KHAMOSH HAWILEY By WAQAR AHMED MALIK

KHAMOSH HAWILEY By WAQAR AHMED MALIK

KHAMOSH HAWILEY By WAQAR AHMED MALIK

خاموش حویلی-

تحریر:وقار احمد ملک

شہر کا یہ قدیم حصہ آہستہ آہستہ پُر سکون ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں نے اس خاموش علاقہ کے بڑے بڑے کشادہ صحنوں کو چھوڑ کر نئے شہر کی جدید کالونیوں کے چند مرلوں کے منقش ڈربوں میں خوشی خوشی قید قبول کر لی ہے۔ زمانہ جدید کے شور و غل اور ترقیوں کے شکنجے سے شہر کا یہ پرانا حصہ ابھی آزاد ہے۔ اس پرانے علاقے کی ایک گلی جو اینٹوں سے بنائی گئی تھی دن کے وقت بھی شام کا سماں پیدا کیے رہتی ہے۔ اس تاریکی کا سبب اس گلی کی دونوں جانب مغلوں کے زمانوں کے تعمیر شدہ پرانے مکانوں اور حویلیوں کی اونچی اونچی دیواریں اور ان دیواروں کے اوپر سے جھانکتے ہوئے بوڑھے آم کے درخت ہیں۔ اس گلی کے سکون کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ تنگ ہونے کی وجہ سے ان میں موٹروں اور گاڑیوں کا گزر نہیں ہوتا۔ اس گلی کے مکین زیادہ تر ادھیڑ عمر اور بزرگ لوگ ہیں جن کی اولادوں نے اس گلی کو چھوڑ کر نئے شہر میں رہائش اختیار کر لی ہے۔
رات کے وقت اس گلی کے حنوط شدہ سکوت کے مقابلہ میں گورستان کی خاموشی بھی شکست کھا جائے گی۔ وہ راتیں جب اس گلی میں تیز بارشوں کا موسم شروع ہوتا ہے اس گلی کو اور بھی پُر اسرار بنا دیتی ہیں۔ دسمبر کی یخ بستہ راتوں کے جھکڑ آم کے درختوں کے مریل ، زردسوکھے پتوں کو ایک دوسرے کے پیچھے لگائے پھرتے ہیں۔
اس گلی میں تھوڑا آگے جائیں تو بائیں طرف ایک پرانی طرز کا حویلی نما مکان ہے۔ دوسرے مکانوں کے برعکس اس حویلی کے اندر پرانے آم کے درختوں کے ساتھ ایک بوڑھا بوڑھ کا درخت بھی موجود ہے جس کے چار پانچ فٹ محیط تنے میں بے شمار گلہریوں نے رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔ درختوں کے اس قدیم کنج سے ہٹ کر دو تین پرانے کمروں، ایک غلام گردش، باروچی خانہ اور ایک سٹور پر مشتمل قدیم عمارت ہے۔
قیام پاکستان کے بعد میرٹھ سے ہجرت کرکے آنے والے نوبیاہتا جوڑے نے جب یہ حویلی الاٹ کرائی تھی تو اُس وقت بھی شاید اس کی حالت زیادہ مختلف نہیں ہوگی۔
قاضی قمر الدین جو پہلے ایک نواب کا منشی مقرر ہوا نے بعد میں بلدیاتی دفتر میں سٹینو گرافر کی ملازمت حاصل کر لی۔ قاضی صاحب اپنی متانت، شرافت اور پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے گلی میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ قاضی صاحب کی زوجہ شیریں بی بی کے نام سے معروف تھیں۔ پورے محلے کی خواتین سے اُن کی سلام دعا تھی۔ گو ان کی عمر چالیس کے لگ بھگ تھی لیکن اپنے انداز اور ہلکے پھلکے بناؤ سنگھار کی وجہ سے ایک نوجوان لڑکی کے مشابہ تھیں۔ شیریں بی بی دراز قد، کھلتی ہوئی سفید رنگت اور موتیوں جیسے دانتوں سے پھوٹنے والی مسکراہٹ کے سبب اس گلی کی حسین خواتین میں شمار کی جا سکتی تھیں۔
