MERA MIANWALI JUN 2019

MERA MIANWALI JUN 2019

MERA MIANWALI JUN 2019

منورعلی ملک کےجون 2019 کےفیس بک پرخطوط

میرا میانوالی—————-

بشکریہ-منورعلی ملک–1 جون2019

میرا میانوالی—————-

کل کی پوسٹ میں عیدالفطر پر مرغی کی قربانی کا ذکر ھؤا تو کچھ دوستوں نے خاصے دلچسپ کمنٹس کے ذریعے کچھ بھولی بسری معصوم رسمیں یاد دلائیں – ڈاکٹر حنیف نیازی اور مجیب اللہ خان نیازی نے مرغی پکڑنے کی جدوجہد یاد دلائی – یہ بھی اچھا خاصا ڈراما ھوتا تھا – نکا خان نے بتایا کہ مرغی پکڑنے والی ٹیم کے کپتان کو مرغی ذبح ھونے کے بعد مرغی کی سری Man of the Match ایوارڈ کےن طور پہ ملتی تھی، جسے آگ میں بھون کر کھایا جاتا تھا –

داؤدخیل سے ھمارے ساتھی حقنوازخان نےیاد دلایا کہ مرغی کے سالن کی خوشبو گلی تک جاتی تھی -عزیز اللہ خان نے کہا اس خوشبو کے پیچھے ارد گرد کے گھروں سے لوگ سالن مانگنے بھی آجاتے تھے -سالن مانگنے کی نوبت بہت کم آتی تھی – سالن بنانے والی مائیں بہنیں ھمسایوں کا بہت خیال رکھتی تھیں – وہ دریا دل خواتین سالن اتنا وافر بناتی تھیں کہ بمسایوں رشتہ داروں کے علاوہ مانگنے والوں کے لیے بھی کافی ھوتا تھا –
مانگنے کا طریقہ بہت دلچسپ تھا – کوئی خاتون گھر سے دال یا سبزی کی پلیٹ لے کر آتی اور کہتی

“ ماسی ، اے تساں چا گھنو تے تھوڑا جیہا ککڑی دا لاؤںڑن (مرغی کا سالن ) ڈیو، جو او منافق (شوھر?) ڈال سبزی نی کھاندا –

حفیظ اللہ ھمدانی نے بتایا کہ بابا جی مرغی ذبح کرتے تو مرغی کی ٹانگیں پکڑنے کا فریضہ میں سرانجام دیتا تھا –
کچھ دوستوں کے کمنٹس پر تبصرہ انشآءاللہ کل ھوگا –
رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک–1 جون2019

میرا میانوالی—————-ایک اھم پیغام —————
عزیز ساتھیو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ –
عید کی شاپنگ کرتے ھوئے غریب رشتہ داروں اور ھمسایوں کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنا نہ بھولیں —- ان کے لیے بھی کچھ نہ کچھ ضرور خرید لیں –

بشکریہ-منورعلی ملک–2 جون2019

میرا میانوالی—————-

رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں کپڑوں کی خریداری شروع ھو جاتی تھی – مردوں کے لیے کپڑے کی ورائیٹی ھمیشہ محدود رھتی ھے – اس زمانے میں بزرگ سفید لٹھے کی چادر، لٹھے کا سفید کرتا اور سرپہ ململ کی پگڑی باندھاکرتے تھے-

غریب گھروں کے بچے اور نوجوان پاپلین (رنگدارکاٹن) کی قمیض اور سفید لٹھے کی شلوار پہنتے تھے – کھاتے پیتے گھرانوں کے بچے اور نوجوان نیم ریشمی لکیردار چک کی قمیض اور سفید لٹھے کی شلوار پہنتے تھے – امیرگھرانوں کے لوگ دوگھوڑا مارکہ جاپانی بوسکی یا ریشمی چک کی قمیض , سفید لٹھے کی شلوار پہنتے تھے – انہی دنوں لنن linen کا ریشمی کپڑا بھی مردانہ قمیض کا فیشن بن گیا – یہ کپڑا ھر رنگ میں مل جاتا تھا – شلوار بہرحال سفید لٹھے ھی کی چلتی تھی ٠ لفظ لنن بولتے وقت زبان کی ذرا سی لغزش سے گالی بن جاتا تھا ، اس لیے لوگوں نے اس کپڑے کا نام اپنے طور پہ لیلنگ leelung رکھ لیا – انگریزی کی ایسی تیسی -خواتین کے لیے کاٹن کی رنگا رنگ پھول دار چھینٹ ، ریشمی موراکین (وھی ساوی موراکین والی) دریائی ، ساٹن ، چکن ، ٹاسا وغیرہ ھوتا تھا – کپڑوں کی خریداری کے لیے خواتین ٹولیوں کی صورت میں جاتی تھیں – اور لڑ جھگڑ کر اپنی مرضی کی قیمت پر کپڑا خرید لیتی تھیں- دکان دار زیادہ تکرار نہیں کرتے تھے ، ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کے ساتھ کون متھا لگائے – جوپیسے وہ دے دیتیں دکان دار بخوشی قبول کر لیتے تھے-

گذرگیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–3 جون2019

میرا میانوالی—————-

چاند رات کو سارے شہر کے لوگ ھاتھ پاؤں پہ مہندی لگا تے تھے – بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سب لوگ مہندی سے رنگے لال ھاتھ پاؤں کے ساتھ گھر سے نکلتے تھے- مردوں کے ھاتھ پاؤں پہ مہندی مائیں ۔ بہنیں ، بیٹیاں لگاتی تھیں –

بازار میں مہندی پاؤڈر بھی ملتا تھا ، مگر اکثر خواتین دکانوں سے مہندی کے خشک پتے خرید لاتی تھیں ، کیونکہ پتوں کی قیمت پاؤڈر سے چار پیسے کم ھوتی تھی– پتوں کو کوٹ پیس کر گھر میں ھی پاؤڈر بنالیتی تھیں – پاؤڈر کو پانی میں گھول کر اس میں تھوڑا سا سرسوں کا خالص تیل بھی ملایا جاتا تھا ، تاکہ رنگ گاڑھا نکلے عید کی صبح مساجد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بعد جب لوگ دعا کے لیے ھاتھ اٹھاتے تو مہندی لگے لال ھاتھوں کی قطاریں دیکھ کر یقینا آسمان پر فرشتے بھی مسکرا دیتے ھوں گے — بہت پیارے ، سادہ و معصوم لوگ تھے –
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ——————————- رھے نام اللہ کا-
بشکریہ-منورعلی ملک–4 جون2019

اپنا بہت پرانا شعر ————————–
آج کے بعد تو بے شک مجھے پھر یاد نہ کر
روٹھنے والے مری عید تو برباد نہ کر

میرا میانوالی—————-عزیزساتھیو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ –
عید مبارک – رب کریم آپ کو بے حساب خوشیاں ّعطا فرمائے-

بشکریہ-منورعلی ملک–4  جون2019

میرا میانوالی—-سبحان ربی الاعلی ———–


دہلی کی جامع مسجد میں کل کی نمازعید کا منظر
یہ مسجد مغل شہنشاہ شاہ جہان نے تعمیر کروائی
اس کی تعمیر 1656 میں مکمل ھوئی
مسجد کا افتتاح ازبکستان سے آئے ھوئے امام بخاری نے کیا
بحمداللہ یہ مسجد آج بھی آباد ھے-

بشکریہ-منورعلی ملک–1 جون2019

میرا میانوالی—————-فیس بک مسینجر اور SMS کے ذریعے عید مبارک کے اتنے پیغامات موصول ھوئے , کہ الگ الگ جواب دینا ممکن نہیں – اللہ آپ سب کو سلامت رکھے —
نوازش، کرم، شکریہ ، مہربانی-بشکریہ-منورعلی ملک–6 جون2019

میرا میانوالی—————-

عید کا تیسرا دن ——————

بیرون ملک مقیم ان بے شمار ساتھیوں کے نام جو میری پوسٹس کا انتظار کرتے ، اور ھر پوسٹ کو گھر سے آیا ھؤا خط سمجھ کر بڑے شوق سے پڑھتے ھیں –

عزیز دوستو۔ اللہ آپ کو اور آپ کے اھل خانہ کو سلامت رکھے- آپ کی تمام مشکلات آسان فرمائے ، اور آپ کو بخیروعافیت گھر واپس لائے – میں اپنی فجر کی دعاؤں میں روزانہ آپ کو یاد رکھتا ھوں – آپ بھی میرے لیے دعا کرتے رھا کریں – اللہ ھماری محبت کے رشتوں کو سدا سلامت رکھے-

 رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک–7 جون2019

میرا میانوالی—————-

آج لوگوں کے پاس پیسہ بھی ھے ، سہولتیں بھی – عید منانے کے طور طریقے بھی نئے ھیں – لوگ یقینا بہت enjoy کرتے ھیں – تین چار سال کے کسی بچے سے بھی پوچھیں کتنی عیدی ملی تو جواب ھزاروں میں ملتا ھے – وقت وقت کی بات ھے –

ایک دور وہ تھا جب اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانوں کے بچوں کو بھی عیدی بس ایک روپیہ ملتی تھی – اور یہ ایک روپیہ خرچ کرنا بھی خاصا مشکل کام تھا – چیزیں بہت سستی تھیں – ورائیٹی بہت کم – آٹھ دس آنے ( آدھا روپیہ) میں پیٹ بھر جاتا تھا – بچہ لوگ عید کی صبح نئے کپڑے پہن کر سینہ تان کر گھر سے نکلتے – چاچا محمد اولیا ، حاجی سلطان محمود عرف حاجی کالا ، یا ماما حمیداللہ خان امیرے خیل کی دکان سے پانچ سات آنے کی جلیبیاں اور پکوڑے خرید تے – اورکہیں درخت یا دیوار کے سائے میں بیٹھ کر کھا لیتے تھے – جلیبیوں کے شیرے اور پکوڑوں کے تیل سے ھاتھ منہ ناک اور کپڑوں کا حشر نشر کرکے گھر آتے تو ماؤں کی فریادیں پورا محلہ سنتا –

“نویں نکور کپڑاں ناں اے حال کر آیا ایں ، موذی – شالا ککھ نہ راھوی – ونج دفع تھی – نکل گھرو —–
سیانے بچے دو چار آنے کے پکوڑے اپنی امی کے لیے الگ لے کر آتے اور لعنت ملامت سے بچ جاتے تھے -\دوستوں رشتہ داروں کے ھاں آنے جانے میں پورا دن گذر جاتا تھا – جس گھر میں بھی جاتے کچھ نہ کچھ ضرور کھانا پینا پڑتا تھا –
گذر گیا وہ زمانہ ۔ چلے گئے وہ لوگ——

رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–8 جون2019

میرا میانوالی—————-

عید کا دوسرا دن خواتین کی عید کہلاتا تھا – اس دن مرد گھروں سے باھر بہت کم نکلتے تھے – اگر کوئی نکلتا بھی تو گلی میں خواتین کو آتے دیکھ کر راستہ بدل لیتا – یا نظریں جھکائے چپ چاپ گذر جاتا – گلی میں رکنے کا سوال ھی کبھی پیدا نہ ھؤا – ماؤں بہنوں بیٹییوں کا احترام جزو ایمان تھا –

خواتین کی ٹولیاں محلے کی دکانوں سے اپنی ضرورت کی چیزیں خریدتی تھیں – دکا ن دار اپنا مال دکانوں کے سامنے چارپایوں پر بچھا دیتے تھے- بچیوں کے لیے پیتل کے زیورات ، انگوٹھیاں ، چھلے ، کانوں کی بالیاں ، پیتل کے کنگن ، کانچ کی چوڑیاں ۔ پاندریاں (پراندے) ، چینی اور شیشے کے سستے برتن ، جست (ایلومینیم) کے کٹورے، تھالیاں ۔ کھانے کی چیزیں ، چاول یا تلوں کا مرنڈا ، ریوڑیاں ، بچوں کے لیے کھٹی میٹھی گولیاں ،(چوپنڑیاں) ایسی بہت سی سیدھی سادی چیزیں ھوتی تھیں -شاپنگ کے بعد ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا بھی ھوتا تھا – خریدی ھوئی چیزوں پر تبصرے بھی ھوتے تھے- کچھ نہ کچھ کھانا پینا بھی ھوتا تھا –
اب نہ وہ زمانہ ھے ، نہ وہ سیدھے سادے صاف ستھرے کردار والے لوگ – اللہ رحم کرے –

 رھے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک–9 جون2019

میرا میانوالی—————-

عید کے تین دنوں میں تیسرا دن سب سے اھم سمجھا جاتا تھا – اکثر نوجوان لوگ اپنا عید کا خرچ اس دن کے لیے بچا رکھتے تھے – ھوتا یہ تھا کہ اس دن ماڑی انڈس ریلوے سٹیشن کے جنوب میں دریا کے کنارے درختوں کے جھنڈ میں واقع شاہ گل حسن کے مزار پر میلہ لگتا تھا – یہ میلہ ضلع میانوالی کا سب سے بڑا عوامی میلہ تھا – بھکر سے عیسی خٰیل تک کے لوگ اس میلے میں شریک ھونا فرض سمجھتے تھے – پانچ سال کے بچوں سے لے کر پچانوے سال کے بزرگوں تک سب لوگ اس میلے میں شریک ھوتے تھے -ماڑی انڈس ، کالاباغ اور داؤدخیل سے کچھ دکان دار یہاں کھانے پینے کی چیزوں کے فرشی سٹال لگاتے تھے – لوگ زمین پر ھی بیٹھ کر کھانا ، جلیبیاں یا پکوڑے کھا لیتے تھے – شوقین مزاج نوجوان پل کے پار کالاباغ جا کر اندھیری گلی کے سرے پر واقع محمد امین کی دکان کا سپیشل حلوہ کھایا کرتے تھے – یہ انتہائی لذیذ حلوہ بھی کالاباغ کی پہچان ھؤا کرتا تھا –
کھانے پینے کے سوا میلے میں اور کچھ ھوتے نہیں دیکھا – فرشی دکانوں پر وھی مال ھوتا تھا ، جو ھر جگہ عید کے پہلےدو دنوں میں دیکھنے میں آتا تھا – سنا تھا وھاں قریبی پہاڑیوں کی اوٹ میں زبردست جؤا بھی ھوتا تھا – پیشہ ور جواری دور دور سے آکر سب کچھ لٹا جاتے تھے – جیتنے والا کوئی خوش نصیب ھم نے تو کبھی نہیں دیکھا – شام کو واپس جاتے ھوئے سب اپنی قسمت کو کوستے ھی دیکھے –

میلے والے دن لاھور سے آنے والی ماڑی انڈس ٹرین سر سے پاؤں تک لوگوں سے لدی ھوتی تھی – سچی بات تو یہ ھے ٹرین نظر بھی نہیں آتی تھی – بھکر سے داؤدخیل تقریبا ڈیڑھ سو کلومیٹر پر محیط علاقے سے لوگ اسی ٹرین کے ذریعے میلے میں شرکت کے لیے آتے تھے – وہ منظر الفاظ میں بیان نہیں ھو سکتا – داؤدخیل کے جو لوگ کسی وجہ سے ٹرین سے رہ جاتے وہ پیدل ماڑی انڈس کی راہ لیتے تھے – میلے میں حاضری بہرحال ضروری سمجھی جاتی تھی –
میلہ سنا ھے اب بھی ھوتا ھے ۔ لیکن اب صرف مقامی لوگ ھی رسم پوری کر دیتے ھیں – وہ پہلے والی رونقیں اب کہاں –
گذر گیا وہ زمانہ ، چلے گئے وہ لوگ
رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک–10 جون2019

ٹر گیا ڈھولا رونق مک گئی گلیاں دی

داؤدخیل میں ھرسال عید کے دن سب سے مہنگا ، منفرد لباس پہننے والے غلام حسین خان ولد رنگی خان شکور خیل چند ماہ قبل اس دنیا سے رخصت ھوگئے –
اس عید پر گلیاں راہ دیکھتی رہ گئیں -م

لاقاتیں ———–


وتہ خیل کیسیٹ / سی ڈی ھاؤس لاری اڈا میانوالی میں
لیاقت علی خان اور ان کے صاحبزادے ساجد علی خان کے ساتھ

میرا میانوالی—————-

چند روز پہلے عید کا ذکر ھورھا تھا – اس حوالے سے ایک ایسی عید یاد آگئی جو مجھے کبھی نہ بھولے گی – یہ واقعہ ایک دو برس پہلے بھی لکھا تھا – بہرحال ، واقعہ دلچسپ ھے ۔ ایک بار پھر سہی –

صدر ایوب کا دور تھا – میری عمر اس وقت تقریبا 25 سال تھی — 29 رمضان المبارک کی شام عید کا چاند نظر نہ آیا – ریڈیو سے اعلان بھی ھؤا کہ ملک بھر میں کہیں بھی عید کا چاند نظر نہیں آیا – صبح جب سحری کے لیے اٹھے تو مساجد سے اچانک یہ اعلان فضا میں گونج اٹھا کہ تازہ سرکاری اعلان کے مطابق عید کا چاند نظر آگیا ھے ، اس لیے آج عید ھے سارے شہر نے یہ اعلان تسلیم کر لیا مگر میرا دل نہ مانا – میں نے روزہ رکھ لیا – صبح جب گھر والوں نے مذاق اڑانا شروع کیا تو تنگ آکر میں نے اپنے طور پر تصدیق کے لیے میانوالی کا رخ کیا –
عید کے دن ٹریفک کہاں – داؤدخیل کے بس سٹاپ پر کھڑا سوچ رھا تھا کہ اب کیا کروں – اچانک ایک ٹریکٹر آتا دکھائی دیا – اسے روک کر ڈرائیور کو بتایا کہ میں نے میانوالی جانا ھے – اس نے کہا میں نے تو پائی خیل تک جانا ھے – آپ آجائیں ، راستے میں میانوالی کی کوئی گاڑی مل گئی تو آپ کو اس پہ بٹھا دوں گا – کچھ آگے گئے تو ایک ٹرک آیا – اسے روکا – ٹرک ڈرائیور نے کہا میں نے موچھ جانا ھے – آپ کو پائی خیل سٹیشن پہ اتار دوں گا – دس بجے ایک ٹرین آتی ھے ، وہ آپ کو میانوالی پہنچا دے گی –

سٹیشن جاکر معلوم ھؤا کہ وہ لوکل ٹرین تو آج نہیں آئے گی – مایوس ھو کر پھر سڑک پر آگیا – اچانک موچھ کی طرف سے ایک تانگہ آیا – نہر کا پل کراس کرکے جنوب کی طرف مڑنے لگا تو میں نے پوچھا کہاں جانا ھے – کوچوان نے کہا میانوالی – میں نے کہا عید کے دن ؟؟؟ اس نے کہا میں کل رات موچھ میں تھا – اس تانگے کا سودا کرنے آیا تھا ، اب لے کر جا رھا ھوں ، آپ آنا چاھیں تو پانچ روپے لوں گا –

سودا وارے میں تھا – میں تانگے پہ بیٹھ کر میانوالی پہنچ گیا – یہاں میرے بہت پیارے دوست اور کلاس فیلو سابق ھیڈماسٹر بھائی شرافت خان شہبازخیل مل گئے – انہوں نے تصدیق کردی کہ چاند نظرآنے کی خبر درست ھے – ھم نے لاھور سے تصدیق کرلی تھی – اس کے بعد انہوں نے ایک ھوٹل پہ مجھے “افطاری“ کرائی ، اور میں ان سے اجازت لے کر داؤدخیل روانہ ھؤا –

واپسی پہ پھر ٹرہفک کا مسئلہ تھا – میری خوش نصیبی کہ جہاز چوک میں ٹریفک سارجنٹ کی ڈیوٹی پہ میرے بہت پیارے بیٹے ، قبیلہ امیرے خیل کے کفایت اللہ خان (مرحوم) کھڑے تھے – وہ میرے سابق سٹوڈنٹ تھے – انہیں بتایا کہ میں نے داؤدخیل جانا ھے – کہنے لگے “ سر، جو بھی گاڑی آگئی میں آپ کو اس پہ بٹھا دوں گا ، آپ فکر نہ کریں “
چند منٹ بعد بنوں جاتا ھؤا ایک ٹرک آیا، کفایت اللہ خان نے ڈرائیور سے کہا “ یہ میرے سر ھیں ، ان کو سڑک پر نہیں ، گھر پہنچا کر آگے جانا “

ڈرائیور نے حکم کی تعمیل کردی – یوں تقریبا 12 بجے میں بھی عید منانے والوں میں شامل ھو گیا –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–13 جون2019

میرا میانوالی—–

———–ملاقاتیں ———————


ڈاکٹر حنیف نیازی اور قمرالحسن بھروں زادہ کے ساتھ
کل شام

بشکریہ-منورعلی ملک–14 جون2019

میرا میانوالی ———————–

رب کریم نے انسان کو بہت adaptable بنایا ھے – یہ ھرقسم کے حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ھے – ایک وہ دور تھا جب نہ بجلی، نہ پنکھا ، نہ فریج ، نہ برف ، پھر بھی لوگ نارمل زندگی بسر کر لیتے تھے – بلکہ آج کے دور میں بھی کئی ماؤں کے لاڈلے جیلوں میں ان سہولتوں سے محروم پڑے ھیں – وقت ان کا بھی گذر جاتا ھے –
داؤدخیل ، بلکہ نہر کے کنارے واقع تمام شہروں اور دیہات میں بچوں اور نوجوانوں کا دن نہر کے کنارے گذرتا تھا – اب گھر میں سہولتیں میسر ھونے کی وجہ سے نہر کی رونق کچھ کم ھو گئی ھے -“>بزرگ نہر میں بہت کم نہاتے تھے ، کیونکہ ان کے نہانے کا انداز خاصا مشکل تھا – نہر کے کنارے کھڑے ھوکر پہلے چاروں طرف دیکھنا پڑتا تھا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رھا – پھر کپڑے اتار کر نہر کے کنارے رکھ دیتے اور بھاگ کر نہر میں گھس جاتے – باھر نکلنے سے پہلے بھی چاروں طرف دیکھ لینا ضروری تھا – جب تک حد نظر میں کوئی آتا جاتا دکھائی دیتا رھتا , نہر میں پڑے رھتے

خدا بخشے ھمارے دوست شاہ نواز خان اسی طرح نہر میں نہارھے تھے کہ ان کا ایک دوست ( یونین کونسل کا کلرک) ادھر سے گذرا – شاہ نواز خان فورا نہر سے نکل کر اس سے گلے ملے ، اہنی حالت کا خیال ھی نہ رھا – دوست کا حال احوال پوچھ کر چائے پانی کا پوچھا تو اس نے کہا “یار خدا سے ڈرو، پہلے کپڑے تو پہن لو – کوئی اس حال میں تمہیں دیکھ لے تو کیا کہے گا “

“اوئے تیری خیر!!!” کہہ کر شاہ نواز خان بھاگ کر نہر میں گھس گئے –

گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ
رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک–15 جون2019

میرا میانوالی—————-

جب گرمی ناقابل برداشت ھو جاتی ، تو بچے اپنے طور پر اللہ تعالی سے رابطہ کرکے بارش کا بندوبست کرا دیتے تھے –


رابطے کا طریقہ یہ تھا کہ بچے توے کی کالک سے ھاتھ منہ کالے کر لیتے – دوبچے ایک کپڑے کا ایک ایک سرا اپنے گلے میں باندھ کر ایک جھولی سی بنا لیتے- پھر بچوں کی یہ ٹولی ایک مخصوص نعرہ لگاتے ھوئے محلے کا چکر لگاتی – نعرہ یہ تھا —-
کالی بکری ، کالا شینہ
گھتو دانڑیں وسے مینہ —–
ا
اس نعرے کے پہلے اور تیسرے مصرعے کا مطلب تو ھم کبھی نہ سمجھ سکے، دوسرے مصرعے کا مطلب یہ تھا کہ ھماری جھولی میں دانے ڈالو تاکہ بارش برسے -ھر گھر سے مٹھی بھر گندم، چنا ، جو یا باجرہ مل جاتا – پھر ان تمام اجناس کو ایک بڑے دیگچے میں ڈال کر ابالتے- اس میں تھوڑا سا نمک بھی ڈال دیتے – یہ ابلے ھوئے دانے گھنگنیاں کہلاتے تھے – بچے یہ گھنگنیاں جھولیوں میں بھر کر خود بھی کھاتے ، راہ چلتے لوگوں کو بھی کھلایا کرتے تھے –

اللہ کے حضور میں یہ سادہ سی فریاد کبھی ناکام نہیں ھوتی تھی – اسی دن یا اس سے اگلے دن بارش ضرور ھو جاتی تھی –

توے کی کالک سے منہ کالا کرنے کا مقصد عاجزی اور اپنے گناھوں کا اقرار تھا – اللہ کو شاید یہی معصوم ادا پسند تھی- بارش ضرور ھو جاتی تھی —- سبحان اللہ —

رھے نام اللہ کا —بشکریہ-منورعلی ملک–16 جون2019

میرا میانوالی—————-

یہ تو درست ھے کہ ———– گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ

پھر بھی اس زمانے اور ان لوگوں کی باتیں آپ کو اچھی لگتی ھیں – اپنے آباؤاجداد سے عقیدت اور ان کی یادوں سے پیاراس بات کا ثبوت ھے کہ رشتوں کا احترام ابھی زندہ ھے ، اور جس قوم میں رشتوں کا احترام زندہ ھو وہ کبھی مٹ نہیں سکتی ماضی کے دور کے جن لوگوں کا میں ذکر کرتا ھوں ، آپ نے انہیں دیکھا بھی نہیں ، پھر بھی وہ آپ کو اچھے لگتے ھیں – ان کی سادگی ۔ سچائی ، خلوص ، معصومیت ، خوداری ، زندہ دلی ، مہمان نوازی آپ کو اچھی لگتی ھے – آپ کو فخر محسوس ھوتا ھے ان کا ذکر سن کر میں نے ان لوگوں کو اپنے بچپن اور جوانی کے دور میں دیکھا ھے – ان کی باتیں سنی ھیں ، ان سے بہت کچھ سیکھا ھے – ان کی کئی خوبیاں ایسی ھیں کہ ھم آج بھی اپنا لیں تو ھمارے بہت سے مسائل حل ھو سکتے ھیں – ان لوگوں کے کچھ اصول تھے ، اپنی سائنس تھی جس پر عمل کر کے وہ مطمئن اور صحتمند زندگی بسر کرتے تھے – لمبی عمر پاتے تھے –

مجھے اس سہانے دور کی باتیں لکھنے کا یہ فائدہ ھے کہ ان کے بدلے میں مجھے آپ کی دعائیں ملتی ھیں ، اور مجھے دعاؤں کی ضرورت ھروقت رھتی ھے – یہ باتیں لکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ھے کہ اس طرح یہ باتیں محفوظ ھو رھی ھیں – ھمارے کلچر کی تاریخ آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ ھو رھی ھے – یہ ایک اھم علمی کام ھے جس کی توفیق رب کریم نے مجھے عطا کی ھے –
ان شآءاللہ بہت کچھ لکھوں گا –
— رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک–17 جون2019

میرا میانوالی—————-

آپ نے تو لفظ “دانگی“ شاید پہلے کبھی نہ سنا ھو ، مگر ھمارے بچپن کے دور میں دانگی بہت اھم ھؤا کرتی تھی – دانگی اناج (گندم ، چنا، جو ، باجرہ وغیرہ) بھوننے کی بھٹی ھوتی تھی – یہ ماچھی قبیلہ کے گھروں میں ھوتی تھی –

ظہر کے وقت تازہ بھونے ھوئے گندم ،چنے ، یا باجرے کے دانے کھانا ایک مستقل رواج تھا – بچے ، بڑے ، سب بڑے شوق سے کھاتے تھے – بچے چھکوریوں یا تھالیوں میں دانے لے کر دانگی پر جاتے – ھمارے محلے میں چاچا مسن (غلام حسن) ماچھی کے گھر میں دانگی تھی – ماسی بھاگاں دانگی پر دانے بھوننے کاکام کرتی تھی – بچے قطار باندھ کر بیٹھ جاتے – ماسی بھاگاں باری باری سب کے دانے بھون دیتی تھی – اس کام کا معاوضہ مٹھی بھر دانے ھؤا کرتا تھا – دانے بھنوانے والے بچوں میں میں بھی اکثر شامل ھوتا تھا -بھونے ھوئے چنے زیادہ پسند کیے جاتے تھے – ھمارے دادا جی کہا کرتے تھے ، چنے کی طاقت دیکھو ، گھوڑا چنے کھاتا ھے ، اور جب گھوڑا دوڑتا ھے تو زمین کانپتی محسوس ھوتی ھے –

چنے کے دانے دو طرح سے بھونے جاتے تھے – “روڑے“ چھلکے سمیت ثابت چنے ھوتے تھے – “ڈالیاں“ چھلکے کے بغیر چنے کی دال جیسی ھوتی تھیں – ڈالیوں کو پیس کر ان میں گھرکا خالص گھی اور شکر ڈال کر کھانے کا ایک اپنا لطف تھا- مائیں کہتی تھیں اس سے دماغ بڑھتا ھے – پڑھنے لکھنے والے بچوں کے لیے یہ خوراک بہت اھم ھے – پڑھتے لکھتے توھم کیا تھے ، خالص گھی اور شکر ملا ھؤا چنے کا یہ آٹا بڑے شوق سے کھایا کرتے تھے –
گذر گیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ
رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک–18 جون2019

میرا میانوالی—————-

لفظ “پہارا“ بھی آپ نے شاید کبھی نہ سنا ھو – پہارا ھاتھ سے چلنے والی چکی پر گندم ، چنا ، باجرا وغیرہ پیسنے کی سہولت تھی ، جو کمہاروں کے ھاں دستیاب تھی –


ایک بڑے کمرے میں دوقطاروں میں دس بارہ چکیاں لگی ھوتی تھیں – خواتین اپنے گھروں سے دانے لا کر وھاں چکی پر پیستی تھیں – کمرے کے ایک کونے میں ایک ٹین پڑا ھوتا تھا – ھرخاتون اپنا کام ختم کرنے کے بعد مٹھی بھر آٹا اس ٹین میں ڈال دیتی تھی – یہی پہارے کے مالکوں کا معاوضہ تھا -شہر میں آٹے کی دو چار مشینیں بھی تھیں ، مگر زیادہ تر لوگ چکی کا آٹا پسند کرتے تھے – کہتے تھے اس میں برکت ھے – برکت ضرور ھوگی کیونکہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے اپنی صاحبزادی جناب سیدہ فاطمتہ الزھرا کو جہیز میں ایک چکی بھی دی تھی

چکی کے آٹے کا اپنا مزا ھوتا تھا –

پہارے پر دن بھر خواتین کا میلہ لگا رھتا تھا – خوب رونق رھتی تھی – ساسوں نندوں کے گلے شکوے ، اپنے شوھروں کی نقلیں اتار کر قہقہے لگانا ، کھانے پکانے کے طریقوں کا تبادلہ ، بہت سے موضوعات پر نہایت دلچسپ گپ شپ ھوتی تھی –

مجھے یہ سب کچھ اس لیے معلوم ھے کہ جب میں چار پانچ سال کا تھا تو امی کی سہیلی ماسی گل بختے جب بھی پہارے پہ جاتیں ، مجھے ساتھ لے جاتی تھیں –

گذر گیا وہ زمانہ چلے گئے وہ لوگ
– رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–19 جون2019

میرا میانوالی—————-

آج کل مصروفیات کچھ زیادہ ھیں – ایک تو اپنے پبلشر کی فرمائش پر انگریزی ادب کی تاریخ لکھ رھا ھوں – اس میں تھوڑی بہت ریسرچ بھی کرنی پڑتی ھے ، مگر کام میری پسند کا ھے کہ ساری زندگی انگریزی زبان اور ادب ھی پڑھاتا رھا ھوں – انگریزی اخبارات میں کالم نگاری کے علاوہ ایم اے انگلش کے لیے درجن بھر کتابیں بھی لکھ چکا ھوں – سو یہ کام میرے لیے بوجھ نہیں –

اس کے علاوہ کچھ دوستوں کی کتابوں کے بارے میں تعارفی پوسٹس بھی لکھنی ھیں – جو دوست مجھے اپنی کتابیں عنایت کرتے ھیں ، یہ ان کا حق بنتا ھے، اور میرا فرض -مظہر نیازی صاحب کی آئندہ کتاب (سرائیکی شاعری) اور ڈاکٹر حنیف نیازی کی پوسٹس پر مشتمل قمرالحسن بھروں زادہ کی کتاب کا تعارف بھی لکھنا ھے – مگر یہ فیس بک کا کام نہیں – کاغذ پہ لکھنا ھے –

یہ سب کچھ کہنے کا مطلب آپ سے کچھ دن کی چھٹی لینا نہیں – “میرا میانوالی“ انشآءاللہ آباد رھے گا – اس عنوان سے روزانہ پوسٹ لکھنا بحمداللہ میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں – دس پندرہ منٹ کاکام ھے – میرے دس پندرہ منٹ خرچ ھونے سے کسی کے لبوں پہ مسکراھٹ آجائے تو اس میں میرا کیا نقصان ھے –
– رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک–20 جون2019

میرا میانوالی—————-

دیکھتے ھی دیکھتے بہت کچھ بدل گیا ، بہت کچھ بدل رھاھے – چند سال بعد پتہ نہیں یہ دنیا کیسی ھوگی – 1980 میں جب میں عیسی خیل سے ٹرانسفر ھو کر گورنمنٹ کالج میانوالی مین متعین ھوا تو میانوالی چھوٹا سا شہرتھا – مسلم بازار(سابق گروبازار) میں صرف چار پانچ دکانیں تھیں ، لال خان کا ھوٹل ، عبدالرزاق خان کی کریانے کی دکان ، کامل میڈیکل سٹور ، سادات دوا خانہ ، ایک دو دکانیں اور — بس ، یہ تھا مسلم بازار – آج دیکھیں تو پلازے، سپر سٹور، ضرورت کی ھر چیز یہاں دستیاب -ھجوم اتنا کہ گذرنا بھی مشکل – 1980 میں تو ایک کچی پنسل خریدنے کے لیے بھی مین بازار جانا پڑتا تھا اب ماشآءاللہ بلوخٰیل روڈ ، کچہری روڈ ، سول لائینز ایریا ، گورنمنٹ ھائی سکول روڈ ، وتہ خیل چوک ، لاری اڈا , ھر سڑک بازار بن گئی ھے – بلکہ اب تو گلیاں بھی رفتہ رفتہ بازار بنتی جارھی ھیں –

پہلے صرف ایک سرکاری ھسپتال تھا ۔ ایک ڈاکٹر نورمحمد خان خنکی خیل کا ھسپتال، ایک کیپٹن انور خان شیر مان خیل کا ھسپتال اور ایک ڈاکٹر شیرافگن خان کا ھسپتال ، اور اب لا تعداد بڑے بڑے پرائیویٹ ھسپتال یہاں بن گئے ھیں –

پہلے صرف ایک گورنمنٹ ھائی سکول تھا ، اب دو گورنمنٹ ھائی سکول ، ایک جامع ھائی سکول ، ایک سنٹرل ماڈل ھائی سکول ۔ ایک ایلیمنٹری سکول ، ایک سرکاری سکول سول سٹیشن بھی ھے – بچیوں کے بھی بہت سے سکول ھیں ، پرائیویٹ سکول بھی بے شمار ھیں –
ترقی کی یہ داستان ایک دو دن مزید چلے گی –
—– رھے نام اللہ –بشکریہ-منورعلی ملک–21  جون2019

میرا میانوالی—————-

پتہ نہیں کیا ھؤا —–؟؟؟؟

ابھی فیس بک کھولی تو ٹائیم لائین کے صفحے کی ساری Settings اردو میں – Write a post کی جگہ “مراسلہ تخلیق کریں “ What’s on your mind کی جگہ“آپ کے ذھن میں کیاھے؟“ 
Postکی جگہ “اشتراک کریں“
——– اتنی گاڑھی اردو !!!!! اللہ معاف کرے -یارو مجھے بتاؤ کیا وہ پہلے والی Settings بحال ھو سکتی ھیں ؟؟؟

پتہ نہیں چکر کیا ھے ؟ مجھے تو ککھ سمجھ نہیں آرھی –

—- رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک–22 جون2019

میرا میانوالی—————-

یہ تو ایک ھی CLICK کی بات تھی

اللہ مغفرت فرمائے چاچا مقرب خان بہرام خیل ٹھیک ھی کہا کرتے تھے کہ بندے کو زیادہ پڑھا لکھا بھی نہیں ھونا چاھیے کیونکہ دماغ تو پڑھنے لکھے میں خرچ ھو جاتا ھے ، پھر عقل کہاں سے آئے –

تمام دوستوں کے قیمتی مشوروں کا بہت ممنون ھوں – اللہ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے – آپ کے کہنے کے مطابق پیج کے نچلے دائیں کونے میں “زبان“ لکھا ھؤا دیکھا – اس کے آگے English UK پہ Click کیا تو پہلی والی Settings بحال ھوگئیں – بس اتنی سی بات تھی – ??بشکریہ-منورعلی ملک–22 جون2019

میرا میانوالی—————-

ترقی نے پرانے کلچر کی بہت سی خوبصورت اور کارآمد چیزوں کو نیست و نابود کر دیا – سائیکل کی جگہ موٹر سائیکل نے لے لی ۔ تانگے کی جگہ رکشا اور چنگچیوں نے سنبھال لی –

سائیکل تو کہیں نہ کہیں اب بھی نظر آجاتی ھے ، مگر وہ پہلے والا ذوق و شوق ، جوش خروش جو سائیکل سے وابستہ تھا ، اب نہیں رھا – نوجوان لوگ بڑے شوق سے سائیکل خریدتے، اور اسے دلہن کی طرح سجا کر بڑے فخر سے سڑکوں پر دوڑایا کرتے تھے- ایک آنہ ( 1/16 روپیہ) فی گھنٹہ کے حساب سے سائیکل کرائے پر بھی ملتی تھی – سائیکل چلانا سیکھنے والے لڑکے عام طور پر کرائے کی سائیکل پر یہ ھنر سیکھتے تھے – کیا جنون ھوتا تھا – سائیکل کی گدی پر بیٹھ کر یوں لگتا تھا F/16 طیارہ اڑارھے ھیں – اترنے کوجی ھی نہیں چاھتا تھا -میانوالی میں حاجی محمد حیات خان شہباز خٰیل(صدرفضل الرحمن خان کے والد)، سیدمحمد زبیر شاہ اور فلک شیر عوامی صاحب کا سائیکلوں کا زبردست کاروبار تھا – سائیکل کی مرمت کی بہت سی دکانیں بھی شہرمیں تھیں –

داؤدخیل میں ملک دوست محمد غزنی خٰیل اور امیر خان عرف میرا مقرب آلا سائیکل کے مشہور کاریگر ھؤا کرتے تھے – اور بھی ھر جگہ ھزاروں لوگوں کا معاش سائیکل سے وابستہ تھا –

موٹر سائیکلوں کا سیلاب پچھلے چند سال میں رونما ھؤا – اب تو یہ یلغار تشویشناک صورت اختیار کر گئی ھے – ( دو میرے گھر میں بھی کھڑے ھیں ) – سات آٹھ سال کے بچے بھی بے تحاشہ موٹر سائیکل بھگاتے نظر آتے ھیں – دودھ فروشوں کے موٹر سائیکل بمبار طیاروں کی طرح بموں ( دودھ کے ڈرموں) سے لیس ھر گلی میں پھرتے دکھائی دیتے ھیں – لیکن یہ لوگ مستیاں نہیں کرتے ، آرام سے موٹر سائیکل چلاتے ھیں –
سائیکل اب شاذوناد ھی نظر آتی ھے – ایک زمانہ تھا ۔ جب سائیکل پروفیسرز اور وکلاء کی بھی مستقل سواری ھؤا کرتی تھی –
رھے نام اللہ کا – بشکریہ-منورعلی ملک–23 جون2019

میرا میانوالی—————-

سائیکل کا ایک بڑا فائدہ یہ تھا کہ اس کا کبھی مہلک حادثہ نہ دیکھا ، نہ سنا – اپنی غلطی یا اتفاق سے کوئی گر بھی جاتا تو نقصان گوڈوں گٹوں تک محدود رھتا ، جان تو نہیں جاتی تھی – موٹر سائیکل کے حادثات میں سینکڑوں لوگ جان کی بازی ھار چکے ھیں ، پھر بھی اندھا دھند موٹرسائیکل دوڑانے کا جنون ختم نہیں ھو رھا – ھسپتالوں کی ایمرجنسی میں جاکر دیکھیں ، زیادہ تر زخمی اور لاشیں موٹر سائیکل ھی کے حادثات کا نتیجہ ھوتی ھیں –
اس افسوسناک صورت حال کے تدارک کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا بے حد ضروری ھے – سب سے اچھا تو یہ ھوتا کہ موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیاں موٹر سائیکل کی زیادہ سے زیادہ حدرفتار25 کلو میٹر فی گھنٹہ کر دیں – مگر پھر ان لاکھوں موٹر سائیکلوں کو کون روکے گا جو 80-100 کلو میٹر کی رفتار تک پہلے ھی دندناتی پھرتی ھیں -مسئلہ خاصا گمبھیر ھے – کوئی نہ کوئی حل نکالنا ضروری ھے

ھمارے بہت پیارے ساتھی ھدایت اللہ نیازی نے کل اپنے کمنٹ میں کہا “میں اس وقت ڈنمارک میں ھوں ، یہاں چھوٹے بڑے ، امیر غریب ، سب لوگ سائیکل عام استعمال کرتے ھیں – ٹریفک قوانین میں سائیکل سواروں کے حقوق کو خصوصی تحفظ بھی دیا گیا ھے – سڑکوں پر لاتعداد سائیکلوں کا منظر دیکھنے کے قابل ھوتا ھے “-

– اسی وجہ سے تو وہ لوگ ھم سے آگے ھیں – ھماری تیز رفتاری صرف سڑکوں تک محدود ھے ، ان کی تیز رفتاری سڑکوں کی بجائے معیشت ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں رواں دواں ھے-

 رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک–24  جون2019

میرا میانوالی—————-

تانگہ (ھم ٹانگہ کہتے تھے) شہروں میں سڑکوں کی رونق ھؤا کرتا تھا – گھوڑے کے دوڑنے کی مخصوص آواز ———ٹھک ٹھک ، ٹھک ٹھک ———- بہت بھلی لگتی تھی – تانگے کے حوالے سے کئی معروف و مقبول فلمی گیت


ٹانگے والا خیر منگدا

ٹانگہ آگیا کچہریوں خالی

زباں زد عام تھے – فلم “یکے والی” میں ھماری جوانی کے دور کی خوبصؤرت ترین , دراز قد ھیروئن مسرت نذیر مردانہ لباس میں ملبوس ، لاھور کی سرکلر روڈ پر تانگہ دوڑاتے ھوئے بہت پیاری لگتی تھی – اسی موقع پر وہ یہ گیت بھی اداکار ظریف کے ساتھ مل کر گایا کرتی تھی

کیوں مڑمڑ تکدے او
بھانویں لکھ پردے کرو ، ساتھوں لک نئیں سکدے او

پنڈی کا تانگہ پورے پاکستان میں مشہور تھا – بہت بنے سنورے ھوئے , صاف ستھرے تانگے ، سمارٹ گھوڑوں کے ساتھ پنڈی کی سڑکوں پر رواں دواں نظرآتے تھے –

میانوالی میں ریلوے سٹیشن کے سامنے تانگوں کا اڈا ھؤا کرتا تھا – داؤدخیل میں صرف تین تانگے تھے ، چاچا عبداللہ ۔ چاچا رستم خان اور چاچا علی خان کے تانگے , داؤدخیل سٹیشن سے سکندرآباد آتے جاتے تھے –

مشہورادیب اور صحافی مرحوم منو بھائی نے ایک دفعہ بتایا کہ ھم لاھور کی سرکلر روڈ پر تانگے میں انارکلی کی طرف جارھے تھے تو ایک دوسرے تانگے نے ھمارے تانگے والے کو مقابلے کے لیے للکارتے ھوئے کراس کیا – ھمارا کوچوان تانگہ سرپٹ دوڑاتے ھوئے اس کے برابر پہنچا تو ھم نے کہا “یار، تانگہ الٹ نہ جائے ، آھستہ بھگاؤ“
ھمارے تانگے والے نے دوسرے تانگے والے کو مخاطب کر کے کہا

“لنگھ جا ، حرام دیا ، جے میریاں سواریاں بے غیرت نہ ھوندیاں تے میں تینوں جانڑں نی سی دینا “

– گذر گیا وہ زمانہ، چلے گئے وہ لوگ
رھے نام اللہ کا –بشکریہ-منورعلی ملک–25  جون2019

میرا میانوالی—————-

تانگہ تو شہروں میں پکی سڑکوں پر چلتا تھا – دیہات میں زیادہ تر لوگ پیدل چلتے تھے – چار پانچ کلومیٹر پیدل چلنا کوئی مسئلہ نہ تھا – ارد گرد کے دیہات تک لوگ پیدل آتے جاتے تھے –

میں جب ٹھٹھی سکول میں ھیڈماسٹر تھا ، داؤدخیل سے اپنے ساتھیوں محترم ماسٹر عیسب خان صاحب اور ماسٹر غلام محمد صاحب کے ساتھ روزانہ صبح پیدل سکول جایاکرتا تھا – چار پانچ کلومیٹر کا فاصلہ تھا – سائیکل تھے ھمارے پاس ، مگر ھم شوقیہ پیدل چلتے تھے- سائیکلوں کو اپنے ساتھ ” ٹور” کر لے جاتے – واپسی پر سائیکلوں پر سوار ھو کر آتے تھے- کئی سال تک روزانہ پانچ کلومیٹر پیدل چلنا اب بھی کام آرھا ھے – بحمداللہ گوڈے گٹے اب بھی سلامت ھیں – چار پانچ کلو میٹر پیدل چلنا اب بھی کوئی مسئلہ نہیں –

دس پندرہ کلومیٹر کے سفر کے لیے اونٹ استعمال ھوتے تھے – لوگ اونٹوں پر کچاووں میں بیٹھ کر جاتے تھے – بچپن میں میں بھی اپنی امی اور محلے کی کچھ دوسری خواتین کے ساتھ اونٹوں پہ بیٹھ کر موچھ میں شیر محمدغازی کے مزار پر سلام کرنے جایا کرتا تھا – داؤدخیل کے لوگ شیر محمد غازی رحمتہ اللہ علیہ کے بہت معتقد تھے- خواتین کے قافلے آتے جاتے رھتے تھے –
رھے نام اللہ کا –
بشکریہ-منورعلی ملک–26 جون2019

میرا میانوالی—————-

اونٹ کا ھمارے کلچر سے خاصا گہرا رشتہ تھا – شادیوں کے موقع پر بارات میں خواتین اونٹوں پر کچاووں میں بیٹھ کر آتی جاتی تھیں – اوٹھی (اونٹوں کے مالک) اس موقع پر اونٹوں کو رنگارنگ اون کے بنے ھوئے ھاروں سے سجاتے , ان کے گلے میں پیتل کی گھنٹیاں باندھتے ، پاؤں میں گھنگھروباندھتے – جب اونٹ چلتے تو ٹلیوں کی ٹن ٹن اور گھنگھروؤں کی چھن چھن بہت سہانا سماں باندھ دیتی تھی –

کڑی (دلہن) کو بھی اونٹ پر کچاوے میں بٹھا کر لے جاتے تھے – دولہا بارات کے دوسرے مردوں کے ساتھ پیدل آتا جاتا تھا – ( یوں اسے پہلے دن ھی اپنی اوقات کا پتہ چل جاتا تھا)-داؤدخیل میں راتوں کے پچھلے پہر اوٹھی پہاڑ کے دامن سے پتھر لانے کے لیے جاتے تھے – وہ آتے جاتے بہت درد بھری بلند آواز میں ماھیے گایا کرتے تھے – بے پناہ درد ھوتا تھا ان ماھیوں میں – آواز اتنی بلند ھوتی تھی کہ دور دور تک سنائی دیتی تھی -ماھیے کی یہ طرز بیٹوں ، بھائیوں کی موت پر خواتین کے بین (وٰینڑں ) جیسی تھی – دکھی لوگوں پر یہ ماھیا سن کر قیامت گذر جاتی تھی –ان ماھیوں کی راگ جوگ میں ایک مخصوص دھن ھوتی تھی ، جسے اوٹھیوں والی طرز کہا جاتا تھا – جب میں عیسی خٰیل میں تھا تو لالا ھماری فرمائش پر کبھی کبھی اوٹھیوں والی طرز میں ماھیے بھی سنایا کرتا تھا –
رھے نام اللہ کا -بشکریہ-منورعلی ملک–27   جون2019

میرا میانوالی—————-

کچھ لوگ کہا کرتے تھے اونٹ فرشتہ ھوتا ھے ، جو اونٹ کے روپ میں انسان کی خدمت کرتا ھے ———
اتنا فرشتہ بھی نہیں ھوتا ، غصے میں آجائے تو بہت نقصان کر دیتا ھے داؤدخیل کے محلہ امیرے خیل میں اوٹھیوں کے دو گھر تھے – ایک چاچا عبداللہ اوٹھی کا ، دوسرا چاچا علی یار اوٹھی کا – چاچا عبداللہ ایک بازو سے محروم تھا – محرومی کی وجہ یہ تھی کہ ایک دن اونٹ کو مار پیٹ رھا تھا تو اونٹ کو غصہ آگیا – چاچا عبداللہ کا بازو منہ میں لے کر چبا ڈالا – چکنا چور بازو ڈاکٹروں نے کاٹ دیا کہ اس کا اور کوئی علاج نہ تھا –
چاچا علی یار کا انجام بہت دردناک تھا – ایک دن اونٹ پر سوار ھو کر داؤدخیل سے ٹھٹھی جا رھا تھا – ٹھٹھی شہر کے قریب پہنچے تو اونٹ نے گردن موڑی ، چاچا علی یار کو بازو سے پکڑ کر زمین پر گرادیا ، اور اوپر بیٹھ گیا- بہت سے لوگ یہ ھولناک منظر دیکھ رھے تھے- چاچا علی یار تو اونٹ کے وزن تلے دب کر فورا مرگیا، مگر اونٹ کا غصہ پھر بھی ٹھنڈا نہ ھؤا – وہ اٹھا اور اپنا ایک پاؤں میت کے پاؤں پر رکھ کر میت کا دوسرا پاؤں منہ میں لیا اور میت کو چیرنے لگا تھا کہ ٹھٹھی کے ایک سابق فوجی نے رائفل کا فائر مار کر اس کا کام تمام کردیا –
گولی اونٹ کے ماتھے پر لگی اور وہ دوچار منٹ تڑپ کر ٹھنڈا ھوگیا-

اصل بات یہ ھے کہ انسان ھو یا جانور ، ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو انتقام لینا مجبوری بن جاتا ھے –

اونٹ کا کینہ مشہور ھے – وہ فوری بدلہ نہ بھی لے سکے تو اپنے اوپر ھونے والا ظلم یاد رکھتا ھے – جوں ھی موقع ملے انتقام لے لیتا ھے- چاچا علی یار کی موت اسی قسم کے انتقام کا نتیجہ تھی –

ایک زمانہ وہ تھا جب جانور بھی اپنی فریاد لے کر ایک دربار میں حاضر ھؤا کرتے تھے – دربار ھمارے آقاعلیہ السلام کی مسجد نبوی تھا – ایک دن ایک اونٹ آکر سرکار کے سامنے بیٹھ گیا ، اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے – حضور نے اس کے مالک کو بلا کر کہا یہ اونٹ تمہاری شکایت لے کر آیا ھے – کہ تم اس سے کام تو بہت لیتے ھو ، مگر کھانے کو کچھ نہیں دیتے – اس کو کھلانا پلانا تمہارا فرض ھے – یہ فرض ادا نہیں کر سکتے تو اس کو آزاد کردو-
رھےنام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–28  جون2019

میرا میانوالی—————-

دوتین دن پہلے ھمارے ایک ساتھی حبیب اللہ خان نے شکوہ کیا کہ آپ ھمارے کمر مشانی کے بارے میں کچھ نہیں لکھتے ، کیا کوئی ناراضگی ھے ؟

جی نہیں ، ناراضگی کیسی ، کمر مشانی تو میرے دل میں بستا ھے – میرے بچپن کی بہت سی پیاری یادیں بھی کمر مشانی سے وابستہ ھیں ، اس دور کی یادیں جب ھم اپنے ماموں ملک نور کمال کے ھاں گرمی کی چھٹیوں میں مندہ خیل آکر کچھ دن رھا کرتے تھے – مندہ خیل ھمارا آبائی گاؤں تھا – مندہ خیل سے میں روزانہ ماموں جان کے ساتھ کمرمشانی آیا کرتا تھا – کمر مشانی اڈے پر غلام خواجہ خان کا بہت بڑا کریانہ سٹورتھا – ماموں وھاں سے گھر کا سودا لیا کرتے تھے – غلام خواجہ خان معروف قبیلہ شادی خیل کے بزرگ تھے – ان کے بھائی ماسٹر سیف اللہ خان بھی ماموں کے دوست تھے – بہت شفیق اور خوش مزاج انسان تھے -ضلع میانوالی سے باھر کے دوستوں کی اطلاع کے لیے عرض ھے کہ کمر مشانی ، میانوالی -عیسی خیل روڈ پر عیسی خیل سے پندرہ بیس کلومٰیٹر پہلے آتا ھے – یہ تحصیل عیسی خیل کا بہت بڑا قصبہ اور تجارت کا مرکز ھے

کمر مشانی کا میلہ ضلع میانوالی کا سب سے بڑا میلہ ھے – یہ میلہ ھر سوموار کو کمرمشانی اڈے کے آس پاس لگتا ھے – چیزوں کی ورائیٹی اور کوالٹی کے لحاظ سے بھی یہ ضلع میانوالی کا نمبر ون میلہ ھے – میلے سے ماموں جان مرغیاں ، انڈے اور ٹولے والے مشہورومعروف لذیذ خوشبودار خربوزے بھی خریدا کرتے تھے – سردی کے موسم میں یہاں پوپل بھی بکتا تھا – پوپل انگلی کے سائیز کی مچھلی ھے جو دریائے سندھ کے تازہ پانی میں پائی جاتی ھے – یہ بھی اللہ کی عجیب نعمت ھے – اسے باجرے کے خشک آٹے میں لتھیڑ کر توے پر بھونا جاتا ھے –

کمر مشانی میں میرے بہت سے پرانے سٹوڈنٹ اور دوست بھی رھتے ھیں ، سٹوڈنٹس میں سے دلاسہ خان ، مرحوم محمد عظیم خان اور محمد اسلم خان کے نام یاد آرھے ھیں – دلاسہ خان اور محمد اسلم خان عیسی خیل کالج میں میرے سٹوڈنٹ رھے – عظیم خان میرے گورنمنٹ کالج میانوالی کے سٹوڈنٹ تھے –

بہت سے دوست بھی تھے ، کچھ میرے ، کچھ ماموں کے – ھیڈماسٹر سعداللہ خان ، ڈاکٹرحسنین نیازی کے والد ماسٹر غلام محمد خان ، میرے بہت مہربان دوست انگلش ٹیچر محمد اقبال خان ، اور اپنے جگر مشہور زمانہ گیت نگار اظہر نیازی —- ان کے علاوہ فیس بک کے بہت سے پیارے ساتھی بھی ھیں – ان میں اسداللہ خان سر فہرست ھیں – بہت خوبصورت پوسٹس بھی کبھی کبھی لکھتے رھتے ھیں – بیمار رھا کرتے تھے – اللہ صحت کاملہ عطا فرمائے –

کمر مشانی کے بارے میں ایک دوسال پہلے بھی لکھ چکا ھوں ، لیکن پچھلے دوسال میں تقریبا دوھزار فالوورز کا اضافہ ھؤا ، ان میں سے کئی لوگ کمر مشانی کے بھی ھیں – ان کی خواھش کا احترام بھی مجھ پہ واجب ھے- اس لیے کبھی کبھار ان کی فرمائش پہ بھ کچھ نہ کچھ لکھ دیتا ھوں-

29  جون2019

میرا میانوالی—————

ھمارے جگر مجیب اللہ خان نیازی کی فرمائش ھے کہ موچھ کے بارے میں بھی کچھ لکھیں — کسی شاعر کا شعر یاد آرھا ھے ——————
زندگی سے یہی گلہ ھے مجھے
توبہت دیر سے ملا ھے مجھے”ایک دوسال پہلے موچھ ھی نہیں ، پورے ضلع کے ھر اھم شہر اور گاؤں کے بارے میں الگ الگ پوسٹس لکھ چکا ھوں —- ڈی آئی خان کے گاؤں کڑی خیسور سے کنڈل ، عیسی خیل ، کلوانوالہ ،کلور، ترگ ، کمر مشانی مندہ خیل ، جلال پور ، کوٹ چاندنہ ، کالاباغ ، ماڑی انڈس ، سکندرآباد ، پکی شاہ مردان ، داؤدخٰیل ، پائی خیل ، موچھ ، سمند والہ ، روکھڑی ، موسی خیل ، چھدرو، کندیاں ,پپلاں ، واں بھچراں تک علاقے کے ھر شہر اور گاؤں کے بارے میں الگ الگ پوسٹس لکھی تھیں – میرے پرانے ھمسفر اس طویل سفر کے گواہ ھیں
اب نئے آنے والے دوست فرمائشیں کر رھے ھیں – ان کی فرمائشیں سر آنکھوں پر، پوسٹ لکھنے پہ میرا کون سا خرچ ھوتا ھے – لیکن مکمل یوٹرن لینے کی بجائے ھفتے میں ایک آدھ پوسٹ فرمائش کی تعمیل میں لکھوں گا ، ھفتے کے باقی دن اپنی پسند کے دوسرے موضوعات پر لکھتا رھوں گا –
موچھ سے میرا بہت پیارا اور بہت پرانا تعلق ھے- یہ تعلق جیسا کہ پہلے عرض کیا بچپن سے شیر محمد غازی کے مزار پہ حاضری دینے والے قافلوں کے ھمراہ موچھ آنے سے شروع ھؤا – وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلق وسیع اور مضبوط تر ھوتا گیا —– موچھ سے اپنی یاری کی مکمل تفصیلات انشآءاللہ کل کی پوسٹ میں لکھوں گا –
رھے نام اللہ کا-بشکریہ-منورعلی ملک–30 جون 2019

1 thought on “MERA MIANWALI JUN 2019”

Your words for Mianwali and Mianwalians