Dhool Matti Aur Mianwali

دھول مٹی اور میانوالی

کچھ دنوں سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔لوگ گرمی کی شدت کو برداشت کرنے سے گھبرا رہے ہیں۔بجلی کی لوڈشیڈنگ تو اب مقدر ہی بنتی جا رہی ہے۔سڑکوں کے کنارے لگے سایہ دار درخت بہت سارے لوگوں کے مسکن بنے ہوئے ہیں۔اس گرمی کی شدت کو کم کرنے میں ان کا بہت اہم کردار ہے۔ہمیں چاہیے کہ آنے والی نسلوں کیلئے زیادہ سے زیادہ سایہ دار درخت لگائیں تاکہ آنے والوں وقتوں میں ان سے مستفید ہو سکیں۔یہ درخت انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کو بھی تسکین پہنچاتے ہیں۔ہر سال کی شجر کاری سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا بھی بہتر نسخہ ہیں۔تندرستی ہزار نعمت ہے ایک بے مثل ضرب المثل ہے۔ زبانی طور پر اس ابدی حقیقت کا اعتراف ہم سب کر تے ہیں۔مگر اپنے عمل سے اس کی صریح نفی ہو رہی ہے۔صحت عامہ بہتر بنانے کا مقصد اس وقت تک حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک ماحول کو صاف ستھرا نہیں رکھا جائے گا۔آلودہ ماحول سے صحت کے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔چونکہ ماحولیاتی آلودگی عالمگیر مسئلہ ہے اس لیے اسے بین الاقوامی تعاون کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں فضاء میں آلودگی،مٹی دھول ہوامیں مضر صحت مادے پائے جاتے ہوں تو سانس کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس سے پھیپھڑوں کے کینسر، دمہ اور حرکتِ قلب بند ہونے کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ ماحول انسانی زندگی پر بہت اثرانداز ہوتا ہے۔ماحولیاتی آلودگی سے مختلف قسم کی جلد ی امراض، ناک، کان اور گلہ کے ساتھ ساتھ سانس کی بیماریوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔صاف ستھرا ماحول انسان کو پرسکون زندگی عطا کرتا ہے۔دنیا میں ماحول کی آلودگی کے مضر اثرات پر ہر جگہ بحث ہو رہی ہے ہمارے وسائل محدود ہیں اور ماحول کی صفائی ضروری ہے۔مگر آبادی کے اس طرح سے ماحول کی صفائی کیسے ممکن ہے؟ جب گاڑیاں ہی گاڑیاں ، دھواں ہی دھواں نظرآتا ہو۔ہمارے روز مرہ زندگی کے کھانے کی چیزیں اور پودوں پر اس آلودگی کے جان لیوا اثرات کا عمل جاری ہے۔ہوا کی آلودگی یس کے اجزاء جو ماحول میں آتے ہیں وہ جلانے کے عمل سے آتے ہیں خواہ وہ کارخانوں ،گاڑیوں، گھر کی چمنیوں، ریل انجن، ہوائی جہاز، رکشہ وغیرہ کا دھواں ہو سے سلفر ڈائی آکسائیڈ میں ایسے زہریلے اثرات ہیں جو کہ انسانوں اور حیوانوں کے پھیپھڑوں پر اثرا نداز ہوتے ہیں جو اوپر جا کر سلفر ڈائی آکسائیڈ Trioxideمیں تبدیل ہو کر پانی کے ساتھ مل کر سلفریک ایسڈ بناتی ہیں جو کہ دانتوں کو بھی نقصان دیتا۔گاڑیوں کے دھوان سے ہائیڈروکاربن نائٹروجن اور کاربن مونوآکسائیڈ گیسز نکلتی ہیں اور کاربن مونوآکسائیڈ انسانوں میں سردرد اور غنودگی پیدا کرتی ہیں۔ اگر سوچا جائے تو ہم یہ گاڑیاں، فیکٹریاں، ہوائی جہاز لوگوں کو بیماریوں میں مبتلا کرنے کیلئے چلاتے ہیں۔اگر عام آدمی پیدل چلنے کی عادت ڈالے اور تازہ ہوان میں گہری سانس لے تو ان کے بہت بہتر ہوگا۔ شہری زندگی میں بھی آلودگی عام ہے۔گھر گھر میں انڈسٹری پھیلتی جا رہی ہیں۔قالینوں وغیرہ کی صفائی اور دوھلائی کے دوران تیزاب خارج ہوتا ہے جو اردگرد کے ماحول کو آلودہ کرتا ہے اور ساتھ ہی دور دور تک بدبو پھیلاتی جاتی ہے۔سڑکوں پر مٹی کی دھول کے مسائل میں ضلع میانوالی بھی شامل ہے۔سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک اور بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ نے عام شہری کو ڈپریشن کا مریض بنا کر رکھ دیا ہے۔ڈیوٹی پر موجود ٹریفک پولیس اہلکاروں کو بھی اس دھول مٹی کی وجہ سے صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گلی، محلہ اور بڑی سڑکوں کے اردگر لگے کھانے پینے کے ریڑی ٹھیلے، دوکانوں پر موجود اشیاء پر بھی اس دھول مٹی کی وجہ سے انسانی جانوں کو مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جس کا شکار زیادہ تر کم عمر بچے بن جاتے اس لیے آئے روز سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں بچوں کے پیٹ کے مرض اور بڑوں میں ڈپریشن کی شکایات میں اضافہ ہے۔ماحولیاتی آلودگی اور دھول مٹی کے بارے میں ڈاکٹر شیرانور خان، چیسٹ سپشلسٹ نے کہا کہ گندم کی کٹائی کی دھول انسانی صحت کے سخت نقصان دے اور حکومت کو سڑکوں کی تعمیرات پر بھی جلد حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ اس سے پیدا ہونی والی گردو غبار جو کہ انسان کے پھیپھڑوں پراثرانداز ہو کر دمہ، سانس کی بیماری یا کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔اسی بارے ڈاکٹر محمد اسحاق،ماہر امراض ناک، کان اور گلہ نے بھی بتایا کہ سڑکوں کی مرمت، گاڑیوں کے دھواں کی وجہ سے اکثریت میانوالی کے لوگ ناک، گلہ کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔جلدی امراض کے بارے میں ڈاکٹر محمد ارشد، ماہر امراض جلد سے بھی اس بارے تفصیلی رائے لی گئی اور ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ دھول مٹی اور فضائی آلودگی جلد کے پھوڑوں، الرجی، داغ دھبے اور دوسرے گندے دانوں کا موجب بنتے۔ اور ان کا علاج اپنے اردگرد ماحول کو صاف ستھرا رکھ کر ہی کیا جا سکتا۔ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی سوسائٹی بنانی چاہیے جو ماحول کی حفاظت کرے اور صاف ستھرا پر سکون ماحول کیلئے کوشش کریں۔ ہماری ذرخیزی زمین کو آلودگی سے بچاہیں تاکہ ملک میں رہنے والی بہت ساری بیماریوں سے بچ سکیں۔

حبیب اللہ، میانوالی

Leave a Reply