میاں بیوی کے درمیان محبت بھی لاثانی تھی۔ دونوں میاں بیوی میں ادبی ذوق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ جوانی میں راتوں کا ایک طویل حصہ غالبؔ اور میرؔ کے دانشورانہ اور رومانوی اشعار کی نظر ہو جاتا۔ منٹو کا جو بھی نیا افسانہ شائع ہوتا ہے دونوں میاں بیوی کئی کئی گھنٹے اس پر بحث کرتے۔ تقسیم پر موضوع پر لکھے ہوئے منٹو کے افسانہ ” ٹوبہ ٹیک سنگھ” پر تو قاضی صاحب اور شیریں بی بی کی گفتگو اور تبصرے کئی دن جاری رہے۔ کئی مہینوں تک مزاق ہی مزاق میں وہ اس افسانے کے پاگل ہیرو کی مشہور گالی سے ایک دوسرے کو نوازتے رہے۔
اولاد نرینہ کی خواہش کی تکمیل نے اس وسیع مکان کے مختصر گھرانے کی خوشیوں میں قوسِ قزاح کے رنگ بکھیر دیئے۔ ننھے ثاقت کی کلکاریوں نے خاموش حویلی کو گویائی عطا کر دی۔ قاضی صاحب کی محدود تنخواہ اس مختصر کنبے کی خوشیوں میں حائل نہ ہو سکی۔ شاید اس وجہ سے شیریں بی بی اور قاضی صاحب کی غیر مادی دلچسپیاں تھیں۔ وہ قیمتی ملبوسات، زیور یا سامان آرائش و زیبائش کا لطف کسی اچھے شعر، افسانے یا کسی بھول بسری یاد کو کرید کر حاصل کر لیتے۔
زندگی انتہائی دلفریب ریلوے کے سفر کی طرح گزرتی گئی۔ اُدھر ثاقب نے فہم اور ادراک کی ابتدائی سیڑھی پر قدم رکھا، اُدھر محبت کرنے والے جوڑے کی آزادی ختم ہونے لگی۔ میاں بیوی کی باہمی محبت واحد بیٹے کی محبت سے بازی لے گئی ۔ جیسے ہی ثاقب کی آنکھیں بند ہوتیں شیریں بی بی جھٹ پٹ اُسے اُٹھا کر ساتھ والے ٹرنک پیٹیوں والے کمرے میں پہلے سے تیار شدہ بستر پر ڈال آتی لیکن اکثر ثاقب تھوڑی دیر بعد روتا ہوا واپس آجاتا اور گاڑی کے دو پہیوں کو پھر سے جدا کر دیتا۔ ثاقب کی عمر چھ سات سال ہو چکی تھی اور اس نے سکول جانا بھی شروع کر دیا تھا۔ شیریں بی بی نے ایک دن غلام گردش کے دوسری طرف واقع سٹور کی صفائی شروع کر دی۔ کمرے کو ان تصویروں، رنگوں اور مناظر سے مزین کر دیا جو ایک کمسن بچے کی دلچسپی کاباعث ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ثاقب کے اندر بہادری کے مردانہ جوہر بیدار کرنے کے لیے اُسے ٹارزن کی کہانیاں بھی سنانا شروع کر دیں۔ ثاقب کو نیا کمرہ بہت پسند تھا جس میں اُس کے لیے نئے نئے کھلونے بھی لاکر رکھ دیئے گئے تھے۔ چابی والا کتا تو اُس کو بہت پسند آیا تھا۔ جیسے ہی اُس کھلونا کتے کو چابی دی جاتی وہ اپنی چھوٹی سی دم ہلا کر بھوں بھوں کرنا شروع کر دیتا۔ کتے کے علاوہ بھالو، بندر، طوطے اور کچھوے بھی اُس کے لیے دلچسپی کا باعث تھے۔ چند دنوں بعد جب ثاقب کو یہ اطلاع دی گئی کہ اب اُس کو شب بسری بھی اِس نئے کمرے میںرنی پڑے گی تو اُس کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ ثاقب نے جب رات کو اکیلے کمرے میں سونے سے انکار ر دیا تو پہلی مرتبہ قاضی صاحب نے اُس کو زناٹے کا تھپڑ رسید کیا۔ سُرخ پھولے ہوئے رخسار اور پھول گئے اور ان کا رنگ گہرا گلابی ہوگیا۔ آنسوؤں کی ایک جھڑی فوراً بہہ نکلی۔ یہ رمضان المبارک کی اختتامی رات کا واقعہ ہے جیسے ” چاند رات” بھی کہا جاتا ہے۔
چند راتیں ثاقب نے جاگ کر گزاریں لیکن اب آہستہ آہستہ وہ حویلی کی پرانی مکین “تنہائی” کا عادی ہوتا گیا۔ ساری گلی کے مکانوں کی چھتیں ایک دوسرے سے متصل تھیں۔ تین گھر دور چودھری فتح داد کا مکان تھا۔ چوہدری صاحب نے شوقیہ طور پر ایک کتاپال رکھا تھا۔ مکانوں کی ساری چھتیں اُس کتے کی ملکیت تھیں۔ ایک رات ایک بلی اپنے نومولود بچے کو منہ میں اٹھائے کہیں لے جارہی تھی کہ چوہدری صاحب کے کتے نے اُس کو دیکھ لیا۔ وحشیانہ انداز میں بھونکتا ہوا کتا بلی کے پیچھے بھاگا۔ بلی کے منہ سے اُس اچانک آفت کے باعث بچہ گرگیا۔ کتے نے ماں بلی کی بجائے اُس بلونگڑے کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیااور بالآخر قاضی صاحب کے مکان کے سٹور کے اوپر بنے دُودکش کے قریب اُس کو پکڑ لیا۔ کتے نے بلونگڑے کو پکڑتے ہی اُس کی تکا بوٹی کر دی۔ خون کے چند قطرے دود کش سے ہوتے ہوئے نیچے سٹور میں بھی گرنے لگے۔ کتے کی خوفناک آواز سے ننھے ثاقب کی آنکھ کھل گئی۔ کھڑکی سے آتی ہوئی چاندنی کی ایک کرن دود کش کے نیچے ایک پرانے اور متروک چولہے پر پڑ رہی تھی۔ ثاقب نے جب خونی قطرے دیکھ تو اس کی سٹی گم ہوگئی۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ ڈرتے ڈرتے اُس نے دروازہ کھولا اور غلام گردش سے ہوتا ہوا امی ابو کے کمرے کی طرف بھاگا۔ اُدھر گاڑی کے دونوں پہیے خوب گردش میں تھے۔ چاروناچار خوف، شرمندگی اور زندگی کے ایک نئے احساس کے ساتھ ثاقب اپنے کمرے کے بستر پر آلیٹا۔ خونی کھیل ختم ہو چکا تھا۔ بلونگڑے کا ایک کٹا ہوا معصوم سا کان دُود کش کے اندر فرش پر پڑا تھا۔ خون مزید نہیں گرا تھا۔ شاید اُس بے زبان کی رگوں کی کُل متاع ہی یہی چند قطرے تھے۔
ثاقب نے صبح ناشتہ کرتے ہوئے امی ابو کو رات کا واقعہ بیان کیا اور التجاء کی کہ ہمارے مکان کی چھتوں کے ارد گرد دیوار بنا دی جائے تاکہ پھر ایسا واقع نہ ہو۔ قاضی صاحب اور شیریں بی بی کو ننھی جان ثاقب کی شب بیتی پر بڑا ترس آیا لیکن بے چارے محبت کے دیوتا کے سامنے بے بس تھے۔ ابو نے جنگلا جلد بنانے کا وعدہ کیا۔ اگلے دن ثاقب نے چابی والا کتا ایک بھاری پتھر سے مسل ڈالا اور اُس کا ایک کان کاٹ کر بلونگڑے کے کان کے ساتھ جوڑ کر کُنج میں دفن کر دیا۔
