MERA MIANWALI-APRIL-2022

منورعلی ملک کے اپریل  2022 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی- 

پکی شاہ مردان کے سید عاصم بخاری شاعر اور نثر نگار کی حیثیت میں ہمارے علاقے کی معروف شخصیت ہیں – نظم و نثر کی دس سے زائد کتابیں تخلیق و تحقیق میں ان کی قابلِ قدر کاوشوں کا ثمر ہیں – ماشآءاللہ شجر ابھی جواں ہے – برگ و بار کا تسلسل جاری رہے گا –
“فسانہ ء محفل“ کے عنوان سے عاصم بخاری کی نثری تحریروں کا مجموعہ حال ہی میں منظرِ عام پر آیا ہے – یہ کتاب درجِ ذیل پانچ حصوں پر مشتمل ہے –
١۔ مختصر افسانے
٢۔ مضامین
٣۔ گردشِ ایام ( ذاتی تجربات ، مشاہدات اور تاثرات)
٤۔ شخصیات
٥ ۔ تبصرے
رواں دواں سادہ انداز میں یہ نثری تحریریں دل میں اُتر جاتی ہیں ، کہیں کہیں دل کے تاروں کو چھیڑ کر قاری کو مضطرب بھی کر دیتی ہیں – میری نظر میں شاہ جی کی نثر اُن کی شاعری سے زیادہ مؤثر ہے – اپنے کلچر کی بعض بھُولی بسری یادوں کو شاہ جی نے مختصر مگر بہت مؤثر انداز میں تازہ کیاِ ہے – یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیئے –
اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ————————— رہے نام اللہ کا —-٢  اپریل  2022 

میرا میانوالی-

نہ بجلی تھی ، نہ ریڈیو ، نہ لاؤڈسپیکر ، اس لیئے لوگ مقامی طور پر رمضان المبارک کا چاند اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کرتے تھے – سُورج غروب ہونے کے بعد آسمان پر شفق کی سُرخی میں بال جیسا باریک چاند تلاش کرنا آسان نہ تھا ، اللہ جس کو چاہتا چاند دکھا دیتا تھا ، اور وہ آدمی اپنی انگلی کے اشاروں سے اپنے پاس موجود دُوسرے لوگوں کو بھی دکھالیتا تھا – اپنے محلے میں ایک دفعہ مجھے بھی یہ سعادت نصیب ہوئی تھی – سرِشام ہی لوگ مسجد کے پچھواڑے جمع ہوکر چاند دیکھنے کی کوشش کیِاکرتے تھے –
اب تو بجلی کی چکا چوند نے لوگوں کی نظر اتنی کمزور کر دی ہے کہ رمضان المبارک یا عید کا چاند اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا- رہی سہی کسر موبائیل فون نے پُوری کر دی – نظر کا دائرہ روز بروز سُکڑتا جارہا ہے ، انجام نہ جانے کیا ہوگا –
چاند نظر آنے میں ایک مشکل یہ بھی تھی کہ صاف موسم میں بھی بادل کا ایک آوارہ ٹُکڑا عین چاند کے آگے پتہ نہیں کہاں سے آکر سارا کھیل خراب کر دیتا تھا –
خراب موسم کی صُورت میں لوگ کوٹ چاندنہ کے پِیر فخرالزماں صاحب سے چاند نظر آنے یا نہ آنے کی تصدیق حاصل کیا کرتے تھے – چاندنظر آنے کی صُورت میں پیِر صاحب تحریری فتوی جاری کِیا کرتے تھے – شرعی تقاضوں کے مطابق پِیر صاحب بہت احتیاط سے معتبر شہادتیں موصول ہونے کے بعد فتوی جاری کرتے تھے – کوٹ چاندنہ کے گردونواح کے لوگ سرِشام پیر صاحب کے ہاں پہنچ جاتے تھے –———————- رہے نام اللہ کا —–٣  اپریل  2022 

میرا میانوالی-

سحری اور افطار کا اعلان مساجد میں نقارہ بجا کر کیا جاتا تھا – نقارہ ڈھول اور طبلے کی نسل کی ایک چیز تھی جسے ایک ڈیڑھ فٹ لمبی دو چھڑیوں سے پیٹتے تھے تو ڈھول جیسی آواز دُور دُور تک سُنائی دیتی تھی – نقارہ مسجد میں وضو ،غسل وغیرہ کے لیئے پانی فراہم کرنے والا خادم بجاتا تھا ، اس خادم کو پانی ہارا کہتے تھے – پانی کی فراہمی اور نقارہ بجانے کی خدمات کے عوض اُسے محلے کے ہر گھر سے روزانہ مٹھی بھر آٹا ملتا تھا ، جو وہ در در جا کر وصول کِیا کرتا تھا – گداگری ذلت کا کام ہے ، مگر غریبی انسان کو ہر کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے –
سحری کا کھانا پہلے بھی ہر سال بتاتا رہتا ہوں ، یاد دہانی کے لیئے ایک بار پھر سہی – ہمارے داؤدخیل میں سحری کا کھانا وَشِلی ہوا کرتا تھا – توے پر ذراسا گھی ڈال کر اس پر پتلا گُندھا ہوا آٹا روٹی کی شکل میں لیپ دیتے ، اور اُوپر سے مزید گھی ڈال کر پکا لیتے تھے – وشِلی کو پلیٹ یا چھکور میں رکھ کر اس پر سُرخ پشاوری شکر کی چھوٹی سی ڈھیری بنا تے , جسے انگُوٹھے سے دبا کر کٹوری سی بنا لیتے تھے – اس کٹوری میں گھر کا خالص دیسی گھی ڈال کر گھی اور شکر کے آمیزے میں وشلی کے نوالے ڈبو کر کھاتے تھے –
ہر گھر میں سحری کے لیئے وشلی ہی بنتی تھی – وشلی توانائی کا خزانہ تھی – سحری میں کھانے سے روزہ بہت آسانی سے گُذر جاتا تھا – نہ بھُوک لگتی تھی ، نہ پیاس – چیز اتنی لذیذ تھی کہ رمضان کریم کے اختتام پر اکثر لوگ آہ بھر کر کہا کرتے تھے –
لنگھ گئے روزے وڈا ارمان وشِلیاں ناں———————- رہے نام اللہ کا —٤  اپریل  2022 

میرا میانوالی-

افطاری کا پروگرام اپنا اپنا الگ الگ ہوتا تھا – نوجوان لوگ چینی اور لیموں کا شربت برف ڈال کر پیتے تھے – بزرگ گُڑ یا شکر کے شربت میں گوند کتیرہ ، اسپغول ، تخم ملنگا ، یا املی آلُوبخارا ڈال کر پیا کرتے تھے – شربت گھڑے کے پانی سے بناتے تھے – گھڑے کا پانی اچھا خاصا ٹھنڈا ہوتا تھا – ٹھنڈک کے لیئے عیسی خیل کے گھڑے مشہور تھے –
بزرگ کہتے تھے ، اور سو فیصد ٹھیک ہی کہتے تھے کہ چینی اور برف تو پیاس کو بُجھانے کی بجائے پیاس بھڑکاتی ہیں ، اس لیئے چینی اور برف کا شربت پینے والے نوجوان گلاس پہ گلاس پی پی کر نڈھال ہو جاتے تھے – پیٹ پُھول جاتا تھا ، صحیح طریقے سے نہ نماز پڑھ سکتے ، نہ کھانا کھا سکتے تھے –گُڑ کا شربت پیاس بُجھاتا ہے – اس کے دُوسرے اجزا ء گوند کتیرہ ، اسپغول ، تخم ملنگا ، املی آلُو بخارا وغیرہ معدے کی گرمی کو بھی ختم کرتے ہیں ، جسم کو طاقت بھی فراہم کرتے ہیں- آج بھی آزما کر دیکھ لیں ، افطاری کے بعد والی بے چینی اور کمزوری سے نجات مل جائے گی –
ہمارے داؤدخیل شہر میں فروٹ کی کوئی دکان نہ تھی – کالاباغ سے ایک چاچا جی پھلوں کا ٹوکرا اور ترازُو سرپہ رکھ کر دُوسرے تیسرے دن داؤدخٰیل کی گلیوں میں پھرا کرتے تھے – چاچا جی کا فروٹ بالکل تازہ اور اچھی کوالٹی کا ہوتا تھا – لوگ حسبِ توفیق افطاری کے لیئے فروٹ ان سے خرید لیتے تھے – بعض اوقات چاچا کسی وجہ سے ایک دو ھفتے نہ آسکتے تو لوگ گھر کی تازہ روٹی گُڑ ،گھی ، مکھن یا سالن کے ساتھ کھا لیتے تھے – پکوڑوں سموسوں والے چونچلے اُس زمانے میں نہیں ہوتے تھے – سیدھی سادی مائیں بہنیں روٹی سالن کے سِوا اور کُچھ بنا ہی نہیں سکتی تھیں – لیکن ایمان داری کی بات یہ ہے کہ اُن کے بنائے ہوئے سالن پکوڑوں سموسوں ، پیزوں اور برگرز سے زیادہ لذیذ ہوتے تھے –
شام کا کھانا کُچھ لوگ مغرب کی نماز کے فورا بعد کھا لیتے تھے ، لیکن زیادہ تر لوگ نمازِعشا اور تراویح سے فارغ ہو کر اطمینان سے کھانا کھاتے تھے –
گُذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ———————— رہے نام اللہ کا ———-  –٦ اپریل  2022 

میرا میانوالی- 

اسلامی کیلنڈر (ماہ و سال کا حساب) مسلسل گردش میں رہتا ہے ، اس لیئے روزے کبھی گرمی ، کبھی سردی ، کبھی بہار ، کبھی خزاں میں آتے جاتے رہتے ہیں – یہ گردش تقریبا 36 سال میں مکمل ہوتی ہے ، یعنی 36 سال بعد رمضان المبارک کسی مہینے میں دوبارہ آتا ہے ، اپریل کے بعد مارچ پھر فروری، پھر جنوری میں ، یہ چکر ہزاروں سال سے یونہی چل رہا ہے ، اور قیامت تک چلتا رہے گا –
گرمی کے روزوں میں پیاس سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے کیونکہ روزے کے دوران دن بھر پانی نہیں پیا جا سکتا ۔ اب تو خیر اے سی ، روم کُولر وغیرہ کی وجہ سے گرمی اور پیاس کی شدت محسوس نہیں ہوتی ، ہمارے بچپن کے دور میں اس مسئلے کا واحد حل دوپہر سے شام تک دوتین بار نہانا ہوا کرتا تھا – بچے اور نوجوان دن بھر نہر میں نہاکر روزہ ٹھنڈا کر لیتے تھے –
بزرگ نہر میں کم ہی نہاتے تھے ، کیونکہ اُن کا نہانے کا طریقہ ہی ایسا قابل اعتراض تھا کہ سرِعام نہانا مناسب نہیں تھا – طریقہ یہ تھا کہ نہر کے کنارے جاکر پہلے اچھی طرح ادھر اُدھر دیکھ لیتے تھے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا – میدان صاف ہوتا تو جلدی سے کپڑے اُتار کر ننگ دھڑنگ نہر میں چھلانگ لگا دیتے تھے – باہر نکلتے وقت پھر چاروں طرف دیکھ بھال کر بڑی احتیاط سے باہر نکلتے تھے –
اس تردد سے بچنے کے لیئے زیادہ تر بزرگ کسی کنوئیں پر یا گھر کے ہینڈ پمپ کے پانی سے نہا لیتے تھے ، اور پھر گیلی دھوتی یا چادر اوڑھ کر چھپر کے سائے میں سو جاتے تھے- یہ عمل ہر نماز سے پہلے دُہرایا جاتا تھا –— رہے نام اللہ کا —٨ اپریل  2022 

میرا میانوالی-

روزہ نہ رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا – بُوڑھے ، جوان ، سب روزہ رکھتے تھے – اگر کوئی آدمی بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتا تو وہ کمرے کے دروازے بند کر کے کُچھ کھا پی لیتا تھا –
روزہ نہ رکھنے والے انسان کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ، اس لیئے بلاوجہ روزہ ترک کرنے کی جراءت ہی کوئی نہیں کر سکتا تھا – ضلع میانوالی کے پشتون بیلٹ میں بہت سے بزرگ ہمارے بابا جی کے دوست تھے – بابا جی بتایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ چاپری کے علاقہ کے ایک قبائلی سردار سے کسی نے کہا “ خان ، آپ کا فلاں بیٹا روزہ نہیں رکھتا“
خان صاحب نے کہا “ میرا کُتا بھی روزہ نہیں رکھتا ، میری نظر میں میرا یہ بیٹا کُتے کے برابر ہے“-
روزہ نہ رکھنا اس لیئے بھی خاصا مہنگا پڑتا تھا کہ گھر سے تو کھانے کو کُچھ ملتا نہیں تھا ، داؤدخیل شہر کا اکلوتا ہوٹل المعروف مَمُوں والا ہوٹل بھی رمضان المبارک میں بند رہتا تھا- ویسے بھی اس ہوٹل پر چائے کے سوا کھانے پینے کو کُچھ نہیں ملتا تھا – ریلوے سٹیشن کے دوتین ہوٹل بھی رمضان المبارک میں بند رہتے تھے – جو اِکا دُکا نوجوان روزے کا ناغہ کرتا وہ کسی دُکان سے چاولوں کا مرُنڈا ، ریوڑیاں یا گُڑ وغیرہ لے کر کہیں چُھپ چُھپا کر کھا لیتا تھا – کھاتے ہوئے بھی یہ ڈر رہتا تھا کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے –
اتنی خجل خواری کی بجائے روزہ رکھنا زیادہ وارے میں تھا ، اس لیئے روزہ نہ رکھنے کی خر مستی کوئی نہیں کرسکتا تھا –——————– رہے نام اللہ کا —–  –٩  اپریل  2022 

میرا میانوالی-

سخاوت کے معاملے میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم ویسے بھی اپنی مثال آپ تھے ، لیکن رمضان المبارک میں خاص طور پر ہاتھ بہت کُھلا رکھتے تھے – مالدار تو نہ تھے ، پھر بھی جو کُچھ میسر ہوتا ، غریبوًں اور محتاجوں میں تقسیم کر دیتے تھے – ہم لوگ جو بڑے فخر سے اُن کے جاں نثار ہونے کا دعوی کرتے ہیں ، ہمیں اپنے آقا کی سیرتِ طیبہ کے اِس پہلو پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیئے – جتنا ہو سکے مستحق لوگوں پر خرچ کرنا چاہیئے – اللہ کا وعدہ ہے کہ میرے حبیب کے نقشِ قدم پر چلوگے تو تمہیں میرا پیار ملے گا –
صدقہ و خیرات سے رزق اور مال میں برکت حاصل ہوتی ہے – برکت کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی آمدنی میں بھی بآسانی گذارہ ہوجاتا ہے – آزما کر دیکھ لیں –
آقا علیہ السلام کی حیات ِ طیبہ کے اس پہلو پر بھی کبھی غور کرلیں کہ مُلکِ عرب کا یہ تاجدار جب اِس دُنیا سے رُخصت ہونے لگا تو کُل سرمایہ چند درہم کی معمولی سی رقم تھی – پھر بھی وقتِ آخر بے چینی تھی تو صرف یہ کہ یہ رقم گھر میں کیوں پڑی ہے – اپنے سامنے یہ رقم تقسیم کرا کے رُخصت ہوئے –اللہ کریم ہمیں نبی ء اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے –—————– رہے نام اللہ کا —————-  –١٠  اپریل  2022 

میرا میانوالی- 

عید کی تیاریوں کی خوشی عید کی خوشی سے کم نہیں ہوتی تھی – رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی عید کی تیاریاں شروع ہو جاتی تھیں ، اور یہ مصروفیت رمضان المبارک کے روزے آسان بنا دیتی تھی – لوگ عید کے دن کا پروگرام مرتب کرتے رہتے تھے – کس قسم کا لباس پہننا ہے ؟ کیا کھانا پینا ہے ؟ کس نے ملنے آناہے ؟ کس کس سے ملنے جانا ہے ؟ انہی حسین تصورات میں کھو کر وقت گذرنے کا پتہ ہی نہ چلتا تھا –
کپڑوں کی خریداری ، درزیوں کے ہاں پھیرے ، دیوانی مقدمات کی طرح تاریخ پہ تاریخ ، درزیوں کی منت خوشامد سے کام نہ چلتا تو بات تُوتُو میں میں تک پہنچ جاتی ،مگر آخری فٰیصلہ درزی ہی کا چلتا تھا –
جُوتوں کی خریداری کالا باغ بازار سے ہوتی تھی – اُس زمانے میں فرمے والی کھیڑ سب سے مقبول مردانہ پیزار (جُوتا) ہوا کرتی تھی – آرڈر پر بنی ہوئی فرمے والی سپیشل کھیڑی 16 روپے میں ملتی تھی – آڑدر کے ساتھ پانچ روپے ساہی ( ایڈوانس) دینے کے بعد پانچ سات دن میں کھیڑی مل جاتی تھی – اس بہانے سے کالاباغ کے دوتین پھیرے ضرور لگانے پڑتے تھے – چاچا پشُو ، چاچا فقیر محمد اور چاچا ابراہیم فرمے والی کھیڑی کے سب سے بڑے سپیشلسٹ تھے – عیسی خیل سے بھکر تک فرمے والی کھٰیڑی کے شوقین نوجوان ان تین سپیشلسٹوں سے کھیڑی بنواتے تھے –گُذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ————————– رہے نام اللہ کا —١١  اپریل  2022 

میرا میانوالی-

رمضان المبارک اور عید کے رسم و رواج کے بارے میں ہر سال لکھتا ہوں – بار بار وہی باتیں سُننا پڑھنا آپ کو شاید اچھا نہ لگتا ہو ، مگر میں اس بہانے چند لمحے اپنے بچپن اور جوانی کے دور میں گُزار لیتا ہوں ، تخئیل کی سکرین پر وہ چیزیں ، وہ لوگ دوبارہ دیکھ لیتا ہوں جو اب واپس تو کبھی نہیں آئیں گے لیکن اُن کی یادیں ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہیں –
کپڑوں جُوتوں کی خریداری کے لیئے کالاباغ کے پھیروں میں میرے کزن ریاست علی ملک ، غلام حبیب ہاشمی اور طالب حسین شاہ میرے ہمسفر ہوتے تھے – ہم ماڑی انڈس جانے والی ٹرین سے صبح آٹھ نو بجے ماڑی انڈس پہنچتے ، اور وہاں سے دریا کے پُل پر پیدل چلتے ہوئے کالاباغ شہر میں داخل ہوتے تھے — پُل پر پیدل چلنے کا ایک اپنا مزا تھا – شیر دریا سندھ کا مشرق میں کُکڑانوالہ سے لے کر ُمغرب میں جناح بیراج تک کا منظر دیکھنے کے لائق ہے – ہم پُل پر بار بار رُک کر مختلف زاویوں سے یہ منظر دیکھا کرتے تھے – کاش کہ اُس وقت کیمرے والے فون بھی ہوتے تو ایک لاجواب البم بن جاتا –
ایک دفعہ بھائی غلام حبیب ہاشمی نے کہا “ آج آپ کو اللہ وسایا کے ہوٹل سے چائے پلاؤں گا – بہت بے مثال چائے بناتا ہے – جُونہی ہم نے ہوٹل میں قدم رکھا اللہ وسایا نے اپنے ملازم سے کہا “ اوئے ، ماریں ، وت آنا پیا ہیئی “ – ( اس کو مارو ، یہ پھر آرہاہے) –
اللہ وسایا نے دراصل یہ بات ایک کُتے کے بارے میں کہی تھی ، جو پچھلے دروازے سے ہوٹل میں گھُس آیا تھا ، مگر ہم یہ بات بھائی غلام حبیب سے منسُوب کر کے دیر تک قہقہے لگاتے رہے – ہمارے قہقہوں میں وسایا اور بھائی حبیب بھی شریک تھے – جب تک بھائی حبیب اس دنیا میں موجود رہے ہم اکثر یہ واقعہ یاد کر کے قہقہے لگایا کرتے تھے- یہ واقعہ لکھتے ہوئے بھی وہی منظر ، وہی چہرے سامنے آرہے ہیں – وہ قہقہے کانوں میں گُونج رہے ہیں ، اگرچہ آج نہ بھائی حبیب اس دنیا میں موجُود ہیں ، نہ اللہ وسایا ۔ نہ بھائی ریاست ——
گُذر گیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ——————— رہے نام اللہ کا —   –١٢  اپریل  2022

میرا میانوالی-

سِیمِیاں بنانا بھی رمضان المبارک کی مستقل روایت ہوا کرتی تھی – آٹا پانی میں بھگو کر اُس کے پیڑے خُشک آٹے میں لتھیڑ کر مشین کے مُنہ میں ڈالتے اور مشین کے ہینڈل کو گھُماتے تو مشین کے نیچے لگی ہوئی چھلنی سے سِیمِیوں کے لچھے نکلتے تھے جنہیں دُھوپ میں بچھی چارپایئوں پر صاف سُتھری چادروں پر سلیقے سے بچھاتے جاتے –
ایک آدھ گھنٹے میں سِیمِیاں خُشک ہو جاتی تھیں –
عید کے دن کا ناشتہ یہی سیمیاں ہوا کرتی تھیں – انہیں پانی میں اُبال کر پانی الگ کرنے کے بعد ان میں گھر کا خالص دیسی گھی اور لال پشاوری شکر ملا کر کھاتے تھے – بہت لذیذ چیز تھی –
سیمیاں بنانے کی مشین کو گھوڑی کہتے تھے – جس گھر میں گھوڑی ہوتی وہاں رمضان المبارک میں خواتین کا میلہ لگا رہتا تھا – سب اپنا اپنا آٹا گھر سے بھگو کر لاتی تھیں – مشین کا ہینڈل گھمانا خاصا مشقت کا کام تھا – یہ خواتین کے بس کا روگ نہ تھا ، اس لیئے گھر کے کسی شریف مسکین مرد کو چاچا ، ماما ، لالا وغیرہ کہہ کر کام میں لگا دیا جاتا تھا – اللہ کا ایک آدھ ایسا نیک بندہ ہر گھر میں ہوتا تھا ، جو دن بھر اس مشقت میں جُتا رہتا تھا – ہماری فیملی میں ماموں غلام فرید محلے بھر کے لیئے یہ خدمت بلا معاوضہ سرانجام دیتے تھے – پُورا محلہ انہیں ماموں کہتا تھا ، اس لیئے کسی کو انکار نہیں کر سکتے تھے –
ایک روایت یہ بھی تھی کہ جس گھر کا کوئی فرد فوت ہوجاتا اُس سال اس گھر میں سیمیاں نہیں بنائی جاتی تھیں ، اس روایت کی کوئی شرعی حیثیت تو نہ تھی ، مگر اس پر عمل ضرور کیا جاتا تھا –
گُذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ———————– رہے نام اللہ کا —  –١٣  اپریل  2022 

میرا میانوالی-

نمازِ تراویح میں ختم ِ قرآنِ حکیم کی رات جشن کا سماں ہوتا تھا ۔ مساجد کو دُلہن کی طرح سجایا جاتا ، قرآءت القرآن اور درود و سلام کی محفل برپا ہوتی ، نمازِتراویح کے بعد طویل اجتماعی دُعا کرائی جاتی ، ختمِ قرآن کی خوشی میں مٹھائی تقسیم کی جاتی ، نمازِتراویح کی قیادت کرنے والے قاری صاحب کو ہار پہنائے جاتے ، سب لوگ باری باری اُن سے گلے مِل کر مبارک باد کہتے – تمام نمازیوں کی طرف سے مسجد کے خزانچی کے پاس جمع کرائی ہوئی نقد رقم اور عمدہ لباس کا ایک جوڑا قاری صاحب کی خدمت میں پیش کیا جاتا –
اس موقع پر کئی بزرگوں کو یہ کہہ کر روتے ہوئے بھی دیکھا کہ اِس سال تو ہمیں یہ سعادت نصیب ہو گئی ، اگلے سال اس موقع پر پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں – ایک خوبصورت جذباتی ماحول بن جاتا تھا – دل اللہ اور رسول اللہ کی محبت سے جگمگا اُٹھتے تھے – قرآنِ کریم کی اس آیت کا مفہوم دِل میں اُترنے لگتا جس میں ارشاد ہوا کہ لوگ میرے بارے میں تُم سے پُوچھیں تو کہنا میں تمہارے قریب ہی موجود ہوں ، مانگنے والے کی دعا سُن کر قبول کرتا ہوں ——
اس محفل سے اُٹھنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا ———————— رہے نام اللہ کا —  –١٤  اپریل  2022 

میرا میانوالی- 

ضلع میانوالی کے دیہات کی معیشت خالص زرعی معیشت تھی – آمدنی کا واحد ذرہعہ گندم کی پیداوار ہوا کرتی تھی – نقد رقم کی بجائے گندم کے بدلے ضروریات ِ زندگی خریدی جاتی تھیں – زندگی اتنی سادہ تھی کہ گندم کی دس بارہ بوریاں سال بھر کے تمام اخراجات کے لیئے کافی ہوتی تھیں – بارش کے سوا آبپاشی کا کوئی دُوسرا ذریعہ میسر نہ تھا ، اس لیئے زمین سال بھر میں ایک ہی فصل دے سکتی تھی – لوگ اپنی زمین خود کاشت کرتے تھے – ہل اور بیلوں کے ذریعے کاشت کاری محدود پیمانے پر ہوسکتی تھی –
ہمارے داؤدخیل میں کوئی بڑا زمیندار نہ تھا – سوپچاس کنال سے زیادہ زمین کسی کے پاس نہ تھی – اس میں سے بھی تقریبا آدھی زمین کاشت ہوتی تھی – کُچھ لوگ بٹائی پر کُچھ زمین ہالیوں ( مزارعوں) سے کاشت کراتے تھے – اس طرح زمین کے مالک کو پیداوار کا نصف حصہ ملتا تھا – اس بندوبست کو اَدھ تے ڈِتی ہوئی زمین کہا جاتا تھا- ہالی (مزارع) بے زمین لوگ ہوتے تھے ، اپنی زمین نہ ہونے کی وجہ سے وہ نصف پیداوار معاوضے پر دُوسرے لوگوں کی زمینیں کاشت کرتے تھے – اس معاشی مساوات کے باعث کوئی خاندان رزق سے محروم نہیں رہتا تھا –
گندم کی فصل کاٹنے کے دنوں میں خاصی رونق لگ جاتی تھی – کام جلد نمٹانے کے لیئے ہمسائے اور رشتہ دار بھرپُور تعاون کرتے تھے – اس طریقہ ء کار کو “مانگھ“ کہتے تھے- بعض علاقوں میں وِنگار بھی کہا جاتا تھا – مانگھ میں حصہ لینے والوں کے لیئے وسیع پیمانے پر سپیشل قسم کا حلوہ بنتا تھا ، جس میں گُڑ ، گھی اور آٹا برابر مقدار میں ڈالا جاتا تھا – اسے مانگھ والا حلوہ کہتے تھے۔ یہ گھی میں تر بتر حلوہ نہایت لذیذ ہوتا تھا – جس نے کھایا ہو وہی جانتا ہے کہ یہ کیا نعمت ہوا کرتی تھی – مانگھیوں ( مانگھ میں حصہ لینے والوں ) کو چیلنج کیا جاتا تھا کہ شاباش ، آج حلوہ مُکا کر (ختم کر کے) دکھاؤ – حلوہ اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ بالآخر مانگھیوں کو ہی ہاتھ کھڑے کرنے پڑتے تھے-گذر گیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ———————- رہے نام اللہ کا —١٥  اپریل  2022 

میرا میانوالی- 

غُربت بہت زیادہ تھی ، مگر لوگ پھر بھی اللہ کا شُکر ادا کرتے تھے – جس سے پُوچھتے کیا حال ہے ؟ ایک ہی جواب ملتا تھا “ اللہ کا شُکر“ ہے –
مقامی طور پر گندم کی کٹائی کا کام محدود ہوتا تھا – جن لوگوں کو اپنے علاقے میں کام نہ مل سکتا وہ اہل وعیال سمیت گندم کی کٹائی کے لیئے خوشاب ، مظفر گڑھ ، ملتان وغیرہ کے نہری علاقوں کا رُخ کرتے تھے – کٹائی کا معاوضہ ہر فرد کو اُس کی کاٹی ہوئی فصل کا دسواں حصہ ملتا تھا – معاوضے کا حساب کٹی ہوئی گندم کی گڈیوں (گٹھوں) سے لگاتے تھے – – مرد ، عورتیں ، بچے سب دن بھر کام میں لگے رہتے تھے – – یہ کام تقریبا ایک ماہ چلتا تھا – لوگ اپنے معاوضے کی گندم ساتھ لے کر اپنے گاؤں واپس آتے تھے –
فصل کی کٹائی کو ہمارے علاقے میں لَو کہتے تھے – لَواں تے ویندے پئے ہاں کا مطلب تھا ہم فصل کی کٹائی کے لیئے کسی دُوسرے علاقے میں جارہے ہیں – جانے والوں کی رُخصتی کا منظر بہت جذباتی ہوتا تھا – جانے والے اور رُخصت کرنے والے سب رو رہے ہوتے تھے ، – کیونکہ ایک مہینے کی مسافرت میں کُچھ بھی ہو سکتا تھا – اس ایک ماہ کے دوران رابطے کی بھی کوئی صُورت نہ تھی ، فون تو درکنار خط بھیجنا بھی ممکن نہ تھا ، کیونکہ ان مسافروں کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا – ایک جگہ کام ختم ہوتا تو کسی دُوسری جگہ منتقل ہو جاتے –
ایک ماہ بعد واپس آتے تو عید کا سماں ہوتا تھا – دوستوں ، عزیزوں ، رشتہ داروں کے ہاں دعوتوں کا سلسلہ کئی دن چلتا تھا – وہ خلوص، محبت ، پیار ، تعاون اب کہاں –
گُذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ———————- رہے نام اللہ کا —- ١٦  اپریل  2022 

میرا میانوالی- 

گندم کی فصل کٹ جاتی تو بچے کھیتوں میں چل پھر کر گندم کے گِرے پڑے سِٹے چُنتے اور جھولیوں میں بھر کر دکانوں پر لے جاتے – دُکان دار ہر بچے کے لائے ہوئے سِٹے ترازُو میں تول کر ان کی قیمت بتا دیتے – جتنے پیسے بنتے اُن سے بچے کھانے پینے کی چیزیں ٹانگری ، چُوپنڑیاں (چُوسنے والی میٹھی گولیاں) ، لاچی دانہ ، توشہ ، تِلوں کا مرُنڈا ، مونگ پھلی وغیرہ خرید لیتے تھے – کبھی یوُں بھی ہوتا کہ اپنی پسند کی کھانے کی چیزیں لینے کے بعد بھی کُچھ پیسے بچ رہتے تو بچہ کہتا ان پیسوں سے میری نِکی بہن کے لیئے کوئی چیز دے دو –
کیا معصُوم دور تھا – اگر چہ ہمارا گھرانہ اللہ کے فضل سے داؤدخیل کے کھاتے پیتے گھرانوں میں شمار ہوتا تھا، گھر سے روزانہ جیب خرچ بھی ملتا تھا ، مگر یہ سِٹے بیچ کر چیزیں خریدنے والی عیاشی ہم بھی کِیا کرتے تھے – اسے ہم اپنی کمائی سمجھتے تھے –
کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مُجھے———————— رہے نام اللہ کا ——١٧  اپریل  2022 

 میرا میانوالی-

چنے کی فصل بھی انہی دنوں ، گندم سے ذرا پہلے تیار ہوجاتی تھی – چنا تھل کی ریتلی زمین کا اُگلا ہوا سوناہے – بہت درویش قسم کی فصل ہے ، نہ کاشت کرنے میں مشقت ، نہ باربار آبپاشی کی ضرورت –
چنے کا پودا زمین سے سر نکالتے ہی ظُلم و ستم کا نشانہ بننے لگتا ہے – اس کی نرم کونپلیں کچی بھی کھائی جاتی ہیں ، ساگ کی طرح سالن بنا کر بھی کھاتے ہیں ، جسے پَلی کا ساگ کہتے ہیں –
جب پودے پر پھلیاں لگتی تھیں ( ہم انہیں ڈَڈے کہتے تھے) تو ان سے کچے سبز چنے نکال کر لوگ بڑے شوق سے کھاتے تھے – کچے سبز چنوں کا بہت لذیذ سالن بھی بنتا تھا –
جب فصل پکنے کے قریب آتی ہے تو ڈڈوں کا رنگ پِیلا اور دانہ سخت ہونے لگتا ہے – اس موقع پر چنے کے پودوں کو آگ پر رکھ کر تراڑا بنایا کرتے تھے – پودے تو جل کر راکھ ہو جاتے ، آگ پر بھُنے ہوئے ڈڈے راکھ میں سے چُن کر کھاتے تھے – یہ بھی بہت مزیدار چیز تھی – چھلکا اُتارتے وقت راکھ سے پہلے ہاتھ کالے ہوتے ، پھر کھاتے وقت مُنہ بھی کالا ہوجاتا تھا – بچوں کو اس حال میں دیکھ کر ماؤں کی چیخیں آسمان تک سُنائی دیتی تھیں – استقبالیہ جُملہ یہ ہوتا تھا
“وے مُوذی ، وت مُنہ کالا کر آیا ایں ، شالا نہ جما تِھیویں “ –
چنا دو قسم کا ہوتا ہے ، ایک سفید دُوسرا کالا ، سفید تو برائلر مُرغی کی طرح صرف سالن (آلُو چھولے، چکن چھولے وغیرہ) کی شکل میں ہی کھایا جا سکتا ہے – ہمارے علاقے میں کالا چنا کاشت ہوتا تھا – کالےچنے سے بے شمارقسم کی کھانے کی چیزیں بنتی ہیں – ان کی تفصیل ان شآءاللہ کل بیان ہوگی –——————— رہے نام اللہ کا —١٨  اپریل  2022 

میرا میانوالی- 

دن کے تیسرے پہر ( ظُہرکے بعد) مُٹھی بھر گرماگرم تازہ بُھنے ہوئے چنے کھانا ہمارے داؤدخیل کا مستقل رواج تھا – ہمارے محلے میں ماسی مہراں مَچھیانی دانے بھُوننے کا کام کرتی تھی – دانے بُھوننے کے سسٹم کو دانگی کہتے تھے – تیز آگ پر کڑاہی میں ریت گرم کر کے اُس گرم ریت میں دانے ڈال دیتے ، ایک دو منٹ میں دانے بُھن جاتے تھے – ماسی مہراں کی دانگی پر دوپہر ہی سے بچوں کی قطاریں لگ جاتی تھیں –
چنے کے دانے دو طرح سے بُھونے جاتے تھے – چھلکے سمیت بُھنے ہوئے دانوں کو روڑے کہتے تھے ، چھلکے کے بغیر بُھنے دانوں کو ڈالیاں – روڑے بُھوننے سے پہلے اُن پر ہلکا سا نمک بھی لگایا جاتا تھا – ڈالیاں بنانے کے لیئے بُھنے ہوئے چنوں کو مٹی کی ڈولی سے رگڑا جاتا تھا – اس طرح چھلکا الگ ہو جاتا تھا ، اور دال کی طرح چنے کے دو ٹکڑے ہو جاتے تھے – زیادہ تر لوگ ڈالیاں ہی پسند کرتے تھے –
تازہ بُھنے ہوئے گرم چنے زُکام کا سوفیصد کامیاب علاج تھا – مُٹھی بھر چنے کھانے کے ایک آدھ گھنٹہ بعد زُکام غائب ہو جاتا تھا – ہم نے یہ علاج بارہا آزمایا – ضرورت ہو تو آپ بھی آزما کر دیکھ لیں –
بُھنے ہوئے چنے کے دانوں کو پیس کر ، گھر کا خالص دیسی گھی اور شکر ملا کر کھانے کا ایک الگ لُطف ہے – بہت لذیذ چیز ہے – ہم اسے چنے کا آٹا کہتے تھے –
چنے کی دال کے علاوہ ثابت کالے چنے کا سالن بھی بہت مزے کا ہوتا تھا – کالے چنے کا شوربہ گلے اور پھیپھڑوں کی صفائی کے لیئے بہت مؤثر سمجھا جاتا تھا –
کچے چنے کے آٹے میں نمک ، مرچ اور پیاز ڈال کر تندُور پر روٹیاں پکائی جاتی تھیں ، انہیں ہم مِسی روٹی کہتے تھے – خالص گھی سے چُپڑی ہوئی مِسی روٹی اور پتلی نمکین لسی دوپہر کا بہترین کھانا ہوا کرتا تھا –
چنے کی دال کا حلوہ بھی ایک زبردست نعمت ہوا کرتا تھا –
ان تمام کھانوں کی خُوبیاں تسلیم ، مگر اب بنائے کون ، کیونکہ :   گُذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ——————— رہے نام اللہ کا —١٩  اپریل  2022 

میرا میانوالی- 

توحیدآباد سے ہمارے محترم ساتھی ماحی خان نے ایک سنگین صورتِ حال کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال کے پہلے چارماہ سے بھی کم عرصے میں ضلع میانوالی میں 24 افراد قتل ہو چُکے ہیں – ماحی خان نے اس انتہائی تشویشناک صُورتِ حال کے بارے میں اظہارِخیال کرنے کو کہا ہے –
یہ صُورتِ حال واقعی تشویشناک ہے – اس کے سدِباب کے لیئے کُچھ نہ کُچھ کرنا ہم سب کا فرض ہے – قتل کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے اسباب میرے خیال میں یہ ہیں –
١۔ برداشت کا فقدان ——– اللہ جانے کیوں ، غصہ ہمارا کلچر بنتا جارہا ہے – معاملہ مذہبی ہو ، سیاسی ہو یا ذاتی , اختلاف برداشت نہیں کیا جاتا – پہلے ایسا نہیں تھا – ایک ہی گھر میں ایک بھائی بریلوی ایک دیوبندی ، ایک شیعہ ، یا ایک مسلم لیگی ، ایک پیپلز پارٹی کا جیالا ، ایک تحریک انصاف کا متوالا مل جُل کر رہتے تھے – بات تھوڑی بہت زبانی کلامی تُو تکار سے آگے نہیں بڑھتی تھی – ذاتی سطح پر بھی لوگوں کا ظرف اتنا بڑا تھا کہ چھوٹی موٹی زیادتیاں نظرانداز کر دیتے تھے ، مگر اب تو اللہ معاف کرے ذرا ذرا سی بات کا جواب زبان کی بجائے بندوق سے دیا جاتا ہے – پہلے تو ایسا بالکل نہیں ہوتا تھا –
2. قتل و غارت کے کُچھ اور اسباب بھی بالکل واضح ہیں ، اسلحے کی بھرمار ، ڈھیلا ڈھالا قانُون ، لُولا لنگڑا نظام عدل وانصاف ، جُرم کرنا بھی آسان ، سزا سے بچ نکلنا بھی آسان ، گواہوں کی خرید و فروخت ، پیسے لے کر “فی سبیل اللہ“ معافیوں کے اعلان ، اس قسم کی سہولتوں نے جُرم کرنا آسان بنا دیا ہے – نوجوانوں کو اخلاقی تربیت نہ گھر سے ملتی ہے ، نہ سکول سے، نہ مسجد سے – کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ایک قتل سے دوگھر اُجڑ جاتے ہیں ، مقتول کا گھر بھی برباد ، قاتل کا بھی ویران – اللہ معاف کرے –
اس صُورتِ حال کے تدارک کے لیئے مقامی سطح پر ثالثی کمیٹیاں یا پنچایت کا نظام بہت کار آمد ثابت ہو سکتا ہے – ہر تھانے کے علاقے میں ایسا نظام ہونا چاہیئے – اساتذہء کرام ، علمائے عظام اور معززین علاقہ پر مشتمل امن کمیٹیاں یا ثالثی کمیٹیاں بنائی جائیں – انسان خلوصِ نیت سے کوئی کام کرنے کا تہیہ کر لے تو طریقے بہت ، اللہ کی مدد بھی شاملِ حال ہوتی ہے –وما علینآالاالبلاغ –—————— رہے نام اللہ کا —–٢٠  اپریل  2022 

میرا میانوالی- 

گندم کی فصل سال بھر کے رزق کا وسیلہ شمار ہوتی تھی – محلے کے دکان داروں سے پچھلے سال کے دوران اُدھار لیئے ہوئے سودے کی قیمت بھی گندم کی صُورت میں ادا کی جاتی تھی – گندم بیچ کر بچوں بچیوں کی شادیوں کا اہتمام بھی کِیا جاتا تھا – اسی لیئے یہ موسم شادیوں کا موسم کہلاتا تھا –
سادگی کا دور تھا ، شادی کے اخراجات بہت کم ہوتے تھے- لڑکے والوں کی طرف سے دلہن کے لیے کُچھ زیورات اور بارات کے کھانے کا خرچ ادا کیا جاتا تھا – ایک دو سونے کے دوچار چاندی کے زیور کافی سمجھے جاتے تھے – جہیز کی کوئی فرمائش نہیں کی جاتی تھی – لوگ حسبِ توفیق جہیز دیتے تھے –
جہیز عام طور پر سونے چاندی کے چند زیورات، دوچار جوڑے کپڑے ، ایک دو بستر ، جست کا بنا ہوا بکس جسے ٹرنگ کہتے تھے ، اور روز مرہ ضرورت کے چند برتنوں پر مشتمل ہوتا تھا – زمیندار لوگ ایک آدھ دیسی مُرغی اور بکری بھی دیا کرتے تھے – میکے سے ملی ہوئی مُرغی اور بکری دُلہن کی نظر میں وی آئی پی شمار ہوتی تھی – دلہن میکے کی مُرغی اور بکری کو اپنے میکے گھر کے فرد سمجھ کر اُن کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھتی تھی –
جہیز میں قریبی رشتہ دار بھی چیزوں یا نقد رقم کی صُورت میں حصہ ڈالتے تھے – دولت کی حرص و ہوس سے پاک معاشرے میں بچوں کی شادی بوجھ نہیں بنتی تھی –
—————– رہے نام اللہ کا —————٢١  اپریل  2022 

میرا میانوالی-

سلام یا علی۔۔۔۔۔۔۔


تونےسمجھا تھا جسے قتل کیا ھے تو نے،


ابن ملجم ترا مقتول ابھی زندہ ھے۔  –
٢١  اپریل  2022 

میرا میانوالی-

عشق ہوش و حواس چھین لیتا ہے ، مگر ایک عشق ایسا ہے جس میں ہوش و حواس قابُو میں رکھنا ضروری ہے – ذرا سی لغزش ہوئی اور سب کُچھ ضبط ، سب محنت رائگاں –
اقبال نے کہا تھا —-
ادب گاہیست زیرِآسماں از عرش نازک تر
نَفَس گُم کردہ می آید جُنید و بایزئد ایں جا
( زمین پر ایک جگہ ایسی بھی ہے جو ادب و احترام کے لحاظ سے عرش سے بھی زیادہ حساس ہے – یہاں جُنید بغدادی اور بایزید بسطامی جیسے بلند پایہ ولی آللہ بھی احترام کی وجہ سے سانس روک کر حاضری دیتے ہیں)-
ادب و احترام کی یہ جگہ دربارِ رسالتمآب صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہے – ادب و احترام کا حُکم دیتے ہوئے رب العرش العظیم نے قرآنِ حکیم میں دو ٹوک الفاظ میں حُکم جاری فرما دیا کہ خبردار نبی سے اُونچی آواز میں بات بھی کی تو تمہارے سب اعمال ضبط کر لیئے جائیں گے –یاد رہے ، یہ حُکم ان لوگوں کو دیا گیا جنہوں نے اسلام کی خاطر گھر لُٹا دیئے ، نماز ، روزہ ، حج ،زکوات کے احکام پر سختی سے کاربند رہے ، اُن سے یہ کہا جا رہا ہے کہ میرے نبی سے اُونچی آواز میں بات بھی کی تو نمازیں روزے حج زکوات ، جان و مال کی سب قُربانیاں ضائع ہو جائیں گی –
اقبال نے اس موضوع پر بہت خوبصورت بات کہی ہے ————-
باخدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار
( خدا سے بے شک لڑ جھگڑ بھی لیا کرو ، مگر محمد کے سامنے ہوش و حواس میں رہنا)
ایک شاعر نے یہ بھی کہا تھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں –
بقول صُوفی شاعر حضرت محمد بخش علیہ الرحمہ ڈریں اُس وقت سے —-
جس دن آکھیا پاک محمد ایہہ نئیں اُمت میری
———– اللہم صل علی محمد و علی آل محمد ———————————– رہے نام اللہ کا ——————–٢٢  اپریل  2022 

میرا میانوالی- 

الحمد للہ الکریم – آپ کی دعاؤں سے طبیعت بحال ہوگئی – بہت شکریہ ، رب ِ کریم آپ کو بے حساب اجرِ خیر عطا فرمائے – اللہ کا شُکر ہے کوئی زیادہ سیریئس مسئلہ نہ تھا – ہلکا سا بُخار تھا -جس کی وجہ سے صبح بستر سے اُٹھنے اور کام کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی – پیناڈول کی دو گولیوں سے بخار جاتا رہا –
دوا کی اہمیت اپنی جگہ ، مگر میری نظر میں دعا ہمیشہ زیادہ اہم رہی ہے – دعاؤں ہی کی خاطر آپ کی محفل میں روزانہ حاضری دیتا ہوں – بیماری تو کیا ، دعا اگر دل سے نکلے تو موت کو بھی ٹال دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
بہت عرصہ ہوا ایک رسالے میں ایک صاحب کا لکھا ہوا یہ واقعہ پڑھا تھا کہ اُن کی بہن کی بغل میں کینسر کا پھوڑا نمُودار ہوا – اُن کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے – شدید درد کی وجہ سے بچاری بہت چیختی چلاتی تھیں – کراچی کے ایک ہسپتال میں لے گئے – نرس نے پھوڑا دیکھا تو چیخ مار کر بے ہوش ہوگئی ، کیونکہ زخم اتنا گہرا تھا کہ مریضہ کی پسلیاں نظر آرہی تھیں – ڈاکٹر نے کہا زخم لا علاج ہے – مریضہ جب تک زندہ ہے اذیت میں اضافہ ہوتا رہے گا – بس دُعا کریں کہ اللہ اسے زندگی کی قید سے رہائی دے دے –
وہ صاحب کہتے ہیں اُس وقت مجھے احساس ہوا کہ صرف موت نہیں ، زندگی اور شفا بھی تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے ، کیوں نہ موت کی بجائے زندگی مانگ لی جائے –
اس رات میں نے بہن کے بچوں کو بھی نماز کے لیئے تیار کیا اور نماز کے بعد ہم سب نے رو رو کر مریضہ کی صحت یابی کے لیئے دُعا کی – صبح بہن نے کہا آج درد کُچھ کم ہے – یہ سُن کر ہمارا حوصلہ بڑھا اور ہم ہر رات اسی طرح رو رو کر دعا کرنے لگے – مریضہ کی حالت بہتر ہونے لگی – دس پندرہ دن بعد زخم کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا –
اکثر کہا کرتا ہوں کہ جب چاروں طرف کوئی مدد کرنے والا نظر نہ آئے تو ایک نظر اُوپر بھی دیکھ لیا کریں – ایسے عالم میں مدد زمین سے نہیں آسمان سے آتی ہے –————- رہے نام اللہ کا —————–٢٤  اپریل  2022

میرا میانوالی-

دیہات میں بازار تو ہوتے نہیں تھے ، ہر محلے میں ایک آدھ دُکان ہوتی تھی ، جہاں روزمرہ ضرورت کی چیزیں دستیاب ہوتی تھیں – عید سے چند دن پہلے گاؤں میں بنجارے چُوڑیاں ، پیتل کے زیور ، میک اپ کا سستا سامان ، چھوٹے موٹے برتن وغیرہ گلی کلی پھر کر بیچا کرتے تھے –
یہ بنجارے خانہ بدوش لوگ تھے ، جو چند دن ایک گاؤں میں گُزار کر دُوسرے گاؤں کی راہ لیتے تھے – ان کا قیام عام طور پر مساجد میں ہوتا تھا – کھانے پینے کا بندوبست محلے کے لوگ کر دیتے تھے – صُبح سویرے سامان کے ٹوکرے سر پر رکھ کر یہ گلی گلی پھرنے لگتے تھے – لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیئے ان کی مخصوص صدائیں ہوتی تھیں ، جو دُور تک سنائی دیتی تھیں ، یہ صدائیں لوک گیتوں کی صورت میں ہوتی تھیں – داؤدخیل کے محلہ امیرے خیل میں بزرگ شادی بیاہ کے موقعوں پر ایک لوک گیت گایا کرتے تھے جس کا ابتدائی بول تھا “ بھلا ونجارا“ – یہ گیت ونجاروں کی زندگی اور جذبات کی عکاسی کرتا تھا –
ساحر لُدھیانوی کا لکھا ، محمد رفیع کا گایا ہوا مقبُول گیت “ بستی بستی ۔ پربت پربت ، گاتا جائے بنجارا ، لے کر دل کا اِکتارا “ بھی بنجاروں کی زندگی کی خُوب عکاسی کرتا ہے – ساحر لُدھیانوی کے گیتوں کے مجموعے کا نام بھی “گاتا جائے بنجارا “ ہے – بنجاروں کا ایک اپنا کلچر تھا ، اب نہ بنجارے ہیں نہ اُن کا کلچر –
گُذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ————————– رہے نام اللہ کا  –٢٥  اپریل  2022 

میرا میانوالی- 

پکچر اور شعر میرا،

آرٹ ۔۔۔۔۔ محمد احسن شاہ کاظمی۔٢٥ اپریل  2022

میرا میانوالی-

شوتیِر بھی عید کی خاص روایت ہوا کرتی تھی – شوتِیر بڑے سائیز کی دس بارہ فُٹ اُونچی پِینگ ہوتی تھی جو شہر میں کھُلی جگہوں پر نصب کر کے نوجوان لوگ جُھولا جُھولنے کا شوق پُورا کرتے تھے –

شوتَیر محض جھُولا نہیں بلکہ زورآزمائی کے مظاہرے کا وسیلہ ہوا کرتا تھا – شوتیر چڑھانے کے مقابلے دن بھر چلتے رہتے تھے – دو نوجوان آمنے سامنے شوتیِر کے پائدان پر کھڑے ہو کر پاؤں ، بازؤوں اور سینے کا پُورا زور لگا کر جھُولتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بلندی تک پہنچنے کی کوشش کرتے تھے – بہت مشقت طلب کام تھا – ایک جوڑی اپنی طاقت کا مظاہرہ کر لیتی تو دُوسری جوڑی آجاتی – یہ خالص نوجوانوں کا کھیل تھا ، بچے اور بزرگ میدان کے کنارے کھڑے ہوکر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے تھے –
بعض نوجوان اس فن کے خصوصی ماہر ہوا کرتے تھے – ہمارے محلے کے محمد عظیم خان ربزئی شہر کے سب سے بڑے شوتِیر باز تھے – اب یہ سب رونق میلے خواب و خٰیال ہوگئے-——– رہے نام اللہ کا ——-  –٢٦  اپریل  2022 

میرا میانوالی-

کتنا شوق ہوتا تھا عید کے کپڑےخریدنے ، سِلوانے اور پہننے کا —-
دراصل سال بھر میں صرف عید کے موقع پر ہی بچوں کو اپنی پسند کا لباس بنواکر پہننے کا موقع ملتا تھا – سال کے دوران والدین لاکھ بھی اچھے کپڑے بنوا کر دیتے رہتے ، اپنی پسند تو پھر اپنی پسند ہوتی ہے نا –
جب میں چار پانچ سال کا تھا تو میں نے اپنی پسند پر جامنوں رنگ (بینگن کا رنگ) کی ریشمی قمیض اور اعلی سفید لٹھے کی شلوار کا کپڑا خرید ا – سِلوانا خاصا مشکل کام تھا ، کیونکہ شہر میں صرف دو چار درزی تھے اور ان کے پاس کام بہت زیادہ تھا – بڑی مشکل سے محلہ داؤخیل میں رضامحمد کمہار میرا جوڑا سِینے پر رضا مند ہوئے – رضا محمد دُوسرے تیسرے درجے کے درزی تھے ، مگر ہم نے پھر بھی شُکر کیا کہ کسی نے ہامی تو بھر لی –
ابھی عید سے پہلے دوچار دن باقی تھے – ہم تصور میں خود کو وہ جوڑا پہنے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہے – چاچا رضامحمد نے عید سے ایک دن پہلے جوڑا تیار کر کے دینے کا وعدہ کیا تھا – اُس صبح اتنی شدید بارش ہوئی کہ گلیاں دریا بن گئیں – جُونہی بارش تھمی میں نے اپنے دوست محمد صدیق خان بہرام خیل کو ساتھ لے کر رضامحمد درزی کے گھر کی راہ لی – ہر طرف پانی ہی پانی تھا – بہت لمبا چکر کاٹ کر ہم پانی سے بچتے بچاتے رضامحمد کے ہاں پہنچے – جوڑا تیار تھا ، دیکھ کر دل خوش ہو گیا –
گھر پہنچ کر جوڑا اپنے کمرے میں کھونٹٰی پر ٹانگ دیا – دن میں کئی بار اسے دیکھنے کے علاوہ رات کو بھی دوچار بار اُٹھ کر اس کو دیکھا – خدا خدا کرکے صبح ہوئی اور ہم وہ جوڑا پہنے اکڑ کر چلتے ہوئے نماز عید کے لیئے مسجد روانہ ہوئے –
بچپن میں زندگی کی سب سے بڑی خوشی عید کے دن نئے کپڑے پہن کر لوگوں سے داد و تحسین پانے سے ملتی تھی –———————— رہے نام اللہ کا —-٢٧ اپریل 2022 

میرا میانوالی- 

سردی کے موسم میں روزے بہت آسان ہوتے ہیں – دن چھوٹے ، راتیں لمبی ، پیاس لگتی ہی نہیں ، افطاری کے وقت شربت کے گلاس پہ گلاس پینے کی بجائے ایک کپ چائے سے تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس ختم – فروٹ چاٹ ، آئیسکریم وغیرہ کی بجائے چائے کے ساتھ دو چار تازہ گرم پکوڑوں سے کام چل جاتا ہے – سمارٹ لوگوں کو یہ سمارٹ روزے بہت اچھے لگتے ہیں – گرمی کے موسم میں تو گھر سے باہر نکلنا زہر لگتا ہے ، سردی کے موسم میں چلتے پھرتے ، کام کرتے ، وقت گذرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا –
سردی کے موسم میں رمضان المبارک 12 سال ( نومبر ، دسمبر ، جنوری ، فروری ، ہر ماہ میں تین بار) آتا ہے – اسی طرح 12 سال گرمی کے موسم میں ( مئی ، جون ، جولائی اگست ، ہر ماہ میں تین بار ) آتا ہے – ستمبر اکتوبر اور مارچ اپریل میں موسم معتدل ہوتا ہے ، اس لیئے روزہ زیادہ مشکل نہیں ہوتا –
بات موسم سے زیادہ ایمان کی ہے – ہم نے وہ دور بھی دیکھا ، جب نہ بجلی تھی ، نہ ائیر کُولر ، نہ اے سی ، نہ فریج ، دن لمبے ، گرمی بے انتہا ، مگر پھر بھی لوگ روزہ قضا نہیں کرتے تھے – ایسے صاحب ایمان لوگ آج بھی موجُود ہیں جو شدید گرمی میں بھی پُورا مہینہ روزے رکھتے ہیں – یہ لوگ اُن دیہات میں رہتے ہیں جہاں آج بھی بجلی ، فریج ، اے سی وغیرہ کُچھ بھی نہیں ہوتا – ایسے لوگ اصل ہیرو اور رول ماڈل ہیں –
اللہ کریم ہم سب کی عبادات ، صدقات ، خیرات قبول فرمائے –———————- رہے نام اللہ کا —–٢٨  اپریل  2022 

 میرا میانوالی-تم سے بچھڑ کر کب تک زندہ رہنا ھے ؟؟؟


اہلیہ کی دوسری برسی ،
مرحومہ کے لیئے مغفرت و رحمت
کی دعا فرمائیں  –
30 اپریل  2022 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top