HARCHARAN DASS CHAWLA-Mianwali

HARCHARAN DASS CHAWLA-Mianwali

HARCHARAN DASS CHAWLA-Mianwali

HARCHARAN DASS CHAWLA

Harcharan Dass Chawla (November 4, 1926 – November 5, 2001) was an Urdu writer.Born in Duad Khel ,Mianwali .He moved to Delhi, as a result of the 1947 partition of India. The event served as the backdrop for his first novel Darinday, and would leave a lasting impression throughout his career, with migration and cultural identity dominant themes of his work.

After graduating from the Punjab University in Chandigarh in 1956 and working for Indian Railways, in 1971 Chawla moved to Frankfurt, Germany then Oslo, Norway in 1974 where he would eventually settle. His shift to Europe would bring new dimension to his writing, addressing issues of loss of culture and identity faced by South Asians migrating to different parts of the world.

In Oslo, Chawla helped creating a literary bridge between the Indian subcontinent and Norway by translating Norwegian stories into Urdu and Hindi and South Asian work into Norwegian. Completing the work of his wife Purnima Chawla who died in the midst of the process, he translated Knut Hamsun’s novel Victoria. En kjærlighedshistorie into Hindi and Urdu and Indian Foreteller, a compilation of stories by Indian writers into Norwegian. He was also the Urdu, Hindi and Punjabi consultant for Deichmanske Bibliotek, Oslo.

BOOKS WRITTEN BY HARCHARAN DASS CHAWLA.

Darinday, 1968 (Urdu),Aks Aiyene Ke, 1974 (Urdu, short stories),The Broken Horizon, 1974 (English, short stories),Ret, Samundar aur Jhag, 1980 (Urdu, short stories),Chiragh Ke Zakhm, 1980 (Urdu),Akhri Kadam se Pehle, 1983 (Hindi, short stories),Aate Jaate Mausmon Ka Sach Afsaney, 1984 (Urdu),Pani di Aurat, 1985 (Punjabi),Norway Ke Behtreen Afsaney, 1989 (Urdu, short stories, translated),Anguish of a Horse and other stories, 1990 (English, short stories),Dil, Dimagh aur Duniya, 1992 (Urdu, short stories),India Foreteller, 1992 (Norwegian, translated),,Sach Jaise Sapne, 1992 (Urdu, short stories),Tumko Dekha, 1992 (Urdu, short stories),Bhatke Hue Log, 1993 (Urdu, Hindi),Dhoop Ek Chadar, 1993 (Hindi, Urdu, novel),,Darya aur Kinaare, 1995 (Urdu, short stories),Dhai Akkhar, 1996 (Urdu),Garebaan Jhut Bolta Hai: Afsaney aur Afsance, 1996 (Urdu),Victoria, 1996 (Urdu, Hindi, ranslated, with Purnima Chawla),Album Yadon Ki, 2001 (Urdu, Hindi),Bhatke Hue Log, 1984, 2003 (Hindi),Fan or Shakhsiyat, 2003 (Urdu),Adrift, 2003 (English),Short Story Contributions,Back to Ganges, in Roses in Snow – Poems and Lyrics of Immigrants in Norway, Sweden and Denmark edited by Khalid Salimi, 1988,Between the Lines, in Contemporary Urdu Short Stories: An Anthology, selected and translated by Jai Ratan, 1991

HONOURS AND AWARDS AWARDED TO  HARCHARAN DASS CHAWLA FOR HIS WORK

Rajinder Singh Bedi Award

Uttar Pradesh Urdu Academy Award – 1976, 1981, 1991

Zalaten Klas Bulgaria International Short Story Competition

All India Meer Academy Award – 1981

میرے بڑے بھائی ملک محمد انورعلی کو ادبی رسالے پڑھنے کا بہت شوق تھا- ایک دفعہ لاھور کے معروف ادبی جریدے ‘اد ب لطیف‘ میں “دوسا“ کے عنوان سے افسانہ پڑھا تو خوشی سے اچھل پڑے، کیونکہ یہ افسانہ داؤدخیل کے قبیلہ لمے خیل کی مشہور شخصیت چاچا دوست محمد خان المعروف دوسا کی سچی کہانی تھی- لکھنے والے کے نام ھرچرن چاولہ سے صرف اتنا پتہ چل سکا کہ وہ ھندو ھے- یہ معلوم نہ تھا کہ وہ تو داؤدخیلوی ھندو ھے جو قیام پاکستان کے وقت بیس اکیس سال کی عمر میں یہاں سے بھارت منتقل ھو گیاتھا-بھائی جان نے وہ افسانہ چاچا دوسا کو پڑھ کر سنایا تو چاچا کی آنکھوں سے آنسوبہہ نکلے ، کہنے لگے لکھنے والا یہاں کے بابوچاولہ کا کچھ لگتا ھوگا- بابو چاولہ ریلوے میں ڈاک کے شعبے میں ملازم تھے- قیام پاکستان کے وقت یہاں سے بھارت منتقل ھو گئے-

بھائی جان نے رسالے کے دفترسے ھرچرن چاولہ کا بھارت کا ایڈریس لے کر ایک مفصل خط چاولہ کو بھجوا دیا- خط میں لکھا کہ چاچا دوسا ابھی زندہ و سلامت ھیں اور آپ کو بہت دعائیں دے رھے ھیں-
چاولہ کو خط ملا تواس کی گویا عید ھوگئی- اپنے پیار ے وطن داؤدخیل سے آئے ھوئے خط کو باربارچوم کر آنکھوں سے لگایا- فورا خط کا جواب دیا- خاصا طویل جواب تھا- اس میں چاولہ نے دیوانہ وار داؤدخیل میں اپنے بچپن کی یادوں کاذکر کرتے ھوئے لکھا ” زندگی میں بس ایک ھی خواھش ھے کہ ایک دفعہ جاکر داؤدخیل کے درودیوار کواپنی آنکھوں سے ایک بار پھر دیکھوں اور وھاں کی خاک کو بوسہ دے سکوں ” –

چاولہ کی یہ خواھش پوری تو ھو گئی، مگر جب وہ داؤدخیل آئے تو نہ چاچا دوسا اس دنیا میں موجود تھے، نہ ھی میرے بھائی جان- دونوں کی قبروں پہ جاکر آنسو بہاتے رھے-

چاولہ کے والد ریلوے کی ملازمت کے سلسلے میں داؤدخیل ائے ، اور مستقل طور پر یہیں مقیم ھوگئے- شادی بھی یہیں کے ایک ھندو گھرانے میں کی- ھرچرن چاولہ کا بچپن داؤدخیل ھی میں گذرا- مڈل تک تعلیم بھی یہیں حاصل کی-