دن سبک رفتاری سے گزر تے گئے۔ کتے کی خوفناک آوازیں، اُس کے بے رحمانہ شکار جاری رہے۔ موسلادھار بارشیں، آندھیاں، جھگڑ اور طوفان اُس حویلی کی خاموش راتوں کو پُراسرار بناتے رہے لیکن گاڑی کے دو پہیے بدستور ایک ساتھ گھومتے رہے۔ جنگلا نہ بن سکا۔
پاکستان بنے تین دہائیاں مکمل ہو چکی تھیں۔ میاں بیوی کے بالوں میں چاندی اُترنا شروع ہوگئی۔ ثاقب کے چہرے پر بھی سبزہ نمودار ہونا شروع ہوگیا۔ یہ اُس خاموش حویلی کے تمام مکینوں کی عمروں کا عبوری دور تھا۔ دو تین سالوں کے بعد ثاقب ایک خوبرو نوجوان کی شکل دھار گیا۔ موٹی موٹی آنکھیں، چھوٹی چھوٹی خوبصورت تراشی ہوئی موچھیں اور چھتے دار ریشمی زلفیں ثاقب کی دلکش شخصیت کی آئینہ دار بن گئیں۔ ثاقب اُس خاموش گلی کی مکین چند لڑکیوں کا ہیرو بن گیا ۔ چوہدری فتح داد کی بیٹی فاریہ نے جب ثاقب کو پہلی مرتبہ دیکھا تو دم بخود رہ گئی۔ لیکن ثاقب ان سب رومانوی چکروں سے ماورا تعلیمی دنیا میں آگے بڑھتا چلا گیا۔ ایم اے کرنے کے بعد وہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھا اور صوبہ بھر میں ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ چند دنوں بعد اُس محکمہ کا سپرٹینڈنٹ مقرر ہوگیا جس میں اُس کے والد قاضی صاحب نے معمولی ملازمت کرتے ہوئے اپنی عمر گزار دی تھی۔
گاڑی کے دو پہیوں کے فراٹے ختم ہوگئے تھے لیکن گھرر گھرر کرتی ہوئی سست رفتار گراریوں والا دھیرا دھیرا سفر اب تک جاری تھا۔ فراغت ملی تو ایک دوسرے کی ضرورت اور بڑھ گئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تو قاضی صاحب نے اب حویلی سے باہر نکلنا بہت ہی کم کر دیا تھا۔ ادبی ذوق میاں بیوی میں ہنوز باقی تھا بلکہ پہلے سے بڑھتا جا رہا تھا۔ اے حمید کے افسانے قاضی صاحب دلچسپی سے پڑھتے تھے۔ اے حمید کی امرتسر کی یادوں کو وہ میرٹھ کی تصوراتی نگاہوں سے پڑھتے۔ بعض اوقات تو اے حمید کے افسانوں کی دبیز رومانیت اور سکوت قاضی صاحب کے چہرے پر ایک گہری طمانیت کا احساس پیدا کردیتاکسی سطر کو پڑھتے ہوئے وہ زیر لب مسکرانے لگتے۔ کوئی صفحہ اُن کی آنکھوں میں یادوں کے سمندر میں تیرتے ہوتے آنسوؤں کو جلوہ گر کر دیتا ۔ آنسوؤں اور مسکراہٹوں کی دھوپ چھاؤں شیریں بی بی کو بڑی عجیب لگتی ۔
شیریں بی بی کے ہاتھ میں بشیر بدر کی کتاب ہے۔ یہ کتاب کچھ دن قبل قاضی صاحب بازار سے خرید کر لائے تھے۔ ایک غزل تو دو ہفتوں سے میاں بیوی کے لبوں پر ہے۔ قاضی صاحب اے حمید کی تصنیف “کچھ یادیں، کچھ آنسو” دیوار کی طرف منہ کر کے پڑھ رہے ہیں۔ دنیا و مافیہا سے بے خبر آرام کر سی پر چہرہ دیوار کی طرف کیے پُرانی یادوں اور تازہ آنسوؤں کی زد میں جانے کتنی دیر سے بے حس و حرکت کتاب پر نظریں ٹکائے ہوئے ہیں۔ اچانک خوبصورت مترنم آواز اُن کو خوابوں کی دنیا سے بے دخل کر دیتی ہے۔ خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے

کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
شیریں بی بی کی طرف پُر سکون، چھوٹے چھوٹے آنسوؤں سے نیم روشن اور ہلکی ہلکی مسکراہٹ کی حامل آنکھوں سے تکتے ہوئے قاضی صاحب گویا ہوئے۔
ہنسو آج اتنا کہ اس شہر میں

صدا سسکیوں کی سُنائی نہ دے
گھر کی آمدن معقول تھی ۔ قاضی صاحب کی پنشن اور ثاقب کی اچھی خاصی تنخواہ اُن کی ضرورت سے زائد تھیں۔ ثاقب کا کمرہ اب بچگانہ تصویروں سے خالی ہوگیا تھا۔ اب اس کمرے میں صادقین اور دوسرے معروف مصوروں کے خطاطی کے نمونے اُس کے عمدہ جمالیاتی ذوق کا احساس دلاتے تھے۔ تاریک راتیں، موسلادھار بارشیں اور چوہدری صاحب کے کتوں کے شکار اب ثاقب کو خوفزدہ نہیں کرتے تھے۔ دوسری طرف چوہدری صاحب کی بیٹی بھی سیاسیات میں ایم اے کرنے کے بعد مقامی گرلز کالج میں لیکچرار مقرر ہوگئی تھی۔
اس مرتبہ جب سردیوں کی موسلادھار بارشیں تھیں تو گلابی جاڑے نے صحن میں طنابیں کس دیں۔ کچھ دن اور گزرے تو ماحول میں بسنتی رنگ کھلنے لگا۔ 23 فروری کو شہر میں بسنت منائی گئی۔ محلے کے سارے نوجوان چھتوں پر چڑھ دوڑے۔ پتنگیں اڑائی گئیں، پیچ لڑائے گئے۔ فاریہ اپنی بہنوں اور کزنوں کے ساتھ بسنتی جوڑے میں خوب کھلتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ ثاقب نے جب فاریہ کو تمام نوجوانوں کی نگاہوں کا مرکز دیکھا تو احساس رقابت کی وجہ سے اُس کا ناقدانہ جائزہ لیے بغیر نہ رہ سکا۔ واقعی ثاقب نے کافی وقت ضائع کیا تھا لیکن اب مزید وقت ضائع کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ ثاقب نے ایسا پیچ لگایا کہ چوہدری صاحب کی پتنگ چند ہفتوں میں قاضی صاحب کے خاموش آنگن کی زینت بن چکی تھی۔
قاضی صاحب اور شیریں بی بی خود سے ساتھ والے کمرے میں کھسک گئے اور اپنا کمرہ نئے جوڑے کو دے دیا۔ ابھی دلہن کے ہاتھوں کی مہندی نہیں اتری تھی کہ اچانک شیریں بی بی کے دل کی شریانیں سکڑنا شروع ہو گئیں۔ ذیابیطیس کا مرض تو اُن کو سالوں سے ہو چکا تھا۔
ساون شروع ہوگیا۔ چھتوں کے پرنالے موسلادھار بارشوں کے پانی کو راستہ نہ دے سکے اور یہ ساون کا پانی چھتوں کے بنیروں اور چھجوں کو عبور کر کے صحنوں میں گرنے لگا۔
ایک روز کمرہ کی کھڑکی کے قریب اُداس اور ویران آنکھوں سے قاضی صاحب ہ بارش میں نہاتے ہوئے بوڑھ اور بوڑھے آم کے درختوں کا نظارہ کر رہے تھے۔ شیریں بی بی کتنی دیر سے ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔ قاضی صاحب کو متوجہ کرنے کے لیے شیریں بی بی نے پرنا گُر استعمال کیا۔ اپنی کمزور ہوتی ہوئی دلنشین آواز میں قاضی صاحب کے چاندی جیسے بالوں کو گدگداتے ہوئے گویا ہوئیں۔
