Dareaye Sindh Ka Husn

دریائے سندھ کا حسن
میانوالی کے عوام کی دوری

عصر کے وقت دریائے سنده کے دهارے پر سنہری رنگ کی جو کیفیت چشمہ بیراج پر خاص طور پر موسم گرما میں ھوتی ھے ، وہ ایک نایاب نظارہ ھے ، یوں لگتا ھے سونے کا دریا بہہ ریا هو ۔ دھوپ کے جتنے شیڈز میانوالی میں ھیں شاید ہی کہیں اور محسوس ھوتے ہوں ۔ میرا ایک شعر ھے جو میں نے میانوالی سے باہر کی دنیا میں کرائے کے تنگ مکانوں میں قیام کے حوالے سے کہا تھا ۔۔۔
سنہری دھوپ ، کھلے آنگنوں کے خواب نہ بھیج
قفس میں خوش ہیں جو ان پر نئے عذاب نہ بھیج
میں پروفیسر منور علی ملک کے اس خیال سے سو فیصد متفق هوں کہ کالاباغ کے مقام پر دریا کا منظر دنیا کے چند خوبصورتت نظاروں میں سے ایک ھے جس کا اظہار ایک بار محترمہ بے نظیر بھٹو نے کالا باغ میں قیام کے دوران کیا تھا ۔ سندھ جب پہاڑوں کی تنگ دامنی سے نکل کر کھلے میدانوں کا رخ کرنے لگتا هے تو یوں لگتا ھے دریائے سندھ فراخی پا کر اپنی تندی اور سختی کو بھول کر خوشی سے کھل اٹھا ھو اور سارا منظر اس کے ساتھ مسکرا دیا ھو –
میں یہ بات آج تک نہیں سمجھ سکا کہ اپنے اس بے پناہ حسن کے باوجود دریائے سندھ یہاں کے لوگوں کی معاشرتی زندگیی سے دور کیوں ھے – مجھے کچھ اندازہ تو هے لیکن میانوالی کے عوام میں دریائے سندھ سے دوری اور ان کیفیات سے بے خبری کی اصل وجہ میں حتمی طور پر نہیں سمجھ سکا –
میانوالی میں اراضی پشت در پشت تقسیم خاص طور پر نیازی قبائل میں شرقا” غربا” هی ھوتی آئی ھے – اور اس تقسیمم سے ایسا بھی دیکھا ھے کہ لوگوں کے رقبوں کی ملکیت چند سو فٹ کی چوڑائی کے ساتھ میل دو میل تک چلتی گئی ھے – اکثر لوگوں کے زرعی رقبے بیک وقت کچے کے علاوہ تھل میں تھے – تھے ، اس لئے کہہ رہا هوں کہ چشمہ بیراج آنے کے بعد یہ منظر نامہ بہت حد تک بدل گیا ھے – پہلے لوگ تھل کے رقبے اور رہائش کو کچے پر ترجیح دیتے تھے – تھل کی زمین کی فی کنال پیداور کچے کی نسبت بہت زیادہ ھے – اس کے علاوہ تھل کی سرخ مٹی اور بارانی پانی کی گندم جو زیادہ تر کیمیکل کھاد کے بغیر تیار ھوتی ھے ، زیادہ خوبصورت ، موتیوں کی طرح چمکدار اور خوش ذائقہ ھے – بہت عرصہ تک میکسی پاک گندم اپنی گندمی رنگت اور کم سائز کی وجہ سے میانوالی کے کاشتکار کی توجہ حاصل نہ کر سکی – زیادہ فصل کے شوق میں جب اس کی کاشت در کاشت ھوئی تو یہاں کی مٹی نے میکسی پاک کو بھی اپنا رنگ میں رنگ لیا – اب اس کی پیداوار نسبتا کم لیکن رنگ روپ خوبصورت ھو گیا ھے – تھل کے رقبے کی قیمت بھی کچے کی اراضی سے زیادہ ھے – میں نے مجموعی طور پر یہی محسوس کیا ھے میرے بزرگ تھل کو زیادہ اہمیت دیتے تھے – یہاں تک کہ مجهے داود خیل میں ورثے میں جو زمین ملی ، تھل 98 فیصد آباد اور کچے کی 95 فی صد بنجر قدیم تهی کچے کی چند ایکڑ کو چهوڑ کر میرے دادا اور اس کے زمانے کے لوگوں کی ساری توجہ تھل پر رھی – ضلع کی آبادی کا غالب حصہ تھل اور پکے میں رھتا ھے – کچہ وہ علاقہ ھے جہاں سے دریا گزرتا هے یا طغیانی کی صورت میں دریا کی زد میں آ سکتا هے – کچے اور پکے میں شمالا” جنوبا” چهه سات فٹ سے لے کر بیس پچیس فٹ کی بلندی کی قدرتی حد بندی ھے جو داود خیل کچے سے شروع ھوتی ھے اور غالبآ” صوبہ سندھ تک چلی جاتی ھے – کچے اور پکے کے پٹواری بھی الگ الگ هیں – کچے کے علاقے میں قبرستان بھی نہیں هیں – کچے کے مستقل باسی بهی اپنے مردے تهل کے علاقے میں لا کر دفناتے ہیں – شاید اس کی ایک وجہ سیلاب کے دنوں میں کچے کا غیر محفوظ ھونا ھو – سندھ جب بپهرتا ھے تو اس کی لپیٹ میں آنے والے ہر شے اس کے غضب ک شکار ھو جاتی ھے – عام دنوں میں بهی کچے کے علاقے میں پکے مکانات کو آبی اور نم آلود ماحول بہت جلد کھرچنے لگتا ھے – اس لئے وہاں پکے مکان نسبتا” کم بنائے جاتے ہیں – اور کچے کی سب سے بڑی مصیبت تو مچھر کی بہتات ھے – تھل کے گرم خشک ماحول میں مچھر مکھی کے پنپنے کے امکانات بہت ہی کم ہیں اور ایک دلچسپ بات یہ کہ ایک ہی برادری کے ھونے کے باوجود تھل کے مستقل باسیوں کے چہرے کی رنگت کچے والوں سے نسبتا” صاف دیکھی گئی ھے – کچے کے بارے میں ایک لطیفہ یہ ھے کہ کچے کے علاقے کا کتا ہر اس آدمی کے پیچھے دم ہلاتا چل پڑتا ھے جس کے پیر کیچڑ سے لتھڑے ھوئے هوں –
دریائے سندھ کبھی کبھی کروٹیں بدلتا رہتا ھے – پروفیسر سلیم احسن کے مشاہدے کے مطابق ” میانوالی اورر دریائے سندھ کے تعلق کی کہانی بہت پرانی ہے ضلع کی حدود سے آغاز سے اختتام تک سندھ میانوالی کی سر زمین سے بغل گیر رہتا ہے – یہ کہانی لاکھوں سالوں پر محیط ہے – ایک زمانہ تھا ، سندھ میانوالی کے مشرقی پہاڑوں کے دامن میں بہتا تھا پھر وہ یہاں سے کهسکتا تهرکتا ہوا مغرب میں جا دھمکا – راستہ بدلنے کی یہ کہانی بھی صدیوں پر پھیلی ہوئ ہے – قدرت کے قانون غرب روی کے تحت یہ دریا آہستہ آہستہ کوہ سلیمان کے مشرقی سرے سے ہٹتا ہوا مغرب میں دریائے کرم کی گزرگاہ پر قابض ہو گیا – ماہرین کی رائے کے مطابق شمالی نصف کرہ پر بہنے والے دریا ہمیشہ اپنے کنارے کاٹ کر شمال اور مشرق کی طرف ہٹتے چلے جاتے ہیں یہ خط استوا اور قطب پر رفتار گردش کے فرق سے پیدا ہوتا ہے یہ منچلا دریا بهی اسی عمل کے نتیجے میں موجودہ جگہ تک پہنچا ہے مغربی سمت میں پہاڑوں نے اس کی مزید پیش قدمی کو روک رکھا ھے لیکن دل عاشق کی طرح یہ اب بهی مضطرب رہتا ہے اور 16 میل چوڑائ کے علاقہ (بیٹ) میں اپنا راستہ بدلتا رہتا ہے – اور جب ایک راستے پر بہتے بہتے تھک جاتا ہےتو اپنا پہلو بدل لیتا ہے –
گیرائ اور گہرائ میں اس کا کوئ ثانی نہیں – گرمیوں کے موسم میں پہاڑی علاقہ میں اس کی گہرائ 36 فٹ تک ہوتیی ہے ، سردیوں میں 24 فٹ ہو جاتی ہے – میدانی علاقوں میں موسم گرما میں 24 فٹ اور سرما میں 18 فٹ ہوتی ہے – اپنے منبع سے لے کر کالا باغ تک دریائے سندھ دونوں اطراف سے موڑ در موڑ پہاڑوں مین قید ہے پہاڑوں کو چیر کر اس نے اپنا راستہ بنایا ہے اورسلسلہ کوہ نمک میں ہر میل کے بعد ایک فٹ نیچے اترتا ہے قدرت نے اس کی سرکشی کو لگام دینے کاموثر بندوبست کر رکھا ہے موڑ در موڑ پہاڑی سلسلہ اس بے لگام نہیں دیتا – کالا باغ اس کا آخری پہاڑی موڑ هے “
یہ پروفیسر سلیم احسن کی تحقیق تهی – بہر حال چشمہ جھیل کے بننے اور کچے کے ایک غالب حصے کی معاشرتی زندگی ختمم ھونے سے دریائے سندھ ہم سے اور بھی دور ھو گیا ھے اور یہ بات میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ دریائے سندھ میانوالی کے سینے پر بہنے اور خوبصورت رنگ بکھیرنے کے باوجود میانوالی کی معاشرتی زندگی سے دور کیوں ھے ۔
تهوڑے بہت لوگ چشمہ بیراج پر یا کالا باغ شہر جا کر دریا کا نظارہ کرنے تو زندگی میں ایک آدھ چلے جاتے ہیں لیکن یہ ایکک طرح سے دور کا تماشا ھے – شاید ھی کوئی افراد هوں جو دریا کو پلوں کے اوپر سے دیکھنے کی بجائے دریا سے ملنے کچے کے راستہ کراس کر کے جاتے هوں اور اس کے منظر دیکھنے کی حسرت رکھتے هوں – اگر.ایسا شوق ھوتا تو موٹر بوٹس آ چکی هوتیں اور میانوالی اور عیسی خیل جو دریا کے آر پار صرف 13 میل دور هیں صرف آدھ گهنٹے کے سفر پر آجاتے —
میڈم روبینہ ناز نے ایک دلچسپ رائے دی ھے – میں قوموں اور قبیلوں کے اجتماعی شعور ، لاشعور اور اجتماعی حافظےے کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا ، اس لئے اس پر تبصرہ میرے لئے مشکل ھے – آپ بتائیے ، آپ ان کے اس خیال کے بارے میں کیا کہتے هیں کہ “میانوالی کے عوام کی دریائے سندھ سے دوری کی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ پٹھان شائد پانی سے خوفزدہ ہیں – میں خود اکوڑہ خٹک کی رہنے والی ہوں جو ک دریائے کابل کے کنارے آباد ہےاور صرف 8 کلومیٹر کے بعد اٹک کے مقام پر دریائے سندھ سے جا ملتا ہے مگر بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہاہے کہ جیسے ہمارے لوگ اس کے وجود سے بے خیر ہیں مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ایک دفعہ دریائے نیل سے نکلنے کے بعد پٹھان دوبارہ پانی میں گھسنا پسند نہیں کرتے”
واللہ اعلم بالصواب ——
( دریائے سندھ کے حسن کو کالاباغ پر دیکھنے کیلئے کمنٹس میں مختلف پکس دیکھئیے گا )

ظفر خان نیازی –27جنوری2016

Leave a Reply