد ملک “شیرو مجھے تنہائی سے بہت ڈر لگتا ہے”۔ ” کیوں؟ تنہائی تو یادوں کو سنبھالنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ یہی تو وہ لمحات ہوتے ہیں جن کو بندہ اپنا کہہ سکتا ہے “۔ ” نہیں، مجھے یادوں کو تازہ کرنے کے لیے تنہائی نہیں چاہیئے۔ پتہ

AADHI RAAT KA CHAAND by WAQAR AHMED MALIK Read More »

KHAMOSH HAWILEY By WAQAR AHMED MALIK

KHAMOSH HAWILEY By WAQAR AHMED MALIK

خاموش حویلی- تحریر:وقار احمد ملک شہر کا یہ قدیم حصہ آہستہ آہستہ پُر سکون ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں نے اس خاموش علاقہ کے بڑے بڑے کشادہ صحنوں کو چھوڑ کر نئے شہر کی جدید کالونیوں کے چند مرلوں کے منقش ڈربوں میں خوشی خوشی قید قبول کر لی ہے۔ زمانہ جدید کے شور و

KHAMOSH HAWILEY By WAQAR AHMED MALIK Read More »

MEHROO – AFSANA -WAQAR AHMED MALIK

MEHROO – AFSANA -WAQAR AHMED MALIK

مہرو….. افسانہ …….وقار احمد ملک یہ قصبہ آج بھی اس بھری پری دنیا سے کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہاں صدیوں سے اداسی، خاموشی اور ویرانی کی حکومت ہے۔ یہاں کے لوگ بھی دھیمے لہجے میں باتیں کرتے ہیں ۔ وہ بولتے بھی اشد ضرورت کے وقت ہیں۔ عام طور پر معمول کی باتیں اشاروں

MEHROO – AFSANA -WAQAR AHMED MALIK Read More »

Scroll to Top