تجھے اپنی چادر سے میں ڈھانپ لوں

زمین آسماں کچھ دکھائی نہ دے
دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں ۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا جو تھوڑی دیر بعد ہلکے سے قہقہ میں تبدیل ہوگیا۔چند دن قبل قاضی صاحب ساتھ والے محلے کے ایک حکیم سے بیگم کی گرتی ہوئی طبیعت کے بارے میں مشورہ کرنے گئے تھے۔ حکم صاحب نے صبح اور رات سونے سے پہلے شہد کے ساتھ بیس بیس دانے بادام کی غذا تجویز کی۔ جب اس دیسی دوا کا وقت آتا قاضی صاحب بڑے اہتمام سے ایک ایک دانا گن کر شیریں بی بی کو ےُوں بادام کھلاتے جیسے چڑیا اپنے بچوں کو چوگا ڈالتی ہے۔
ایک روز قاضی صاحب عصر کی نماز ادا کرنے مسجد میں گئے ہوئے تھے۔ فاریہ اپنے کمرے میں پرچوں کی مارکنگ کر رہی ہے۔ ثاقب ابھی دفتر سے نہیں آیا۔ اچانک شیریں بی بی کی ہلکی سی چیخ بلند ہوئی۔ فاریہ بھاگتی ہوئی آئی اور دیکھا کہ آرام کرسی پر شریں بی بی بڑے پر سکون انداز میں ابدی نیند سو رہی ہیں۔ کُچھ دیر بعد ثاقب دھاڑیں مار مار کر رورہا تھا۔ قاضی صاحب نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ شاہد اس وجہ سے کہ انہوں نے آنسوؤں کا محدود ذخیرہ مرتے دم تک آہستہ آہستہ لُٹانا تھا۔
درخت اپنے پتے اتار چکے ہیں۔ رات کے وقت ہواؤں کے جھکڑ خشک پتوں کی خوب دوڑ لگوا رہے ہیں ۔ شدید سردیوں نے ویران حویلی کے مکینوں کو کمروں میں مقید کررکھا ہے۔ ثاقب اور فاریہ پچھلے اتوار کو کچھ نیا فرنیچر خرید کر لائے تھے۔ شام ہونے سے پہلے پہلے فرنیچر بیڈ روم کے ساتھ والے کمرے میں سجادیا گیا ہے۔ دونوں میاں بیوی بڑے احترام سے قاضی صاحب کا بسترا ور کتابیں غلام گردش سے دُوسری طرف والے سٹور میں منتقل کر رہے ہیں۔ قاضی صاحب پر سکول چہرے سے ساری کاروائی دیکھ رہے ہیں ۔ فاریہ جیسے ہی انگیٹھی پر پڑی شیریں بی بی کی خوبصورت فریم میں لگی تصویر ہٹاتی ہے تو اسے ایک بندرومال نظر آتا ہے۔ ثاقب سے پوچھ کر جب وہ جلدی جلدی رومال کو کھولتی ہے تو بادام کی گریاں نیچے گر جاتی ہیں۔ میاں بیوی کو قاضی صاحب کی چپکے چپکے اِس خوش خوراکی کے عمل پر ہنس آجاتی ہے۔ قاضی صاحب فوراً بادام کی گریوں کو بچوں کی طرح بیریاں چننے والے انداز سے اپنے جیب کے اندر ڈال کر محفوظ کر لیتے ہیں۔
قاضی صاحب کا زیادہ وقت سٹور نما بیڈ روم کے اندر ہی گزرتا ہے۔ اے حمید کے ساتھ ساتھ ہارڈی کے اردو کے ترجمہ شدہ ناول اور منقش فریم والی ایکتصویر قاضی صاحب کی کل کائنات ہے۔ بڑھاپے نے اُن کی جوانی والی ہمت ، حوصلہ اور بہادری کا قلع قمع کر دیا ہے۔ ہلکی سی آہٹ بھی اُن کو ڈرا کر رکھ دیتی ہے۔