ھرچرن چاولہ بھارت میں کچھ عرصہ ریلوے میں ملازم رھے- 1971 میں وھاں سے جرمنی چلے گئے- 1974 میں ناروے کی ایک مشہور لائبریری کے لائبریرین مقرر ھوئے بقیہ زندگی وھیں گذری- 1988 میں جب وہ داؤدخیل آئے تو اس وقت ناروے ھی میں مقیم تھے-
چاولہ نے اپنی کتاب “تم کودیکھیں“ میں اپنے اس دورہ میانوالی / داؤدخیل کا مفصل ذکر بہت دلگداز انداز میں لکھا ھے- اس دورے میں پروفیسرمحمد سلیم احسن اور میں بھی ان کے ھمراہ تھے- داؤدخیل کے اس دورے میں ھرچرن چاولہ کی اھلیہ پورنیما بھی ان کے ھمراہ تھیں ، چاولہ کی طرح وہ بھی اپنے آبائی شہر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے چین تھیں- ان کا یہ دورہ آنسوؤں بھرا سفر تھا- کچھ آنسوخوشی کے ، کچھ غم کے – قدم قدم پر بچپن کی یادیں 40 سال سے ان کی منتظر تھیں- دونوں میاں بیوی بہت خوش بھی تھے اداس بھی-
چاولہ نے کہا سب سے پہلے داؤدخیل ریلوے سٹیشن چلیں جہاں انہوں نے بچپن گذارا تھا-
ریلوے ریسٹ ھاؤس کےسامنے ملازمین کے رھائشی کوارٹرز کی ایک قطار تھی – یہ کوارٹر ایک عرصہ سے ویران پڑے تھے- مالزمین کے لیے نئے کوارٹرز بن گئے تھے- پرانے کوارٹرز کی قطارکا پہلا کوارٹر وہ تھاجس میں چاولہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ رھتا تھا- صحن میں قدم رکھتے ھی چاولہ نے زاروقطار رونا شروع کردیا- برآمدے کے ایک کونے میں جاکر فرش کو بوسہ دیا اور روتے ھوئے کہنے لگا “یہاں ، میری امی پیڑھی پر بیٹھ کر ھمارے لیے کھانا بنایا کرتی تھیں“-
پھر اس نے ماں کے پاؤں والی جگہ سے کچھ مٹی اٹھا کر اس کی خوشبو سونگھی ، اسے چوم کر ایک لفافے میں ڈالا ، اور لفافہ اپنی سینے والی جیب میں رکھ لیا-
سٹیشن کے بعد ھم داؤدخیل سکول پہنچے ، جب چاولہ یہاں پڑھتا تھا اس وقت میرے دادا جی مولوی مبارک علی وھاں ھیڈماسٹر تھے- اس وقت یہ مڈل سکول تھا- چاولہ نے ایک درخت سے لٹکی ھوئی سکول کی گھنٹی دیکھی تو سیدھا اس کی طرف جا کر اسے چومنے لگا- کہنےلگا “آٹھ سال میں اس گھنٹی کی آواز پر سکول آتا جاتا رھا – میں یہ دیکھ کر بہت خوش ھوں کہ یہ آج بھی اپنی جگہ موجود ھے-“
یہ گھنٹی ریلوے لائین کا دوفٹ لمبا ٹکڑا تھی ، جسے لوھے کی ھتھوڑی سے چاچا پھتوچوکیدار بجایا کرتا تھا- ھم اس گھنٹی کو گھنٹا کہتے تھے- بے حد سریلی آواز تھی اس کی – صبح سویرے اور چھٹی کے وقت یہ آواز پورے شہر میں گونجتی سنائی دیتی تھی-
چاولہ نے پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے اس گھنٹی کو بجا کر بھی دیکھا ، اور اس کے ساتھ کچھ پکچرز بھی بنوائیں-
یہ داستان کچھ لمبی ھے-  مسافر کو چالیس سال بعد گھر واپس آنا نصیب ھؤا ، وہ بھی صرف چند گھنٹوں کے لیے- شام سے پہلے میانوالی واپس جا کر ڈی سی آفس میں حاضری لگوانی تھی- سرکاری مہمان تھا ، سرکار نے داؤدخیل کے لیے صرف ایک دن کی اجازت دی تھی-
سکول پہنچنے سے پہلے چاولہ نے بتادیا تھا کہ میں محلہ لمے خیل میں اپنے بچپن کے دوست اکبر خان سے ضرور ملنا چاھوں گا- ھم سکول سے نکل ھی رھے تھے کہ سامنے سے چاچا اکبرخان آتے دکھائی دیئے- چاچا اکبرخان اپنے کسی کام سے جارھے تھے- چاولہ سے ملاقات تو ان کے خواب و خیال میں بھی نہ تھی- میں نے چاولہ کو خاموش رھنے کا اشارہ کرتے ھوئے چاچا اکبرخان سے کہا “چاچا ، یہ بندہ آپ سے ملنا چاھتا ھے“
چاچا اکبر خان نے آنکھوں پر ھاتھ کا سایہ بناتے ھوئے ھر چرن چاولہ کو غور سے دیکھا ، ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، صرف اتنا کہہ سکے “چرن ایں ؟؟؟““ھا، اوھا بد بخت آں “ —– یہ کہہ کر چاولہ چاچا اکبر خان کوسینے سے لگا کر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے-

کچھ دیر تک یہ بچپن کے دوست بوڑھے جی بھر کے روئے، پھرسسکیاں لیتے ھوئے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے لگے- گذرےوقتوں اور بچھڑے دوستوں کو یاد کرتے رھے- چاچا اکبرخان نے چائے پانی کا بہت کہا، مگر میں نے بتایا کہ ھرچرن چاولہ بہت جلدی میں ھیں ، انہیں شام سے پہلے میانوالی پہنچنا ھے-
چاچا اکبرخان کو الوداع کہہ کر ھم گھرآئے، دوپہر کا کھانا کھایا ، ھماری چوک پہ آنے جانے والے بزرگوں نے چاولہ سے اپنی یادیں شیئر کیں- پورنیما (چاولہ کی اھلیہ) ھمارے گھرکی خواتین سے مل کر بہت خوش تھیں- کہنے لگیں مجھے یوں لگتا ھے اپنے گھر میں آگئی ھوں-

چاولہ کی فرمائش پر ھم لوگ واپسی سے پہلے میاں رمدی صاحب کے قبرستان گئے- چاولہ نے اپنے دوست ، میرے بھائی جان ملک محمد انورعلی سے ملنا تھا- قبر پہ آنسو بہاتے ھوئے چاولہ نے کہا “ملک صاحب ، آپ سے ملنے کی بہت حسرت تھی ، مگر قدرت کی مرضی- اللہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے“ —— یہ کہہ کر چاولہ نے قبر کی پکچر بنائی اور بھائی جان کو سلام کہہ کرھمارے ھمراہ میانوالی کی راہ لی –
چاولہ نے اپنی کتاب “تم کو دیکھیں “ میں بھائی جان کی قبر کی وہ پکچر بھی شامل کی ھے – اس کتاب میں چاچا دوسا اور بھائی جان کے بارے میں بہت سی دل کو چھولینے والی باتیں بھی لکھی ھیں—

ھرچرن چاولہ کا افسانہ “دوسا“ شائع ھونے کے بعد جب میرے بھائی ملک محمد انورعلی اور چاولہ کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ شروع ھؤا تو داؤدخیل کے کئی اور لوگ بھی بھائی جان سے چاولہ کا ایڈریس لے کر چاولہ کو خط لکھنے لگے- چاولہ ھر خط کا بہت پیار سے جواب دیتے- چاولہ کے ھر خط کا ایک ایک لفظ داؤدخیل کی محبت کے رنگ میں رنگا ھوتا تھا-

چاچا دوسا خود تو پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے، مگر بھائ جان سے چاولہ کے نام خط لکھوا کر اور چاولہ کا جواب پڑھوا کر بہت خوش ھوتے تھے- چاولہ کے بہت سے خطوط تھے ان کے پاس – چاچا دوسا کی وفات کے بعد وہ خطوط ان کی اھلیہ چاچی بختی (بخت بی بی) کے پاس تھے، اب تو چاچی بھی اس دنیا میں موجود نہیں-
داؤدخیل میں حفیظ اللہ قریشی اور کفایت اللہ خان نیازی ایڈووکیٹ کے پاس بھی چاولہ کے کچھ خطوط محفوظ ھیں – کئی اور لوگوں کے پاس بھی ھوں گے-میرے بھائی جان کے پاس بہت سے خطوط تھے- گھر والوں کی نالائقی سے ایک بھی باقی نہ بچا-

میرے پاس چاولہ کے دو خطوط موجود ھیں، یہ چاولہ نے داؤدخیل سے واپس جا کر ناروے سے لکھے تھے- یہ دونوں خط میرے بارے میں محترمہ پروفیسرنصرت نیازی کی کتاب میں شامل ھیں-ایک اور خط میں چاولہ نے لکھا تھا “ناروے دنیا کا آخری کنارا ھے، مگر یہاں بھی داؤدخیل میرے من میں بستا ھے“
اپنے آخری خط میں چاولہ نے لکھا تھا “پورن بھی مجھے چھوڑ کر دوسری دنیا میں جا بسیں – اب زندہ رھنے کو جی نہیں چاھتا “ (چاولہ اپنی اھلیہ پورنیما کو پورن کہتے تھے) — پور ن کی موت کے چند ھی ماہ بعد چاولہ بھی پورن سے جاملے- سچی سنگت ایسی بھی ھوتی ھے-

چاولہ بہت بڑے افسانہ نگار تھے- اردو ، انگریزی ، ھندی، پنجانی اور نارویجن زبان میں ان کی لکھی ھوئی کہانیوں پر مشتمل 24 کتابیں دنیا کو ان کی یاد دلاتی رھیں گی— رھے نام اللہ کا —–بشکریہ-منورعلی ملک-  نومبر 2017-

ARTICLES ABOUT HARCHARAN DASS CHAWLA

GHODEY KA KARB AFSANA

 

Your words for Mianwali and Mianwalians