MERA MIANWALI FEBRUARY 2025

منورعلی ملک کے فروری  2025  کے فیس  بک   پرخطوط

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آمد جناب حسین۔۔۔۔

یزیدیت ہوس اقتدار و دولت و جاہ،

حسینیت ہے فقط لاالہ الااللہ

 

یادیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2022

ڈاکٹر حنیف نیازی کے ادارے ریڈرز کالج کی سالانہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت میں آمد ۔  2       فروری  2025

اپنا ایک پرانا شوق۔۔۔۔۔۔ خوشخطی

اپنے قلم سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  3       فروری  2025

ہمارے علاقے کی پہچان۔۔۔۔۔

دودھی والا حلوہ۔۔۔۔۔ اسے مکھڈی حلوہ یا کالاباغ والا حلوہ بھی کہتے ہیں ۔ مکھڈ ضلع اٹک سے کالاباغ ہجرت کرنے والے لوگوں نے اسے ہمارے ہاں متعارف کرایا۔  6       فروری  2025

یادیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو کے سب سے بڑے ناول نگار عبداللہ حسین ، جنہوں نے اپنا شاہکار ناول اداس نسلیںسکندر آباد( داودخیل) کی سیمنٹ فیکٹری میں ملازمت کے دوران لکھا۔ میرے بڑے بھائی ملک محمد انورعلی کے بہت قریبی دوست تھے۔

عبداللہ حسین 1960 ۔۔۔۔ 1970 کے دوران سیمنٹ فیکٹری میں کیمیکل انجینیئر کی حیثیت میں متعین رہے۔9       فروری  2025

الحمدللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 85 ویں سالگرہ

My Birthday picture

=Cutting the cake with my son Muhammad Akram Ali and the Chief Guest my grand-daughter SAEEDA AKRAM.

12       فروری  2025

عزیز ساتھیو ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

میری سالگرہ پر آپ نے جس والہانہ انداز میں اپنی محبت کا اظہار کیا ہے اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیئے الفاظ نہیں مل رہے۔ میری دعا ہے کہ رب کریم آپ کی ہر مشکل آسان فرمائے، آپ کی دعائیں قبول فرمائے اور ہمارے اس تعلق کو ہم سب کے لیئے خیرو برکت کا وسیلہ بنا دے۔

فیس بک ، ان باکس، واٹس ایپ اور ایس ایم ایس کی وساطت سے بے شمار دعائیہ میسیجز موصول ہوئے ہیں۔ فردا فردا ہر میسیج کا جواب دینا ممکن نہیں اس لیئے یہ اجتماعی جواب عرض ہے کہ رب کریم آپ سب کو سدا شاد و آباد رکھے۔۔۔۔ آپ کی محبت اور دعائیں میرا بہت قیمتی سرمایہ ہیں ۔ اپنی دعاوں میں میرا حصہ ضرور رکھا کریں۔

۔

 

یادیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1986

میانوالی کے ہندو افسانہ نگار رام لعل کے اعزاز میں جناح ہال میں ایک تقریب۔15       فروری  2025

میانوالی جیل کی وہ کوٹھڑی جہاں علم الدین شہید نے زندگی کے آخری لمحات بسر کیئے۔شہید کو پہلےجیل کے قبرستان میں امانت کے طور پر دفن کیا گیا۔ بعد میں لاہور لے جاکر دفنایا گیا۔ علامہ اقبال نے شہید کے جسد خاکی کو قبر میں اتارتے ہوئے یہ تاریخی جملہ کہا تھا :

” اسیں خالی گلاں ای کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔”18       فروری  2025

الحمد اللہ ہم سب کی دعاوں، ڈاکٹروں کی کوششوں اور موسم کی تبدیلی سے صحت کافی بہتر ہو گئ ہے۔ اب کل سے انشاءاللہ ہمارا کارواں پھر رواں دواں ہو گا۔ دعا کرتے رہیں۔

