Munir Niazi Ki Shokh Baatein

منیر نیازی
شوخ باتیں ، اداس شعر

آج کی نوجوان نسل منیر نیازی کی خوبصورت شاعری سے بخوبی واقف ھے – ان کے کئی لازوال شعر آج بھی زبان زد عام هیں لیکن ایک وقت تھا منیر نیازی کے اشعار سے بڑھ کر ان کے تبصرے چٹکلے اور شوخیاں ادبی اور ثقافتی حلقوں میں مسکراہٹ کی پهلجڑیاں چهوڑتے نظر آتی تھیں-
ایک دفعہ احمد ندیم قاسمی صاحب نے بتایا کہ منیر نیازی مشاعرے میں کسی کو داد نہیں دیتے تھے – ایک بار ریڈیو پاکستان لاهور کے ادبی پروگرام میں مشاعرے کیلئے شعرائے کرام کو دعوت دی گئی تو سب نے طے کر لیا کہ چونکہ منیر نیازی کسی کو داد نہیں دیتے لہذا آج اسے بھی داد نہیں دی جائے گی –
مشاعرہ شروع ھوا تو ریکارڈنگ کے دوران منیر نیازی حسب معمول خاموش بیٹھے رھے اور کسی کو داد نہ دی –
جب ان کو دعوت کلام دی گئی تو مطلع پڑھ کر ادھر ادھر دیکھا ، محفل کے شریک شعرا بهی پلان کے مطابق چپ بیٹهے رھے – منیر نیازی نے مطلع دہرایا ، ادھر ادھر دیکھا ، لیکن جسے بھی دیکھا اس نے بجائے داد دینے کے منہ دوسری طرف پھیر لیا – یہ صورتحال دیکھ کر منیر نیازی نے ایک بار پھر مطلع پڑھا اور پڑه کر خود ھی کہا ، واہ منیر نیازی واہ ، کیا جوبصورت شعر کہا ، پھر عطا ھو –
قاسمی صاحب بتاتے هیں کہ ان کے اس انداز پر ہنسی کا فوارہ پهوٹ پڑا ، قہقہوں کو روکنا مشکل ھوگیا – ایک دو اصحاب تو پیٹ پکڑ کر سٹوڈیو سے باہر نکل گئے اور ریکارڈنگ رک گئی –
قہقہوں کا طوفان تھما تو ریکارڈنگ دوبارہ شروع ھوئی اور منیر نیازی کو ان کے کلام پر دل کھول کر داد دی گئی –
ستر کی دہائی کی بات هے ، عطا شاد ایک بار کراچی مشاعرے پر گئے ، کوئٹہ واپس آئے تو یہ واقعہ سنایا –
کراچی پریس کلب میں مشاعرہ تھا – کراچی پریس کلب کا ایک چوکیدار جو کہ داڑھی والا تھا ، منیر نیازی کو نظر آیا تو نیازی صاحب نے اسے گلے لگاتے ھوئے کہا ، کیسے هو محمود شام – چوکیدار بولا ، میں محمود شام نہیں هوں –
منیر نیازی بولے ، محمود شام تم جب بھی ملتے ھو ، ہر بار یہی کہتے ھو میں محمود شام نہیں هوں –
ایک زمانے میں ان کا یہ شوخ فقرا بہت مشہور هوا تها کہ میری بیوی میرے مرد دوستوں سے تو پردہ نہیں کرتی لیکن کشور ناہید سے پردہ کرتی ھے —
میری منیر نیازی سے بہت تهوڑی ملاقاتیں هیں – آخری بار اسلام آباد سے میرے ریڈیو پروگرام سوغات کیلئے ان کا انٹرویو شکیل اختر نے کیا تھا – مجھے معلوم نہیں ان کی شخصیت پر کام کرنے والوں نے ان کی شوخیوں کا ریکارڈ بھی جمع کیا ھے کہ نہیں – ایسے هی دلچسپ فقرے ، چست جملے اور لطیفے احمد فراز کی شخصیت کا بهی نمایاں پہلو هیں اور اچھی خبر یہ ھے کہ احمد فراز کے دلچسپ جملوں اور باتوں پر محبوب ظفر کام کر رھے هیں – انہوں نے بتایا ھے کہ فراز صاحب کے ایسے ساڑھے تین سو کے قریب شوخ فقرے اور لطائف انہوں نے جمع کر لئے ہیں جسے کتابی شکل میں لانے کا ارادہ ھے – منیر نیازی کی ان باتوں کو جمع کر لیا جائے تو ادب کے قارئین کو ادبی تاریخ کے ساتھ ایک ہنستی مسکراتی کتاب بهی پڑھنے کو ملے گی –
منیر نیازی کی ان شوخ باتوں کے برعکس ان کی نظمیں بے حد اداس تاثر کی حامل هیں – ھجرت کا جو دکھ انتظار حسین کی نثر میں محسوس ھوتا ھے ، وہی بے نام سا کرب منیر نیازی کی نظموں میں محسوس ھوتا ھے – وہ هوشیار پور کی ایک بستی خان پور سے ھجرت کر کے آئے تھے – مشہور معالج ہارٹ سپیشلسٹ میجرجنرل ڈاکٹر ذوالفقار علی خان نے مجھے ایک دفعہ بتایا تھا کہ وہ , منیر نیازی اور اشفاق احمد آپس میں کزن هیں – ڈاکٹر میجر جنرل ذوالفقار علی خان صاحب نے دل کی باتیں کے عنوان سے میرے ریڈیو پروگرام سوغات میں ایک گهنٹہ دورانیے کا ہفتہ وار سلسلہ مسلسل تین برس تک لائیو نشر کیا تھا جو ان کی طویل علالت کی وجہ سے موقوف ھوا تو پروفیسر ڈاکٹر میجر رفیق احمد غنچہ نے اسے بحال کیا تھا اور کئی برس تک اسے جاری رکھا – میرے ان دونوں مہمانوں نے خدمت خلق کے پیش نظر اپنے ریڈیو پروگراموں کی ریڈیو فیس بھی نہیں لی تھی –
بهٹو صاحب کے زمانے میں جب حنیف رامے وزیر اعلے تھے ، انہوں نے منیر نیازی کو بھکر میں ایک زرعی قطعہ اراضی الاٹ کیا تھا ، اس سلسے میں وہ میانوالی آئے تھے – وہ میانوالی میں پروفیسر سلیم احسن کے ہاں ٹھہرے تھے – عنایت اللە نیازی نوری خیل کے تانگے پر بلوخیل روڈ پر سیر کرتے ھوئے وہ بولے ، مجھے اپنے اجداد کا شہر دیکھنے کا بہت شوق تھا –
منیر نیازی دیکھنے میں انتہائی خوبصورت شخص تھے – ستر اسی کی دہائی تک ان کے چہرے کی رنگت کو دیکھ کر فیصلہ کرنا مشکل تها کہ وہ خود زیادہ خوبصورت هیں یا ان کی شاعری – ان کی لا ابالی زندگی ، بے روزگاری کے مسائل اور گزرتے وقت کی دھول نے آخر میں ان کی شخصیت کے هالے کو تهوڑا دھندلا دیا تھا ، لیکن ان اشعار کی چھب کبھی مدھم نہ ھوئی –
محفل میں بے تکلف گفتگو کرتے تھے اور چهوٹے چهوٹے جملوں سے محفل کو زعفران زار بنائے رھتے – اہل محفل انہیں بہت شوق سے سنتے – منیر نیازی اردو شاعری کی دنیا کے ان چند خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جنہیں فن کے ساتھ ساتھ شخصی سطح پر بھی بہت پذیرائی ملی – ان کو احساس تھا کہ لوگ ان سے محبت کرتے هیں اور بعض اوقات وہ لاڈیاں بھی کرتے تھے –
ریڈیو پاکستان لاہور کی ڈپٹی کنٹرولر مسز انیلہ سلیم بتاتی ہیں :-
” میں خوش قسمت ھوں کہ منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی سے ملاقاتیں رہی ہیں۔ دونوں ریڈیو کے مشاعروں میں آیا کرتے تھے پھر قاسمی صاحب نے آنا چھوڑ دیا۔ مگر منیر صاحب پابندی سے آیا کرتے تھے۔ آج بھی انکی کسی پر جملہ کسنے کے بعد دھیمی دھیمی مسکراہٹ یاد آتی ہے۔ کیا جملہ کہتے تھے تڑپا کے رکھ دیتے تھے اگلے کو۔۔۔
میری لاہور پوسٹنگ 1996 میں ہوئ ادبی پروگرام تخلیق مجھے ملا۔ میں نے بڑی خوشی سے نیازی صاحب کو مشاعرے میں بلایا۔ لاہور کے سٹیشن ڈائریکٹر مرحوم اکرم چوہدری تھے۔ اُن کے کمرے میں بٹھایا اور بڑے ادب سے پوچھا سر کیا پئیں گے آپ؟ اس پر انھوں نے مسکراتے ہوۓ مجھے دیکھا اور بولے ایتھے لبدی اے؟ اب مجھے تو قطعا بات سمجھ نہ آئ مگر میں نے دیکھا ایس ڈی سمیت سب لوگ مسکرانے لگے پھر ایس ڈی صاحب نے جلدی سے چاۓکا آرڈر دیا۔ انھیں اچھا لگتا تھا کہ ان سے بیٹھ کر گپیں لگائ جائیں۔ اپنی مسز کا ضرور تذکرہ کیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی اور صوفیہ بیدار ان کے بہت قریب تھے۔ دونوں نے ان کے آخری وقت میں ان کا بہت خیال رکھا “
منیر نیازی کے درجنوں شعر آپ کو یاد هوں گے – یہ گفتگو سن کر فوری طور پر آپ کو ان کا کون سا شعر یاد آیا ھے ، وہ آپ ہمارے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں ، مجھے ان کا ایک نعتیہ شعر یاد آرہا ھے ، اس شعر پر اپنی روح میں پیدا ھوتے ارتعاش کا اندازہ لگائیے – آپ کو خود بخود معلوم ھو جائے گا کہ منیر نیازی اردو اور پنجابی جہان شعر کا انوکھا لاڈلا شاعر کیوں تھا :—-
میں کہ اک برباد هوں آباد رکھتا ھے مجھے
دیر تک اسم محمد شاد رکھتا ھے مجھے
(اس پک میں میرے ساتھ دائیں طرف فضل الہی بہار مرحوم اور عقب میں نصیر شاہ صاحب کے صاحبزادے بدر شاہ هیں – منیر نیازی کے ساتھ ہماری یہ ملاقات اسلام آباد میں ھوئی تھی – یہ پک بہار صاحب کے بیٹے جگنو نے بنائی اور گفٹ کی تھی – جگنو بھی بہار صاحب کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد عین جوانی میں داغ مفارقت دے گیا تھا )

ظفر خان نیازی –29فروری2016

Leave a Reply