دسمبر کی ایک یخ بستہ رات کو ثاقب اور فاریہ رات دیر گئے کسی تقریب سے لوٹے اور آتے ہی سیدھے اپنے کمرے میں جا کر سو گئے۔ قاضی صاحب نے اپنی بوڑھی آنکھوں سے میاں بیوی کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے غلام گردش میں سے گزر کر کمرے میں داخل ہوتے دیکھا۔ کبھی ایسے ہی جوش وولولہ کے ساتھ دُنیا و مافیہا سے بے خبر قاضی صاحب اور شیریں بی بی غلام گردش میں گردش کیا کرتے تھے۔ جب ننھا ثاقب انجانے خوف و ہراس میں جکڑی زندگی گزار رہا تھا اور حسرت بھری نگاہوں سے اپنی کوٹھری کی سلاخ دار کھڑکیوں سے والدین کی آزاد ، مطمئن اور بے خوف زندگی کو دیکھا کرتا تھا۔
نصف شب ہونے کو ہے۔ قاضی صاحب کو دسمبر کی یخ بستہ راتوں کی خوفناک خاموشی سونے نہیں د ے رہی۔ قاضی صاحب شیریں بی بی کی طرف حسرت ناک نگاہوں سے دیکھتے دیکھتے گلے شکووں میں لگ گئے ۔
شیرینی۔۔۔ اور میری شیرینی ! میں نے کیا بگاڑا تھا تیرا؟
کیوں مجھے زہر کا ٹیکا لگا کر۔۔۔ میری جھوک تباہ کرکے میرے گھر سے نگل گئی ؟
میری عمر بھر کی محبتوں کا اچھا صلہ دیا تونے۔ کب بلا رہی ہو مجھے اپنے پاس؟ آنکھیں کیوں سیکٹر رہی ہو؟
اِس کوٹھری کی وجہ سے ؟ ناں میری شیرینی ناں! میں اِس کوٹھری میں خوش ہوں۔ اُس بڑے کمرے میں تیری خوشبو ، تیری یادیں کہاں مجھے سونے دیتی تھیں۔ میرا بیٹا اور بہو بہت اچھے ہیں کہ انہوں نے میری خاطر اُس بڑے کمرے میں رہائش اختیار کرلی۔ ہاں ایک بات بتانی ہے تم کو ۔
میں نے تمہارا شہد اور بادام سنبھال رکھا ہے۔ تمھاری صرف دو خوراکیں باقی ہیں۔ حکیم صاحب کہتے ہیں کہ خوراک مکمل ہوتے ہیں تم بالکل صحت مفید ہو جاؤ گی۔ دیکھو میں نے تمھاری کتابیں ، کپڑے اور وہ انگوٹھی بھی سنبھال رکھی ہے جو شادی سے پہلے میں نے تم کو تحفہ میں دی تھی۔ شیریں بی بی تصویر میں حرکت کرتی ہیں اور ترنم کے ساتھ مسکراتے ہوئے جوابا عرض کرتی ہیں۔
خطا وار سمجھے گی دُنیا تجھے

اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے
روزانہ صبح ثاقب چائے کا کپ اور ایک ڈبل روٹی کا روایتی ناشتہ بابا جی کی کوٹھری میں لے کر آتا۔ چند دنوں سے ثاقب محسوس کر رہا تھا کہ قاضی صاحب کی آنکھیں سُرخ ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک روز صُبح ناشتہ دیتے وقت ثاقب نے اِس کی وجہ پوچھ ہی لی۔
قاضی صاحب نے کہا۔ بیٹے ثاقی اور تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ صرف رات کو یہ چوہدری صاحب کا کتا چھت پر دوڑتا ہے تو آنکھ کھل جاتی ہے اور پھر نیند نہیں آتی ۔ تُو ایک مہربانی کر ہماری چھتوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا جنگلا بنوا دے۔ تاکہ کتا میری پر سکول نیند کو خراب نہ کر سکے۔ ثاقب نے کہاجی ابو بہت جلد یہ کام ہو جائے گا۔