رب کریم کا بے حد و بے حساب شکر ہے کہ ہمیں دوبارہ یہ محفل آباد کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ آپ لوگوں کا بہت شکریہ کہ میری بیماری کے دو تین ماہ کے دوران مجھ سے تعلق برقرار رکھا۔ فرینڈز کی تعداد پورے 5000 رہی۔ فالوورز میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔۔ اس وقت فالوورز کی تعداد 12331 ہے۔ روزانہ دوچار ساتھیوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔خاصا صبر آزما دور تھا خاص طور پر ان دوستوں کے لیئے جو میری پوسٹس کے منتظر رہتے تھے۔ اور ان بیرون ملک مقیم دوستوں کے لیئے جو میری پوسٹ کو گھر سے آیا ہوا خط سمجھ کر بڑے شوق سے پڑھتے تھے۔

بیماری کی شدت کے دوران میں زیادہ لکھ پڑھ تو نہیں سکتا تھا تاہم پکچرز کی صورت میں حاضری لگواتا رہا۔اب ان شآءاللہ باقاعدہ پوسٹس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ موضوعات وہی ہوں گے ، اپنا کلچر اور اچھے دنوں کی یادیں جب آج کی سہولتیں تو نہ تھیں لیکن زندگی پر امن اور پر سکون تھی۔کل سے ان شآءاللہ ہمارا کارواں سفر پر روانہ ہوگا۔ سمت کا تعین میں نے ابھی کرنا ہے۔ آپ نے تو بس میری انگلی پکڑ کر چلنا ہے۔ ان شآءاللہ خاصا دلچسپ سفر ہو گا۔ دعا کرتے رہیں۔13       فروری  2025

میں نے وادئ جنات کی ایک پکچر فیس بُک پہ لگائی تھی۔ مدینہ منورہ کے قریب یہ وادی جنات کے نام سے منسوب ہے۔ ہمارے ٹیکسی ڈرایئور یوسف نے بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کچھ جنات کو یہاں رہنے کی اجازت دی تھی۔ وہ اب بھی یہاں رہتے ہیں۔ نظر تو نہیں آتے مگر کچھ ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کوئی مخلوق رہتی ہے۔ ان کی ایک شرارت تو یہ ہے کہ جو بھی گاڑی اس وادی میں داخل ہو اس کا انجن بند ہو جاتا ہے مگر گاڑی اسی رفتار سے بھاگتی رہتی ہے۔

جب ہماری گاڑی اس وادی میں داخل ہوئی تو یہی ہوا۔ کھڑاک کی آواز کے ساتھ گاڑی کا انجن اچانک بند ہو گیا۔ ڈرائیور نے ایکسیلریٹر سے پاوں ہٹا لیا۔ گاڑی اس وقت 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ انجن بند ہونے کے بعد بھی اسی رفتار سے بھاگتی رہی۔ پندرہ بیس کلومیٹر چل کر گاڑی وادی سے جونہی باہر نکلی تو رک گئی۔ ڈرایئور نے انجن سٹارٹ کیا تو  پھر چل پڑی۔

بہت حیرت انگیز واقعہ تھا۔ سائنسدان لوگ کہتے ہیں انجن بند ہونے کے بعد  گاڑی اس لیئے نہیں رکتی کہ یہاں کشش ثقل( زمین کی کشش ) صفر ہے۔ چلتی ہوئی چیزیں اسی کشش کی وجہ سے رکتی ہیں۔ کہتے ہیں زمین پر کچھ اور جگہیں بھی ایسی ہیں جہاں کشش ثقل صفر ہے۔ اللہ ہی جانے اصل معاملہ کیا ہے مگر بات بہت عجیب ہے۔21       فروری  2025

یہ تو کرم ہے ان کا وگرنہ۔۔۔۔۔

کل مدینہ منورہ کا ذکر چھیڑا تو ایک اور دلگداز واقعہ یاد آگیا۔ ہم مکہ مکرمہ سے واپس مدینہ پہنچے تو جس ہوٹل میں ہمارا قیام پہلے سے طے تھا انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں تو اس وقت کوئی کمرہ خالی نہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ کسی اور ہوٹل میں آپ کی رہائش کا بندوبست ہو جائے۔

ہم یہ سوچ کر بہت پریشان ھوئے کہ اگرکہیں اور قیام کا بندوبست نہ ہو سکا تو رات گئے ہم کدھر جائیں گے۔  بالآخر فیصلہ یہ ہوا کہ پہلے عشا کی نماز ادا کر لیں پھر دیکھیں گے۔

