Zahoor Ahmad -A calligrapher of Trag- Mianwali

 

Calligraphy is the art of beautiful handwriting. It involves skillful and artistic lettering, often with a broad-tipped instrument, brush, or other writing tool. Calligraphy has a long history and is present in many cultures around the world especially Islamic calligraphy .

Zahoor Ahmad   is a multi-talented person from trag mianwali . he is multi talented person , A calligrapher, linguist, poet, prose writer and a vocalist.

He is a founding member of Halqa e Adab Kamar Mushani Library .Zahoor Ahmed Calligraphy is the art of beautiful writing. It involves skilled and artistic lettering, often with a broad-tipped tool, brush, or other writing instrument..

Dispersing rare ideas on canvas with reference to the universal dimensions of art and craft, covering the thought in a mirror and transferring it to the paper page, that is also judged on the mint criterion of verbal eloquence and eloquence, is undoubtedly the specialty of Zahoor. He is rich in intellectual maturity with the president. He knows the dynamism of the pen from time to time.

ظہوراحمد صاحب ترگ ضلع میانوالی کے خطاط-

ترگ کے ظہوراحمد صاحب لمحہ ء موجود میں ضلع میانوالی کے خطاط ہیں – میرے علم کی حد تک یہ اس ضلع کی تاریخ میں تیسرے خطاط ہیں – ہمارے بچپن کے دور

میں داؤدخیل سکول میں ہندو ماسٹر میوہ رام ہوا کرتے تھے – کمال کے خوشنویس تھے – سفید کپڑے پر ان کے لکھے ہوئے اقوالَ زریں اور اشعار داؤدخیل سکول کے سٹور روم میں شاید اب بھی موجود ہوں – پچاس سال تک وہ کمروں کی دیوارون کی زینت رہے –

ضلع میانوالی کے دوسرے خطاط ہمارے محترم دوست مرحوم عتیل عیسی خیلوی تھے – وہ مشہورَ زمانہ خطاط عبدالمجید پرویں رقم کے مقلد تھے – عبدالمجید پرویں رقم کا منفرد اعزاز یہ ہے کہ علامہ اقبال کی تمام کتابوں کی کتابت عبدالمجید پرویں رقم صاحب ہی نے کی – داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر بھی پرویں رقم صاحب کے فن کے چند خوبصورت نمونے نصب بیں – عتیل صاحب نے اپنی تمام کتابوں کی کتابت خود کی اس لیئے ان کی کتابیں عتیل کے حُسنِ کلام کے علاوہ حُسنِ کتابت سے بھی آراستہ ہیں –

ظہور صاحب شہرہ ء آفاق خطاط حافظ محمد یوسف سدیدی کے مقلد ہیں – سدیدی صاحب اپنے اندازِ خطاطی کے امام تھے – ظہور صاحب کی خطاطی میں سدیدی صاحب کا اثر واضح نظر آتا ہے – خطاطی صرف خوشخطی نہیں ، خاصا محنت طلب فن ہے ٠ خطاط کے لکھے ہوئے ایک حرف کو بھی جتنا غور سے دیکھیں اُتنا ہی دل میں اُترتا چلا جاتا ہے – یہ خُوبی ظہور احمد کے اندازِ قلم کاری کا طُرہ ء امتیاز ہے –

ضلع میانوالی میں دُوسرے ہر فن کے تو بے شمار فن کار موجود ہیں مگر خطاطی ایسا نادر فن ہے کہ تقریبا ایک صدی میں یہاں صرف تین خطاط پیدا ہوئے —– ماسٹر میوہ رام — عتیل عیسی خیلوی — اور ظہور احمد ——– میں ظہور کے فن سے اتنا متاثر ہوں کہ خود فرمائش کرکے ان پر پوسٹ لکھ رہا ہوں – باکمال انسان ہیں – ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیئے- حلقہ ء ادب کمر مشانی کے ساتھیوں سے گذارش ہے کہ حلقہ ء ادب کی لائبریری میں ظہور صاحب کے فن پاروں کی نمائش کا اہتمام کیا جائے-

ظہور احمد صاحب گورنمنٹ ہائی سکول چاپری میں ایس ایس ای کے منصب پر فائز ہیں – اُردو ادب میں ُپی ایچ ڈی کے دو مراحل طے کر چکے ہیں – اللہ مزید اعزازات سے نوازے-*** قرآن کریم کی آیت اور شعر جناب ظہور احمد کے کمال فن کی خوبصورت گواہی۔———— رہے نام اللہ کا —

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top