MERA MIANWALI OCTOBER 2020

 

منورعلی ملک کے اکتوبر 2020 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی

چائے میانوالی کا قومی مشروب ہے – جون جولائی کی تپتی دوپہروں میں بھی یہاں کے ہوٹلوں اور کھوکھوں پر چائے ہی چلتی ہے – بہت عرصہ ہوا ، لندن سے بی بی سی ریٍڈیو کا ایک نمائندہ کسی کام سے یہاں آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جون کی شعلہ بار دوپہر میں لوگ ہوٹلوں پر بیٹھے چائے پی رہے ہیں – اس نے اپنی یہ حیرت ریڈیو کے ڈریعے دنیا بھر کے ساتھ شیئر کی –
ہمارے لیے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں – گرمی بھلے جتنی بڑھ جائے چائے تو ہم نے بہرصورت پینی ہے – گھروں میں بھی مہمان کو کولڈ ڈرنکس ( کوک ، پیپسی ۔ سیون اپ وغیرہ) جتنی مرضی پلا دیں ، اوپر سے چائے نہ پلائیں تو مہمان کا موڈ بگڑ جاتا ہے —- اس کے برعکس ، بے شک سادہ پانی بھی نہ پلائیں ، صرف چائے ہی پلادیں تو مہمان کے دل کی کلی کھل اٹھتی ہے –
پتہ نہیں میانوالی کے لوگوں کے ہاتھ میں کیسی برکت ہے کہ چائے ہم جیسی کوئی نہیں بنا سکتا – جس ہوٹل یا کھوکھے پہ چلے جائیں ، چائے ایک نمبر ہی ملتی ہے – پھر بھی کچھ لوگوں کے ہاتھ میں خصوصی کمال ہوتا ہے – ان کے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے ایک بار پی لیں ، مدتوں یاد رہتی ہے –
جب بسوں کے اڈے میانوالی شہر (کچہری بازار) میں ہوا کرتے تھے جی ٹی ایس بس کے اڈے میں ایک کھوکھے پر ایک دبلے پتلے بابا جی چائے بناتے تھے – کمال کی چائے ہوتی تھی – پی کر آنکھیں کھل جاتی تھیں – اسی طرح کے ایک باکمال کاریگر غلہ منڈی کے مغربی گیٹ پر بھی ہؤا کرتے تھے – ملنگ ٹائیپ انسان تھے اصل نام پتہ نہیں کیا تھا ، لوگ شاہ جی کہتے تھے – کیا زبردست چائے بناتے تھے –
آج کل میانوالی میں بشی ہوٹل کی چائے سب سے زیادہ معروف و مقبول ہے – پچھلے سال وقار احمد ملک مجھے وہاں لے گئے – واقعی بہت اچھی چائے ہوتی ہے ان کی بھی – یہ بات اپنی جگہ کہ ماڑھی چائے تو میانوالی میں کہیں بھی نہیں ملتی —- صرف ہوٹلوں کی بات نہیں ، گھروں میں بھی بہت اچھی چائے بنتی ہے –
چائے کا کلچر ہمارے ہاں خدا جانے کب شروع ہوا – ہم نے تو جب ہوش سنبھالا ہر گھر میں روزانہ کم ازکم دو وقت چائے بنتی دیکھی – داؤدخیل کے ایک بزرگ چاچا محمد نوازخان لمے خیل المعروف “ چاچا وازو“ شادی بیاہ کے موقعوں پر ایک گیت گایا کرتے تھے ۔ جس کے بول تھے
دم جیوی دو وقتی چاہ ہووے
( خاتون اپنے شوہر سے کہتی ہے ، اللہ تمہیں سلامت رکھے میں نے تو ہر حال میں دو وقت چائے پینی ہے )
آگے چل کر وہ خاتون کہتی ہے ———-
چاہ ہووے نالے کیک ہووے
میڈے ڈکھے ہوئے دل دی ٹیک ہووے
( میرے دکھی دل کو سہارا دینے کے لیے چائے کے ساتھ کیک بھی ہونا چاہیے)
خاصا لمبا گیت تھا ، ہر بول میں ایک نئی فرمائش تھی ، اب یاد نہیں آرہا – چاچا وازو یہ گیت اپنے ساتھ قبر میں لے گئے ، ورنہ ہم ان سے پوچھ لیتے- –
———————————————— رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 6 اکتوبر2020

میرا میانوالی

کل ایک مقامی اخبار میں ڈاکٹر طارق نیازی کا کالم نظر سے گذرا – ڈاکٹر صاحب کا انداز تحریر دیکھ کر خوشی بھی محسوس ہوئی ، فخر بھی , کہ ہمارے میانوالی میں ایسے صاحب قلم لوگ بھی موجود ہیں – یہ اللہ کا خاص کرم ہے اس دھرتی پر –
ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کبھی نہیں ہوئی ، مگر وہ جو کسی بزرگ نے کہا تھا “ ولی را ولی می شناسد“ – ولی کو ولی ہی پہچان سکتا ہے – ہم دونوں ولی تو نہیں ، گناہ گار سے انسان ہیں – لہذا یہ کہوں گا کہ قلم کار را قلم کار می شناسد – ڈاکٹر صاحب غالبا میانوالی کے پہلے صاحب قلم ڈاکٹر ہیں – اللہ کرے زور قلم اور زیادہ –
ڈاکٹر طارق نیازی شہبازخیل ہیں – اس وقت راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ایڈیشنل ایم ایس کے منصب پر فائز ہیں – ان کے کالم کا عنوان ہے “سپھر“ —— سپھر ہمارے دیہات میں ماہ صفر کو کہتے ہیں – ڈاکٹر صاحب نے صفر کی تقریبات کے حوالے سے اپنے بچپن کی یادیں تازہ کی ہیں –
صفر کی تقریبات ماہ صفر کے آخری بدھ کو منعقد ہوتی ہیں – ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ سیدالمرسلین علیہ الصلوات والسلام کی طبیعت ایک بار صفر کے مہینے میں ناساز ہوگئی – علاج بھی ہوتا رہا ، مگر شفا رب کریم نے چوری (choori) کھانے سے عطا کی – یہ واقعہ ماہ صفر کے آخری بدھ کو ہوا – اس لیے صفر کا آخری بدھ متبرک سمجھا جاتا ہے ، اور اس دن ہر گھر میں چوری بنا کر کھائی جاتی ہے — ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضور کی طبیعت بحال ہوئی تو آپ نے یہ چوری کھانے کی فرمائش کی – اب تو زمانہ بدل گیا —- پھر بھی بعض گھروں میں یہ اہتمام کیا جاتا ہے – ہم بھی کرتے ہیں –
صفر کی چوری ایک مخصوص چوری ہوتی ہے جو چکی پر پسے ہوئے گندم کے موٹے آٹے سے بنتی ہے – آٹے کی موٹی سی روٹی ( روٹ یا روٹا بھی کہتے تھے ) توے پر پکا کر اسے کوٹ کر ریزہ ریزہ کر کے اس میں گھر کا خالص دیسی گھی اور شکر ملا ئیں تو صفر کی چوری بن جاتی ہے – بہت لذیذ چیز ہوتی ہے –
ڈاکٹر طارق نیازی بتاتے ہیں کہ ان کے ہاں اس چوری میں کچھ پیسے آنہ ۔ دو آنے ۔ چونی اٹھنی وغیرہ بھی ملا دیتے تھے – چوری کی ساہنڑک کے گرد بچے پلتھی ( آلتی پالتی ) مار کر بیٹھ جاتے – چوری کھاتے ہوئے جس بچے کے ہاتھ پیسے لگتے اسے خوش قسمت سمجھا جاتا تھا – یہ رواج ہمارے داؤدخیل میں نہیں تھا ، ڈاکٹر صاحب کے شہباز خیل میں ضرور ہوتا ہوگا –
چوری کی حد تک تو صفر ایک اسلامی تقریب تھی – ایک اور تقریب خدا جانے کس نے ایجاد کی تھی ، چھپر کوٹنا کہلاتی تھی – بچوں کی ٹولیاں چوری کھانے کے بعد لاٹھیوں سے مسلح ہو کر محلے کا چکر لگاتیں ، جہاں بھی کوئی چھپر نظرآتا اس پر لاٹھیاں برسانا شروع کردیتے – چھپر تو تقریبا ہر گھر میں ہوتا ہی تھا – دن بھر یہ ہنگامہ برپا رہتا – گھروں کے چار پانچ لوگ پچیس تیس بچوں کا کیا بگاڑ سکتے – دور کھڑے ہو کر گالیاں دیتے رہتے تھے –
داؤدخیل میں ہم بھی بچپن میں چھپر کوٹنے کی واردات میں باقاعدہ ملوث ھؤا کرتے تھے – آج کل لوگ برداشت اور تحمل سے عاری ہیں – بندوقیں پستول بھی ہر گھر میں پڑے ہوتے ہیں ، اس لیے اب یہ معصوم واردات ممکن نہیں – ڈاکٹر طارق نیازی نے بھی اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا ہے –گذر گیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ————————————————— رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 7 اکتوبر2020

میرا میانوالی

میرا پاکستان —————————
یہ کیا ہو رہا ہے —————– ؟؟؟؟
اس ہفتے کی تین خبریں
١۔ چارسدہ میں اڑھائی سالہ معصوم بچی زیادتی کے بعد قتل-
٢، چنیوٹ میں بچی پنسل لینے گئی تو دکاندار نے اسے ہوس کا نشانہ بنا دیا – صرف یہی نہیں ، دکاندار کے دوستوں نے اس درندگی کی ویڈیو بھی بنائی –
٣۔ قصور میں دس سالہ بچی سے زیادتی کے ملزم کو عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تو بچی کے چچا نے کمرہ عدالت ہی میں فائر مار کر ملزم کو وہیں سے جہنم پہنچا دیا –
تیسری خبر ہمارے مفلوج نظام عدل و انصاف کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ ہے – جب لولا لنگڑا قانون ایسے مجرموں کو بھی رہائی دینے پر مجبور ہو تو پھر یہی ہوگا = لوگ خود عدالتوں ، گلیوں اور چوراہوں میں انصاف کرنے پر مجبور ہوں گے –
ایک دو بار پہلے بھی کہہ چکا ہوں ، کیوں نہ ہم بھی ایسے معاملات میں سعودی عرب والا قانون اپنا لیں – ؟ ادھر جرم ہؤآ ، ادھر سر قلم – دوچار دن میں کام ختم – مظلوموں کو انصاف مل گیا ، مجرموں کو سزا –
ایک آدھ صفحے پر لکھا ہوا سعودی عرب کا یہ قانون ہماری پارلیمنٹ دس پندرہ منٹ میں پاس کر سکتی ہے – آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کا قانون حکومت اور اپوزیشن اچھے بچوں کی طرح مل جل کر پانچ منٹ میں پاس کر دیتی ہیں – ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے بل بھی اسی طرح مل جل کر فورا پاس کرادئیے جاتے ہیں، مگر معصوم بچوں بچیوں کے تحفظ کے لیے کوئی بل اسی طرح مکمل اتفاق رائے سے کیوں پاس نہیں کر سکتے ؟؟؟؟؟
بے حسی ، نااہلی کی کوئی حد تو ہونی چاہیئے – قانون ساز ایک دوسرے کو چور کہنے کی بجائے وہ کام کیوں نہیں کرتے جس کی وہ تنخواہ لیتے ہیں – وہ کام ہے قانون سازی – مگر ہمارے ہاں اسمبلی کے اجلاس میں شروع سے آخر تک معزز ارکان ایک دوسرے کو چور، چور کہتے رہتے ہیں – فرشتہ تو دونوں طرف ایک بھی نظر نہیں آتا – تبدیلی صرف یہ آئی ہے کہ رشوت کے ریٹ بڑھ گئے ہیں – خدا را ہوش کے ناخن لیں – دوسال تک عوام احتساب کے ٹرک کی بتی کے پیچھے چلتے چلتے تھک چکے ہیں – جن کو پکڑا ہوا ہے ان سے دوسال میں ایک پیسہ بھی برآمد نہیں ہؤا – الٹا پیسہ عوام کی جیبوں سے دھڑا دھڑ نکالا جا رہا ہے – اب بس کریں یہ کھیل ، عوام کو کچھ ریلیف دیں ، ورنہ انصاف کی طرح ریلیف بھی عوام خود لینا شروع کر دیں گے – اور یہ کام حکومت ، اپوزیشن اور سب اداروں کو بہت مہنگا پڑے گا –
دوستو، دل دکھتا ہے تو بات لمبی بھی ہو جاتی ہے ، تلخ بھی – ارباب اختیار کو میں نے جو سنانی تھیں ، سنا دیں – آپ سے گذارش یہ ہے کہ خدارا اپنے بچوں کی حفاظت کریں – خاص طور پر معصوم بچیوں کو اکیلا گھر سے باہر ہرگز نہ جانے دیں – جب تک بچوں کے تحفظ کا کوئی سخت قانون نہیں بن جاتا تب تک یہ ذمہ داری سو فی صد ہم نے نبھانی ہے – وماعلیناالابلاغ –—————————— رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 10            اکتوبر2020

میرا میانوالی

یادیں ———
جب میرے والد محترم ملک محمد اکبر علی گورنمنٹ ہائی سکول عیسی خیل میں ھیڈماسٹر تھے ، میں اس وقت ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا – والد صاحب نے مجھے بھی اسی سکول میں داخل کروا دیا – میرے بڑے بھائی ملک محمد انورعلی بھی اس سکول میں انگلش ٹیچرتھے – گھر کے باقی لوگ داؤدخیل ہی میں رہتے تھے – صرف ہم تینوں مین بازار عیسی خیل کے قریب حکیم عمر خان کے مکان میں رہتے تھے – سکول کے ایک ملازم چاچا محمد خان ہمارا کھانا وغیرہ بناتے تھے –
والد صاحب کو شکار کا بہت شوق تھا – اس شوق کی تکمیل کے لیے انہوں نے اعلی قسم کی ڈبل بیرل بندوق رکھی ہوئی تھی – سکول کے عربی ماسٹر شیر محمد خان صاحب ، المعروف مولوی عربی بھی شکار کے بہت شوقین تھے – بہت زندہ دل انسان تھے – اس موسم میں ایک دن والد صاحب نے مولوی صاحب کو مرغابی کے شکار کے لیے دریا کے کنارے جانے کا کہا تو مولوی صاحب نے ہنس کر کہا “ سر ، مرغابی کے شکار سے پہلے دریا کے کنارے ایک فائر صاحب علی قریشی کو مارنا پڑے گا – پھر اس کے بعد دوسرے دن شکار ممکن ھوگا ، کیونکہ یہ اللہ کا بندہ فجر کے فورا بعد بندوق لے کر دریا کی طرف نکل جاتا ہے – نظر کچھ آتا نہیں – ایویں ای دس بارہ فائر کر کے مرغابیوں کو اڑا دیتا ہے – ماری کبھی ایک چڑیا بھی نہیں ، بس کارتوس ضائع کرتا رہتا ہے “-
صاحب علی قریشی صاحب ریٹائرڈ بزرگ ٹیچر تھے – شکار کا انہیں بھی بہت شوق تھا – مگر بات مولوی صاحب کی بھی غلط نہ تھی – ان کی نظر بہت کمزور تھی –
والد صاحب اور مولوی صاحب زیادہ تر شکار بنوں روڈ پر نواب غلام قادر خان کے باغ میں کیا کرتے تھے – وہاں کبوتر، فاختہ ، تلیئر وغیرہ بہت ہوتے تھے – تلیئر کے بارے میں مولوی صاحب کہا کرتے تھے یہ ایسا کمزور دل والا پرندہ ہے کہ گولی ایک کو لگے تو چار اور بھی گر پڑتے ہیں – وہ سمجھتے ہیں ہمیں بھی لگ گئی ہے –
کیا زندہ دل لوگ تھے ———————- اللہ کریم سب کی مغفرت فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ——–
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ
پوسٹ کے آغاز میں لفظ عیسی خیل دیکھ کر کئی دوستوں نے خوشی سے کان کھڑے کر لیے ہوں گے کہ آج لالا عیسی خیلوی کے بارے میں بات ہوگی – مگر جس دور کا ذکر میں نے کیا ہے اس وقت لالا کی عمر صرف دو تین سال تھی – میں نے تو کبھی دیکھا ہی نہیں تھا – اس سے یاری بہت بعد کی بات ہے –—————————————————- رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 11            اکتوبر2020

میرا میانوالی

صبح سے بجلی نہیں ہے، لیپ ٹاپ کی چارجنگ کا بھی مسئلہ ہے – اس لیے آج پھر چھٹی کرنی پڑے گی – خدا جانے میانوالی اتنا لاوارث کیوں ہے ——- ؟؟؟؟؟
تین ماہ سے ہمارے محلے کی واٹر سپلائی بھی بند ہے – پینے کا پانی نہر کے کنارے لگے ہوئے ہینڈپمپ سے لاتے ہیں – کہتے ہیں نیا بور کرنا ہے ، موٹڑ بھی نئی لگے گی – 19 لاکھ کا خرچ ہے – کیسی حکومت ہے جو عوام کی بنیادی ضرورت کے لیے 19 لاکھ روپے بھی فراہم نہیں کر سکتی – ؟؟؟؟
بجلی دوتین دن پہلے بھی آٹھ دس گھنٹے بند رہی- آج پھر پتہ نہیں کس وقت آئے گی ؟؟؟؟ ——– اللہ رحم کرے-
——————————————– رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 12            اکتوبر2020

میرا میانوالی

درویش ڈپٹی کمشنر
یہ بھی اس زمانے کی بات ہے جب میرے والد محترم گورنمنٹ ہائی سکول عیسی خیل میں ہیڈ ماسٹر تھے ، اور میں وہاں ساتویں کلاس کا سٹوڈنٹ تھا –
ایک دن ضلع میانوالی کے ڈپٹی کمشنر صاحب سکول کے معائنے کے لیے آئے – سرخ وسفید رنگت ، لمبی سفید داڑھی ، سفید شلوار قمیض میں ملبوس ، سر پہ جناح کیپ ، بہت باوقار شخصیت تھے — ان کے اعزاز میں سکول کی بزم ادب کا اجلاس ہوا – تقریب کا آغاز عربی ماسٹر صاحب نے تلاوت قرآن کریم سے کیا – کچھ سٹوڈنٹس نے روزمرہ کے موضوعات پر تقریریں کیں – نویں کلاس کے محمد امیر نے ایک قدیم فارسی غزل سنائی – غزل کا پہلا شعر تھا :
ربودہ فراق تو از من قرارم
بیا جان جاناں کہ در انتظارم
( تیرے ہجر نے میرا قرار چھین لیا – اے میرے محبوب آ کہ میں تیرا انتظار کر رہا ہوں )
یہ درد بھرا صوفیانہ کلام سن کر ڈی سی صاحب پہ وجد طاری ہو گیا – آنکھوں میں آنسو بھرآئے – اسی کیفیت میں اٹھ کر مائیک پر آگئے ، اور یہی پوری غزل اتنے خوبصورت انداز میں سنائی کہ سامعین جھوم اٹھے – بہت پیاری سریلی آواز تھی –
———————————————– رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 13 اکتوبر2020

میرا میانوالی

آج کچھ ذکر ان دوستوں کا , جو گورنمنٹ ہائی سکول عیسی خیل میں میرے کلاس فیلو تھے –
اس سکول میں میں ایک سال رہا – پھر والد صاحب محکمہ تعلیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت میں راولپنڈی چلے گئے ، میرے بڑے بھائی ملک محمدانورعلی نے سنٹرل ٹریننیگ لاہور میں بی ٹی (بی ایڈ) کلاس میں داخلہ لے لیا ، اور میں واپس داؤدخیل آگیا –
میرے قریب ترین کلاس فیلو دوست نجیب اللہ ہاشمی ، ملک عطا محمد ہرایا ، سید امداد حسین بخاری ، عبالرزاق خان المعروف کالا خان ، کلور کے ملک محمد اکرم اور راولپنڈی کے چوہدری یعقوب علی خان تھے –
نجیب اللہ ہاشمی بعد میں فارسی کے پروفیسر بن گئے – بہت عرصہ گورنمنٹ کالج تلہ گنگ میں رہے – پھر سرگودھا بورڈ میں کنٹرولر امتحانات کے منصب پر فائز ہوئے – چند سال بعد پرنسپل کی حیثیت میں گورنمنٹ کالج عیسی خیل آگئے – یہیں سے ریٹائر ہوئے –
ملک عطا محمد ہرایا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس شیخوپورہ کے عہدے سے ریٹائر ہو کر شیخوپورہ ہی میں آباد ہو گئے –
سید امداد حسین بخاری بابا پیر عادل شاہ کے وارث تھے – میٹرک کے بعد بابا جی کے دربار سے وابستہ ہوگئے –
عبدالرزاق خان المعروف کالا خان واپڈا سے لائین سپرنٹنڈنٹ ریٹائر ہوئے – لالا عیسی خیلوی کی ہمشیرہ مرحومہ سیما بہن کے شوہر تھے –
کلور کے ملک محمد اکرم فوج میں بھرتی ہوئے – ریٹائرمنٹ کے بعد سنا ہے جنوبی پنجاب کے کسی شہر میں مقیم ہیں –
پنڈی کے چوہدری یعقوب علی خان کے والد چوہدری بوستان علی خان تحصیل عیسی خیل کے تحصیل دار تھے – پنڈی میں ان کا گھر کمیٹی چوک کے قریب چھاچھی محلہ میں ہے –
میرے یہ سب دوست بہت پیارے لوگ تھے – سب کے سب زندہ دل اور خاصے نکمے تھے – تعلیم سے زیادہ ہنسنے ہنسانے اور کھانے پینے کے شوقین تھے – صرف نجیب اللہ ہاشمی مولوی گھرانے سے تعلق کی بنا پر کچھ سنجیدہ تھے – بعد میں وہ بھی ہم جیسے ہوگئے –
نجیب اللہ ہاشمی ، عبدالرزاق خان اور سید امداد حسین شاہ بخاری کے بارے میں تو پتہ ہے کہ اب وہ اس دنیا میں موجود نہیں – باقیوں کا کچھ پتہ نہںں – جو اس دنیاسے گذرگئے اللہ کریم ان کی مغفرت فرمائے – جو یہاں موجود ہیں انہیں شاد و آباد رکھے – ان سب کی نذر یہ شعر ———
گذاری تھیں خوشی کی چند گھڑیاں
انہی کی یاد میری زندگی ہے——— رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 14 اکتوبر2020

میرا میانوالی

امی کا حکم تھا کہ عیسی خیل سے ہر اتوار کو گھرآنا ہے – ساتویں کلاس کے بچے کے لیے عیسی خیل سے اکیلا داؤدخیل آنا خاصا مشکل کا م تھا ، مگر اللہ نے یہ مشکل یوں آسان کر دی کہ میانوالی سے عیسی خیل آنے جانے والی تلہ گنگ بس سروس کی ایک بس کے ڈرائیور چاچا محمد خان نے مجھے لانے لے جانے کی ذمہ داری قبول کر لی – چاچا محمد خان کمر مشانی کے رہنے والے تھے – وہ کسی زمانے میں میرے والد صاحب کے سٹوڈنٹ رہ چکے تھے – والد صاحب نے جب ان سے بات کی تو انہوں نے کہا “سر ، فکر نہ کریں – میں یہ نوکری دینا اپنے لیے اعزاز سمجھوں گا“ –
اللہ بھلا کرے چاچا محمد خان کا انہوں نے یہ ذمہ داری خوب نبھائی – ان کی بس عیسی خیل سے صبح پانچ بجے میانوالی روانہ ہوتی تھی – ہر اتوار کو بس کی فرنٹ سیٹ میرے لیے مختص ہوتی تھی – چاچا محمد خان اس سیٹ پر کسی دوسرے آدمی کو نہیں بیٹھنے دیتے تھے – اکیلا میں ہی بیٹھتا تھا –
ناشتہ کالاباغ اڈے پر ہوتا تھا – اس وقت کالا باغ اڈا پرانے پولیس سٹیشن کے ساتھ مین روڈ پر تھا – سڑک کے دونوں طرف چائے پانی کی دکانیں تھیں – چاچا محمد خان ، چاچا محی الدین کے ہوٹل سے ناشتہ کرتے تھے – یہ اس زمانے میں اڈے کا نمبر ون ہوٹل تھا – ناشتے میں میں بھی شریک پوتا تھا – چاچا محمد خان نے مجھے ناشتے کے پیسے دینے سے منع کردیا تھا – ڈرائیوروں اور ان کے مہمانوں کا کھانا پینا مفت ہوتا ہے اور وہ ہوتا بھی وی آئی پی کھانا ہے – کمال کی چائے اور حلوہ ہوتا تھا ناشتے میں – چاچا محی الدین بہت باکمال کاریگر تھے –
میں اتوار کی صبح داؤدخیل جاتا تھا – سکول سے غیر حاضری کی اجازت نہ تھی – اس لیے اسی دن تین بجے چاچا محمد خان کے عیسی خیل واپسی کے سفر میں شریک ہو جاتا تھا – واپسی پر بھی مجھے بس کی فرنٹ سیٹ اور پورا پروٹوکول ملتا تھا – کالاباغ میں چاچا محی الدین کی چائے بھی میرے پروٹوکول میں شامل تھی —– کیا اچھے لوگ تھے –
اللہ کریم چاچا محمد خان کو بے حساب جزائے خیر عطا فرمائے –
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ
——————————————————- رہے نام اللہ کابشکریہ-منورعلی ملک-15 اکتوبر2020

میرا میانوالی

عیسی خیل ہمارا آبائی شہر تو نہیں ، لیکن ہمارے خاندان کی تاریخ میں تقریبا ایک سو سال سے عیسی خیل کا کردار نہایت اہم رہا ہے — میرے دادا جی مولوی ملک مبارک علی ، میرے بابا جی ملک محمد اکبرعلی اور میرے بڑے بھائی ملک ًًمحمد انور علی کی ملازمت کا آغاز عیسی خیل سے ہوا – دادا جی یہاں ٹیچر رہے ، پھر داؤدخیل میں ہیڈماسٹر کے منصب پر فائز رہے –
میرے بابا جی انگلش ٹیچر کی حیثیت میں یہاں متعین ہوئے – چند سال بعد یہاں سے ٹرانسفر ھوکر محکمہ تعلیم کی ضلعی انتظامیہ میں چلے گئے — تقریبا 20 سال بعد ہیڈماسٹر بن کر ایک بار پھر یہاں آگئے – بھائی جان ملک محمدانورعلی نے بھی انگلش ٹیچر کی حیثیت میں ملازمت کا آغاز عیسی خیل سے کیا ، دادا جی کی طرح وہ بھی بعد میں داؤدخیل سکول کے ہیڈماسٹر مقرر ہوئے –
لیکچرر کی حیثیت میں میری سروس کا آغاز بھی عیسی خیل سے ہؤا – میرے بیٹے پروفیسر محمد اکرم علی کی پیدائش بھی عیسی خیل میں ہوئی –
سچی بات یہ ہے کہ دادا جی سے لے کر مجھ تک کسی نے بھی اپنی پسند سے عیسی خیل میں تقرر نہیں کرایا – ملازمت جہاں مل جائے کرنی پڑتی ہے – تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم لوگوں کی ملازمت کے آغاز کے لیے عیسی خیل کا انتخاب کس نے کیا – ماننا پڑے گا کہ یہ فیصلے انسانوں نے نہیں قدرت نے کیے –
ہر انسان کی زندگی میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کی کوئی ظاہر وجہ نظر نہیں آتی – کوئی ایسی چیز مل جاتی ہے جو انسان کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتی – کسی ایسی جگہ جاکر رہنا پڑتا ہے جس کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں ہوتا – اس قسم کے فیصلے صرف اللہ کریم ہی کرتا ہے – مالک الملک جو ہوا ، جو چاہے کر دے –
——————————– رہے نام اللہ کا ——بشکریہ-منورعلی ملک- 16 اکتوبر2020

میرا میانوالی

کیا خبرتھی کہ یہ ساتویں کلاس کا بچہ جو آج روتا ہوا, عیسی خٰیل چھوڑ کر جا رہا ہے انگلش کا لیکچرر بن کر 20 / 21 سال بعد پھر عیسی خیل آجائے گا ، اور پورے 5 سال یہاں رہے گا – لیکچرر بننے کے لیے تو میں نے محنت کی تھی – ایم اے انگلش کیا تھا ، مگر عیسی خیل آنے کا تو میں نے کبھی سوچا ہی نہ تھا –
ہوا یہ کہ 1975 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن سے میانوالی کے دو نوجوان انگلش کے لیکچرر کی پوسٹس کے لیے منتخب ہوئے ، ایک نوجوان تھا غلام سرور خان نیازی ، دوسرا منورعلی ملک – اس وقت گورنمنٹ کالج میانوالی میں انگلش کی دو پوسٹس خالی تھیں – ڈائریکٹرصاحب نے ان پوسٹس پر ہم دونوں کے تقرر کے آرڈرز جاری کر دیئے – مگر ابھی آرڈرز ہمیں بھیجے ہی نہ تھے کہ کمشنر صاحب نے فون پر ڈائریکٹر صاحب سے کہا گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں انگلش کے لیکچرر کا تقرر فوری طور پہ کیا جائے ، کیونکہ وہاں انگلش کا کوئی لیکچرر نہیں ہے- لڑکوں نے آج احتجاج کے طور پہ بنوں روڈ بند کیئے رکھی- ہم نے ان سے فورا لیکچرر بھجوانے کا وعدہ کر کے ہڑتال ختم کروائی ہے –
ڈائریکٹر صاحب نے دیکھا کہ جن دو نئے لیکچررز کے تقرر کے آرڈرز کیے ہیں ، ان میں سے ایک تو میانوالی (شہبازخٰیل) کا ہے ، دوسرا داودخٰیل کا – داؤدخیل والے کو عیسی خیل نزدیک پڑتا ہے لہذا اسی کو عیسی خیل بھیج دیا جائے – یوں میرے تقرر کا آرڈر revise کر کے مجھے عیسی خیل بھیج دیا گیا –
اس قصے میں کام کی بات یہ ہے کہ افسرمجاز( ڈائریکٹر صاحب) نے تو مجھے میانوالی کالج بھجوانے کا حکم جاری کیا تھا – لیکن اللہ کریم نے مجھے عیسی خیل بھجوانا تھا ، اسی قلم سے میرے عیسی خیل تقرر کا حکم جاری کروادیا –
—— رہے نام اللہ کا ——–بشکریہ-منورعلی ملک- 17  اکتوبر2020

میرا میانوالی

30 دسمبر کو مجھے گورنمنٹ کالج عیسی خیل میں انگلش کے لیکچرر کی حیثیت میں تقرر کا آرڈر موصول ہوا – میں اسی دن حاضری دینے کے لیے محمد کبیر خان نیازی کے ہمراہ عیسی خیل پہنچا – محمد کبیر خان کا گھر عیسی خیل میں تھا – وہ داؤدخٰیل ہائی سکول میں انگلش ٹیچر تھے جہاں میرے بڑے بھائی ملک محمد انورعلی ھیڈماسٹر تھے – بھائی جان نے میری رہنمائی کے لیے کبیرخان صاحب کو میرے ساتھ بھیجا تھا –
ہم تقریبا چار بجے عیسی خیل پہنچے , کالج تو بند تھا ، اس لیے ہم پرنسپل صاحب سے ان کے گھر پہ ملے – پرنسپل صاحب نے کہا اب تو کالج ٹائیم نہیں ہے ، کل سے آپ کی حاضری ہو سکتی ہے – میں نے کہا حاضری رپورٹ بے شک کل بھجوادیں ، حاضری کی تاریخ آج کی ڈال دیں – پرنسپل صاحب نے کہا میں قانون کے خلاف کام نہیں کر سکتا – حاضری کی تاریخ کل ہی کی ہوگی –
قانون کے مطابق تو وہ اسی وقت بھی میری حاضری کی رپورٹ لکھ سکتے تھے ، مگر وہ ذرا وکھری ٹائیپ کے آدمی تھے – ان کا نام پروفیسر ایس ایم اے فیروز تھا – غالبا فیصل آباد کے رہنے والے تھے – تقریبا دوتین ماہ پہلے کہیں سے ٹرانسفر ہو کر عیسی خیل آئے تھے – کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتے تھے ، اس لیئے سٹاف کا کوئی آدمی بھی ان سے خوش نہ تھا – یہ بھی سنا کہ وہ میرزائی مذہب کے پیروکار یعنی غیرمسلم تھے – واللہ اعلم
دوسرے دن میں کالج پہنچا – میری حاضری 31 دسمبر سے شمار کی گئی – ادھر میانوالی میں سرورخان صاحب کو 30 دسمبر سے ہی حاضر شمار کیا گیا – یوں وہ مجھ سے ایک دن پہلے حاضری کی بنا پر مجھ سے سینیئر ہو گئے –
گورنمنٹ کالج عیسی خیل بالکل نوزائیدہ ادارہ تھا – اس کی نہ اپنی عمارت تھی ، نہ سامان – گورنمنٹ ہائی سکول کی بالائی منزل پر چند کمروں کی ایک قطار کو کالج بنا دیا گیا تھا – سکول کے ہیڈماسٹرسید منورحسین شاہ صاحب بہت تعاون کرتے تھے – ضرورت کی جو چیز ہم مانگتے فورا دے دیتے تھے – پہلے دوچار سال اسی طرح گذارہ کرنا پڑا –——————————–رہے نام اللہ کا —-بشکریہ-منورعلی ملک-18   اکتوبر2020

میرا میانوالی

گورنمنٹ کالج عیسی خیل ہماری آمد سے دوچار ماہ پہلے قائم ہوا تھا – ہم سے پہلے صرف تاریخ کے لیکچرر چوہدری محمد رمضان صاحب ، معاشیات کے ملک محمد یوسف چھینہ ، سیاسیات کے لیکچرر محمد سلیم احسن اور اسلامیات کے طاہرالقادری صاحب (جی ہاں ، وہی) وہاں موجود تھے- طاہرالقادری صاحب کا تقرر6 ماہ کے لیے عارضی ad-hoc بنیاد پر تھا – پھر ان کا تقرر پنجاب یونیورسٹی لاءکالج میں ہوگیا –
ہم لوگ ، میرے علاوہ ، عربی کے لیکچرر اشرف علی کلیار صاحب ، فزکس کے اکبر علی رندھاوا ، کیمسٹری کے اکبر خان ، ریاضی (میتھس) کے ملک عبدالستارجوئیہ ، نفسیات کے حسین احمد ملک اور اسلامیات کے منیرحسین بھٹی ایک آدھ دن آگے پیچھے تقریبا اکٹھے وارد ہوئے – سب نوجوان لوگ تھے، اور ہر ایک اپنے subject میں ماہر تھا – ملازمت بڑی مشکل سے ملتی تھی ، اس لیے سب لوگ بہت خوش تھے –
یہ سن کر حیران نہیں ہونا کہ لیکچرر BS – 17 کی تنخواہ اس وقت 500 روپے ماہانہ ہوتی تھی – سالانہ اضافہ increment 50 روپے تھا – خدا بھلا کرے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا انہوں نے گریڈ 17 کے تمام افسران کی تنخواہ میں پانچ increments کا یکمشت اضافہ کردیا – یوں ہماری تنخواہ 750 روپے ماہانہ ہو گئی – بھٹوصاحب کے شدید مخالف گروپ سے وابستہ پروفیسرصاحبان نے بھی بسم اللہ کہہ کر یہ رقم حلال کر لی –
ہم دوتین لوگ شادی شدہ تھے – چھڑے چھانڈ لیکچررصاحبان کہتے تھے یار اتنی زیادہ رقم کہاں خرچ کریں گے – واقعی اس زمانے میں 750 روپے خاصی معقول رقم تھی – اندازہ کیجیے , چینی ایک روپے کلو ملتی تھی ، دیسی گھی دس بارہ روپے کلو –
کیا زمانہ تھا —— !!!!—————————— رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک19اکتوبر2020

میرا میانوالی

کالج میں پہلے دن حاضری اپنی کلاس سے تعارف تک محدود رہی – کالج کا پہلا سا ل تھا ، اور پہلی کلاس (فرسٹ ائیر) – تقریبا تیس بچے تھے – سب بہت خوش ھوئے کہ بالآخر ہمیں انگلش کا لیکچرر مل ہی گیا –
ادھر سے فارغ ہوکر میں دوتین ساتھی پروفیسرصاحبان کے ہمراہ کچھ ضروری شاپنگ کے لیے عیسی خیل کے اکلوتے بازار میں وارد ہوا – اچانک دائیں ہاتھ ایک چھوٹی سی دکان کے ماتھے پر “الصدف جنرل سٹور“ لکھا دیکھ کر اس دکان میں داخل ہونا ضروری سمجھا – یہی دکان اس وقت لالا عیسی خیلوی کا ذریعہ معاش تھی – لالا سے تعارف چند ماہ پہلے دو ملاقاتوں میں ہوا تھا – پہلی ملاقات عیسی خیل میں لالا کے گھر پہ ہوئی تھی – دوسری ہماری فرمائش پر داؤدخیل میں – دوسری ملاقات میں اپنے ذریعہ معاش کا ذکر کرتے ہوئے لالا نے الصدف جنرل سٹور بتایا تھا –
گلوکاری میں اس وقت لالا کا تعارف عیسی خیل سے کندیاں تک محدود تھا – وہ بھی چند مخصوص دوستوں کی حد تک –
الصدف جنرل سٹور چھوٹا سا ، مگر صاف ستھرا اور معیاری جنرل سٹور تھا – لالا نے بہت تپاک سے ہمارا استقبال کیا – پوچھا کیسے آنا ہوا ، میں نے کہا ہم آئے نہیں ، آگئے ہیں – اب ادھر عیسی خیل ہی میں رہنا ہے – لالا یہ سن کر بہت خوش ہوئے ، کہنے لگے میرے ہاں رہنا پسند کریں تو غریب خانہ حاضر ہے –
میں نے بتایا کہ میں اپنے دو لیکچرر ساتھیوں کے ساتھ محلہ بمبرانوالہ میں رہوں گا – وہ سارا بندوبست ہو چکا ہے – محلہ بمبرانوالہ کا نام سن کر لالا نے کہا “واہ ، یہ تو بہت اچھا حسن اتفاق ہوا ، کیونکہ میرا گھر بھی اسی محلے میں آپ سے اگلی گلی میں مسجد کے عقب میں واقع ہے – میں نے کہا وہ تو میں نے دیکھا ہوا ہے –
لالا نے کہا ہم چند دوست ہر شام میری بیٹھک میں مل بٰیٹھتے ہیں – وقت مل جائے تو آپ بھی آجایا کریں – میں نے اسی شام وہاں جائے کا وعدہ کر لیا –
لالا نے چائے منگوا لی تھی – چائے پی کر ہم اپنی قیام گاہ کی طرف چل دیئے –——————————– رہے نام اللہ کا ——بشکریہ-منورعلی ملک- 20            اکتوبر2020

میرا میانوالی

پانچ سال پہلے جب میں نے اردو پوسٹس لکھنے کا آغاز کیا تو ایک دوست کمنٹس میں روزانہ یہ فرمائش کرنے لگے کہ سر ، ہمیں اور کچھ نہیں چاہیئے ، آپ بس لالا عیسی خیلوی کے بارے میں لکھا کریں – تنگ آکر میں نے جواب میں لکھا کہ بھائی صاحب ، لالا سے دوستی کے علاوہ بھی میں نے کچھ اچھے کام کیے ہیں ، جن کے ذکر سے لوگوں کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے – لالا سے دوستی کے بارے میں تو پوری کتاب “درد کا سفیر“ لکھ چکا ہوں – آپ وہ کتاب کہیں سے لے کر پڑھ لیں ، مجھے اپنے راستے پر چلنے دیں –

کل کی پوسٹ میں لالا کا ذکر ہوا تو کمنٹس میں ایک دو اسی قسم کی فرمائشیں آئیں – ان دوستوں سے بھی یہی گذارش ہے کہ کتاب کہیں سے لے کر پڑھ لیں – میں فی الحال اپنے عیسی خیل میں قیام کے بارے میں لکھ رہا ہوں تاکہ میری زندگی کا یہ دور بھی ریکارڈ پہ آجائے – کچھ باتیں دوتین سال پہلے لکھ چکا ہوں ،لیکن اب ایک تسلسل سے لکھ رہا ہوں ، اس لیے کہانی میں شاید کچھ ایسے واقعات اور شخصیات کا ذکر بھی آجائے جن کا ذکر پہلے ہو چکا – تاہم اب وہ ذکر زیادہ مفصل اور نئے انداز میں ہوگا – امید ہے آپ کو اچھا لگے گا –
عیسی خیل میں میرے لیے ایک اہم مسئلہ دن گذارنا تھا – کالج میں دوپیریئڈ پڑھانے کے بعد سارا دن فارغ – کچھ دیر کالج میں دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگانے کے بعد میں گھر واپس آجاتا تھا – گھر تو نہیں ڈیرہ کہنا چاہیے ۔ کیونکہ فی الحال فیملی ساتھ نہیں لایا تھا – ڈیرے پر میرے دو لیکچرر ساتھیوں میں سے اکبرخان کیمسٹری کے تھے ، وہ دن کا زیادہ تر حصہ لیبارٹری میں بسر کرتے تھے – دوسرے عبدالستار جوئیہ صاحب دن بھر غائب رہتے پتہ نہیں کہاں کہاں پھرتے رہتے تھے – بہت زندہ دل ، دیسی مزاج کے مجلس باز آدمی تھے ، کہیں نہ کہیں وقت گذار لیتے ہوں گے —– مسئلہ میرا تھا ، رات کو تو دوچار گھنٹے لالا کی محفل میں گذار لیتا ، دن کو سونے کا عادی نہیں تھا ، اب بھی نہیں سوتا – دن کی سنگت عتیل عیسی خیلوی تھے، مگر وہ اپنی ملازمت میں مصروف رہتے – دن کے پچھلے پہر ان سے ملاقات ہوتی تھی – عیسی خیل میں ٹیوشن ورک کا رواج بھی نہ تھا ، ورنہ کچھ مصروفیت مل جاتی ۔
وہ جو ایک شاعر نے کہا تھا ———————-
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
کچھ ایسا ہی حال رہا اپنا بھی ابتدائی چند دنوں میں —— صد شکر کہ اللہ مسبب الاسباب ہے – جلد ہی مجھے اپنی پسند کی مصروفیت مل گئی –
——————————- رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک-21            اکتوبر2020

میرا میانوالی

عتیل عیسی خیلوی صاحب تین بجے اپنی ملازمت کے کام سے فارغ ہوکر واپس آتے تو کھانا کھا کر میرے ہاں پہنچ جاتے – چائے چلتی اور پھر ہم مزید چائے پینے کے لیے عیسی خیل کے لاری اڈا کی طرف نکل جاتے –
ہوٹل بازی ہم میانوالی کے لوگوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے – گھر میں لاکھ بھی اچھی چائے ملے ، کم از کم ایک بار ہوٹل کی چائے لوگ ضرور پیتے ہیں – میں نے تو یہ شغل ترک کردیا ہے کہ جہاں بھی جائیں اپنا کوئی نہ کوئی بچہ (سٹوڈنٹ) بیٹھا ہوتا ہے جو ہمیں بتائے بغیر چپکے سے چائے کے پیسے ادا کر دیتا ہے – دوچار بار ایسا ہوا تو میں نے ہوٹل گردی ترک کردی – شرم سی آتی ہے بچوں کے خرچ پہ چائے پیتے ہوئے –
بات بہت دور نکل گئی- ذکر عیسی خیل کا ہورہا تھا – عتیل صاحب اور میں لاری اڈا جاکر بالعموم لالا کریم خان یا ماسٹر مشتاق صاحب کے ہوٹل سے چائے پیتے تھے – یہاں بہت زبردست چائے ملتی تھی – سب سے بڑا ہوٹل الحفیظ تھا ، مگر وہاں بہت رش ہوتا تھا –
ایک دن چائے کے دوران میں نے عتیل کو بتایا کہ یار میں کالج سے واپس آکر سارا دن تنہا بیٹھا بور ہوتا رہتا ہوں – عتیل نے میری بات کا جواب دینے کی بجائے کہا “ چلو میرے ساتھ “
عتیل مجھے اپنے گھر لے گئے – ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول کر ایک الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا “ یہ ہے تمہاری تنہائی کا علاج “-
واقعی میری تنہائی کا اس سے بہتر علاج کوئی نہیں ہو سکتا – الماری قدیم و جدید اردو ادب کی کتابوں سے لبالب بھری ہوئی تھی – میری پسند کے تمام شاعروں ، جگرمرادآبادی ، ساحرلدھیانوی، فیض احمد فیض ، احمد ندیم قاسمی ، سیف الدین سیف ، ناصر کاظمی، محسن نقوی ، احمد فراز ، منیر نیازی ، قتیل شفائی ، مظفر وارثی ، مصطفی زیدی ، پروین شاکر وغیرہ کے شعری مجموعے عتیل کی اس ذاتی لائبریری کی زینت تھے – ان کے علاوہ تاریخ ساز ادبی رسالہ نقوش کے تمام خصوصی شمارے ، غزل نمبر ، افسانہ نمبر، شخصیات نمبر ، مکاتیب نمبر ، لاہور نمبر ، ہر شمارہ ہزار سے زائد صفحوں پر مشتمل ، یہ سب کچھ عتیل کی لائبریری میں موجود تھا – فنون ، افکار اور کئی دوسرے مشہورومعروف جرائد بھی خاصی تعداد میں تھے –
یہ مختصر سی لائبریری آج کے اردو ادب کا بہترین انتخاب تھی –
عتیل نے کہا “ اب بتاؤ“
میں نے کہا “ یار کمال ہے ، میری تنہائی کا اس سے بہتر علاج -واقعی کوئی نہیں ہو سکتا –
عتیل نے کہا “ اس الماری میں سے جوکچھ چاہو اٹھا کر لے جاؤ – پڑھنے کے بعد واپس کردو تو تمہاری مرضی ، ورنہ خیر ہے کوئی بات نہیں – ویسے تو میں کسی کو ان چیزوں کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتا ۔ مگر تمہاری بات اور ہے “
یہی ادا بہت پیاری تھی عتیل کی ، میں نے جب بھی کوئی مشکل فرمائش کی کہتے تھے ، کسی اور کے کہنے پہ ہرگز یہ کام نہ کرتا ، مگر تمہاری بات اور ہے –
رب کریم میرے اس بہت پیارےبھائی کو اپنی رحمت خاص کا سایہ نصیب فرمائے ، بہت پیارا انسان تھا –
——————————— رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک-22اکتوبر2020

میرا میانوالی

عتیل عیسی خیلوی کو رب کریم نے بہت اعلی صلاحیتوں سے نوازا تھا – شاعر کے علاوہ بہت اعلی درجے کے خوشنویس بھی تھے – عیسی خیل میں دکانوں کے سائین بورڈ اور چارٹ وغیرہ عتیل صاحب ہی لکھتے تھے – لالا عیسی خیلوی کے الصدف جنرل سٹور کا سائین بورڈ بھی عتیل نے لکھا تھا –
عتیل کا ادبی ذوق بہت بلند تھا – ہر بڑے شاعر کے کئی اشعار عتیل کے ذہن میں محفوظ تھے – ہم جس شاعر کا بھی نام لیتے عتیل فورا اس کا کوئی نہ کوئی شعر سنادیتے – لالا بھی عتیل کی اس خوبی کے بہت معترف تھے – میکدے میں لالا گا رہا ہوتا تو عتیل گیت کے مطابق کسی بڑے شاعر کا ایک آدھ شعر لکھ کر لالا کے آگے رکھ دیتے – لالا وہ شعر بھی گیت میں شامل کرکے گا دیتا – یونس خان ، مجبور صاحب اور بے وس صاحب کے سرائیکی گیتوں میں فیض ، فراز ، ساحر ، ناصر کاظمی اور محسن نقوی کے برمحل اشعار کی آمیزش کا فن لالا کو عتیل ہی نے سکھایا – عتیل کا شعر کا انتخاب لا جواب ہوتا تھا –
عتیل بہت خوددار انسان تھے – کبھی کسی کی خوشامد نہیں کی – اصول کے معاملے میں ڈٹ جاتے تھے – ایک دفعہ کسی بات پر لالا سے ناراض ہو گئے – شام کو دوستوں کی محفل سجی تو لالا نے کہا عتیل کے بغیر محفل ویران لگ رہی ہے – آؤ چلیں اس کو منالائیں – چنانچہ ہم سب عتیل صاحب کے گھر پہنچے – لالا نے ہاتھ جوڑ کر عتیل سے معافی مانگی – دونوں کی آنکھوں میں آنسوآگئے – دونوں ایک دوسرے سے گلے لگ کر ملے – پھر ، وہ جو کسی شاعر نے کہا تھا
جب گلے سے لگ گئے سارے گلے جاتے رہے
چائے پی کر عتیل صاحب کو ساتھ لے کر ہم میکدہ واپس آگئے-
عتیل زبردست مہمان نواز تھے – ان کے ہاں کئی دفعہ کھانا کھانے کا اتفاق ہوا – چٹنی، اچار ، سلاد کے علاوہ ہر بار تین چار سالن دیکھ کر میں نے کہا “یار اتنا تکلف نہ کیا کرو “ ہنس کر بولے “ یہ سب تمہاری بھابھی کا کمال ہے – ارد گرد سب ہمارے رشتہ داروں کے گھر ہیں – جب ہمارے ہاں کوئی مہمان آتا ہے تمہاری بھابھی اپنے بنائے ہوئے سالن کے علاوہ سالن کی ایک ایک پلیٹ ہر گھر سے منگوا کر دستر خوان کی رونق بنا دیتی ہے –
عتیل تو دنیا سے چلے گئے – بھابھی بصارت سے محروم ہیں – آج کل کلور میں اپنی بیٹی کے ہاں رہتی ہیں – اللہ کریم ان کی ہر مشکل آسان فرمائے –
—————————— رہے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک- 23   اکتوبر2020

میرا میانوالی

اک چراغ اور بجھا ، اور بڑھی تاریکی
پروفیسر مقصود احمد ملک بھی عدم آباد جابسے -20 /21 سال تک گورنمنٹ کالج میانوالی میں میرے کولیگ رہے – صرف کولیگ ہی نہیں ، چھوٹے بھائیوں کی طرح پیارے اور لاڈلے بھائی بھی تھے – ہم انگلش ڈیپارٹمنٹ کے لوگ بیالوجی ڈیپارٹمنٹ ٹی کلب کے ممبر تھے – پروفیسر فاروق صاحب بیالوجی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے – فارغ پیریئڈز میں روزانہ ہم لوگ مل بیٹھتے تھے – سائنس کے لوگ عام طور پر زندہ دل نہیں ہوتے – کیمسٹری والوں کا اپنا ٹی کلب تھا جو سینیئر افراد پر مشتمل تھا – فزکس والے اپنے سبجیکٹ کی طرح زاہد خشک مزاج تھے – ان کا کوئی ٹی کلب نہ تھا – پتہ نہیں فارغ وقت میں وہ لوگ کیا کرتے تھے – ؟
مقصود صاحب بہت ہنس مکھ ، خوش مزاج انسان تھے – ان کی دلآویز مسکراہٹ آج بھی دل پر نقش ہے – میں اکثر انہیں یہ کہہ کر چھیڑتا کہ مقصود صاحب بیالوجی کے ٹیچر تو لاجواب ہیں ، مگر ذرا بیمار شیمار رہتے ہیں ، اس لیے ان کی کلاسیں چاچا یارن پڑھاتے ہیں – چاچا یارن لیبارٹری کے ملازم تھے جو ہمارے لیے چائے بناتے تھے – میرا یہ جملہ سن کر مقصود صاحب بڑا جان دار قہقہہ لگاتے تھے –
پروفیسرمقصود بہت ملنسار اور مہمان نواز تھے – مہینے میں ایک آدھ بار ہم دس پندرہ پروفیسر برا بر پیسے ڈال کر مقصود صاحب کے ہاں چانپ پارٹی منایا کرتے تھے – کوئلوں پر چانپیں بھوننے کا کام ( باربی کیو) مقصود صاحب اور پروفیسر سلیم احسن صاحب مل کر کرتے تھے – برتن ، پانی , چٹنیاں ، سلاد اور بیٹھنے کی جگہ مقصود صاحب فراہم کرتے تھے – ہمارے اس گروپ میں بیالوجی اور انگلش ڈیپارٹمنٹ کے ساتھیوں کے علاوہ اردو کے پروفیسر محمد فیروز شاہ ، پروفیسر احمد خان نیازی ، پروفیسر رئیس احمد عرشی اور ایجوکیشن کے پروفیسر عبدالقیوم خان بھی شامل تھے – خوب رونق لگتی تھی –
جب میانوالی میں لا ثانی چرغہ کا کاروبار شروع ہوا تو مقصود صاحب نے اس سے مستفید ہونے کے لیے ایک اور چھوٹا سا گروپ بھی بنا لیا جس میں پروفیسر سلیم احسن ، پروفیسر محمد فاروق ، پروفیسر پیرمحمد اقبال شاہ اور میں شامل تھے – چرغے کا ایک پیس 25 روپے کا ملتا تھا – روٹی اور دال سلیم صاحب کے بھتیجے احسان کے ہوٹل سے لیتے اور وہیں بیٹھ کر کھایا کرتے تھے – لاثانی چرغہ ہاؤس سے چرغہ لے کر آنے کی خدمت مقصود صاحب سرانجام دیتے تھے – ہمارا یہ پروگرام ہر سنیچر کی شام ہوتا تھا –
پروفیسر مقصود کچھ عرصہ قبل لاہور منتقل ہو گئے تھے – وفات اور تدفین بھی وہیں ہوئی – ان سے آخری ملاقات چند ماہ قبل سٹی پوسٹ آفس میانوالی میں ہوئی – میں نے پوچھا واپس آگئے ہیں – ؟ کہنے لگے کسی کام سے آیا تھا ، ایک دو دن بعد لاہور چلا جاوں گا –
کیا خبر تھی کہ یہ آخری ملاقات ہے –
رب کریم ہمارے اس پیارے بھائی کی اگلی منزلیں آسان فرمائے – بہت کامیاب اور مقبول ٹیچر ، اور دلنشیں شخصیت تھے –
——————————– رہے نام اللہ کا —–بشکریہ-منورعلی ملک- 24  اکتوبر2020

میرا میانوالی

گورنمنٹ کالج عیسی خیل کو ہم پروفیسروں کی جیل کہا کرتے تھے ، یہ کالج پنجاب کی شمال مغربی سرحد ہر پنجاپ کا آخری کالج ہے – عیسی خیل سے دس پندرہ کلو میٹر مغرب میں صوبہ کے پی کا ضلع لکی مروت ہے – سرکار جس پروفیسر سے ناراض ہوتی اسے اس بے سروسامان کالج اور ویران سے شہر میں بھیج دیا جاتا – اس لیے ہم اسے پروفیسروں کی جیل کہا کرتے تھے –
ہمارے قیام کے دوران وہاں اردو کے تین لیکچرر آئے – تینوں سزا یافتہ – دو کا جرم یہ تھا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے تھے – جنرل ضیاء کے دور میں پی پی پی کے لوگ ہمیشہ سرکار کے عتاب کا شکار رہے – اردو کے تیسرے پروفیسر صاحب بھکر کالج میں پروفیسروں اور پرنسپل کی ان بن کے نتیجے میں سزا کے طور پر یہاں آئے –
اردو کے پہلے پروفیسر سید افتخارحسین شیراز بخاری صاحب گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے یہاں آئے تھے – بہت پڑھے لکھے، زندہ دل اور خوش مزاج انسان تھے – ان کے مزاج میں کوئی تکلف نہ تھا – جس سے پہلی بار ملتے اسے بھی یوں محسوس ہوتا کہ برسوں پرانی یاری ہے – بہت دریا دل سخی تھے – کسی کو ان کی گھڑی پسند آجاتی تو کہتے یہ لو یار ، مجھے اللہ اور دے دے گا – کوئی قلم کی تعریف کرتا تو کہتے “ لو ، میرے بھائی ، یہ قلم آج سے آپ کا ہوگیا “- آپ لاکھ کوشش کریں ،شاہ جی دی ہوئی چیز واپس نہیں لیتے تھے –
ان کی باتیں اتنی دلچسپ ہوتی تھیں کہ ہر آدمی ان کے پاس بیٹھنا پسند کرتا تھا – ہروقت ہنستے ہنساتے رہتے تھے – پروفیسر سرورخان کی طرح شاہ جی کے پاس بھی خالص مردانہ لطیفوں کا بہت وسیع ذخیرہ تھا – ماشآءاللہ تین شادیاں کر رکھی تھیں – ایک بیگم فٰیصل آباد میں ، ایک کراچی میں ایک لاہور میں مقیم تھیں ، تینوں لیکچرر تھیں ، روٹی کپڑے کے لیے شاہ جی کی محتاج نہ تھیں ، اس لیے شاہ جی بے فکرتھے – گرمی کی چھٹیاں کراچی والی بیگم صاحبہ کے ہاں گذارتے ، سال کے بقیہ مہینے کبھی فیصل آباد کبھی لاہور –
پیپلز پارٹی سے وابستگی کے جرم میں فیصل آباد سے عیسی خیل بھیجے گئے ، کچھ عرصہ بعد فردجرم میں کچھ اور جرائم ڈال کر انہیں معطل (suspend) کر دیا گیا – معطلی کے دوران سیکریٹیریئٹ میں حاضر رہنا پڑتا ہے – شاہ جی بہت خوش ہوئے , کہنے لگے مزا آگیا – ادھر سیکریٹیرئیٹ میں فلاں فلاں فلاں سیکریٹری میرے دوست ہیں ، سارا دن سیکریٹیریئٹ میں بیٹھ کر گپیں لگایا کروں گا – عیسی خیل بھی اچھی جگہ ہے ، مگر لہور تے فیر لہور اے نا ——-
یہ کہہ کر سب سے گلے مل کر عیسی خیل سے رخصت ہو گئے-
—————————————— رہے نام اللہ کا–بشکریہ-منورعلی ملک- 25اکتوبر2020

میرا میانوالی

پروفیسر بخاری صاحب کے بعد ایم اے او کالج لاہور سے پروفیسر افغانی صاحب ٹرانسفر ہوکر عیسی خیل کالج آئے – جرم ان کا بھی یہی تھا کہ پی پی پی سے وابستہ تھے-

پروفیسر افغانی صاحب عمر میں ہم سب سے سینیئر تھے ٠ جدی پشتی اندرون شہر کے لاہوریئے تھے – لاہور اگرچہ اب مکس اچار بن گیا ہے ، تاہم اندرون شہر کے علاقوں میں اب بھی مغلیہ دور کی روایات اور کلچر اپنی اصلی شکل میں برقرار ہے – یہ خالص لاہوریئے نہایت زندہ دل ، دوست دار اور مہمان نواز لوگ ہیں – کسی کو اجنبی نہیں سمجھتے – اپنے ، پرائے سب سے ہمدردی اور تعاون کرتے ہیں –
پروفیسر افغانی صاحب بھی ان خصوصیات سے مالامال تھے – سٹاف کی دعوتوں میں کھانا پکانے کاکام انہوں نے اپنے ذمے لے لیا – بہت عمدہ کھانا بناتے تھے – ایک دفعہ ہم لوگ پکنک کے لیے درہ تنگ گئے تو افغانی صاحب نے چکن کڑاہی بنائی تھی – ویسا لذیذ چکن پھر کبھی نصیب نہ ہؤا –
افغانی صاحب صرف پانچ سات ماہ ہمارے کالج میں رہے – پھر قسمت نے پلٹا کھایا اور واپس ایم اے او کالج لاہور چلے گئے – ایک دن اردو بازار لاہور میں اچانک ملاقات ہوگئی – سائیکل پر کالج سے واپس آ رہے تھے – مجھے زبردستی پکڑ کر کھانا کھلانے کے لیے اپنے گھر لے گئے – ان کا گھر قریب ہی اندرون بھاٹی گیٹ واقع تھا – قدیم طرز کا یہ گھر اوپر نیچے تین کمروں پر مشتمل تھا- اندرون شہر اس قسم کے کئی گھر موجود ہیں – سب سے نچلی منزل والا کمرہ ڈرائنگ روم تھا – اوپر کی دومنزلوں کی سیڑھیاں کمروں نے اندر سے جاتی تھیں –
کچھ دیر بعد افغانی صاحب کھانا لے آئے – بہت سی چیزیں تھیں – مجھ سے کہنے لگے یہ چکن قورمہ فلاں دکان کا ہے ، سات نسلوں سے یہ لوگ یہی کام کر رہے ہیں – یہ چکن بھاٹی گیٹ کے سوا اور کہیں نہیں ملتا – یہ دال فلاں دکان کی ہے ، چھولے فلاں دکان سے لایا ہوں ، کھیر فلاں ایکسپرٹ کی بنائی ہوئی ہے ، روٹیاں گھر سے بنوائی ہیں –
کھانے کا ہر آئیٹم لاجواب تھا – یہ مغلیہ دور کے نسخوں والے کھانے اندرون شہر چیدہ چیدہ دکانوں سے ملتے ہیں – نہایت لذیذ کھانے ہوتے ہیں –
کہانی کو جلد سمیٹنا پڑ رہا ہے کہ حسب معمول بجلی آج پھر صبح سے غائب ہے – لیپ ٹاپ چارجنگ مانگ رہا ہے –
——————————- رہے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک- 26  اکتوبر2020

 

 

میرا میانوالی

سکون کی تلاش میں انسان کیا کچھ نہیں کرتا – سارا مسئلہ ہی سکون کا ہے – عام طور پر مال و دولت کو سکون کی ضمانت سمجھا جاتا ہے – مگر کسی بڑے امیر کبیر کو قریب سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ سکون سے یہ بھی محروم ہے –
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نوجوان صحابی مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ بہت امیر والدین کے اکلوتے بیٹے تھے – اتنے لاڈلے اور نازک مزاج کہ ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے – بہت قیمتی لباس پہنتے تھے ، تیزمزاج اتنے کہ ذرا ذرا سی بات پر بگڑ جاتے – والدین بھی نوکروں کی طرح ان کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے تھے – بارہ چودہ سال کی عمر میں دائرہ اسلام میں داخل ہوئے — محمد عربی کی تعریفیں سن کر یہ دیکھنے کے لیے آئے کہ کیسا آدمی ہے جس کی لوگ اتنی تعریف کرتے ہیں –
آئے اور پھر واپس نہ گئے – ادھر ہی کے ہوگئے – ایک رات سرکار دوعالم مسجد سے گذرے تو دیکھا کہ نازوں کا پالا ہؤا ، امیر والدین کا اکلوتا بیٹا مسجد کے کچی مٹی کے فرش پر بڑے آرام سے سویا ہؤا ہے –
ابن عمیر کو اس حال میں دیکھ کر حضور کی آنکھوں میں آنسو آگئے – رخ انور آسمان کی طرف اٹھا کر کہا “ واہ میرے مالک ، تیری شان ، آرام دہ بستروں پر سونے کا عادی بھی تیری رضا کی خاطر خاک پر سویا ہوا ہے –
میلاد مصطفی علیہ السلام کے حوالے سے آج سے 12 ربیع الاول تک میری پوسٹس کا موضوع یہی رہے گا – باقی باتیں انشآءاللہ بعد میں ہوتی رہیں گی –
——————————- رہے نام اللہ کا ——–بشکریہ-منورعلی ملک- 28             اکتوبر2020

میرا میانوالی

 

عید میلاد تو ہم ہر سال بڑے اہتمام سے مناتے ہیں – لیکن دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے کیا یہی کافی ہے – ؟ —– کیا اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرنے کے لیے سال میں صرف ایک دن کافی ہے جو 12 ربیع الاول 571 سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کا نبی ہے ، جس کے حکم اور سنت پر عمل کرنا آخری سانس تک واجب ہے –
صرف عیدمیلاد یا دن کی پانچ نمازوں تک محدود نہیں ، اٹھنے بیٹھنے ، کھانے پینے ، چلنے پھرنے ، گفتگو ، تعلیم ، کاروبار ، ملازمت ہر چھوٹے بڑے عمل میں ان کی تقلید ہم پر لازم ہے – سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدور ، تاجر ، معلم ، جج ، جرنیل اور حکمران کی حیثیت میں خود کام کر کے دکھا دیا کہ اپنے فرائض اس طرح ادا کرنے چاہیئں –
محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ اعلی ترین انسان ہیں جنہیں اللہ نے اپنے تعارف کے لیے دنیا میں بھیجا – یہ بتانے کے لیئے کہ اے لوگو ، لآالہ الا اللہ ( اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ) – حضور ہی نے ہمیں بتایا کہ اللہ خالق ، مالک ، رازق ، غفور ، رحیم ، ولی ، وارث ، وکیل ہے – وہی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے –
حضور ہی کی زبانی ہمیں بتایا گیا کہ ان اللہ مع الصابرین ( اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ) اور من یتوکل علی اللہ فہو حسبہ ( جو اللہ پر بھروسا کرے اس کے لیے اللہ ہی کافی ہے ) – اول سے آخر تک قرآن کا ایک ایک لفظ نبی اکرم ہی کی زبان سے ہم تک پہنچا –
مشرکین مکہ بھی یہ تو کہتے تھے کہ محمد جھوٹ نہیں بولتے ، جو کچھ کہتے ہیں ، وہ ہوگا تو یقینا سچ ، مگر ہم اپنے آباو اجداد کے بتا ئے ہوئے اصولوں کو کیسے ترک کردیں –
اللہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ لوگوں کو بتادو اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تم سے محبت کرے تو پھر میری پیروی کرو –
میلاد مصطفی علیہ السلام صرف جشن تک محدود نہ رہے – صرف جلوس ، نعت خوانی اور کھانے پینے تک محدود نہ رہے – اس دن اس عہد کی تجدید کرنی چاہیئے کہ ہم اپنے اپنے میدان میں اسی طرح کام کریں گے جس طرح ہمارے آقا و مولا محمد علیہ السلام نے کیا – صرف عہد نہیں عمل بھی کریں – عمل علم کے بغیر ممکن نہیں ، کوشش کرکے سیرت کی کتابوں یا علمائے کرام سے معلومات حاصل کریں کہ فلاں کام حضور نے کس طرح کیا –
ہمارے نبی تو وہ نبی ہیں کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ حضور ہی کی شریعت نافذ کریں گے ، حضور کے نائب کی حیثیت میں کام کریں گے –
یہ باتیں پڑھ کر صرف سر ہلا دینا کافی نہیں ، ان پر غور کر کے عمل بھی کریں ، اور پھر دیکھیں کہ اللہ آپ کی کس طرح مدد کرتا ھے –
——————————- رہے نام اللہ کا ————–بشکریہ-منورعلی ملک-29 اکتوبر2020

میرا میانوالی

میرے آقا غلام حاضر ھے
مدینہ منورہ —–
روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا داخلی دروازہ  —-دسمبر 2019 ——-

بشکریہ-منورعلی ملک- 30             اکتوبر2020

Your words for Mianwali and Mianwalians

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: