منورعلی ملک کے   جولائی 2023کے فیس  بک   پرخطوط

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔MERA MIANWALI JULY 2023
عیدالاضحٰی کو ہمارے ہاں بقرعید کہتے تھے۔ قربانی کے لیئے دنبے عید سے ایک دو ہفتے پہلے ہی خرید لیئے جاتے تھے۔ چھوٹے کانوں اور لمبے سینگوں والے یہ مقامی نسل کے دنبے چرڑے دنبے کہلاتے تھے۔ پہاڑی ہرن کی نسل کے ان دنبوں کا گوشت چربی سے پاک ، صاف ستھرا نہایت لذیذ گوشت ہوتا تھا۔ ذرا سا سخت ہوتا تھا مگر عام گوشت سے چند منٹ زیادہ آگ پر رکھنے سے نرم ہو جاتا تھا۔
بچہ لوگوں کی عید تو دنبے گھر میں آتے ہی ہو جاتی تھی۔ سارے کام چھوڑ کر دن رات دنبوں کی خدمت میں لگے رہتے تھے۔ دنبوں کو کھلانا پلانا، نہلانا، مہندی اور لال رنگ لگانا، منکوں اور اون کے رنگارنگ ہار پہنانا، یہ سارے کام بچے اپنی خوشی سے سرانجام دیتے تھے۔
ہمارے گھر کے پچھواڑے سرسبز گھاس کا میدان تھا۔ میں، میرے کزن ملک ریاست علی اور دوچار ہمسایوں کے بچے دن کے پچھلے پہر اپنے اپنے دنبوں کو چرنے کے لیئے اس سر سبز میدان میں لے جاتے تھے۔ دنبوں کو چرنے کے لیئے چھوڑ کر ہم میدان کے کنارے بیٹھ جاتے اور اپنے اپنے دنبوں کی تعریفوں کے پل باندھتے رہتے۔ بہت لمبی لمبی چھوڑتے تھے سب لوگ۔ اپنے اپنے دنبوں کے ایسے ایسے کمالات بیان کرتے جو انسانوں میں بھی کم پائے جاتے ہیں۔
عید کا دن بچوں کے رونے دھونے کا دن ہوتا تھا۔ اپنے جانو دنبے کو ذبح ہوتے دیکھنا کوئی معمولی صدمہ نہ تھا۔
ایک دن ہماری ہمسائی ماسی صاحبو نے ہمیں روتے دیکھ کر کہا وے، روتے کیوں ہو؟ تمہارا دنبہ تو ذبح ہونے کے بعد اللہ میاں لے لے گا، جنت میں اس کی پرورش کرے گا، اور پھر اگلے سال عید سے چند دن پہلے تمہیں واپس دے دے گا۔ ہر سال یونہی ہوتا ھے۔
بھلا ہو ماسی صاحبو کا، ان کی بات سن کر تسلی ہوگئی کہ ہمارا جانو دنبہ تو مرا نہیں بلکہ ایک سال کے لیئے چرنے چگنے جنت میں گیا ہے، اگلے سال پھر واپس آ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔١  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔
میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا فیس بک کا سفر۔۔۔۔۔1
تاریخ یاد نہیں، آج سے آٹھ سال پہلے 2015 میں یہی جولائی کا مہینہ تھا، جب میں نے فیس بک کی وادی میں قدم رکھا۔
سچی بات ہے اس وقت مجھے سوشل میڈیا سے ذرا بھی دلچسپی نہیں تھی۔ اکرم بیٹا مجھے بار بار ترغیب دیتے رہے ، مگر میری دلیل یہ تھی کہ یہ تو بچوں کے مشغلے ہیں۔ مجھ جیسے بزرگ کی ان مشاغل میں شرکت رنگ میں بھنگ ڈالنے والی بات ہوگی۔
مجھے سوشل میڈیا کی طرف راغب کرنے کے لیئے اکرم بیٹا خود ہی میرے نام کا فیس بک اکاؤنٹ بنا کر آپریٹ کرنے لگے ، اورچند دن بعد یہ اکاؤنٹ مجھے دکھا کر حیران کر دیا۔
سینکڑوں فرینڈز اور فرینڈ ریکوئسٹس کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ اکرم بیٹا نے میرے جو اشعار پوسٹ کیئے تھے ان پر سینکڑوں لائیکس، ری ایکشنز اور خوبصورت کمنٹس دیکھ کر حوصلہ بڑھا، اور میں نے فیس بک اکاؤنٹ خود سنبھال لیا۔
اکرم بیٹے نے اپنا Lenovo کا لیپ ٹاپ میرے سپرد کرتے ہوئے کہا ابو اب آپ جانیں آپ کا کام۔۔ دیکھیں کتنے لوگ آپ سے ملنا، آپ کی باتیں سننا چاہتے ہیں۔
اس وادی میں قدم رکھتے ہی میں نے پہلے احتیاطا ادھر ادھر نظر دوڑائی کہ ادھر میرا کوئی ہم عمر بھی ہے یا اکیلا میں ہی جوانوں کے اس جلوس میں شامل ہوں۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ معروف شاعر و افسانہ نگار ظفر خان نیازی، پروفیسر اشرف علی کلیار، پروفیسر حسین احمد ملک جیسے میرے ہم عمر، ہم مشرب احباب پہلے ہی یہاں موجود اور سرگرم عمل تھے۔
اب سوال یہ پیدا ہوا کہ لکھنا کیا ہے۔ اردو کی بورڈ keyboard کا تو مجھے علم نہیں تھا، انگریزی میں ہی لکھ سکتا تھا۔ شکر ہے انگریزی لکھنا بھی میرے لیئے مشکل نہ تھا۔ سو ، اللہ کا نام لے کر میں نے انگریزی ہی میں لکھنا شروع کردیا۔ قربان جاوں ابتدائی دور کے دوستوں پر جنہیں انگریزی سے تو کوئی دلچسپی نہ تھی، نہ ہی وہ انگریزی سمجھ سکتے تھے ، پھر بھی وہ ان انگریزی پوسٹس پر لائیکس اور کمنٹس کی صورت میں حاضری لگواتے رہے۔ سمجھ آئے نہ آئے انہیں میرے نام سے پیار تھا۔۔۔۔
اپنے فیس بک کے سفر کی یہ داستان ابھی دو چار دن چلے گی۔ خاصی دلچسپ باتیں ہوں گی ان شآءاللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔

٢  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا فیس بُک کا سفر۔۔۔۔۔ 2
فیس بک کی دنیا میں سب سے پہلے میرا استقبال ان بے شمار لوگوں نے کیا جو لالا عیسی خیلوی کے کیسیٹس پر شاعر کی حیثیت میں میرا نام دیکھ کر بہت عرصہ سے مجھ سے کسی نہ کسی طرح رابطہ کرنے کے خواہاں تھے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان غائبانہ مداحوں کی محبت میرا بہت قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ لوگ مجھے صرف میرے گیتوں۔۔۔۔ نت دل کوں آہدا ہاں کل ماہی آسی
اور
سچی ڈس وے ڈھولا کل کیوں نئیں آیا
وغیرہ کے حوالے سے جانتے اور چاہتے تھے۔ اس سے زیادہ انہیں میرے بارے میں کچھ علم نہ تھا کہ میں کون ہوں، کہاں رہتا ہوں، کیا کام کرتا ہوں ۔ وہ بڑی مدت سے یہ باتیں جاننا چاہتے تھے۔ میری فیس بُک پروفائل نے انہیں یہ سب کچھ بتا دیا۔
بہت سے لوگ ہیں۔۔۔۔۔ فیس بُک پر میری آمد کے فورا بعد جن لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا وہ فورٹ منرو( ضلع ڈیرہ غازی خان ) کے نوجوان میر ثناء اللہ خان بجارانی، ان کے کزن کمپیوٹر انجینیئر عباس بجارانی، پیرس سے منوراقبال خان، چکوال سے وسیم سبطین، جنوبی پنجاب سے سرفراز میتلہ، اور بھی بے شمار لوگ تھے۔ سب کے نام اس وقت یاد نہیں آرہے۔ اللہ سب کو سلامت رکھے۔
چند سال پہلے میر ثناء اللہ بجارانی نے شادی کر لی، بلڈنگ میٹیریل کا کاروبار بھی شروع کر دیا، اس کے بعد فیس بُک سے غائب ہو گئے۔ جہاں بھی ہوں اللہ شاد و آباد رکھے۔
میانوالی کے فیس بُک فرینڈز تو پہلے ہی مجھے جانتے تھے۔ ان میں سے بہت سے میرے سٹوڈنٹ بھی رہ چکے تھے۔
جب میں نے فیس بُک پر اردو میں پوسٹس لکھنی شروع کیں تو دنیا بھر سے بہت سے اہل ذوق لوگ میرے کارواں میں شامل ہوگئے۔ آسٹریلیا سے اویس کاظمی، ہانگ کانگ سے عابد حسین، جاپان سے ندیم نیازی اور پروفیسر مرغوب حسین طاہر، چین سے فارینہ نیازی، مکہ مکرمہ سے معظم عباس سپرا، جدہ سے شعیب سید ، مدینہ منورہ سے فاروق سید، امریکہ اور برطانیہ سے بہت سے لوگوں کے علاوہ عرب امارات سے بھی بہت سے لوگ میرے ہمسفر ہیں۔(جاری)۔۔۔۔۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے

Muhammad Waseem Sabtain

پیارے سرجی
بلاشبہ میں نے تقریباً چھ سات سال قبل لالہ عیسیٰ خیلوی کی وجہ سے آپ کے حضور فرینڈ ریکوسٹ پیش کی اور آپ نے شفقت فرمائی اور چند گھنٹوں میں وہ ریکوسٹ قبول فرمالی ۔
1982 ء میں جب آپکا لکھا گیت “سچی ڈس وے ڈھولا ” سنا تو سکول کا زمانہ تھا ۔میرے ماموں نے سعودیہ سے نیشنل پیناسونک 543 ٹیپ ریکارڈر لایا اور ساتھ میں لالہ جی کی چند کیسٹ بھی ۔کیسٹ کور پہ اس گیت کے آگے شاعر کا نام عطاءاللہ خان لکھا تھا۔یہ پہلا گیت تھا جو میں لالہ جی کی آواز میں سُنا تھا ۔
پھر وقت گذرتا رہا ۔
شاعر تنویر شاہد محمد زئی کے لالہ کے گیتوں کے حوالے سے مرتب کردہ چھوٹے چھوٹے رسالے 12 روپے میں ہر دو تین ماہ بعد اخبار اور رسائل کی دکان پہ آتے تھے ۔ان کی کتاب میں لالہ کے دس بارہ البمز کے تمام گیت معہ شاعر لکھے ھوتے تھے ۔ان کے رسالے سے معلوم ھوا کہ سچی ڈس وے ڈھولا ” جیسا سدا بہار گیت لکھنے والے ایک انگریزی کے پروفیسر منور علی ملک ہیں ۔
وقت اور سلسلہ چلتا رہا ۔لالہ کی۔ہرکیسٹ خریدتے وقت گیتوں کیساتھ شاعر کا نام بھی یاد ھوتا گیا ۔
پھر جب 2002ء میں لالہ جی کی کتاب ” درد کا سفیر ” لالہ لیاقت وتہ خیل کیسٹ ہاؤس میانوالی سے خریدی اور اس کے بیک کور پہ آپکی تصویر دیکھی تو آپ سے عقیدت اور بڑھ گئی ۔کیونکہ ذہن میں انگریزی کے پروفیسر کی تصویر تو تھری پیس سوٹ میں ملبوس کلین شیو ایک بارعُب انسان کی تھی ۔
لیکن اس تصویر میں سادگی اور چہرے پہ داڑھی ۔سادہ لباسی دیکھی ۔
بلاشبہ آپ فیس بک میں مجھے سب سے معتبر ہیں ۔اور آپ کی تحریروں سے مجھے اپنا بچپن یاد آتا ھے ۔اپنے بچھڑے ساتھی ۔اپنے دادا دادی نانا نانی ماموں اور سب سے بڑھ کر اپنے والد مرحوم کی یاد ھر دم میری سانس کیساتھ چلتی ھے ۔
رب المتعال سے دعاگو ھوں کہ اللہ پاک کو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرماۓ ۔اور تادیر آپکا شفقت و محبت بھرا سایہ قائم و دائم رھے ۔آمین ثم آمین
گھر دے اندھاراں وچ یاداں گولینداں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔

٣  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا فیس بک کا سفر۔۔۔۔۔3
اکرم بیٹے کی مدد سے اردو کی بورڈ keyboard دسترس میں آیا تو میں نے انگلش کے علاوہ اردو میں بھی روزانہ پوسٹ لکھنا شروع کر دیا۔ پہلی پوسٹ یہ تھی ۔۔۔۔۔۔
ایک بزرگ موبائیل فون مرمت کی دکان پر گئے اور کہا میرا فون کام نہیں کر رہا۔ مرمت کر دیں۔
کاریگر نے فون چیک کرنے کے بعد کہا بابا جی، فون تو بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے۔
بابا جی پریشان ہو گئے۔ کہنے لگے “پھر اس پر میرے بچوں کی کالیں کیوں نہیں آتیں؟”
کاریگر نے کہا “بابا جی، کوئی کال کرے تو فون پہ کال ضرور آتی ھے”۔
بابا جی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کچھ کہے بغیر دکان سے نکل گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑے دکھ کی بات ہے ۔ آپ کو احساس ہو نہ ہو، آپ کے والدین اگر اس دنیا میں موجود ہیں تو انہیں آپ کی کال کا انتظار رہتاہے۔ اگر آپ گھر سے دور ہیں اور فون آپ کے پاس ہے ، تو ان سے مسلسل رابطہ رکھیں۔ انہیں پریشان نہ ہونے دیں۔ انہیں اپنی آواز کے لیئے نہ ترسائیں۔ ان کے مسائل سے بے خبر نہ رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ پوسٹ بہت مقبول ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔

٤  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا فیس بُک کا سفر ۔۔۔۔۔۔ 4
اپنی اردو پوسٹس کی مقبولیت اور دوستوں کی پر زور فرمائش دیکھ کر میں انگریزی کے علاوہ روزانہ ایک پوسٹ اردو میں بھی لکھنے لگا۔ زیادہ تر پوسٹس اپنے بچپن کی یادوں، ذاتی تجربات ، مشاہدات اور احساسات پر مبنی ہوتی ہیں ۔ موضوع کا تعین پہلے سے نہیں کیا ہوتا۔ جو جی میں آئے لکھ دیتا ہوں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ میری پوسٹ سے لوگ محظوظ بھی ہوں اور ان کی معلومات میں بھی اضافہ ہو۔
ابتدائی دنوں(غالبا جنوری 2016) میں میں نے اپنا ایک شعر پوسٹ کیا۔ شعر یہ تھا۔۔
بھل ویسیں شان امیراں دی
آ ، رونق ڈیکھ فقیراں دی
اس شعر کی آرائش میرے داودخیل کے نوجوان شاہد انورخان نیازی نے کی۔ یہ سادہ سا شعر اتنا hit ہوا کہ چند ہی دنوں میں فیس بُک فرینڈز کی تعداد 5000 ہوگئی۔۔ فیس بُک نے ہاتھ کھڑے کر دیئے کہ فرینڈز کی تعداد میں مزید اضافہ ممکن نہیں۔ پھر لوگ فالوورز کی راہ سے آنے لگے۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ بہت لمبی قطار ہے 11000 سے زائد لوگوں کی۔ 997 فرینڈ ریکوئسٹس اس کے علاوہ ہیں۔
یہ تمام تر محبت اور مقبولیت میرے رب کی عنایت ہے، ورنہ۔۔۔۔۔
مجھ میں تو ایسی بات نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔

٥  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا فیس بک کا سفر۔۔۔۔ 5
سوشل میڈیا میں سے فیس بُک ایک فیملی کی طرح ہے۔ دنیا بھر سے لوگ اس رشتے میں منسلک ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں فیس بک کے وسیلے سے شریک ہوتے ہیں۔۔ کام کی باتیں آپس میں شیئر کرتے ہیں۔۔ اس میدان میں لڑائی جھگڑا کہیں نظر نہیں آتا۔ نظریاتی اختلاف کے باوجود لوگ آپس میں جڑے رہتے ہیں۔ ہلکی پھلکی سیاسی نوک جھونک پر امن رہتی ہے۔ ٹویٹر اور دوسرے سوشل میڈیا کی طرح فیس بک پر گالم گلوچ نہیں ہوتی۔
میں ویسے تو ہر موضوع پہ لکھتا ہوں، لیکن اپنے کلچر کے بارے میں میری پوسٹس سب سے زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ لوگ اپنے ماضی سے محبت کرتے ہیں۔ اپنے آباو اجداد کے رسم و رواج کے بارے میں تحریریں بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔
بیرون ملک رہنے والے دوست میری پوسٹس کو گھر سے آیا ہوا خط سمجھ کر بہت پیار سے پڑھتے ہیں۔
اکثر لوگ میرے انداز تحریرکی تعریف کرتے ہیں۔ یہ ان کی محبت ہے، ورنہ مجھے تو اپنے انداز تحریر میں کوئی انوکھی بات نظر نہیں آتی۔
ہر دا بھلا، سب دی خیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔

6 جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جولائی اگست کی بارشوں کو ساون یا ساونی کی بارشیں کہا جاتا تھا۔ بارانی علاقوں میں انہی بارشوں کی نمی (وتر) اکتوبر نومبر میں گندم کی کاشت ممکن بناتی تھی۔
بارشوں سے پہلے ہل چلا کر زمین کو نرم کر دیتے تھے تاکہ زمین بارش کا پانی آسانی سے جذب کر لے۔ اس پانی کی نمی کو دوتین ماہ تک محفوظ رکھنے کے لیئے لکڑی کا پھلہ (تختہ) ہل کی طرح بیلوں کے پیچھے باندھ کر زمین پر پھیر دیتے تھے جس سے زمین کی سطح ہموار ہوجاتی اور اس سطح کے نیچے نمی محفوظ ہو جاتی تھی۔
جولائی اگست میں دن یا رات جس وقت بھی بارش شروع ہوتی ہمارے داودخیل کے کسان کہیاں اور ہوولے(مٹی کھودنے کے اوزار) کندھوں پر رکھ کر فورا تھل کا رخ کرتے۔بارش زیادہ تیز ہوتی تو پانی کی بوچھاڑ سے بچنے کے لیئے خالی بوری سے برساتی کا کام لیتے تھے۔
ریلوے لائین کے پار کا علاقہ تھل کہلاتا تھا۔ اس دوتین میل لمبے چوڑے علاقے کی زمینوں کو بھڑکی نام کا بہت بڑا پہاڑی برساتی نالہ سیراب کرتا تھا۔ بارش کے دوران اس نالے کا بپھرا ہوا پانی گولی کی طرح تیزی سے پہاڑ کے دامن سے نیچے اترتا تو کسان اس کا رخ موڑ کر اپنی اپنی زمینوں کو سیراب کر لیتے تھے۔
گندم ہی لوگوں کی خوراک بھی تھی اور سرمایہ بھی۔ نقد رقم کی بجائے گندم کے عوض ضرورت کی چیزیں خریدی جاتی تھیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ زندگی کا دارومدار انہی ساون کی بارشوں پر ہوا کرتا تھا۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے
  • Muhammad Waseem Sabtain

    ماشاءالہ ۔
    سرجی ! پہلے کی ساون بھادوں کی بارشوں کا مزہ بھی اور تھا ۔بارانی علاقوں کے کسان کہا کہتے تھے کہ اس موسم میں بارش “سونے دیاں کنڑیاں” ھوتی ہیں ۔بارش ھونے پہ زمین کو وتر ملتا اور پھر اگست کے آخر اور وسط ستمبر میں گندم کی کاشت مکمل کرلی جاتی تھی ۔کئی ایکڑ زمین کو چوپائیوں کی مدد سے ہل جوت کر گندم کاشت کرنا بہت مشقت طلب کام ھوتا تھا ۔سادہ اور دیسی سا,کھانا کھا کر سارا دن ہل چلانا آسان نہیں ہوتا تھا ۔ھمارے بزرگ بہت محنتی اور جفاکش تھے ۔اور اللہ تبارک وتعالیٰ انہیں ان کی محنت کا بھرہور پھل عطا فرماتے تھے ۔
    ایک ملی نغمے کے کیا خوبصورت بول ہیں ۔۔۔
    میرے دہقاں یونہی ہل چلاتے رہیں ۔
    میری مٹی سے سونا اُگاتے رہیں ۔
    آجکل تو ٹریکٹر اور زرعی مشینوں نے یہ کام بہت آسان بنادیا ھے ۔
    ساون کی بارش شاعروں کے کلام میں بھی بہت نمایاں رہی ھے ۔
    ابن انشاء نے کہا ۔۔
    ساون بھادوں ساٹھ ہی دن ہیں پھر وہ رُت کی بات کہاں
    اپنے اشک مسلسل برسیں اپنی سی برسات کہاں ۔
    لالہ جی کا ساون اور بارش کے موضوع پہ بہت سے گیت بہت مشہور ہوۓ ۔
    افضل عاجز صاحب کا لکھا ساونڑ کنِڑ مِنڑ لائی ۔
    محمود احمد ہاشمی کا لکھا بارشاں دے موسماں وچ پئے گئے وچھوڑے ۔۔
    بشیر چوہدری کی لکھی غزل ” اب کے برس یوں ساون برسا ۔۔
    فنا بلند شہری کی غزل ۔۔اب دیکھ کے جی گھبراتا ھے ساون کی سہانی راتوں کو ۔
    آپ کے لکھے ایک خوبصورت گیت کے بول ۔۔
    مینہہ پیاء زوراں دا,وسدا جگ پیاء رل مل کے وسدا
    میکوں کلیاں ڈیکھ ہسدا حال تیڈا کوئی نہ ڈسدا
    بول غیراں دے میکوں تڑفا گئے ۔۔۔۔آ تیڈے آونڑ دے ویلے آگئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔

٧  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خواجہ صاحب۔۔۔۔۔
بعض لوگوں سے چند لمحوں کی ملاقات ایک حسین یاد بن کر دل میں اتر جاتی ہے۔ ذرا سی دیر کا یہ تعلق بار بار یاد آتا رہتا ہے۔
میں نے ایف اے (انٹرمیڈیٹ) کا امتحان دینا تھا۔ ہمارے زمانے میں شہریت Civics کا بھی پریکٹیکل ہوتا تھا۔ اس کے لیئے کسی عدالت میں ایک دن کی کارروائی کا مشاہدہ کر کے رپورٹ تیار کرنی پڑتی تھی۔
میں نے اس کام کی اجازت کے لیئے درخواست ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی خدمت میں پیش کی تو انہوں نے درخواست پر لکھ دیا
May watch the proceedings in any open court.
(کسی بھی کھلی عدالت کی کارروائی دیکھنے کی اجازت ہے).
میں یہ درخواست لے کر مجسٹریٹ درجہ اول خواجہ محمد اقبال کی عدالت میں پہنچا۔ میری درخواست دیکھتے ہی خواجہ صاحب نے ملازم سے کہا ان کے لیئے کرسی لے آو۔
مجھے اپنے ساتھ بٹھا کر خواجہ صاحب نے کہا ” بیٹا، آپ سٹوڈنٹ ہیں۔ آپ کی آسانی کے لیئے میں ایک نئے کیس کی سماعت شروع کرتا ہوں تاکہ آپ عدالتی طریقہ کار کو سمجھ سکیں۔
موچھ کے علاقے کا ناجائز اسلحہ کا کیس تھا۔ اس کیس میں میانوالی کے سینیئر وکیل مرحوم میاں دوست محمد صاحب پیش ہوئے۔ میاں صاحب وکالت میں آنے سے کچھ عرصہ پہلے داودخیل سکول میں ہمارے سائنس ٹیچر رہ چکے تھے۔ مجھے جج کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر مسکرا دیئے۔ خواجہ صاحب نے کہا میاں صاحب لگتا ہے آپ ان کو جانتے ہیں۔ میں نے بتایا کہ میاں صاحب میرے سابق ٹیچر ہیں ۔
کیس کی کارروائی شروع ہوئی تو میں یہ کارروائی لکھنے لگا۔ خواجہ صاحب نے کہا ،” بیٹا ، آپ کو کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ میرا ریڈر تمام کارروائی لکھ رہا ہے۔ سماعت ختم ہونے کے بعد آپ کو کارروائی کی کاپی مل جائے گی۔ اس کے مطابق آپ اپنی رپورٹ تیار کر سکتے ہیں ۔ فی الحال آپ صرف عدالت کا طریقہ کار دیکھ سن کر سمجھنے کی کوشش کریں۔
یوں خواجہ صاحب نے میرا کام آسان کر دیا۔ اس فرشتہ سیرت انسان کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ جب بھی یاد آتے ہیں ان کے لیئے دل سے دعا نکلتی ہے۔
کچھ عرصہ بعد خواجہ صاحب گجرات ٹرانسفر ہوگئے۔ ایک دن اخبار میں پڑھا کہ کسی بدبخت انسان نے انہیں قتل کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔

٨ جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کچھ ذکر اپنی زبان کا۔
ضلع میانوالی کی زبان ورائیٹی کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔۔
ضلع کے شمال مغربی علاقے کی زبان پشتو ہے۔ اس لیئے اس علاقے کو پشتون بیلٹ کہتے ہیں۔ عیسی خیل سے میانوالی شہر تک کی زبان سرائیکی کی میانوالوی قسم کہلا سکتی ہے۔یہ زبان سرائیکی، ہندکو، پشتو اور پوٹھوہاری کا مرکب ہے۔
کندیاں، پپلاں ، واں بھچراں کے علاقے کی زبان جنوبی پنجاب کی سرائیکی کے قریب تر ہے۔ واں بھچراں، شادیہ کی زبان میں خوشاب تھل کی زبان کے اثرات بھی نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر لہجے میں۔
پہاڑ کے پار چکڑالہ کے علاقے کی زبان ضلع اٹک اور چکوال کی زبان سے قریب تر ہے۔ اسے عام طور پر اتراہدی(مشرقی علاقے کی زبان) کہتے ہیں۔ یہ زبان پوٹھوہاری، ہندکو اور سرائیکی کا مرکب ہے ۔
زبان کی اس وسیع تر تقسیم کے علاوہ مقامی طور پر ہر علاقے میں بعض الفاظ کی نوعیت الگ نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر لفظ ” مجھے” کی ہمارے ہاں یہ شکلیں رائج ہیں۔
عیسی خیل ۔۔۔۔۔ میکوں
کمر مشانی ، مندہ خیل تا داودخیل۔۔۔۔۔ میکو
پائی خیل ۔۔۔۔۔۔۔ میں کو
میانوالی شہر اور نواح ۔۔۔۔۔ مینوں
واں بھچراں، شادیہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔ مئن
چکڑالہ اور نواح ۔۔۔۔۔۔۔ ماں
زبان کی یہ ورائیٹی بھی میانوالی کے کلچر کا حسن ہے۔
 کالاباغ کی زبان مکھڈ کے علاقے کی زبان پشتو اور میانوالی کی زبان کا مرکب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔

٩ جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری زبان کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ بعض صورتوں میں صرف ایک لفظ مکمل فقرے کا کام دیتا ہے۔ مثلا “میں نے کہا” کی بجائے “آکھم” کہتے ہیں ۔ اسی طرح لکھم، پڑھم، سنڑم وغیرہ بھی بولتے ہیں۔
یعنی صرف “م” لگانے سے ایک لفظ مکمل جملہ بن جاتا ہے۔
اردو اور انگریزی میں ایسا نہیں ہوتا۔ اردو میں آکھم کی بجائے میں نے کہا ،اور انگلش میں I said بولتے ہیں۔ یعنی اردو میں 3 لفظ ، انگلش میں 2 لفظ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک لفظ میں مکمل جملے کا مفہوم فارسی میں ادا کیا جا سکتا ہے۔ مثلا میں نے کہا کے لیئے فارسی میں “گفتم” بولتے ہیں۔ میں نے لکھا کے لییے نوشتم، میں نے سنا کے لییے شنیدم وغیرہ وغیرہ۔
فارسی اور ہماری زبان کی یہ رشتہ داری پتہ نہیں کب اور کیسے بنی۔ ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایران کی راہ سے وارد ہونے والے قبائل فارسی زبان کی کچھ روایات ساتھ لائے ہوں ۔۔۔ واللہ اعلم۔
زبان کا ذکر چھڑ ہی گیا ہے تو اب یہ مزید دو چار دن چلنا چاہیئے ۔ کیا خیال ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔

١٠  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کوئی بھی زبان اپنی ابتدائی شکل میں موجود نہیں۔ مختلف علاقوں سے لوگوں کے میل جول اور رابطوں کے ذریعے زبانوں کے درمیان الفاظ کا لین دین عرصہ دراز سے جاری ہے۔
ہماری زبان میں پنجابی، پشتو، سندھی اور بلوچی کے بہت سے الفاظ شامل ہو چکے ہیں۔ انٹرنیٹ کی وساطت سے انگریزی کے بے شمار الفاظ کی آمد مسلسل جاری ہے ۔
فارسی کا اثر و نفوذ مغلیہ دور میں بہت زیادہ ہوا کہ سرکاری زبان فارسی تھی۔
آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ روسی زبان کے کئی الفاظ بھی ہماری زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کا ایک نام زرینہ ہمارے ہاں رائج ہے۔ ہمارے ارد گرد کئی زرینہ بیگم اور زرینہ خانم نام کی خواتین موجود ہیں۔ لفظ زرینہ روسی زبان کا لفظ ہے۔ روس میں بادشاہ کو زار Czar کہتے تھے اور ملکہ کو زارینہ Czarina ۔۔ زارینہ ہمارے ہاں زرینہ کی شکل میں رائج ہو گیا اگرچہ بچارے مردوں کو زار کہلانا نصیب نہ ہوا۔
ہمارے محترم ساتھی ظفراقبال خان ایڈووکیٹ بتاتے ہیں کہ وہ کچھ عرصہ قبل روس اور یوکرائن گئے تھے۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ چینک (چائے دانی) اور بازار روسی زبان کے لفظ ہیں۔
آج سے 50 / 60 سال پہلے ہمارے محلے میں پشتیانے اور سلانہہ نام کی دو بزرگ خواتین ہوا کرتی تھیں۔ ہم انہیں ماسی پشتیانے اور ماسی سلانہہ کہتے تھے۔ ان ناموں کے معنی تو معلوم نہیں تاہم یہ دونوں نام پشتو زبان کے لگتے ہیں۔
قبیلہ بہرام خیل کی ایک بزرگ خاتون ماسی زرمورے ہوا کرتی تھیں۔ لفظ زرمورے غالبا روسی زبان کا لفظ ہے جو پشتو کے راستے ہمارے ہاں وارد ہوا ۔۔۔۔۔۔ واللہ اعلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔

١١  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زبانوں کا مطالعہ اور تجزیہ میرا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ اس شوق میں اردو ، انگریزی، فارسی ادب کا بے تحاشا مطالعہ کیا جس سے بحمداللہ ان تین زبانوں میں وسیع و عریض دسترس حاصل ہوگئی۔ عربی کی تھوڑی بہت سمجھ قرآن حکیم کی تلاوت سے نصیب ہوئی۔ پنجابی بول تو لیتا ہوں لیکن اس پر اردو، انگریزی، فارسی جتنا عبور حاصل نہیں کر سکا،کیونکہ پنجابی ادب پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملا۔
ایک زبان جسے خواہش کے باوجود نہ سیکھ سکا وہ ہے پشتو، یہ دکھ ہمیشہ رہے گا۔ پشتو سیکھنے کی سہولت گھر میں میسر تھی۔ ہمارے بابا جی اپنی زبان کی طرح پشتو بھی بڑی روانی سے بول لیتے تھے۔ کسی پشتو بولنے والے سے اردو یا میانوالی کی زبان میں بات کرتے بابا جی کو کبھی نہ دیکھا۔ اتنی روانی سے بولتے تھے کہ پشتون انہیں پشتون سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر ضلع میانوالی کے پشتون بیلٹ کے بہت سے بزرگ بابا جی کے پکے دوست بن گئے تھے۔
میں نے جوانی اردو ، انگریزی ادب پڑھنے میں صرف کر دی۔ پشتو سیکھنے کا نہ کبھی خیال آیا، نہ وقت ملا۔ پشتو سیکھنے کو دل چاہا تو بابا جی اس دنیا میں موجود نہ تھے۔ حسرت دل میں ہی رہ گئی۔
گورنمنٹ کالج میانوالی میں اپنے ساتھی پروفیسر شاہ ولی خان خٹک سے کہا مجھے
پشتو سکھا دیں، بہت خوش ہوئے ، مگر مسئلہ یہ بن گیا کہ جب میں فارغ ہوتا تو وہ کلاس میں ہوتے، اور جب وہ فارغ ہوتے تو میں کلاس میں۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت
دکھ بہر حال رہے گا۔ کاش میں پشتو سیکھ کر کسی دن بابا جی کی قبر پہ جا کر ان سےان کی محبوب زبان پشتو میں بات کر سکتا۔ کتنے خوش ہوتے میرے بابا۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔۔۔

١٢ جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریزی کو جتنی گالیاں جی چاہے دے لیں، اس سے جان چھڑانا ممکن نہیں۔ روز مرہ ضرورت کی بہت سی چیزوں کے نام انگریزی میں ہیں ۔ مثال کے طور پر
کار، بس ، ٹرک، ڈرایئور، کلینر، کنڈکٹر ، ٹکٹ، انجن، بریک، سپیڈ، پٹرول،
ڈاکٹر، ہسپتال، نرس، انجیکشن ، آپریشن، وارڈ، ایمرجینسی،
کوٹ، جیکٹ، جرسی، سویٹر، بٹن،
سکول ، کالج، ٹیچر، کلاس،
پین ، پنسل، کاپی، پیپر، بیگ،
فون، بیلنس، لوڈ، فیس بک، کیمرا، وغیرہ وغیرہ، سینکڑوں الفاظ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ انٹرنیٹ کی وساطت سے درجنوں الفاظ آئے دن ہماری زبان میں شامل ہو رہے ہیں۔
تیس پینتیس سال پہلے انگریزی اخبار پاکستان ٹائیمز میں اپنے ایک کالم میں میں نے کہا تھا کہ انگریزی کے تقریبا 350 الفاظ پاکستانی زبانوں (اردو، پنجابی، سرائیکی، پشتو، سندھی اور بلوچی) میں شامل ہو چکے ہیں۔ اب تو ان الفاظ کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہو گی ۔
نورجہاں صاحبہ کے ایک گیت کے بول یاد آرہے ہیں۔۔۔۔۔۔
نہ چھڑا سکو گے دامن۔۔۔۔۔۔۔۔
انگریزی سے دامن تو ہم چھڑا نہیں سکتے، کیوں نہ کھلے دل سے انگریزی کی اہمیت کو تسلیم کر لیں کہ انگریزی نے ہماری زبان کو بہت کچھ دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔

١٣  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پکچر ۔۔۔۔۔۔ انعام اللہ خان، میں اور نعیم اللہ خان
کل ڈاکٹر حنیف نیازی کی 13 جولائی 2017 کی re-post نظر سے گذری۔ یہ پوسٹ ڈاکٹر صاحب نےآج سے 6 سال قبل میرے بارے میں لکھی تھی۔ تقریبا 500 کمنٹس پر سرسری نظر ڈالتے ہوئے تین نام دیکھ کر آنکھیں بھر آئیں۔ پیار بھرے کمنٹس کرنے والے یہ تینوں مہربان اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔
ان میں سے ایک کمنٹ داودخیل کے انعام اللہ خان کا تھا۔ جب میں گورنمنٹ ہائی سکول داودخیل میں انگلش ٹیچر تھا، انعام اللہ خان اس دور میں میرے سٹوڈنٹ رہے۔ وہ قبیلہ امیرے خیل کے چشم و چراغ تھے۔ مجھ سے ان کی محبت عقیدت کی حدوں کو چھوتی تھی۔ جب کبھی میں گھر داودخیل جاتا اصرار کر کے میرے لیئے پر تکلف دعوت کا اہتمام کرتے تھے۔ ایک دفعہ میرے گھر میں کچھ تعمیراتی کام ہو رہا تھا۔ انعام اللہ خان کو پتہ چلا تو مستریوں، مزدوروں اور اہل خانہ کے لیئے چکن کی دیگ، بہت سی روٹیاں اور حلوہ بھجوا دیا۔
انعام اللہ خان کو دیکھ کر ان کے چھوٹے بھائی نعیم اللہ خان بھی میرے بہت قریب آگئے۔ نعیم اللہ خان بہت اچھے انگلش ٹیچر تھے۔ مجھ سے ملنے کبھی خالی ہاتھ نہ آتے، فروٹ، مٹھائی یا کوئی اور گفٹ لے آتے۔ کئی بار کہا، یار اتنا تکلف نہ کیا کرو۔ ہنس کر کہتے سر، خالی ہاتھ آنے کو دل نہیں مانتا۔
افسوس کہ نعیم اللہ خان بھی بہت جلد اس دنیا سے رخصت ہو کر عدم آباد جا بسے۔ ان دو سراپا محبت بھائیوں کی موت کا زخم بہت گہرا ہے۔ دونوں میری روزانہ دعاوں میں شامل رہتے ہیں۔۔
ڈاکٹر حنیف نیازی کی پوسٹ پر دوسرا کمنٹ ہمارے جگر ناصر خان (ناصر فوٹو سٹوڈیو) کا ہے۔ ناصر خان کا مجھ سے پیار بھی وکھری ٹائیپ کا تھا۔ جب کبھی میں ہاتھ لگتا میری دوچار تصویریں بنا لیتے تھے۔ یہ دنیا چھوڑنے سے کچھ دن قبل مجھے گھر بلا کر اپنے باغیچے میں میری بہت سی پکچرز بنائی تھیں ۔ ناصر صرف فوٹو گرافر ہی نہیں، زبردست آرٹسٹ بھی تھے۔ وہ جو فاروق روکھڑی صاحب نے کہا تھا۔۔۔
ایہو جیا رنگ بھر بولے تصویر وے
ناصر کی بنائی ہوئی تصویریں بولتی ہیں۔ فاروق روکھڑی صاحب نے تو رنگ بھرنے کی بات کی تھی، ناصر کی بنائی ہوئی بلیک اینڈ وائیٹ تصویریں بھی بولتی ہیں۔ اللہ جانے کیا جادو تھا اس شخص کے ہاتھ میں ۔ ناصر کے ہاتھ کی بنی ہوئی میری پکچرز میرا بہت قیمتی سرمایہ ہیں ۔
ڈاکٹر حنیف نیازی کی پوسٹ پر تیسرا کمنٹ میانوالی کے درویش صفت بزرگ شاعر ، نثر نگار اور صحافی نذیر درویش کا ہے۔ نذیر درویش بھی میرے بہت مخلص دوست تھے۔ پڑھنے لکھنے کے کاموں میں مجھ سے مشورہ لینے میرے ہاں آیا کرتے تھے۔ میانوالی کے مردم خیز قبیلہ پنوں خیل کی تاریخ نذیر درویش کا آخری علمی کارنامہ تھا۔ اس کتاب کا تعارف مجھ سے لکھوایا تھا۔
جن لوگوں کا ذکر ہوا وہ تو اب اس دنیا میں موجود نہیں، مگر فیس بک پر ان کے لفظ اور تصویریں ان کی یاد دلاتی رہتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ منورعلی ملک۔۔۔۔۔۔
پکچر ۔۔۔۔۔۔ انعام اللہ خان، میں اور نعیم اللہ خان

١٤ جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“غلط پارکنگ” ڈاکٹر عزیز فیصل کے مزاحیہ کلام کا دوسرا مجموعہ ہے۔ پہلا مجموعہ “ھاسا خاصا” ایک آدھ سال پہلے شائع ہوا تھا۔
ڈاکٹر عزیز فیصل گورنمنٹ کالج میانوالی میں ہمارے سٹوڈنٹ رہے۔ بہت سیدھے سادے بھولے بھالے سنجیدہ، مسکین سے سٹوڈنٹ تھے۔ اس وقت تو انہیں کبھی مسکراتے تک نہ دیکھا۔ اب پتہ چلا کہ سادگی، بھولپن، سنجیدگی اور مسکینی صرف میرے سامنے تک محدود تھی۔ کلاس سے باہر یہ خاصے زندہ دل، شریر اور ہنسنے ہنسانے والے نارمل نوجوان تھے۔
ڈاکٹر عزیز فیصل کا زیر نظر شعری مجموعہ اس لحاظ سے مزاحیہ اردو شاعری میں منفرد ہے کہ اس میں ڈاکٹر صاحب نے روایتی مزاحیہ شاعری کے علاوہ طویل آزاد مزاحیہ نظم کا کامیاب تجربہ کرکے مزاحیہ شاعری میں ایک نئی روایت برپا کی ہے۔
“عشق انداز” کے عنوان سے تقریبا 70 صفحے کی یہ رواں دواں نظم ایک ہوش ربا داستان ہے۔ عزیز فیصل کہتے ہیں ایک دن میں نے اپنی تصویر کے ساتھ اپنی ایک شاہکار غزل اور ایک شوخ و شنگ الھڑ مٹیار کی تصویر کے ساتھ ایک بے وزن بکواس سی غزل فیس بُک پہ لگا دی۔
شاہکار غزل کو تو صرف 2 لائیکس نصیب ہوئیں، لیکن الھڑ مٹیار کی پکچر والی بکواس غزل کو 2 گھنٹے میں 970 مردانہ لائیکس ملیں، بے شمار ٹھرکی کمنٹس سونے پر سہاگہ تھے۔ زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ افراد نے غزل کی والہانہ تعریف میں
کاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجہ نکال کر
غزل، بلکہ شاعرہ کے ان 21 پرستاروں میں جوان ہی نہیں اچھے خاصے قبر رسیدہ بزرگ بھی ہیں۔ پلمبر سے لے کر تھانیدار تک ہر نوع کی شخصیت غزل کی تعریف کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ حقیر خدمات ان صاحبہ کی خدمت میں پیش کرتی ہے۔
تھانیدار صاحب کہتے ہیں ۔۔۔۔۔
جس ظالم نے آپ کے دل کا شیشہ توڑا
جس نے پیار کی پگڈنڈی پر آپ کو تنہا چھوڑا
ایسے بستہ ب کے غنڈے اور مچھٹنڈے دل پھینکے پر
آپ کہو تو
توڑنے پھوڑنے اور فراڈ کا پرچہ کاٹا جا سکتا ہے،
جعلی پلس مقابلے میں شہزادی جی،
اس کم بخت سے آپ کی جان چھڑا سکتا ہوں
ایک بینک منیجر صاحب فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکم کرو تو
بینک میں شہزادی کے نام کا کھاتہ فورا کھل سکتا ہے،
پندرہ لاکھ کا ایزی لون بھی دس منٹوں میں مل جائے گا
ان 21 شرفاء میں آخری صاحب ایک سکول کے پرنسپل ہیں۔ کتاب کے تعارف میں ڈاکٹر وحید احمد صاحب نے بجا فرمایا کہ یہ خوداحتسابی اور شاعرانہ دیانت داری کی ایک عمدہ مثال ہے۔
“غلط پارکنگ” لسانی حساب سے اردو، پنجابی، سرائیکی، فارسی اور انگریزی کے الفاظ کی نہایت لذیذ فروٹ چاٹ ہے۔
ڈاکٹر صاحب خبردار ہوں کہ گھر میں یہ کتاب رکھنا آپ کی پہلی اور شاید آخری غلط پارکنگ ثابت ہو۔ سمجھانا ہمارا فرض ہے، نہ مانیں تو وہ جو بسوں کے ٹکٹ پر لکھا ہوتا ہے
سواری اپنے سامان کی خود ذمہ دار ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔

١٦  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے فون کی پکچر گیلری میں ایسےکئی دوستوں کی پکچرز موجود ہیں جو اب اس دنیا میں موجود نہیں۔ ان میں سے دوچار چہرے ایسے ہیں جنہیں دیکھ کر دل آگے جانے سے منع کر دیتا ہے۔ نگاہیں وہیں رک جاتی ہیں۔
ان میں سے ایک پکچر اپنے جگر حاجی محمد اسلم خان غلبلی کی ہے۔ حاجی صاحب گورنمنٹ کالج میانوالی میں لائبریرین تھے۔ اللہ جانے کیسا دلوں کا رشتہ تھا ہمارے درمیان جسے موت بھی نہیں توڑ سکی۔
حاجی صاحب با اصول انسان تھے لیکن اپنے اصولوں کو بھی ہماری دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیتےتھے۔ جب میں کسی بات پر ضد کرتا تو ہنس کر کہتے ٹھیک اے بھائی جنجیں تیڈی مرضی۔ ڈاھڈا جو ہیں۔
یہ مہربانی صرف میرے لیئے مخصوص تھی ورنہ کسی کی کیا مجال کہ حاجی صاحب کی مرضی کے خلاف کوئی بات منوا سکے ۔
کالج لائبریری کی کتابیں خریدنے کے لیئے ہر سال لاہور جاتے تو انگریزی کی کتابیں منتخب کرنے کے لیئے مجھے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک دن کہنے لگے یار ایک چٹھی آئی ہے محکمہ تعلیم کی ، وہ کہتے ہیں ناول اور افسانوں کی کتابوں کی بجائے معلومات عامہ کی کتابیں خریدی جائیں۔
میں نے کہا وہ کتابیں پڑھے گا کون ؟ میں تو جو کتابیں خریدتا ہوں پڑھتا بھی ہوں۔ میرے علاوہ انگریزی ادب کے دلدادہ سرور خان بھی ہیں ، بعض بچے بھی انگریزی ادب پڑھنا چاہتے ہیں ۔
حاجی صاحب کہنے لگے بات تو ٹھیک ہے، مگر یار وہ محکمے کی چٹھی۔۔۔۔۔۔
میں نے کہا چٹھی کو گولی ماریں میں تو اپنی پسند کی کتابیں لوں گا۔
ہنس کر بولے ٹھیک اے بھائی، جنجیں تیڈی مرضی، ڈاھڈا جو ہیں۔
حاجی صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا کہاں سے لائیں کہ تم سا کہیں جسے
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے

بزم کوثر نیازی میانوالی

اللہ تعالیٰ اسلم خان مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔ اچھے انسان تھے۔ گورنمنٹ کالج میانوالی میں پڑھائی کے دوران چار سال یعنی 1988ء تک ان سے روزانہ کی بنیاد پر سلام دعا ہوتی رہی تھی۔ کتابوں کی الماریوں میں ہمارے “ہتھ گولے” صبر سے برداشت کرتے۔ روزانہ ایک کتاب اشو کرانا میرا معمول تھا۔ انٹر کے دوران لائبریری کے رجسٹر میں میرے نام کا صفحہ بھر گیا تھا اس لیے انھیں وہاں اضافی صفحات چسپاں کرنا پڑے تھے لیکن بی اے میں داخلے کے وقت انھوں نے میرے نام کے سامنے پہلے سے ہی اضافی صفحات چھوڑ دیے تھے۔ اضافی صفحات چھوڑتے وقت منہ سے تو کچھ نہ کہا لیکن عینک کے اوپر سے میری طرف دیکھ کر مسکرائے ضرور تھے۔ میں کافی دیر تک اس مسکراہٹ کو معنی دینے کی کوشش کرتا رہا تھا۔ پہلے سمجھا کہ طنزیہ مسکراہٹ تھی لیکن پھر خیال آیا کہ جیسے چیلنج دے رہے ہوں کہ “ہن صفحے مکا کے ڈکھا”۔
کالج میں زیادہ وقت لائبریری میں گزرتا تھا کیونکہ کتاب خاموش استاد ہوتی ہے ۔ اس کی کوئی بات سمجھ میں نہ بھی آئے تو ناراضگی کا اظہار نہیں کرتی بلکہ بعینہٖ اسی طرح سے، لہجے کے تاثرات بدلے بغیر، اپنی بات دہرانے کے لیے تیار رہتی ہے۔
ارادہ ہے کہ کسی وقت دوبارہ سے اس لائبریری میں جاؤں اور وہاں کچھ کتابیں ڈونیٹ کروں۔
اللہ تعالیٰ اسلم خان مرحوم کی مغفرت فرمائے اور کالج کے ہمارے اساتذہ کو سلامت رکھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔

١٧  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محرم کا آغاز ہونے والا ہے۔ اس ماہ میں عام طور پر سال بھر سوئے ہوئے عقائد کے اختلافات کو جگا اور بھڑکا کر شیعہ اور سنی بھائیوں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں تو نوبت خونریزی تک جا پہنچتی ہے۔ بحمداللہ تعالی ہمارا ضلع میانوالی مذہبی لحاظ سے خاصا پر امن ہے ۔
اس بار الیکشن کی آمد کے باعث سیاسی اختلافات پہلے ہی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ خیال یہ رکھنا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت شیعہ سنی اختلافات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لییے استعمال نہ کر سکے ۔ ورنہ ایسی آگ بھڑک اٹھے گی جسے بجھانا بہت مشکل ہوگا۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ہندو ہمارے علاقے میں صدیوں تک ہمارے ساتھ مل جل کر رہے مگر ان سے مذہبی اختلافات پر کبھی کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہوا۔ حالانکہ ہندو تو نہ خدا کو مانتے تھے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو۔
ہندو تو چلے گئے، پھر اپنے ہی بھائیوں سے عقائد کے اختلافات پر لڑائی جھگڑا کیوں ؟؟؟؟؟؟
پر امن بقائے باہمی کا سنہری اصول یہ ہے کہ اپنے عقائد کو چھوڑو نہیں اور دوسروں کے عقائد کو چھیڑو نہیں۔
محرم ، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ محرم کا احترام کیجیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔

١٨  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل کی پوسٹ پر ایک صاحب نے فرقہ وارانہ تعصب سے لبریز نفرت انگیز کمنٹ دیا جو میں نے فورا delete کر دیا کہ میری پوسٹ میدان جنگ نہ بن جائے۔
ان صاحب نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ میں نے تو پوسٹ میں صبر ، تحمل اور رواداری کی بات کی تھی۔
سیاست اور مذہب کے اختلافی معاملات سے اپنے قلم کو پاک رکھنا چاہتا ہوں۔ اس لیئے میرا موضوع کلچر رہتا ہے۔ جو کچھ بھی لکھتا ہوں کسی کی طرف داری یا مخالفت کے لییے نہیں لکھتا۔ میں ہر فرقے کے مقدسات ، محرمات اور محترم شخصیات کا احترام کرتا ہوں۔ اس لیئے گذارش ہے کہ ازراہ کرم میری پوسٹس پر دل آزار اور شر انگیز کمنٹس دینے احتراز کیا جائے۔
محرم کے دنوں میں اپنے علاقے میں محرم کے کلچر کی باتیں ہوں گی ۔ پہلے بھی ہر سال رمضان المبارک ، عیدین ، محرم اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بارے میں لکھتا رہتا ہوں۔ یہ سلسلہ ان شآءاللہ چلتا رہے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔

١٩   جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ننھا عبداللہ بن عمر روتا ہوا آیا اور کہنے لگا ” ابو، حسن اور حسین مجھ سے کہتے ہیں تم ہمارے غلام ہو”۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا ” بیٹا، شہزادے بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ ہم ان کے غلام ہی ہیں ۔ جاو ، یہ بات ان سے لکھوا کر لے آو اور جب میں مروں تو یہ تحریر میرے کفن میں رکھ دینا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا ۔

٢٠ جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے بچپن کے دور میں داودخیل میں محرم کی عزاداری کے تین مرکز ہوا کرتے تھے۔ محلہ علاول خیل میں سید گل عباس شاہ کی چونک، محلہ داوخیل میں شاہ غلام محمد کی چونک اور محلہ شریف خیل میں غلام عباس شاہ کی چونک۔ کچھ عرصہ بعد قبیلہ شریف خیل کے ایوب خان ٹھیکیدار نے بھی ایک بہت بڑی امام بارگاہ بنوادی۔
داودخیل کے سادات غریب تھے۔ اس لیئے ذوالجناح اور جلوس کا اہتمام نہیں کر سکتے تھے۔ تمام تر عزاداری چونک کی چاردیواری کے اندر ہی ہوتی تھی۔ ذاکر بھی مقامی ہوتے تھے۔ گل عباس شاہ کی چونک پر انہی کے خاندان کے سید جعفر شاہ، شاہ غلام محمد کی چونک پر قبیلہ داوخیل کے غلام سرور خان اور غلام عباس شاہ کی چونک پر غلام مرتضی خان المعروف مرتا ملنگ محرم کی مجالس سے خطاب کیا کرتے تھے۔ قبیلہ امیرے خیل کے عبدالرزاق خان بھی بہت اچھے ذاکر تھے۔ وہ محرم کی مجالس کچے کے علاقے (بخارا، کوٹ بیلیاں، اترا کلاں وغیرہ) میں پڑھا کرتے تھے۔
گل عباس شاہ کی چونک پر مجالس عزا کے ذاکر سید جعفر شاہ بہت حسین و جمیل اور سریلے نوجوان تھے۔ ان کا درد سے لبریز خطاب بہت رقت انگیز ہوتا تھا ۔۔۔ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو کر جوانی ہی میں اس دنیا سے رُخصت ہو گئے۔
شاہ غلام محمد کی چونک پر عشرہ محرم کے دوران قبیلہ داوخیل کے غلام سرور خان مجالس عزا سے خطاب کیا کرتے تھے۔ غلام سرور خان ایک ٹانگ سے معذور تھے۔ بیساکھی کے سہارے چلتے پھرتے تھے۔ ان کی آواز گھن گرج والی اور انداز خطابت پر جوش تھا۔ کسی معاوضے کے بغیر صرف حب اہل بیت کے اظہار کی خاطر مجالس پڑھتے تھے۔ ذریعہ معاش اپنے محلے میں چھوٹی سی کریانے کی دکان تھی۔
غلام عباس شاہ کے ہاں محرم کی مجالس کے ذاکر غلام مرتضی خان المعروف مرتا ملنگ تھے۔ بہت سریلے اور خوش بیان ذاکر تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رہے نام اللہ کا۔۔۔۔

٢١ جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محرم کی مجالس عزا دوپہر کے قریب منعقد ہوتی تھیں۔ افتتاحیہ خطبہ قرآن حکیم کی چند آیات اور دعائیہ کلمات پر مشتمل ہوتا تھا۔ اس کے بعد فضائل اہل بیت کا بیان پھر اہل بیت کا قصیدہ ترنم سے پڑھا جاتا تھا ۔
قصیدہ خوانی کے بعد سانحہ کربلا کے واقعات اور مظلومین کربلا کے مصائب بیان کیے جاتے تھے۔ بیان ذاکروں کی مخصوص سرائیکی زبان میں ہوتا تھا۔ بیان میں موقع محل کے مطابق سرائیکی ڈوہڑے بھی شامل کئے جاتے تھے۔ نثری بیان بھی مخصوص ترنم میں کیا جاتا تھا۔ مصائب کے ذکر کے بعد اجتماعی دعا کی جاتی تھی۔ مجلس کا اختتام نوحہ خوانی اور ماتم پر ہوتا تھا۔
مجالس عزا میں کسی قسم کی فرقہ وارانہ طنز و تنقید بالکل نہیں کی جاتی تھی۔ کوئی اختلافی موضوع نہیں چھیڑا جاتا تھا۔ خطاب صرف واقعات کربلا کے بیان تک محدود ہوتا تھا۔
ہمارے داودخیل میں ایک اچھا رواج یہ تھا کہ اہل سنت بھی بہت عقیدت و احترام سے مجالس عزا میں شریک ہوتے تھے۔ بلکہ آبادی کے تناسب سے اہل سنت شرکاء کی تعداد اہل تشیع سے زیادہ ہوتی تھی۔
سات محرم اور نو محرم کی مجالس عزا رات کو ہوتی تھیں۔ دس محرم کو ظہر کے وقت شہادت امام عالی مقام کا بیان ہوتا تھا۔ اس کے بعد نوحہ خوانی اور ماتم کے ساتھ تعزیوں کو منزل تک پہنچایا جاتا تھا۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے
  • Malik Khurshid Balochi Khel

    ‏3 محرم الحرام سنہ61 ہجری
    28 رجب سنہ 60 ہجری کو جو قافلہ مدینہ سے چلا تھا وہ بلاخر 2 محرم سنہ61 ہجری کو کربلا پہنچ گیا ہے۔
    زمیں سرخ اور آسمان سوگوار ہے، کائنات تھم گئی ہے۔ فرزندِ زہرہؑ کربلا پہنچ چُکے ہیں۔
    اس سے آگے کی منازل سخت ہیں، آپ سب نے مجالس میں سن بھی‏رکھے ہیں، نہ مجھ ناچیز میں لکھنے کی طاقت ہے اور نہ الفاظ۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ حسینؑ ابن علیؑ کا پیغام آفاقی ہے۔ ہر دین، ہر قوم اور ہر نسل کے لئے ہے۔ صبح قیامت تک حسینؑ ابن علیؑ ہر مظلوم کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ حسینؑ اگر یزید کے ظلم کے خلاف نہ اٹھتے توصبحِ قیامت تک
    ‏مظلوم کی طرفداری کرنے والا کوئی نہ ہوتا، کوئی کسی ظالم سے ٹکر لینے کی ہمت نہ کرتا
    حسینؑ کا شاید یہی کمال ہے کے لکھنے بیٹھو تو الفاظ کم، رونے بیٹھو تو آنسو کم اور سوچنے بیٹھو تو حیات کم پڑ جاتی ہے۔ مگر حسینؑ تھا، حسینؑ ہے اور تا صبح محشر تک رہے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔

٢٢  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشرہ محرم کے دوران نیاز کے چاول ہر گھر میں بنتے تھے۔ پشاوری گڑ اور خالص دیسی گھی میں بنے ہوئے یہ چاول بے حد لذیذ ہوتے تھے۔ چاول عام موٹا چاول ہوتا تھا۔ یہ آسانی سے گل جاتا تھا ، اور کھانے میں نہایت ہلکا پھلکا ہوتا تھا۔ جتنا کھا لیں جی نہیں بھرتا تھا ،نہ ہی یہ پیٹ پر بوجھ بنتا تھا۔ اس میں گھی برائے نام ڈالا جاتا تھا۔ کہتے تھے زیادہ گھی ڈالنے سے چاول سخت ہو جاتا ہے۔
ڈھیر امید علی شاہ کے رئیس سادات کی نیاز پورے علاقے میں مشہور و معروف تھی۔ یہ نیاز گڑ اور گھر کے خالص دیسی گھی میں بنا ہوا دودھی والا حلوہ ہوتا تھا۔ سادات کے ملازم چاچا غلام حسین یہ حلوہ بنانے کے سپیشلسٹ تھے۔ ڈیڑھ دو من حلوہ بنتا تھا۔ اس جیسا لذیذ حلوہ پھر کبھی نصیب نہ ہوا۔
اب تو نہ وہ سرخ پشاوری گڑ ہے نہ خالص دیسی گھی۔۔۔۔۔ عام دستیاب گڑ اور گھی سے کوئی بنانا بھی چاہے تو وہ چیز نہیں بن سکتی۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے
  • Kifayat Khan

    گڑ والے چاولوں کو کہتے ہی نیاز والے چاول تھے سب لڑکوں کی جھولیاں ان دنوں گھی سے تر بتر کالی سیاہ ہوتی تھیں چونکہ محرم میں نہانے دھونے اور کپڑے بدلنے کا رواج کم تھا اسلئے پورا محرم میلے کپڑوں میں نیازیں کھانے میں گزار دیا کرتے تھے

    Aslam Niaz

    ڈھوک بھرتھال میں جب تک استاد زاکر حسین شاہ صاحب کا گھر أباد تھا اور سنی شیعہ اتحاد تھا تو ان کے گھر دس محرم کو گڑ اور چاول کی بہت بڑی نیاز بنتی تھی جو چاچا الہ یار اور چاچا سلطان بناتے تھے بہت لزیز ہوتی تھی.استاد جی داؤد خیل شفٹ ہو گۓ ان کی اولاد کنجوس ہو گئ۔بحرحال اب بھی سنی جامع مسجد مینن بہت بڑی نیاز کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن گڑ والی روائت ختم ہو گٔئ ہے
    • Muhammad Waseem Sabtain

      سرجی !!…بلاشبہ آپ نے درست فرمایا ۔
      ڈھیر اُمید علی کے شاعر خورشید حسنین شاہ مرحوم کو اللہ پاک غریق رحمت فرماۓ ۔ ایک بار فون پہ انہوں نے محرم الحرام کی مجالس اور ان دنوں بننے والی نیاز کے بارے میں بتایا تھا کہ جیسا آپ نے لال پشاوری گڑ اور دیسی گھی سے بنے دودھی حلوہ کا ذکر فرمایا ھے ۔
      ھر علاقے میں محرم الحرام میں نیاز بنتی ھے ۔کہیں پلاؤ ۔کہیں دلیم، کہیں حلوہ اور کہیں شربت اور سردائی کی سبیلیں لگتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔

٢٣  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزاداری کے حوالے سے ضلع میانوالی کے سید ریاض حسین شاہ آف موچھ اور مہرشاہ والی تحصیل عیسی خیل کے سید خادم حسین شاہ پاکستان بھر بلکہ دنیا بھر میں معروف و مقبول تھے۔ اپنے زمانے میں ان دو ذاکرین کی شہرت اور مقبولیت لالا عیسی خیلوی سے کم نہ تھی ۔ اس شہرت و مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ان کی کرب سے لبریز آواز تھی۔ یہی خوبی لالا کی شہرت و مقبولیت کا باعث بھی بنی۔ پرسوز آواز بھی اللہ کریم کی خاص عنایت ہے – جس پر بھی یہ عنایت ہو جائے وہ محبوب جہاں بن جاتا ہے۔
سید ریاض حسین شاہ اور خادم حسین شاہ کو بھی اللہ کریم نے اس عنایت سے مالامال کر رکھا تھا۔ ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ لوگوں کو رلا دیتا تھا۔ جن لوگوں نے ان دو ذاکرین کرام کو دیکھا سنا ہو وہی جانتے ہیں کہ ان کے انداز بیان میں کیسا جادو ہوتا تھا۔ آج سے ساٹھ ستر سال پہلے یہی دو نام ملک بھر میں ضلع میانوالی کا تعارف تھے۔

Zakir Syed Riaz Hussain Shah Mochh Shaheed

پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے

Muhammad Nawaz Malik

ریڈیو پاکستان ملتان سے ریاض حسین شاہ آف موچھ کو کافی سنا ہے
البتہ مقبول حسین ڈھکو کا انداز بہت اچھا تھا
  • Alazan Abbas

    ہم الحمدللہ خادم حسین شاہ کو روزانہ سنتے ہیں ان کے بہت شاگرد خاص ہوبہو انہی کی آ واز رکھتے ہیں ہمارے پاس محرم پڑھ رہے ہیں سید ریاض حسین شاہ مہرشاہ والی کبھی فرصت نکال کر ان کو ضرور سنیے گا آ پ کو خادم حسین شاہ نظر آ ئیں گے کوئی لائیو سننا چاہے تو لنک بھیج دوں گا رات 8.15 سے9 بجے تک پڑھتے ہیں

Muhammad Shafqat Rehman

سید ریاض حسین شاہ آف موچھ نہ صرف میانوالی کی پہچان تھے بلکہ عزاداری میں trend setter ہیں، ان کی ریکارڈ شدہ مجالس اور تقاریر آج بھی اُسی احترام اور لگن سے سُنی جاتی ہیں۔ میرے والد صاحب اور شاہ صاحب دوست تھے، میرے آبائی گاوں واقع تحصیل پنڈدادنخان، ضلع جہلم میں انہوں نے ۱۹۷۵ء میں ہمارے گھر ایک مجلس پڑھی تھی، لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں، اور عہدِ حاضر کے ذاکرین کی قابلیت کو اُن سے موازنہ کر کے گریڈنگ کرتے رہتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کریں، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔

٢٤  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس محرم کو پانی کی نیاز بھی محرم کا ایک خاص رواج تھا۔ شربت بنا کر محلے کے بچوں کو پلایا جاتا تھا۔ یہ رواج کربلا میں تین دن کے پیاسے معصوم بچوں کی یاد تازہ کرنے کا ایک طریقہ تھا۔
میری اہلیہ مرحومہ ہر سال یوم عاشور پر یہ اہتمام کیا کرتی تھیں۔ بڑے پیمانے شربت جام شیریں یا روح افزا بنا کر گلی محلے کے بچوں کو پلایا کرتی تھیں۔ یہ اہتمام چاول کی دیگ کے علاوہ تھا۔
کچھ ایسے لوگ بھی جو نیاز کے چاول وغیرہ بنوانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، محرم میں پانی کی سبیل لگا کر ثواب کما لیتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔
پوسٹ پر وزیٹر کے تبصرے

Bahadur Janjua

استاد مکرم ! یادوں کی اس بارات کا بہت شکریہ ۔ آپکی تحریر کا ایک سیک لفظ گزرے وقت کی خوشبو لئے ہوتا ہے خصوصا عاشورہ محرم کے حوالے سے جو سلسلہ آپ نے شروع کرکھا ہے وہ تو نہایت ہی خوبصورت ہے ۔ میں نے بھی آپ سے متاثر ہو کر اس موضوع پر کچھ لکھا ہے جو آپکے گوش گزار کرنے کی جسارت کررہا ہوں
نیا کپڑا زیب تن کرنا تو بہت دور کی بات ہے ، تازہ استری کئے ہوئے کپڑے پہننا ، بالوں کو سنوارنا ، نہانا ، چہرے پر مسکراہٹ لانا ، زور سے ہنسنا ، خضاب لگانا ، شیو کرنا ، عطر اور خوشبو استعمال کرنا یہ سب عشرہ محرم الحرام کے دوران میرے گاؤں کے ہر گھر میں ممنوع تھا ۔ خاتون خانہ کو خواہ مخواہ کپڑے دھونے کی ضرورت ہوتی تو وہ بھی زرا ادھر ادھر دیکھ کر ، دوسروں کی نظروں سے بچ بچا کر یہ فریضہ یوں سرانجام دیتی کہ گھر کے عین وسط میں لگی تار کی بجائے سکھانے کیلئے کپڑے صحن کی کسی چھوٹی دیوار پر ڈال دیئے جاتے تاکہ کسی کی نطر نہ پڑے۔ کوئی بچہ بھی کسی بات پر زور سے ہنسنا تو اسے ” داشورہ ” کی تنبیہہ کرکے آئندہ سے محتاط رہنے کا درس دیا جاتا ۔ لوگ کام کاج میں بھی ” ہتھ ہولا ” رکھتے تھے ۔ ایک جائز مصروفیت یوں ڈھونڈ لی جاتی کہ جن کے پیارے سال دو قبل داغ مفارقت دے گئے ہوتے وہ کھیتوں میں کام کی بجائے انکی قبروں کو پختہ کرنے میں جت جاتے ،پختہ قبروں کے گرد مٹی ڈالنے لگتے اور جو قبریں وصیتا کچی ہوتیں انکی خواتین قبروں کی لپائی کرتی نظر آتیں ” اماماں پاکاں دی ارواح ” کے نام پر گھروں میں روزانہ کچھ نہ کچھ پکتا رہتا اور ان گھروں کے بچے دوڑ دوڑ کر اڑوس پڑوس میں یہ نیاز تقسیم کرتے ۔ ٹیپ اپنےکیسٹس سمیت کسی بند بکسے میں دس دنوں کیلئے دفن ہو جاتی تھی گو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی میوزیکل ٹیون بند ہوتی تھیں پھر بھی عشرت فاطمہ ڈوں ڈوں ڈم ڈم قسم کی موسیقی کے ابتدائیہ کے بغیر خبریں پڑھتی تو وہ بھی ذرا دھیمے اور قدرے سوگوار لہجے میں ۔ عاشورہ محرم کے احترام میں ان دونوں آلات کی آواز معمول سے دھیمی رکھی جاتی۔
سب سے بڑی قربانی گاؤں کے ٹریکٹر ڈرائیور دیتے جو اپنی گھٹی میں پڑے سال بھر کے بے ہنگم موسیقی کے شور شرابہ کو بند کرکے مولوی فتح دین ملتانی کی ” مسئلیاں آلی ریل ” کا شور شرابہ ڈال دیتے ۔ ان دنوں میرے گاؤں میں کیسٹ کی اکلوتی دکان اکرم میوزک سنٹر پر ہروقت مولوی فتح دین کے مداحوں کا جھمگھٹا لگا رہتا اور اکرم اپنے سر پر سبز رنگ کا مخصوص مفلر باندھے پوری تندہی سے اپنے سامنے پڑی ریکارڈنگ مشین پر بیک وقت کئی کیسٹ ریکارڈ کرکے اہل ایمان سے داد وصول کررہا ہوتا
سوچتا ہوں اب یوٹیوب ، ٹک ٹاک ، فیس بک ، وٹس ایپ اور میسنجر کے ہنگامے نے اور کچھ نہ بھی کیا ہو تو محرم الحرام کے تقدس کا گلا ضرور گھونٹا ہوگا ۔
خدا کرے ایسا نہ ہو اور میرے گاؤں کے درودیوار آج بھی میرے مولا حسین علیہ السلام کے غم میں سر نیہوڑائے ” میں آپ رنی ، رخسار رنے، میڈی ہر ڈسکی میڈےنال رنی” کی عملی تصویر بنے کھڑے ہوں ۔۔۔۔ آمین ثم امین
بہادر جنجوعہ ، لندن

٢٥  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسین سا اور کون ہو گا ؟
وہ اک سپاہی وہ اک مجاہد
وہ اک نمازی وہ ایک زاہد
وہ صبر کی انتہا کا شاہد
برستے تیروں کے زخم کھا کر
جوان بچے کی لاش لا کر
خود اپنے ہاتھوں سے دفن کردی
حسین سا اور کون ہو گا؟
نہ کوئی تھا اور نہ ہے نہ ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔( اپنی ایک پرانی نظم سے) ۔

٢٧  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام غریباں کے بارے میں

اپنا ایک قطعہ ۔۔۔۔۔۔۔

افتخار عارف کا شعر۔۔۔۔۔
حسین تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا،

مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا

سلام یا حسین۔۔۔
کیا یادگار سجدہ کیا ہے حسین نے،

سجدے میں سر رکھاہے قیامت میں اٹھے گا

٢٩ جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

میرا میانوالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل خار ضلع باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن کے دوران بم دھماکے سے 40 سے زائد افراد جاں بحق اور 200 کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔ اللہ کریم جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے۔
ایسا ہر واقعہ ریاست کی طاقت کے لییے ایک چیلنج اور ریاست کی خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی کے بارے میں ایک سوالیہ نشان ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ایسے واقعات کئی سال سے ہو رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بھی کئی سال سے جاری ہے۔ ہماری مسلح افواج اور پولیس کے سینکڑوں جوان اس آپریشن کے دوران بھی شہید ہو چکے ہیں۔ اعداد و شمار دیکھے جائیں تو دونوں طرف مرنے والوں کی تعداد برابر بنتی ہے۔
کیا ایسے واقعات کی روک تھام کے لیئے ہماری ریاست کی مشینری کچھ نہیں کر سکتی ؟؟؟
جب کوئی سانحہ ہو جاتا ہے تو سرکار کے نمائندے صرف یہ گھسا پٹا اعلان دہرا دیتے ہیں کہ دہشت گردی کے یہ واقعات ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔
ریاست کیا صرف یہی اعلان ہی کر سکتی ہے ؟؟؟؟؟؟
بہت افسوسناک اور شرمناک صورت حال ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔

٣١  جولائی 2023 -منورعلی ملک۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top