میں نے بھیگتی آنکھوں کے ساتھ زیرلب کہا یا رسول اللہ ہم تو آپ کے مہمان ہیں۔ آپ کے شہر میں تو ہمیں لاوارث نہیں ہونا چاہیئے ۔مسجد نبوی میں عشا کی نماز  ہمارے مدینہ پہنچنے سے پہلے ہو چکی تھی۔ ہم نے نماز تو بہر حال وہیں ادا کرنی تھی۔ ہم مسجد کے احاطے میں داخل ہوئے تو سامنے روضہ اطہر کا دروازہ کھلا دیکھ کر ادھر کا رخ کیا کہ پہلے سلام کر لیں پھر نماز ادا کر لیں گے۔

اندر قدم رکھتے ہی سینے میں ٹھنڈ سی پڑ گئی۔ ساری پریشانی جاتی رہی۔ مجھے یوں لگا کہ مجھے پریشان دیکھ کر آقا نے اپنے پاس بلا لیا۔یہ خیال دل میں آتے ہی آنکھوں سے آنسو برسنے لگے۔ میں اس رات بہت رویا۔ اسی عالم میں عشا کی نماز پڑھ کر جب ہوٹل واپس پہنچے تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے فلاں ہوٹل میں  آپ کے قیام کا بندوبست کر دیاہے۔۔وہ ہوٹل پہلے والے ہوٹل سے بھی مسجد نبوی کے زیادہ قریب تھا۔  22       فروری  2025

بیروں کا موسم آگیا۔۔۔۔ ہمارے بچپن کی بہت سی حسین یادیں اس موسم سے وابستہ ہیں۔ اس زمانے میں تقریبا ہر گھر میں بیری کا ایک آدھ درخت ہوتا تھا۔ ہمارے گھر میں دو تھے۔ رات کے پچھلے پہر تیز ہوا چلتی تو صبح تک درختوں کے نیچے زمین بیروں سے لال سرخ ہو جاتی تھی۔ صبح سویرے آنکھ کھلتے ہی ہم یہ بیر چن کر کھایا کرتے تھے۔ بہت لذیذ رسیلے بیر ہوتے تھے۔

دوپہر کو میں اور میرے دو کزن ملک ریاست علی اور طالب حسین شاہ بیروں کے شکار کو تھل کے علاقے میں جایا کرتے تھے۔ ریلوے لائین کے پار کا علاقہ تھل کہلاتا تھا۔ وہاں بیری کے بڑے بڑے چھتنار درخت تھے۔ ان کے بیر بہت لذیذ ہوتے تھے۔ ریاست بھائی درختوں پر چڑھنے کے ماہر تھے۔ وہ درخت کی چوٹی پر پہنچ کر شاخوں کو ہلاتے اور زمین پر بیروں کی موسلادھار بارش برسنے لگتی تھی۔ ہم یہ بیر برابر برابر تقسیم کر لیتے تھے۔ ریاست بھائی کو کنڈے پڑاوی ( کانٹے چبھنے کا معاوضہ) کے طور پر مٹھی بھر بیر زائد ملتے تھے۔

بچہ لوگ بیروں کی گٹھلیوں سے بیج نکال کر اس میں گڑ ملا کر مرنڈا بھی بنایا کرتے تھے۔ یہ بھی بہت مزیدار چیز ہوتا تھا۔

ہمارے بچپن کے ساتھ ہی بیری کے درخت بھی رخصت ہو گئے۔ بچوں کے کھانے پینے کی نئی چیزیں آگئیں۔ اس لیئے اب بیروں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ یہ نعمت مفت ملتی تھی اس لیئے اس کی قدر نہ کی گئی۔23       فروری  2025

دسمبر جنوری کی جھڑیاں پتہ نہیں کدھر گئیں؟وقفے وقفے سے ہلکی بارشوں کا ایک طویل سلسلہ ہوتا تھا۔ بزرگ کہا کرتے تھے کہ جمعرات سے شروع ہونے والی جھڑی اگلی جمعرات تک چلتی ہے۔ مسلسل ہلکی بارش کئی دن جاری رہتی تھی۔ کسان خوشی سے نہال ہوا کرتے تھے کہ گندم کی پیداوار ان بارشوں کی وجہ سے بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔ لوگ دن بھر گھروں میں بیٹھ کر آگ تاپتے رہتے تھے۔ کسی ضروری کام کے بغیر گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے تھے۔

ہم بچہ لوگ اس لیئے خوش ہوتے تھے کہ امی بارش والے دنوں میں ہمیں سکول نہیں جانے دیتی تھیں۔ کہا کرتی تھیں مت جاو اس سردی کے عذاب میں –  ساری عمر تم نے پڑھنا ہی ہے۔ دو چار دن تمہارے سکول نہ جانے سے قیامت نہیں آ جائے گی۔

سردی سے ان کا خوف بلاوجہ نہ تھا۔  میرے دو بہن بھائی نمونیا میں مبتلا ہو کر اس دنیا سے رُخصت ہو چکے تھے۔

اب تو موسموں کا کوئی اعتبار ہی نہیں رہا۔ دسمبر جنوری کے سالم دو مہینے بارش کی ایک بوند بھی زمین  پر نہیں آئی۔ یا اللہ رحم۔

سائنس دان کہتے ہیں یہ موسمیاتی تبدیلیاں ہماری اپنی بے احتیاطیوں کا نتیجہ ہیں۔ ہوا میں  زہریلی گیسوں کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نتیجہ یہ کہ زمین کا درجہ حرارت بھی اتنی ہی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پہاڑوں پر برف پگھل رہی ہے۔ اس سے  اندھا دھند سیلابوں کا خطرہ بھی  ہے اور زمین  پر پانی کے بحران کا امکان بھی۔

اللہ نے بھی قرآن حکیم میں صاف بتا دیا کہ ہم انسانوں پر ظلم نہیں کرتے بلکہ انسان خود اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں۔              24فروری    2025

لو جی ،  ہماری کل کی پوسٹ میں کی گئی شکایت پر فوری ایکشن ہوا ۔ دوچار گھنٹے بعد سچ مچ کی جھڑی شروع ہو گئی۔۔اسے حسن اتفاق سمجھ لیں، کیونکہ میں تو بہت گنہگار انسان ہوں۔ یہ نہیں  کہہ سکتا کہ  بارش کا یہ سلسلہ میری شکایت پر شروع ہوا۔ پتہ نہیں کس کی فریاد سن کر رب کریم نے بادلوں سے لدی ہواوں کا رخ ادھر پھیر دیا۔۔۔۔۔۔ محکمہ موسمیات والے کہتے ہیں یہ سلسلہ دو چار دن چلے گا۔ واللہ اعلم۔

کسان لوگ کہتے ہیں یہ دیر سے ہونے والی بارش بھی فصلوں کی قسمت سنوار دے گی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔

کیا زمانہ تھا ! ۔۔۔۔ جھڑی شروع ہوتے ہی ہر گھر میں “جھڑی تتی( گرم)”  کرنے کا پروگرام بننا شروع ہو جاتا تھا۔ یہ پروگرام ایک سادہ سا مگر بہت لذیذ حلوہ ہوتا تھا جسے کرکنڑاں کہتے تھے۔ پشاوری گڑ اور خالص دیسی گھی کی پت (شیرہ) بنا کر اس میں آٹا یا سوجی ڈال دیتے تھے۔ چند منٹوں میں کرکنڑاں تیار ہو جاتا تھا۔۔۔۔۔ بزرگ کہتے تھے سردی کے اثر کو کم کرنے کے لیئے اس سے بہتر نسخہ کوئی نہیں۔کرکنڑاں بنتے ہی اسے فورا کھا لیا جاتا تھا کیونکہ ٹھنڈا ہونے پر یہ پتھر کی طرح سخت ہو جاتا تھا۔ پھر اسے توڑنے کے لیئے اچھی خاصی زورآزمائی کرنی پڑتی تھی۔بہت خوب شغل ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔  اب تو صرف اس کی یادیں ہی باقی ہیں کیونکہ کرکنڑاں بنانے والے ہاتھ تو بہت عرصہ ہوا زمین اوڑھ کر سو گئے۔۔۔۔۔گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ–  25      فروری  2025

خالص غذا اور متحرک زندگی کی وجہ سے لوگوں کو سردی بہت کم لگتی تھی۔ کوٹ سویٹر ، جرسی ، جیکٹ وغیرہ کا نام و نشان تک نہ تھا۔ بزرگ لوگ سردی سے بچاو کے لیئے لٹھے کی سفید چادر لپیٹ لیتے تھے۔ بچے اور نوجوان شلوار قمیض میں ہی سردی کا موسم گذار لیتے تھے۔سردی کے اثر سے بچنے کے لیئے لوگ اس موسم میں میٹھا زیادہ کھایا کرتے تھے۔ اور کچھ نہ سہی شام کے کھانے کے بعد پشاوری گڑ کی ایک روڑی کھانا تو لازم سمجھا جاتا تھا۔ گڑ جسم کو توانائی اور حرارت فراہم کرنے کے علاوہ کھانا ہضم کرنے میں بھی مدد کرتا تھا۔  26       فروری  2025

اللہ کے فضل سے جھڑیوں کا سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے، لیکن سردی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ باہر کا موسم خاصا خوشگوار ہے ۔ اندر کا موسم انسان کے ذاتی معاملات کے مطابق اچھا یا برا ہوتا ہے۔ اللہ ہم سب کو سکھ اورسکون عطا فرمائے۔

اس موسم میں چنے کی فصل تیاری کے آخری مراحل طے کرتی تھی۔ بارشوں کی وجہ سے اس دفعہ شاید یہ مراحل کچھ طویل ہو جائیں۔

چنا ریتلی زمین میں خوب پھلتا پھولتا ہے۔ ہمارے داودخیل کی زمین میں ریت اور چکنی مٹی کی مقدار تقریبا برابر ہے۔ ایسی زمین کو ہماری زبان میں گسری زمین  کہتے ہیں۔ گندم کی فصل کے لیئے تو ایسی زمین  بہت موزوں ہوتی ہے ، مگر اس میں چنے کی فصل زیادہ پھلتی پھولتی نہیں۔ پھر بھی کچھ لوگ اپنی ذاتی ضرورت کے لییے چنے کاشت کر لیتے تھے۔

چنے کی فصل پکنے کے قریب ہوتی تو بچہ لوگ کچھ پودے جڑوں سمیت اکھیڑ کر انہیں آگ میں بھونا کرتے تھے۔ اس عمل کو تراڑا کہتے تھے۔ آگ میں بھونے ہوئے گرما گرم سبز چنے نہایت لذیذ ہوتے تھے۔ یہ الگ بات کہ راکھ میں ہاتھ ڈالنے کی وجہ سے ہاتھ منہ اور کپڑے کالے سیاہ ہو جاتے تھے۔ ماوں کی چیخ پکار بہت دلچسپ ہوتی تھی۔

“وے موذی وت ہتھ منہ کالے کر آیا ایں۔  پیو آوی تاں اج تیڈی چنگی جوڑ کے ٹکور  کرویساں”۔

اس قسم کی دھمکیاں ہر گھر سے سنائی دیتی تھیں۔ مگر ان پر عمل کبھی نہ ہوا۔کیا زمانہ تھا۔۔۔۔۔۔گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ-  27    فروری  2025

رمضان المبارک کے لیئے اہتمام ماہ مقدس کی آمد سے کچھ دن پہلے شروع ہو جاتا تھا۔ سحری و افطاری کے لیئے کھانے پینے کے سامان کی خریداری سے لے کر مساجد میں نماز تراویح کا بندوبست تک  پہلے ہی کر لیا جاتا تھا۔

سب لوگ روزہ رکھتے تھے۔۔۔۔روزہ نہ رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ ہر عاقل و بالغ انسان روزہ رکھتا تھا۔

افطاری کے معمولات موسم کے مطابق ہوتے تھے۔ جون جولائی میں زیادہ اہتمام مشروبات کا ہوتا تھا۔ سردیوں میں چائے اور بہار کے موسم میں سادہ پانی سے گذارہ چلا لیا جاتا تھا ،  کیونکہ پیاس تو لگتی ہی نہیں تھی۔ پیاس کی بجائے بھوک مٹانے کی فکر کی جاتی تھی۔ کھجور ، نمک یا پانی سے روزہ افطار کرنے کے بعد نماز مغرب ادا کی جاتی اور اس کے بعد شام کا کھانا کھایا جاتا تھا۔ اکثر لوگ نماز عشاء اور تراویح کے بعد اطمینان سے کھانا کھاتے تھے۔۔  28       فروری  2025

 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top