ثاقب اور فاریہ بہت مصروف زندگی گزار رہے تھے۔ لیکن اِس مصروفیت میں بھی ایک قسم کی طمانیت موجود تھی۔ زندگی کی گوناگوں مصروفیات کی وجہ سے چھتوں کے اوپر دیواریں کھڑی نہ ہو سکیں ۔ اب قاضی صاحب نے بھی اپنے مسئلہ کا حل نکال لیا تھا۔ ان کی نیند کا دشمن چوہدری صاحب کا بل ٹیر ئیر کتا تھا جو رات بھر جاگا کرتا اور بلیوں کو چھتوں پر بھگائے رکھتا۔ لیکن دِن چڑھتے ہی اپنے لئے بنائی گئی مخصوص کوٹھڑی میں سو جاتا۔ چودہری صاحب کا بیٹا صبح اُس جانور کو ایک پیالے میں دُودھ اور ڈبل روٹی کے چند ٹکڑے ڈال جاتا۔ یہ ناشتے کرتے ہیں وہ سو جاتا۔ دِن بھر اس کی آواز کوئی نہ سنتا۔ اب قاضی صاحب نے بھی جگ راتوں کی کمی دِن کو سو کر پوری کرنا شروع کر دی۔ آنکھوں کی سُرخی ختم ہوگئی۔ رحمدل بیٹے نے بھی سکون کا سانس لیا کہ چلو ابو کی گمشدہ نیندیں لوٹ آئی ہیں۔
ایک رات کا واقعہ ہے کہ کتے نے جانے کون سی چیزدیکھ لی اور دیوانہ وار چھتوں کے چکر لگانا شروع کر دےئے۔ قاضی صاحب جس کوٹھری میں سوئے ہوئے تھے کی چھت پرانے ہونے کی وجہ سے بوسیدہ ہو چکی تھی اور کُتا بھی رات بھر اپنے پنجوں سے اس کی مٹی کریدتا رہتا۔ اچانک کتے کے بوجھ کی وجہ سے کوٹھری کی دو اینٹیں نیچے گر گئیں ۔ ایک اینٹ قاضی صاحب کے پاؤں پر آن گری۔ پاؤں کی ہڈی کے ٹوٹ جانے کی ہلکی سے آواز پیدا ہوئی۔ پاؤں کی دو انگلیوں سے خون جاری ہوگیا۔ کتے نے بھی سوراخ کے قریب ڈیرہ لگا لیا اور ہر گھڑی دو گھڑی کے بعد تھوتھنی اندر ڈال کر بھاؤں بھاؤں کرنے لگ جاتا۔ قاضی صاحب شدید درد کرب کے عالم میں بمشکل بستر سے اٹھے۔ غلام گردش کو عبور کرکے سامنے والے کمرے پر دستک دینے ہی والے تھے کہ اچانک اُن کے ہاتھ رک گئے۔ کمرے میں گاڑی کے دو پہیے خوب گردش میں تھے۔
قاضی قمر دین صاحب شرمندگی ، خفت اور زندگی کے ایک بھولے بسرے احساس کی یادوں کے ساتھ واپس بستر پر آکر لیٹ گئے۔ جانے کیوں واپس آتے ہی نیند کا ایسا غلبہ طاری ہوا کہ آگلے دن دو پہر تک سوتے رہے۔

2 thoughts on “KHAMOSH HAWILEY By WAQAR AHMED MALIK”

  1. ماشاءاللہ .آپکی محنت قابلِ داد ہے. آپ اپنے حصہ کی شمع جلا چکے ہیں کاش کہ نئی نسل اپنی مٹی کے قرض سے آشنا ہو سکے.

  2. ماشاءاللہ ویب کی ڈیزائننگ تبدیل ہے جو کہ بہت اچھا لگ رہا ہے
    فرینڈلی ہے یہ
    اور ایک مشورہ ہے کہ فیس بک پیج جو آپ نے ایمبیڈ کیا ہے سر اس کو فیڈ ونڈ یا کسی اور کوڈنگ سے آٹو پلے کریں تاکہ وزٹر کیلئے اور بھی آسانی رہے اور دیکھنے میں بھی خوبصورتی
    ذکاء ملک چاہ میانہ

Your words for Mianwali and Mianwalians

%d bloggers like this: